Surat ul Ahzaab

The Clans

Surah: 33

Verses: 73

Ruku: 9

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الْاَحْزَاب نام : آیت ۲۰ کے فقرہ یَحْسَبُونَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْھَبُوْا سے ماخوذ ہے ۔ زمانۂ نزول : اس سورۃ کے مضامین تین اہم واقعات سے بحث کرتے ہیں ۔ ایک غزوۂ احزاب جو شوال ۵ ھجری میں پیش آیا ۔ دوسرے غزوۂ بنی قُرَیْظَہ جو ذی القعدہ ۵ ھجری میں پیش آیا ۔ تیسرے حضرت زینب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح جو اسی سال ذی القعدہ میں ہوا ۔ ان تاریخی واقعات سے سورۃ کا زمانۂ نزول ٹھیک متعین ہو جاتا ہے ۔ تاریخی پس منظر : جنگ اُحُد ( شوال ۳ ھ ) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کیے ہوئے تیر اندازوں کی غلطی سے لشکر اسلام کو جو شکست نصیب ہو گئی تھی اس کی وجہ سے مشرکین عرب ، یہود اور منافقین کی ہمتیں بہت بڑھ گئی تھیں اور نہیں امید بندھ چلی تھی کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ان بڑھتے ہوئے حوصلوں کا اندازہ ان واقعات سے ہو سکتا ہے جو اُحد کے بعد پہلے ہی سال میں پیش آئے ۔ جنگ اُحد پر دو مہینوں سے زیادہ نہ گزرے تھے کہ نجد کے قبیلۂ بنی اَسَدْ نے مدینہ طیبہ پر چھاپا مارنے کی تیاریاں کیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی روک تھام کے لیے سَرِیَّۂابو سَلَمہ ( اصطلاح میں سَرِیہ اس فوجی مہم کو کہتے ہیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک نہ ہوتے تھے ۔ اور غزْوہ اس جنگ یا مہم کو کہا جاتا ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود قیادت فرماتے تھے ) بھیجنا پڑا ۔ پھر صفر ٤ھ میں قبائل عَضَل اور قارَہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چند آدمی مانگے تاکہ وہ ان علاقہ میں جا کر لوگوں کو دین اسلام کی تعلیم دیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ اصحاب کو ان کے ساتھ کر دیا ۔ مگر رَجیع ( جدہ اور رابِغ کے درمیان ) پہنچ کر وہ لوگ قبیلۂ ھُذَیل کے کفار کو ان بے بس مبلغین پر چڑھا لائے ، ان میں سے چار کو قتل کر دیا ، اور دو صاحبوں ( حضرت خُبَیب بن عَدِی اور حضرت زید بن الدَّثِنَّہ ) کو لے جا کر مکۂ معظمہ میں دشمنوں کے ہاتھ فروخت کر دیا ۔ پھر اسی ماہ صفر میں بنی عامر کے ایک سردار کی درخواست پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور وفد جو چالیس ( یا بقول بعض ۷۰ ) انصاری نوجوانوں پر مشتمل تھا ، نجد کی طرف روانہ کیا ۔ مگر ان کے ساتھ بھی غداری کی گئی اور بنی سُلیم کے قبائل عُصَیَّہ اور رِعْل اور ذکْوان نے بِئر مَعُونہ کے مقام پر اچانک نرغہ کر کے ان سب کو قتل کر دیا ۔ اسی دوران میں مدینے کا یہودی قبیلہ بنی النَّضِیر دلیر ہو کر مسلسل بد عہدیاں کرتا رہا ، یہاں تک کہ ربیع الاوّل ٤ ھ میں اس نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دینے کی سازش تک کر ڈالی ۔ پھر جمادی الاولیٰ ٤ھ میں بنی غَطَفان کے دو قبیلوں ، بنو ثَعْلَبَہ اور بنو مُحَارِب نے مدینہ پر حملے کی تیاریاں کیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خود ان کی روک تھام کے لیے جانا پڑا ۔ اس طرح جنگ اُحْد کی شکست سے جو ہوا اکھڑی تھی وہ مسلسل سات آٹھ مہینے تک اپنا رنگ دکھاتی رہی ۔ لیکن وہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عزم و تدبر اور صحابۂ کرام کا جذبۂ فدا کاری تھا جس نے تھوڑی مدت کے اندر ہی حالات کا رخ بدل کر رکھ دیا ۔ عربوں کے معاشی مقاطعہ نے اہل مدینہ کے لیے جینا دشوار کر رکھا تھا ۔ گرد و پیش کے تمام مشرک قبائل چیرہ دست ہو رہے تھے ۔ خود مدینہ کے اندر یہود اور منافقین مار آستین بنے ہوئے تھے ۔ مگر ان مٹھی بھر مومنین صادقین نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قیادت میں پے درپے ایسے اقدامات کیے جن سے عرب میں اسلام کا رعب صرف بحال ہی نہیں ہو گیا ، بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ۔ جنگِ احزاب سے پہلے کے غَزوات: ان میں سے اولین اقدام وہ تھا جو جنگ اُحُد کے فوراً ہی بعد کیا گیا ۔ جنگ کے ٹھیک دوسرے روز جبکہ بکثرت مسلمان زخمی تھے اور بہت سے عزیز ترین اقارب کی شہادت پر کہرام برپا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی زخمی اور حضرت حمزہ کی شہادت پر دلفگار تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے فدائیوں کو پکارا کہ لشکر کفار کے تعاقب میں چلنا ہے تاکہ وہ کہیں راستے سے پلٹ کر پھر مدینے پر حملہ آور نہ ہو جائیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازہ بالکل صحیح تھا کہ کفار قریش ہاتھ آئی ہوئی فتح کا کوئی فائدہ اٹھائے بغیر واپس تو چلے گئے ہیں ، لیکن راستے میں جب کسی جگہ ٹھہریں گے تو اپنی اس حماقت پر نادم ہوں گے اور دوبارہ مدینے پر چڑھ آئیں گے ۔ اس بناء پر آپ نے ان کے تعاقب کا فیصلہ کیا اور فوراً ۳٦۰ جاں نثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو گئے ۔ مکہ کے راستے میں جب حَمْرأ الاسد پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین روز تک پڑاؤ کیا تو ایک ہمدرد غیر مسلم کے ذریعہ سے آپ کو معلوم ہو گیا کہ ابو سُفْیان اپنے ۲۹۷۸ آدمیوں کے ساتھ مدینے سے ۳٦ میل دور الرَّوحأ کے مقام پر ٹھہرا ہوا تھا اور یہ لوگ فی الواقع اپنی غلطی کو محسوس کر کے پھر پلٹ آنا چاہتے تھے ، لیکن یہ سن کر ان کی ہمت ٹوٹ گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر لیے ہوئے ان کے تعاقب میں چلے آ رہے ہیں ۔ اس کارروائی کا صرف یہی فائدہ نہیں ہوا کہ قریش کے بڑھے ہوئے حوصلے پست ہو گئے ، بلکہ گرد و پیش کے دشمنوں کو بھی یہ معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں کی قیادت ایک انتہائی بیدار مغز اور اولوالعزم ہستی کر رہی ہے اور مسلمان اس کے اشارے پر کٹ مرنے کے لیے ہر وقت تیا رہیں ۔ ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول ، صفحات ۲۲۹ ۔ ۲۳۰ ۔ ۳۰۳ ) پھر جوں ہی بنی اسد نے مدینے پر چھاپہ مارنے کی تیاریاں شروع کیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مخبروں نے بروقت آپ کو ان کے ارادوں سے با خبر کر دیا ۔ قبل اس کے کہ وہ چڑھ آتے ، آپ نے حضرت ابو سَلَمہ ( اُمّ المومنین حضرت اُم سلَمہ کے پہلے شوہر ) کی قیادت میں ڈیڑھ سو آدمیوں کا ایک لشکر ان کی سرکوبی کے لیے بھیج دیا ۔ یہ فوج اچانک ان کے سر پر پہنچ گئی ۔ بدحواسی کے عالم میں وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلے اور ان کا سارا مال اسباب مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا ۔ اس کے بعد بنی النَّضیر کی باری آئی ۔ جس روز انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی سازش کی اور اس کا راز فاش ہوا اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نوٹس دے دیا کہ دس دن کے اندر مدینے سے نکل جاؤ ، اس کے بعد تم میں سے جو یہاں پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا ۔ منافقین مدینہ کے سردار عبداللہ بن اُبیّ نے ان کو تڑی دی کہ ڈٹ جاؤ اور مدینہ چھوڑنے سے انکار کر دو ، میں دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کروں گا ، بنی قُرَیظہ تمہاری مدد کریں گے اور نجد سے بنی غَطَفان بھی تمہاری مدد کے لیے آئیں گے ۔ ان باتوں میں آ کر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا کہ ہم اپنا علاقہ نہیں چھوڑیں گے ، آپ سے جو کچھ ہوسکے کر لیجئے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نوٹس کی میعاد ختم ہوتے ہی ان کا محاصرہ کر لیا اور ان کے حامیوں میں سے کسی کی یہ ہمت نہ پڑی کہ مدد کو آتا ۔ آخر کار انہوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دیئے کہ ان میں سے ہر تین آدمی ایک اونٹ پر جو کچھ لاد کر لے جا سکتے ہیں لے جائیں اور باقی سب کچھ مدینہ ہی میں چھوڑ جائیں گے ۔ اس طرح مضافات مدینہ کا وہ پورا محلہ جس میں بنی نَضیر رہتے تھے ، ان کے باغات اور گڑھیوں اور سر و سامان سمیت مسلمانوں کے ہاتھ آگیا اور اس بد عہد قبیلے کے لو گ خیبر ، وادی القُریٰ اور شام میں تتّر بتّر ہو گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی غَطَفان کی طرف توجہ کی جو مدینے پر حملہ آور ہونے کے لیے پر تول رہے تھے ۔ آپ چار سو کا لشکر لے کر نکلے اور ذات الرِّقاع کے مقام پر اس کو جالیا ۔ اس اچانک حملے نے ان کے حواس باختہ کر دیے اور کسی جنگ کے بغیر وہ اپنے گھر بار اور مال اسباب چھوڑ کر پہاڑوں میں منتشر ہو گئے ۔ اس کے بعد شعبان ٤ ہجری میں آپ ابو سفیان کے اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے نکلے جو اس نے احد سے پلٹتے ہوئے دیا تھا ۔ خاتمۂ جنگ پر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی طرف رخ کر کے اعلان کیا تھا کہ ان موعدکم بدر للعام المقبل ( آئندہ سال بدر کے مقام پر ہمارا تمہارا پھر مقابلہ ہو گا ) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ایک صحابی کے ذریعہ سے یہ اعلان کرا دیا تھا کہ نعم ، ھی بیننا وبینک موعد ( ٹھیک ہے ، یہ بات ہمارے اور تیرے درمیان طے ہو گئی ) ۔ اس قرارداد کے مطابق طے شدہ وقت پر آپ ۱۵ سو صحابیوں کو لے کر بدر کے مقام پر پہنچ گئے ۔ ادھر سے ابو سفیان دو ہزار کا لشکر لے کر چلا مگر مُرَّ الظَّہران ( موجودہ وادی فاطمہ ) سے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کر سکا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر میں آٹھ دن اس کا انتظار کیا اور اس دوران میں مسلمان تجارت کر کے ایک درہم کے دو درہم کماتے رہے ۔ اس واقعہ سے وہ دھاک جو اُحُد میں اکھڑی تھی پہلے سے زیادہ جم گئی ۔ اس نے پورے عرب پر یہ بات کھول دی کہ اب تنہا قریش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ ( اس کی مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اوّل ، ص ۳۰٤ ) اس دھاک میں ایک اور واقعہ نے مزید اضافہ کیا ۔ عرب اور شام کی سرحد پر دومتہ الجَنْدَل ( موجودہ الجَوف ) ایک اہم مقام تھا جہاں سے عراق اور مصر و شام کے درمیان عرب کے تجارتی قافلے گزرتے تھے ۔ اس مقام کے لوگ قافلوں کو تنگ کرتے اور اکثر لوٹ لیتے تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ربیع الاول ۵ ھ میں ایک ہزار کا لشکر لے کر ان کی تادیب کے لیے خود تشریف لے گئے ۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کی ہمت نہ کر سکے اور بستی چھوڑ کر بھاگ نکلے ۔ اس سے پورے شمالی عرب پر اسلام کی ہیبت بیٹھ گئی اور قبائل نے یہ سمجھ لیا کہ مدینے میں جو زبردست طاقت پیدا ہوئی ہے اس کا مقابلہ اب ایک دو قبیلوں کے بس کا کام نہیں ہے ۔ غزوۂ احزاب : یہ حالات تھے جن میں غزوۂ احزاب پیش آیا ، یہ غزوہ دراصل عرب کے بہت سے قبائل کا ایک مشترک حملہ تھا جو مدینے کی اس طاقت کو کچل دینے کے لئے کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ اس کے تحریک بنی النَّضِیر کے ان لیڈروں نے کے تھی جو جلا وطن ہو کر خیبر میں مقیم ہو گئے تھے ۔ انہوں نے دورہ کر کے قریش اور غَطفان اور ہُذَیل اور دوسرے بہت سے قبائل کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اب مل کر بہت بڑی جمیعت کے ساتھ مدینے پر ٹوٹ پڑیں ۔ چنانچہ ان کی کوششوں سے شوال ۵ ھ میں قبائل عرب کی اتنی بڑی جمیعت اس چھوٹی سی بستی پر حملہ آور ہو گئی جو اس سے پہلے عرب میں کبھی جمع نہ ہوئی تھی ۔ اس میں شمال کی طرف بنی النَّضِیر اور قَیْنقُاع کے وہ یہودی آئے جو مدینے سے جلا وطن ہو کر خیبر اور وادی القُریٰ میں آباد ہوئے تھے ۔ مشرق کی طرف سے غَطَفان کے قبائل ( بنو سُلَیم ، فَزارہ ، مُرَّہ ، اَشجع ، سَعد اور اَسَد وغیرہ ) نے پیش قدمی کی ۔ اور جنوب کی طرف سے قریش اپنے حلیفوں کی ایک بھاری جمیعت لے کر آگے بڑھے ۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد دس بارہ ہزار تھی ۔ یہ حملہ اگر اچانک ہوتا تو سخت تباہ کن ہوتا ۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں بے خبر بیٹھے ہوئے نہ تھے بلکہ آپ کے خبر رساں اور تحریک اسلامی کے ہمدرد اور متاثرین جو تمام قبائل میں موجود تھے ، آپ کو دشمنوں کی نقل و حرکت سے برابر مطلع کرتے رہتے تھے ( یہ قوم پرست جتھوں کے مقابلے میں ایک نظریاتی تحریک کی فوقیت کا ایک اہم سبب ہوتا ہے ۔ قوم پرست جتھے صرف اپنی قوم کے افراد کی تائید و حمایت ہی پر انحصار رکھتے ہیں ۔ لیکن ایک اصولی و نظریاتی تحریک اپنی دعوت سے ہر سمت میں بڑھتی ہے اور خود ان جتھوں کے اندر سے اپنے حامی نکال لاتی ہے ۔ ) قبل اس کے کہ یہ جم غفیر آپ کے شہر پہنچتا ، آپ نے چھ دن کے اندر مدینہ کے شمال غربی رخ پر ایک خندق کھدوا لی اور کوہ سَلْع کو پشت پر لے کر تین ہزار فوج کے ساتھ خندق کی پناہ میں مدافعت کے لیے تیار ہو گئے ۔ مدینہ کے جنوب میں باغات اس کثرت سے تھے ( اور اب بھی ہیں ) کہ اس جانب سے کوئی حملہ اس پر نہ ہو سکتا تھا ۔ مشرق میں حرات ( لادے کی چٹانیں ) ہیں جن پر سے کوئی اجتماعی فوج کشی آسانی کے ساتھ نہیں ہو سکتی ۔ یہی کیفیت مغربی جنوبی گوشے کی بھی ہے ۔ اس لیے حملہ صرف اُحُد کے مشرقی اور مغربی گوشوں سے ہو سکتا تھا اور اسی جانب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھدوا کر شہر کو محفوظ کر لیا تھا ۔ یہ چیز سرے سے کفار کے جنگی نقشے میں تھی ہی نہیں کہ انہیں مدینے کے باہر خندق سے سابقہ پیش آئے گا ، کیونکہ اہل عرب اس طریق دفاع سے ناآشنا تھے ۔ ناچار انہیں جاڑے کے زمانے میں ایک طویل محاصرے کے لیے تیار ہونا پڑا جس کے لیے وہ گھروں سے تیار ہو کر نہیں آئے تھے ۔ اس کے بعد کفار کے لیے صرف ایک ہی تدبیر باقی رہ گئی تھی ، اور وہ یہ کہ بنی قُریظہ کے یہودی قبیلے کو غداری پر آمادہ کریں جو مدینہ طیبہ کے جنوب مشرقی گوشے میں رہتا تھا ۔ چونکہ اس قبیلے سے مسلمانوں کا باقاعدہ حلیفانہ معاہدہ تھا جس کی رو سے مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدافعت کرنے کا پابند تھا ، اس لیے مسلمانوں نے اس طرف سے بے فکر ہو کر اپنے بال بچے ان گڑھیوں میں بھجوا دیے تھے جو بنی قریظہ کی جانب تھیں اور ادھر مدافعت کا کوئی انتظام نہ کیا تھا ۔ کفار نے اسلامی دفاع کے اس کمزور پہلو کو بھانپ لیا ۔ ان کی طرف سے بنی النَّضیر کا یہودی سردار حُیّی بن اَخْطَب بنی قُریظہ کے پاس بھیجا گیا تاکہ انہیں معاہدہ توڑ کر جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرے ۔ ابتداءً انہوں نے اس سے انکار کیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے معاہدہ ہے اور آج تک کبھی ہمیں ان سی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ لیکن جب ابن اخطب نے ان سے کہا کہ دیکھو ، میں اس وقت عرب کی متحدہ طاقت اس شخص پر چڑھا لایا ہوں ، یہ اسے ختم کر دینے کا نادر موقع ہے ، اس کو اگر تم نے کھو دیا تو پھر دوسرا کوئی موقع نہ مل سکے گا ، تو یہودی ذہن کی اسلام دشمنی اخلاق کے پاس و لحاظ پر غالب آ گئی اور بنی قریظہ عہد توڑنے پر آمادہ ہو گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے سے بھی بے خبر نہ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بر وقت اس کی اطلاع مل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً انصار کے سرداروں ( سعد بن غُبّادہ ، سعد بن مُعاذ ، عبداللہ بن رواعہ اور خَوّات بن جُبیر ) کو ان کے پاس تحقیق حال اور فہمائش کے لیے بھیجا ۔ چلتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہدایت فرمائی کہ اگر بنی قُریظہ عہد پر قائم رہیں تو آ کر سارے لشکر کے سامنے علی ا لاعلان یہ خبر سنا دینا ۔ لیکن اگر وہ نقض عہد پر مصر ہوں صرف مجھ کو اشارۃً اس کی اطلاع دے دینا تاکہ عام مسلمان یہ بات سن کر پست ہمت نہ ہو جائیں ۔ یہ حضرات وہاں پہنچے تو بنی قریظہ کو پوری خباثت پر آمادہ پایا اور انہوں نے برملا ان سے کہہ دیا کہ لا عقد بیننا وبین محمد ولا عھد ۔ ہمارے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی عہد پیما نہیں ہے ، ۔ اس جواب کو سن کر وہ لشکر اسلام میں واپس آئے اور اشارۃً حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کر دیا :عَضَل وقارَہ ۔ یعنی قبیلہ عَضَل وقارَہ نے رَجیع کے مقام پر مبلغین اسلام کے وفد سے جو غداری کی تھی ، وہی کچھ اب بنی قریظہ کر رہے ہیں ۔ یہ خبر بہت جلدی مدینہ کے مسلمانوں میں پھیل گئی اور ان کے اندر اس سے سخت اضطراب پیدا ہو گیا ۔ کیونکہ اب وہ دونوں طرف سے گھیرے میں آ گئے تھے اور ان کے شہر کا وہ حصہ خطرے میں پڑ گیا تھا جدھر دفاع کا بھی کوئی انتظام نہ تھا اور سب کے بال بچے بھی اسی جانب تھے ۔ اس پر منافقین کی سرگرمیاں اور تیز ہو گئیں اور انہوں نے اہل ایمان کے حوصلے پست کرنے کے لیے طرح طرح کے نفسیاتی حملے شروع کر دیے ۔ کسی نے کہا کہ ہم سے تو وعدے تو قیصر و کسریٰ کے ملک فتح ہو جانے کے کیے جا رہے تھے ، اور حال یہ ہے کہ ہم رفع حاجت کے لیے بھی نہیں نکل سکتے ۔ کسی نے یہ کہہ کر خندق کے محاذ سے رخصت مانگی کہ اب تو ہمارے گھر ہی خطرے میں پڑ گئے ہیں ہمیں جا کر ان کی حفاظت کرنی ہے ۔ کسی نے یہاں تک خفیہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ حملہ آوروں سے اپنا معاملہ درست کرلو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کر دو ۔ یہ ایسی شدید آزمائش کا وقت تھا جس میں ہر اس شخص کا پردہ فاش ہو گیا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی نفاق موجود تھا ۔ صرف صادق و مخلص اہل ایمان ہی تھے جو اس کڑے وقت میں بھی فدا کاری کے عزم پر ثابت قدم رہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نازک موقع پر بنی غطفان سے صلح کی بات چیت شروع کی اور ان کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ مدینے کے پھلوں کی پیداوار کا تیسرا حصہ لے کر واپس چلے جائیں ۔ لیکن جب انصار کے سرداروں ( سعد بن عُبادہ اور سعد بن مُعاذ ) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شرائط صلح کے متعلق مشورہ طلب کیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہے کہ ہم ایسا کریں ؟ یا یہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمارے لیے اسے قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے ؟ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بچانے کے لیے یہ تجویز فرما رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا میں صرف تم لوگوں کو بچانے کے لیے ایسا کر رہا ہوں ، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سارا عرب متحد ہو کر تم پر پل پڑا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ ان کو ایک دوسرے سے توڑ دوں ۔ اس پر دونوں سرداروں نے بالاتفاق کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری خاطر یہ معاہدہ کر رہے ہیں تو اسے ختم کر دیجیے ۔ یہ قبیلے ہم سے اس وقت بھی ایک حبہ خراج کے طور پر کبھی نہ لے سکے تھے جب ہم مشرک تھے ۔ اور اب تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا شرف ہمیں حاصل ہے ۔ کیا اب یہ ہم سے خراج لیں گے ؟ ہمارے اور ان کے درمیان اب صرف تلوار ہی ہے ، یہاں تک کہ اللہ ہمارا اور ان کا فیصلہ کر دے ۔ یہ کہہ کر انہوں نے معاہدے کے اس مسودے کو چاک کر دیا جس پر ابھی دستخط نہ ہوئے تھے ۔ اسی دوران میں قبیلۂ غَطَفان کی شاخ اشجَع کے ایک صاحب نَعیم بن مسعُود مسلمان ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ابھی تک کسی کو بھی میرے قبول اسلام کا علم نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے اس وقت جو خدمت لینا چاہیں میں اسے انجام دے سکتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم جا کر دشمنوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوئی تدبیر کرو ( اسی موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اَلْحَرْبُ خُدْعَۃ ۔ یعنی جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے ۔ ) چنانچہ وہ پہلے بنی قُریظہ کے پاس گئے جن سے ان کا بہت میل جول تھا ، اور ان سے کہا کہ قریش اور غطفان تو محاصرے سے تنگ آ کر واپس بھی جا سکتے ہیں ، ان کا کچھ نہ بگڑے گا ، مگر تمہیں مسلمانوں کے ساتھ اسی جگہ رہنا ہے ، وہ لوگ اگر چلے گئے تو تمہارا کیا بنے گا ۔ میری رائے یہ ہے کہ تم اس وقت تک جنگ میں حصہ نہ لو جب تک ان باہر سے آئے ہوئے قبائل کے چند نمایاں آدمی تمہارے پاس یرغمال کے طور پر نہ بھیج دیے جائیں ۔ یہ بات بنی قریظہ کے دل میں اتر گئی اور انہوں نے متحدہ محاذ کے قبائل سے یرغمال طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ پھر یہ صاحب قریش اور غطفان کے سرداروں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ بنی قریظہ کچھ ڈھیلے پڑتے نظر آ رہے ہیں ، بعید نہیں کہ وہ تم سے یرغمال کے طور پر کچھ آدمی مانگیں اور انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر کے اپنا معاملہ صاف کرلیں ۔ اس لیے ذرا ان کے ساتھ ہوشیاری سے معاملہ کرنا ۔ اس سے متحدہ محاذ کے لیڈر بنی قُریظہ کی طرف سے کھٹک گئے اور انہوں نے قُرظی سرداروں کو پیغام بھیجا کہ اس طویل محاصرے سے اب ہم تنگ آ گئے ہیں ، اب ایک فیصلہ کن لڑائی ہو جانی چاہیے ، کل تم ادھر سے حملہ کرو اور ہم ادھر سے یکبارگی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ بنی قُریظہ نے جواب میں کہلا بھیجا کہ آپ لوگ اپنے چند نمایاں آدمی یرغمال کے طور پر ہمارے حوالہ نہ کر دیں ، ہم جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتے ۔ اس جواب سے متحدہ محاذ کے لیڈروں کو یقین آگیا کہ نعیم کی بات سچی تھی ۔ انہوں نے یرغمال دینے سے انکار کر دیا اور اس سے بنی قُریظہ نے سمجھ لیا کہ نعیم نے ہم کو ٹھیک مشورہ دیا تھا ۔ اس طرح یہ جنگی چال بہت کامیاب ثابت ہوئی اور اس نے دشمنوں کے کیمپ میں پھوٹ ڈال دی ۔ اب محاصرہ پچیس دن سے زیادہ طویل ہو چکا تھا ۔ سردی کا زمانہ تھا ۔ اتنے بڑے لشکر کے لیے پانی اور غذا اور چارے کی فراہمی بھی مشکل تر ہوتی چلی جا رہی تھی ۔ اور پھوٹ پڑ جانے سی بھی محاصرین کے حوصلے پست ہو چکے تھے ۔ اس حالت میں یکایک ایک رات سخت آندھی آئی جس میں سردی اور کڑک اور چمک تھی ، اور اتنا اندھیرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ نہ سوجھائی دیتا تھا ۔ آندھی کے زور سے دشمنوں کے خیمے الٹ گئے اور ان کے اندر شدید افراتفری برپا ہو گئی ۔ قدرت خداوندی کا یہ کاری وار وہ نہ سہہ سکے ۔ راتوں رات ہر ایک نے اپنے گھر کی راہ لی اور صبح جب مسلمان اٹھے تو میدان میں ایک دشمن بھی موجود نہ تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان کو دشمنوں سے خالی دیکھ کر فوراً ارشاد فرمایا: لن تغزوکم قریش بعد عامکم ھٰذا ولکنکم تغزونھم ۔ یعنی اب قریش کے لوگ تم پر کبھی چڑھائی نہ کر سکیں گے ۔ اب تم ان پر چڑھائی کرو گے ۔ یہ حالات کا بالکل صحیح اندازہ تھا ۔ قریش ہی نہیں ، سارے دشمن قبائل متحد ہو کر اسلام کے خلاف اپنا آخری داؤ چل چکے تھے ۔ اس میں ہار جانے کے بعد اب ان میں یہ ہمت ہی باقی نہ رہی تھی کہ مدینے پر حملہ آور ہونے کی جرأت کر سکتے ۔ اب حملے ( offensive ) کی قوت دشمنوں سے مسلمانوں کی طرف منتقل ہو چکی تھی ۔ غزوؤ بنی قریظہ : خندق سے پلٹ کر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر پہنچے تو ظہر کے وقت جبرئیل علیہ السلام نے آ کر حکم سنایا کہ ابھی ہتھیار نہ کھولے جائیں ، بنی قریظہ کا معاملہ باقی ہے ، ان سے بھی اسی وقت نمٹ لینا چاہئے ۔ یہ حکم پاتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اعلان فرمایا کہ جو کوئی سمع و طاعت پر قائم ہو وہ عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک دیار بنی قریظہ پر نہ پہنچ جائے ۔ اس اعلان کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک دستے کے ساتھ مقدمۃ الجیش کے طور پر بنی قریظہ کی طرف روانہ کر دیا ۔ وہ جب وہاں پہنچے تو یہودیوں نے کوٹھوں پر چڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی ، لیکن یہ بدزبانی ان کو اس جرم عظیم کے خمیازے سے کیسے بچا سکتی تھی کہ انہوں نے عین لڑائی کے وقت معاہدہ توڑ ڈالا اور حملہ آوروں سے مل کر مدینے کی پوری آبادی کو ہلاکت کے خطرے میں مبتلا کر دیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دستے کو دیکھ کر وہ سمجھے تھے کہ یہ محض دھمکانے آئے ہیں ۔ لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں پورا اسلامی لشکر وہاں پہنچ گیا اور ان کی بستی کا محاصرہ کر لیا گیا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ۔ محاصرہ کی شدت کو وہ دو تین ہفتوں سے زیادہ برداشت نہ کر سکے اور آخر کار انہوں نے اس شرط پر اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیا کہ وہ قبیلہ اَوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے حق میں جو فیصلہ بھی کر دیں گے اسے فریقین مان لیں گے ۔ انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اس امید پر حکم بنایا تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں اَوس اور بنی قریظہ کے درمیان جو حلیفانہ تعلقات مدتوں سے چلے آ رہے تھے وہ ان کا لحاظ کریں گے اور انہیں بھی اسی طرح مدینہ سے نکل جانے دیں گے جس طرح پہلے بنی قَیْنقُاع اور بنی النضیر کو نکل جانے دیا گیا تھا ۔ خود قبیلۂ اَوس کے لوگ بھی حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے تقاضا کر رہے تھے کہ اپنے حلیفوں کے ساتھ نرمی برتیں ۔ لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ ابھی بھی دیکھ چکے تھے کہ پہلے جن دو یہودی قبیلوں کو مدینہ سے نکل جانے کا موقع دیا تھا وہ کس طرح سارے گرد و پیش کے قبائل کو بھڑکا کر مدینے پر دس بارہ ہزار کا لشکر چڑھا لائے تھے ۔ اور یہ معاملہ بھی ان کی سامنے تھا کہ اس آخری یہودی قبیلے نے عین بیرونی حملے کے موقع پر بد عہدی کر کے اہل مدینہ کو تباہ کر دینے کا کیا سامان کیا تھا ۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ دیا کہ بنی قریظہ کے تمام مرد قتل کر دیے جائیں ، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے ، اور ان کی تمام املاک مسلمانوں میں تقسیم کر دی جائیں ۔ اس فیصلے پر عمل کیا گیا اور جب بنی قریظہ کی گڑھیوں میں مسلمان داخل ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ جنگ احزاب میں حصہ لینے کے لیے ان غداروں نے پندرہ سو تلواریں ، تین سو زرہیں ، دو ہزار نیزے اور پندرہ سو ڈھالیں فراہم کی تھیں ۔ اگر اللہ کی تائید مسلمانوں کے شامل حال نہ ہوتی تو یہ سارا جنگی سامان عین وقت مدینہ پر عقب سے حملہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا جبکہ مشرکین یکبارگی خندق پار کر کے ٹوٹ پڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے ۔ اس انکشاف کے بعد تو اس امر میں شک کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ رہی کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے معاملہ میں جو فیصلہ دیا وہ بالکل حق تھا ۔ معاشرتی اصلاحات : جنگ اُحُد اور جنگ احزاب کے درمیان ، دو سال کا یہ زمانہ اگرچہ ایسے ہنگاموں کا زمانہ تھا جن کی بدولت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو ایک دن کے لیے بھی امن اور اطمینان نصیب نہ ہوا ۔ لیکن اس پوری مدت میں نئے مسلم معاشرے کی تعمیر ، اور ہر پہلو میں زندگی کی اصلاح کا کام برابر جاری رہا یہی زمانہ تھا جس میں مسلمانوں کے قوانین نکاح و طلاق قریب قریب مکمل ہو گئے اور وراثت کا قانون بنا ، شراب اور جوئے کو حرام کیا گیا ، اور معیشت و معاشرت کے دوسرے بہت سے پہلوؤں میں نئے ضابطے نافذ کئے گئے ۔ اس سلسلے کا ایک اہم مسئلہ جو اصلاح کا تقاضا کر رہا تھا تَبْنِیتْ ( گود لینے یا بیٹا بنانے ) کا مسئلہ تھا ۔ عرب کے لوگ جس بچے کو متبنیٰ بنا لیتے تھے وہ بالکل ان کی حقیقی اولاد کی طرح سمجھا جاتا تھا ۔ اسے وراثت ملتی تھی ۔ اس سے منہ بولی ماں اور منہ بولی بہنیں وہی خلا ملا رکھتی تھیں جو حقیقی بیٹے اور بھائی سے رکھا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ منہ بولے باپ کے مر جانے کے بعد اس کی بیوہ کا نکاح اسی طرح ناجائز سمجھا جاتا تھا جس طرح سگی بہن اور حقیقی ماں کے ساتھ کسی کا نکاح حرام ہوتا ہے ۔ اور یہی معاملہ اس صورت میں بھی کیا جاتا تھا جب منہ بولا بیٹا مر جائے یا اپنی بیوی کو طلاق دے دے ۔ منہ بولے باپ کے لیے وہ عورت سگی بہو کی طرح سمجھی جاتی تھی ۔ یہ رسم قدم قدم پر نکاح اور طلاق اور وراثت کے ان قوانین سے ٹکراتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء میں مقرر فرمائے تھے ان کی رو سے جو لوگ حقیقت میں وراثت کے حق دار تھے یہ رسم ان کا حق مار کر ایک ایسے شخص کو دلواتی تھی جو سرے سے کوئی حق نہ رکھتا تھا ۔ ان کی رو سے جن عورتوں اور مردوں کے درمیان رشتۂ نکاح حلال تھا ، یہ رسم ان کے باہمی نکاح کو حرام کرتی تھی ۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ اسلامی قانون جن بد اخلاقیوں کا سد باب کرنا چاہتا تھا ، یہ رسم ان کے پھیلنے میں مددگار تھی کیونکہ رسم کے طور پر منہ بولے رشتے میں خواہ کتنا ہی تقدُّس پیدا کر دیا جائے ، بہرحال منہ بولی ماں ، منہ بولی بہن اور منہ بولی بیٹی حقیقی ماں اور بیٹی کی طرح نہیں ہو سکتی ۔ ان مصنوعی رشتوں کے رسمی تقدس پر بھروسہ کر کے مردوں اور عورتوں کے درمیان جب حقیقی رشتہ داروں کا سا خلا ملا ہو تو وہ برے نتائج پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ ان وجوہ سے اسلامی قانون نکاح و طلاق ، قانون وراثت اور قانون حرمت زنا کا یہ تقاضا تھا کہ متبنّیٰ کو حقیقی اولاد کی طرح سمجھنے کے تخیل کا قطعی استیصال کر دیا جائے ۔ لیکن یہ تخیل محض ایک قانونی حکم کے طور پر اتنی سی بات کر دینے سے ختم نہیں ہو سکتا تھا کہ ۔ ۔ منہ بولا رشتہ کوئی حقیقی رشتہ نہیں ہے ۔ صدیوں کے جمے ہوئے تعصبات اور اوہام محض اقوال سے نہیں بدل جاتے ۔ حکماً لوگ اس بات کو مان بھی لیتے کہ یہ رشتے حقیقی رشتے نہیں ہیں ، پھر بھی منہ بولی ماں اور منہ بولے بیٹے کے درمیان منہ بولے بھائی اور بہن کے درمیان ، منہ بولے باپ اور بیٹی کے درمیان ، منہ بولے خسر اور بہو کے درمیان نکاح کو لوگ مکروہ سمجھتے رہتے ۔ نیز ان کے درمیان خلا ملا بھی کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتا ۔ اس لیے ناگزیر تھا کہ یہ رسم عملاً توڑی جائے ، اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس اس کو توڑیں ۔ کیونکہ جو کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا ہو ، اور اللہ کے حکم سے کیا ہو ، اس کے متعلق کسی مسلمان کے ذہن میں کراہت کا تصور باقی نہ رہ سکتا تھا ۔ اسی بنا پر جنگ احزاب سے کچھ پہلے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ آپ اپنے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی مطلقہ بیوی سے خود نکاح کرلیں ، اور اس حکم کی تعمیل آپ نے محاصرۂ بنی قریظہ کے زمانہ میں فرمائی ۔ ( غالباً تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ عدت ختم ہونے کا انتظار تھا ، اور اسی دوران میں جنگی مصروفیات پیش آگئی تھیں ) ۔ نکاح زینب رضی اللہ عنہا پر پروپیگنڈے کا طوفان : یہ کام ہونا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک طوفان یکلخت اٹھ کھڑا ہوا ۔ مشرکین اور منافقین اور یہود سب آپ کی پے در پے کامیابیوں سے جلے بیٹھے تھے ۔ اُحُد کے بعد احزاب اور بنی قریظہ تک دو سال کی مدت میں جس طرح وہ زک پر زک اٹھاتے چلے گئے تھے اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں آگ لگ رہی تھی ۔ وہ اس بات سے بھی مایوس ہو چکے تھے کہ اب وہ کھلے میدان میں لڑ کر کبھی آپ کو زیر کر سکیں گے ۔ اس لیے انہوں نے اس نکاح کے معاملے کو اپنے لیے ایک خدا داد موقع سمجھا اور خیال کیا کہ اب ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اس اخلاقی برتری کو ختم کر سکیں گے جو ان کی طاقت اور ان کی کامیابیوں کا اصل راز ہے چنانچہ یہ افسانے تراشے کہ ( معاذاللہ ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہو کو دیکھ کر عاشق ہو گئے تھے ، بیٹے کو اس تعلق خاطر کا علم ہو گیا ، اس نے بیوی کو طلاق دے دی ، اور باپ نے اس کے بعد بہو سے بیاہ رچا لیا ۔ حالانکہ یہ بات صریحاً لغو تھی ۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں ۔ بچپن سے جوانی تک ان کی ساری عمر آپ کے سامنے گزری تھی ۔ کسی وقت ان کو دیکھ کر عاشق ہو جانے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اصرار کر کے حضرت زید رضی اللہ عنہا سے ان کا نکاح کرایا تھا ۔ ان کا سارا خاندان اس پر راضی نہ تھا کہ قریش کے اتنے اونچے گھرانے کی لڑکی ایک آزاد کردہ غلام سے بیاہی جائے ۔ خود حضرت زینب رضی اللہ عنہا بھی اس رشتے سے ناخوش تھیں ۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سب مجبور ہو گئے ، اور حضرت زید رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی شادی کر کے عرب میں اس امر کی پہلی مثال پیش کر دی گئی کہ اسلام ایک آزاد کردہ غلام کو اٹھا کر شرفائے قریش کے برابر لے آیا ہے ۔ اگر فی الواقع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی میلان حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی جانب ہوتا تو زید بن حارِثہ سے ان کا نکاح کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ، آپ خود ان سے نکاح کر سکتے تھے ۔ لیکن بے حیا مخالفین نے ان سارے حقائق کے موجود ہوتے یہ عشق کے افسانے تصنیف کیے ، خوب نمک مرچ لگا لگا کر ان کو پھیلایا اور اس پروپیگنڈے کا صور اس زور سے پھونکا کہ خود مسلمانوں کے اندر بھی ان کی گھڑی ہوئی روایات پھیل گئیں ۔ پردہ کے ابتدائی احکام : یہ بات کہ دشمنوں کے تصنیف کیے ہوئے یہ افسانے مسلمانوں کی زبانوں پر چڑھنے سے بھی نہ رکے اس امر کی کھلی ہوئی علامت تھی کہ معاشرے میں شہوانیت کا عنصر حد اعتدال سے بڑھا ہوا تھا ۔ یہ خرابی اگر موجود نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ ذہن ایسی پاک ہستی کے متعلق ایسے بے سر و پا اور اس قدر گھناؤنے افسانوں کی طرف ادنیٰ التفات بھی کرتے ، کجا کہ زبانیں ان کو دہرانے لگتیں ۔ یہ ٹھیک موقع تھا جبکہ اسلامی معاشرے میں ان اصلاحی احکام کے نفاذ کی ابتدا کی گئی جو حجاب ( پردے ) کے عنوان سے بیان کیے جاتے ہیں ۔ ان اصلاحات کا آغاز اس سورے سے کیا گیا ، اور ان کی تکمیل ایک سال بعد سورۂ نور میں کی گئی ، جبکہ حضرت عائشہ پر بہتان کا فتنہ کھڑا ہوا ۔ ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورہ نور ، دیباچہ ) ۔ حضور کی خانگی زندگی کے معاملات: اسی زمانہ میں دو مسئلے اور بھی توجہ طلب تھے ۔ اگرچہ بظاہر ان کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی سے تھا ، مگر جو ذات اپنی جان خدا کے دین کو پروان چڑھانے کے لیے کھپا رہی تھی اور ہمہ تن اس کار عظیم میں منہمک تھی اس کے لیے خانگی زندگی کا سکون فراہم کرنا ، اور اس کو پریشانیوں سے بچانا ، اور اس کو لوگوں کے شکوک و شبہات سے محفوظ رکھنا بھی خود دین ہی کے مفاد کے لیے ضروری تھا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نی سرکاری طور پر ان دونوں مسئلوں کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ پہلا مسئلہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مالی حیثیت سے تنگ حال تھے ۔ ابتدائی چار سال تک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ذریعۂ آمدنی تھا ہی نہیں ۔ ٤ھ میں بنی النضیر کی جلا وطنی کے بعد ان کی متروکہ زمینوں کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضروریات کے لیے مخصوص کر دیا گیا ۔ مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنبے کے لیے کافی نہ تھا ۔ ادھر منصب رسالت کے فرائض اتنے بھاری تھے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اور دل و دماغ کی ساری طاقتیں اور آپ کے اوقات کا ایک ایک لمحہ سونتے ڈال رہے تھے اور آپ اپنی معاش کے لیے ذرہ برابر بھی کوئی فکر یا کوشش نہ کر سکتے تھے ۔ ان حالات میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات خرچ کی تنگی کے باعث آپ کے سکون طبع میں خلل انداز ہوتی تھیں تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن پر دہرا بار پڑ جاتا تھا ۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیویاں موجود تھیں ۔ حضرت سَودہ رضی اللہ عنہا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حَفْصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اُمِّ سَلَمہ رضی اللہ عنھا ۔ اُمّ المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچویں بیوی تھیں ۔ اس پر مخالفین نے یہ اعتراض اٹھایا ، اور مسلمانوں کے دلوں میں بھی اس سے شبہات ابھرنے لگے کہ دوسروں کے لیے تو بیک وقت چار بیویاں رکھنا ممنوع ٹھہرا دیا گیا ہے ، مگر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پانچویں بیوی کیسے کر لی ۔ موضوع اور مباحث : یہ مسائل تھے جو سُورۂ احزاب کے نزول کے زمانے میں پیش آئے تھے اور انہی پر اس سورے میں کلام فرمایا گیا ہے ۔ اس کے مضامین پر غور کرنے ، اور پس منظر کو نگاہ میں رکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ پوری سورۃ ایک خطبہ نہیں ہے جو بیک وقت نازل ہوا ہو ، بلکہ یہ متعدد احکام و فرامین اور خطبات پر مشتمل ہے جو اس زمانہ کے اہم واقعات کے سلسلے میں یکے بعد دیگرے نازل ہوئے اور پھر یکجا جمع کر کے ایک سورۃ کی شکل میں مرتب کر دیے گئے ۔ اس کے حسب ذیل اجزاء صاف طور پر ممیز نظر آتے ہیں ۔ ۱ ۔ پہلا رکوع غزوۂ احزاب سے کچھ پہلے نازل شدہ معلوم ہوتا ہے ۔ تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو اس رکوع کو پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کے وقت حضرت زید رضی اللہ عنہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے چکے تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ضرورت کو محسوس فرما رہے تھے کہ متبنیٰ کے بارے میں جاہلیت کے تصورات اور اوہام و رسوم کو مٹایا جائے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی محسوس ہو رہا تھا کہ لوگ منہ بولے رشتوں کے معاملے میں محض جذباتی بنیادوں پر جس قسم کے نازک اور گہرے تصورات رکھتے ہیں وہ اس وقت تک ہرگز نہ مٹ سکیں گے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود آگے بڑھ کر اس رسم کو نہ توڑ دیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بنا پر سخت متردد تھے اور قدم بڑھاتے ہوئے ہچکچا رہے تھے کہ اگر اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا تو اسلام کے خلاف ہنگامہ اٹھانے کے لیے منافقین اور یہود اور مشرکین کو ، جو پہلے ہی بھرے بیٹھے ہیں ، ایک زبردست شوشہ ہاتھ آ جائے گا ۔ اس موقع پر رکوع اول کی آیات نازل ہوئیں ۔ ۲ ۔ رکوع دوم و سوم میں غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ پر تبصرہ فرمایا گیا ہے ۔ یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ یہ دونوں رکوع ان لڑائیوں کے بعد نازل ہوئے ہیں ۔ ۳ ۔ چوتھے رکوع کے آغاز سے آیت ۳۵ تک کی تقریر دو مضامین پر مشتمل ہے ۔ پہلے حصہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو ، جو اس تنگی و عسرت کے زمانے میں بے صبر ہو رہی تھیں ، اللہ تعالیٰ نے نوٹس دیا ہے کہ دنیا اور اس کی زینت ، اور خدا و رسول اور آخرت میں سے کسی ایک کو انتخاب کر لو ۔ اگر تمہیں پہلی چیز مطلوب ہے تو صاف کہہ دو ، تمہیں ایک دن کے لیے بھی اس تنگی میں مبتلا نہ رکھا جائے گا بلکہ بخوشی رخصت کر دیا جائے گا ۔ اور اگر دوسری چیز پسند ہے تو صبر کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کا ساتھ دو ۔ دوسرے حصے میں اس معاشرتی اصلاح کی طرف پہلا قدم اٹھایا گیا جس کی ضرورت اسلام کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ذہن اب خود محسوس کرنے لگے تھے ۔ اس سلسلہ میں اصلاح کی ابتدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے کرتے ہوئے ازواج مطہرات کو حکم دیا گیا کہ تبرُّجِ جاہلیّت سے پرہیز کریں ، وقار کے ساتھ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور غیر مردوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں سخت احتیاط ملحوظ رکھیں ۔ یہ پردے کے احکام کا آغاز تھا ۔ ٤ ۔ آیت ۳٦ سے ٤۸ تک کا مضمون حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ حضور صلی اللہ علی وسلم کے نکاح کے سلسلہ میں ہے ۔ اس میں ان تمام اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو مخالفین کی طرف سے اس نکاح پر کیے جا رہے تھے ، ان تمام شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی ، مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ و مقام کیا ہے ، اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار و منافقین کے جھوٹے پروپیگنڈے پر صبر کی تلقین فرمائی گئی ہے ۔ ۵ ۔ آیت ٤۹میں طلاق کے قانون کی ایک دفعہ بیان ہوئی ہے ۔ یہ ایک منفرد آیت ہے جو غالباً انہی واقعات کے سلسلے میں کسی موقع پر نازل ہوئی تھی ۔ ٦ ۔ آیت ۵۰ ۔ ۵۲ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاح کا خاص ضابطہ بیان کیا گیا ہے ۔ اس میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان متعدد پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں جو ازدواجی زندگی کے معاملہ میں عام مسلمانوں پر عائد کی گئی ہیں ۔ ۷ ۔ آیت ۵۳ ۔ ۵۵ میں معاشرتی اصلاح کا دوسرا قدم اٹھایا گیا ۔ یہ حسب ذیل احکام پر مشتمل ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں غیر مردوں کی آمد و رفت پر پابندی ۔ ملاقات اور دعوت کا ضابطہ ۔ ازواج مطہرات کے بارے میں یہ قانون کہ گھروں میں صرف ان کے قریبی رشتہ دار آ سکتے ہیں ، باقی رہے غیر مرد ، تو انہیں اگر کوئی بات کہنی ہو یا کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے کہیں یا مانگیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے بارے میں یہ حکم کہ وہ مسلمانوں کے لیے ماں کی طرح حرام ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ان میں سے کسی کے ساتھ کسی مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا ۔ ۸ ۔ آیت ۵٦ ۔ ۵۷ میں ان چہ میگوئیوں پر سخت تنبیہ کی گئی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح اور آپ کی خانگی زندگی پر کی جا رہی تھیں اور اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دشمنوں کی اس عیب چینی سے اپنے دامن بچائیں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں ۔ نیز یہ تلقین بھی کی گئی ہے کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو درکنار ، اہل ایمان کو تو عام مسلمانوں پر بھی تہمتیں لگانے اور الزامات عائد کرنے سے کلی اجتناب کرنا چاہیے ۔ ۹ ۔ آیت ۵۹ میں معاشرتی اصلاح کا تیسرا قدم اٹھایا گیا ہے ۔ اس میں تمام مسلمان عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ جب گھروں سے باہر نکلیں تو چادروں سے اپنے آپ کو ڈھانک کر اور گھونگٹ ڈال کر نکلیں ۔ اس کے بعد آخر سورۃ تک افواہ بازی کی اس مہم ( Whispering Campaign ) پر سخت زجر و توبیخ کی گئی ہے جو منافقین اور اراذل نے اس وقت برپا کر رکھی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ الاحزاب یہ سورت حضور سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد چوتھے اور پانچویں سال کے درمیان نازل ہوئی ہے، اس کے پس منظر میں چار واقعات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں جن کا حوالہ اس سورت میں آیا ہے، ان چار واقعات کا مختصر تعارف درج ذیل ہے، تفصیلات ان شاء اللہ متعلقہ آیتوں کی تشریح میں آگے آئیں گے۔ پہلا واقعہ جنگ احزاب کا ہے، جس کے نام پر اس سورت کا نام رکھا گیا ہے، بدر واحد کی ناکامیوں کے بعد قریش کے لوگوں نے عرب کے دوسرے قبائل کو بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف اکسایا، اور ان کا ایک متحدہ محاذ بناکر مدینہ منورہ پر حملہ کیا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلمان فارسی (رض) کے مشورے پر مدینہ منورہ کے دفاع کے لئے شہر کے گرد ایک حندق کھودی تاکہ دشمن اسے عبور کرکے شہر تک نہ پہنچ سکے، اسی لئے اس جنگ کو جنگ خندق بھی کہا جاتا ہے، اس جنگ کے اہم واقعات اس سورت میں بیان ہوئے ہیں، اور اس موقع پر مسلمانوں کو جس شدید آزمائش سے گزرنا پڑا، اس کی تفصیل بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ دوسرا اہم واقعہ جنگ قریظہ کا ہے، قریظہ یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مدینہ منورہ کے مضافات میں آباد تھا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے بعد ان سے امن کا ایک معاہدہ کیا تھا جس کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ مسلمان اور یہودی ایک دوسرے کے دشمنوں کی مدد نہیں کریں گے، لیکن قریظہ کے یہودیوں نے معاہدے کی دوسری خلاف ورزیوں کے علاوہ جنگ احزاب کے نازک موقع پر خفیہ ساز باز کرکے پیچھے سے مسلمانوں کی پشت میں خنجر گھونپنا چاہا، اس لئے جنگ احزاب سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ فوراً قریظہ پر حملہ کرکے ان آستین کے سانپوں کا قلع قمع فرمائیں، چنانچہ آپ نے ان کا محاصرہ فرمایا، جس کے نتیجے میں ان کے بہت سے افراد قتل ہوئے اور بہت سے گرفتار، اس واقعے کی بھی تفصیل اس سورت میں آئی ہے۔ تیسرا اہم واقعہ یہ تھا کہ اہل عرب جب کسی کو اپنا منہ بولا بیٹا بنالیتے تو اس ے ہر معاملے میں سگے بیٹے کا درجہ دیتے تھے، یہاں تک کہ وہ میراث بھی پاتا تھا، اور اس کے منہ بولے باپ کے لئے جائز نہیں سمجھاجاتا تھا کہ وہ اس کی بیوہ یا مطلقہ بیوی سے نکاح کرے، بلکہ اس کو بدترین معیوب عمل سمجھا جاتا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی کوئی ممانعت نہیں تھی، عرب کی یہ جاہلانہ رسمیں دلوں میں ایسا گھر کرگئی تھیں کہ ان کا خاتمہ صرف زبانی نصیحت سے نہیں ہوسکتا تھا، اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی رسموں کا خاتمہ کرنے کے لئے سب سے پہلے خود علی الاعلان ان رسموں کے خلاف عمل فرمایا تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ اگر اس کام میں ذرا بھی کوئی خرابی ہوتی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس بھی نہ جاتے، اس کی بہت سی مثالیں آپ کی سیرت طیبہ میں موجود ہیں، منہ بولے بیٹے کے بارے میں جو رسم تھی، اس کے سد باب کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ اپنے ایک منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ (رض) کی مطلقہ بیوی حضرت زینب بنت جحش (رض) سے نکاح فرمائیں، واضح رہے کہ حضرت زینب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپی کی بیٹی تھیں، اور حضرت زید (رض) سے ان کا نکاح خود آپ نے کروایا تھا، اس لئے اگرچہ اب ان سے نکاح کرنا آپ کے لئے صبر آزما عمل تھا ؛ لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم اور دینی مصلحت کے آگے سر جھکادیا، اور ان سے نکاح کرلیا، اسی نکاح کے ولیمے میں حجاب (پردے) کے احکام پر مشتمل آیات نازل ہوئیں جو اس سورت کا حصہ ہیں۔ چوتھا واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات نے اگرچہ ہر طرح کے سرد گرم حالات میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھر پور ساتھ دیا، لیکن جب آپ کے پاس مختلف فتوحات کے نتیجے میں مالی طور پر وسعت ہوئی تو انہوں نے اپنے نفقے میں اضافے کا مطالبہ کردیا، یہ مطالبہ عام حالات میں کسی بھی طرح کوئی ناجائز مطالبہ نہیں تھا لیکن پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجیت کا شرف رکھنے والی ان مقدس خواتین کا مقام بلند اس قسم کے مطالبات سے بالاتر تھا۔ اس لئے اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر وہ دنیا کی زیب وزینت چاہتی ہیں تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں اعزاز واکرام کے ساتھ علیحدہ کرنے کو تیار ہیں، اور اگر وہ پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشن کی ساتھی ہیں اور آخرت کے انعامات کی طلب گار ہیں تو پھر اس قسم کے مطالبے ان کو زیب نہیں دیتے۔ چونکہ حضرت زینب (رض) سے نکاح کے واقعے پر کفار اور منافقین نے آپ کے خلاف اعتراضات کئے تھے، اس لئے اسی سورت میں حضور سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام بلند بتایا گیا ہے، اور آپ کی تعظیم وتکریم اور اطاعت کا حکم دے کر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ آپ جیسی عظیم شخصیت پر نادانوں کے یہ اعتراضات آپ کے مقام بلند میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے، اس کے علاوہ ازواج مطہرات (رض) کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طرز عمل اور اس سے متعلق بعض تفصیلات بھی اس سورت میں بیان ہوئی ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

(سورۃ نمبر ٣٣) ۔ (کل رکوع ٩) ۔ آیات ٧٣) ۔ (الفاظ و کلمات ١٢١٠) ۔ (حروف ٥٩٠٩) ۔ (مقام نزول مدینہ منورہ) ۔ (تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے ظلم و زیادتی کے لیے کسی قوم اور ملک پر جنگ کو مسلط نہیں کیا اور اگر کبھی ضرورت ہوئی تو اپنی جنگی اور اخلاقی طاقت سے دنیا کے دلوں کو فتح کیا۔ اس کے برخلاف کفروشرک اپنے آپ کو اتنا کمزور سمجھتے ہیں کہ وہ دوسری قوموں پر جنگ مسلط کرنے کے لیے دوسروں کو ساتھ ملا کر متحدہ محاذ بنا لیتے ہیں اور ان کو اتحادی فوجیں کہتے ہیں۔ یہی صورتحال اس وقت پیش آئی جب کفار مکہ نے اسلام دشمنی پر کفر کی ساری طاقتوں کو جمع کر کے مدینہ کی چھوٹی سی اسلامی ریاست کو مٹانے کے لیے چاروں طرف سے حملہ کردیا تھا مگر اتحادی فوجوں کو سوائے ذلت و رسوائی کے اور کچھ حاصل نہ ہوسکا اور اللہ نے اہل ایمان کی اس طرح مدد فرمائی کہ کفر کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ) الاحزاب کے معنی ہیں خندقیں، جماعتیں یعنی دین اسلام کی مخالفت اور اس کو جڑو بنیاد سے اکھاڑنے کے لیے بت پرست کفارومشرکین، یہودیوں اور انصاریٰ کا متحدہ محاذ۔ کفار عرب غزوہ احد میں بد ترین شکست اور ذلت کے بعد اپنی بوٹیاں نوچ رہے تھے اور جذبہ انتقام میں چھوٹی چھوٹی حرکتوں پر اترآئے تھے اور انہوں نے طے کرلیا تھا کہ مسلمانوں کو اس طرح پریشان کیا جائے جس سے وہ اطمینان کا سانس نہ لے سکیں۔ چناچہ عضل وقارہ قبیلے والوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمائش کی کہ چند مسلمانوں کو دینی تعلیم دینے کے لیے بھیجا جائے تاکہ نئے ہونے والے مسلمان ان سے دینی تعلیم حاصل کرسکیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ صحابہ (رض) کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ مگر انہوں نے غداری کی چار صحابہ کرام (رض) کو شہید کردیا اور دو کو مکہ مکرمہ جاکر غلام کی حیثیت سے فروخت کردیا۔ اسی طرح بنی عامر کے سردار کی خواہش پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دینی تعلیم کے لیے ستر صحابہ کرام (رض) کی ایک جماعت کو بھیج دیا مگر انہوں نے بھی ان تمام جان نثاران مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شدید اذیتیں دے کر شہید کردیا۔ یہاں تک کہ بنو نضیر (یہودی قبیلہ) نے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کرنے کی سازش تیار کرلی تھی جو کھل کر سامنے آگئی تھی اور اللہ کی مدد سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر طرح محفوظ رہے لیکن مسلسل سازشوں اور غداریوں کی وجہ سے یہودی قبیلہ بنو نضیر کو میثاق مدینہ کی کھلی خلاف ورزیوں پر مدینہ منورہ سے نکال دیا گیا اور یہ لوگ خیبر کے علاقے میں جا کر آباد ہوگئے۔ یہ ان یہودیوں کی اتنی بڑی شکست تھی جس کو وہ برداشت نہ کرسکے اور انہوں نے پورے جزیرۃ العرب میں ہر طرف اپنی سازشوں کے جال پھیلا دئیے کیونکہ مسلمانوں سے انتقام لینے کے جذبے نے انہیں پاگل بنادیا تھا۔ وہ ایک سازش تیار کر کے مکہ مکرمہ کے سرداروں کے پاس پہنچ گئے اور ان کو اس بات پر اکسایا کہ وہ پوری طاقت وقوت سے مدینہ منورہ کی اس چھوٹی سے ریاست کو پوری طرح تباہ کردیں تاکہ بقول ان کے یہ فتنہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔ مکہ مکرمہ کے لوگ بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ وہ تنہا صحابہ کرام (رض) کا مقابلہ نہیں کرسکتے لہٰذا کفار مکہ اور بنو نضیر نے بیت اللہ میں جا کر مکمل اتحاد کی قسمیں کھا کر فتح کی دعائیں کیں۔ اس کے بعد بنو نضیر کے یہ سازشی لوگ قبیلہ بنو غطفان کے پاس پہنچ گئے جو نہایت بہادر اور جنگ جو لوگ تھے ان سے کہا کہ مکہ کے لوگ اس پر تیار ہوگئے ہیں کہ ہم سب مل کر مدینہ پر حملہ کردیں تو اتنی بڑی فوج کا مقابلہ فقروفاقہ اور تنگ حلیوں میں زندگی گذارنے والے صحابہ کرام (رض) نہ کرسکیں گے۔ جب یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ بنو غطفان پوری طرح تیار نہیں ہو رہے ہیں تو انہوں نے ایک زبردست لالچ یہ دیا کہ اگر بنو غطفان اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں گے تو اس سال خیبر میں ان کی جتنی بھی فصل ہوگی وہ ان کو دے دی جائے گی۔ بنو غطفان نے اس لالچ میں آکر اس جنگ میں حصہ لینے کی حامی بھرلی اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی پوری طاقت وقوت سے اس جنگ میں حصہ لیں گے۔ بنو نضیر کے لوگ اسی طرح عرب کے تمام قبائل کے سرداروں سے ملے اور ان کو مسلمانوں کے خطرے سے ڈرا کر ایک متحدہ محاذ بنانے پر آمادہ کرلیا اور پروگرام یہ بنایا گیا کہ جیسے ہی قریش روانہ ہوں گے تو ہر طرف سے فوجیں روانہ ہوجائیں گی اور مدینہ منورہ کو چاروں طرف سے گھیر کر مدینہ پر چڑھائی کردی جائے گی اور اس طرح ایک یا دو دن میں مدینہ منورہ کی ریاست کو ختم کر کے اس پر قبضہ کرلیا جائے گا۔ بنو نضیر نے تمام اتحادی فوجوں کو اس بات کا یقین دلادیا کہ وہ جیسے ہی مدینہ پر باہر سے حملہ کریں گے تو فوراً ہی یہودی قبیلہ بنو قریظہ اندر سے حملہ کر دے گا اس طرح مسلمانوں کو کہیں بھی پناہ نہ مل سکے گی۔ جیسے ہی قریش نے مکہ سے پوری تیاری کر کے مدینہ کی طرف رخ کیا تو تمام آس پاس کے قبائل ان کے ساتھ ملتے گئے اور بارہ پندرہ ہزارکا یہ اتحادی لشکر مدینہ منورہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے نہایت مخر و غرور کے ساتھ گاتا بجاتا اور شراب کے جام لنڈھا تا مدینہ منورہ کی طرف چل پڑا۔ ادھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے کفارعرب کی ایک ایک نقل و حرکت کی اطلاع مل رہی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوگیا تھا کہ پورا عرب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کھڑا ہوگیا ہے اور اس کی فوجوں نے پیش قدمی بھی شروع کردی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام حالات سے مطلع کرنے کے لیے صحابہ کرام (رض) کو بلا کر عرب کے قبائل اور یہودی سازشوں کی تفصیل ارشاد فرمائی تاکہ ہر شخص ذہنی طور پر اتنے شدید حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ تین ہزار جانثاروں نے کفار کے اس حملہ کا مقابلہ کرنے کا عزم کرلیا۔ مشورے کے دوران حضرت سلمان فارسی (رض) نے عرض کیا یا رسول للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں ایک طریقہ یہ ہے کہ جنگ میں اپنی حفاظت کے لیے خندقیں کھود لیتے ہیں تاکہ دشمن ایک دم حملہ کر کے شدید نقصان نہ پہنچا سکے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی اس تجویز کو بہت پسند کیا اور فرمایا کہ مدینہ کے ان اطراف میں خندقیں کھودی جائیں جہاں سے کفار کے اندر آنے کا اندیشہ تھا۔ چناچہ تین ہزار صحابہ کرام (رض) (رض) نے تمام حالات کا جائزہ لے کر اور پروگرام بنا کر خندقوں کی کھدائی شروع کردی اور شمالی غربی رخ پر کوہ سلع کو پشت پر لے کر چھ دن اور چھ راتوں میں اتنی زبردست خندقیں کھو دلی گئیں کہ جس سے دشمن آپ پر ایک دم حملہ نہ کرسکے۔ آپ نے ان خندقوں پر تیرانداز بٹھا دئیے تاکہ جو بھی اس خندق کو پار کرنے کی کوشش کرے اس پر تیروں کی بارش کردی جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بقیہ صحابہ کرام (رض) کو خندق کے آس باس متعین کردیا صحابہ کرام (رض) مورچہ بند ہونے کے بعد کفار سے مقابلہ کرلیے تیار ہوگئے۔ (سورۃ الاحزاب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کثرت سے درودوسلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت اور ان کی اطاعت ہی سے دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں وابستہ ہیں۔ ) جب کفار کی یہ اتحادی فوجیں مدینہ منورہ کے قریب پہنچیں تو خندقوں کو دیکھ کر حیرت میں رہ گئیں کیونکہ وہ اس طریقہ جنگ سے ناواقف تھیں۔ بہر حال کفار کی اتحادی فوجوں نے خندق کے چاروں طرف پڑائو ڈال دیا اسی دوران کچھ لوگوں نے خندق کو پار کرنے کی کوشش کی مگر ان کو صحابہ کرام (رض) نے تیر برسا کر پیچھے بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ پھر کفار عرب نے یہ سازش تیار کی کہ کسی طرح مدینہ کے اندر رہنے والے (خاص طور پر یہودی قبیلے) مسلمانوں پر حملہ کردیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جیسے ہی معلوم ہوا آپ نے صورت حال معلوم کرنے کے لیے چند صحابہ کرام (رض) کو بھیجا جنہوں نے بڑی خاموشی سے آکر بتادیا کہ واقعی نبو قریظہ بغاوت پر آمادہ ہیں اگرچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ تحقیقات بڑی خاموشی سے کرائی تھیں مگر کسی طرح منافقین تک یہ بات پہنچ گئی کہ ان کے بال بچوں کو شدید خطرات لا حق ہوچکے ہیں۔ منافقین نے میدان چھوڑ کر بھاگنے کے بہانے بناناشروع کردیئے تاکہ کسی طرح ان کو مدینہ واپس جانے کی اجازت دے دی جائے۔ غزوہ خندق کے موقع پر کفار کے حملے سے بھی زیادہ یہ خبر بڑی دل دہلا دینے والی تھی کہ بنو قریظہ کے گھروں کے پاس مسلمان بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو محفوظ مقام سمجھ کر رکھا گیا تھا لیکن بنو قریظہ کی بد نیتی نے مخلص صحابہ کرام (رض) کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا البتہ سچے اور مخلص اہل ایمان نے طے کرلیا تھا کہ آج ہمارا سب کچھ قربان ہوجائے مگر اسلام کی آبروبچ جائے تو وہ ان کے بال بچوں سے زیادہ اہم ہے۔ صحابہ کرام (رض) کا یہ عزم، حوصلہ، ولولہ اور جانثاری کا جذبہ اللہ کے ہاں قبول ہوگیا اور کفار کی تمام شازشیں نا کام ہوگئیں۔ اللہ نے اہل ایمان کی یہ مدد فرمائی کہ کفار کی صفوں میں زبردست پھوٹ پڑگئی اور دوسری طرف سمندر کی جانب سے ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہوئیں ہوا کا ایک زبردست طوفان تھا جس میں سردی، کڑک، چمک اور اندھیرا تھا کہ کسی کو کچھ نظر نہ آتا تھا۔ دشمنوں کے خیمے الٹ گئے، چیزیں چاروں طرف بکھر گئیں اور سردی سے وہ لوگ بےحال ہوگئے۔ کفار عرب جو یہ سوچ کر آئے تھے کہ ایک دودن میں معاملہ ختم ہوجائے گا اور ہم کامیاب و بامراد ہو کر لوٹیں گے اتنے عرصہ کے محاصرے اور موسم کی شدت اور آپس کی پھوٹ نے ان میں ایک ایسی افراتفری پھیلا دی کہ وہ دل برداشتہ ہو کر راتوں رات میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ صبح دیکھاتو پورا میدان دشمنوں سے خالی تھا۔ مسلمانوں میں کفار کی اس پسپائی اور شکست سے خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اب قریش تم پر کبھی چڑھائی نہ کرسکیں گے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان ہوگیا کہ ” اتحادی فوجیں “ میدان چھوڑ کر بھاگ چکی ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ واپس جانے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ کفار کی اتنی زبردست شکست اور ذلت تھی اور مسلمانوں کی وہ عظیم فتح تھی جس کے بعد مسلمانوں کے قدم آگے ہی بڑھتے چلے گئے اور پھر دنیا کی سپرپ اورز (Super Powers ) بھی ان کا راستہ نہ روک سکیں بلکہ صرف اسلام اور مسلمان ہی ساری دنیا کے حکمران بن گئے۔ یہ مسلمانوں کے لیے زبردست خوشی کا موقع بھی تھا مگر ان کی زبانوں پر سوائے شکر کے جذبات کے اور دوسرے الفاظ نہ تھے۔ کفار اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار ناچ گانے اور فضول ہنگاموں سے کرتے ہیں لیکن اہل ایمان ان باتوں کو خلاف اسلام اور ناجائز حرکت سمجھ کر کبھی اس طرف قدم نہیں بڑھاتے ۔ ہم کیسے بد قسمت دور میں ہیں کہ جہاں ہمارے مسلمان بھائی اپنی خوشی و مسرت کا اظہار کفار کے طریقوں کو اپنا کر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان جہالتوں اور فضول حرکتوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین غزوہ خندق کی صعوبتوں اور شدید پر یشانیوں سے تھکے ماندے مسلمان جب مدینہ منورہ پہنچ گئے تو حضرت جبرئیل امین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آکر کہا کہ ابھی ہتھیار نہ کھولے جائیں کیونکہ بنو قریظہ کی غداریوں سے نبٹنے کا مسئلہ درپیش ہے ان سے اسی وقت نبٹ لیا جائے چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان فرمادیا کہ کوئی شخص اس وقت تک عصر کی نماز نہ پڑھے جب تک وہ نبوقریظہ کے قبیلے تک نہ پہنچ جائے۔ چناچہ تمام صحابہ کرام (رض) نے اپنے ہتھیار کھولے بغیر اور عصر کی نماز کے وقت اچانک نبو قریظہ کا محاصرہ کرلیا۔ بنو قریظہ قلعہ بند ہو کر لڑنے پر آمادہ ہوگئے لیکن صحابہ کرام (رض) کے عزم و ہمت کو دیکھ کر وہ ڈرگئے۔ تین ہفتے کے شدید گھیرائو کے بعد بنو قریظہ سمجھ گئے کہ وہ اہل ایمان کا مقابلہ نہیں کرسکتے وہ بوکھلا اٹھے اور اس شرط پر صلح پر آمادہ ہوگئے کہ قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد ابن معاذ (رض) ان کے حق میں جو فیصلہ کریں گے وہ اس کو مان لیں گے۔ حضرت سعد (رض) نے تمام حالات کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کیا کہ بنو قریظہ کے تمام مرد قتل کردیئے جائیں، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے اور ان کی تمام جائیدادیں وغیرہ مسلمانوں میں تقسیم کردی جائیں۔ اس فیصلے پر اسی وقت عمل ہوا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ، تمام عرب قبائل اور سازشی یہودیوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور جزیرۃ العرب سے ان کا زور ہمیشہ کے لیے توڑ دیا گیا۔ یہ تو جنگی حالات تھے جن میں اہل ایمان نے زبردست فتح و نصرت حاصل کرلی تھی لیکن مسلمانوں کے اخلاق و کردار کی اصلاح کا کام بھی جاری تھا۔ عرب معاشرہ میں سب سے کم تر حیثیت غلاموں کی تھی جن کے نہ تو انسانی حقوق تھے اور نہ ان کو زندگی کی سہولتیں حاصل تھیں۔ غلام اور آقا کا فرق اتنا زبردست تھا کہ کوئی آزاد قبیلہ اپنی بیٹی کسی غلام یا آزاد کردہ غلام کو دینے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس چھوٹے بڑے اور آقا و غلام کے فرق کو مٹانے کے لیے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب (رض) کا نکاح حضرت زید ابن حارثہ (رض) سے کرنا چاہا تو اس سے پورے بنو قریش میں ایک ہنگامہ مچ گیا کیونکہ وہ اس کے لیے قطعاً تیار نہ تھے کہ کسی آزاد کردہ غلام کا نکاح بنو قریش جیسے معزز خاندان کی کسی لڑکی سے کردیا جائے۔ مگر اللہ و رسول کا حکم آنے کے بعد کسی نے اس حکم سے سرتابی نہیں کی اور حضرت زینب (رض) کا نکاح حضرت زید ابن حارثہ (رض) سے کردیا گیا۔ مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہونے کہ وجہ سے دونوں میں اختلافات پیدا ہونا شروع ہوگئے جھگڑے بڑھتے بڑھتے طلاق تک نوبت پہنچ گئی اور ایک دن انہوں نے حضرت زینب (رض) کو طلاق دے دی۔ طلاق کا یہ واقعہ نکاح سے بھی زیادہ ہیبت ناک بن گیا اور قریش اس کو پنی توہین سمجھنے لگے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس رنج و غم اور افسوس سے نکالنے کے لیے اللہ کے حکم سے عدت گذرنے کے بعد حضرت زینب (رض) سے نکاح کرلیا تاکہ قریش جس بات کو اپنی توہین سمجھ رہے تھے وہ اس نکاح کے ذریعہ دور ہوجائے۔ لیکن منافقین اور کفار کو ایک اور پروپیگنڈے کا موقع مل گیا کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجرت زید (رض) کو اپنا بیٹا بنا رکھا تھا اور اس دور کے دستور کے مطابق متبنیٰ یعنی بنایا ہوا بیٹا سگے بیٹوں کی طرح ہوتا تھا جو وراثت تک میں شریک سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہنا شروع کیا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی یعنی اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے صاف صاف حکم آگیا کہ سگا اور حقیقی بیٹا صرف وہی ہوتا ہے جو انسان کے صلب یعنی پیٹھ سے پیدا ہوتا ہے ۔ اگر کسی کو بیٹا بنا لیا جائے تو وہ حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ اس طرح اللہ نے آقا و غلام ہی کا فرق نہیں مٹایا بلکہ کفار کی اس بری رسم کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا کہ بنایا ہوا بیٹا حقیقی بیٹا ہوتا ہے۔ (١) مدینہ منورہ پر اتحدی فوجوں کا حملہ۔ (٢) بنوقریظہ کو ان کی غداری پر سخت سزا۔ (٣) اور حجرت زینب (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح۔ یہی تینوں اہم مسائل تھے جن کو سورٰ الاحزاب میں تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ چند اور ضروری مسائل کو بھی بیان کیا گیا ہے مثلاً * اسی دوران پردے کے احکامات کو نازک کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ عورتیں بغیر کسی شدید ضرورت کے گھروں سے باہر نہ نکلیں اور جب نکلیں تو اپنے آپ کو اچھی طرح ڈھانپ کر نکلیں۔ * اگر کسی کو ازواج مطہرات سے کچھ پوچھنا ہو تو وہ پردے کے پیچھے سے پوچھے۔ اس حکم کے آنے کے بعد امہات المومنین نے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا لیے۔ چونکہ امہات المومنین کی زندگی بھی ایک بےمثال نمونہ عمل تھی اس لیے تمام اہل ایمان کی خواتین نے اپنے گھروں پر پردے ڈال لیے اور جب وہ باہر نکلتیں تو اپنے آپ کو اس طرح ڈھانپ کر نکلتی تھیں کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ نمایاں یا ظاہر نہیں ہوتا تھا۔ * اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کو امت کی مائیں قرار دے کر ان کے ادب و احترام کا حکم دیا جس سے ان کی عزت و سر بلندی میں چار چاند لگ گئے۔ * اللہ تعالیٰ نے سورة الاحزاب میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان و عظمت، آپ کی خدمت میں حاضری کے اوقات اور بات کرنے کے آداب بیان فرمائے۔ * مومنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کثرت سے درودوسلام بھیجیں تاکہ ان کی دنیا اور آخرت سنور جائے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درودوسلام بھیجنے کا طریقہ بھی متعین فرمادیا اور وہ یہ ہے کہ ہر نماز کی آخری رکعت میں بیٹھ کر سلام اور درود شریف پڑھا جائے۔ البتہ اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ مبارک پر حاضری نصیب ہو تو کھڑے ہو کر سلام پڑھا جائے۔ گویا جہاں جیسا حکم ہے اس پر اسی طرح عمل کیا جائے اپنی طرف سے کوئی طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ ان تمام مذکورہ مسائل کی تفصیل انشاء اللہ سورة الاحزاب کی تشریح میں بیان کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنے محبوب رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت و اطاعت کا عظیم جذبہ عطا فرمائے اور ہمیں امہات المومنین اور صحابہ کرام (رض) جیسی پاکیزہ اور کامیاب زندگی نصیب فرمائے۔ (آمین)

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة الاحزاب ۔ 33 آیات 1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 27 سورة احزاب ایک نظر میں یہ سورة جماعت مسلمہ کی سیرت کا ایک حقیقی حصہ ہے۔ اس کا تعلق بدر الکبریٰ سے لے کر صلح حدیبیہ سے پہلے کے زمانے کے ساتھ ہے۔ یہ اس دور کے مسلمانوں کی حقیقی زندگی کی ایک خوبصورت تصویر کشی ہے۔ اس میں اس عرصہ کے بیشتر واقعات بیان ہوئے ہیں۔ نیز اس میں اس عہد کے اداروں اور انتظامی معاملات سے بھی بحث کی گئی ہے۔ اس سورة میں ان واقعات اور ان انتظامی اقدامات کے بارے میں پدایت بہت کم ہیں۔ ہدایات و احکام سورة کے ایک قلیل ہی حصے میں دئیے گئے ہیں۔ ان ہدایات کے ذریعہ واقعات اور انتظامی معاملات کو اسلام کی بنیادوں سے مربوط کیا گیا ہے یعنی اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے نظام قضا و قدر پر ایمان لانا مثلاً سورة کا آغاز یوں ہے : یایھا النبی اتق اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ وھو یھدی السبیل (33: 1 – 4) ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ سے ڈرو اور کفار و منافقین کی اطاعت نہ کرو۔ حقیقت میں علیم وخبیر تو اللہ ہی ہے۔ پیروی کرو اس چیز کی جس کا اشارہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں کیا جا رہا ہے ، اللہ ہر اس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو ، اللہ پر توکل کرو ، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔ اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے “۔ اسی طرح سورة کے آغاز میں بعض انتظامی امور پر ایک تبصرہ آیا ہے : کان ذلک فی الکتب مسطورا ۔۔۔۔۔۔۔۔ للکفرین عذاب الیما (33: 6 – 8) ” یہ حکم کتاب الٰہی میں لکھا ہوا ہے اور اے نبی یاد رکھو اس عہد و پیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ، تم بھی اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی ، سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں تاکہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے اور کافروں کے لیے تو اس نے دردناک عذاب مہیا کر ہی رکھا ہے “۔ اور پھر جنگ احزاب کے موقعہ پر مدینہ میں افواہیں پھیلانے والوں پر تبصرہ ہوا ہے ، یاد رہے کہ یہ سورة اسی نام سے احزاب کہلائی ہے۔ قل لن ینفعکم ۔۔۔۔۔۔ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (33: 16 – 17) ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہو اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ نفع بخش نہ ہوگا۔ اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقعہ تمہیں مل سکے گا۔ ان سے کہو کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہو۔ اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔ اللہ کے مقابلے میں تو یہ لوگ کوئی حامی و مددگار نہیں پاسکتے “۔ مثلاً بعض ایسے انتظامی امور پر تبصرہ ، یہ انتظامی امور ان کے زمانہ جاہلیت میں جاری طریقے کے خلاف تھے اور ان کی جاہلی ذہنیت کے بھی خلاف تھے۔ وما کان لمومن ۔۔۔ ضللا مبینا (33: 36) ” کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے خود اپنے معاملے کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہو “۔ اور آخر میں وہ عظیم تبصرہ : انا عرضنا الامانۃ ۔۔۔۔۔۔ کان ظلوما جھولا (33: 72) ” ہم نے اس امانت کو آسمان اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ، بیشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے “۔ تحریک اسلامی اور اسلامی سوسائٹی اس دور میں ایک خاص خصوصیت رکھتی تھی۔ اس دور میں اسلامی سوسائٹی اور اسلامی مملکت کے خدوخال ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے لیکن یہ خدوخال اسلامی مملکت ابھی مستحکم نہ ہوئے تھے ، جس طرح فتح مکہ کے بعد اسلامی سوسائٹی اور اسلامی مملکت مستحکم ہوگئی تھی اور لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہو رہے تھے اور تمام اختیارات اسلامی نظام اور اسلامی حکومت کو حاصل ہوگئے تھے۔ اس سورة میں اسلامی سوسائٹی کو ازسرنو منظم کرنے کی سعی کی گئی ہے اور جدید اقدامات کو اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت میں مستحکم کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ یہ بتایا گیا کہ اسلامی نظام میں نظریہ حیات کیا ہے اور اسلامی مملکت کا دستوری نظام کیا ہوگا۔ بعض جاہلانہ رسومات اور رواجات اور قوانین کے اندر تبدیلیاں کی گئیں اور ان امور کو اسلامی تصور حیات اور اسلامی دستوری نظام کے مطابق ڈھالا گیا۔ ان معاشی ، معاشرتی اور دستوری تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ غزوہ احزاب پر بھی تبصرہ کیا گیا۔ اور غزوہ بنی قریظہ اور اس کے بارے میں کفار ، منافقین اور یہودیوں کے موقف کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ لوگ اسلامی صفوں کے اندر جس طرح سازشیں کر رہے تھے اس کا بھی تذکرہ ہے اور ان سازشوں کی وجہ سے اسلامی سوسائٹی میں جو بےچینی پیدا ہوئی تھی اس کا بھی تذکرہ ہے۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے اخلاق آداب ، ان کی بیویوں اور ان کے گھروں کے بارے میں جو سازشیں کرتے تھے اس پر بھی تبصرے ہیں۔ اس سورة میں بیان کردہ اخلاقی ، تنظیمی اور قانونی اور دستوری اصلاحات اور ان دو غزوات کے واقعات کے درمیان مابہ الاشتراک کیا ہے کہ ان معاملات کے بارے میں کافر ، یہودی اور منافقین ایک خاص موقف رکھتے تھے۔ یعنی اسلامی سوسائٹی کے خلاف مخالفین کی سازشوں کا جواب ، یہ لوگ اس جدید اسلامی سوسائٹی اور مملکت کے اندر بےچینی پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ اگر کسی جنگی حملے کا موقعہ ہوتا تو وہ بھی کرتے۔ اگر افرا ہیں پھیلاتی ہوتیں تو بھی پھیلاتے۔ اگر لوگوں کو بدل کرکے شکست پر آمادہ کرنے کے مواقع ہوتے تو یہ بھی کرتے۔ اگر کوئی جدید اسلامی اخلاقیات میں سے کوئی بات جاری ہوتی تو یہ اس پر بھی معترض ہوتے۔ پھر غزوات کی وجہ سے جو اموال غنیمت آتے تھے اور اسلامی سوسائٹی کے جو حالات بدل رہے تھے تو اسکی وجہ سے بھی بعض معاشی روابط بدل رہے تھے۔ جدید اسلامی خطوط پر نئے اجتماعی روابط اور ادارے قائم ہو رہے تھے۔ لہٰذا اس پہلو سے یہ تمام متفرق اصلاحات باہم مربوط ہوجاتی ہیں اور سورة کا مضمون ایک وحدت بن جاتا ہے۔ اگرچہ موضوعات بظاہر متنوع ہیں لیکن جن متنوع اختلافات مابہ الاشتراک میں واقعات پر تبصرہ ہے ، وہ ایک ہی دور سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے سورة کے مضامین باہم مربوط ہیں۔ آغاز یوں ہوتا ہے کہ اے پیغمبر آپ اللہ سے ڈریں۔ کافرین ، منافقین کی اطاعت نہ کریں۔ آیت پر جو وحی اللہ کی طرف سے آتی ہے اسی کا اتباع کریں اور اللہ پر توکل کریں۔ اس سورة میں جو واقعات ، جو انتظامی اصلاحات جو قانونی اور دستوری دفعات ، جو اخلاقی اور معاشی آداب ہیں ان میں آپ صرف قرآن اور وحی کا اتباع کریں۔ سب سے بڑا اللہ ہے۔ اللہ کے ارادے اور ہدایت ہی کا اتباع کیا جائے۔ اللہ ہی کے نظام کو اختیار کیا جائے۔ اس پر توکل کیا جائے اور کفار اور منافقین سے اب مشورے نہ لیے جائیں اور اللہ کی نصرت پر بھروسہ کریں یہ لوگ آپ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ اب اس کے بعد بعض اجتماعی رسم و رواج کے اندر اصلاحات کرکے اسلام کا کلمہ حق بتایا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے تو یہ کہا جاتا ہے کہ تمام اداروں کا اخذ اب خدا سے ہوگا۔ انسان بیک وقت اپنے اندر دو دل نہیں رکھ سکتا۔ اس کے دو قبلے نہیں ہوسکتے۔ نہ دو مختلف نظاموں کو بیک وقت چلایا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی ایسا کرے گا وہ منافق ہوجائے گا۔ اس کے اقدامات میں اضطراب ہوگا۔ ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ (33: 4) ” اللہ نے کسی کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے “۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ ایک الٰہ ایک عقیدہ اور ایک نظام کی طرف متوجہ ہو اور اب مسلمانوں کو چاہئے کہ تمام جاہلی اطوار ، عادات ، رسم و رواج اور قوانین کا یکلخت چھوڑ دیں۔ پہلی اصلاح قانون ظہار میں کی گئی۔ مثلاً جاہلیت میں کوئی اپنی بیوی کو کہتا کہ وہ میرے لیے میری مان کی پیٹھ (ظہر) کی طرح ہے تو یہ عورت اس پر ماں کی طرح تا ابد حرام ہوجاتی تھی۔ وما جعل ازواجکم ۔۔۔۔ منھن امھتکم (33: 4) ” اللہ نے ان بیویوں کو تمہاری ماں نہیں بنایا ہے جس سے تم ظہار کرتے ہو “۔ یہ ایک بات ہے جو تم اپنی زبان سے کہتے ہو اور یہ بیوی کو ماں نہیں بنا دیتی۔ ان الفاظ کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بیوی ، بیوی ہی رہتی ہے ، اس کلام کی وجہ سے ماں نہیں بن جاتی۔ اسی طرح متبنی بنانے اور اس پر جو آثار مرتب ہوتے تھے ان کو بھی لپیٹ کر رکھ دیا گیا۔ وما جعل ادعیآء کم ابنآء کم (33: 4) ” اور اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹا نہیں بنایا “۔ لہٰذا آج کے بعد اس قسم کے تعلق کے ذریعے ان کے درمیان وراثت جاری نہ ہوگی۔ اور نہ دوسرے آثار حرمت ان کے درمیان پیدا ہوں گے۔ تفصیلات کا انتظار کریں۔ اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آیندہ تمام اہل ایمان کے ولی ہوں گے اور یہ دلایت ان کی خود اپنے اختیارات ذاتی سے بھی برتر ہوگی اور نبی کی بیویاں آج کے بعد تمام اہل ایمان کی مائیں ہیں۔ النبی اولی ۔۔۔۔۔ امھتھم (33: 6) ” بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے ان کی اپنی ذات پر مقدم ہے اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں “۔ اس کے بعد اسلام کے ابتدائی دنوں میں مہاجرین اور انصار کے درمیان جو مواخات قائم کی گئی تھی اور ان کے درمیان وراثت کے حقوق تھے ، ان کو ختم کردیا گیا اور اب وراثت اپنے نسبی قریبی رشتہ داروں کے درمیان محدود کردی گئی۔ واولوا الارحام ۔۔۔۔۔ والمھجرین (33: 6) ” کتاب اللہ کی رو سے عام مومنین اور مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے سے زیادہ حقدار ہیں “۔ یوں اسلامی سوسائٹی کے قانون نظام کو معقول اور طبیعی بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے اور جو جاہلی رسوم تھیں یا وقتی انتظامات تھے ، ان کو ختم کردیا گیا۔ یہ نیا انتظام جو اسلام اور اللہ کے احکام پر مبنی تھا ، اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی قدیم کتاب میں درج شدہ ہے۔ اور یہ اس عہد کے مطابق ہے جو تمام انبیاء سے لیا گیا تھا۔ خصوصا انبیاء میں سے اولو العزم نبیوں سے لیا گیا تھا۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز ہے کہ وہ قانون سازی کرنے کے بعد اس پر تبصرہ کرکے ہدایات بھی دیتا ہے تاکہ وہ نیا قانون لوگوں کے ایمان اور ضمیر کا حصہ بن جائے ۔ یہ تو تھا خلاصہ پہلے سبق کا۔ دوسرے سبق میں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنین پر اللہ کا کس قدر رحم و کرم ہے کہ اس نے حملہ آور جماعتوں کی سازشوں کو رد فرمایا۔ اس کے بعد جنگ احزاب اور جنگ بنو قریظہ کے واقعات کی تصویر کشی کی جاتی ہے اور یہ تصویر کشی پے در پے مناظر کی شکل میں ہے۔ ان کے اندرونی احساسات کو کاغذ پر منقش کردیا جاتا ہے۔ ان کی ظاہری دوڑ دھوپ اور افراد و جماعتوں کے مکالمات بھی قلم بند کیے گئے ہیں۔ ان معرکوں کے واقعات کے بیان کے درمیان جا بجا تبصرے بھی آتے ہیں اور واقعات سے قرآن کریم تھوڑی قدریں اخذ کرکے ان کو آئندہ زندگی کے لیے راہنما بناتا ہے۔ یعنی ان واقعات سے جو عہد ہوئے اور ان باتوں سے جو لوگوں کے دلوں اور ضمیروں میں پیدا ہوئیں۔ قرآن کریم کا انداز ہی ایسا ہے کہ وہ واقعات پر تبصرہ کرکے اہل ایمان کے نفوس کی تربیت کرتا ہے۔ اقدار اور پیمانے وضع کرتا ہے اور ان کے دل و دماغ میں ایسے تصورات وضع کرتا ہے جو ان کے لیے آئندہ فکری اساس ہوں۔ قرآن کا انداز بیان یوں ہے کہ وہ واقعہ بیان کرتا ہے جو عملاً ہوا۔ اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات ، اور اندرونی سوچ بیان کرتا ہے اور اس کے پس منظر پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس کے بعد اہل ایمان کو اس واقعہ کی حکمت بتائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس پر نقد و تبصرہ کیا جاتا ہے کہ اس کا اچھا پہلو کیا تھا اور برا کیا تھا۔ کس نے راہ صواب اختیار کیا اور کون غلطی پر تھا ۔ اس کے بعد غلطیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے اور اس کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جو ہوگیا سو ہوگیا اللہ کے ہاں مقرر یوں ہی تھا۔ یوں تمام معاملات کو اللہ کی مشیت اور قانون فطرت کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے۔ چناچہ اس معرکے کے بیان کا آغاز یوں ہوتا ہے : یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ تعملون بصیرا (33: 9) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، یاد کرو اللہ کے احسان کو جو اس نے تم پر کیا ہے جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں ، اللہ سب کچھ دیکھ رہا تھا “۔ اور ان واقعات کے درمیان یہ تبصرے قل لن ینفعکم الفرار۔۔۔۔۔ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (33: 16 – 17) ” اے نبی ، ان سے کہو اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا۔ اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقعہ تمہیں مل سکے گا۔ ان سے کہو کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے۔ وہ اگر تمہیں نقصان پہنچانا چاہے اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر تم پر مہربانی کرنا چاہئے۔ اللہ کے مقابلے میں تو یہ لوگ کوئی حامی و مددگار نہیں پاسکتے “۔ اور دوسرا تبصرہ لقد کان لکم ۔۔۔۔۔ وذکر اللہ کثیرا (33: 21) ” در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ تھا۔ اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے “۔ اور خاتمہ اس پر ہوتا ہے : لیجزی اللہ الصدقین ۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (33: 24) ” تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کی جزاء دے اور منافقوں کو چاہے تو سزا سے اور چاہے توبہ قبول کرلے ، بیشک اللہ غفور و رحیم ہے “۔ اس کے ساتھ ساتھ اس جنگ کے بارے میں مومنین صادقین کا موقف ، ان کی تصورات اور منافقین کا موقف ان کے تصورات اور احساسات بھی یہاں پیش کئے گئے تاکہ مسلمانوں پر سچی قدریں اور کھوٹی قدریں اچھی طرح واضح ہوجائیں۔ واذ یقول المنفقون ۔۔۔۔۔ الا غرورا (33: 12) ” یاد کرو جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا ، صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ غریب کے سوا کچھ نہ تھے “ اور دوسری طرف ولما زا المومنون ۔۔۔۔۔ ایمانا و تسلیما (33: 22) ” جب مومنین نے احزاب کو دیکھا تو پکار اٹھے۔ یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول کی بات بلکل سچی تھی۔ اس واقعہ نے ان کے ایمان اور ان کی سپردگی کو اور بڑھا دیا “۔ اس کے بعد اس کا فیصلہ کن انجام یقینی الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ ورد اللہ الذین ۔۔۔ قویا عزیزا (33: 25) ” اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا۔ وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی چلن لیے یونہی پلٹ گئے اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی جنگ کرنے کے لیے کافی ہوگیا ، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے “ اس کے بعد ازواج مطہرات کو اختیار دینے کا مشہور واقعہ ہے کہ جب مسلمانوں پر ہر طرف سے اموال غنیمت آنے شروع ہوگئے تو انہوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہتر نان و نفقہ کا مطالبہ شروع کردیا۔ یہ اموال غزوہ بنی قریظہ کے ذریعے اور اس سے قبل کے اموال غنیمت کے ذریعہ مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئے تھے۔ ازواج مطہرات کو دو باتوں کے درمیان میں سے ایک کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا یا تو وہ دنیا کی زیب وزینت اور عیش و عشرت کی زندگی اختیار کرلیں اور یا اللہ اور رسول اور آخرت کو اختیار کرلیں۔ چناچہ انہوں نے اللہ ، رسول اور آخرت کو اختیار کرلیا۔ تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجیت کے مقام محترم کو چن لیا اور زندگی کے عیش اور عشرت کو ترک کردیا۔ اس کے بعد اعلان کردیا گیا کہ جس طرح تم نے اللہ و رسول اور آخرت کو اختیار کیا ہے تو تمہاری جزائے بھی عظیم ہوگی اور اگر تم نے گناہ اور فحاشی اور دنیا پرستی کو اختیار کیا تو تمہارے لیے سزا بھی دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوگی۔ اور یہ اس لیے کہ تم نبی کریم کی عظیم ازواج ہو اور تمہارے گھروں میں قرآن نازل ہو رہا ہے اور اس کی تلاوت ہو رہی ہے۔ وہ رات اور دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکمت بھرے وعظ سن رہی ہیں۔ اس کے بعد تمام مومنین و مومنات کے جزائے اخروی کو بیان کردیا جاتا ہے۔ یہ تیسرا سبق تھا۔ چوتھا سبق آپ کی پھوپھی زاد بہن زینب بنت جحش کے بارے میں ہے۔ یہ قریشی اور ہاشمی النسب تھیں۔ ان کا نکاح آپ کے آزاد کردہ غلام زید ابن حارثہ سے ہوا تھا۔ اس کے بارے میں یہ حکم ہوا تھا۔ مومنین اور مومنات کے معاملات کا اختیار اللہ کو ہے۔ اب انکا اپنے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ نہ وہ اللہ اور رسول کے فیصلوں کے بعد کوئی اختیار رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا ارادہ ہے جو تمام معاملات کو چلاتا ہے اور مومنین کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کے بارے میں سر تسلیم خم کر دیں وما کان لمومن ۔۔۔۔۔۔ ضل ضللا مبینا (33: 36) ” کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ کیا “۔ یہ تو تھا زینب کے نکاح کا معاملہ۔ اب نکاح کے بعد ان کے درمیان طلاق ہوگئی ۔ طلاق کے بعد متنبی بنانے کے قانون کو منسوخ کردیا گیا ۔ اس کے بارے میں پہلے بات ہوچکی ہے اور یہ قانون پہلے ہی منسوخ ہوچکا تھا۔ یہ قانون عرب معاشرے میں چونکہ جڑیں پکڑ گیا تھا ، اس لیے اللہ نے اس کے اجراء کے لیے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خاندان کو چنا۔ چناچہ اس سلسلے میں خود رسول اللہ کو آزمائش میں ڈالا گیا تاکہ آپ خود اس بات کو اپنے اوپر نافذ کریں اور یہ نیا اصول عربی معاشرے میں قائم ہوجائے اور سابقہ جاہلی قانون کا قلع قمع کردیا جائے۔ واذ تقول للذی ۔۔۔۔۔۔ وکان امر اللہ مفعولا (33: 37) ” پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کو چکا تو ہم نے اس کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنین پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے ، جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے “۔ اس مناسبت سے یہاں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کے باہم تعلق کے بارے میں ہی بات ہوجاتی ہے۔ ما کان محمد۔۔۔۔۔ وخاتم النبین (33: 40) ” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں مگر وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے “۔ اس سبق کا خاتمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کے نام اس ہدایت کے اجراء سے ہوتا ہے۔ ولا تطع الکفرین۔۔۔۔۔ باللہ وکیلا (33: 48) ” اور ہرگز اطاعت نہ کرو کفار اور منافقین کی ، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کرلو اللہ پر۔ اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ اپنے معاملات اس کے سپرد کئے جائیں “۔ پانچویں سبق میں ان طلاق شدہ عورتوں کے مسائل ہیں جن کی رخصتی نہ ہوئی ہو۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عائلی زندگی کے بارے میں کچھ احکام ہیں ، کہ کون سی عورتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حرام ہیں اور کون سی حلال ہیں۔ پھر مومنین کا تعلق ازواج مطہرات سے کیا ہے۔ زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد اور یہ کہ ان کا حجاب کن کن سے ہوگا۔ باپ ، بیٹے ، بھائیوں ، بھتیجوں یا غلاموں کے سوا تمام دوسرے لوگوں سے حجاب ہوگا۔ پھر ان لوگوں کا حکم جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں اور خاندان کے بارے میں اذیت دیتے ہیں۔ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت بھیجی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت منافقین اور کافرین اس قسم کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ اس کے بعد یہ حکم آتا ہے کہ ازواج مطہرات ، آپ کی بیٹیاں مومنین کی ازواج اور تمام مومنہ عورتیں اپنی اوڑھنیاں سینوں پر ڈال لیا کریں۔ ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوزین (33: 59) ” تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں “۔ اس کے بعد ان منافقین کو تہدید تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اگر مدینہ میں شرو فساد اور افواہیں پھیلانے سے باز نہ آئے تو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آمادہ کریں گے کہ تم لوگوں کے خلاف وہ کاروائی کریں ، تمہیں نکال دیں جس طرح بنی قینقاع کو نکال دیا۔ بنو نضیر کو نکال دیا۔ یا تمہارا کام ہی تمام کردیں۔ جس طرح بنی قریظہ کا کام تمام کردیا۔ یہ سب امور یہ بتاتے ہیں کہ اس دور میں منافقین رات اور دن مدینہ میں اسلام کے خلاف سرگرم تھے اور شرارتیں کرتے تھے۔ آخری سبق لوگوں کے اس سوال کا جواب ہے کہ قیامت کب آئے گی اور اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ اس طرح اشارہ ہے کہ شاید یہ قریب ہی ہو۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے دو منظر پیش کئے جاتے ہیں۔ یوم تقلب وجوھھم ۔۔۔۔ واطعنا الرسولا (33: 66) ” جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے ، اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی ہوتی “۔ وہ اپنے اکابر پر لعنت اور ملامت کریں گے جن کی انہوں نے اطاعت کی اور انہوں نے ان کو گمراہ کیا۔ وقالوا ربنا۔۔۔ ولعنھم لعنا کبیرا (33: 67) ” اور کہیں گے اے ہمارے رب ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے جڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بےراہ کردیا۔ اے رب ، انکو و ہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر “ سورة کا خاتمہ نہایت ہی عظیم اور گہرے تبصرے پر ہوتا ہے۔ انا عرضنا الامانۃ ۔۔۔۔ ظلوما جھولا (33: 72) ” ہم نے امانت کو آسمان ، زمین اور پہاڑوں کے ساتھ پیش کیا تو وہ اسے ٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا اور بیشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے تاکہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے۔ اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے “۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ انسانیت کے کاندھوں پر کس قدر بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے خصوصا جماعت مسلمہ کے کاندھوں پر۔ یہ عظیم امانت فی الوقت جماعت مسلمہ ہی اٹھا رہی ہے۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کے پھیلانے کی ذمہ داری۔ اور اس دعوت کی راہ میں آنے والی مشکلات پر صبر کرنا ، شریعت کو قائم کرنا ، اپنے اوپر اور زمین پر شریعت کو قائم کرنا وغیرہ یہ سب امور اسی سورة کے موضوع کا اہم حصہ ہیں۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات سے اسلامی نظام ، اسلامی دستور و قانون اور اسلامی معاشرے کا قیام اللہ کی امانت ہے جو مومنین کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ اب سورة ہذا کی آیات کی تشریح۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi