34 "The Signs of his Lord" include alI kinds of the Signs. A perusal of aII the Qur'anic verses in this regard shows that these Signs are of the following six kinds: (1) The Signs which are found in everything from the earth to the heavens and in the system of the universe as a whole. (2) The Signs which are found in man's own creation and in his constitution and body. (3) The Signs which are found in man's intuition, his unconscious and subconscious mind and in his moral concepts. (4) The Signs which are found in the continuous experience of human history. (5) The Signs which are found in the , coming down of the earthly and heavenly calamities on man. (6) And, over and above aII these, the Revelations which Allah sent through His Prophets so that man may be made conscious in a rational way of those realities, which are pointed out by all the above-mentioned Signs. All these Signs proclaim consistently and clearly: `O man, you are neither without God, nor the servant of many gods, but your God is only One God: no other way of life is correct for you except the way of His service and obedience. You have not been left to live a free and independent and irresponsible lift in this world, but you have to appear before yow God and render an account of your deeds after your life-activity here has come to an end, and be rewarded or punished accordingly. Therefore, it is in yow own interest that you should follow the guidance which yow God' has sent through His Prophets and His Books for your instruction and desist from an independent way of lift." Now, obviously, the man who has been warned in so many different ways, for whose admonition countless different Signs have been provided, and who has been blessed with the eyes to see and the cars to hear and the mind to think, and yet he closes his eyes to all these Signs, and closes his cars to the admonitions of his well-wishers, and uses his mind also for inventing stupid and blind philosophies only can be a wretched and wicked person. He only deserves to be given full punishment for rebellion when he appears before his God after the expiry of the period of test in the world.
سورة السَّجْدَة حاشیہ نمبر :34
رب کی آیات یعنی اس کی نشانیوں کے الفاظ بہت جامع ہیں جن کے اندر تمام اقسام کی نشانیاں آجاتی ہیں ۔ قرآن مجید کے جملہ بیانات کو نگاہ میں رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشانیاں حسب ذیل چھ قسموں پر مشتمل ہیں :
۱ ۔ وہ نشانیاں جو زمین سے لے کر آسمان تک ہر چیز میں اور کائنات کے مجموعی نظام میں پائی جاتی ہیں ۔
۲ ۔ وہ نشانیاں جو انسان کی اپنی پیدائش اور اس کی ساخت اور اس کے وجود میں پائی جاتی ہے ۔
۳ ۔ وہ نشانیاں جو انسان کے وجدان میں ، اسکے لاشعور میں ، اور اس کے اخلاقی تصورات میں پائی جاتی ہیں ۔
٤ ۔ وہ نشانیاں جو انسانی تاریخ کے مسلسل تجربات میں پائی جاتی ہیں ۔
۵ ۔ وہ نشانیاں جو انسان پر آفات ارضی و سماوی کے نزول میں پائی جاتی ہیں ۔
٦ ۔ اور ان سب کے بعد وہ آیات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے بھیجیں تاکہ معقول طریقے سے انسان کو انہی حقائق سے آگاہ کیا جائے جن کی طرف اوپر کی تمام نشانیاں اشارہ کر رہی ہیں ۔
یہ ساری نشانیاں پوری ہم آہنگی اور بلند آہنگی کے ساتھ انسان کو یہ بتا رہی ہیں کہ تو بے خدا نہیں ہے ، نہ بہت سے خداؤں کا بندہ ہے ، بلکہ تیرا خدا صرف ایک ہی ہے جس کی عبادت و اطاعت کے سوا تیرے لیے کوئی دوسرا راستہ صحیح نہیں ہے ۔ تو اس دنیا میں آزاد و خود مختار اور غیر ذمہ دار بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ تجھے اپنا کارنامۂ حیات ختم کرنے کے بعد اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر جواب دہی کرنی ہے اور اپنے عمل کے لحاظ سے جزا اور سزا پانی ہے ۔ پس تیری اپنی خیر اسی میں ہے کہ تیرے خدا نے تیری رہنمائی کے لیے اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے جو ہدایت بھیجی ہے اس کی پیروی کر اور خود مختاری کی روش سے باز آجا ۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جس انسان کو اتنے مختلف طریقوں سے سمجھایا گیا ہو ، جس کی فہمائش کے لیے طرح طرح کی اتنی بے شمار نشانیاں فراہم کی گئی ہوں ، اور جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں سننے کے لیے کان ، اور سوچنے سمجھنے کے لیے دل کی نعمتیں بھی دی گئی ہوں ، وہ اگر ان ساری نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتا ہے ، سمجھانے والوں کی تذکیر و نصیحت کے لیے بھی اپنے کان بند کر لیتا ہے ، اور اپنے دل و دماغ سے بھی اوندھے فلسفے ہی گھڑنے کا کام لیتا ہے ، اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہو سکتا ۔ وہ پھر اسی کا مستحق ہے کہ دنیا میں اپنے امتحان کی مدت ختم کرنے کے بعد جب وہ اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو تو بغاوت کی بھر پور سزا پائے ۔