Surat Assajdah

Surah: 32

Verse: 30

سورة السجدة

فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ انۡتَظِرۡ اِنَّہُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴿۳۰﴾٪  16

So turn away from them and wait. Indeed, they are waiting.

اب آپ ان کا خیال چھوڑ دیں اور منتظر رہیں یہ بھی منتظر رہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So turn aside from them and await, verily, they (too) are awaiting. meaning, `turn away from these idolators, and convey that which has been revealed to you from your Lord.' This is like the Ayah, اتَّبِعْ مَأ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ Follow what has been revealed to you from your Lord, there is no God but Him. (6:106) `Wait until Allah fulfills that which He has promised you, and grants you victory over those who oppose you, for He never breaks His promise.' عَنْهُمْ وَانتَظِرْ (verily, they (too) are awaiting). means, `you are waiting, and they are waiting and plotting against you,' أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ Or do they say: "A poet! We await for him some calamity by time!" (52:30) `You will see the consequences of your patience towards them, and the fulfillment of the promise of your Lord in your victory over them, and they will see the consequences of their wait for something bad to befall you and your Companions, in that Allah's punishment will come upon them.' Sufficient unto us is Allah, and He is the Best Disposer of affairs. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Sajdah; all praise is due to Allah and all the favors come from Him Alone.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

301یعنی ان مشرکین سے اعراض کرلیں اور تبلیغ و دعوت کا کام اپنے انداز سے جاری رکھیں، جو وحی آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے، اس کی پیروی کریں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا " اتبع ما اوحی الیک من ربک لا الہ الا ہو واعرض عن المشرکین " آپ خود اس طریقت پر چلتے ہیں رہیے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے۔ 302یعنی اللہ کے وعدے کا کہ کب پورا ہوتا ہے اور تیرے مخالفوں پر تجھے غلبہ عطا فرماتا ہے ؟ یقینا وہ پورا ہو کر رہے گا۔ 303یعنی کافر منتظر ہیں کہ شاید یہ پیغمبر ہی گردشوں کا شکار ہوجائے اور اس کی دعوت ختم ہوجائے۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اپنے نبی کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو پورا فرمایا اور آپ پر گردشوں کے منتظر مخالفوں کو ذلیل خوار کیا یا ان کو آپ کا غلام بنایا دیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣١] آپ ان سے الجھنا اور بحث کرنا چھوڑ دیجئے۔ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ آپ اس بات کے منتظر رہئے کہ کب اللہ کا وعدہ پورا ہوتا ہے اور وہ انشاء اللہ ضرور پورا ہوگا اور وہ لوگ اس بات کے انتظار میں ہیں کہ تم اور تمہاری یہ چھوٹی اور کمزور سی جماعت کب گردش ایام کا شکار ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانْتَظِرْ : جو لوگ قیامت کا انکار محض اس لیے کر رہے ہیں کہ انھیں اس کا وقت نہیں بتایا گیا، انھیں سمجھانا بےسود ہے، آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور انتظار کریں کہ اللہ کا وعدہ کب پورا ہوتا ہے، جو ہر حال میں پورا ہو کر رہنے والا ہے۔ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ : یقیناً وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں کہ آپ اور آپ کی یہ چھوٹی سی جماعت کب زمانے کی کسی گردش کا شکار ہوتی ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (٩٨) اور سورة طور میں فرمایا : (اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ ) [ الطور : ٣٠، ٣١ ] ” یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں ؟ کہہ دے انتظار کرو، پس بیشک میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَانْتَظِرْ اِنَّہُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۝ ٣٠ۧ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

سو اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بنی خزیمہ کی باتوں کا خیال نہ کیجیے اور آپ فتح مکہ کے دن ان کی ہلاکت کے منتظر رہیے یہ بھی انتظار ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے دن ان لوگوں کو ہلاک کردیا۔ تمت بالخیر

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ (فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَانْتَظِرْ اِنَّہُمْ مُّنْتََََظِرُوْنَ ) ۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایّاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(32:30) فاعرض۔ تو منہ پھیر لے۔ تو کنارہ کر جا۔ تو اعراض کر۔ رخ گردانی کر۔ (ان کی دل آزار باتوں پر غم نہ کر) انتظر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو انتظار کر۔ تو منتظررہ۔ انتظار (افتعال) مصدر یعنی ان کی انجام کار ہلاکت کا انتظار کر۔ انھم منتظرون ۔ اسم فاعل جمع مذکر حاضر۔ انتظار کرنے والے۔ تحقیق یہ بھی (اپنی انجام کار ہلاکت و بربادی کا) انتظار ہی کر رہے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

9۔ معلوم ہوجاوے گا کہ کس کا انتظار مطابق واقع کے ہے اور کس کا نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ ) (سو آپ ان سے اعراض فرمائیے) ان کی تکذیب اور استہزاء کا وبال انہی پر پڑے گا، ان کا سمجھنے کا ارادہ نہیں ہے اور افہام و تفہیم بھی ان کے حق میں مفید نہیں۔ (وَانْتَظِرْ اِنَّھُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ ) (آپ انتظار کیجیے وہ بھی انتظار کر رہے ہیں) آپ ہماری مدد کے منتظر رہیں وہ غیر شعوری طور پر عذاب کے منتظر ہیں۔ ولقد تم تفسیر سورة السجدۃ بحمد اللّٰہ تعالیٰ وحسن توفیقہ للیلۃ الثانی عشر من شھر شعبان المعظم من شھور السنۃ السادس عشرۃ بعد الف والربع ماء ۃ سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28:۔ فاعرض الخ، آپ ان سے اعراض فرمائیں اور ان کے انکار و استہزاء کی پروا نہ کریں اور اللہ کی مدد ونصرت اور اعداء دین کی ہلاکت کا وقت قریب ہے۔ آپ میرے وعدے کا انتظار کریں۔ مشرکین بھی اس انتظار اور آرزو میں ہیں مسلمان حوادث زمان اور مصائب دہر سے نیست و نابود ہوجائیں گے (وانتظر) ای موعدی لک (انھم منتظرون) ای ینتظرون بکم حوادث الزمان (قرطبی ج 14 ص 112) ۔ آخر جنگ بدر میں اللہ کا وعدہ نصرت پورا ہوا۔ کلمہ اسلام بلند ہوا۔ اور مسلمانوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوئی۔ اور ان کے مقابلے میں کفر سرنگوں ہوا۔ مشرکین خائب و خاسر ہوئے۔ اور ان کی تمام آرزوئیں خاک میں مل گئیں۔ فالحمد للہ علی ذلک حمدا کثیرا۔ سورة سجدہ کی خصوصیات اور اس میں آیات توحید 1 ۔ اللہ الذی خلق السموات والارض۔ تا۔ افلا تتذکرون۔ (رکوع 1) ۔ نفی شفاعت قہریہ 2 ۔ یدبر الامر من السماء۔ تا۔ العزیز الرحیم۔ نفی شرک فی التصرف والعلم۔ 3 ۔ اولم یروا انا نسوق الماء۔ تا۔ افلا یبصرون۔ نفی شرک فی التصرف۔ سورة الم السجدۃ ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30۔ سو آپ ان کافروں اور دین حق کے منکروں سے اپنی توجہ ہٹا لیجئے اور ان کا خیال چھوڑ دیجئے اور ان کی باتوں کا خیال نہ کیجئے اور اس یوم موعود کا انتظار کرتے رہیے یہ کافر بھی انتظار کر رہے ہیں۔ یعنی آپ اپنی تبلیغ جاری رکھیئے اور ان کی بیہودہ ہفوات کی جانب توجہ نہ کیجئے یوم الفتح کا اعلان ہوچکا ہے آپ بھی اس کا انتظار فرمایئے یہ بھی انتظار کررہے ہیں اس دن حق اور باطل کا خود بخود ہی فیصلہ ہوجائے گا ۔ تم تفسیر سورة السجدۃ فللہ الحمد والنعمۃ والشکر