Surat Assajdah

Surah: 32

Verse: 17

سورة السجدة

فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾

And no soul knows what has been hidden for them of comfort for eyes as reward for what they used to do.

کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ کر رکھی ہے ، ہے ، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَلَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ ... No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes, means, no one knows the vastness of what Allah has concealed for them of everlasting joy in Paradise and delights such as no one has ever seen. Because they conceal their good deeds, Allah conceals the reward for them, a fitting reward which will suit their deeds. Al-Hasan Al-Basri said, "If people conceal their good deeds, Allah will conceal for them what no eye has seen and what has never crossed the mind of man." It was recorded by Ibn Abi Hatim. Al-Bukhari quoted the Ayah: فَلَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ (No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes), then he recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah said: قَالَ اللهُ تَعَالى أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلى قَلْبِ بَشَر Allah says: "I have prepared for My righteous servants what no eye has seen, no ear has heard, and it has never crossed the mind of man." Abu Hurayrah said: "Recite, if you wish: فَلَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ (No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes). It was also recorded by Muslim and At-Tirmidhi. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih." In another version of Al-Bukhari: وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا مِنْ بَلْهِ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْه "and no body has ever even imagined of. All that is reserved, besides which, all that you have seen is nothing." It was also reported from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Prophet said: مَنْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ يَنْعَمْ لاَ يَبْأَسْ لاَ تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلاَ يَفْنَى شَبَابُهُ فِي الْجَنَّةِ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلى قَلْبِ بَشَر Whoever enters Paradise, will enjoy a life of luxury and never feel deprivation, his clothes will never wear out, his youth will never fade. In Paradise there is what no eye has ever seen, no ear has ever heard, and has never crossed the mind of man. This was recorded by Muslim. ... جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ as a reward for what they used to do.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

171نفس نکرہ ہے جو عموم کا فائدہ دیتا ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان نعمتوں کو جو اس نے مذکورہ اہل ایمان کے لیے چھپا کر رکھی ہیں جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔ اس کی تفسیر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حدیث قدسی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں کسی کان نے ان کو سنا نہیں نہ کسی انسان کے وہم و گمان میں ان کا گزر ہوا۔ 172اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کے لئے اعمال صالحہ کا اہتمام ضروری ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢٠] ایسے لوگ جو رات کی تاریکیوں میں، لوگوں سے چھپ کر، ریا کاری سے بچتے ہوئے اللہ کو یاد کرتے اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ تو ان کا بدلہ بھی ایسی چیزیں ہوں گی جو اللہ نے ان کے لئے چھپا رکھی ہیں۔ وہ نعمتیں کیا ہوں گی وہ ایسے لوگوں کے دلوں اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں گی۔ ان کی صفات بیان کرنے سے انسان کو اس دنیا میں سمجھ بھی نہیں آسکے گی۔ جس طرح اگر کسی شخص نے آم کبھی نہ کھایا ہو تو خواہ اس کے مزے کی تفصیل کتنی ہی بیان کی جائے۔ ایسے کبھی نہیں ہوسکتی۔ جیسے کوئی شخص آم کھا کر محسوس یا معلوم کرسکتا ہے۔ اور جنت کی نعمتوں کا تو یہ حال ہے کہ نہ کبھی کسی نے دیکھیں، نہ سنیں، نہ چکھیں حتیٰ کہ کسی کے دل میں ان کا خیال تک بھی نہ آیا جب کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ && اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے پنے (نیک) بندوں کے لئے وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ کبھی کسی آنکھ نے دیھا، نہ کسی کان نے سنا، ہو اور نہ ہی کسی کے دل میں ان کا خیال تک آیا ہو && حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ اگر تم چاہو تو (دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھ لو۔ فلا ععلم نفس۔۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُن۔۔ : لفظ ” نَفْسٌ“ نکرہ ہے، جو عموم کا فائدہ دیتا ہے، یعنی کوئی نفس نہیں جانتا، خواہ انسان ہو یا جن یا فرشتہ، پھر خواہ ملک مقرب ہو یا نبی مرسل، غرض اللہ کے سوا کوئی ان نعمتوں کو نہیں جانتا جو اس نے مذکور اہل ایمان کے لیے چھپا کر رکھی ہیں، جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے ان اعمال کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔ ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( قَال اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ، قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ اقْرَؤُوْا إِنْ شِءْتُمْ : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُن ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : ( فلا تعلم نفس ما أخفي۔۔ ) : ٤٧٧٩۔ مسلم : ٢٨٢٤ ] ” اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے، میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا خیال آیا۔ “ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا، اگر چاہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لو : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُن) [ السجدۃ : ١٧ ] اس مقام پر ابن کثیر (رض) نے جنت کی نعمتوں کے بیان میں کئی احادیث ذکر کی ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْيُنٍ۝ ٠ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ ١٧ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ قرر ( آنکھ ٹهنڈي کرنا) صببت فيها ماء قَارّاً ، أي : باردا، واسم ذلک الماء الْقَرَارَةُ والْقَرِرَةُ. واقْتَرَّ فلان اقْتِرَاراً نحو : تبرّد، وقَرَّتْ عينه تَقَرُّ : سُرّت، قال : كَيْ تَقَرَّ عَيْنُها [ طه/ 40] ، وقیل لمن يسرّ به : قُرَّةُ عين، قال : قُرَّتُ عَيْنٍ لِي وَلَكَ [ القصص/ 9] ، وقوله : هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] ، قيل : أصله من القُرِّ ، أي : البرد، فَقَرَّتْ عينه، قيل : معناه بردت فصحّت، وقیل : بل لأنّ للسّرور دمعة باردة قَارَّةً ، وللحزن دمعة حارّة، ولذلک يقال فيمن يدعی عليه : أسخن اللہ عينه، وقیل : هو من الْقَرَارِ. والمعنی: أعطاه اللہ ما تسکن به عينه فلا يطمح إلى غيره، وأَقَرَّ بالحقّ : اعترف به وأثبته علی نفسه . وتَقَرَّرَ الأمرُ علی كذا أي : حصل، والقارُورَةُ معروفة، وجمعها : قَوَارِيرُ قال : قَوارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 16] ، وقال : رْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوارِيرَ [ النمل/ 44] ، أي : من زجاج . قرت لیلتنا تقر رات کا ٹھنڈا ہونا ۔ یوم قر ٹھنڈا دن ) لیلۃ فرۃ ( ٹھنڈی رات ) قر فلان فلاں کو سردی لگ گئی اور مقرور کے معنی ٹھنڈا زدہ آدمی کے ہیں ۔ مثل مشہور ہے ۔ حرۃ تحت قرۃ یہ اس شخص کے حق میں بولتے ہیں جو اپنے ضمیر کے خلاف بات کرے ۔ قررت القدر اقرھا میں نے ہانڈی میں ٹھنڈا پانی ڈالا ۔ اور اس پانی کو قرارۃ قررہ کہا جاتا ہے ۔ اقتر فلان اقترار یہ تبرد کی طرح ہے جس کے معنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کے ہیں ۔ قرت عینہ ت قرآن کھ کا ٹھنڈا ہونا ۔ مراد خوشی حاصل ہونا ہے قرآن پاک میں ہے : كَيْ تَقَرَّ عَيْنُها [ طه/ 40] تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ اور جسے دیکھ کر انسان کو خوشی حاصل ہو اسے قرۃ عین کہاجاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : قُرَّتُ عَيْنٍ لِي وَلَكَ [ القصص/ 9] یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] اے ہمارے پروردگار ہمیں بیویوں کی طرف سے دل کا چین اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں قر بمعنی سردی سے ہے لہذا قرت عینہ کے معنی آنکھ کے ٹھنڈا ہو کر خوش ہوجانے کے ہیں بعض نے کہا ہے کہ قرت عینہ کے معنی خوش ہونا اس لئے آتے ہیں کہ خوشی کے آنسو ٹھنڈے ہوتے ہیں اور غم کے آنسو چونکہ گرم ہونے ہیں اس لئے بددعا کے وقت اسخن اللہ عینہ کہاجاتا ہاے ۔ بعض نے کہا ہے کہ قرار س مشتق ہے مراد معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے وہ چیزبخشے جس سے اس کی آنکھ کی سکون حاصل ہو یعنی اسے دوسری چیز کی حرص نہ رہے ۔ اقر بالحق حق کا اعتراف کرنا ۔ تقر الامر علی ٰ کذا کسی امر کا حاصل ہوجانا ۔ القارودۃ شیشہ جمع قواریر قرآن میں ہے : قَوارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 16] اور شیشے بھی چاندی کے ۔ صبح ممرد من قواریر یہ ایسا محل ہے جس میں ( نیچے ) شیشے جڑے ہوئے ہیں یعنی شیشے کا بنا ہوا ہے ۔ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

سو ان کو خبر نہیں جو جنت میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے سامان اور ثواب و اعزاز خزانہ غیب میں موجود ہے یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ ہے جو انہوں نے دنیا میں کیے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ج) آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر عمومی طور پر قرآن میں ملتا ہے اور جن کے بارے میں ہم کسی حد تک اندازہ بھی کرسکتے ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق اہل جنت کی ابتدائی مہمانی (نُزُل) سے ہے ‘ جبکہ جنت کی اصل نعمتوں کا نہ تو کسی کو علم ہے اور نہ ہی ان کا تصور انسانی فہم و ادراک میں آسکتا ہے۔ اس آیت کی وضاحت حدیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ، فَاقْرَءُ وْا اِنْ شِءْتُمْ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) (١) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے (جنت میں) وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا گمان ہی گزرا۔ (پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ) اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان (اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29 Bukhari, Muslim, Tirmidhi and Imam Ahmad have in different ways cited on the authority of Hadrat Abu Hurairah that the Holy Prophet said: "Allah says: I have got ready for My righteous servants that which has neither been seen by the eye, nor heard by the ear, nor ever conceived by any man. " The same thing has been reported with a little difference in wording by Hadrat Abu Sa' id Khudri, Mughirah bin Shu`bah and Sahl bin Sa'd as-Sai'di from the Holy Prophet and related with authentic links by Muslim. Ahmed, Ibn Jarir and Tirmidhi.

سورة السَّجْدَة حاشیہ نمبر :29 بخاری ، مسلم ، ترمذی اور مسند احمد میں متعدد طریقوں سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قال اللہ تعالیٰ اعددت لعبادی الصالحین ما لا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علیٰ قلب بشرٍ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کبھی کسی کان نے سنا ، نہ کوئی انسان کبھی اس کا تصور کر سکا ہے ۔ یہی مضمون تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری ، حضرت مغیرہ بن شُعْبہ اور حضرت سہَل بن سَعد ساعِدی نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے جسے مسلم ، احمد ، ابن جریر اور ترمذی نے صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: یعنی خزانہ غیب میں ایسے نیک لوگوں کے لیے جو نعمتیں چھپی ہوئی ہیں وہ انسان کے تصور سے بھی بلند ہیں

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٧۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ١ ؎ فرمایا کرتے تھے (١ ؎ تفسیر معالم التنزیل زیر تفسیر آیت ہذا۔ ) کہ یہ آیت قرآن شریف میں ایسی ہے جس کی تفسیر انسان سے نہیں ہوسکتی اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کی تائید اس صحیح حدیث قدسی سے ہوتی ہے جس کو امام بخاری ومسلم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ٢ ؎ کیا ہے (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر (ص ٤٦٠ ج ٣) وغیرہ) جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے بعضے نیک بندوں کے لیے جنت وہ وہ نعمتیں رکھی ہیں جو کسی نے نہ آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل میں ان کا تصور گزر سکتا ہے حضرت ابوہریرہ (رض) جب یہ حدیث آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا کرتے تھے تو ساتھ اس کے اس آیت کو بھی پڑھا کرتے تھے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ حدیث آیت کی تفسیر ہے اب جو بات آدمی نے نہ آنکھوں سے دیکھی ہو نہ کانون سے سنی ہو نہدل میں اس کا تصور گزر سکتا ہو تو ایسی بات کو انسان قلم یا زبان سے کیوں کر ادا کرسکتا ہے اسی واسطے امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس نے یہ فرمایا کہ اس آیت کی تفسیر انسان کے اختیار سے باہر ہے کیوں کہ خود صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیث قدسی میں یہ فرمایا ہے کہ اس آیت کی تفسیر کا سمجھنا انسان کے و کی منصوبہ سے باہر ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جن ایماندار لوگوں کے نیک عملوں کا اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا اس آیت میں ان عملوں کی جزا کا یہ ذکر ہے اور اوپر کی حدیث قدسی اس جزا کی تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(32:17) فلا تعلم نفس میں فاء فصیحت کے لئے ہے لا تعلم نفس نہیں جانتی کوئی جان۔ یعنی کوئی شخص نہیں جانتا۔ کسی کو علم نہیں۔ ما اخفی۔ میں ما موصولہ ہے اخفی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ صلہ جو کچھ چھپا رکھا ہے۔ جو کچھ چھپایا ہوا ہے۔ ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ کیا چھپا رکھا ہے۔ یاء کیا چھپایا ہوا ہے۔ فھم میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہ مؤمنین ہیں جن کی صفت آیات 1516 میں بیان ہوئی ہیں۔ قرۃ اعین۔ مضاف مضاف الیہ ۔ آنکھوں کی ٹھنڈک ۔ قرۃ قر سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ٹھنڈک کے ہیں ۔ مثلاً قرت لیلتنا۔ رات کا ٹھنڈا ہونا۔ قر فلان فلاں کو سردی لگ گئی۔ قرت عینہ آنکھ کا ٹھنڈا ہونا۔ مراد خوشی حاصل ہونا۔ قرآم مجید میں ہے کی تقرعینھا (20:4) تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اور جسے دیکھ انسان کو خوشی حاصل ہوا اسے قرۃ عین کہا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ قرار سے مشتق ہے اور معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز بخشے جس سے اس کی آنکھ کو سکون حاصل ہو یعنی اسے دوسری چیز کی حرص نہ رہے۔ جملہ کا ترجمہ یوں ہوگا :۔ کوئی متنفس نہیں جانتا جو (نعمتیں) ان کے لئے چھپا رکھی ہیں جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ یا آنکھوں کی ٹھنڈک ٹھنڈک نصیب ہوگی۔ جزائ۔ مصدر ہے اور فعل محذوف کے بعد تاکید کے لئے لایا گیا ہے اصل میں جزوا جزاء بما کانوا یعملون ۔ ان کے اعمال کا ان کو صلہ دیا جائے گا۔ بما میں ب سببیہ ہے اور ما موصولہ بمعنی الذی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد وہ نعمتیں ہیں جنہیں پا کر وہ بےحد خوش ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے متعدد اسانید کے ساتھ صحیحین اور سنن کی کتابوں میں مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔ اس مضمون کی احادیث دوسرے متعدد صحابہ (رض) سے بھی مروی ہے۔ ( شوکانی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فلما تعلم نفس ۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (32: 17) ” “۔ یہ ایک عجیب انداز تعبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ خفیہ تعلق ہوتا ہے اور اللہ نے بذات خود اپنے دوستوں کے لیے تحفے تیار کر رکھے ہیں ، ان کو خفیہ رکھا ہے اور اللہ نے ان کے بارے میں کسی کو کوئی اطلاع بھی نہیں دی تاکہ ان کو قیامت کے دن اچانک ظاہر کیا جائے۔ اب یہ ہونے والی ملاقات کس قدر باعث احترام ہے ، کس قدر اس کا انتظار ہے اور کس قدر شاندار ہے کہ اس میں اللہ اپنے دوستوں میں نادیدہ تحفے تقسیم کریں گے جو تیار ہوچکے ہیں اور اللہ اپنی موجودگی میں یہ تحفے تقسیم کریں گے۔ سبحان اللہ ! اپنے بندوں پر اللہ کے کیا کرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے۔ ان کا عمل جو بھی ہو ، ان کی عبادت جو بھی ہو ، اور ان کی اطاعت جس قدر بھی ہو ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے خود ان کے لیے بعض تحفے تیار کر رکھے ہیں۔ نہایت اہتمام ، رعایت ، کرم اور شفقت کے ساتھ۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے اور وہ بہت ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ پھر دوبارہ اس اجمال کی تفصیل دی جاتی ہے۔ ذلیل شدہ مجرمین کے انجام کے مقابلے میں مومنین کا بہترین انجام ذرا مفصلاً بیان ہوتا ہے کہ اللہ مومنین کو کس قدر منصفانہ جزاء ان کے اعمال کی دے گا۔ وہ مومنین اور مجرمین کے انجام میں دنیا اور آخرت دونوں میں فرق کرے گا یعنی خفیہ تحفوں کے علاوہ ان کے اعمال کا بھی پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جن حضرات کی صفات اوپر بیان ہوئی ہیں ان کا انعام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے لیے جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان پوشیدہ کیا ہوا ہے اسے کوئی شخص نہیں جانتا، اس میں اجمالی طور پر جنت کی نعمتوں کا مرتبہ بتایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے بندوں کے لیے وہ سامان تیار کیا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا گذر ہوا، اس کے بعد راوی حدیث حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو (فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٠٤) درحقیقت بات یہ ہے کہ جنت کی جن چیزوں کا قرآن و حدیث میں تذکرہ ہے اس میں کسی نعمت کی پوری کیفیت بیان نہیں کی گئی جو کچھ بیان فرمایا ہے وہاں کی نعمتیں اس سے بہت بلند ہیں اور بالا ہیں اس لیے فرما دیا کہ آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان اہل جنت کے لیے تیار کیا گیا ہے کوئی آنکھ تو دنیا میں اسے کیا دیکھ پاتی کسی کان نے اس کی کیفیت کو سنا تک نہیں اور کسی کے دل میں اس کا تصور تک نہیں آیا۔ جنت کے متعلق جو کچھ سن کر اور پڑھ کر سمجھ میں آتا ہے جب جنت میں جائیں گے تو اس سے بہت بلند وبالا پائیں گے، پھر جنت کی جن نعمتوں کا تذکرہ قرآن و حدیث میں موجود ہے وہاں ان کے علاوہ بہت زیادہ نعمتیں ہیں، نیز کسی چیز کے دیکھنے اور استعمال کرنے سے جو پوری واقفیت حاصل ہوتی ہے وہ محض سننے سے حاصل نہیں ہوتی لہٰذا اس دنیا میں رہتے ہوئے نعمائے جنت کی واقعی حقیقت و کیفیت کا ادراک نہیں ہوسکتا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر جنت کی نعمتوں میں سے اتنی تھوڑی سی کوئی چیز دنیا والوں پر ظاہر ہوجائے جسے ناخن پر اٹھا سکتے ہیں تو آسمان اور زمین کے کناروں میں جو کچھ ہے وہ سب مزین ہوجائے، اور اہل جنت میں سے کوئی شخص دنیا کی طرف جھانک لے جس سے اس کے کنگن ظاہر ہوجائیں تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو ختم کردے جیسا کہ سورج ستاروں کی روشنی کو ختم کردیتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ ساری دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سب سے بہتر ہے۔ (رواہ البخاری) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی جنت میں نہیں ہے صرف ناموں کی مشابہت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کے تذکرہ میں جو سونا چاندی، موتی، ریشم، درخت، پھل ہیرے، تخت، گدے، کپڑے وغیرہ آئے ہیں یہ چیزیں وہاں کی چیزیں ہوں گی اور اسی عالم کے اعتبار سے ان کی خوبی اور بہتری ہوگی، دنیا کی کوئی بھی چیز جنت کی کسی چیز کے پاسنگ بھی نہیں ہے۔ تنبیہ : نیک بندوں کی تعریف فرماتے ہوئے (وَھُمْ لاَ یَسْتکْبِرُوْنَ ) بھی فرمایا ہے یہ سلبی صفت ہے دیگر صفات ایجابی ہیں۔ بات یہ ہے کہ تکبر بہت بری بلا ہے اپنی بڑائی بگھارنا، شہرت کا طالب ہونا، دوسروں کو حقیر جاننا دکھاوے کے لیے عبادت کرنا تاکہ لوگ معتقد ہوں، یہ سب تکبر کے شعبے ہیں۔ تکبر عبادات کا ناس کھو دیتا ہے، کیا کرایا سب مٹی میں مل جاتا ہے، ریا کاری کی وجہ سے اعمال باطل ہوجاتے ہیں اور وہ مستوجب سزا بھی ہے جیسا کہ احادیث شریفہ میں اس کا تذکرہ آیا ہے، مومن بندوں پر لازم ہے کہ تکبر سے دور رہیں، تواضع اختیار کریں، فرائض بھی ادا کریں، واجبات بھی پورے کریں، نوافل بھی پڑھیں، زکوٰۃ بھی دیں، صدقہ بھی کریں، سب سے اللہ کی رضا مقصود ہو، دکھاوا نہ کریں اور نہ بندوں سے تعریف کے خواہشمند ہوں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

15:۔ فلا تعلم الخ یہ ان مومنین کاملین کے لیے بشارت ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آرام و آسائش کا جو سامان عالم آخرت میں تیار کر رکھا ہے اس کی تفصیلات کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ سب کچھ ان کے ایمان خالص اور عمل صالح کی جزا ہے نعیم جنت کا اجمالی ذکر تو قرآن و حدیث میں موجود ہے اس لیے یہاں نفی علم سے علم علی سبیل التفصیل کی نفی مراد ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

17۔ سو ایسے لوگوں کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان پوشیدہ دھرا ہوا ہے اور خزانہ غیب میں اس کو کوئی شخص نہیں جانتا یہ ان کو ان کے ان اعمال نیک کا صلہ ملے گا جو وہ کیا کرتے تھے ۔ یعنی ایسے عبادت گزار لوگوں کے لئے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان چھپا دھرا ہے اس سامان کا کسی علم نہیں اور کوئی اس کو نہیں جانتا یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے مطلب یہ ہے کہ اس آنکھوں کی ٹھنڈک کے سامان کو نہ کوئی بشر جانتا ہے نہ اس کی خبر کسی ملک مقرب کو اور نہ اس کا علم کسی اولو العزم پیغمبر کو ہے ۔ یہاں نکرہ تحت النفی واقع ہے جو عموم افراد کو مستلزم ہے اب جبکہ مومنین اور منکرین کا انجام بیان ہوچکا تواب دونوں میں عد م تساوی او عدم مساوات کا ذکر فرمایا ارشاد ہوتا ہے۔