Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 23

سورة الأحزاب

مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیۡہِ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ ۫ ۖوَ مَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِیۡلًا ﴿ۙ۲۳﴾

Among the believers are men true to what they promised Allah . Among them is he who has fulfilled his vow [to the death], and among them is he who awaits [his chance]. And they did not alter [the terms of their commitment] by any alteration -

مومنوں میں ( ایسے ) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالٰی سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض ( موقعہ کے ) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Praise for the Believers' Attitude, and leaving the ultimate Fate of the Hypocrites to Allah Allah says; مِنَ الْمُوْمِنِينَ رِجَالٌ ... Among the believers are men, When Allah mentions how the hypocrites broke their promise to Him that they would not turn their backs, He describes the believers as firmly adhering to their covenant and their promise: ... صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ ... ...who (they) have been true to their covenant with Allah; of them some have fulfilled their Nahbah; Some of them said: "Met their appointed time (i.e., death)." Al-Bukhari said, "Their covenant, and refers back to the beginning of the Ayah." ... وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلً and some of them are still waiting, but they have never changed in the least. means, they have never changed or broken their covenant with Allah. Al-Bukhari recorded that Zayd bin Thabit said: "When we wrote down the Mushaf, an Ayah from Surah Al-Ahzab was missing, which I used to hear the Messenger of Allah reciting. I did not find it with anyone except Khuzaymah bin Thabit Al-Ansari, may Allah be pleased with him, whose testimony the Messenger of Allah counted as equal to that of two other men. The Ayah in question was: مِنَ الْمُوْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ (Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah;)" This was recorded by Al-Bukhari but not by Muslim, It was also recorded by Ahmad in his Musnad, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in the chapters on Tafsir in their Sunans. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih. Al-Bukhari also recorded that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said: "We think that this Ayah was revealed concerning Anas bin An-Nadr, may Allah be pleased with him: مِنَ الْمُوْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ (Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah)." This was reported only by Al-Bukhari, but there are corroborating reports with other chains of narration. Imam Ahmad recorded that Anas said: "My paternal uncle Anas bin Al-Nadr, may Allah be pleased with him, after whom I was named, was not present with this Messenger of Allah at Badr, and this distressed him. He said: `The first battle at which the Messenger of Allah was present, and I was absent; if Allah shows me another battle with the Messenger of Allah, Allah will see what I will do!' He did not want to say more than that. He was present with the Messenger of Allah at Uhud, where he met Sa`d bin Mu`adh, may Allah be pleased with him. Anas, may Allah be pleased with him, said to him, `O Abu `Amr! Where are you going?' He replied, `I long for the fragrance of Paradise and I have found it near the mountain of Uhud.' He fought them until he was killed, may Allah be pleased with him. Eighty-odd stab wounds and spear wounds were found on his body, and his sister, my paternal aunt Ar-Rabayyi` bint Al-Nadr said, `I only recognized my brother by his fingertips.' Then this Ayah was revealed: مِنَ الْمُوْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلً Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah; of them some have fulfilled their Nahbah; and some of them are still waiting, but they have never changed in the least. They used to think that it had been revealed concerning him and his companions, may Allah be pleased with them." This was also recorded by Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Ibn Jarir narrated that Musa bin Talhah said: "Mu`awiyah bin Abi Sufyan, may Allah be pleased with him, stood up and said, `I heard the Messenger of Allah say: طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَه Talhah is one of those who have fulfilled their Nahbah."' Mujahid said concerning the Ayah: فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ (of them some have fulfilled their Nahbah), "Their covenant, وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ (and some of them are still waiting), they are waiting for battle so that they can do well. " Al-Hasan said: فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ (of them some have fulfilled their Nahbah), "They died true to their covenant and loyal, and some are still waiting to die in a similar manner, and some of them have never changed in the least." This was also the view of Qatadah and Ibn Zayd. Some of them said that the word Nahbah means a vow. وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلً (but they have never changed in the least). means, they never changed their covenant or were disloyal or committed treachery, but they persisted in what they had promised and did not break their vow, unlike the hypocrites who said: إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِىَ بِعَوْرَةٍ إِن يُرِيدُونَ إِلاَّ فِرَارا "Truly, our homes lie open." And they lay not open. They but wished to flee. (33:13) وَلَقَدْ كَانُواْ عَـهَدُواْ اللَّهَ مِن قَبْلُ لاَ يُوَلُّونَ الاٌّدْبَـرَ And indeed they had already made a covenant with Allah not to turn their backs, (33:15)

اس دن مومنوں اور کفار میں فرق واضح ہوگیا منافقوں کا ذکر اوپر گذر چکا ہے کہ وقت سے پہلے تو جاں نثاری کے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے لیکن وقت آنے پر پورے بزدل اور نامرد ثابت ہوئے ، سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ یہاں مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے ۔ بعض نے جام شہادت نوش فرمایا اور بعض اس کے نظارے میں بےچین ہیں ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو ایک آیت مجھے نہیں ملتی تھی حالانکہ سورۃ احزاب میں وہ آیت میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی تھی ۔ آخر حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس یہ آیت ملی یہ وہ صحابی ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم نے دو گواہوں کے برار کردیا تھا ۔ وہ آیت ( مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ ڮ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا 23؀ۙ ) 33- الأحزاب:23 ) ہے ۔ یہ آیت حضرت انس بن نضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے جس کا انہیں سخت افسوس تھا کہ سب سے پہلی جنگ میں جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس شریک تھے میں شامل نہ ہوسکا اب جو جہاد کا موقعہ آئے گا میں اللہ تعالیٰ کو اپنی سچائی دکھا دونگا اور یہ بھی کہ میں کیا کرتا ہوں ؟ اس سے زیادہ کہتے ہوئے خوف کھایا ۔ اب جنگ احد کا موقعہ آیا تو انہوں نے دیکھا کہ سامنے سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس آرہے ہیں انہیں دیکھ کر تعجب سے فرمایا کہ ابو عمرو کہاں جا رہے ہو؟ واللہ مجھے احد پہاڑ کے اس طرف سے جنت کی خوشبوئیں آرہی ہیں ۔ یہ کہتے ہی آپ آگے بڑھے اور مشرکوں میں خوب تلوار چلائی ۔ چونکہ مسلمان لوٹ گئے تھے یہ تنہا تھے ان کے بےپناہ حملوں نے کفار کے دانت کھٹے کردئیے تھے اور کفا لڑتے لڑتے ان کی طرف بڑھے اور چاروں طرف سے گھیر لیا اور شہید کر دیا ۔ آپ کو ( 80 ) اسی سے اوپر اپر زخم آئے تھے کوئی نیزے کا کوئی تلوار کا کوئی تیر کا ۔ شہادت کے بعد کوئی آپ کو پہچان نہ سکا یہاں تک کہ آپ کی ہمشیرہ نے آپ کو پہچانا اور وہ بھی ہاتھوں کی انگلیوں کی پوریں دیکھ کر ۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ اور یہی ایسے تھے جنہوں نے جو کہا تھا کر دکھایا ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔ اور روایت میں ہے کہ جب مسلمان بھاگے تو آپ نے فرمایا اے اللہ انہوں نے جو کیا میں اس سے اپنی معذوری ظاہر کرتا ہوں ۔ اور مشرکوں نے جو کیا میں اس سے بیزار ہوں ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا میں آپ کے ساتھ ہوں ۔ ساتھ چلے بھی لیکن فرماتے ہیں جو ہو کررہے تھے وہ میری طاقت سے باہر تھا ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ بیان ابی ابن حاتم میں ہے کہ جنگ احد سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینے آئے تو منبر پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر کی جو جو شہید ہوگئے تھے ان کے درجوں کی خبر دی ۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کی ۔ ایک مسلمان نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں کا اس آیت میں ذکر ہے وہ کون ہیں؟ اس وقت میں سامنے آرہا تھا اور حضرمی سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھا ۔ آپ نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا اے پوچھنے والے یہ بھی ان ہی میں سے ہیں ۔ ان کے صاحبزادے حضرت موسیٰ بن طلحہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں گئے جب وہاں سے واپس آنے لگے دروازے سے باہر نکلے ہی تھے جو جناب معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واپس بلایا اور فرمایا آؤ مجھ سے ایک حدیث سنتے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تمہارے والد طلحہ رضی اللہ تعالیٰ ان میں سے ہے جن کا بیان اس آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنا عہد اور نذر پوری کردی ۔ رب العلمین ان کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ بعض اس دن کے منتظر ہیں کہ پھر لڑائی ہو اور وہ اپنی کار گذاری اللہ کو دکھائیں اور جام شہادت نوش فرمائیں ۔ پس بعض نے تو سچائی اور وفاداری ثابت کردی اور بعض موقعہ کے منتظر ہیں انہوں نے نہ عہد بدلا نہ نذر پوری کرنے کا کبھی انہیں خیال گذرا بلکہ وہ اپنے وعدے پر قائم ہیں وہ منافقوں کی طرح بہانے بنانے والے نہیں ۔ یہ خوف اور زلزلہ محض اس واسطے تھا کہ خبیث وطیب کی تمیز ہوجائے اور برے بھلے کا حال ہر ایک پر کھل جائے ۔ کیونکہ اللہ تو عالم الغیب ہے اس کے نزدیک تو ظاہر وباطن برابر ہے جو نہیں ہوا اسے بھی وہ تو اسی طرح جانتا ہے جس طرح اسے جو ہوچکا ۔ لیکن اس کی عادت ہے کہ جب تک مخلوق عمل نہ کرلے انہیں صرف اپنے علم کی بنا پر جزا سزا نہیں دیتا ۔ جیسے اس کا فرمان ہے آیت ( وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ 31؀ ) 47-محمد:31 ) ہم تمہیں خوب پرکھ کر مجاہدین صابرین کو تم میں سے ممتاز کردینگے ۔ پس وجود سے پہلے کا علم پھر وجود کے بعد کا علم دونوں اللہ کو ہیں اور اس کے بعد جزا سزا ۔ جیسے فرمایا آیت ( مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ ١٧٩؁ ) 3-آل عمران:179 ) اللہ تعالیٰ جس حال پر تم ہو اسی پر مومنوں کو چھوڑ دے ایسا نہیں جب تک کہ وہ بھلے برے کی تمیز نہ کرلے نہ اللہ ایسا ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کردے ۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ یہ اس لئے کہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور عہد شکن منافقوں کو سزادے ۔ یا انہیں توفیق توبہ دے کہ یہ اپنی روش بدل دیں اور سچے دل سے اللہ کی طرف جھک جائیں تو اللہ بھی ان پر مہربان ہوجائے اور ان کو معاف فرمادے ۔ اس لئے کہ وہ اپنی مخلوق کی خطائیں معاف فرمانے والا اور ان پر مہربانی کرنے والا ہے ۔ اس کی رافت ورحمت غضب وغصے سے بڑھی ہوئی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

231یہ آیت ان بعض صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے اس موقع پر جاں نثاری کے عجیب و غریب جوہر دکھائے تھے اور انھیں میں وہ صحابہ بھی شامل ہیں جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے لیکن انہوں نے یہ عہد کر رکھا تھا کہ اب آئندہ کوئی معرکہ پیش آیا تو جہاد میں بھرپور حصہ لیں گے۔ جیسے نضر بن انس وغیرہ جو بالآخر لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے جسم پر تلوار نیزے اور تیروں کے اسی سے کچھ اوپر زخم تھے، شہادت کے بعد ان کی ہمشیرہ نے انھیں ان کی انگلی کے پور سے پہچانا۔ 232نَحْبہ، نحب کے معنی ہیں عہد، نذر اور موت کے کئے گئے ہیں۔ مطلب ہے کہ ان صادقین میں کچھ نے اپنا وعدہ اور نذر پوری کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرلیا ہے۔ 233اور دوسرے وہ ہیں جو ابھی تک عروس شہادت سے ہمکنار نہیں ہوئے ہیں تاہم اس کے شوق میں شریک جہاد ہوتے ہیں اور شہادت کی سعادت کے آرزو مند ہیں اپنی اس نذر یا عہد میں انہوں نے تبدیلی نہیں کی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣٢] اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جو لیلۃ العقبہ ثانیہ میں انصار کے بہتر (٧٢) افراد نے رسول اللہ سے کیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ ہم مرتے دم تک آپ کا ساتھ دیں گے۔ [ ٣٣] اللہ سے کئے ہوئے عہد کو نباہنے والے :۔ اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : (١) سیدنا انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ : && میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت (میرے چچا) انس بن نضر کے حق میں نازل ہوئی ہے && (بخاری۔ کتاب التفسیر) (٢) سیدنا انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ &&: میرا نام میرے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ وہ جنگ بدر میں رسول اللہ کے ساتھ حاضر نہ ہوسکے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری اور کہا کہ : && یہ رسول اللہ کے ساتھ حاضر رہنے کا پہلا موقع تھا جس سے میں غائب رہا۔ اللہ کی قسم ! اب اگر آپ کے ساتھ حاضر ہونے کا کوئی موقع آیا تو اللہ تعالیٰ خود دیکھ لے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں && راوی کہتا ہے کہ : پھر وہ ڈر گئے کہ ان الفاظ کے علاوہ کچھ اور لفظ کہنا مناسب تھا۔ پھر جب اگلے سال احد کے دن رسول اللہ کے ساتھ حاضر ہوئے تو انھیں (راہ میں) سعد بن معاذ ملے۔ انہوں نے پوچھا : && ابوعمرو ! کہاں جاتے ہو ؟ && انس کہنے لگے : && واہ میں تو احد (پہاڑ) کے پار جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ چناچہ وہ (بڑی جرأت سے) لڑے۔ حتیٰ کہ شہید ہوگئے اور ان کے جسم پر ضربوں، نیزوں اور تیروں کے اسی (٨٠) سے زیادہ زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر کہنے لگی : میں اپنے بھائی کی نعش کو صرف اس کے پوروں سے پہچان سکی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) (٣) موسیٰ بن طلحہ (رض) کہتے ہیں کہ : جب میں معاویہ کے ہاں گیا تو انہوں نے کہا : میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے کہا : ضرور سناؤ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ طلحہ (رض) ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی ذمہ داریاں پوری کرچکے۔ (ترمذی۔ حوالہ ایضاً ) یہ وہ بزرگ ہیں جو جنگ احد میں رسول اللہ کی حفاظت کے لئے اپنے ہاتھ پر تیر روکتے رہے حتیٰ کہ ایک ہاتھ شل ہوگیا تو دوسرا ہاتھ آگے کردیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب ذکر طلحہ بن عبید اللہ)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۭمِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا دعویٰ کرنے والے کچھ لوگوں کا ذکر فرمایا، جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا اور بزدلی اور نامردی سے میدان سے بھاگ گئے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ ۭ وَكَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْـُٔــوْلًا ) [ الأحزاب : ١٥ ] ” حالانکہ بلاشبہ یقیناً اس سے پہلے انھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کا عہد ہمیشہ پوچھا جانے والا ہے۔ “ اب ان لوگوں پر چوٹ کے لیے ان ایمان والوں کا ذکر ہوتا ہے جو فی الواقع مرد تھے اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا معاہدہ پورا کردیا۔ اس آیت میں ان تمام مخلص مسلمانوں کی تعریف ہے جو اپنی جان و مال کی پروا نہ کرتے ہوئے اتنے مشکل حالات اور اتنے کثیر دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہے۔ ان میں سب سے آگے ابوبکر صدیق (رض) ہیں جو کسی جنگ اور کسی موقع میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیچھے نہیں رہے اور جنھوں نے اپنا جان و مال سب کچھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان کردیا تھا، پھر عمر، عثمان، علی اور درجہ بدرجہ دوسرے صحابہ کرام (رض) ہیں۔ اس معاہدے سے مراد وہ معاہدہ ہے جو ایمان لانے کے ساتھ ہی مومن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود بخود ہوجاتا ہے، اس کا ذکر اس آیت میں ہے : (اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ ۭ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ ۣ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهٖ ۭ وَذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ) [ التوبۃ : ١١١ ] ” بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہوجاؤ جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ “ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ ۔۔ : ” نَحْبٌ“ کا معنی عہد، نذر اور موت ہے، یہاں ” نَحْبٌ“ سے مراد ایسا عہد ہے جو نذر کی طرح موت تک کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جنھوں نے شہادت پا کر وہ نذر پوری کردی کہ مرتے دم تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور کچھ اس انتظار میں ہیں اور انھوں نے اپنے عہد میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔ اس آیت کی تفسیر میں صحابہ کرام (رض) نے جنگ خندق سے پہلے جنگ بدر اور احد میں شہید ہونے والے صحابہ کرام (رض) کو بھی اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے، مثلاً حمزہ، مصعب بن عمیر، عبداللہ بن جحش، سعد بن ربیع اور انس بن نضر (رض) وغیرہ۔ انس (رض) بیان کرتے ہیں : ” میرے چچا (انس بن نضر (رض) جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تو یہ بات ان پر شاق گزری۔ انھوں نے کہا : ” پہلی لڑائی جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شریک ہوئے، میں اس سے غائب رہا، اب اگر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہونے کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ “ اس کے سوا وہ کچھ کہنے سے ڈرے، پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے تو سعد بن معاذ (رض) ان کے سامنے آئے۔ انس (رض) نے ان سے کہا : ” ابو عمرو ! کہاں جا رہے ہو ؟ “ پھر کہنے لگے : ” واہ واہ ! مجھے تو احد کی طرف سے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ “ پھر وہ لڑے یہاں تک کہ قتل ہوگئے۔ (لڑائی کے بعد دیکھا گیا) تو ان کے بدن پر اسی (٨٠) سے زائد تلوار، نیزے اور تیر کے زخم تھے۔ ان کی بہن اور میری پھوپھی ربیّع بنت نضر (رض) نے کہا : ” میں نے اپنے بھائی کو نہیں پہچانا مگر ان کی انگلیوں کی پوریں دیکھ کر۔ “ اور یہ آیت نازل ہوئی : (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ ڮ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا ) [ الأحزاب : ٢٣ ] انس (رض) کہتے ہیں : ” صحابہ (رض) سمجھتے تھے کہ یہ آیت ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ “ [ مسلم، الإمارۃ، باب ثبوت الجنۃ للشہید : ١٩٠٣ ] معاویہ (رض) نے فرمایا، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ( طَلْحَۃُ مِمَّنْ قَضَی نَحْبَہُ ) [ ترمذي، التفسیر، باب و من سورة الأحزاب : ٣٢٠٢ ] ” طلحہ (t) ان لوگوں میں سے ہے جو اپنی نذر پوری کرچکے۔ “ گویا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی زندگی ہی میں انھیں شہید قرار دے دیا۔ قیس بن حازم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے طلحہ (رض) کا ہاتھ دیکھا کہ وہ شل تھا، جس کے ساتھ انھوں نے احد کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کیا تھا۔ [ بخاري، فضائل أصحاب النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، باب ذکر طلحۃ بن عبید اللہ : ٣٧٢٤ ] وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ : اس سے مراد وہ صحابہ کرام (رض) ہیں جو منتظر تھے کہ کب کوئی موقع ملتا ہے جس میں وہ جان کی قربانی پیش کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنا کیا ہوا عہد پورا کریں۔ ان کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ عہد کے سچے صرف وہی ہیں جو شہید ہوچکے، بلکہ ”إِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ “ (فتح یا شہادت) کا ہر طالب اس کا مصداق ہے۔ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا : منافقین نے تو اپنا عہد بدل ڈالا، لیکن یہ سچے مومن اپنے عہد پر پوری طرح قائم رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَيْہِ۝ ٠ ۚ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَہٗ وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ۝ ٠ ۡ ۖ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا۝ ٢٣ۙ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ عهد العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً. قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] ( ع ھ د ) العھد ( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی ۔ یعنی اپنی قسموں کے عہد پورے کرو ۔ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] کہ ظالموں کے حق میں میری ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی ۔ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ نحب النَّحْبُ : النَّذْر المحکوم بوجوبه، يقال : قضی فلان نَحْبَهُ. أي : وَفَى بنذره . قال تعالی: فَمِنْهُمْ مَنْ قَضى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ [ الأحزاب/ 23] ويعبّر بذلک عمّن مات، کقولهم : قضی أجله «1» ، واستوفی أكله، وقضی من الدّنيا حاجته، والنَّحِيبُ : البکاء الذي معه صوت، والنُّحَابُ السُّعَال . ( ن ح ب ) النحب ۔ اس نذر کو کہتے ہیں جس کا پورا کرنا ( واجب ہو ۔ محاورہ ہے : ۔ قضی فلان نحبہ یعنی فلاں نے اپنی نذر پوری کی قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ [ الأحزاب/ 23] ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں مجازا اس سے موت مراد لی جاتی ہے جیسا کہ قضی غیر ہ محاروات استعمال ہوتے ہیں اور ان سے موت مراد ہوتی ہے ۔ النجیب کے معنی گریہ زاری اور آواز کے ساتھ رونے کے ہیں اور نحاب کھانسی کو کہتے ہیں ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب بحسناتهم «5» . وقال تعالی: فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] ، وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] ، وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ، ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] ، يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] أي : تغيّر عن حالها، أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] ، وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] ، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] ، وقوله : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] أي : لا يغيّر ما سبق في اللوح المحفوظ، تنبيها علی أنّ ما علمه أن سيكون يكون علی ما قد علمه لا يتغيّرعن حاله . وقیل : لا يقع في قوله خلف . وعلی الوجهين قوله تعالی: تَبْدِيلَ لِكَلِماتِ اللَّهِ [يونس/ 64] ، لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ [ الروم/ 30] قيل : معناه أمر وهو نهي عن الخصاء . والأَبْدَال : قوم صالحون يجعلهم اللہ مکان آخرین مثلهم ماضین «1» . وحقیقته : هم الذین بدلوا أحوالهم الذمیمة بأحوالهم الحمیدة، وهم المشار إليهم بقوله تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] والبَأْدَلَة : ما بين العنق إلى الترقوة، والجمع : البَئَادِل «2» ، قال الشاعر : 41- ولا رهل لبّاته وبآدله ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا ۔ اور آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایسے نیک کام کریں جو ان کی سابقہ برائیوں کو مٹادیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادیگا اور ان کے نیک عملوں کا انہیں ثواب عطا کریئگا فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] تو جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے ۔ وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] جب ہم گوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں ۔ وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] کے معنی یہ ہیں کہ زمین کی موجودہ حالت تبدیل کردی جائے گی ۔ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] کہ وہ ( کہیں گی ) تہمارے دین کو ( نہ ) بدل دے ۔ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] اور جس شخص نے ایمان ( چھوڑ کر اس کے بدلے کفر اختیار کیا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] 47 ۔ 38 ) اور اگر تم منہ پھروگے تو وہ تہماری جگہ اور لوگوں کو لے آئیگا ۔ اور آیت کریمہ : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا پس اس میں تنبیہ ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وقوع پذیر ہوگی وہ اس کے علم کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوگی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس کے وعدہ میں خلف نہیں ہوتا ۔ اور فرمان بار ی تعالیٰ : { وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ } ( سورة الأَنعام 34) قوانین خدا وندی کو تبدیل کرنے والا نہیں ۔{ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ } ( سورة الروم 30) نیز : لا تبدیل لخلق اللہ فطرت الہیٰ میں تبدیل نہیں ہوسکتی ( 30 ۔ 30 ) بھی ہر دو معافی پر محمول ہوسکتے ہیں مگر بعض نے کہاں ہے کہ اس آخری آیت میں خبر بمعنی امر ہے اس میں اختصاء کی ممانعت ہے الا ابدال وہ پاکیزہ لوگ کہ جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو اس کا قائم مقام فرمادیتے ہیں ؟ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں ۔ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں جہنوں نے صفات ذمیمہ کی بجائے صفات حسنہ کو اختیار کرلیا ہو ۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنکی طرف آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] میں ارشاد فرمایا ہے ۔ البادلۃ گردن اور ہنسلی کے درمیان کا حصہ اس کی جمع بادل ہے ع ( طویل ) ولارھل لباتہ وبآدلہ اس کے سینہ اور بغلوں کا گوشت ڈھیلا نہیں تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

نذر کو پورا کرنا چاہیے قول باری (فمنھم من قضی نجہ ۔ سو ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ) ایک قول کے مطابق نحب کے معنی نذر کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے عہد کے سلسلے میں انہوں نے جو نذر مانی تھی وہ نذر انہوں نے پوری کرلی۔ حسن کا قول ہے کہ (قضی نجہ) کے معنی ہیں کہ ان کی موت اسی عہد پر واقع ہوئی جو انہوں نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ نجب، موت کو کہتے ہیں اور نجب ایک دن ایک رات تسلسل کے ساتھ چلنے کو بھی کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ ” انہوں نے اپنا عہد پورا کردیا۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ نحب کے نقط میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اس سے عہد اور نذر مراد لی جائے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اسے بعینہ پورا کرنے پر ان کی مدح سرائی کی ہے۔ اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ جو شخص کسی عبادت وقربت کی نذر مانے گا اس پر اسے بعینہ اس کا پورا کرنا واجب ہوگا۔ اس پر کفارہ یمین واجب نہیں ہوگا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ان مومنین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا اس کو پورا کر کے دکھایا اور بعض ان میں تو وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے یا یہ کہ اپنی زندگی پوری کرچکے یعنی حضرت حمزہ اور ان کے ساتھی اور بعض آخری وقت تک اس کے پورا کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں اور ابھی تک انہوں نے اس عہد میں ذرا بھی ادل بدل نہیں کیا۔ شان نزول : مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ (الخ) امام مسلم اور ترمذی نے حضرت انس سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ میرے چچا انس بن النضر غزوہ بدر سے غائب رہے اس پر انہوں نے افسوس میں تکبیر کہی اور بولے کہ رسول اکرم کو پہلا معرکہ جنگ پیش آیا اور میں اس میں شامل نہیں رہا اگر اللہ تعالیٰ مجھے رسول اکرم کے ساتھ کسی لڑائی میں شرکت کا موقع دے گا تو اللہ تعالیٰ دکھا دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ چناچہ وہ غزوہ احد میں حاضڑ ہوئے اور کفار سے خوب لڑے یہاں تک کہ شہید ہوگئے تو ان کے جسم پر نیزے تلوار تیر وغیرہ کے اسی (٨٠) سے زیادہ نشانات پائے گئے اور اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان مومنین میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیا تھا اس میں سچے اترے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٣ { مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ } ” اہل ِایمان میں وہ جواں مرد لوگ بھی ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا وہ عہد جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا۔ “ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے مال اور ہماری جانیں اللہ کی راہ میں قربانی کے لیے حاضر ہیں اور انہوں نے اپنا یہ دعویٰ عملی طور پر سچ کر دکھایا ۔ { فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ } ” پس ان میں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کرچکے “ یہ اشارہ ہے ان صحابہ کرام (رض) کی طرف جو ان آیات کے نزول (٥ ہجری) سے پہلے جامِ شہادت نوش کرچکے تھے۔ مثلاً غزوئہ بدر میں چودہ (١٤) ‘ جبکہ غزوئہ اُحد میں ستر (٧٠) صحابہ (رض) شہید ہوئے تھے۔ { وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُز } ” اور ان میں سے کچھ انتظار کر رہے ہیں۔ “ باقی منتظر ہیں کہ کب ان کی باری آئے ‘ انہیں جان قربان کرنے کا موقع میسر آئے اور وہ اللہ کے حضور سرخرو ہوں : ؎ وبالِ دوش ہے سر جسم ِنا تواں پہ مگر لگا رکھا ہے ترے خنجر و سناں کے لیے ! { وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا } ” اور انہوں نے ہرگز کوئی تبدیلی نہیں کی۔ “ اللہ سے جو عہد انہوں نے پہلے دن سے کر رکھا ہے آج بھی وہ اس پر قائم ہیں اور اس میں انہوں نے سرمو فرق نہیں آنے دیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

39 That is, "Someone has already offered his life in the way of Allah, and someone is awaiting the time when he will offer it for the sake of his Faith. "

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :39 یعنی کوئی اللہ کی راہ میں جان دے چکا ہے اور کوئی اس کے لیے تیار ہے کہ وقت آئے تو اس کے دین کی خاطر اپنے خون کا نذرانہ پیش کر دے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: نذرانہ پورا کرنے سے مراد جہاد میں جام شہادت نوش کرنا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو صحیح معنی میں مومن تھے، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس کے راستے میں اپنے جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پھر ان حضرات میں سے کچھ نے تو اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے جام شہادت نوش کرلیا، اور کچھ وہ ہیں جنہوں نے جہاد میں حصہ تو لیا، لیکن شہید نہیں ہوئے، اور ابھی اس انتظار اور اشتیاق میں ہیں کہ کب انہیں بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان قربان کرنے کا موقع ملے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 اس اقرار سے مراد وہ اقرار ہے جو مدینہ منورہ کے انصار (رض) سے ” لیلہ عقبہ “ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تھا اور وہ یہ تھا کہ آخر دم تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت و مدافعت ہیں اپنی جانیں تک قربان کردیں گے یا اس سے مراد بعض ان لوگوں کا عہد ہے جو کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اور انہوں نے عہد کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمائش کا موقع دیا تو وہ ثابت قدم رہیں گے اور پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ حضرت انس (رض) بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا انس (رض) بن نضر غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اس کا انہیں بڑا رنج ہوا اور کہنے لگے کہ اب اگر کوئی جنگ ہوئی تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ چناچہ غزوہ احد میں شریک ہوئے اور پھر لڑتے شہید ہوگئے ان کے بدن پر تلوار، تیر اور نیزے کے اس سے زیادہ زخم پائے گئے۔ ان کی بہن ربیع بنت نضر کہتی ہیں کہ میں اپنے بھائی کو صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچان سکی۔ یہ آیت ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ ( ابن کثیر) ۔10 یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانوں کی قربانی پیش کرچکے ہیں جیسے حضرت حمزہ (رض) اور انس (رض) بن نضر وغیرہ جو جنگ احد میں شہید ہوچکے تھے۔ ( ابن کثیر)11 کہ کب کوئی موقع ملتا ہے جس میں وہ اپنی جان کی قربانی پیش کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنا کیا ہوا عہد پورا کریں۔12 جیسا کہ منافقین نے اپنا عہد بدل ڈالا، بلکہ اس پر پوری طرح ثابت قدم رہے حتیٰ کہ شہید ہوگئے یا اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یہ تقسیم اس بناء پر ہے کہ بعض نے عہد ہی نہیں کیا تھا اور بلا عہد ثابت قدم رہے۔ اور مراد ان معاہدین سے حضرت انس بن النضر اور ان کے رفقاء ہیں جو حضرات اتفاق سے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہونے پائے تھے، تو ان کو افسوس ہوا اور عہد کیا کہ اگر اب کے کوئی جہاد ہو تو اس میں ہماری جان توڑ کوشش دیکھ لی جاوے گی، مطلب یہ تھا کہ منہ نہ موڑیں گے گو مارے جاویں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

من المؤمنین رجال ۔۔۔۔۔ وما بدلوا تبدیلا (24) ” “۔ یہ نمونہ اس مکروہ نمونے کے بالمقابل ہے۔ یہ مکروہ نمونہ وہ ہے جس میں لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے مگر بعد میں انہوں نے اپنا عہد و فا نہ کیا۔ وکان عھد اللہ مسؤلا ” اور اللہ کے عہد کے بارے میں تو پوچھا جاتا ہے “۔ امام احمد نے حضرت ثابت سے نقل کیا ہے کہ ” میرے چچا انس ابن نضر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر میں حاضر نہ ہوسکے تھے۔ ان پر یہ بات بہت شاق تھی۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شریک ہوئے اور میں غائب رہا۔ اگر اللہ نے مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ستاھ کسی معرکے میں شریک کیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ ان کے سوا اور کوئی یہ بات نہ کہہ سکا۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ احد کے دن حاضر ہوئے۔ یہ سعد ابن معاذ (رض) کے سامنے آگئے۔ انس نے ان سے کہا ابو عمر ! واہ ! واہ ! جنت کی ہوا کیا خوب ہے۔ مجھے تو احد سے جنت کی ہوا آرہی ہے۔ کہتے ہیں اس نے ان کے ساتھ جنگ کی اور وہ قتل ہوگئے۔ ان کے جسم پر 80 سے اوپر زخم تھے۔ تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے۔ ان کی بہن میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے کہا میں نے اپنے بھائی کو اس کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ کہتی ہیں ان پر یہ آیت نازل ہوئی : من المومنین رجال صدقوا (33: 23) صحابہ کرام (رض) کا خیال تھا کہ یہ آیت انس ابن نضر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ بےمثال مومنین کی یہ نہایت ہی روشن تصویر ہے۔ یہاں ہم اس کا تذکرہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ ایمان کی حقیقت کیا ہوتی ہے۔ اور نفاق کیا ہوتا ہے۔ وفائے عہد کیا ہوتا ہے اور نقص عہد کیا ہوتا ہے۔ یہ میداں تربیت گاہ کے درمیان تقابلی مطالعہ تھا۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو ایسی آزمائشوں میں کیوں ڈالتا ہے اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیتے ہیں ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد مومنین صحابہ (رض) کی تعریف فرمائی کہ جب انہوں نے کافروں کے گروہوں کو دیکھ لیا کہ وہ باہمی مشورے کرکے آگئے ہیں تو انہوں نے کہا : (ھٰذا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ) (یہ وہ ہے جس کا اللہ نے اور اس کے رسول نے وعدہ فرمایا تھا) یعنی اہل ایمان کی جانچ اور امتحان کا جو قرآن کریم میں کئی جگہ ذکر ہے اسی میں ایک یہ بھی امتحان و ابتلا ہے، دشمنوں کی آمد اہل ایمان کے لیے ایمان میں اضافہ کا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو زیادہ بشاشت کے ساتھ تسلیم کرنے کا سبب بن گئی، سورة بقرہ میں امتحان کا ذکر فرمایا ہے : (وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفَِ والْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ ) (الآیۃ) اور سورة آل عمران میں فرمایا ہے : (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ) اور سورة عنکبوت میں فرمایا ہے : ( الم اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ) اور فرمایا (وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ) ان آیات میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ اہل ایمان کا امتحان ہوگا اور مومنین و منافقین الگ الگ پہچان لیے جائیں گے۔ اس کے بعد ان مومنین کا تذکرہ فرمایا جنہوں نے ایمان والے عام عہد اور اقرار کے علاوہ بھی کچھ عہد زائد کیا تھا، ان کے لیے فرمایا کہ بعض نے تو اپنی نذر پوری کردی یعنی معاہدہ کے مطابق جہاد میں شرکت کرکے شہید ہوگئے، ان کے بارے میں (فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَجْبَہٗ ) فرمایا۔ اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو ابھی انتظار میں ہیں کہ جب موقع ہوگا اپنی جان کو اللہ کی راہ میں قربان کردیں گے۔ یہاں مفسرین کرام نے ایک واقعہ نقل کیا ہے جو حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میرے چچا انس بن النضر (رض) غزوہ بدر کی شرکت سے رہ گئے تھے انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ آپ کا مشرکین سے جنگ کرنے کا یہ پہلا موقع تھا میں جس میں شریک نہ ہوا، اب اگر اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جنگ کرنے کا موقع دیا تو میں جان جوکھوں میں ڈال کر دکھا دوں گا۔ جب غزوہ احد کا موقع آیا تو یہ اس میں شریک ہوگئے اور مسلمانوں کو جب ظاہری شکست ہوگئی تو بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ ایمان والوں نے جو کچھ کیا میں اس کی معذرت پیش کرتا ہوں اور مشرکین نے جو کچھ کیا میں اس سے برأت ظاہر کرتا ہوں، یہ کہہ کر آگے بڑھے، مشرکین کی طرف جا رہے تھے کہ راستہ میں حضرت سعد بن معاذ (رض) سے ملاقات ہوگئی اور ان سے کہا میرے رب کی قسم ! مجھے احد کے ورے جنت کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے اس کے بعد لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جب ان کی نعش ملی تو چونکہ مشرکین نے ان کے ناک کان کاٹ دئیے تھے جس سے چہرہ بدل گیا تھا اس لیے انگلیوں کے پوروں سے ان کی بہن نے انہیں پہچانا، شمار کیا تو دیکھا کہ ان کے جسم پر اسی سے کچھ اوپر تلوار، نیزہ اور تیر کے زخم تھے ہم سمجھتے تھے کہ یہ آیت یعنی (مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ) حضرت انس بن نضر اور ان جیسے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ (ذکرہ البغوی فی معالم التنزیل ج ٢ ص ٥٢٠، وذکرہ البخاری فی کتاب التفسیر من جامعہ ج ٢ ص ٧٠٥ قال انس بن مالک نریٰ ھٰذہ الاٰیۃ نزلت فی انس بن نضر) حضرت انس بن مالک (رض) نے جو فرمایا کہ یہ آیت انس بن نضر اور ان جیسے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان اصحاب کے اسمائے گرامی جو مفسرین نے لکھے ہیں ان میں سید الشہداء حضرت حمزہ بن عبد المطلب اور حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) ہیں، بعض روایات میں یوں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو یہ بات پسند کرے کہ کسی ایسے شخص کو زمین پر چلتا پھرتا دیکھے جس نے اپنی نذر پوری کردی ہو تو وہ طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھے (معالم التنزیل) حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) غزوہ احد اور غزوہ احزاب میں شہید نہیں ہوئے تھے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں (مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ ) کا مصداق بتایا کیونکہ انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دشمنوں کے تیروں سے اپنے ہاتھ کے ذریعہ بچایا تھا یعنی ڈھال کی جگہ اپنے ہاتھوں سے کام لیا تھا جس کی وجہ سے ان کا ہاتھ شل ہوگیا تھا اور ان کے جسم میں ستر سے کچھ اوپر زخم آگئے تھے، اپنی طرف سے تو انہوں نے نذر پوری کر ہی دی اور شہید ہونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہ دوسری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی دی اور جنگ جمل کے موقع پر ٣٠ ہجری میں شہید ہوئے۔ صحابہ کرام کے دشمن ذرا غور تو کریں کہ انہوں نے کیسی کیسی قربانیاں دی ہیں ؟ (وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا) (اور بعض وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے کچھ بھی تبدیلی نہیں کی) یعنی جو حضرات ابھی زندہ ہیں اور شہادت کے منتظر ہیں اور اپنے عہد پر قائم ہیں اپنے عزم کو انہوں نے ذرا بھی نہیں بدلا،

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30:۔ من المومنین الخ، ایمان والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا پورا کر دکھایا اس سے وہ مخلصین مراد ہیں جو سوء اتفاق سے جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے بعد میں نادم ہوئے اور اللہ سے عہد کیا کہ اگر آئندہ کوئی جہاد کا موقع ہاتھ آیا تو وہ پورے استقلال کے ساتھ خون کے آخر قطرے تک لڑیں گے چناچہ جنگ احد اور غزوہ خندق میں ان مخلصین نے پوری جانثاری سے کام لیا۔ فمنہم من قضی الخ، ان مخلصین کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہو چناچہ ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جن کی خواہش پوری ہوگئی اور وہ غزوہ خندق میں شہید ہوگئے اور کچھ ایسے ہیں جو ابھی انتظار میں ہیں لیکن ان کے اخلاص اور جذبہ ایثار میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

23۔ انہی مومنین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا اس عہد کو پورا کردیا اور سچ کر دکھایا پھر بعض ن ان میں سے ایسے ہیں جو اپنے قول وقرار اور اپنی بات اور اپنا ذمہ پورا کرچکے اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے عہد میں اور اپنی بات میں ذرا سا تغیر و تبدل نہیں کیا ۔