Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 53

سورة الأحزاب

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡذَنَ لَکُمۡ اِلٰی طَعَامٍ غَیۡرَ نٰظِرِیۡنَ اِنٰىہُ ۙ وَ لٰکِنۡ اِذَا دُعِیۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَ لَا مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ لِحَدِیۡثٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ یُؤۡذِی النَّبِیَّ فَیَسۡتَحۡیٖ مِنۡکُمۡ ۫ وَ اللّٰہُ لَا یَسۡتَحۡیٖ مِنَ الۡحَقِّ ؕ وَ اِذَا سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسۡئَلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمۡ اَطۡہَرُ لِقُلُوۡبِکُمۡ وَ قُلُوۡبِہِنَّ ؕ وَ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمًا ﴿۵۳﴾

O you who have believed, do not enter the houses of the Prophet except when you are permitted for a meal, without awaiting its readiness. But when you are invited, then enter; and when you have eaten, disperse without seeking to remain for conversation. Indeed, that [behavior] was troubling the Prophet, and he is shy of [dismissing] you. But Allah is not shy of the truth. And when you ask [his wives] for something, ask them from behind a partition. That is purer for your hearts and their hearts. And it is not [conceivable or lawful] for you to harm the Messenger of Allah or to marry his wives after him, ever. Indeed, that would be in the sight of Allah an enormity.

اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو ، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو ، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے ، تو وہ لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالٰی ( بیان ) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو تم پردے کے پیچھے سے طلب کرو تمہارے اور ان کے دلوں کیلئے کامل پاکیزگی یہی ہے نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو ۔ ( یاد رکھو ) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا ( گناہ ) ہے ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ
اے لوگو جو
اٰمَنُوۡا
ایمان لائے ہو
لَاتَدۡخُلُوۡا
نہ تم داخل ہو
بُیُوۡتَ
گھروں میں
النَّبِیِّ
نبی کے
اِلَّاۤ
مگر
اَنۡ
یہ کہ
یُّؤۡذَنَ
اجازت دی جائے
لَکُمۡ
تمہیں
اِلٰی طَعَامٍ
طرف کھانے کے
غَیۡرَ
نہ
نٰظِرِیۡنَ
انتظار کرنے والے ہو
اِنٰىہُ
اس کی تیاری کا
وَلٰکِنۡ
اور لیکن
اِذَا
جب
دُعِیۡتُمۡ
بلائے جاؤ تم
فَادۡخُلُوۡا
تو داخل ہوجاؤ
فَاِذَا
پھر جب
طَعِمۡتُمۡ
کھانا کھا لو تم
فَانۡتَشِرُوۡا
تو منتشر ہوجاؤ
وَلَا
اور نہ ہو
مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ
دل لگانے والے
لِحَدِیۡثٍ
باتوں کے لیے
اِنَّ
بےشک
ذٰلِکُمۡ
یہ
کَانَ
ہے
یُؤۡذِی
ایذا دیتا
النَّبِیَّ
نبی کو
فَیَسۡتَحۡیٖ
تو وہ شرماتے ہیں
مِنۡکُمۡ
تم سے
وَاللّٰہُ
اور اللہ
لَایَسۡتَحۡیٖ
نہیں شرماتا
مِنَ الۡحَقِّ
حق سے
وَاِذَا
اور جب
سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ
سوال کرو تم ان سے
مَتَاعًا
کسی چیز کا
فَسۡئَلُوۡہُنَّ
تو سوال کرو ان سے
مِنۡ وَّرَآءِ
پیچھے سے
حِجَابٍ
پردے کے
ذٰلِکُمۡ
یہ بات
اَطۡہَرُ
زیادہ پاکیزہ ہے
لِقُلُوۡبِکُمۡ
تمہارے دلوں کے لیے
وَقُلُوۡبِہِنَّ
اور ان کے دلوں کے لیے
وَمَا
اور نہیں
کَانَ
ہے (مناسب)
لَکُمۡ
تمہارے لیے
اَنۡ
کہ
تُؤۡذُوۡا
تم ایذا دو
رَسُوۡلَ اللّٰہِ
اللہ کے رسول کو
وَلَاۤ
اور نہ
اَنۡ
یہ کہ
تَنۡکِحُوۡۤا
تم نکاح کرو
اَزۡوَاجَہٗ
اس کی بیویوں سے
مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ
بعد اس کے
اَبَدًا
کبھی بھی
اِنَّ
بےشک
ذٰلِکُمۡ
یہ(بات)
کَانَ
ہے
عِنۡدَ
نزدیک
اللّٰہِ
اللہ کے
عَظِیۡمًا
بہت بڑی
Word by Word by

Nighat Hashmi

یٰۤاَیُّہَا
اے لوگو
الَّذِیۡنَ
جو 
اٰمَنُوۡا
ایمان لائے ہو
لَاتَدۡخُلُوۡا
نہ تم داخل ہو
بُیُوۡتَ
گھروں میں 
النَّبِیِّ
نبی کے 
اِلَّاۤ
مگر 
اَنۡ
یہ کہ
یُّؤۡذَنَ
اجازت دی جائے
لَکُمۡ
تمہیں  
اِلٰی طَعَامٍ
کھانے کے لیے 
غَیۡرَ
نہ ہو  
نٰظِرِیۡنَ
انتظار کر نے والے 
اِنٰىہُ
اس کے تیار ہونے کا
وَلٰکِنۡ
اور لیکن 
اِذَا
جب 
دُعِیۡتُمۡ
تمہیں بلایا جائے 
فَادۡخُلُوۡا
تو اندر آ جاؤ
فَاِذَا
پھر جب
طَعِمۡتُمۡ
تم کھا چکو 
فَانۡتَشِرُوۡا
تو منتشر ہو جاؤ
وَلَا
اور نہ
مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ
  دل لگانے والے ہو 
لِحَدِیۡثٍ
باتوں میں                        
اِنَّ
یقیناً 
ذٰلِکُمۡ
 یہ بات
کَانَ
ہے 
یُؤۡذِی
اذیت دیتی 
النَّبِیَّ
نبی کو 
فَیَسۡتَحۡیٖ
پھر وہ شرم کرتا ہے
مِنۡکُمۡ
تم سے 
وَاللّٰہُ
اور اللہ تعالیٰ
لَایَسۡتَحۡیٖ
نہیں شرماتا 
مِنَ الۡحَقِّ
حق بات کہنے سے 
وَاِذَا
اور جب
سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ
مانگو تم ان سے 
مَتَاعًا
کوئی سامان 
فَسۡئَلُوۡہُنَّ
تو مانگو ان سے 
مِنۡ وَّرَآءِ
پیچھے سے 
حِجَابٍ
پردے  کے
ذٰلِکُمۡ
یہ 
اَطۡہَرُ
پاکیزہ تر ہے
لِقُلُوۡبِکُمۡ
تمہارے دلوں  کے لیے 
وَقُلُوۡبِہِنَّ
اور ان کے  دلوں کے لیے 
وَمَا
اور نہیں 
کَانَ
ہے
لَکُمۡ
تمہارے لیے 
اَنۡ
یہ کہ 
تُؤۡذُوۡا
تم اذیت دو
رَسُوۡلَ اللّٰہِ
رسول اللہ کو
وَلَاۤ
اور نہ ہی 
اَنۡ
یہ کہ 
تَنۡکِحُوۡۤا
تم نکاح کر و
اَزۡوَاجَہٗ
اس کی بیویوں  سے 
مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ
اس کے بعد 
اَبَدًا
کبھی بھی 
اِنَّ
یقیناً
ذٰلِکُمۡ
 یہ
کَانَ
۔ (ہمیشہ سے) ہے
عِنۡدَ
نزدیک 
اللّٰہِ
اللہ تعالیٰ کے 
عَظِیۡمًا
بہت بڑا 
Translated by

Juna Garhi

O you who have believed, do not enter the houses of the Prophet except when you are permitted for a meal, without awaiting its readiness. But when you are invited, then enter; and when you have eaten, disperse without seeking to remain for conversation. Indeed, that [behavior] was troubling the Prophet, and he is shy of [dismissing] you. But Allah is not shy of the truth. And when you ask [his wives] for something, ask them from behind a partition. That is purer for your hearts and their hearts. And it is not [conceivable or lawful] for you to harm the Messenger of Allah or to marry his wives after him, ever. Indeed, that would be in the sight of Allah an enormity.

اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو ، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو ، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے ، تو وہ لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالٰی ( بیان ) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو تم پردے کے پیچھے سے طلب کرو تمہارے اور ان کے دلوں کیلئے کامل پاکیزگی یہی ہے نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو ۔ ( یاد رکھو ) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا ( گناہ ) ہے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو الا یہ کہ تمہیں اجازت دی جائے اور کھانے کی تیاری کا انتظار نہ کرنے لگو۔ البتہ جب تمہیں (کھانے پر) بلایا جائے تو آؤ اور جب کھا چکو تو چلے جاؤ اور باتوں میں دل لگائے وہیں نہ بیٹھے رہو۔ تمہاری یہ بات نبی کے لئے تکلیف دہ تھی مگر تم سے شرم کی وجہ سے کچھ نہ کہتے تھے اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا اور جب تمہیں ازواج نبی سے کوئی چیز مانگنا ہو تو پردہ کے پیچھے رہ کر مانگو۔ یہ بات تمہارے دلوں کے لئے بھی پاکیزہ تر ہے اور ان کے دلوں کے لئے بھی۔ تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو ایذا دو اور نہ یہ جائز ہے کہ اس (کی وفات) کے بعد کبھی اس کی بیویوں سے نکاح کرو۔ بلاشبہ اللہ کے ہاں یہ بڑے گناہ کی بات ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہواکرومگرجب کہ تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے اس حال میں کہ تم اس کے تیار ہونے کاانتظارکرنے والے نہ ہو لیکن جب تمہیں بلایاجائے تواندر آجاؤ،پھرجب تم کھاناکھا چکو تومنتشرہوجاؤاورباتوں میں دل لگانے والے نہ بنو، یقیناًیہ بات نبی کواذیت دیتی ہے پھروہ تم سے شرم کرتا ہے اوراﷲ تعالیٰ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا اورجب تم اُن سے کوئی سامان مانگوتواُن سے پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمہارے اور اُن کے دلوں کے لیے پاکیزہ ترہے اور تمہارے لیے جائزنہیں کہ تم ﷲ کے رسول کواذیت دواورنہ ہی یہ جائزہے کہ اُس کے بعداُس کی بیویوں سے کبھی نکاح کرو، یقیناًیہ ہمیشہ سے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

O those who believe, do not enter the houses of the Prophet, unless you are permitted for a meal, not (so early as) to wait for its preparation. But when you are invited, go inside. Then, once you have had the meal, then disperse, and (do) not (sit for long) being keen for a chat. This (conduct of yours) hurts the Prophet, but he feels shy of (telling) you (about it). And Allah is not shy of the truth. And when you ask anything from them (the blessed wives of the Prophet), ask them from behind a curtain. That is better for the purity of your hearts and their hearts. And it is not allowed for you that you hurt Allah&s Messenger, nor that you ever marry his wives after him. Indeed, it would be an enormity in the sight of Allah.

اے ایمان والو ! مت جاؤ نبی کے گھروں میں مگر جو تم کو حکم ہو کھانے کے واسطے نہ راہ دیکھنے والے اس کے پکنے کی لیکن جب تم کو بلائے تب جاؤ پھر جب کھا چکو تو آپ آپ کو چلے آؤ اور نہ آپس میں جی لگا کر بیٹھو باتوں میں اس بات سے تمہاری تکلیف تھی نبی کو پھر تم سے شرم کرتا ہے اور اللہ شرم نہیں کرتا ٹھیک بات بتلانے میں اور جب مانگنے جاؤ بیبیوں سے کچھ چیز کام کی تو مانگ لو پردے کے باہر سے اس میں خوب ستھرائی ہے تمہارے دل کو اور ان کے دل کو اور تم کو نہیں پہنچتا کہ تکلیف دو اللہ کے رسول کو اور نہ یہ کہ نکاح کرو اس کی عورتوں سے اس کے پیچھے کبھی البتہ یہ تمہاری بات اللہ کے پہاں بڑا گناہ ہے

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اے اہل ِ ایمان ! مت داخل ہوجایا کرو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں مگر یہ کہ تمہیں کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا ہاں جب تمہیں بلایا جائے تب داخل ہوا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجایا کرو اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہا کرو۔ تمہاری یہ باتیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تکلیف کا باعث تھیں مگر وہ (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ لوگوں سے جھجک محسوس کرتے ہیں اور اللہ حق (بیان کرنے) سے نہیں جھجکتا اور جب تمہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگا کرو۔ یہ طرز عمل زیادہ پاکیزہ ہے تمہارے دلوں کے لیے بھی اور ان (رض) کے دلوں کے لیے بھی۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچائو اور نہ یہ (جائز ہے) کہ تم نکاح کرو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کبھی بھی۔ } یقینا اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Believers, enter not the houses of the Prophet without his permission, nor wait for a meal to be prepared; instead enter when you are invited to eat, and when you have had the meal, disperse. Do not linger in idle talk. That is hurtful to the Prophet but he does not express it out of shyness; but Allah is not ashamed of speaking out the Truth. And if you were to ask the wives of the Prophet for something, ask from behind a curtain. That is more apt for the cleanness of your hearts and theirs. It is not lawful for you to cause hurt to Allah's Messenger, nor to ever marry his wives after him. Surely that would be an enormous sin in Allah's sight.

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو95 نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو ۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ 96 مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو 97 تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں ، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے ۔ اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا ۔ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو ، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے 98 تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تکلیف دو 99 ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو 100 ، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں ( بلا اجازت ) داخل نہ ہو ، الا یہ کہ تمہیں کھانے پر آنے کی اجازت دے دی جائے ، وہ بھی اس طرح کہ تم اس کھانے کی تیاری کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو ، لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے تو جاؤ ، پھر جب کھانا کھا چکو تو اپنی اپنی راہ لو ، اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو ۔ ( ٤٤ ) حقیقت یہ ہے کہ اس بات سے نبی کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ تم سے ( کہتے ہوئے ) شرماتے ہیں ، اور اللہ حق بات میں کسی سے نہیں شرماتا اور جب تمہیں نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو ۔ ( ٤٥ ) یہ طریقہ تمہارے دلوں کو بھی اور ان کے دلوں کو بھی زیادہ پاکیزہ رکھنے کا ذریعہ ہوگا ۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو ۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

مسلمانو جب تم کو کھانے کے لئے بلایا جائے تو پیغمبر کے گھروں میں بےاذن لئے مت گھر اجازت لے کر اندر جائو وہ بھی ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے بلکہ جب بلائے جائو اس وقت جائو پھر کھانا کھا چکتے ہی وہاں سے چل دو اور باتوں میں نہ لگ جائو کیونکہ ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی ہے وہ تم سے شرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو تو سچ بات کہنے میں کوئی شرم نہیں 3 اور جب پیغمبر کی بی بیوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو 4 اس سے تمہارے دل اور ان کے دل شیطان کے وسوسوں سے خوب پاک رہیں گے اور تمہارے لئے یہ زیبا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کو تکلیف پہنچائو اور نہ یہ کہ اس کے پیچھے اس کی عورتوں سے کبھی نکاح کرو خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ بڑا گناہ ہے 5

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

اے ایمان والو ! پیغمبر کے گھروں میں مت جایا کرو مگر جس وقت تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے (اور) اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے و لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ پھر جب کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ بیشک یہ بات پیغمبر کو ناگوار گزرتی ہے پھر وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتے۔ اور جب تم ان (پیغمبروں کی بیویوں) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگا کرو۔ یہ بات (ہمیشہ کے لئے) تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اور تم کو شایان نہیں کہ اللہ کے پیغمبر کو ایذا پہنچاؤ اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی بھی ان کے بعد نکاح کرو۔ بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ کا) کام ہے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

اے ایمان والوں ! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے اس وقت تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں داخل نہ ہو کرو۔ کھانے کے لئے اس کے پکنے کی راہ نہ تکا کرو لیکن جب تمہیں بلا یا جائے تو تم داخل ہو سکتے ہو پھر جب تم کھانے سے فارغ ہو جائو تو اٹھ کر چلے جائو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو ۔ بیشک تمہاری یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچاتی ہے ۔ وہ تم سے کہتے ہوئے شرماتے ہیں لیکن اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا اور جب تم ان کی بیویو سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ بات تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کا بہترین ذریعہ ہے ۔ اور تمہارے لئے یہ بات جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچائو اور نہ یہ کہ ان کے بعد ان کی بیویو (ازواج مطہرات) سے تم نکاح کرو۔ بیشک تمہاری یہ بات اللہ کے نزدیک بڑا (گناہ ) ہے

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

مومنو پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھاچکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو۔ یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے۔ اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کہتے نہیں ہیں) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبروں کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر مانگو۔ یہ تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ اور تم کو یہ شایاں نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو۔ بےشک یہ خدا کے نزدیک بڑا (گناہ کا کام) ہے

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

O Ye who believe! enter not the houses of the Prophet, except when leave is given you, for a meal and at a time that ye will have to wait for its preparation; but when ye are invited, then enter, and when ye have eaten, then disperse, without lingering to enter into familiar discourse. Verily that incommodeth the Prophet, and he is shy of asking you to depart, bur Allah is not shy of the truth. And when ye ask of them aught, ask it of them from behind a curtain. That shall be purer for your hearts and for their hearts. And it is not lawful for you that ye should cause annoyance to the apostle of Allah, nor that ye should ever marry his wives after him; verily that in the sight of Allah shall be an enormity.

اے ایمان والو نبی کے گھروں میں مت جایا کرو بجز اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لئے (آنے کی) اجازت دی جائے (اور جب بھی) ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو البتہ جب تم کو بلایا جائے تب جایا کرو ۔ پھر جب کھانا کھاچکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو اس بات سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں ۔ اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا ۔ اور جب تم ان (رسول کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردہ کے باہر سے مانگا کرو ۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاس رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے ۔ اور تمہیں جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو (کسی طرح بھی) تکلیف پہنچاؤ ۔ اور نہ یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو ۔ بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

اے ایمان والو! نبی کے گھر میں نہ داخل ہو مگر یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے ، نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا ۔ ہاں! جب تم کو بلایا جائے تو داخل ہو ، پھر جب کھا چکو تو منتشر ہوجاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو ۔ یہ باتیں نبی کیلئے باعثِ اذیت تھیں لیکن وہ تمہارا لحاظ کرتے تھے اور اللہ حق کے اظہار میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا اور جب تم کو ازواجِ نبی سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگو ۔ یہ طریقہ تمہارے دلوں کیلئے بھی زیادہ پاکیزہ ہے اور ان کے دلوں کیلئے بھی اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ تم اس کی بیویوں سے کبھی ، اس کے بعد ، نکاح کرو ۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے ۔

Translated by

Mufti Naeem

اے ایمان والو! نبی ( ﷺ ) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس ( صورت کے ) کہ تمہیں کھانے کی اجازت ( دعوت ) دی جائے اس حال میں کہ اس کے پکنے کے انتظار میں بھی نہ ہو اور لیکن جب تم بلائے جاؤ تو داخل ہوجاؤ پھر جب تم کھاچکو تو ( واپس ) چلے جاؤ اور باتوں میں دل لگاکر نہ بیٹھے رہو ، بلاشبہ یہ ( بات ) نبی ( ﷺ ) کو تکلیف دیتی تھی پس وہ تم لوگوں سے شرم ( کی وجہ سے ظاہر نہ ) کرتے تھے اور اللہ ( تعالیٰ ) سچی بات سے شرم نہیں کرتے اور جب تم ان ( ازواجِ مطہرات ) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردے کے پیچھے سے مانگا کرو ، یہ ( بات ) تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزگی والی ہے اور تم لوگوں کے لیے ( اے ایمان والو! ) حلال نہیں کہ تم اللہ کے رسول ( ﷺ ) کو تکلیف دو اور نہ یہ ( بات حلال ہے ) کہ ان کے بعد کبھی بھی ان کی ازواج سے نکاح کرو ، بلاشبہ یہ اللہ ( تعالیٰ ) کے نزدیک بہت بڑا ( جرم ) ہے

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

مومنو ! پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لیے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو رخصت ہوجاؤ اور باتوں میں دل لگا کر نہ بیٹھے رہو یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے وہ تم سے شرم کرتے ہیں اور کہتے نہیں مگر اللہ سچی بات کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبر کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے اچھی بات ہے اور تم کو یہ شایان نہیں کہ اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کرو بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑے گناہ کا کام ہے۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو تم نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تم کو اجازت دی جایا کرے کسی کھانے (وغیرہ) کی اور وہ بھی اس طرح نہیں کہ تم اسکی تیاری کے انتظار میں لگے رہو لیکن جب تمہیں دعوت دی تو تم حاضر ہوجایا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو تم اٹھ کر چلے جایا کرو اور بیٹھ نہ جایا کرو باتوں میں دل لگا کر بیشک اس سے نبی کو (تکلیف اور) ناگواری ہوتی ہے مگر وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ حق بات کہنے میں لحاظ نہیں کرتا اور جب تمہیں ان (نبی کی بیویوں) سے کوئی چیز مانگنا (یا کچھ پوچھنا) ہو تو تم پردے کے پیچھے سے مانگا (اور پوچھا) کرو اس میں بڑی پاکیزگی ہے تمہارے دلوں کے لئے بھی اور ان کے دلوں کے لئے بھی اور تمہارے لئے نہ تو یہ بات کسی طرح جائز ہے کہ تم اللہ کے رسول کو کوئی تکلیف پہنچاؤ اور نہ ہی یہ کہ تم ان کی بیویوں سے نکاح کرو ان (کی وفات) کے بعد کبھی بھی بلاشبہ یہ اللہ کے نزدیک بھاری گناہ ہے

Translated by

Noor ul Amin

اے ایمان والو!نبی کے گھروں میں نہ جایاکرو ، ماسوائے کہ تمہیں ( کھانے کے لئے داخل ہونے کی ) اجازت دی جائے لیکن تم ( پہلے ہی سے بیٹھ کر ) اس کے پکنے کا انتظار نہ کرو ، بلکہ تمہیں بلایاجائے توداخل ہوجائو اور جب کھاچکوتوچلے آئواور باتوں میں دل لگائے ( وہیں ) نہ ( بیٹھے ) رہوتمہاری یہ بات نبی کے لئے تکلیف دہ تھی مگرتم سے شرم کی وجہ سے کچھ نہ کہتے تھے اور اللہ حق بات کہنے سے کسی کالحاظ نہیں کرتا اور جب تمہیں نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنا ہوتوپردہ کے پیچھے رہ کرمانگویہ بات تمہارے دلوں کے لئے بھی پاکیزہ ترہے اور ان کے دلوں کے لئے بھی ، تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ اس ( کی وفات ) کے بعدکبھی اس کی بیویوں سے نکاح کرو بلاشبہ اللہ کے ہاں یہ بڑے گناہ کی بات ہے

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں ( ف۱۳۲ ) نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ ( ف۱۳۳ ) مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ( ف۱۳٤ ) ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ ( ف۱۳۵ ) بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے ( ف۱۳٦ ) اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا ، اور جب تم ان سے ( ف۱۳۷ ) برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر مانگو ، اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی ( ف۱۳۸ ) اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذا دو ( ف۱۳۹ ) اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو ( ف۱٤۰ ) بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے ( ف۱٤۱ )

Translated by

Tahir ul Qadri

اے ایمان والو! نبیِ ( مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے ( پھر وقت سے پہلے پہنچ کر ) کھانا پکنے کا انتظار کرنے والے نہ بنا کرو ، ہاں جب تم بلائے جاؤ تو ( اس وقت ) اندر آیا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو ( وہاں سے اُٹھ کر ) فوراً منتشر ہوجایا کرو اور وہاں باتوں میں دل لگا کر بیٹھے رہنے والے نہ بنو ۔ یقیناً تمہارا ایسے ( دیر تک بیٹھے ) رہنا نبیِ ( اکرم ) کو تکلیف دیتا ہے اور وہ تم سے ( اُٹھ جانے کا کہتے ہوئے ) شرماتے ہیں اور اللہ حق ( بات کہنے ) سے نہیں شرماتا ، اور جب تم اُن ( اَزواجِ مطّہرات ) سے کوئی سامان مانگو تو اُن سے پسِ پردہ پوچھا کرو ، یہ ( ادب ) تمہارے دلوں کے لئے اور ان کے دلوں کے لئے بڑی طہارت کا سبب ہے ، اور تمہارے لئے ( ہرگز جائز ) نہیں کہ تم رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ ( جائز ) ہے کہ تم اُن کے بعد ابَد تک اُن کی اَزواجِ ( مطّہرات ) سے نکاح کرو ، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا ( گناہ ) ہے

Translated by

Hussain Najfi

اے ایمان والو! نبی ( ص ) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو ۔ مگر جب تمہیں کھانے کیلئے ( اندر آنے کی ) اجازت دی جائے ( اور ) نہ ہی اس کے پکنے کا انتظار ( نبی ( ص ) کے گھر میں بیٹھ کر کیا ) کرو ۔ لیکن جب تمہیں بلایا جائے تو ( عین وقت پر ) اندر داخل ہو جاؤ پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور دل بہلانے کیلئے باتوں میں نہ لگے رہو کیونکہ تمہاری باتیں نبی ( ص ) کو اذیت پہنچاتی ہیں مگر وہ تم سے شرم کرتے ہیں ( اور کچھ نہیں کہتے ) اور اللہ حق بات ( کہنے سے ) نہیں شرماتا اور جب تم ان ( ازواجِ نبی ( ص ) ) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو ۔ یہ ( طریقۂ کار ) تمہارے دلوں کیلئے اور ان کے دلوں کیلئے پاکیزگی کا زیادہ باعث ہے اور تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ تم رسولِ ( ص ) خدا کو اذیت پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد کبھی بھی ان کی بیویوں سے نکاح کرو بیشک یہ بات اللہ کے نزدیک بہت بڑی ( برائی گناہ کی ) بات ہے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

O ye who believe! Enter not the Prophet's houses,- until leave is given you,- for a meal, (and then) not (so early as) to wait for its preparation: but when ye are invited, enter; and when ye have taken your meal, disperse, without seeking familiar talk. Such (behaviour) annoys the Prophet: he is ashamed to dismiss you, but Allah is not ashamed (to tell you) the truth. And when ye ask (his ladies) for anything ye want, ask them from before a screen: that makes for greater purity for your hearts and for theirs. Nor is it right for you that ye should annoy Allah's Messenger, or that ye should marry his widows after him at any time. Truly such a thing is in Allah's sight an enormity.

Translated by

Muhammad Sarwar

Believers, do not enter the houses of the Prophet for a meal without permission. if you are invited, you may enter, but be punctual (so that you will not be waiting while the meal is being prepared). When you have finished eating, leave his home. Do not sit around chatting among yourselves. This will annoy the Prophet but he will feel embarrassed to tell you. God does not feel embarrassed to tell you the truth. When you want to ask something from the wives of the Prophet, ask them from behind the curtain. This would be more proper for you and for them. You are not supposed to trouble the Prophet or to ever marry his wives after his death, for this would be a grave offense in the sight of God.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

O you who believe! Enter not the Prophet's houses, unless permission is given to you for a meal, (and then) not (so early as) to wait for its preparation. But when you are invited, enter, and when you have taken your meal, disperse without sitting for a talk. Verily, such (behavior) annoys the Prophet, and he is shy of (asking) you (to go); but Allah is not shy of (telling you) the truth. And when you ask (his wives) for anything you want, ask them from behind a screen, that is purer for your hearts and for their hearts. And it is not (right) for you that you should annoy Allah's Messenger, nor that you should ever marry his wives after him (his death). Verily, with Allah that shall be an enormity.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

O you who believe! do not enter the houses of the Prophet unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished-- but when you are invited, enter, and when you have taken the food, then disperse-- not seeking to listen to talk; surely this gives the Prophet trouble, but he forbears from you, and Allah does not forbear from the truth And when you ask of them any goods, ask of them from behind a curtain; this is purer for your hearts and (for) their hearts; and it does not behove you that you should give trouble to the Apostle of Allah, nor that you should marry his wives after him ever; surely this is grievous in the sight of Allah.

Translated by

William Pickthall

O Ye who believe! Enter not the dwellings of the Prophet for a meal without waiting for the proper time, unless permission be granted you. But if ye are invited, enter, and, when your meal is ended, then disperse. Linger not for conversation. Lo! that would cause annoyance to the Prophet, and he would be shy of (asking) you (to go); but Allah is not shy of the truth. And when ye ask of them (the wives of the Prophet) anything, ask it of them from behind a curtain. That is purer for your hearts and for their hearts. And it is not for you to cause annoyance to the messenger of Allah, nor that ye should ever marry his wives after him. Lo! that in Allah's sight would be an enormity.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

ऐ ईमान लाने वालो! नबी के घरों में प्रवेश न करो, सिवाय इस के कि कभी तुम्हें खाने पर आने की अनुमति दी जाए। वह भी इस तरह कि उस की (खाना पकने की) तैयारी की प्रतिक्षा में न रहो। अलबत्ता जब तुम्हें बुलाया जाए तो अन्दर जाओ, और जब तुम खा चुको तो उठकर चले जाओ, बातों में लगे न रहो। निश्चय ही यह हरकत नबी को तकलीफ़ देती है। किन्तु उन्हें तुम से लज्जा आती है। किन्तु अल्लाह सच्ची बात कहने से लज्जा नहीं करता। और जब तुम उन से कुछ माँगों तो उन से परदे के पीछे से माँगो। यह अधिक शुद्धता की बात है तुम्हारे दिलों के लिए और उन के दिलों के लिए भी। तुम्हारे लिए वैध नहीं कि तुम अल्लाह के रसूल को तकलीफ़ पहुँचाओ और न यह कि उस के बाद कभी उस की पत्नियों से विवाह करो। निश्चय ही अल्लाह की दृष्टि में यह बड़ी गम्भीर बात है

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

اے ایمان والو نبی کے گھروں میں (بےبلائے) مت جایا کرو مگر جس وقت تم کو کھانے کے لیے اجازت دی جاوے ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو (5) لیکن جب تم کو بلایا جاوے (کہ کھانا تیار ہے) تب جایا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو اس بات سے نبی (علیہ السلام) کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں (6) اور اللہ تعالیٰ صاف صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگا کرو (7) یہ بات (ہمیشہ کے لیے) تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تم کو جائز نہیں کہ رسول (علیہ السلام) کو کلفت پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ تم آپ کے بعد آپ کی بیبیوں سے کبھی بھی نکاح کرو یہ خدا کے نزدیک بڑی بھاری (معصیت کی) بات ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

اے لوگو جو ایمان لائے ہو نبی کے گھروں میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو۔ نہ کھانے کے وقت کا انتظار کیا کرو، ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ، مگر جب کھانا کھالو تو اٹھ جایا کرو باتیں کرنے میں نہ لگے رہا کرو۔ تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں مگر وہ حیا کی وجہ سے تمہیں کچھ نہیں کہتا اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا اگر نبی کی بیویوں سے تمہیں کوئی چیز مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔ تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول کو تکلیف دو ۔ اور یہ بھی جائز نہیں کہ نبی کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، نبی کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو۔ نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ۔ مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہوجاؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ تمہاری یہ حرکتیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دیتی ہیں ، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کتے۔ اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دو ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو ، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے ۔ تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو مگر جس وقت تم کو کھانے کے لیے اجازت دی جائے ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو لیکن جب تم کو بلایا جائے تو داخل ہوجایا کرو، پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو، اس بات سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ صاف بات کہنے میں لحاظ نہیں فرماتا، اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگا کرو، یہ بات تمہارے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تم کو یہ جائز نہیں ہے کہ رسول کو کلفت پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ تم ان کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو، بیشک تمہاری یہ بات خدا کے نزدیک بڑی بھاری ہوگی،

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

اے ایمان والو مت جاؤ نبی کے گھروں میں مگر جو تم کو حکم ہو کھانے کے واسطے نہ راہ دیکھنے والے اس کے پکنے کی لیکن جب تم کو بلائے تب جاؤ پھر جب کھا چکو تو آپ آپ کو چلے جاؤ اور نہ آپس میں جی لگا کر بیٹھو باتوں میں   اس بات سے تمہاری تکلیف تھی نبی کو پھر تم سے شرم کرتا ہے اور اللہ شرم نہیں کرتا ٹھیک بات بتلانے میں اور جب مانگنے جاؤ بیبیوں سے کچھ چیز کام کی تو مانگ لو پردہ کے باہر سے اس میں خوب ستھرائی ہے تمہارے دل کو اور ان کے دل کو اور تم کو نہیں پہنچتا کہ تکلیف دو اللہ کے رسول کو اور نہ یہ کہ نکاح کرو اس کی عورتوں سے اس کے پیچھے کبھی البتہ یہ تمہاری بات اللہ کے یہاں بڑا گناہ ہے

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

اے ایمان والونبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر ہاں جب تم کو کھانے کے واسطے آنی کی اجازت دی جائے جانے کی حالت بھی یوں ہو کہ تم کو اس کھانی کی تیاری کا انتظارنہ کرنا پڑے یعنی نہ قبل از وقت نہ دعوت کے بغیر بلکہ بج تم کو بلایا جائے اس وقت جائو پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھے رہا کرو کیونکہ تمہاری یہ بات نبی کو تکلیف دیتی ہے سو نبی تم سے لحاظ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ صاف بات کہنے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا اور پیغمبر کی بیویوں سے جب تم کوئی سامان منگے جائو تو ان سے وہ سامان پردے کے باہر سے مانگا کرویہ طریقہ تمہارے دلوں کے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا بہترین ذریعہ ہے اور تم کو یہ بات کسی طرح جائز ہی نہیں کہ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچائو اور نہ تم کو یہ جائز ہے کہ تم پیغمبر کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو یہ پیغمبر کو تکلیف دینا اور ان کی بیویوں سے نکاح کرنا اللہ کے نزدیک بہت بھاری بات ہے