Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 30

سورة الأحزاب

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۳۰﴾

O wives of the Prophet, whoever of you should commit a clear immorality - for her the punishment would be doubled two fold, and ever is that, for Allah , easy.

اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی ( کا ارتکاب ) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا اور اللہ تعالٰی کے نزدیک یہ بہت ہی سہل ( سی بات ) ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Wives of the Prophet are not like Other Women Allah says; يَا نِسَاء النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا O wives of the Prophet! Whoever of you commits an open Fahishah, the torment for her will be doubled, and that is ever easy for Allah. This Ayah is addressed to the wives of the Prophet who chose Allah and His Messenger and the Home of the Hereafter, and remained married to the Messenger of Allah. Thus it was befitting that there should be rulings which applied only to them, and not to other women, in the event that any of them should commit open Fahishah. Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said: "This means Nushuz (rebellion) and a bad attitude." Whatever the case, this is a conditional phrase and it does not imply that what is referred to would actually happen. This is like the Ayat: وَلَقَدْ أُوْحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَيِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ And indeed it has been revealed to you, as it was to those before you: "If you join others in worship with Allah, surely your deeds will be in vain." (39:65) وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ But if they had joined in worship others with Allah, all that they used to do would have been of no benefit to them. (6:88) قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـنِ وَلَدٌ فَأَنَاْ أَوَّلُ الْعَـبِدِينَ Say: "If the Most Gracious had a son, then I am the first of (Allah's) worshippers." (43:81) لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَأءُ سُبْحَـنَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ Had Allah willed to take a son, He could have chosen whom He willed out of those whom He created. But glory be to Him! He is Allah, the One, the Irresistible. (39:4) Because their status is so high, it is appropriate to state that the sin, if they were to commit it, would be so much worse, so as to protect them and their Hijab. Allah says: ... مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ... Whoever of you commits an open Fahishah, the torment for her will be doubled, Malik narrated from Zayd bin Aslam: يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ (the torment for her will be doubled), "In this world and the next." Something similar was narrated from Ibn Abi Najih, from Mujahid. ... وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا and that is ever easy for Allah. it is very easy indeed. Then Allah mentions His justice and His bounty, in the Ayah:

امہات المومنین سب سے معزز قرار دے دی گئیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے یعنی مومنوں کی ماؤں نے جب اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آخرت کے پہلے گھر کو پسند کر لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں وہ ہمیشہ کے لئے مقرر ہو چکیں ۔ تو اب جناب باری عز اسمہ اس آیت میں انہیں وعظ فرما رہا ہے اور بتلا دیا ہے کہ تمہارا معاملہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے ۔ اگر بالفرض تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے سرتابی اور بدخلقی سرزد ہوئی تو تمہیں دنیا اور آخرت میں عتاب ہوگا چونکہ تمہارے بڑے رتبے ہیں تمہیں گناہوں سے بالکل دور رہنا چاہئے ۔ ورنہ رتبے کے مطابق مشکل بھی بڑھ جائے گی ۔ اللہ پر سب باتیں سہل اور آسان ہیں ۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فرمان بطور شرط کے ہے اور شرط کا ہونا ضروری نہیں ہوتا جیسے فرمان ہے آیت ( لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65؀ ) 39- الزمر:65 ) اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں گے ۔ نبیوں کا ذکر کر کے فرمایا آیت ( وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 88؀ ) 6- الانعام:88 ) اگر یہ شرک کریں تو ان کی نیکیاں بیکار ہو جائیں اور آیت میں ہے ( قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ 81؀ ) 43- الزخرف:81 ) اگر رحمان کے اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے عابد ہوں اور آیت میں ارشاد ہو رہا ہے ( لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Ć۝ ) 39- الزمر:4 ) یعنی اگر اللہ کو اولاد منظور ہوتی تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا پسند فرما لیتا وہ پاک ہے وہ یکتا اور ایک ہے وہ غالب اور سب پر حکمران ہے پس ان پانچوں آیتوں میں شرط کے ساتھ بیان ہے لیکن ایسا ہوا نہیں ۔ نہ نبیوں سے شرک ہونا ممکن نہ سردار رسولاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ممکن ۔ نہ اللہ کی اولاد ۔ اسی طرح امہات المومنین کی نسبت بھی جو فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی کھلی لغو حرکت کرے تو اسے دگنی سزا ہوگی اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ واقعی ان میں سے کسی نے کوئی ایسی نافرمانی اور بدخلقی کی ہو ۔ نعوذ باللہ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

301قرآن میں الفَاحِشَۃُ (مُعَرَّف بلام) کو زنا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے لیکن فاحِشَۃ (نکرہ) کو برائی کے لئے، جیسے یہاں ہے۔ یہاں اس کے معنی بد اخلاقی اور نامناسب رویے کے ہیں۔ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بد اخلاقی اور نامناسب رویہ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذاء پہنچانا ہے جس کا ارتکاب کفر ہے۔ علاوہ ازیں ازواج مطہرات (رض) خود بھی مقام بلند کی حامل تھیں اور بلند مرتبہ لوگوں کی معمولی غلطیاں بڑی شمار ہوتی ہیں، اس لئے انھیں دوگنے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤٢] نبی کی بیویوں کا مقام :۔ نبی کی بیویوں کا مقام عام عورتوں سے بہت بلند ہے کیونکہ وہ امہات المومنین ہیں۔ جس طرح نبی کی ذات مومنوں کے لئے نمونہ ہے۔ اسی طرح نبی کا گھر اور اس کی بیویاں بھی سب کے لئے نمونہ ہیں۔ اگر نبی کی بیوی کوئی غلطی کرے گی تو اس کو اپنی ہی غلطی کی سزا نہیں ملے گی بلکہ اس کی اقتداء میں جو لوگ بھی وہ غلطی کریں گے ان سب کی سزا سے حصہ رسدی اسے بھی ملے گا۔ لہذا اس کی سزا عام لوگوں کی سزا سے دوگنی بلکہ بہت زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ اس آیت میں (بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ 19؀) 4 ۔ النسآء :19) سے مراد زنا ہے اور یہ بفرض تسلیم ہے جس طرح اللہ نے اپنے پیارے نبی کو فرمایا کہ اگر تم بھی شرک کرو تو تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں گے تو جس طرح آپ سے شرک کا صدور ممکن نہیں اسی طرح نبی کی بیویوں سے زنا کا ارتکاب ممکن نہیں۔ اور یہ انداز خطاب تاکید مزید کے طور پر اختیار کیا گیا ہے۔ [ ٤٣] یعنی اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھے گا کہ اگر تم کوئی برا کام کرو تو تمہیں نبی کی بیویاں سمجھ کر چھوڑ دیا جائے بلکہ عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہوگا کہ تمہیں دوسروں سے دگنی سزا دی جائے اور انللہ اس پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ ۔۔ : قاموس میں ہے : ” اَلْفَاحِشَۃُ الزِّنَا وَمَا یَشْتَدُّ قَبْحُہُ مِنَ الذُّنُوْبِ وَ کُلُّ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْہُ “ یعنی ” فاحشہ کا معنی ہے زنا اور وہ گناہ جو سخت قبیح ہوں اور ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ “ قرآن مجید میں ” اَلْفَاحِشَۃُ “ (خاص بےحیائی، معرف باللام) کا لفظ زنا کے لیے آیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَيْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ ۚ ) [ النساء : ١٥ ] ” اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار مرد گواہ طلب کرو۔ “ جبکہ ” فَاحِشَۃٌ“ (نکرہ) سے مراد کوئی بھی گناہ ہوتا ہے اور ” فَاحِشَۃٌ مُّبَیِِّنَۃٌ“ سے مراد فحش کلامی، بد خلقی، ایذا رسانی یا کوئی بھی علانیہ گناہ لیا گیا ہے، جس میں زنا بھی شامل ہے۔ دیکھیے سورة نساء (١٩) یہاں سے امہات المومنین کو ادب سکھانے کے لیے چند نصیحتیں کی گئیں ہیں، کیونکہ وہ امت کے لیے نمونہ ہیں۔ فرمایا، اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کھلی بےحیائی عمل میں لائے گی اس کا عذاب دگنا بڑھایا جائے گا، یعنی تم میں سے جو بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدخلقی یا فحش کلامی یا ایذا رسانی کا معاملہ کرے گی اسے دگنا عذاب دیا جائے گا، کیونکہ جس کا مقام جتنا بلند ہوتا ہے نافرمانی کی صورت میں اسے سزا بھی اتنی سخت ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کی طرف مائل ہونے کی صورت میں فرمایا : (اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ) [ بني إسرائیل : ٧٥ ] ” اس وقت ہم ضرور تجھے زندگی کے دگنے اور موت کے دگنے (عذاب) کا مزہ چکھاتے۔ “ الوسیط (للطنطاو ی) میں لکھا ہے : ” کسی نے حسین (رض) کے بیٹے علی زین العابدین سے کہا، تم اہل بیت تو بخشے بخشائے ہو۔ تو وہ غصے میں آگئے اور کہنے لگے کہ ہم پر تو وہ قانون زیادہ لاگو ہونا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں پر لاگو کیا کہ ہمارے برائی کرنے والے کو دگنا عذاب ہو اور ہمارے نیکی کرنے والے کو دگنا ثواب ہو۔ “ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں سے گناہ کے ارتکاب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی حرف آتا تھا اور یہ آپ کے لیے سخت تکلیف کا باعث ہوتا، جو عام مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے سے بڑا گناہ اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا باعث ہے، فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا ) [ الأحزاب : ٥٧ ] ” بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔ “ ” بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ “ کا لفظ نکرہ ہونے کی وجہ سے عام ہے، اس لیے اس سے بد خلقی، فحش کلامی کے علاوہ زنا بھی مراد ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں سوال اٹھتا ہے کہ معاذ اللہ، کیا ازواج مطہرات سے برائی کا اندیشہ تھا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ جملہ شرطیہ ہے، واقع میں ایسا ہونا ضروری نہیں، مقصود صرف ازواج مطہرات کے مرتبے کے پیش نظر ان کو گناہ کے ارتکاب کی صورت میں دگنے عذاب سے خبردار کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے بھی بڑے، بلکہ تمام گناہوں سے بڑے گناہ کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا : (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ) [ الزمر : ٦٥ ] ” اور بلاشبہ یقیناً تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقیناً تیرا عمل ضرور ضائع ہوجائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہوجائے گا۔ “ اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یا پہلے انبیاء سے شرک کے ارتکاب کا اندیشہ تھا۔ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا : یعنی تمہیں غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ تم نبی کی بیویاں ہو اور تم پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The particular position of the blessed wives and the rationale of hard restrictions placed on them يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرً‌ا ﴿٣٠﴾ وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَ‌هَا مَرَّ‌تَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِ‌زْقًا كَرِ‌يمًا ﴿٣١﴾ O wives of the Prophet, whoever from among you will commit a clearly shameful act, the punishment will be doubled for her. And it is easy for Allah to do so. [ 30] And whoever of you stays obedient to Allah and His messenger, and acts righteously, We shall give her twice her reward, and We have prepared for her a prestigious provision. [ 31] From the above verses we notice that the Qur&an mentions therein a particular position of the blessed wives: If they were to commit some sin, they will have to face a punishment which will be twice that of other women. In other words, one sin committed by them will be made to stand for two. Similarly, if they did good deeds, the reward given to them will also be twice that of other women - that is, one good deed done by them will stand for two. In a way, this verse is a recompense of what the blessed wives did at the time of the revelation of the Verse of Choice whereupon they chose to remain wedded to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and sacrificed whatever material benefits there were in doing otherwise. In return for this, Allah Ta’ ala gave one good deed done by them the status of two. As for the two-fold punishment in the event of some sin from them, that too came to be because of their special superiority and distinctive gentleness and because it stands proved both rationally and textually that Divine punishment for heedlessness and rebellion does increase in proportion to the honor and regard in which one is held. Certainly great are the blessings of Allah Ta’ ala upon the blessed wives. Allah Ta’ ala chose them to be the wives of His Rasul (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The Divine Revelation kept descending in their homes. Under such arrangements, is it not that the least error or shortcoming on their part would be nothing but big? And if, pain is caused to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at the hands of others, then, it would be far more severe in effect that some such occasion of pain or discomfort issues forth from their side. The very words of the Qur&an: وَاذْكُرْ‌نَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ (And be mindful of Allah&s verses and the wisdom that is recited in your homes) appearing in verse 34 point out to this reason. Special Note Looked at in terms of the Muslim community at large, this distinction of the blessed wives - that they receive a two-fold reward of their deed - does not make it necessary that no individual or group is not to be blessed with a two-fold reward for some distinction of theirs. For example, there is the case of those from among the people of the Book who embraced Islam. About them, it was said in the Qur&an: أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَ‌هُم مَّرَّ‌تَيْنِ (Such people will be given their reward twice - al-Qasas, 28:54). In the blessed letter the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) wrote to the Byzantine Emperor, it was because of this Qur&anic statement that he particularly wrote: یُوتِکَ اللہ ُ اَجرَکَ مَرَّتَینِ (you will be given your reward twice by Allah). As for the clarification of &giving a reward twice& to the people of the Book who embrace Islam, it is already present in the Qur&an. Then, there is yet another Hadith where a similar two-fold reward has been mentioned for three persons. Details about it appear in the commentary on Surah al-Qasas under the verse: يُؤْتَوْنَ أَجْرَ‌هُم مَّرَّ‌تَيْنِ (will be given their reward twice - 28:54) in Volume VI of Tafsir Ma’ ariful-Qur&an. The reward for the good deed of an ` Alim exceeds that of others, and the punishment of his sin too In Ahkam ul-Qur&an, Imam Abu Bakr al-Jassas (رح) has said: The reason for which Allah Ta’ ala has declared the reward of the good deed of the blessed wives to be two-fold and the punishment of their disobedience also to be two-fold - i.e. their being the special recipients of the prophetic knowledge and Divine revelation--- is also present there in the case of Muslim religious scholars (the ` ulama& of deen). Therefore, an ` Alim (Muslim religious scholar) whose practice is in accord with his &ilm (knowledge) will find the reward of that deed of his to be more than others. And if he were to commit some sin, the punishment too will be more than others. The word: فَاحِشَةٍ (fahishah) appearing in: بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ - 30) is used in the Arabic language for acts of shame as well as for disobedience and sin in an absolute sense. This word has been used in the Qur&an at many places. In this verse, this word cannot be taken to mean acts of shame because Allah Ta’ ala has kept the wives of all His prophets immune from this serious fault. None of the wives of the blessed prophets has ever committed any act of this nature. The wives of Sayyidna Lut (علیہ السلام) and Sayyidna Nuh (علیہ السلام) deviated from the faith preached by them, rebelled, and were punished for it. But, none of them was ever charged of committing an act of shame. As for the blessed wives of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، there was absolutely no probability that any such act of immodesty will ever issue forth from them. Therefore, the word: فَاحِشَةٍ fahishah in this verse means common sins or the causing of pain and discomfort to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Then the word: مُّبَيِّنَةٍ (mubayyinah: open, clear, manifest) used here along with فَاحِشَةٍ s an evidence in support, because acts of shamelessness are not &mubayyinah& ( clear, manifest) anywhere. That takes place secretly. So, the expression: فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ( clearly shameful act) means common sins, or the causing of pain to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Out of the Tafsir authorities, -Muqatil Ibn Sulaiman has declared that the sense of &shameful act& in this verse is either disobeying the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) or demanding something from him the fulfillment of which is hard on him. (Reported by al-Baihaqi in As-Sunan) It will be noticed that the two-fold punishment has been identified by the Qur&an only with &clearly shameful act&. But, for the two-fold reward, it has imposed several restrictions, as in: وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَ‌هَا مَرَّ‌تَيْنِ (And whoever of you stays obedient to Allah and His messenger, and acts righteously, We shall give her twice her reward-- 31). Here, qunut, that is, staying obedience to Allah and His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is a condition. Then, acting righteously is yet another condition. The reason is that reward comes only when obedience is perfect while, for punishment, even a single sin is enough.

ازواج مطہرات کی ایک خصوصیت اور اس کی وجہ سے ان پر کڑی پابندی : (آیت) ینساء النبی من یات منکن بفاحشة مبینة یضعف لہا العذاب ضعفین وکان ذلک علیٰ اللہ یسیراً ۔ ومن یقنت منکن للہ و رسولہ وتعمل صالحاً نوتہا اجرہا مرتین الایة) ان دو آیتوں میں ازواج مطہرات کی یہ خصوصیت بیان فرمائی ہے کہ اگر وہ کوئی گناہ کا کام کریں گی تو ان کو دوسری عورتوں کی نسبت سے دوگنا عذاب دیا جائے گا یعنی ان کا ایک گناہ دو کے قائم مقام قرار دیا جائے گا، اسی طرح اگر وہ نیک عمل کریں گی تو دوسری عورتوں کی نسبت ان کو ثواب بھی دوہرا دیا جائے گا، ان کا ایک نیک عمل دو کے قائم مقام ہوگا۔ یہ آیت ایک حیثیت سے ازواج مطہرات کے لئے ان کے اس عمل کی جزاء ہے جو انہوں نے آیت تخییر نازل ہونے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجیت پر دنیا کی فراخی کو قربان کردیا۔ اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایک عمل کو دو کا درجہ دے دیا، اور گناہ کی صورت میں دوہرا عذاب بھی ان کی خصوصی فضیلت اور امتیازی شرافت کی وجہ سے ہوا۔ کیونکہ یہ بات عقلی بھی ہے اور نقلی بھی کہ جتنا کسی کا اعزازو احترام ہوتا ہے اتنا ہی اس کی طرف سے غفلت و سرکشی کی سزا بھی بڑھ جاتی ہے۔ ازواج مطہرات پر حق تعالیٰ کے انعامات بڑے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زوجیت کے لئے انتخاب فرمایا۔ ان کے گھروں میں وحی الہٰی نازل ہوتی رہی تو ان کی ادنیٰ غلطی کوتاہی بھی بڑی ہوگی۔ اگر دوسروں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذاء پہنچے تو اس سے کہیں زیادہ اشد ہوگا کہ ان سے کوئی بات ایذاء و تکلیف کی سرزد ہو۔ قرآن کریم کے ان الفاظ میں خود اس سبب کی طرف اشارہ ہے۔ (آیت) واذکرن مایتلی فی بیوتکن۔ فائدہ : ازواج مطہرات کی یہ خصوصیت کہ ان کے عمل کو دوہرا ثواب ملے عام امت کے اعتبار سے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ امت میں کسی فرد یا جماعت کو کسی خصوصیت سے ایسا انعام نہ بخشا جائے کہ اس کو دوہرا ثواب ملے، چناچہ اہل کتاب میں سے جو لوگ مسلمان ہوگئے ان کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد ہے (آیت) اولئک یوتون اجرہم مرتین۔ اور قیصر روم کے نام جو نامہ مبارک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تحریر فرمایا اس میں اس ارشاد قرآنی کی وجہ سے آپ نے قیصر روم کو یہ لکھا کہ یوتک اللہ اجرک مرتین۔ اہل کتاب جو اسلام لے آئیں ان کے متعلق تو خود قرآن میں اجر مرتین کی تصریح ہے۔ اور ایک حدیث اور بھی ہے جس میں تین آدمیوں کے لئے اس طرح دوہرا اجر مذکور ہے اس کی تفصیل سورة قصص میں (آیت) یوتون اجرہم مرتین کے تحت میں لکھی گئی ہے۔ عالم کے عمل صالح کا ثواب بھی دوسروں سے زیادہ ہے اور اس کے گناہ کی سزا بھی زیادہ : امام ابوبکر جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ جب سبب سے حق تعالیٰ نے ازواج مطہرات کے عمل صالح کا ثواب دوگنا اور ان کی معصیت کا عذاب بھی دوگنا قرار دیا ہے، کہ وہ علوم نبوت اور وحی الہٰی کی خاص مورد ہیں، یہی سبب علماء دین میں بھی موجود ہے۔ اس لئے جو عالم اپنے علم پر عامل بھی ہے اس کو بھی اس عمل کا ثواب دوسروں سے زیادہ ملے گا، اور اگر وہ کوئی گناہ کرے گا تو عذاب بھی دوسروں سے زیادہ ہوگا۔ بفاحشة مبینة، لفظ فاحشہ عربی زبان میں بدکاری اور زنا وغیرہ کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اور مطلق معصیت اور گناہ کے لئے بھی یہ لفظ قرآن میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ اس آیت میں فاحشہ کے لفظ سے بدکاری اور زنا مراد نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سب پیغمبروں کو ازواج کو اس سخت عیب سے بری فرمایا ہے، تمام انبیاء (علیہم السلام) کی بیبیاں ان کے دین سے منحرف ہوئیں اور سرکشی اختیار کی جس کی سزا ان کو ملی، لیکن بدکاری کا الزام ان میں بھی کسی پر نہیں تھا۔ ازواج مطہرات میں سے کسی بےحیائی و بدکاری کے صدور کا تو احتمال ہی نہ تھا۔ اس لئے اس آیت میں فاحشہ سے مراد عام گناہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذاء و تکلیف ہے۔ اور اس جگہ فاحشہ کے ساتھ جو لفظ مبینہ آیا ہے یہ اس پر شاید ہے۔ کیونکہ بےحیائی اور بدکاری کہیں بھی مبینہ نہیں ہوتی، وہ تو پردوں میں اخفاء سے کی جاتی ہے۔ فاحشہ مبینہ سے مراد عام گناہ ہیں، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذاء ؟ آئمہ تفسیر میں سے مقاتل بن سلیمان نے اس آیت میں فاحشہ کا مفہوم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی یا آپ سے کوئی ایسا مطالبہ قرار دیا ہے جس کا پورا کرنا آپ کے لئے شاق ہو۔ (رواہ البیہقی فی السنن) اور قرآن کریم نے دوہرے عذاب کے سلسلہ میں تو صرف فاحشہ مبینہ پر یہ عذاب مرتب کیا ہے، مگر دوہرے اجر وثواب کے لئے کئی شرطیں رکھی ہیں ومن یقنت منکن للہ و رسولہ وتعمل صالحاً ، اس میں قنوت یعنی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی شرط ہے، پھر عمل صالح شرط ہے۔ سبب یہ ہے کہ اجر وثواب تو اسی وقت ملتا ہے جب اطاعت مکمل ہو اور سزا کے لئے ایک گناہ بھی کافی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَيِّنَۃٍ يُّضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ۝ ٠ ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرًا۝ ٣٠ نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کا ٹ لئے تھے ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7» فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) «1» فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ فحش الفُحْشُ والفَحْشَاءُ والفَاحِشَةُ : ما عظم قبحه من الأفعال والأقوال، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ [ الأعراف/ 28] ( ف ح ش ) الفحش والفحشاء والفاحشۃ اس قول یا فعل کو کہتے ہیں جو قباحت میں حد سے بڑھا ہوا ہو ۔ قرآن میں ہے : إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ [ الأعراف/ 28] کہ خدا بےحیائی کے کام کرنے کا حکم ہر گز نہیں دیتا ۔ ضعف ( دوگنا) ضِّعْفُ هو من الألفاظ المتضایفة التي يقتضي وجود أحدهما وجود الآخر، کالنّصف والزّوج، وهو تركّب قدرین متساويين، ويختصّ بالعدد، فإذا قيل : أَضْعَفْتُ الشیءَ ، وضَعَّفْتُهُ ، وضَاعَفْتُهُ : ضممت إليه مثله فصاعدا . قال بعضهم : ضَاعَفْتُ أبلغ من ضَعَّفْتُ «1» ، ولهذا قرأ أكثرهم : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ، وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] ، وقال : مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها [ الأنعام/ 160] ، والمُضَاعَفَةُ علی قضيّة هذا القول تقتضي أن يكون عشر أمثالها، وقیل : ضَعَفْتُهُ بالتّخفیف ضَعْفاً ، فهو مَضْعُوفٌ ، فَالضَّعْفُ مصدرٌ ، والضِّعْفُ اسمٌ ، کا لثَّنْيِ والثِّنْيِ ، فَضِعْفُ الشیءِ هو الّذي يُثَنِّيهِ ، ومتی أضيف إلى عدد اقتضی ذلک العدد ومثله، نحو أن يقال : ضِعْفُ العشرةِ ، وضِعْفُ المائةِ ، فذلک عشرون ومائتان بلا خلاف، وعلی هذا قول الشاعر : 293- جزیتک ضِعْفَ الوِدِّ لمّا اشتکيته ... وما إن جزاک الضِّعف من أحد قبلي «3» وإذا قيل : أعطه ضِعْفَيْ واحدٍ ، فإنّ ذلک اقتضی الواحد ومثليه، وذلک ثلاثة، لأن معناه الواحد واللّذان يزاوجانه وذلک ثلاثة، هذا إذا کان الضِّعْفُ مضافا، فأمّا إذا لم يكن مضافا فقلت : الضِّعْفَيْنِ فإنّ ذلك يجري مجری الزّوجین في أنّ كلّ واحد منهما يزاوج الآخر، فيقتضي ذلک اثنین، لأنّ كلّ واحد منهما يُضَاعِفُ الآخرَ ، فلا يخرجان عن الاثنین بخلاف ما إذا أضيف الضِّعْفَانِ إلى واحد فيثلّثهما، نحو : ضِعْفَيِ الواحدِ ، وقوله : فَأُولئِكَ لَهُمْ جَزاءُ الضِّعْفِ [ سبأ/ 37] ، وقوله : لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً [ آل عمران/ 130] ، فقد قيل : أتى باللّفظین علی التأكيد، وقیل : بل المُضَاعَفَةُ من الضَّعْفِ لا من الضِّعْفِ ، والمعنی: ما يعدّونه ضِعْفاً فهو ضَعْفٌ ، أي : نقص، کقوله : وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ [ الروم/ 39] ، وکقوله : يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] ، وهذا المعنی أخذه الشاعر فقال : زيادة شيب وهي نقص زيادتي وقوله : فَآتِهِمْ عَذاباً ضِعْفاً مِنَ النَّارِ [ الأعراف/ 38] ، فإنهم سألوه أن يعذّبهم عذابا بضلالهم، وعذابا بإضلالهم كما أشار إليه بقوله : لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً يَوْمَ الْقِيامَةِ وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ [ النحل/ 25] ، وقوله : لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلكِنْ لا تَعْلَمُونَ [ الأعراف/ 38] ، أي : لكلّ منهم ضِعْفُ ما لکم من العذاب، وقیل : أي : لكلّ منهم ومنکم ضِعْفُ ما يرى الآخر، فإنّ من العذاب ظاهرا و باطنا، وكلّ يدرک من الآخر الظاهر دون الباطن فيقدّر أن ليس له العذاب الباطن . ( ض ع ف ) الضعف الضعف ۔ یہ اسمائے متضایقہ سے ہے یعنی وہ الفاظ جو اپنے مفہوم ومعنی کے تحقیق میں ایک دوسرے پر موقوف ہوتے ہیں جیسے نصف وزوج اور ضعف ( دوگنا) کے معنی ہیں ایک چیز کے ساتھ اس کے مثل کامل جانا اور یہ اسم عدد کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور اضعفت الشئی وضعتہ وضاعفتہ کے معنی ہیں کسی چیز کو دو چند کردینا بعض نے کہا ہے کہ ضاعفت ( مفاعلۃ ) میں ضعفت ( تفعیل ) سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے آیت کریمہ : ۔ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ان کو دگنی سزادی جائے گی ۔ اور آیت : ۔ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] اور اگر نیکی ( رکی ) ہوگی تو اس کو دو چند کر دیگا ۔ میں یضاعف ( مفاعلۃ پڑھا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نیکیوں کے دس گناہ ہونے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ آیت : ۔ مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها [ الأنعام/ 160] سے معلوم ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ضعفتہ ضعفا فھوا مضعوف ۔ تخفیف عین کے ساتھ آتا ہے اس صورت میں ضعف مصدر ہوگا اور ضعف اسم جیسا کہ شئی اور شئی ہے اس اعتبار سے ضعف الشئی کے معنی ہیں کسی چیز کی مثل اتنا ہی اور جس سے وہ چیز دوگنی ہوجائے اور جب اس کی اضافت اسم عدد کی طرف ہو تو اس سے اتنا ہی اور عدد یعنی چند مراد ہوتا ہے لہذا ضعف العشرۃ اور ضعف المابۃ کے معنی بلا اختلاف بیس اور دو سو کے ہوں گے چناچہ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) جز نیتک ضعف الواد لما اشتیتہ وما ان جزاک الضعف من احد قبلی جب تونے محبت کے بارے میں شکایت کی تو میں نے تمہیں دوستی کا دو چند بدلہ دیا اور مجھ سے پہلے کسی نے تمہیں دو چند بد لہ نہیں دیا ۔ اور اعطہ ضعفی واحد کے معنی یہ ہیں کہ اسے سر چند دے دو کیونکہ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہا یک اور اس کے ساتھ دو اور دے دو اور یہ کل تین ہوجاتے ہیں مگر یہ معنی اس صورت میں ہوں گے جب ضعف کا لفظ مضاعف ہو ورنہ بدوں اضافت کے ضعفین کے معنی تو زوجین کی طرح دوگنا ہی ہوں گے ۔ لیکن جب واحد کی طرف مضاف ہوکر آئے تو تین گنا کے معنی ہوتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَأُولئِكَ لَهُمْ جَزاءُ الضِّعْفِ [ سبأ/ 37] ایسے لوگوں کو دوگنا بدلہ ملے گا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَآتِهِمْ عَذاباً ضِعْفاً مِنَ النَّارِ [ الأعراف/ 38] تو ان کی آتش جہنم کا دوگنا عذاب دے ۔ میں دوگنا عذاب مراد ہے یعنی دوزخی بار تعالٰ سے مطالیہ کریں گے کہ جن لوگوں نے ہمیں کمراہ کیا تھا انہیں ہم سے دو گناہ عذاب دیا جائے گا ایک تو انکے خود گمراہ ہونے کا اور دوسرے ، ہمیں گمراہ کرنے کا جیسا کہ آیت کریمہ : لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً يَوْمَ الْقِيامَةِ وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ [ النحل/ 25] یہ قیامت کے ادن اپنے اعمال کے پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے ۔ سے مفہوم ہوتا ہے ۔ پھر اس کے بعد لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلكِنْ لا تَعْلَمُونَ [ الأعراف/ 38] کہہ کر بتایا کہ ان میں سے ہر ایک کو تم سے دگنا عذاب دیا جائے گا ۔ بعض نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ تم اور ان میں سے ہر ایک کو اس سے دگنا عذاب ہور ہا ہے جتنا کہ دوسرے کو نظر آرہا ہے ۔ کیونکہ عذاب دو قسم پر ہے ظاہری اور باطنی ، ظاہری عذاب تو ایک دوسرے کو نظر آئے گا مگر باطنی عذاب کا ادراک نہیں کرسکیں گے اور سمجھیں گے کہ انہی اندرونی طور پر کچھ بھی عذاب نہیں ہورہا ہے ( حالانکہ وہ باطنی عذاب میں بھی مبتلا ہوں گے ۔ اور آیت ؛لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً [ آل عمران/ 130] بڑھ چڑھ کر سود در سود نہ کھاؤ ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اضعافا کے بعد مضاعفۃ کا لفظ بطور تاکید لایا گیا ہے مگر بعض نے کہا ہے کہ مضاعفۃ کا لفظ ضعف ( بفتح الضاد ) سے ہے جس کے معنی کمی کے ہیں پس آیت کے معنی یہ ہیں کہ سود جسے تم افزونی اور بیشی سمجھ رہے ہو یہ ، دراصل بڑھانا نہیں ہے بلکہ کم کرنا ہے جیسے فرمایا : يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] کہ اللہ تعالیٰ سود کو کم کرتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی کے پیش نظر شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) (286) زیادۃ شیب وھی نقض زیادتی کہ بڑھاپے کی افرزونی دراصل عمر کی کمی ہے عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا يسير واليَسِيرُ والمَيْسُورُ : السّهلُ ، قال تعالی: فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً [ الإسراء/ 28] واليَسِيرُ يقال في الشیء القلیل، فعلی الأوّل يحمل قوله : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَكانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً [ الأحزاب/ 30] ، وقوله : إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] . وعلی الثاني يحمل قوله : وَما تَلَبَّثُوا بِها إِلَّا يَسِيراً [ الأحزاب/ 14] الیسیر والمیسور سہل اور آسان قرآن میں ہے : ۔ فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً [ الإسراء/ 28] تو ان سے نر می سے بات کہدیا کرو ۔ اور کبھی یسیر کے معنی حقیر چیز بھی آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَكانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً [ الأحزاب/ 30] اس کو دونی سزا دی جائیگی اور یہ بات خدا کو آسان ہے میں لفظ یسیرا کے معنی آسان اور سہل کے ہیں اور آیت وما تَلَبَّثُوا بِها إِلَّا يَسِيراً [ الأحزاب/ 14] اور اس کے لئے بہت کم توقف کریں میں اس کے معنی بہت کم عرصہ کے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

مرتبہ کے لحاظ سے جزاوسزا ہے قول باری ہے (یا نساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضاعف لھا العذاب ضعفین) اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی اسے دہری سزا دی جائے گی۔ دہری سزا دینے کے دو مفہوم بیان ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ازواج مطہرات پر دوسری عورتوں کی بہ نسبت اللہ کا زیادہ فضل و انعام تھا، انہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں ہونے کا شرف حاصل تھا، ان کے گھروں میں نزول وحی کا سلسلہ رہتا تھا اور اس کی بنا پر انہیں ایک فضیلت حاصل تھی۔ اس صورت حال کے تحت اگر ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی ناشکری کا اظہار ہوتا تو یہ بات ان کی سزا کی تضعیف کا سبب بن جاتی۔ اس لئے کہ نعمت جس قدر عظیم ہوتی ہے اس کی ناشکری بھی اتنی ہی سنگین ہوتی ہے اور اس بنا پر یہ ناشکرا شخص اتنی ہی زیادہ سزا کا مستحق قرار پاتا ہے، کیونکہ سزا کا استحقان کفر ان نعمت کی سنگینی پر مترتب ہوتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو طمانچہ ماردیتا ہے تو اس صورت میں جس سزا کا وہ مستحق بن جاتا ہے وہ اس سزا سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے جو اسے کسی اجنبی کو طمانچہ مارنے کی صورت میں ملتی ہے اس لئے کہ اس پر اجنبی کے مقابلہ میں اس کے باپ کا احسان زیادہ ہوتا ہے اس لئے اس احسان ناشناسی کی سزا بھی بڑھ کر ہوتی ہے۔ آیت کی اس تاویل پر سلسلہ تلاوت میں یہ قول باری دلالت کرتا ہے (واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایات اللہ والحکمۃ۔ اور تم اللہ کی ان آیتوں اور اس علم کو یادرکھو جو تمہارے گھروں میں پڑھ کر سنائے جاتے رہتے ہیں) یہ بات اس پر دلالت کتری ہے کہ معصیت کی بنا پر ان کی سزا میں تضعیف کی وجہ یہ ہے کہ ان کے گھروں میں اللہ کی آیات کی تلاوت ہوتی رہتی ہے جو ان پر اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے۔ اسی بنا پر ان کی طاعات کا درجہ بھی بہت بلند ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے (ومن یقنت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالحا نو تھا اجرھا مرتین) اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور عمل صالح کرتی رہے گی ہم اس کا اجر دہرادیں گے) اس لئے کہ طاعت کی بنا پر اجر کا استحقاق معصیت کی بنا پر سزا کے استحقاق کے بالمقابل ہوتا ہے۔ دہری سزا دینے کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ازواج مطہرات کی طرف سے معصیت کے ارتکاب کی صورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت ہوتی کیونکہ یہ چیز آپ کی بدنامی اور رنج وغم کا سبب بن جاتی۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچانے کا جرم دوسروں کو تکلیف پہنچانے کے جرم سے زیادہ سنگین ہوتی ہے۔ ارشاد باری ہے (ان الذین یوذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے رہتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ لعنت کرتا ہے) پھر ارشاد ہوا (والذین یوذون المومنین والمومنات بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ایذا پہنچاتے رہتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو وہ بہتان اور صریح گناہ کا بار اپنے اوپر لیتے ہیں) جب اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کی طاعات کا درجہ بلند کرکے ان کے لئے دہرا اجر واجب کردیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اہل علم عامل کا اجر ، غیر اہل علم، عامل کے اجر سے افضل واعظم ہوگا۔ قول باری (واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایات اللہ والحکمۃ) کی اس پر دلالت ہورہی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے نبی کی بیوی جو کوئی تم میں سے کھلی ہوئی بےہودگی کرے گی تو تمہیں دوہری یعنی جلد اور رجم دونوں سزائیں دی جائیں گی اور یہ سزا دینا اللہ تعالیٰ کو آسان ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ { یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ } ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی (بالفرض) کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔ “ { وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا } ” اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ “ یہ نہ سمجھنا کہ آپ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں ہو اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو بچا لیں گے۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کا قانون بہت واضح ہے کہ اگر کسی شخص کے اپنے اعمال درست نہ ہوں تو آخرت میں اسے کوئی دوسرا نہیں بچا سکے گا۔ اس حوالے سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا ذکر قرآن میں کثرت سے آیا ہے۔ سورة التحریم میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے ساتھ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا ذکر بھی ہے کہ وہ دونوں انبیاء کی بیویاں ہوتے ہوئے بھی عذاب سے نہ بچ سکیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت { وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔ (الشعراء) نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے تمام خاص و عام کو بلا کر جمع فرمایا اور ایک ایک قبیلے کا نام لے کر اس کے افراد کو مخاطب فرمایا : (یا بنی کعب بن لوی !… یا بنی مُرۃ بن کعب !… یا بنی عبد شمس !… یا بنی عبد مناف !… یا بنی ہاشم !… یا بنی عبدالمطلب ! ) اور ہر ایک کو یہی فرمایا : (اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ ) ” اپنے آپ کو آگ سے بچائو ! “ آخر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی پیاری بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہراء (رض) کو مخاطب کرتے ہوئے بھی یہی فرمایا : (یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ ، فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَـکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا) ” اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ ! اپنے آپ کو آگ سے بچائو ! اس لیے کہ میں تم لوگوں کو اللہ کی گرفت سے بچانے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا۔ “ (صحیح مسلم ‘ ح : ٢٠٤) دوسری روایت کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خاندان کے افراد کو بھی نام لے لے کر مخاطب فرمایا : (یَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ! لَا اُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ! لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ! سَلِینِیْ بِمَا شِئْتِ ، لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا) (صحیح مسلم ‘ ح : ٢٠٦) ” اے (میرے چچا) عباس بن عبدالمطلب ! میں اللہ کے محاسبے کے وقت آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ ! میں اللہ کے محاسبے کے وقت آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ ! مجھ سے جو چاہو مانگ لو ‘ لیکن میں اللہ کے محاسبے کے وقت تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ “ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ آیت قرآنی کے الفاظ کا یہ مطلب نہیں کہ ‘ معاذ اللہ ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواجِ مطہرات سے کسی بےحیائی کا اندیشہ تھا ‘ بلکہ اس سے مقصود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کو یہ احساس دلانا تھا کہ اسلامی معاشرے میں ان کا مقام جس قدر بلند ہے اسی کے لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت سخت ہیں ‘ اس لیے ان کا اخلاقی رویہ انتہائی پاکیزہ ہونا چاہیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

43 This does not mean that three was, God forbid, any chance of the Holy Prophet's wives committing an indecency, but this was meant to make them realize that they were the mothers of the Muslims; therefore, their responsibilities were accordingly very high, and so their moral conduct should be the purest. This is ,just like Allah's addressing the Holy Prophet to the effect: "If you committed shirk, all your works would be rendered vain." (Az-Zumar: 65). This also does not mean that there was, God forbid, any chance of the Holy Prophet's committing shirk, but this is meant to make the Holy Prophet realize, and through him the common Muslims, that shirk, is a most heinous crime which must be guarded against most judiciously. 44 That is, "You should not be under the delusion that your being the Prophet's wives will protect you from Allah's punishment, or that it will be difficult for Allah to call you to account on account of your high rank and position in the world."

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :43 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے کسی فحش حرکت کا اندیشہ تھا ۔ بلکہ اس سے مقصود حضور کی ازواج کو یہ احساس دلانا تھا کہ اسلامی معاشرے میں ان کا مقام جس قدر بلند ہے اسی کے لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت سخت ہیں ، اس لیے ان کا اخلاقی رویہ انتہائی پاکیزہ ہونا چاہیے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لِئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ ، اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا سب کیا کرایا برباد ہو جائے گا ( الزمر ۔ آیت ٦۵ ) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ حضور سے شرک کا کوئی اندیشہ تھا ، بلکہ اس سے مقصود حضور کو اور آپ کے واسطہ سے عام انسانوں کو یہ احساس دلانا تھا کہ شرک کتنا خطرناک جرم ہے جس سے سخت احتراز لازم ہے ۔ سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :44 یعنی تم اس بھلاوے میں نہ رہنا کہ نبی کی بیویاں ہونا تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا سکتا ہے ، یا تمہارے مرتبے کچھ ایسے بلند ہیں کہ ان کی وجہ سے تمہیں پکڑنے میں اللہ کو کوئی دشواری پیش آ سکتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33) 30) ینساء النبی یا حرف نداء نساء النبی مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ اے بنی کی بیبیو ! بیویو ! من شرطیہ ہے۔ جو کوئی۔ یات مضارع واحد مذکر غائب اثیان (باب ضرب) مصدر۔ یہ اصل میں یاتی تھا۔ شرط میں واقع ہونے کی وجہ سے یا حذف ہوگئی۔ یہ فعل لازم ہے بمعنی آتا ہے یا آئے گا۔ لیکن اگر اس کے بعد مفعول پر ب ہو تو متعدی ہوگا۔ اور بمعنی لاتا ہے یا لائے گا ہوگا : من یات بفاحشۃ جس کسی نے بےہودگی کا ارتکاب گیا۔ منکن میں من تبعیض کے لئے ہے کن ضمیر جمع مؤنث حاضر۔ تم عورتوں میں سے ۔ فاحشۃ مبینۃ ۔ موصوف و صفت۔ کھلی بےہودگی۔ حالت جر بوجہ عمل باء حرف جار۔ یضعف۔ مضاف مجہول مجزوم بوجہ شرط واحد مذکر غائب کا صیغہ ۔ دوگنا کیا جائے گا۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ ضعف مادہ۔ لہا میں ہا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔ ضعفین۔ دو چند۔ دوگنا۔ ضعف کا تثنیہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 کیونکہ جس کا جتنا مقام بلند ہوتا ہے نافرمانی کی صورت میں اسے سزا بھی اتنی ہی سخت ملتی ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ” لا دذقناک ضعف الحیاۃ “ ( کذافی الموضح) اس کا یہ مطلب نہیں کہ ” ازواج (رض) مطہرات “ سے نعوذ باللہ برائی کے ارتکاب کا اندیشہ تھا۔ یہ جملہ شرطیہ ہے جس کا تحقیق ضروری نہیں، جیسے فرمایا ( لئن اشرکت لیحبطن عملک) (زمر : 65) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ کسی نبی کی بیوی نے زنا کا ارتکاب نہیں کیا، ہاں ایمان و اطاعت میں خیانت کی ہے۔ ( دیکھئے تحریم : 10) بعض نے کہا کہ یہاں ” فاحشۃ سے مراد نشوز اور بد سلوکی ہے۔ دراصل اس سے لزواج (رض) مطہرات کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ تمہارا مقام بہت بلند ہے اور دوسری عورتوں کی نیست تمہاری ذمہ داری بھی بہت بڑھ گئی ہے لہٰذا تمہارا اخلاقی رویہ پاکیزہ ہونا چاہیے کہ دوسروں کیلئے اسوہ بنے۔ (قرطبی)8 یعنی تمہیں غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ تم نبی کی بیویاں (رض) ہو اور تم پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مراد اس سے وہ معاملہ ہے جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنگ اور پریشان ہوں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کی ازواج کا کردار بھی امت کی عورتوں کے لیے نمونہ قرار دیا۔ اس لیے آپ کی ازواج کو حکم ہوا۔ سادگی اور شرم وحیاء کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام عام عورتوں جیسا نہیں وہ تو امہات المومنین ہیں اس لحاظ سے امّہات المؤمنین تمام عورتوں سے افضل اور اعلیٰ ہیں لہٰذا ان کا کردار بھی اعلی ہونا چاہیے تھا۔ یہاں یہ مفہوم لینے کی ہرگز اجازت نہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی بیوی سے کردار اور حیا کے حوالے سے کسی گراوٹ کا خدشہ تھا ایسا سوچنا بھی گناہ ہے۔ بتلانا مقصودیہ ہے کہ جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کو سادگی میں مسلمان عورتوں کے لیے نمونہ بننا ہے اسی طرح انہیں کردار اور حیا میں بھی نمونہ بننا ہے کیونکہ اولاد اپنی ماں سے زیادہ متاثر ہوتی ہے بالخصوص بیٹیاں ماں کے نقش قدم پر چلتی ہیں اس لیے امّہات المؤمنین کو اپنی روحانی اولاد کے لیے نمونہ بننا چاہیے اس کے ساتھ یہ بھی بیان کردیا گیا کہ اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج سے کسی اخلاقی گرواٹ کا اظہار ہوگا تو انہیں سزا بھی دوگنی ہوگی انہیں عذاب دینا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں جس کا معنٰی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور حرمت تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا نہیں سکے گی۔ اس سے یہ مسئلہ خود بخود نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کی حرمت اور واسطے کا کوئی بوجھ نہیں ہے۔ ہاں ازواج مطہرات میں سے جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تابعداری اور نیک عمل کرے گی ان کے لیے اجر بھی دوگنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بہترین رزق تیار کر رکھا ہے اس فرمان میں یہ اصول اشارتاً بتلایا گیا ہے کہ معاشرے کے بڑے لوگ اور قوموں کے راہنماؤں کی وجہ سے لوگ بگڑتے اور سنورتے ہیں۔ اس لیے انہیں اپنی اور دوسروں کی سزا بھی بھگتنا پڑے گی اگر یہ نیک ہوں گے تو ان کی وجہ سے لوگوں میں سنوار پیدا ہوگا ہے لہٰذا انہیں اجر بھی دوگنا دیا جائے گا اس میں ماں، باپ، استاد اور مذہبی رہنما بھی شامل ہیں۔ اسی بات کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انے یک خط میں یوں تحریر فرمایا تھا۔ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خط کا اقتباس : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح حدیبیہ کے بعد دنیا کے اکثر حکمرانوں کو خطوط لکھے جن میں انہیں اسلام کی دعوت دی۔ ان میں ایک خط روم کے بادشاہ ہرقل کو لکھا جس میں اسلام کی دعوت دینے کے بعد تحریر کروایا کہ اگر تو مسلمان نہ ہوا تو (فَإِنِّیْ أَدْعُوْکَ بِدِعَایَۃِ الْإِسْلاَمِ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، وَأَسْلِمْ یُؤْتِکَ اللَّہُ أَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ ، فَإِنْ تَوَلَّیْتَ فَعَلَیْکَ إِثْمُ الأَرِیسِیِّیْنَ ) [ رواہ البخاری : باب دُعَاء النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلَی الإِسْلاَمِ وَالنُّبُوَّۃِ ] ” میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول کرلو تو سلامت رہو گے اور اللہ تعالیٰ تجھے دوہرا اجر عطاکرے گا۔ اگر تو نے اعراض کیا تو تیری رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا۔ “ روم کی اکثر آبادی کسان پیشہ تھی اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہرقل کی عوام کے لیے ” اَلْاَرِیْسِیِّیْنَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مسائل ١۔ بڑے لوگوں کو دوگنا عذاب ہوگا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بڑے کو عذاب دینا مشکل نہیں۔ ٣۔ جو بڑے لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تابعداری کریں گے انہیں دوگنے اجر سے نوازا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن بڑے مجرموں کو دوگنا عذاب ہوگا : ١۔ جہنم میں داخل ہونے والے اپنے سے پہلوں کو دیکھ کر کہیں گے۔ ہمیں گمراہ کرنے والے یہی لوگ تھے انہیں دوگنا عذاب دیا جائے اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دوگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ (الاعراف : ٣٨۔ ٣٩) ٢۔ اے ہمارے پروردگار ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو لعنت سے دوچار کر۔ (الاحزاب : ٦٨) ٣۔ انہیں دنیا اور آخرت میں دوہرا عذاب ہوگا۔ (بنی اسرائیل : ٧٥) ٤۔ مجرموں کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب کے سوا کچھ نہیں۔ ( البقرۃ : ٨٥) ٣۔ کفار کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں برا عذاب ہے۔ (البقرۃ : ١١٤) ٤۔ کافروں کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ (المائدۃ : ٤١) ٥۔ کفار کے لیے دنیا میں ذلت و رسوائی ہے اللہ قیامت کو سخت عذاب چکھائے گا۔ (الحج : ٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ینسآء النبی من یات ۔۔۔۔۔۔ لھا رزقا کریما (30 – 31) ” “۔ یہ اس بلند مقام کا تقاضا ہے جس پر وہ فائز ہیں۔ وہ سرور دو عالم کی بیویاں ہیں۔ ان کو امہات المومنین کا مرتبہ دیا گیا ہے اور یہ دونوں اعزاز ان پر بہت ہی بھاری ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ ان کا پہلا تقاضا ہے کہ تم تمام فاحشات سے مکمل اجتناب کرو ، اگر بغرض محال ان میں سے کسی نے بھی فحاشی کا ارتکاب کیا تو اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا اور اس فرضی دھمکی کے ذریعے دراصل بتانا یہ مقصود ہے کہ وہ کس قدر بلند مقام پر فائز ہیں اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا (33: 30) ” اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے “۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں ہونے کے باوجود بھی اللہ کو کوئی نہیں روک سکتا کہ تمہیں سزا نہ دے۔ ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ رسول مختار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کو سزا دینے میں شاید کوئی رکاوٹ ہو ، اس لیے تردید کردی گئی۔ ومن یقنت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالحا (33: 31) ” اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرے گی اور نیک کام کرے گی “۔ قنوت کے معنی طاعت اور خضوع و خشوع ہیں اور عمل صالح قنوت کا صحیح ترجمہ ہے۔ نو تھا اجرھا مرتین (33: 31) ” تو اس کو ہم دہرا اجر دیں گے “۔ جس طرح ان میں سے اگر کوئی فحاشی کا ارتکاب کرے تو سزا دگنی ہوگی۔ واعتدنا لھا رزقا کریما (33: 31) ” اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے “۔ وہ حاضر ہے ، تیار ہے ، دوگنے اجر کے بعد رزق کریم مزید ہے ، یہ اللہ کا فضل و کرم ہوگا۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ نبی کی ازواج مطہرات عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں لہٰذا لوگوں کے حوالے سے بھی ان کے کچھ فرائض ہیں اور اللہ کی بندگی کرنے میں بھی ان کے کچھ فرائض ہیں۔ گھروں میں بھی ان کے فرائض ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس عظیم گھرا نے کا نگہبان اللہ خود ہے۔ اللہ اس گھرانے کی زندگی کو پاک و صاف کرنا چاہتا ہے۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے گھروں کے اندر جس حکمت اور آیات الہیہ کا نزول ہو رہا ہے اس کے حوالے سے تم پر خاص ذمہ داریاں ہیں اور یہ گھریلو ماحول تمہیں تمام جہان کی ازواج اور عورتوں سے ممتاز کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دوہرے عذاب وثواب کا استحقاق تخییر کا مضمون بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : (یٰنِسَآء النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ) (الآیۃ) (اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو عورت واضح طور پر کسی معصیت کا ارتکاب کرے گی تو اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے) ” واضح طور پر معصیت “ یہ لفظ (بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ) کا ترجمہ ہے۔ صاحب بیان القرآن نے اس کا ترجمہ کھلی ہوئی بیہودگی کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے وہ معاملہ مراد ہے جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنگ اور پریشان ہوں۔ صاحب المعالم التنزیل نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس کا یہی مطلب نقل کیا ہے، (فقال المراد بالفاحشۃ النشور وسوء الخلق) صاحب روح المعانی نے بھی بعض حضرات سے یہی تفسیر نقل کی ہے، (فقال وقیل : ذلک طلبھن ما یشق علیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) او ما یضیق بہ ذرعہ ویغتم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لاجلہ) (یعنی فاحشتہ سے یہ مراد ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی چیزیں طلب کی جائیں جس سے آپ تنگ دل ہوں اور آپ کو گھٹن محسوس ہو۔ اور بعض حضرات نے (بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ) کا ترجمہ (مَعْصِیَۃٍ ظَاھِرَۃٍ ) کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ علی السبیل الفرض ہے کما فی قولہ تعالیٰ (لَءِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ ) یہ دوہرا عذاب دئیے جانے کی وعید اس لیے ہے کہ جن کے مرتبہ بلند ہوتے ہیں ان کا مواخذہ زیادہ ہوتا ہے اسی طرح حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) پر بعض ان چیزوں پر عتاب ہوا جن پر دوسرے مومنین پر عتاب نہیں ہوتا۔ ایک جاہل شخص ایک عمل کرے اور کوئی عالم شخص اس عمل کو کرلے تو اس عالم کا مواخذہ جاہل کے مواخذہ سے زیادہ ہوتا ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام زین العابدین (رح) سے کہہ دیا کہ آپ تو اہل بیت کے فرد ہیں جو بخشے بخشائے ہیں، اس پر وہ غصہ ہونے لگے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے ہم اپنے کو اسی کا مستحق سمجھتے ہیں ہم میں سے جو محصن ہیں ان کے لیے دوہرے اجر کی امید رکھتے ہیں اور ہم میں سے جو شخص کوئی گناہ کرے اس کے لیے دوہرے عذاب کا اندیشہ رکھتے ہیں، اس کے بعد انہوں نے آیت کریمہ (یٰنِسَآء النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ ) اور اس کے بعد والی آیت (وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ ) تلاوت فرمائی۔ (روح المعانی جلد ٢١: ص ١٨٤)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

34:۔ ینساء النبی الخ، یہ ازواج مطہرات سے پہلا خطاب ہے۔ فاحشۃ مبینۃ سے نشوز، خاوند کی نافرمانی اور آپ کو تنگ کرنا مراد ہے۔ ینبغی ان تحمل الفاحشۃ علی حقوق الزوج و فساد عشرتہ (بحر ج 7 ص 228) ۔ اے ازواج نبی اگر تم میں سے کوئی پیغمبر (علیہ السلام) کی نافرمانی کرے گی۔ یا اپنی زبان سے آپ کو ایذا دے گی۔ مثلا تم میں سے کوئیحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اپنے متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دے کہ پیغمبر زور والا اور اپنی مرضی والا ہے اسے کون روک سکتا ہے تو ایسا کلام فاحشہ مبینہ ہوگا اور اللہ تمہیں اس کی دگنی سزا دے گا۔ ومن یقنت الخ، لیکن تم میں سے جس نے اللہ ور سول کی اطاعت اور تسلیم و رضا کو اپنا شعار بنا لیا ہے اسے ہم ثواب بھی دوگنا دیں گے اور آخرت میں اس کے لیے باعزت روزی تیار ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30۔ اے نبی کی عورتو ! تم میں سے جو عورت صریح ناپسندیدہ فعل کا ارتکاب کرے گی تو ایسی عورت کو دنگی اور دوہری سزا دی جائے گی اور یہ دوہری سزا دینا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے فاحشۃ مبینہ کی تفسیر میں نشوز اور سوء خلق فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ کسی ایسی حرکت کا ارتکاب جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پریشانی اور تنگی کی موجب ہو اور آپ کو جس فعل سے پریشانی ہو دوہری سزا یعنی اس فعل کی سزا جتنی کسی اور کو ملتی اس سے دو چند تم کو دی جائیگی اور سزا کا دو چند کردینا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے ، تمہاری عظمت اور پیغمبر کی زوجہ ہونا اس کیلئے مانع ہیں ۔ ازواج مطہرات کی شرافت ، برتری اور بزرگی پر یہ آیت دلالت کرتی ہے جس طرح عالم کی سزا جاہل سے زیادہ اور آزاد کی سزا غلام سے زیادہ یہاں سزا کی زیادتی اسی طرح سمجھنی چاہئے ۔ یہ مرتبہ ازواج کا اس نسبت زوجیت کی بنا پر ہے جو ان کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی منکوحہ ہونے سے حاصل ہوا۔