Surat Luqman

Surah: 31

Verse: 33

سورة لقمان

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ وَ اخۡشَوۡا یَوۡمًا لَّا یَجۡزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫ وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۳۳﴾

O mankind, fear your Lord and fear a Day when no father will avail his son, nor will a son avail his father at all. Indeed, the promise of Allah is truth, so let not the worldly life delude you and be not deceived about Allah by the Deceiver.

لوگو !اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے والا ہوگا ( یاد رکھو ) اللہ کا وعدہ سچا ہے ( دیکھو ) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز ( شیطان ) تمہیں دھوکے میں ڈال دے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to fear Allah and remember the Day of Resurrection Allah says: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا ... O mankind! Have Taqwa of your Lord, and fear a Day when, Here Allah warns people about the Day of Resurrection, and commands them to fear Him and remember the Day of Resurrection when ... لاَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ ... no father can avail aught for his son, which means, even if he wanted to offer himself as a sacrifice for his son, it would not be accepted from him. The same will apply in the case of a son who wants to sacrifice himself for his father -- it will not be accepted from him. ... وَلاَ مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْيًا ... nor a son avail aught for his father. ... إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ... Verily, the promise of Allah is true, Then Allah reminds them once again with the words: ... فَلَ تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ... let not then this present life deceive you, meaning, do not let your feelings of contentment with this life make you forget about the Hereafter. ... وَلاَ يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ nor let the chief deceiver deceive you about Allah. refers to the Shaytan. This was the view of Ibn Abbas, Mujahid, Ad-Dahhak and Qatadah. The Shaytan makes promises to them and arouses in them false desires, but there is no substance to them, as Allah says: يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمْ الشَّيْطَـنُ إِلاَّ غُرُوراً He makes promises to them, and arouses in them false desires; and Shaytan's promises are nothing but deceptions. (4:120) Wahb bin Munabbih said: `Uzayr, peace be upon him, said: "When I saw the misfortune of my people, I felt very sad and distressed, and I could not sleep, so I prayed to my Lord and fasted, and I called upon Him weeping. There came to me an angel and I said to him: `Tell me, will the souls of the righteous intercede for the wrongdoers, or the fathers for their sons?' He said: `On the Day of Resurrection all matters will be settled, and Allah's dominion will be made manifest and no exceptions will be made. No one will speak on that Day except with the permission of the Most Merciful. No father will answer for his son, or any son for his father, or any man for his brother, or any servant for his master. No one will care about anybody except himself, or feel grief or compassion for anyone except himself. Everyone will be worried only about himself. No one will be asked about anybody else. Each person will be concerned only about himself, weeping for himself and carrying his own burden. No one will carry the burden of another."' This was recorded by Ibn Abi Hatim.

اللہ تعالیٰ کے روبرو کیا ہوگا اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرا رہا ہے اور اپنے تقوے کا حکم فرما رہا ہے ۔ ارشاد ہے اس دن باپ اپنے بچے کو یا بچہ اپنے باپ کو کچھ کام نہ آئے گا ایک دوسرے کا فدیہ نہ ہوسکے گا ۔ تم دنیا پر اعتماد کرنے والو آخرت کو فراموش نہ کر جاؤ شیطان کے فریب میں نہ آجاؤ وہ تو صرف پردہ کی آڑ میں شکار کھیلنا جانتا ہے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عزیر علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی تکلیف ملاحظہ کی اور غم ورنج بہت بڑھ گیا نیند اچاٹ ہوگئی تو اپنے رب کی طرف جھکے ۔ فرماتے ہیں میں نے نہایت تضرع وزاری کی ، خوب رویا گڑگڑایا نمازیں پڑھیں روزے رکھے دعائیں مانگیں ۔ ایک مرتبہ رو رو کر تضرع کر رہا تھا کہ میرے سامنے ایک فرشتہ آگیا میں نے اس سے پوچھا کیا نیک لوگ بروں کی شفاعت کریں گے؟ یاباپ بیٹوں کے کام آئیں گے ؟ اس نے فرمایا کہ قیامت کا دن جھگڑوں کے فیصلوں کا دن ہے اس دن اللہ خود سامنے ہوگا کوئی بغیر اس کی اجازت کے لب نہ ہلاسکے گا کسی کو دوسرے کے بدلے نہ پکڑا جائے گا نہ باپ بیٹے کے بدلے نہ بیٹا باپ کے بدلے نہ بھائی بھائی کے بدلے نہ غلام آقا کے بدلے نہ کوئی کسی کا غم ورنج کرے گا نہ کسی کی طرف سے کسی کو خیال ہوگا نہ کسی پر رحم کرے گا نہ کسی کو کسی سے شفقت ومحبت ہوگی ۔ نہ ایک دوسرے کی طرف پکڑا جائے گا ۔ ہر شخص نفسانفسی میں ہوگا ہر ایک اپنی فکر میں ہوگا ہر ایک کو اپنا رونا پڑا ہوگا ہر ایک اپنابوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا کسی اور کا نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

331جاز اسم فاعل ہے جَزْی یَجْزِی سے، بدلہ دینا، مطلب یہ ہے کہ اگر باپ چاہے کہ بیٹے کو بچانے کے لئے اپنی جان کا بدلہ، یا بیٹا باپ کے بدلے اپنی جان بطور معاوضہ پیش کر دے، تو وہاں ممکن نہیں ہوگا، ہر شخص کو اپنے کئے کی سزا بھگتنی ہوگی۔ جب باپ بیٹا ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے تو دیگر رشتے داروں کی کیا حیثیت ہوگی، اور وہ کیوں کر ایک دوسرے کو نفع پہنچا سکیں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] دنیا میں باپ بیٹے کا ہی رشتہ ایسا ہے جو مصیبت کے وقت ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن دہشت اتنی زیادہ ہوگی کہ باپ بیٹے چھپتا پھرے گا۔ اور بیٹا باپ سے ہر ایک اپنی مصیبت میں ہی ایسا گرفتار ہوگا کہ دوسرے کی طرف توجہ کرنے کی ہوش نہ ہوگی۔ اور نہ ہی کوئی شخص دوسرے کی مصیبت اپنے سر لینے کے لئے تیار ہوگا۔ نہ بیٹے میں اتنی ہمت ہوگی کہ وہ یہ کہہ سکے کہ باپ کے بدلے مجھے جہنم میں بھیج دیا جائے اور نہ باپ ہی ایسا کہہ سکے گا جب ایسے قریبی رشتہ داروں تک کا یہ حال ہوگا تو اور کوئی شخص کیسے کسی دوسرے کے کام آسکتا ہے ؟ لہذا ہر انسان کو اس دن کی ہولناکی سے اپنے بچاؤ کی فکر خود کرنا چاہئے۔ چناچہ جب آیت ( وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ٢١٤؀ۙ ) 26 ۔ الشعراء :214) نازل ہوئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوہ صفا پر چڑھ کر اپنے قریبی رشتہ دار کو بلایا اور ہر ایک کا نام لے لے کر فرمایا تھا کہ اپنی فکر خود کرلو۔ اس دن میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ زیر آیت متعلقہ) [ ٤٧] یعنی اسی دھوکہ میں نہ پڑے رہو کہ تمہارا مقصد حیات ہی یہ بن جائے کہ ہمارا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہونا چاہئے یا تم دنیا کی زندگی پر اس قدر فریفتہ اور مفقون ہر جاؤ کہ یہ سمجھ بیٹھو کہ بس جو کچھ ہے یہی دنیا کی زندگی ہے اور عملاً اخروی زندگی کے منکر بن جاؤ یا یہ سمجھنے لگ جاؤ کہ اس دنیا میں خوشحالی کی زندگی ہی حق و باطل کا معیار ہے یا یہ سمجھو کہ دنیا میں خوشحالی اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہے۔ یا یہ سمجھ بیٹھو کہ ابھی تو مزے کرلیں۔ بڑی عمر پڑی ہے بعد میں توبہ کرلیں گے۔ دنیوی زندگی کے متعلق یہ سارے نظریہ ہائے فکر سراسر دھوکا اور فریب ہیں۔ [ ٤٨] غرور (غ پر فتحہ) مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی بڑا دھوکہ باز۔ ہر وقت دھوکہ دینے والا۔ اگرچہ اکثر لوگ اس سے مراد شیطان ہی لیتے ہیں۔ تاہم اس سے مراد انسان بھی ہوسکتے ہیں۔ افراد بھی، ادارے بھی اور حکومتیں بھی۔ جو شخص یا ادارہ کسی انسان کو فریب میں مبتلا کرکے اس کے لئے گمراہی کا سبب بن جائے وہ اس کے لئے دھوکا باز یا غرور ہے۔ اور وہ دھوکا بھی اللہ کے معاملہ میں دیتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے اپنے سارے اختیارات اپنے پیارے بندوں اور ولیوں کو دے رکھے ہیں۔ لہذا اب جو کچھ مانگنا ہو انھیں سے مانگنا چاہئے۔ یا یہ کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ وہ ہمیں دوزک میں کیوں ڈالے گا ؟ یا ڈال کر کیا کرے گا ؟ پھر یہ خیال کرکے گناہوں پر دلیر ہوجاتے ہیں یا اگر فلاں بدعی کام کیا جائے تو اللہ یقیناً اس سے خوش ہوگی اور ہمیں اس اجر وثواب ملے گا۔ غرضیکہ شیطان اور اس کے ایجنٹ اس کی نت نئی نئی شکلیں سجھاتے رہتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۔۔ : مختلف طریقوں سے توحید اور آخرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب تقویٰ کا حکم دیا، جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا، کیونکہ اسی سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ اگر باز پرس کا خوف نہ ہو تو کوئی چیز آدمی کو تقویٰ پر آمادہ نہیں کرسکتی۔ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ : یعنی دنیا میں سب سے قریب باہمی تعلق والدین اور اولاد کا ہے، جب وہ ایک دوسرے کے کام نہ آسکے تو کوئی اور رشتے دار، دوست، لیڈر یا پیر فقیر کیا کام آسکے گا۔ دیکھیے سورة بقرہ (٤٨) ، عبس (٣٤ تا ٣٧) ، اور معارج (٨ تا ١٤) والد کے کام نہ آسکنے کی مثال نوح (علیہ السلام) اور ان کا بیٹا ہیں۔ وَلَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَـيْـــــًٔا : ” جازً “ ” جَزٰی یَجْزِيْ “ سے اسم فاعل ہے۔ اولاد کے کام نہ آسکنے کی مثال ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کا باپ ہیں۔ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ : اللہ کے وعدے سے مراد قیامت قائم ہونا ہے، وہ ہر حال میں ہو کر رہے گی۔ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی انسانوں کو کئی طرح سے دھوکے میں ڈالتی ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ زندگی بس دنیا ہی کی زندگی ہے، جینا مرنا سب کچھ یہیں ہے، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں، لہٰذا جو کچھ کرنا ہے یہیں پر کرلو۔ دیکھیے سورة انعام (٢٩) ، مومنون (٣٧) اور جاثیہ (٢٤) کوئی کہتا ہے کہ دنیوی خوشی یا بدحالی ہی حق و باطل کا اور اللہ تعالیٰ کے راضی یا ناراض ہونے کا معیار ہے، اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی وہی خوش حال ہوں گے جو یہاں خوش حال ہیں۔ دیکھیے سورة مریم (٧٧) کوئی آخرت پر ایمان کے باوجود دنیا کی خواہشات کی محبت میں کھو کر اس دن کی یاد ہی بھلا بیٹھتا ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (١٤) غرض دنیا کی زندگی آدمی کو طرح طرح سے دھوکے میں ڈالتی ہے۔ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ باللّٰهِ الْغَرُوْر : ” الْغَرُوْر “ ” غین “ کے فتح کے ساتھ صفت مشبہ ” فَعُوْلٌ“ بمعنی فاعل ہے، دھوکا دینے والا، جیسے : (اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا ) [ بني إسرائیل : ٣ ] اور ” غین “ کے ضمہ کے ساتھ مصدر ہے، جیسے : (زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ) [ الأنعام : ١١٢ ] اور : (لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا) [ الدھر : ٩ ] دھوکا دینے والے سے مراد شیطان ہے، وہ ابلیس اور اس کی اولاد سے ہو یا انسانوں میں سے۔ لفظ کو عام رکھیں تو آدمی کا نفس بھی اسے دھوکا دیتا ہے اور دنیا بھی دھوکا دیتی ہے، اس لیے کئی مفسرین نے یہاں ” الغرور “ کی تفسیر ” دنیا “ فرمائی ہے۔ 3 اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان کا یہ دھوکا کئی طرح سے ہوتا ہے۔ یہ کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے ہی نہیں، کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے، گناہ کرلو، بعد میں توبہ کرلینا۔ کسی سے کہتا ہے کہ فلاں بزرگ یا پیر کا اس پر بڑا زور ہے، وہ سفارش کر کے تمہیں اس کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ غرض وہ مختلف طریقوں سے انسان کو دنیا کی طرف مائل کر کے اللہ تعالیٰ سے غافل کردیتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the first of the two verses cited above, the address is to common people, believing and disbelieving both. They have been served with a notice that they will face Allah and be accountable before Him for their deeds on the day of Judgment and that they should be prepared for it. It was said: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَ‌بَّكُمْ ( O people, fear your Lord - 33). At this place, the text has not gone by the name of Allah Ta&ala or His some other attribute. Instead of that, it has elected to mention the attribute of Rabb (master, sustainer of all, usually translated as Lord with this sense included therein). This serves as an indicator towards the nature of fearing Allah Ta’ ala. Hence, the command to fear given here is not the kind of fear one habitually has from some beast or enemy. The reason is that &Allah Ta&ala is your Rabb. He nourishes, sustains and cherishes you. He is the compassionate master. Why would someone apprehend this kind of danger from Him?& Instead of that, the fear mentioned at this place is the particular &fear& that is necessarily generated because of the sublimity and awe of one&s elders. It is in that sense that a son &fears& his father and a student, his teacher. They are no enemies. They are not going to hurt them. But, their affectionate sublimity and awe reside in hearts and it is from there that these two make one obey a father and a teacher. This is what is meant at this place and it is being said that &the sublimity and awe of Allah Ta&ala should reign supreme over your hearts so that you can obey Him, perfectly and easily.& The next sentence reads: call وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا (and fear a day when no father will suffice his son, nor will a son be sufficing his father in the least - 33). It means the father and son out of whom one is a believer and the other, a disbeliever. The sense is that a believing father would neither be able to remit or reduce the punishment of his disbelieving son nor would he be able to bring any benefit to him. Similarly, a believing son will be of no avail to his disbelieving father. The reason for this particularization lies in other verses of the noble Qur&an, and the narratives of Hadith. There it has been clarified that, on the day of Judgment, parents will intercede on behalf of their children and the children on behalf of their parents. Then, this intercession will turn out to be successful as well. Says the Qur&an: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّ‌يَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّ‌يَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them - 52:21) even though their deeds may not match the ranking of the deeds of their parents, but such would be the barakah of righteous parents that they too would be made to reach where their parents are. But, this is subject to the condition that the children should be believers - even though, their deeds may have suffered from some shortcomings. Similarly, in another verse, it was said: جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّ‌يَّاتِهِمْ (the eternal gardens they enter, and the righteous of their fathers, spouses, and progeny as well - 13:23). Qualification refers here to their being believers. Both these verses prove that, should parents and children and, in the same way, a husband and wife, share the common denominator of being believers, then, they will receive benefit from each other even on the day of Judgment. Similar to this, there are several narratives of Hadith which report children interceding on behalf of their parents. Therefore, this rule set forth in the present verse (33) - that no father can bring any benefit to his son and no son to his father on the day of Judgment - can become operative only in a situation when one of them is a believer while the other, a disbeliever. (Mazhari) Special Note: Here, it should be noted that the statement declaring the inability of a father to bring benefit to his son (لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ - 3) has been made through a verbal sentence, but two changes were made while mentioning the other side of it. Firstly, it was described in the form of a nominal sentence. Secondly, the word: مَولُود (maulud) meaning the born one, that is, a son, was employed instead of ) وَلَد walad) which is more common for &son.& There is a wise consideration at work here. A nominal sentence is more emphatic as compared to a verbal sentence. By this change in the sentence, a hint was released towards the difference between a father and his children. The love of a father with his children is more intense. Contrary to this, the love of children does not reach this level of intensity even in the mortal world. However, the likelihood of either of the two bringing any benefit for each other on the day of Judgment has been negated in the case of both, but the children&s lack of ability to bring benefit has been described with added emphasis. Then, there is a particular wise consideration in electing the word: مَولُود (maulud) instead of وَلَد) (walad). The word, &maulud& denotes one&s own son or children only. As for the word, وَلَد &walad,& it is general and includes the children of one&s children as well. Thus, it is from another angle that the same subject has been strengthened. It is being virtually said, &when even the son from the very loins of the father would be of no avail to the father, any expectations from the grandson and the great grandson are futile.& In the next verse, the knowledge of five things has been declared as exclusive to Allah Ta’ ala and that no created being has that knowledge except Him and at this ends the Surah Luqman:

خلاصہ تفسیر اے لوگو : اپنے رب سے ڈرو (اور کفر و شرک چھوڑ دو ) اور اس دن سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ مطالبہ ادا کرسکے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی ہے کہ وہ اپنے باپ کی طرف سے ذرا بھی مطالبہ ادا کر دے (اور یہ دن آنے والا ضرور ہے، کیونکہ اس کی نسبت اللہ کا وعدہ ہے اور) یقینا اللہ کا وعدہ سچا (ہوتا) ہے سو تم کو دنیاوی زندگانی دھوکہ میں نہ ڈالے (کہ اس میں منہمک ہو کر اس دن سے غافل رہو) اور نہ تم کو وہ دھوکہ باز (یعنی شیطان) اللہ سے دھوکہ میں ڈالے (کہ تم اس کے بہکانے میں آجاؤ کہ اللہ تم کو عذاب نہ دے گا جیسا کہا کرتے تے (آیت) ولئن رجعت الیٰ ربی ان لی عندہ للحسنیٰ ) بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی (اپنے علم کے موافق) مینہ برساتا ہے (پس اس کا علم اور قدرت بھی اسی کے ساتھ خاص ہے) اور وہی جانتا ہے جو کچھ (لڑکا لڑکی حاملہ کے رحم میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا (اس کی بھی اسی کو خبر ہے) ۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا (اس کی بھی اسی کو خبر ہے اور انہی چیزوں کی کیا تخصیص ہے جتنے غیوب ہیں) بیشک اللہ (ہی ان) سب باتوں کا جاننے والا (اور ان سے) باخبر ہے (کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں) ۔ معارف و مسائل مذکورہ الصدر دو آیتوں میں سے پہلی آیت میں مومن و کافر عام لوگوں کو خطاب فرما کر اللہ تعالیٰ اور قیامت کے حساب و کتاب سے ڈرا کر اس کے لئے تیاری کی ہدایت کی گئی ہے۔ (آیت) یایہا الناس اتقوا ربکم۔ یعنی اے لوگو : ڈرو اپنے پروردگار سے۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ کے نام یا کسی دوسری صفت کے بجائے صفت رب کے انتخاب کرنے میں اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خوف کا جو حکم ہے یہ وہ خوف نہیں جو کسی درندہ یا دشمن سے عادتاً ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو تمہارا رب اور پالنے والا ہے، اس سے اس طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ خوف سے مراد اس جگہ وہ خوف ہے جو اپنے بڑوں اور بزرگوں کی عظمت وہیبت کی وجہ سے ہونا لازم ہے، جیسے بیٹا اپنے باپ سے، شاگرد استاد سے ڈرتا ہے۔ وہ کوئی اس کے دشمن یا ضرر پہنچانے والے نہیں مگر ان کی عظمت وہیبت دلوں میں ہوتی ہے، وہی ان کو باپ اور استاد کی اطاعت پر مجبور کرتی ہے۔ یہاں بھی یہی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت وہیبت تمہارے قلوب پر حاوی ہونی چاہئے تاکہ تم اس کی مکمل اطاعت آسانی سے کرسکو۔ (آیت) واخشوا یوماً لا یحزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شئیاً ، یعنی اس روز سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع پہنچا سکے گا، اور نہ بیٹا باپ کو نفع پہنچانے والا ہوگا۔ مراد اس سے وہ باپ اور بیٹے ہیں جن میں ایک مومن ہو دوسرا کافر۔ کیونکہ مومن باپ نہ اپنے کافر بیٹے کے عذاب میں کوئی کمی کرسکے گا نہ اس کو کوئی نفع پہنچا سکے گا اس طرح مومن بیٹا اپنے کافر باپ کے کچھ کام نہ آسکے گا۔ وجہ اس تخصیص کی قرآن کریم کی دوسری آیات اور روایات حدیث ہیں جن میں اس کی تصریح ہے کہ قیامت کے روز ماں باپ اولاد کی اور اولاد ماں باپ کی شفاعت کریں گے، اور اس شفاعت کی وجہ سے ان کو کامیابی بھی ہوگی۔ قرآن کریم میں ہے (آیت) والذین امنوا اتبہتھم ذریتہم بایمان الحقنا بہم ذریتہم۔ ” یعنی جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع ہوئی، یعنی وہ بھی مومن ہوگئے تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ماں باپ صالحین کے درجہ میں پہنچا دیں گے “ اگرچہ ان کے اپنے اعمال اس درجہ کے قابل نہ ہوں مگر صالح والدین کی برکت سے قیامت میں بھی ان کو یہ نفع پہنچے گا کہ والدین کے مقام پر پہنچا دیا جائے گا مگر اس میں شرط یہی ہے کہ اولاد مومن ہو، اگرچہ عمل میں کچھ کوتاہی ہوئی ہو۔ اسی طرح ایک دوسری آیت میں ہے (آیت) جنت عدن یدخلونہا ومن صلح من اباءہم وازواجہم وذریتہم، یعنی ہمیشہ رہنے کی جنتوں میں داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ وہ لوگ بھی داخل ہوں گے جو ان کے ماں باپ بیویوں اور اولاد میں سے اس قابل ہوں گے، مراد قابل ہونے سے مومن ہونا ہے۔ ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ ماں باپ اور اولاد، اسی طرح شوہر اور بیوی اگر مومن ہونے میں مشترک ہوں تو پھر ایک سے دوسرے کو محشر میں بھی فائدہ پہنچے گا۔ اسی طرح متعدد روایات حدیث میں اولاد کا ماں باپ کی شفاعت کرنا منقول ہے۔ اس لئے آیت مذکورہ کا یہ ضابطہ کہ کوئی باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ کو محشر میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا، یہ اسی صورت میں ہے کہ ان میں سے ایک مومن ہو دوسرا کافر (مظہری) فائدہ : یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اس آیت میں باپ، بیٹے کو نفع نہ پہنچا سکے گا یہاں تو جملہ فعلیہ کی صورت میں (آیت) لا یجزی والدعن ولدہ کے الفاظ سے ذکر فرمایا اور دوسری جانب میں دو تغیر کئے گئے، ایک یہ کہ اس کو جملہ اسمیہ کی صورت میں بیان فرمایا، دوسرے اس میں ولد کے بجائے لفظ مولود اختیار فرمایا۔ حکمت اس میں یہ ہے کہ جملہ اسمیہ بہ نسبت فعلیہ کے زیادہ موکد ہوتا ہے۔ اس تغیر جملہ میں اس فرق کی طرف اشارہ کردیا جو باپ اور اولاد میں ہے کہ باپ کی محبت اولاد کے ساتھ اشد ہے، اس کے برعکس اولاد کی محبت کا یہ درجہ دنیا میں بھی نہیں ہوتا محشر میں نفع رسانی کی نفی تو دونوں سے کردی گئی، مگر اولاد کی عدم نفع رسانی کو موکد کر کے بیان فرمایا۔ اور لفظ ولد کے بجائے مولود اختیار کرنے میں یہ حکمت ہے کہ مولود صرف اولاد کو کہا جاتا ہے اور لفظ ولدعام ہے اولاد کی اولاد کو بھی شامل ہے۔ اس میں دوسرے رخ سے اسی مضمون کی تائید اسی طرح ہوگئی کہ خود صلبی بیٹا بھی باپ کے کام نہ آئے گا، تو پوتے پڑپوتے کا حال معلوم ہے۔ اور دوسری آیت میں پانچ چیزوں کے علم کا بالخصوص حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا، اس کے سوا کسی مخلوق کو ان کا علم نہ ہونا بیان فرمایا ہے اور اسی پر سورة لقمٰن ختم کی گئی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِہٖ۝ ٠ ۡوَلَا مَوْلُوْدٌ ہُوَجَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَـيْـــــًٔا۝ ٠ ۭ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا۝ ٠ ۪ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللہِ الْغَرُوْرُ۝ ٣٣ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ غرر يقال : غَررْتُ فلانا : أصبت غِرَّتَهُ ونلت منه ما أريده، والغِرَّةُ : غفلة في الیقظة، والْغِرَارُ : غفلة مع غفوة، وأصل ذلک من الْغُرِّ ، وهو الأثر الظاهر من الشیء، ومنه : غُرَّةُ الفرس . وغِرَارُ السّيف أي : حدّه، وغَرُّ الثّوب : أثر کسره، وقیل : اطوه علی غَرِّهِ «5» ، وغَرَّهُ كذا غُرُوراً كأنما طواه علی غَرِّهِ. قال تعالی: ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ [ الانفطار/ 6] ، لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ [ آل عمران/ 196] ، وقال : وَما يَعِدُهُمُ الشَّيْطانُ إِلَّا غُرُوراً [ النساء/ 120] ، وقال : بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً إِلَّا غُرُوراً [ فاطر/ 40] ، وقال : يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] ، وقال : وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا مَتاعُ الْغُرُورِ [ آل عمران/ 185] ، وَغَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا [ الأنعام/ 70] ، ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً [ الأحزاب/ 12] ، وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ [ لقمان/ 33] ، فَالْغَرُورُ : كلّ ما يَغُرُّ الإنسان من مال وجاه وشهوة وشیطان، وقد فسّر بالشیطان إذ هو أخبث الْغَارِّينَ ، وبالدّنيا لما قيل : الدّنيا تَغُرُّ وتضرّ وتمرّ «1» ، والْغَرَرُ : الخطر، وهو من الْغَرِّ ، «ونهي عن بيع الْغَرَرِ» «2» . والْغَرِيرُ : الخلق الحسن اعتبارا بأنّه يَغُرُّ ، وقیل : فلان أدبر غَرِيرُهُ وأقبل هريرة «3» ، فباعتبار غُرَّةِ الفرس وشهرته بها قيل : فلان أَغَرُّ إذا کان مشهورا کريما، وقیل : الْغُرَرُ لثلاث ليال من أوّل الشّهر لکون ذلک منه كالْغُرَّةِ من الفرس، وغِرَارُ السّيفِ : حدّه، والْغِرَارُ : لَبَنٌ قلیل، وغَارَتِ النّاقةُ : قلّ لبنها بعد أن ظنّ أن لا يقلّ ، فكأنّها غَرَّتْ صاحبها . ( غ ر ر ) غررت ( ن ) فلانا ( فریب دینا ) کسی کو غافل پاکر اس سے اپنا مقصد حاصل کرنا غرۃ بیداری کی حالت میں غفلت غرار اونکھ کے ساتھ غفلت اصل میں یہ غر سے ہے جس کے معنی کسی شے پر ظاہری نشان کے ہیں ۔ اسی سے غرۃ الفرس ( کگوڑے کی پیشانی کی سفیدی ہے اور غر ار السیف کے معنی تلوار کی دھار کے ہیں غر الثواب کپڑے کی تہ اسی سے محاورہ ہے : ۔ اطوہ علی غرہ کپڑے کو اس کی تہ پر لپیٹ دو یعنی اس معاملہ کو جوں توں رہنے دو غرہ کذا غرورا سے فریب دیا گویا اسے اس کی نہ پر لپیٹ دیا ۔ قرآن میں ہے ؛ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ [ الانفطار/ 6] ای انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دہو کا دیا ۔ لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ [ آل عمران/ 196]( اے پیغمبر ) کافروں کا شہروں میں چلنا پھر تمہیں دھوکا نہ دے ۔ وَما يَعِدُهُمُ الشَّيْطانُ إِلَّا غُرُوراً [ النساء/ 120] اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے ۔ بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً إِلَّا غُرُوراً [ فاطر/ 40] بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے ۔ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] وہ دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالنتے رہتے ہیں ۔ وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا مَتاعُ الْغُرُورِ [ آل عمران/ 185] اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے ۔ وَغَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا[ الأنعام/ 70] اور دنیا کی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً [ الأحزاب/ 12] کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے دھوکے کا وعدہ کیا تھا ۔ وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ [ لقمان/ 33] اور نہ فریب دینے والا شیطان ) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے ۔ پس غرور سے مال وجاہ خواہش نفسانی ، شیطان اور ہر وہ چیز مراد ہے جو انسان کو فریب میں مبتلا کرے بعض نے غرور سے مراد صرف شیطان لیا ہے کیونکہ چو چیزیں انسان کو فریب میں مبتلا کرتی ہیں شیطان ان سب سے زیادہ خبیث اور بعض نے اس کی تفسیر دنیا کی ہے کیونکہ دنیا بھی انسان سے فریب کھیلتی ہے دھوکا دیتی ہے نقصان پہنچاتی ہے اور گزر جاتی ہے ۔ الغرور دھوکا ۔ یہ غر سے ہے اور ( حدیث میں ) بیع الغرر سے منع کیا گیا ہے (57) الغریر اچھا خلق ۔ کیونکہ وہ بھی دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ چناچہ ( بوڑھے شخص کے متعلق محاورہ ہے ۔ فلان ادبر غریرہ واقبل ہریرہ ( اس سے حسن خلق جاتارہا اور چڑ چڑاپن آگیا ۔ اور غرہ الفرس سے تشبیہ کے طور پر مشہور معروف آدمی کو اغر کہاجاتا ہے اور مہینے کی ابتدائی تین راتوں کو غرر کہتے ہیں کیونکہ مہینہ میں ان کی حیثیت غرۃ الفرس کی وہوتی ہے غرار السیف تلوار کی دھار اور غرار کے معنی تھوڑا سا دودھ کے بھی آتے ہیں اور غارت الناقۃ کے معنی ہیں اونٹنی کا دودھ کم ہوگیا حالانکہ اس کے متعلق یہ گہان نہ تھا کہ اسکا دودھ کم ہوجائیگا گویا کہ اس اونٹنی نے مالک کو دھوکا دیا ۔ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔ اس مضمون میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے فرمایا : (یابنی عبدالمطلب لا یاتینی الناس باعمالھم وتاتون بانسابکم فاقول انی لا اغنی عنکم من اللہ شیئا) اے بنو عبدالمطلب ! ایسا نہ ہو کہ لوگ میرے پاس اپنے اچھے اچھے اعمال لے کر آئیں اور تم صرف اپنا نسب لے کر آئو۔ سنو، میں صاف کہتا ہوں کہ اللہ کے سامنے میں تمہارے کسی کام نہ آئوں گا۔ قول باری (لا یجزی والد عن ولدہ) کا مفہوم ہے کہ کوئی والد اپنے ولد کے کوئی کام نہ آسکے گا۔ محاورہ ہے ” جزیت عنک یعنی میں تمہارے کام آگیا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے اہل مکہ اپنے پروردگار کی اطاعت کرو اور اس دن کے عذاب سے ڈرو جس دن عذاب الہی کے سامنے نہ باپ بیٹے کے اور نہ بیٹا باپ کے ہی کچھ کام آسکے گا۔ نہ باپ بیٹے کے اور نہ بیٹا ہی اپنے باپ کے عذاب خداوندی کے سامنے کچھ کام آسکے گا۔ بعث بعد الموت کا وعدہ سچا ہے ضرور پورا ہو کر رہے گا سو تمہیں دنیا کی زیب وزینت دھوکے میں نہ دالے اور نہ تمہیں شیطان اللہ کی طرف سے دھوکے میں ڈالے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَلَا مَوْلُوْدٌ ہُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَیْءًا ط) ” باپ اور بیٹے کے حوالے سے قریب ترین رشتے کا ذکر کر کے گویا اس سے نچلے درجوں کے تمام رشتوں اور تعلقات کے بارے میں واضح کردیا گیا کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ جیسا کہ سورة البقرۃ میں ارشاد ہوا : (وَاتَّقُوْا یَوْماً لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْءًا وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلاَ یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَ ) ” اور ڈرو اس دن سے جس دن کام نہ آسکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی کسی سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ہی انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔ “ (اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقفۃ) ” ایسا نہ ہو کہ تم دنیا کی زندگی کی زیب وزینت پر ریجھ کر اصل زندگی کو بھول جاؤ۔ (وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ باللّٰہِ الْغَرُوْرُ ) ” اللہ کے بارے میں انسان کو دھوکے میں ڈالنے کے لیے شیطان طرح طرح کے حربے آزماتا ہے۔ بعض اوقات وہ انسان کو ہمدردانہ انداز میں باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ اللہ بڑا غفارّ ہے ‘ اس کی رحمت اور مغفرت بہت وسیع ہے ‘ تم خواہ مخواہ گھبرا رہے ہو ‘ کا ہے کو توبہ کا سوچتے ہو ؟ اگر آج تمہیں موقع ملا ہے تو جی بھر کر عیش کرلو ‘ پھر یہ وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ رہا بخشش کا مسئلہ تو اس کی فکر نہ کرو ‘ اللہ بڑے بڑے گنہگاروں کو بھی بخش دے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

59 That is, "The relationship of a person with his friend, or his leader, or his spiritual guide, etc. is not so close and intimate as the relationship that exists between the children and their parents. But on the Day of Resurrection even the son and the father will not be able to help each other. The father will not have the courage to come forward and say that he may be seized instead of the son for his sins, nor will the son have the nerve to say that he may be sent to Hell instead of the father. How can then a person expect that one will be able to avail something for the other there? Therefore, foolish is the person who spoils his Hereafter in the world for the sake of another, or adopts the way of sin and deviation by dependence on others. Here, one should keep in view the theme of verse 15, in which the children have been admonished not to accept deviation in the matter of the faith and religion on behest of the parents, though in affairs of mundane life they are duty bound to serve them as best as they can. " 60 "Allah's promise" : the promise of Resurrection, when the Court of AIIah will be established and everyone will be called to render an account of his deeds. 61 The life of the world involves the people, who only see the superficial, in different kinds of misunderstandings. Someone thinks that life and death only belong to this world, and there is no life hereafter; therefore, whatever one has to do, one should do it here and now. Another one who is lost in his wealth and power and prosperity, forgets his death and gets involved in the foolish idea that his grandees and his power are everlasting. Another one overlooking the moral and spiritual objectives regards the material gains and pleasures in themselves as the only objectives and dces not give anything any importance but the "standard of living", no matter whether his standard of humanity gas on falling lower and lower as a result thereof. Someone thinks that worldly prosperity is the real criterion of truth and falsehood: every way of life that ensures this is the truth and everything contradictory to it is falsehood. Someone regards this very prosperity as a sign of being Allah's favourite, and assumes the law that whoever is leading a prosperous life here is Allah's beloved no matter by what means he might have achieved this prosperity, and whoever is leading a miserable life in the world, even if it be so due to his love of the truth and his uprightness, will live a miserable life in the Hereafter, too. These and other such misunderstandings have been called "deceptions of the worldly life" by Allah. 62 Al-gharur (the deceiver) may be Satan or a man or a group of then, or even man's own self, or something else. The reason for using this comprehensive and meaningful word in its absolute form without identifying a particular person or thing, is that for different people there are different means that cause them deception. Any particular means or cause that deceived a person to be misled and misguided from the right way to the wrong way, will be al-gharur in his particular Case. "To deceive (someone) concerning Allah" are also comprehensive words, which include countless kinds of deceptions. "The deceiver" deceives one man with the idea that there is no God at all, and another man with the idea that God after making the world has handed over its control and administration to the men and is no more concerned with it; he misleads another one, saying, "There arc some favourite ones of God: if you attain nearness to them, you will surely win your forgiveness whatever you may do, or may have done, in the world; " he deceives another one, saying, "God is AII-Forgiving and All-Merciful: you may go on committing sins freely, and He will go on forgiving each sin of yours. " He gives another person the idea of determinism and misguides him, saying, "Everything that you do is pre-ordained: if you commit evil, it is God Who makes you commit it: if you avoid goodness, it is God Who makes you avoid it." Thus, there are countless kinds of such deceptions with which tnan is being deceived concerning God. When analyzed it comes to light that the basic cause of all errors and sins and crimes is that man has been deceived concerning God in one way or the other, and that is how he has been misled to some ideological deviation or moral error. "

سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :59 یعنی دوست ، لیڈر ، پیر اور اسی طرح کے دوسرے لوگ تو پھر بھی دور کا تعلق رکھنے والے ہیں ، دنیا میں قریب ترین تعلق اگر کوئی ہے تو وہ اولاد اور والدین کا ہے ۔ مگر وہاں حالت یہ ہو گی کہ بیٹا پکڑا گیا ہو تو باپ آگے بڑھ کر یہ نہیں کہے گا کہ اسکے گناہ میں مجھے پکڑ لیا جائے ، اور باپ کی شامت آرہی ہو تو بیٹے میں یہ کہنے کی ہمت نہیں ہو گی کہ اس کے بدلے مجھے جہنم میں بھیج دیا جائے ۔ اس حالت میں یہ توقع کرنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص وہاں کسی کے کچھ کام آئے گا ۔ لہٰذا نادان ہے وہ شخص جو دنیا میں دوسروں کی خاطر اپنی عاقبت خراب کرتا ہے ، یا کسی کے بھروسے پر گمراہی اور گناہ کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ اس مقام پر آیت نمبر ۱۵ کا مضمون بھی نگاہ میں رہنا چاہیے جس میں اولاد کو تلقین کی گئی تھی کہ دنیوی زندگی کے معاملات میں والدین کی خدمت کرنا تو بے شک ہے مگر دین و اعتقاد کے معاملے میں والدین کے کہنے پر گمراہی قبول کر لینا ہرگز صحیح نہیں ہے ۔ سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :60 اللہ کے وعدے سے مراد یہ وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور ایک روز اللہ کی عدالت قائم ہو کر رہے گی جس میں ہر ایک کو اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہو گی ۔ سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :61 دنیا کی زندگی سطح بیں انسانوں کو مختلف قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا کرتی ہے ، کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جینا اور مرنا جو کچھ ہے بس اسی دنیا میں ہے ، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے ، لہٰذا جتنا کچھ بھی تمہیں کرنا ہے بس یہیں کرلو ، کوئی اپنی دولت اور طاقت اور خوشحالی کے نشے میں بدمست ہو کر اپنی موت کو بھول جاتا ہے اور اس خیال خام میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کا عیش اور اس کا اقتدار لازوال ہے ۔ کوئی اخلاقی و روحانی مقاصد کو فراموش کر کے صرف مادی فوائد اور لذتوں کو مقصود بالذات سمجھ لیتا ہے اور معیار زندگی کی بلندی کے سوا کسی دوسرے مقصد کو کوئی اہمیت نہیں دیتا خواہ نتیجے میں اس کا معیار آدمیت کتنا ہی پست ہوتا چلا جائے ۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ دنیوی خوشحالی ہی حق و باطل کا اصل معیار ہے ، ہر وہ طریقہ حق ہے جس پر چل کر یہ نتیجہ حاصل ہو اور اس کے برعکس جو کچھ بھی ہے باطل ہے ۔ کوئی اسی خوشحالی کو مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کی علامت سمجھتا ہے اور یہ قاعدۂ کلیہ بنا کر بیٹھ جاتا ہے کہ جس کی دنیا خوب بن رہی ہے ، خواہ کیسے ہی طریقوں سے بنے ، وہ خدا کا محبوب ہے ، اور جس کی دنیا خراب ہے ، چاہے وہ حق پسندی و راست بازی ہی کی بدولت خراب ہو ، اس کی عاقبت بھی خراب ہے ۔ یہ اور ایسی ہی جتنی غلط فہمیاں بھی ہیں ، ان سب کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دنیوی زندگی کے دھوکے سے تعبیر فرمایا ہے ۔ سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :62 الغرور ( دھوکے باز ) سے مراد شیطان بھی ہو سکتا ہے ، کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ بھی ہو سکتا ہے ، انسان کا اپنا نفس بھی ہو سکتا ہے ، اور کوئی دوسری چیز بھی ہو سکتی ہے ۔ کسی شخص خاص یا شئے خاص کا تعین کیے بغیر اس وسیع المعنی لفظ کو اس کی مطلق صورت میں رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے لیے فریب خوردگی کے بنیادی اسباب مختلف ہوتے ہیں ۔ جس شخص نے خاص طور پر جس ذریعہ سے بھی وہ اصل فریب کھایا ہو جس کے اثر سے اس کی زندگی کا رخ صحیح سمت سے غلط سمت میں مڑ گیا وہی اس کے لیے الغرور ہے ۔ اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے کے الفاظ بھی بہت وسیع ہیں جن میں بے شمار مختلف قسم کے دھوکے آ جاتے ہیں ۔ کسی کو اس کا دھوکے باز یہ یقین دلاتا ہے کہ خدا سرے سے ہے ہی نہیں ۔ کسی کو یہ سمجھاتا ہے کہ خدا اس دنیا کو بنا کر الگ جا بیٹھا ہے اور اب یہ دنیا بندوں کے حوالے ہے ۔ کسی کو اس غلط فہمی میں ڈالتا ہے کہ خدا کے کچھ پیارے ایسے ہیں جن کا تقرب حاصل کر لو تو جو کچھ بھی تم چاہو کرتے رہو ، بخشش تمہاری یقینی ہے ۔ کسی کو اس دھوکے میں مبتلا کرتا ہے کہ خدا تو غفور الرحیم ہے ، تم گناہ کرتے چلے جاؤ ، وہ بخشتا چلا جائے گا ۔ کسی کو جبر کا عقیدہ سمجھاتا ہے اور اس غلط فہمی میں ڈال دیتا ہے تم تو مجبور ہو ، بدی کرتے ہو تو خدا تم سے کراتا ہے اور نیکی سے دور بھاگتے ہو تو خدا ہی تمہیں اس کی توفیق نہیں دیتا ۔ اس طرح کے نہ معلوم کتنے دھوکے ہیں جو انسان خدا کے بارے میں کھا رہا ہے ، اور اگر تجزیہ کر کے دیکھا جائے تو آخر کار تمام گمراہیوں اور گناہوں اور جرائم کا بنیادی سبب یہی نکلتا ہے کہ انسان نے خدا کے بارے میں کوئی نہ کوئی دھوکا کھایا ہے تب ہی اس سے کسی اعتقادی ضلالت یا اخلاقی بے راہ روی کا صدور ہوا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٣۔ قیامت کے دن کا معاملہ بڑا سخت ہے صحیح حدیثوں ١ ؎ سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ میں سے ادنی عذاب والا شخص بھی ماں باپ مال اولاد جو کچھ تمام دنیا کا سامان و اسباب ہے سب اپنی نجات کے معاوضہ میں دینے کو تیار ہوجائے گا خیر یہ تو جنت اور دوزخ میں ہوجانے کے بعد کا ذکر ہے اس سے پہلے پل صراط سے گزرنے کے بعد دوزخ اور جنت کے مابین میں ایک بلند مقام پر سب لوگ ظلم و زیادتی کا بدلہ دلائے جانے کے لیے روکے جاویں گے چناچہ صحیح بخاری ٢ ؎ کی حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ظلم و زیادتی کے بدلہ کا ذکر جو فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ وہاں کسی کے پاس کچھ روپیہ پیسہ تو ہے نہیں کہ ظالم مظلوم کو روپیہ پیسہ دے کر اپنی نجات کی صورت نکال لے اس لیے وہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ کسی ظالم نے جس قدر ظلم کسی مظلوم پر کیا ہے اس ظلم کے حساب سے کچھ ثواب اس ظالم کی نیکیوں کا مظلوم کو دلا دیا جائے گا اور اگر اس طرح کے معاوضہ میں نیکیاں اور نیکیوں کا ثواب کچھ کم پڑجائے گا تو ظلم کے حساب سے مظلوم کے گناہوں کے عذاب ظالم کو بھگتنا پڑے گا اس ظلم و زیادتی کے معاوضہ اور بدلہ کو باپ بیٹے اور بیٹا باپ کی شکل سے گھبراوے گا کہ کہیں باپ کی بیٹے پر یا بیٹے کی باپ پر کچھ زیادتی نہ نکل آوے اور اس زیادتی کے بدلہ میں ایک کی نکیاں دوسرے کے پاس نہ چلی جاویں نامہ اعمال کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کے وقت عملوں کے تولنے پل صراط کے گزرنے کے وقت بہت سے موقع قیامت کے دن ایسے ہیں کہ وہاں نہ باپ بیٹے کے کام آسکتا ہے نہ بیٹا باپ کے حاصل کلام یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو آیت میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ کلمہ گو ظالموں کا جب اس دن یہ حال ہوگا تو جو لوگ سب سے بڑے ظلم شرک میں گرفتار رہ کر بغیر توبہ کہ مرجاویں گے ان کو اس دن کی بےکسی سے ڈرنا اور اس لبے کسی کا کچھ انتظام کرلینا چاہئے کیوں کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہ آوے گا بلکہ اس دن تو جو شخص اللہ کی وحدانیت میں پورا اترا اور اس کا خالص نیت کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو اس کی یہ سب مشکلیں اللہ تعالیٰ آسان کر دے گا اپنے اپنے خالص عمل کے موافق کوئی ایسا ہوگا کہ جس کا ایک کلمہ توحید کے ثواب کا بوجھ سب بدیوں پر غالب آجاوے گا پل صراط پر سے کوئی بجلی کی چمک کی طرح گزرے گا کوئی ہوا کی طرح کوئی تیز گھوڑے کی طرح کسی خالص توبہ کا اثر یہ ہوگا کہ اس کے گناہ نیکیوں سے بدل دیئے جائیں گے حساب آسانی سے ہوجاوے گا ہر بات کی کرید نہ نکالی جاوے گی الغرض آخرت میں ہر طرح سے اللہ کی وحدانیت اور نیک عمل کا سودا ہے مشرکین مکہ میں سے جو لوگ اس سے غافل ہیں ان کو قبر میں دفن ہونے کے وقت سے حسرت اور ندامت شروع ہوگی اور قیامت تک وہی حسرت اور ندامت باقی رہے گی صحیح بخاری ابوداؤد اور ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قبر میں دفن عمل کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو اس عذاب سے بچا دیا اور بدعمل شخص کو جنت دکھا کر یہ کہتے ہیں کہ تیری بدعملی کے سبب سے یہ راحب کا مقام تیرے ہاتھ سے جاتا رہا اس وقت بدعمل شخص کو بڑی حسرت ہوتی ہے ترمذی میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص آخرت میں ایک طرح کی ندامت بھگتے گا بدعمل شخص کو یہ ندامت ہوگی کہ وہ بدعملی نہیں کئے جو زیادہ بڑا درجہ ملتا اس حدیث کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبد اللہ (رض) کو اگرچہ بعضضے علماء نے ضعیف قرار احمد (رح) کے استاد ہیں اور راویوں کے باب میں ان کے قول کا بڑا اعتبار ہے۔ علی بن مدینی ان کی اس باب میں بڑی تعریف فرمایا کرتے تھے یہ ابوسعید القطان امام شافعی (رح) کے مرتبہ کے ثقہ تبع ستابعین ہیں اپنے وقت کے امام ہیں اور حدیث کی سب کتابوں لیکن اگر تا بہ مقدور آدمی عمل کر کے اللہ کی رحمت کا امیدوار ہے تو اس امید واری کا مضائقہ نہیں نہ یہ کہ تمام عمر اللہ تعالیٰ کے خلاف مرضی ہمیشہ کام کرے اور اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کی بہبودی کی امیدیں رکھے اس کی عقل ٹھکانے نہیں ہے آگے فرمایا جس دن کے آنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے کیا ہے شیطان کے بہکانے سے دنیا کی زندگی کے بھروسہ پر اس دن کو بھول جانا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے کیوں کہ معمولی عقل کا آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد نیک وبد کی جزو سزا کے لیے ایک دن مقرر نہ ہوتا تو دنیا کا اتنا بڑا انتظام بےٹھکانہ قرار پاتا اور اس طرح کا بےٹھکانہ کام اللہ تعالیٰ کی شان سے بہت بعید ہے۔ غین کے زبر سے غرور اس چیز کو کہتے ہیں جو آدمی کو بہکادے سب سے بڑا بہکانے والا انسان کا شیطان ہے اس لیے اکثر سلف نے یہاں غرور کے معنے شیطان کے کئے ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تتعالیٰ فرمایا انسان کی عقل کے برخلاف میں نے اس کو ایک قطرہ پانی سے پیدا کیا پھر شیطان کے بہکانے سے دنیا کی زندگی کے نشہ میں انسان اپنی خلاف عقل پیدائش کو بھول کر حشر کے قائم ہونے میں عقلی حجتیں جو نکالتا ہے یہ اس کی بڑی نادانی ہے۔ یہ حدیث آیت کے اس آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ (١ ؎ مثلا دیکھئے مشکوٰۃ ص ٥٠٢ باب صفۃ النار و اہلہا بروایت حضرت انس (رض)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(31:33) اتقوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ اتقی یتقی اتقاء (افتعال) مصدر سے ۔ وقی مادہ۔ تم ڈرو۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ تم تقوی اختیار کرو۔ اخشوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ خشی یخشی (سمع) خشیۃ مصدر تم ڈرو۔ لایجزی۔ مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ وہ بدلہ نہ دے سکے گا۔ جزی یجزی (ضرب) جزاء مصدر۔ کسی کا بدلہ دینا۔ جزی مادہ۔ والد عن ولدہ (نہ بدلہ دے سکے گا) (اس دن) کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے۔ مولود۔ اسم مفعول ۔ مذکر ۔ واحد۔ ولادۃ مصدر۔ باب ضرب۔ جنا ہوا۔ بیٹا یا بیٹی جاز جزاء سے اسم فاعل واحد مذکر۔ کفایت کرنے والا۔ بدلہ دینے والا۔ کام آنے والا۔ شیئا۔ کوئی چیز۔ (یعنی کچھ بھی بدلہ نہ دے سے گا) ۔ لا تغرنکم۔ فعل نہی بانون ثقیلہ۔ صیغہ واحد مؤنث غائب۔ (جس کا مرجع الحیوۃ الدنیا ہے) تم کو بہکا نہ دے۔ تم کو دھوکہ نہ دے۔ تم کو فریب میں نہ ڈالے۔ تم کو غلط طمع نہ دلائے غر یغر غرور (باب نصر) ۔ باللہ : ای فی امر اللہ۔ اللہ کے باب میں اللہ کے بارے میں ۔ اللہ کے معاملہ میں۔ مثلا کسی کو گناہ پر اس امید پر ورغلانا کہ خدا غفور الرحیم ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ الغرور۔ صیغہ صفت دھوکہ دینے والا۔ جھوٹی امید دلانے والا یہ مال ہو یا دنیا۔ خواہش نفس ہو یا شیطان۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ال ۔ یہاں جنس کا ہو اور افراد کے خصائص کا استغراق کرنے کے واسطے لایا گیا ہے۔ اور یہ کل کا قایم مقام ہے یعنی وہ دھوکہ باز جو فریب دہی کے تمام رموز میں کامل ہے یعنی شیطان۔ اس کی مثال قرآن مجید میں ذلک الکتب (2:2) ہوسکتی ہے۔ یعنی وہ کتاب جو ہدایت میں کامل اور تمام نازل شدہ کتابوں کی صفتوں اور خصوصیتوں کی جامع ہے۔ صاحب تفہیم القرآن فرماتے ہیں۔ کہ الغرور سے مراد شیطان بھی ہوسکتا ہے۔ کوئی انسان یا انسانوں کا گروہ بھی ہوسکتا ہے۔ انسان کا اپنا نفس بھی وہسکتا ہے ۔ اور کوئی دوسری چیز بھی ہوسکتی ہے۔ ۔۔ جس شخص نے بھی خاص طور پر جس ذریعہ سے بھی وہ اصل فریب کھایا ہو ۔ جس کے اثر سے اس کی زندگی کا رخ صحیح سمت سے غلط سمت میں مڑ گیا۔ وہی اس کے لئے الغرور ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل ذکر کرنے کے بعد اب تقویٰ کا حکم دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی نافرماین سے بچا جائے۔ (کبیر) مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن تو قریب ترین تعلقات بھی ختم ہوجائیں گے، نہ باپ اپنے بیٹے کے آلام و مصائب کو دور کرسکے گا اور نہ بیٹا باپ کو کسی قسم کی اہانت و روسائی سے محفوظ رکھ سکے گا۔ لکل امرء منھم یومئذ شان یغنیہ دیکھیے سورة عبس آیت 37)3 لفظی ترجمہ یہ ہے ” اور نہ دھوکہ دینے والا شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں ڈال دے۔ “ اللہ کے بارے میں شیطان کا یہ دھوکہ کئی طرح سے ہوتا ہے کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ خدا ہی نہیں ہے۔ کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ خدا بڑا غفور رحیم ہے۔ مزے سے گناہ کئے جاو وہ سب معاف کر دے گا۔ کسی سے کہتا ہے کہ فلاں بزرگ یا پیر صاحب کا اس پر بڑا زور ہے وہ سفارش کر کے تمہیں اس کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ الغرض مختلف طریقوں سے انسان کو دنیا کی طرف مائل کر کے خدا سے غافل بنا دیتا ہے۔ وغیرہ (وحیدی وغیرہ)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یعنی وہ دن آنے والا ضرور ہے، کیونکہ اس کی نسبت اللہ کا وعدہ ہے۔ 9۔ کہ اس میں منہمک ہو کر اس دن سے غافل رہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جو شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے دراصل وہ اپنے رب سے جھگڑتا ہے۔ انسان کو اپنے رب سے جھگڑنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور قیامت کے عذاب سے بچنا چاہیے۔ اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے خوف کھاؤ جس دن باپ اپنے بیٹے کے اور بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام نہیں آسکے گا۔ اس دن کو برپا کرنا اور لوگوں سے ان کے اعمال کا حساب لینا اللہ تعالیٰ کے ذمّہ ہے۔ تمہیں اس دن کے بارے میں دنیا کی زندگی دھوکے میں مبتلا نہ کرے اور نہ ہی شیطان تمہیں تمہارے رب کے بارے میں کسی فریب میں مبتلا کرے۔ قرآن مجید میں یہ بات پوری طرح کھول کر بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے دن نہ سفارش چلے گی نہ فدیہ قبول ہوگا اور نہ ہی کسی قسم کا اثر ورسوخ کام آئے گا حالت یہ ہوگی کہ جونہی کسی مجرم کی گرفتاری عمل میں آئے گی تو اس کے عزیزو اقربا اس سے دوربھاگ جائیں گے یہاں تک کہ بھائی اپنے بھائی سے ماں، باپ اپنی اولاد سے سے دور بھاگ جائے گی ( عبس : ٣٣ تا ٣٦) یہ صورتحال دیکھ کر مجرم خواہش کرے گا کہ کاش میری اولاد، میری بیوی، میرے بھائی اور میرے خاندان کے افراد اور زمین کے برابر سونا لے کر مجھے چھوڑ دیا جائے۔ (المعارج : ١١ تا ١٤) جس دنیا کی خاطر انسان اللہ اور آخرت کو بھول جاتا ہے اس دن اس کی کوئی چیز کام نہیں آئے گی اس لیے فرمایا کہ اے لوگو تمہیں دنیا کی زندگی اور شیطان تمہارے رب سے دور نہ کر دے۔ قیامت کے دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بےبسی : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یَلْقٰی إِبْرَاہِیْمُ أَبَاہُ آزَرَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلٰی وَجْہِ آزَرَ قَتَرَۃٌوَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ لَہٗ إِبْرَاہِیْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّکَ لَا تَعْصِنِیْ فَیَقُوْلُ أَبُوْہُ فَالْیَوْمَ لَآأَعْصِیْکَ فَیَقُوْلُ إِبْرَاہِیْمُ یَارَبِّ إِنَّکَ وَعَدْتَّنِیْ أَنْ لَّا تُخْزِیَنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ فَأَیُّ خِزْیٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِی الْأَبْعَدِفَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِنِّیْ حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلٰی الْکَافِرِیْنَ ثُمَّ یُقَالُ یَآ إِبْرَاہِیْمُ مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ فَیَنْظُرُ فَإِذَا ھُوَ بِذِیْخٍ مُتَلَطِّخٍ فَیُؤْخَذُ بِقَوَآءِمِہٖ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ ) [ رواہ البخاری : باب قول اللّٰہ تعالیٰ (واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلا)] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملیں گے اس کے چہرے پر سیاہی اور گردو غبار ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ سے کہیں گے میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرو۔ تو وہ کہے گا کہ آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) فریاد کریں گے کہ اے میرے رب آپ نے مجھ سے قیامت کے دن مجھے ذلیل نا کرنے کا وعدہ کیا تھا میرے باپ سے زیادہ بڑھ کر اور کونسی ذلت ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے۔ پھر کہا جائے گا ابراہیم اپنے پاؤں کی طرف دیکھو۔ وہ دیکھیں گے تو ان کا باپ کیچڑ میں لتھڑا ہوا بجو بن چکا ہوگا جسے ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ “ لفظ غرور کے دو معانی ہیں۔ 1 اگر ” غین “ پر زبر پڑھیں تو اس کا معنٰی شیطان ہوگا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ” وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ باللّٰہِ الْغَرُوْرُ “ کہ شیطان تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ نہ دے۔ 2 دوسرا معنٰی ہے دھوکہ، فراڈ۔ مسائل ١۔ انسان کو اپنے رب سے ڈر کر زندگی بسر کرنی چاہیے۔ ٢۔ انسان کو دنیا کی زیب وزینت پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن مجرم کو کوئی چیز فائدہ نہ دے گی : ١۔ کافر زمین کے برابر سونا دے کر بھی جہنم سے نجات نہیں پاسکے گا۔ (آل عمران : ٩١) ٢۔ قیامت کے دن ان کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (الانعام : ٥١) ٣۔ کافر بغیر حساب کے جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ (الکہف : ١٠٥) ٤۔ کافروں کو ان کی جمعیت اور تکبر کام نہیں آئے گا۔ (الاعراف : ٤٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یایھا الباس اتقوا ۔۔۔۔۔۔ یغرنکم باللہ الغرور (33) ” “۔ یہ نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ یہاں دنیا میں جو خوف ہوتا ہے دلوں میں اور شعور میں اس کی تو مثال ہوتی ہے۔ لیکن قیامت کا یہ خوف بےمثال ہوگا۔ اس میں تمام رشتہ داری اور خون کے تعلقات ختم ہوں گے۔ والدہ اولاد سے بھاگ رہا ہوگا۔ اور اولاد کو والدین کی پرواہ اور فکر نہ ہوگی۔ ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی ، نفسا نفسی کا عالم ہوگا ، کوئی کسی کی جگہ ضامن نہ ہوگا ، کسی کو بھی خود اس کے اپنے اعمال کے سوا کسی کا عمل فائدہ نہ دے سکے گا۔ ایسے حالات ظاہر ہے کہ ایسے خوف میں ہوں گے جس کی کوئی نظیر اس دنیا میں نہ ہوگی۔ لہٰذا یہاں خدا سے ڈرنے کی دعوت دینا بہت سی برمحل دعوت ہے اور آخرت کا مسئلہ نہایت ہی خوف کے عالم میں پیش ہوا ہے اس لیے و دماغ اس کی طرف متوجہ ہیں۔ ان وعد اللہ حق (31: 33) ” فی الواقعہ اللہ کا وعدہ سچا ہے “۔ نہ اللہ اس کے خلاف کرتا ہے اور نہ اللہ کا کہا ٹل سکتا ہے۔ ہر شخص کو اس بےمثال خوف سے گزرتا ہے اور ہر شخص کو پوری باریکی سے حساب و کتاب دینا ہے۔ ایک عادلانہ فیصلہ سننا ہے جس کے نیتجے میں نہ باپ بیٹے کا بدل ہوگا اور نہ بیٹا باپ کا۔ فلما تغرنکم الحیوۃ الدنیا (31: 33) ” پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے “۔ اس دنیا میں سازو سامان ہے ، لہو و لعب ہے لیکن اس کی مہلت بہت ہی محدود ہے۔ یہاں انسان آزمائش کیلئے بھیجا گیا ہے۔ ولا یغرنکم باللہ الغرور (31: 33) ” اور نہ دھوکہ باز تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے “۔ کوئی سازو سامان تمہیں دھوکا نہ دے۔ کوئی شفل میلہ تمہیں بدراہ نہ کر دے ، کوئی شیطان تمہیں وسوسے میں نہ ڈالے۔ دھوکا باز بہت ہیں ، شیطان بیشمار ہیں اور دنیا کی دلچسپیاں بھی ہر طرف سے دامن کش ہیں۔ مال کا غرور بھی شیطان ہے۔ علم کا غرور بھی شیطان ہے ، قوت کا غرور بھی شیطان ہے اور شیطان پرستی بھی شیطان ہے ، خواہش نفس بھی شیطان ہے۔ شہوت جسمانی بھی شیطان ہے۔ ان تمام شیطانوں سے بچانے والی قوت خوف خدا کی قوت ہے۔ اس سورة کے خاتمے اور اس چوتھے راؤنڈ کے خاتمے پر اور اس خوفناک منظر آخرت کی مناسبت سے فکر و خرد کے تاروں پر یہ آخری اور ذرا شدید مضراب لگتا ہے۔ اس میں اللہ کے علم لامحدود اور انسان کے محدود علم کی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ انسان کا علم جس کی دسترس سے ہر وہ چیز غائب ہے جو نظروں سے اوجھل ہو۔ اب اس مسئلے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے جو اس سورة کا موضوع ہے اور یہ نتیجہ قرآن کی عجیب تصویر کشی سے نکلتا ہے ، اللہ کے علم ازلی اور ابدی کی تصویر۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ سے ڈرو، قیامت کے دن کی حاضری کا فکر کرو، شیطان دھوکہ باز تمہیں دھوکہ نہ دیدے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن سے ڈرو یعنی اس دن کی بےبسی اور بےکسی کا دھیان کرو اور اس کا انتظام کرو اور وہ انتظام یہ ہے کہ ایمان لاؤ اور اعمال صالحہ اختیار کرو، اس دن بےکسی کا یہ عالم ہوگا کہ آپس میں کوئی کسی کی طرف سے کوئی بدلہ دینے کو تیار نہ ہوگا، سب سے بڑا قریب تر رشتہ باپ اور بیٹے کا ہے، قیامت کا دن بڑا ہولناک ہوگا۔ سب کو اپنی اپنی فکر لگی ہوئی ہوگی، جب محاسبہ ہونے لگے گا اور کفر پر اور اعمال بد پر سزا ملنے کا فیصلہ ہوگا تو نہ باپ بیٹے کی طرف سے کوئی بدلہ دے گا اور نہ بیٹا باپ کی طرف سے، کسی کو بھی یہ گوارا نہ ہوگا کہ یہ عذاب سے بچ جائے اور اس کا جو عذاب ہونا ہے وہ مجھ پر آجائے۔ قیامت کے بارے میں جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے کوئی شخص اسے یوں ہی چلتی ہوئی بات نہ سمجھے، اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے ضرور واقع ہوگا۔ اب ہر شخص کو اپنے واقعی اصلی مفاد کے لیے متفکر ہونا ضروری ہے کہ میرا آخرت میں کیا بنے گا ؟ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دنیاوی زندگی کی مشغولیت آخرت کی تیاری نہیں کرنے دیتی، اسی کو فرمایا (فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا) (سو تمہیں ہرگز دنیا والی زندگی دھوکہ میں نہ ڈال دے) الفاظ کا عموم ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو دنیا کا جاہ و مال چھوٹ جانے کے ڈر سے اسلام قبول نہیں کرتے اور ان کو بھی شامل ہے جو مسلمان ہونے کا دم بھرتے ہیں لیکن دنیا ہی کو انہوں نے مقصود حقیقی بنا رکھا ہے اور اسی کے لیے سوچتے ہیں، اسی کے لیے جیتے ہیں اور اسی کے لیے مرتے ہیں، انہیں ہری بھری دنیا پسند ہے، فرائض اور واجبات کو بھی چھوڑتے ہیں اور دنیا جمع کرنے کے لیے خیانت، چوری، غصب، ظلم، حرام کاروبار سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ نفس اور شیطان دونوں کا دوستانہ ہے دونوں انسان کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں اور اللہ کا نام لے کر انسان کو دھوکہ دیتے ہیں اور ورغلاتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ اس وقت نماز چھوڑ دو ، روزہ توڑ دو ، اگلے سال زکوٰۃ دے دینا اس سال حج کو نہ جاؤ ابھی تو جوانی ہے گناہ کرکے مزے اڑالو، اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے گناہ کرلیا تو کیا ہے بعد میں توبہ کرلینا، اس طرح کی باتیں نفس اور شیطان اور گمراہی کے لیڈر سامنے لاتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ دھوکہ دینے والا تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے، اپنی فکر خود کرو، مومن بنو، اللہ کی عبادت میں لگو، اس کی فرمانبرداری کرو، ہوشیار بندہ وہی ہے جو نفس و شیطان کے کہنے میں نہ آئے اور کسی کے بھی بہلانے پھسلانے سے اپنی آخرت تباہ نہ کرے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

32:۔ یا ایہا الناس الخ، یہ تخویف اکروی ہے قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے ڈروا۔ اس دن میں باپ بیٹے کے کام نہیں آئیگا اور بیٹا باپ کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکے گا اور نہ دنیا کا ساز و سامان اور مال و زر ہی کسی کام آئی گا جس پر آج تم نازاں ہو اور جس پر مغرور ہو کر توحید سے منہ موڑ رہے ہو۔ الغرور دھوکہ دینے والا یعنی شیطان اور شیطان کے دھوکے میں بھی نہ آنا جو تمہیں جھوٹی آرزوئیں اور تمنائیں دلا کر اس کی توحید، اسلام اور آخرت سے غافل کرتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

33۔ اے افراد نوع انسانی اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آسکے گا اور نہ بیٹا ہی اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق اور سچا ہے سو تم کو کہیں دنیوی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور دھوکے میں مبتلا نہ کردے اور تم کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ دھوکے باز یعنی شیطان کسی دھوکے میں نہ ڈال دے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس خوفناک دن سے ڈرتے رہو جس دن بیٹے کی طرف سے کوئی مطالبہ اس کا باپ نہ پورا کرسکے اور باپ پر اگر کوئی مطالبہ ہو تو اس کو بیٹا نہ بھگتا سکے بلکہ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہو۔ لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ اس افراتفری میں کوئی کسی کا نہ ہوگا اور جب قریبی باپ بیٹا ایک دوسرے کے کام نہ آئے تو پوتے پروتے اور دادا پردادا کا تو کہنا ہی کیا ہے پھر یہ بھی یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے یہ دن ضرور آ کر رہے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیوی زندگی تم کو کسی فریب اور دھوکے میں مبتلا کر دے اور تم سمجھ بیٹھو کہ یہ دنیوی آرام و عیش یوں ہی جاری رہیں گے یا جو یہاں مزے میں ہیں وہاں بھی مزے میں ہوں گے اور تم کو وہ دھوکے باز بھی دھوکا نہ دیدے اور فریب میں مبتلا نہ کر دے جو تمہارا پرانا دشمن ہے یعنی شیطان ، یا طویل اور المبی امید ۔ ( واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شیطان دھوکا دے کہ اللہ غفور الرحیم ہے اور دنیا کا جینا بہکا دے کہ جسکو یہاں بھلا ہے اس کو وہاں بھی بھلادے۔ 12 اب آگے حارث یا وارث بن عمر اور ایک محارب کے چند سوالات کا جواب ہے۔