Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 42

سورة الأحزاب

وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۴۲﴾

And exalt Him morning and afternoon.

اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And glorify His praises morning and Asila. If you do this, He and His angels will send blessings upon you." There are very many Ayat, Hadiths and reports which encourage the remembrance of Allah, and this Ayah urges us to remember Him much. People such as An-Nasa'i and Al-Ma`mari and others have written books about the Adhkar to be recited at different times of the night and day. وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلً And glorify His praises morning and Asila. in the morning and in the evening. This is like the Ayah: فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَعَشِيّاً وَحِينَ تُظْهِرُونَ So glorify Allah, when you come up to the evening, and when you enter the morning. And His are all the praises and thanks in the heavens and the earth; and in the afternoon and when you come up to the time, when the day begins to decline. (30:17-18)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٦٨] یعنی جب تمہیں پریشانیوں کا اور اعدائے اسلام کے طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑے تو ایسے اوقات میں اللہ کو بکثرت یاد کیا کرو اور صبح و شام کی نمازوں کے علاوہ بالخصوص ان اوقات میں اللہ کی تسبیح و تہلیل بھی کیا کرو۔ اس طرح تمہارے اندر ایسی پریشانیوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ اور دلوں کو اطمینان نصیب ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَسَبِّحُوهُ بُكْرَ‌ةً وَأَصِيلًا (|"And proclaim His purity at morn and eve|". 33:42) Here morning and evening may, metaphorically, mean all the time. Alternatively, morning and evening have been mentioned specifically to lay emphasis on carrying out dhikrullah during these times and to indicate that it carries more blessings - otherwise dhikrullah is neither specified nor limited to any particular time.

(آیت) وسبحوہ بکرة واصلاً ، یعنی اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام۔ صبح و شام سے مراد یا تو تمام اوقات ہیں، یا پھر صبح و شام کی تخصیص اس لئے ہے کہ ان اوقات میں ذکر اللہ کی تاکید بھی زیادہ ہے اور برکت بھی۔ ورنہ ذکر اللہ کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص و محدود نہیں ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّسَبِّحُــوْہُ بُكْرَۃً وَّاَصِيْلًا۝ ٤٢ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے بكر أصل الکلمة هي البُكْرَة التي هي أوّل النهار، فاشتق من لفظه لفظ الفعل، فقیل : بَكَرَ فلان بُكُورا : إذا خرج بُكْرَةً ، والبَكُور : المبالغ في البکرة، وبَكَّر في حاجته وابْتَكَر وبَاكَرَ مُبَاكَرَةً. وتصوّر منها معنی التعجیل لتقدمها علی سائر أوقات النهار، فقیل لكلّ متعجل في أمر : بِكْر، قال الشاعر بكرت تلومک بعد وهن في النّدى ... بسل عليك ملامتي وعتاب وسمّي أول الولد بکرا، وکذلك أبواه في ولادته [إيّاه تعظیما له، نحو : بيت الله، وقیل : أشار إلى ثوابه وما أعدّ لصالحي عباده ممّا لا يلحقه الفناء، وهو المشار إليه بقوله تعالی: وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ ] «3» [ العنکبوت/ 64] ، قال الشاعر يا بکر بكرين ويا خلب الکبد «4» فبکر في قوله تعالی: لا فارِضٌ وَلا بِكْرٌ [ البقرة/ 68] . هي التي لم تلد، وسمّيت التي لم تفتضّ بکرا اعتبارا بالثيّب، لتقدّمها عليها فيما يراد له النساء، وجمع البکر أبكار . قال تعالی:إِنَّا أَنْشَأْناهُنَّ إِنْشاءً فَجَعَلْناهُنَّ أَبْکاراً [ الواقعة/ 35- 36] . والبَكَرَة : المحالة الصغیرة، لتصوّر السرعة فيها . ( ب ک ر ) اس باب میں اصل کلمہ بکرۃ ہے جس کے معنی دن کے ابتدائی حصہ کے ہیں پھر اس سے صیغہ فعل مشتق کرکے کہا جاتا ہے ۔ بکر ( ن ) فلان بکورا کسی کام کو صبح سویرے نکلنا ۔ البکور ( صیغہ مبالغہ ) بہت سویرے جانے والا ۔ بکر ۔ صبح سورے کسی کام کے لئے جانا اور بکرۃ دن کا پہلا حصہ ) چونکہ دن کے باقی حصہ پر متقدم ہوتا ہے اس لئے اس سے شتابی کے معنی لے کر ہر اس شخص کے معلق بکدرس ) فعل استعمال ہوتا ہے جو کسی معاملہ میں جلد بازی سے کام نے شاعر نے کہا ہے وہ کچھ عرصہ کے بعد جلدی سے سخاوت پر ملامت کرنے لگی میں نے کہا کہ تم پر مجھے ملامت اور عتاب کرنا حرام ہے ۔ بکر پہلا بچہ اور جب ماں باپ کے پہلا بچہ پیدا ہو تو احتراما انہیں بکر ان کہا جاتا ہے جیسا کہ بیت اللہ بولا جاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ثواب الہی اور ان غیر فانی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے تیار کی ہیں جس کی طرف آیت کریمہ : ۔ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ ] «3» [ العنکبوت/ 64] اور ( ہمیشہ کی زندگی ( کا مقام تو آخرت کا گھر ہے میں اشارہ فرمایا ہے شاعر نے کہا ہے ع ( رجز ) ( 23 ) اے والدین کے اکلوتے بیٹے اور جگر گوشے ۔ پس آیت کریمہ : ۔ لا فارِضٌ وَلا بِكْرٌ [ البقرة/ 68] نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا ۔ میں بکر سے نوجوان گائے مراد ہے جس نے ابھی تک کوئی بچہ نہ دیا ہو ۔ اور ثیب کے اعتبار سے دو شیزہ کو بھی بکر کہا جاتا ہے کیونکہ اسے مجامعت کے لئے ثیب پر ترجیح دی جاتی ہے بکر کی جمع ابکار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْشَأْناهُنَّ إِنْشاءً فَجَعَلْناهُنَّ أَبْکاراً [ الواقعة/ 35- 36] ہم نے ان ( حوروں ) کو پیدا کیا تو ان کو کنوار یاں بنایا ۔ البکرۃ چھوٹی سی چرخی ۔ کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ گھومتی ہے ۔ أصل وأَصْلُ الشیء : قاعدته التي لو توهّمت مرتفعة لارتفع بارتفاعه سائره لذلک، قال تعالی: أَصْلُها ثابِتٌ وَفَرْعُها فِي السَّماءِ [إبراهيم/ 24] ، وقد تَأَصَّلَ كذا وأَصَّلَهُ ، ومجد أصيل، وفلان لا أصل له ولا فصل . بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] أي : العشایا، يقال للعشية : أَصِيل وأَصِيلَة، فجمع الأصيل أُصُل وآصَال، وجمع الأصيلة : أَصَائِل، وقال تعالی: بُكْرَةً وَأَصِيلًا [ الفتح/ 9] . ( ا ص ل ) اصل الشئی ( جڑ ) کسی چیز کی اس بنیاد کو کہتے ہیں کہ اگر اس کا ارتفاع فرض کیا جائے تو اس شئے کا باقی حصہ بھی معلوم ہوجائے قرآن میں ہے : { أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاء } [إبراهيم : 24] (14 ۔ 25) اس کی جڑ زمین میں ) پختگی سے جمی ہے اور شاخیں آسمان میں ۔ اور تاصل کذا کے معنی کسی چیز کے جڑ پکڑنا ہیں اس سے اصل اور خاندانی بزرگی مجد اصیل کہا جاتا ہے ۔ محاورہ ہے ۔ فلان لااصل لہ ولا فصل یعنی نیست اور احسب ونہ زبان ۔ الاصیل والاصیلۃ کے معنی ( عشیۃ ) عصر اور مغرب کے درمیانی وقت کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ { وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا } [ الأحزاب : 42] اور صبح و شام کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ اصیل کی جمع اصل واٰصال اور اصیلۃ کی جمع اصائل ہے قرآن میں ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٢ { وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا } ” اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

78 This is meant to instruct the Muslims to the effect: When the Messenger of Allah is being showered with taunts and abuses by the enemies and his person being made the target of a propaganda campaign to frustrate his mission, the believers should neither listen to these absurd things unconcerned nor should become themselves also involved in the doubts and suspicions spread by the enemies nor should resort to abusive language in retaliation, but they should turn to Allah and remember Him more than usual as a special measure, The meaning of "remembering AIlah much" has been explained in E.N. 63 above. 'To glorify Allah morning and evening" means to glorify Him constantly, to express His holiness and purity by word of mouth and not merely by counting beads on the rosary.

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :78 اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ تلقین کرنا ہے کہ جب دشمنوں کی طرف سے اللہ کے رسول پر طعن و تشنیع کی بوچھاڑ ہو رہی ہو اور دین حق کو زک پہنچانے کے لیے ذات رسول کو ہدف بنا کر پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا جا رہا ہو ، ایسی حالت میں اہل ایمان کا کام نہ تو یہ ہے کہ ان بیہودگیوں کو اطمینان کے ساتھ سنتے رہیں ، اور نہ یہ کہ خود بھی دشمنوں کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں ، اور نہ یہ کہ جواب میں ان سے گالم گلوچ کرنے لگیں ، بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ عام دنوں سے بڑھ کر اس زمانے میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کو اور زیادہ یاد کریں ۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے کا مفہوم حاشیہ نمبر ٦۳میں بیان کیا جا چکا ہے ۔ صبح و شام تسبیح کرنے سے مراد دائماً تسبیح کرتے رہنا ہے ۔ اور تسبیح کے معنی اللہ کی پاکیزگی بیان کرنے کے ہیں نہ کہ محض دانوں والی تسبیح پھر انے کے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:42) سبحوہ۔ سبحوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے۔ اس کی تسبیح کرو ! اس کی پاکی بیان کرو۔ بکرۃ۔ دن کا اول حصہ۔ صبح۔ اسی رعایت سے سے نوجوان گائے جس نے ابھی بچھڑا نہ دیا ہو اسے بکر کہتے ہیں۔ لا فارض والا بکر (2:68) نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بچھڑی۔ دو شیزہ۔ کنواری کو بھی بکر کہا جاتا ہے جیسے انا انشاناہن انشاء فجعلنا ہن ابکارا (56:36) ہم نے ان حوروں کو پیدا کیا تو ان کو کنواریاں بنایا۔ اصیلا۔ الاصیل والاصیلۃ کے معنی عصر اور مغرب کا درمیانی وقت ہے، یعنی شام۔ بکرۃ واصیلا صبح و شام۔ اسی طرح بالغدو والاصال (7:205) صبح اور شام اصال اصیل کی جمع ہے۔ بکرۃ واصیلا بوجہ مفعول فیہ ہونے کے منصوب ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی اس کی تسبیح وتحمید اور تکبیر و تحلیل کرتے رہو۔ اللہ کے ذکر خصوصاً سبحان اللہ و بحمدہٖ کہنے کی فضلیت ہیں متعد احادیث ثابت ہیں۔ صحیحین میں ہے کہ جس نے سو مرتبہ ” سبحان اللہ و بحمدہٖ “ کہا اس کے تمام گناہ ساقط کردیئے گئے چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ ( شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

42۔ اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کیا کرو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت رکھو ۔ عبد اللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر فرض کی ایک حد مقرر کی ہے لیکن ذکر کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی یعنی بیٹھتے اٹھتے لیٹتے چلتے پھرتے دن میں رات میں صحرا میں دریا میں غرض اس کا ذکر کرنا اور اس کو یاد کرنا ہر وقت مطلوب ہے اس کے ترک کیلئے کوئی عذر بھی نہیں سوائے اس کے کہ جنوں ہوجائے اور ذکرکرنیوالا پاگل ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ کے جس قدر مسلمانوں پر احسانات ہیں ان پر غور کرو اور ذکر الٰہی کی کثرت رکھو خواہ ذکر لسانی ہو یا ذکر قلبی ہو اور صبح و شام اس کی تسبیح اور تقدیس کرتے رہو۔ اس جملے میں تمام طاعات داخل ہیں۔ بکرہ دن کے اول حصے کو کہتے ہیں اور اصیل شام کے حصے کو کہتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام بجا لائو ۔ اسی وجہ سے بعض مفسرین نے بکرہ سے نماز فجر اور اصیل سے مراد ظہر ، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لی ہیں ۔ حضرت قتادہ نے فرمایا سبحان اللہ والحمد للہ ولا لہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ تسبیح سے مراد یہ کلمے ہیں ، بہر حال قول راجح یہی ہے کہ تمام طاعات مراد لی جائیں۔