Surat Assajdah

Surah: 32

Verse: 19

سورة السجدة

اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰی ۫ نُزُلًۢا بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾

As for those who believed and did righteous deeds, for them will be the Gardens of Refuge as accommodation for what they used to do.

جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں ، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وہ کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَمَّا الَّذِينَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ... As for those who believe and do righteous good deeds, meaning, their hearts believed in the signs of Allah, and they did as the signs of Allah dictate, i.e. righteous good deeds. ... فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوَى ... for them are Gardens of Abode, i.e., in which there are dwellings and houses and lofty apartments. ... نُزُلاً ... as an entertainment, means, something to welcome and honor a guest, ... بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ for what they used to do.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰي : ” الماوی “ ” أَوٰی یَأْوِيْ “ (ض) (جگہ پکڑنا، پناہ لینا، رہنا) سے ظرف یا مصدر میمی ہے، رہنے کی جگہ یا رہائش۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے صالح عمل کیے ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، دنیا کی طرح نہیں جو دار زوال ہے اور نہ ہی جہنم کی طرح جو جائے فرار ہے۔ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : ” نُزُلًۢا “ مہمان کی آمد پر اس کی خاطر تواضع کے لیے جو کچھ پیش کیا جائے۔ جب مہمانی کا یہ عالم ہے تو مزید عنایتوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کا کچھ اندازہ اس سے پہلی آیت : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ) اور حدیث رسول : ( مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ) [ مسلم : ٢٨٢٤ ] سے ہوسکتا ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ کسی کے نیک اعمال کو اس کے لیے جنت کی مہمانی کا سبب بنا دے، ورنہ کسی کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا، فَإِنَّہُ لَا یُدْخِلُ أَحَدًا الْجَنَّۃَ عَمَلُہُ ، قَالُوْا وَلَا أَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ یَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَ رَحْمَۃٍ ) [ بخاري، الرقاق، باب القصد و المداومۃ علی العمل : ٦٤٦٧ ]” سیدھے رہو، قریب رہو اور خوش خبری سنو، کیونکہ کسی کو بھی اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ “ لوگوں نے کہا : ” یا رسول اللہ ! کیا آپ کو بھی نہیں ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے مغفرت اور رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰي۝ ٠ ۡنُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ ١٩ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا اور آواہ ( افعال ) ایواء کے معنی ہیں کسی کو جگہ دینا قرآن میں ہے { إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ } ( سورة الكهف 10) جب وہ اس غار میں جار ہے { قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ } ( سورة هود 43) اس نے کہا کہ میں ( ابھی ) پہاڑ سے جا لگوں گا ۔ نزل ( ضيافت) النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. والنُّزُلُ : ما يُعَدُّ للنَّازل من الزَّاد، قال : فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلًا [ السجدة/ 19] وأَنْزَلْتُ فلانا : أَضَفْتُهُ. ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں النزل ( طعام مہمانی ) وہ کھان جو آنے والے مہمان کے لئے تیار کیا جائے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلًا[ السجدة/ 19] ان کے رہنے کے لئے باغ میں یہ مہمانی ۔ انزلت فلانا کے معنی کسی کی مہمانی کرنے کے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اب پھر اللہ تعالیٰ ان دونوں جماعتوں کا مرنے کے بعد کیا ٹھکانا ہوگا اس کو یوں بیان فرما رہا ہے کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو ان کے دنیاوی نیک اعمال کے صلہ میں ان کو آخرت میں ٹھہرے اور قیام کرنے کے لیے جنتیں ملیں گی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩ (اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰی ز) لغوی اعتبار سے نُزُلکا تعلق نازل ہونے یا اترنے سے ہے۔ جو کوئی مہمان آپ کے دروازے پر آیا اور اپنی سواری سے اترا وہ نَزِیل ہے اور آپ نے موسم اور رواج کے مطابق فوری طور پر جو کچھ اس کو پیش کیا وہ نُزُل (ابتدائی مہمان نوازی) ہے۔ جبکہ باقاعدہ مہمان نوازی کے لیے لفظ ضیافت استعمال ہوتا ہے جو نُزُل کے بعد کا مرحلہ ہے۔ ضیافت کا لفظ ضیف (مہمان) سے بنا ہے۔ یعنی جب آپ اپنے مہمان کے لیے باقاعدہ قیام کا بندوبست کریں گے اور اس کے آرام و طعام کا اہتمام کریں گے ‘ تب وہ ضیف کے درجے میں آئے گا۔ اس مرحلے میں آپ اس کی مہمان نوازی کے لیے جو خاطر مدارات کریں گے وہ ضیافت کہلائے گی۔ چناچہ آخرت کے حوالے سے جن باغوں اور نعمتوں کا ذکر قرآن میں عمومی طور پر آیا ہے ان کا درجہ دراصل اہل جنت کے لیے نُزُل (ابتدائی مہمان نوازی) کا ہے ‘ جبکہ ان کی اصل ضیافت اس کے بعد ہوگی۔ اس ضیافت کے دوران جو نعمتیں اور آسائشیں اہل جنت کو مہیا کی جائیں گی ان کے متعلق کوئی کچھ نہیں جانتا۔ جیسا کہ ابھی حدیث بیان ہوئی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

32 That is, "The Gardens will not merely be a means of entertainment for them, but the same will be their dwelling-places in which they will live for ever. "

سورة السَّجْدَة حاشیہ نمبر :32 یعنی وہ جنتیں ان کی سیر گاہیں نہیں ہوں گی بلکہ وہی ان کی قیام گاہیں بھی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(32:19) اما۔ لیکن ، سو۔ یہاں بطور حرف شرط آیا ہے اس صورت میں اما الذین امنوا وعملوا الصلحت شرط۔ اور فہم جنت الماوی جواب شرط ہے۔ اس کی مثال ہے فاما الذین امنوا فیعلمون انہ الحق من ربہم (2:26) اما کے حرف شرط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حرف فاء کا آنا لازم ہے۔ جنت الماوی۔ مضاف مضاف الیہ۔ جنت جمع جنۃ کی۔ الماوی اسم ظرف۔ مقام سکونت۔ ٹھکانا۔ ال تعریف کا ہے۔ لانھا المسکن الحقیقی کیونکہ حقیقی ٹھکانہ وہی ہے بعض کے نزدیک جنت عدن کی طرح مخصوص نام ہے۔ واحد کے صیغہ کے ساتھ بھی آیا ہے مثلاً عندھا جنۃ الماوی (53:15) اس کے پاس رہنے کی بہشت ہے۔ یا فلان الجنۃ ہی الماوی (79: 41) اس کا ٹھکانا بہشت ہے۔ لیکن الماوی دوزخ کے لئے بھی آیا ہے مثلاً فان الجحیم ہی الماوی (79:39) اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ الماوی : اوی یاوی (باب ضرب) سے مصدر بھی ہے اوی بھی مصدر ہے اگر صلہ میں الی ہو تو پناہ پکڑنے اور ٹھکانا بنانے کے معنی ہوں گے۔ جیسے قال ساوی الی جبل (11:43) وہ بولا میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں۔ باب افعال سے اوی یؤوی ایواء فعل متعدی بمعنی کسی کو جگہ دینا۔ یا ٹھکانا دینا۔ مثلاً ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ (12:69) اور جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے (حقیقی) بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ نزلا۔ طعام ضیافت۔ مہمانی کا کھانا۔ اسم ہے ۔ منصوب بوجہ حال ہونے کے جنت سے ۔ بما کانوا یعملون باء سببہ ما موصولہ (بمعنی الذی ای بسبب الذی کانوا یعملونہ فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ یعنی بسبب ان اعمال صالحہ کے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کے اچھے کام آخرت میں اس مہمانی کا سبب بن جائیں گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ اما الذین امنوا الخ۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ یہ فریقین کے مراتب اخرویہ کی تفصیل ہے نسخ میں مراتب الفریقین بعد نفی استوائہما (روح ج 21 ص 133) ۔ مومنین کاملین دنیا کے آرام و آسائش کو عبادت الٰہی پر قربانی کرتے ہیں اس لیے اس کے بدلے اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں جنت الماوی عطا فرمائے گا جس میں ہر قسم کی راحت اور آسائش میسر ہوگی اور وہ اس میں معزز مہمانوں کی طرح رہیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

19۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کا ٹھکانہ باغ ہیں یہ باغ ان کے ان اعمال نیک کے بدلے میں بطورمہمانی کے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی ایمان والوں کو جو نیک اعمال کے پابند رہے ان کو باغوں میں ٹھکانہ دیا جائے گا وہ باغ بطور مہمانی کے ہوں گے جو ان کو ان اعمال کے بدلے میں عطا ہوں گے جو وہ کیا کرتے تھے ان کی مہمانی ان باغوں میں یعنی جنتوں میں ہوگی۔