Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 57

سورة الأحزاب

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾

Indeed, those who abuse Allah and His Messenger - Allah has cursed them in this world and the Hereafter and prepared for them a humiliating punishment.

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسواکن عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Whoever annoys Allah and His Messenger, is cursed in this World and the Hereafter Here, Allah says: إِنَّ الَّذِينَ يُوْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالاْخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا Verily, those who annoy Allah and His Messenger, Allah has cursed them in this world and in the Hereafter, and has prepared for them a humiliating torment. Allah warns and threatens those who annoy Him by going against His commands and doing that which He has forbidden, and who persist in doing so, and those who annoy His Messenger by accusing him of having faults or shortcomings -- Allah forbid. Ikrimah said that the Ayah: إِنَّ الَّذِينَ يُوْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ (Verily, those who annoy Allah and His Messenger), was revealed concerning those who make pictures or images. In The Two Sahihs, it is reported that Abu Hurayrah said: "The Messenger of Allah said: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يُوْذِينِي ابْنُ ادَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَه Allah says: "The son of Adam annoys Me by inveighing against time, but I am time, for I cause the alternation of night and day."" The meaning of this Hadith is that in the Jahiliyyah they used to say, "How bad time is, it has done such and such to us!" They used to attribute the deeds of Allah to time, and inveigh against it, but the One Who did that was Allah, may He be exalted. So, He forbade them from this. Al-`Awfi reported that Ibn Abbas said that the Ayah, إِنَّ الَّذِينَ يُوْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ (Verily, those who annoy Allah and His Messenger), was revealed about those who slandered the Prophet over his marriage to Safiyyah bint Huyay bin Akhtab. The Ayah appears to be general in meaning and to apply to all those who annoy him in any way, because whoever annoys him annoys Allah, just as whoever obeys him obeys Allah. The Threat to Those Who fabricate Slander Allah says:

ملعون و معذب لوگ ۔ جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں ۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں ۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں ۔ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا ۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کرکے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں ۔ بقول ابن عباس یہ آیت اس بارے میں اتری ۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے ۔ اس لئے کہ رسول اللہ کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے ۔ جس طرح آپ کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب کو میرے بعد نشانہ نہ بنالینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض دبیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے ۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے ۔ جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں ۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں ۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں پھر رافضی شیعہ جو صحابہ پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے ۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے ۔ لیکن یہ بےخبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں ۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہوگئے ہیں اس لئے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں ۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ فرماتے ہیں تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو ۔ آپ سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ نے فرمایا جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے ۔ ( ترمذی ) ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے سوال کیا کہ سب سے بڑی سود خواری کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول ۔ آپ نے فرمایا سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے ۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

57۔ 1 اللہ کو ایذا دینے کا مطلب ان کے افعال کا ارتکاب ہے جو وہ ناپسند فرماتا ہے ورنہ اللہ پر ایذا پہنچانے پر کون قادر ہے ؟ جسے مشرکین، یہود اور نصاریٰ وغیرہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں۔ یا جس طرح حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں اس کے رات دن کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے (صحیح بخاری) یعنی یہ کہنا کہ زمانے نے یا فلک کج رفتار نے ایسا کردیا یہ صحیح نہیں اس لیے کہ افعال اللہ کے ہیں زمانے یا فلک کے نہیں اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانا آپ کی تکذیب آپ کو شاعر کذاب ساحر وغیرہ کہنا ہے علاوہ ازیں بعض احادیث میں صحابہ کرام کو ایذا پہنچانے اور ان کی تنقیص واہانت کو بھی آپ نے ایذا قرار دیا ہے لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٧] اللہ اور اس کے رسول کو ایذا کی صورتیں :۔ اللہ کو دکھ پہنچانے کی کئی صورتیں ہیں۔ پہلی صورت شرک ہے کہ اس کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک بنا لیا جائے چناچہ ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آدم کا بیٹا مجھے سخت دکھ پہنچاتا ہے۔ جب کہتا کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دین اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے والے سب لوگ فی الحقیقت اللہ اور اس کے رسول دونوں کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ جو رسول اللہ کو الزام تراشیوں اور طعن وتشنیع سے دکھ پہنچاتے ہیں۔ اور ایسے مواقع رسول اللہ کی زندگی میں بکثرت آتے رہے۔ وہ لوگ حقیقتاً اللہ ہی کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ رسول اللہ کی ذات اللہ کی طرف سے مامور ہے اسی لحاظ سے رسول کی اطاعت ہی فی الحقیقت اللہ کی اطاعت ہے (٤: ٨٠) اسی طرح اللہ کے رسول کی نافرمانی فی الحقیقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ اسی طرح اللہ کے رسول کو ستانا اور تکلیف پہنچانا فی الحقیقت اللہ کو دکھ پہنچانا ہے۔ پھر آخر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ذلت و رسوائی کا عذاب کیوں نہ دے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۔۔ : قرآن مجید میں وعدہ و وعید اور ترغیب و ترہیب دونوں کا تذکرہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے ہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت، شان اور ان کے پاس آپ کی مدح و ثنا کے حوالے کے ساتھ ایمان والوں کو آپ کی مدح و ثنا اور آپ پر صلاۃ وسلام کا حکم دینے کے ساتھ ہی ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو مدح و ثنا کے بجائے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دیتے ہیں۔ فرمایا ان پر اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ مراد ان لوگوں سے منافقین ہیں، جنھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ کیونکہ کسی مومن سے اس بات کا تصور ہی نہیں ہوسکتا کہ وہ جان بوجھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دے۔ 3 اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے سے مراد اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کی شان میں گستاخی کرنا اور ان کاموں کا ارتکاب ہے جو اس نے حرام قرار دیے ہیں، مثلاً یہود کا کہنا : (ید اللہ مغلولۃ) [ المائدۃ : ٦٤ ] ، نصاریٰ کا کہنا : (المسیح ابن اللہ) [ التوبۃ : ٣٠ ] اور مشرکین کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور بتوں کو اور اللہ کی مخلوق کو اس کا شریک قرار دینا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلٰی أَذًی سَمِعَہُ مِنَ اللّٰہِ ، یَدَّعُوْنَ لَہُ الْوَلَدَ ، ثُمَّ یُعَافِیْہِمْ وَ یَرْزُقُہُمْ ) [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : ( إن اللّٰہ ھو الرزاق۔۔ ) : ٧٣٧٨ ] ” اللہ تعالیٰ سے زیادہ تکلیف دہ بات سن کر صبر کرنے والا کوئی نہیں، لوگ اس کے لیے اولاد قرار دیتے ہیں، پھر بھی وہ انھیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔ “ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اللہ عزوجل نے فرمایا : ( یُؤْذِیْنِي ابْنُ آدَمَ یَسُبُّ الدَّہْرَ وَ أَنَا الدَّہْرُ أُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَ النَّہَارَ ) [ مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النہي عن سب الدھر : ٢؍٢٢٤٦ ] ” ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، (اس طرح کہ) وہ زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، رات دن کو میں بدلتا ہوں۔ “ اس کے علاوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور اہل ایمان کو ایذا بھی اللہ تعالیٰ کو ایذا ہے، جیسا کہ کعب بن اشرف کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنوں کی ہجو کرنے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ ؟ فَإِنَّہُ قَدْ آذَی اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہُ ) [ بخاري، الرھن، باب رھن السلاح : ٢٥١٠ ] ” کعب بن اشرف (کے قتل) کے لیے کون تیار ہے ؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔ “ 3 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا سے مراد کسی بھی طرح کی ایذا ہے، جسمانی ہو یا روحانی، آپ کو جھٹلانا ہو یا مخالفت کرنا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر طرح کی تکلیف پہنچائی گئی، انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللّٰہِ وَ مَا یُخَافُ أَحَدٌ وَ لَقَدْ أُوْذِیْتُ فِي اللّٰہِ وَمَا یُؤْذٰی أَحَدٌ ) [ ترمذي، صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب : ٢٤٧٢ ] ” مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں ڈرایا گیا اتنا کہ کسی کو اتنا نہیں ڈرایا جاتا اور مجھے اللہ کی خاطر ایذا دی گئی اتنی کہ کسی کو اتنی نہیں دی جاتی۔ “ ان ایذاؤں میں مکہ مکرمہ میں شاعر، کاہن، ساحر کہنا، مذاق اڑانا، سجدے کی حالت میں اونٹنی کی اوجھڑی اور آلائش لا کر اوپر ڈال دینا، چادر کے ساتھ گلا گھونٹ دینا، شعب ابی طالب میں تین سال محصور رکھنا، اہل طائف کا زبانی بدسلوکی کے علاوہ سنگ باری کرنا وغیرہ شامل ہیں اور مدینہ میں منافقوں کی بد زبانی اور طعنہ زنی بھی، مثلاً ” لیخرجن الاعز منہا الاذل “ اور ” ویقولون ھو اذن “ جیسی باتیں آپ کے لیے شدید ایذا کا باعث تھیں۔ پچھلی آیات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دینے والی بعض ایسی چیزوں سے بھی منع کیا گیا ہے جن کا ایذا ہونا عام طور پر معلوم نہیں تھا، خصوصاً آیت (٥٣) میں بیان کردہ چیزیں۔ 3 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذا میں آپ کی تکذیب اور مخالفت کے علاوہ یہ بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات پر طعن و تشنیع کی جائے، یا آپ کے پیاروں کے متعلق بدزبانی کی جائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (قصداً ) ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے، اور (اسی طرح) جو لوگ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو بدون اس کے کہ انہوں نے کچھ (ایسا کام) کیا ہو (جس سے وہ مستحق سزا ہوجاویں) ایذاء پہنچاتے ہیں تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا (اپنے اوپر) بار لیتے ہیں (یعنی اگر وہ ایذاء قولی ہے تو بہتان ہے اور اگر فعلی ہے تو مطلق گناہ ہی ہے)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِيْنًا۝ ٥٧ أذي الأذى: ما يصل إلى الحیوان من الضرر إمّا في نفسه أو جسمه أو تبعاته دنیویاً کان أو أخرویاً ، قال تعالی: لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذى [ البقرة/ 264] ، قوله تعالی: فَآذُوهُما [ النساء/ 16] إشارة إلى الضرب، ونحو ذلک في سورة التوبة : وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ : هُوَ أُذُنٌ [ التوبة/ 61] ، وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ [ التوبة/ 61] ، ولا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسی [ الأحزاب/ 69] ، وَأُوذُوا حَتَّى أَتاهُمْ نَصْرُنا [ الأنعام/ 34] ، وقال : لِمَ تُؤْذُونَنِي [ الصف/ 5] ، وقوله : يَسْئَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ : هُوَ أَذىً [ البقرة/ 222] ( ا ذ ی ) الاذیٰ ۔ ہرا س ضرر کو کہتے ہیں جو کسی جاندار کو پہنچتا ہے وہ ضرر جسمانی ہو یا نفسانی یا اس کے متعلقات سے ہو اور پھر وہ ضرر دینوی ہو یا اخروی چناچہ قرآن میں ہے : ۔ { لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى } ( سورة البقرة 264) اپنے صدقات ( و خیرات ) کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر برباد نہ کرو ۔ اور آیت کریمہ ۔ { فَآذُوهُمَا } ( سورة النساء 16) میں مار پٹائی ( سزا ) کی طرف اشارہ ہے اسی طرح سورة تو بہ میں فرمایا ۔ { وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ } ( سورة التوبة 61) اور ان میں بعض ایسے ہیں جو خدا کے پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے ۔ { وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة التوبة 61) اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لئے عذاب الیم ( تیار ) ہے ۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى } ( سورة الأحزاب 69) تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی ( عیب لگا کر ) رنج پہنچایا ۔ { وَأُوذُوا حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا } ( سورة الأَنعام 34) اور ایذا ( پر صبر کرتے رہے ) یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی ۔ { لِمَ تُؤْذُونَنِي } ( سورة الصف 5) تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو۔ اور آیت کریمہ : ۔ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ } ( سورة البقرة 222) میں حیض ( کے دنوں میں عورت سے جماع کرنے ) کو اذی کہنا یا تو از روئے شریعت ہے یا پھر بلحاظ علم طب کے جیسا کہ اس فن کے ماہرین بیان کرتے ہیں ۔ اذیتہ ( افعال ) ایذاء و اذیۃ و اذی کسی کو تکلیف دینا ۔ الاذی ۔ موج بحر جو بحری مسافروں کیلئے تکلیف دہ ہو ۔ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر» معدول عن تقدیر ما فيه الألف واللام، ولیس له نظیر في کلامهم، فإنّ أفعل من کذا، - إمّا أن يذكر معه «من» لفظا أو تقدیرا، فلا يثنّى ولا يجمع ولا يؤنّث . - وإمّا أن يحذف منه «من» فيدخل عليه الألف واللام فيثنّى ويجمع . وهذه اللفظة من بين أخواتها جوّز فيها ذلک من غير الألف واللام . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ یہ اصل میں ولاجر دار الحیاۃ الاخرۃ ہے ( اور دار کا لفظ الحیاۃ الاخرۃ کی طرف مضاف ہے ) اور اخر ( جمع الاخریٰ ) کا لفظ الاخر ( معرف بلام ) سے معدول ہے اور کلام عرب میں اس کی دوسری نظیر نہیں ہے کیونکہ افعل من کذا ( یعنی صیغہ تفصیل ) کے ساتھ اگر لفظ من لفظا یا تقدیرا مذکورہ ہو تو نہ اس کا تثنیہ ہوتا اور نہ جمع اور نہ ہی تانیث آتی ہے اور اس کا تثنیہ جمع دونوں آسکتے ہیں لیکن لفظ آخر میں اس کے نظائر کے برعکس الف لام کے بغیر اس کے استعمال کو جائز سمجھا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ الاخر سے معدول ہے ۔ عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده «1» ، فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» «2» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا هين الْهَوَانُ علی وجهين : أحدهما : تذلّل الإنسان في نفسه لما لا يلحق به غضاضة، فيمدح به نحو قوله : وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ونحو ما روي عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم :«المؤمن هَيِّنٌ ليّن» الثاني : أن يكون من جهة متسلّط مستخفّ بهفيذمّ به . وعلی الثاني قوله تعالی: الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] ، فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] ، وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] ، وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] ، فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] ، وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] ويقال : هانَ الأمْرُ علی فلان : سهل . قال اللہ تعالی: هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] ، وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] ، وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] والْهَاوُونَ : فاعول من الهون، ولا يقال هارون، لأنه ليس في کلامهم فاعل . ( ھ و ن ) الھوان اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے انسان کا کسی ایسے موقعہ پر نر می کا اظہار کرتا جس میں اس کی سبکی نہ ہو قابل ستائش ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر متواضع ہوکر چلتے ہیں ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے المؤمن هَيِّنٌ ليّن» کہ مومن متواضع اور نرم مزاج ہوتا ہے دوم ھان بمعنی ذلت اور رسوائی کے آتا ہے یعنی دوسرا انسان اس پر متسلط ہو کر اسے سبکسار کرے تو یہ قابل مذمت ہے چناچہ اس معنی میں فرمایا : ۔ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے ۔ فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] تو۔ کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] اور کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے ۔ وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] اور آخر کار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] انکے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] اور جس کو خدا ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے ولاا نہیں ۔ علی کے ساتھ کے معنی کسی معاملہ کے آسان ہو نیکے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] کہ یہ مجھے آسان ہے ۔ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] اور یہ اس پر بہت آسان ہے ۔ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے ہو ۔ ھاودن کمزور یہ ھون سے ہے اور چونکہ قاعل کا وزن کلام عرب میں نہیں پایا اسلئے ھاون کی بجائے ہارون بروزن فا عول کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (ان الذین یوذون اللہ ورسولہ ۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں) یعنی جو لوگ اللہ کے دوستوں اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کی ذات کو ایذا لاحق ہونا ممکن نہیں ہے اس لئے مجازی طور پر اس کا اطلاق ہوا ہے کیونکہ مخاطبین کو یہ بات خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے جس طرح یہ قول باری ہے (واسئل القریۃ گائوں سے پوچھو) یعنی گائوں والوں سے پوچھو۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں قتل و جلا وطنی اور آخرت میں دوزخ کے ساتھ عذاب دیتا ہے جس میں یہ ذلیل کیے جائیں گے یہ آیت کریمہ یہود و نصاری کے بارے میں نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٧ { اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ” یقینا وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو “ یہ منافقین کا ذکر ہے۔ بعض دوسری مدنی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی منافقین کا ذکر کثرت سے آیا ہے۔ { لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیْنًا } ” اللہ نے لعنت کی ہے ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں اور ان کے لیے اس نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

108 "To trouble Allah" implies two things: That Allah should be disobeyed, that an attitude of disbelief and shirk and atheism be adopted with regard to Him, and that things made unlawful by Him be made lawful; and (2) that His Messenger be troubled, for just as obedience to the Messenger is obedience to Allah, so is opposition and disobedience of the Messenger opposition and disobedience of Allah.

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :108 اللہ کو اذیت دینے سے مراد دو چیزیں ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کی نافرمانی کی جائے ، اس کے مقابلے میں کفر و شرک اور دہریت کا رویہ اختیار کیا جائے ، اور اس کے حرام کو حلال کر لیا جائے ۔ دوسرے یہ کہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دی جائے ، اور رسول کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٧‘ ٥٨۔ یہ آیتیں ان لوگوں کے حق میں اتری ہیں جو پیٹھ پیچھے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو برا کہتے تھے اور جنہوں نے اللہ کے رسول کی بی بی حضرت عائشہ (رض) پر طوفان لگایا جس کا قصہ سورة تور میں گزر چکا ہے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ (رض) (رض) کی روایت ١ ؎ سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیس نے فرمایا لوگ زمانہ کو برا کہہ کر مجھ کو ایذادیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے زمانہ کا برا ہو کہ ہمارے ساتھ اس نے ایسا اور ایسا کیا اس میں یہ لوگ دنیا کے کاموں کو زمانہ کی طرف نسبت کر کے اس کو برا کہتے تھے اور حقیقت میں ان کاموں کا کرنے والا اللہ ہے اس لیے وہ ناسمجھی سے گویا اللہ کو برا کرہتے تھے ‘ اگرچہ سارا جہان اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے عاجز اور لاچار ہے کسی کی کیا طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچا سکے لیکن سورة الزمر میں آوے گا کہ نافرمانی کے کام اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے عاجز اور لاچار ہے کسی کی کیا طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچاسکے لیکن سورة الزمر میں آوے گا کہ نلا فرمانی کے کام اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اسی ناپسند نہیں اسی ناپسندی کو ان آیتوں اور حدیث قدسی میں ایذا فرمایا ہے تاکہ لوگ کو معلوم ہوجاوے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا گویا اللہ تعالیٰ کی اذا کے برابر ہے معتبر سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں عبداللہ (رض) بن معقل سے روایت ٢ ؎ ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے میرے صحابہ (رض) کو ایذادی اس نے مجھ کو ایذدی اور جس نے مجھ کو ایذادی اس نے گویا اللہ تعالیٰ کو ایذادی ‘ اوپر کی حدیث قدسی اور اس حدیث کو ملا کر ان آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ٹھہرا کہ جس کسی نے ناسمجھی سے اللہ تعالیٰ کی ناپسندی کو کوئی بات منہ سے نکالی یا اللہ کے رسول یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کے ایذا کی کوئی بات کی یا مسلمانوں پر کوئی جھوٹا بہتان لگا یا تو ایسا شخص اللہ کی رحمت سے دور قرار پا کر بڑا گناہ گار اور سخت عذاب میں گرفتار ہوگا۔ صحیح مسلم ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ٣ ؎ ہے (٣ ؎ مشکوۃ باب حفظ اللسان ذایفبتہ والشتم فصل اول ‘) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر کسی شخص میں کوئی بات پائی جاوے تو پیٹھ پیچھے ایسی بات کی مذمت کو غیبت کہتے ہیں اور اگر اس شخص میں وہ بات نہ پائی جاوے تو اس کو بہتان کہتے ہیں ٧ ان آیتوں میں بہتان کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اللہ تعالیٰ کو ستانا کفر و شرک اور اس کی نافرمانی کرنا ہے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ستانا یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکذیب و مخالفت کی جائے، ازواج (رض) و مطہرات پر طعن وتشنیع کیا جائے، صحابہ (رض) کے حق میں طعن کیا جائے۔ حدیث میں ہے :” من اذاھم فقد اذانی “ ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اللہ کے ناراض کرنے کو مجازا ایذا کہہ دیا گیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ ایک طرف اپنے محبوب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود وسلام بھیجتا ہے اور دوسری جانب ان لوگوں پر پھٹکار کرتا ہے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخیاں کرتے ہیں۔ اس فرمان میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کبریاء کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ” اللہ “ کو تکلیف دیتے ہیں ” اللہ “ ان پر لعنت پھٹکار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ” فِیْ نَفْسِہٖ “ کوئی چیز تکلیف نہیں دے سکتی۔ بالفرض کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی باغی اور سرکش ہوجائے تو رائی کے دانے سے ہزاروں گنا کم بھی اللہ تعالیٰ کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ وہ کا ئنات کی خیر وشر سے کامل اور اکمل طور پر بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچانے سے مراد اس کے رسول اور مومن بندوں اور بندیوں کو تکلیف پہنچانا ہے۔ گستاخوں کی گستاخی اور بد فطرت لوگوں کی بد فطرتی کو واضح اور ان کے جرم کی سنگینی بتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی اذّیت کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے تاکہ جرم کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے گستاخ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخی کرنے سے باز آجائیں۔ جہاں تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچانے کا تعلق ہے کفار، مشرکین، منافق اور یہود و نصارٰی نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی لیکن اس کے باوجود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پورے حوصلے کے ساتھ اپنی دعوت کو پھیلاتے رہے تآنکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں وہ کامیابی اور شہرت دوام عنایت فرمائی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے اور آپ کے بعد قیامت تک کسی کو حاصل نہ ہوگی۔ جس طرح دین اسلام کے مخالفوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیتیں پہنچائیں اسی طرح ہی انہوں نے صحابہ (رض) اور صحابیات (رض) کو ہر قسم کی تکالیف دیں۔ حالانکہ صحابہ اور صحابیات کا کوئی گناہ نہیں تھا جس کی بناء پر دشمن انہیں تکلیف دیتے۔ یہاں تک کہ حضرت عائشہ طاہرہ صدیقہ (رض) کے دامن پاک پر دھبہ لگانے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ (رض) کے دامن کو پاک صاف رکھا۔ جن لوگوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگایا اور نبی اور صحابہ کرام (رض) اور مومن خواتین و حضرات کو اذیت پہنچائی۔ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت برساتا ہے اور آخرت میں انہیں ذلیل کردینے والا عذاب دے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إنَّّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْب) [ رواہ البخاری : باب التواضع ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی۔ میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُْوْبِقَاتِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاھُنَّ قَالَ اَلشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَاوَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّيْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الوصایا ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچ جاؤ صحابہ کرام (رض) نے کہا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ گناہ کون کون سے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی جان کو قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاکدامن، مومن، بیخبر عورتوں پر تہمت لگانا۔ “ مسائل ١۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے۔ ٢۔ جو لوگ پاک دامن مومن خواتین و حضرات پر تہمت لگاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل کردینے والا عذاب دے گا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ایذا دینے والے اور تہمت لگانے والوں کا برا انجام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اکرام و احترام کا حکم دینے اور آپ پر صلوٰۃ وسلام بھیجنے کا حکم فرمانے کے بعد آپ کو تکلیف دینے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ کو اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دیتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کردی۔ لعنت پھٹکار ڈالنے اور اللہ کی رحمت سے دور ہونے کو کہا جاتا ہے اور سب سے بڑی لعنت کافروں ہی پر ہے۔ گو بعض معصیتوں پر بھی لعنت وارد ہوئی ہے۔ (کن کن افراد پر لعنت وارد ہوئی ہے انہیں ہم نے چہل حدیث میں جمع کردیا ہے اس کا مطالعہ کیا جائے) اللہ تعالیٰ تاثر اور انفعال سے پاک ہے اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ ایسے افعال کے ارتکاب کو اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچانے سے تعبیر فرمایا ہے جن سے مخلوق کو تکلیف ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں (یعنی میں نے زمانے کو پیدا کیا) سب امور میرے قبضہ قدرت میں ہیں میں رات اور دن کو الٹتا پلٹتا ہوں۔ (رواہ البخاری) حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تکلیف کی بات سن کر صبر کرنے والا اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں، لوگ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں (حالانکہ وہ اس سے پاک ہے) پھر بھی وہ انہیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔ حضرت سائب بن خلاد (رض) نے بیان کیا کہ ایک شخص کچھ لوگوں کا امام بنا اس نے قبلہ کی جانب تھوک دیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف دیکھ رہے تھے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ نے اس قوم سے فرمایا کہ آئندہ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانا چاہی تو ان لوگوں نے اسے منع کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد سے باخبر کردیا۔ اس شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا تذکرہ کیا (یعنی یہ دریافت کیا کہ کیا آپ نے ایسا فرمایا ہے) آپ نے فرمایا ہاں ! حضرت سائب بن خلاد (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے خیال ہے کہ آپ نے یوں بھی فرمایا کہ بلاشبہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی۔ (رواہ ابو داؤد) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اللہ کو ایذا دینے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دینا مراد ہے اور اس میں اور زیادہ آپ کا اکرام ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذا دینے کو اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے سے تعبیر فرمایا۔ روایات حدیث سے اس معنی کی بھی تائید ہوئی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مغفل (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے صحابہ (رض) کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، ان کو میرے بعد اپنے اعتراضات و تنقیدات کا نشانہ نہ بناؤ۔ کیونکہ ان سے جس نے محبت کی میری محبت کی وجہ سے کی اور جس نے ان سے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے رکھا، اور جس نے ان کو ایذا پہنچائی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی گرفت فرمائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٤٥ عن الترمذی) آیت شریفہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر قسم کی ایذا پہنچانے پر ملعون ہونے کا ذکر ہے، بعض حضرات نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل فرمایا ہے کہ جس زمانہ میں حضرت عائشہ صدیقہ (رض) پر بہتان باندھا گیا (جس کا ذکر سورة مومنون کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے) تو رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے گھر میں کچھ لوگ جمع ہوئے جو اس بہتان کو پھیلانے اور چلتا کرنے کی باتیں کرتے تھے، اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) سے اس کی شکایت فرمائی کہ یہ شخص مجھے ایذا پہنچاتا ہے۔ سنن ترمذی کی جو حدیث ہم نے اوپر نقل کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا جس نے میرے صحابہ کو ایذا دی اس نے ہمیں بھی ایذا دی۔ اسی سے سمجھ لیا جائے کہ جو لوگ حضرات صحابہ کرام ] کو برا کہتے ہیں اور ان پر تبرا کرتے ہیں یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچانے کا عمل کرتے ہیں لہٰذا قرآن کریم کی رو سے یہ لوگ ملعون ہیں، اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والے مستحق لعنت ہیں، پھر اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو جو لوگ تکلیف پہنچاتے ہیں اور وہ کام ان کے ذمہ لگاتے ہیں جو انہوں نے نہیں کیے یعنی ان پر تہمت باندھتے ہیں، ان لوگوں نے بہتان کا اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے ذمہ اٹھایا۔ (جس کا وبال آخرت میں بہت زیادہ ہے۔ ) بد زبانی اور بد گوئی پر وعید حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف لے گئے اور بلند آواز سے فرمایا کہ اے وہ لوگو ! جنہوں نے زبان سے اسلام قبول کیا ہے اور ان کے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا مسلمانوں کو تکلیف نہ دو اور ان پر عیب نہ لگاؤ اور ان کے پوشیدہ حالات کے پیچھے نہ پڑو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کسی چھپے ہوئے عیب کی بات کے پیچھے پڑے گا اللہ اس کے پوشیدہ عیب کے پیچھے لگے گا اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے لگے اسے رسوا کردے گا اگرچہ اپنے گھر کے اندر ہی کرلے۔ (رواہ الترمذی) حضرت سعید بن زید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بڑا سود یہ ہے کہ ناحق کسی مسلمان کی آبرو میں زبان درازی کی جائے۔ (ابو داؤد) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر گزرا جن کے تانبے کے ناخن تھے وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے میں نے کہا اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں ( یعنی ان کی غیبت کرتے ہیں) اور ان کی بےآبروئی کرنے میں پڑے رہتے ہیں۔ (رواہ ابو داؤد، کما فی المشکوٰۃ ص ٤٢٩) لوگوں میں غیبت، بدگوئی، چغل خوری اور ایذا رسانی کی جو مجلسیں منعقد ہوتی ہیں سب اس آیت کریمہ اور حدیث شریف کے مضمون پر غور کریں اور اپنی اصلاح کریں اور زبان پر پابندی لگائیں کہ زبان کا یہ بھیڑیا صاحب زبان ہی کو پھاڑ کھاجائے گا۔ اگر کبھی کسی چغل خور، بد گو کی طرف سے کسی مسلمان کی بےآبروئی ہوتی دیکھیں تو اس کا دفاع کریں اور پارٹ لیں۔ حضرت معاذ بن انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی شخص نے منافق کی باتیں سن کر کسی مومن کی حمایت کی اللہ اس کے لیے ایک فرشتہ بھیج دے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو دوزخ کی آگ سے بچائے گا، اور جس شخص نے کسی مسلمان کو عیب لگانے کے لیے کوئی بات کہی تو اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کے پل (یعنی پل صراط) پر روک دے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے (یا اسے راضی کرے جس کی بےآبروئی کی تھی یا عذاب بھگتے) (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٢٤)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

60:۔ ان الذین الخ، یہ کفار و منافقین کے لیے دنیوی اور اخروی تخویف ہے اللہ اور اس کے رسول کی ایذا سے مراد ہے کہ ان کے احکام کی مخالفت کی جائے اور ان کے ناپسندیدہ افعال و اعمال کا ارتکاب کیا جائے عبر بایذاء اللہ ورسولہ عن فعل ما لا یرضی بہ اللہ ورسولہ کالکفر (مدارک) ارید بالایذاء ارتکاب مالا یرضیانہ من الکفر وکبائر المعاصی مجاز لانہ سب او لازم لہ (روح ج 22 ص 87) ۔ لعنہم اللہ الخ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں اپنی رحمت و برکت سے محروم کر دے گا۔ اور ان کو آخرت میں رسوا کن عذاب میں مبتلا کرے گا۔ یا اللہ کی ایذا سے شرک کرنا اورحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذاء سے آپ کو ساحر و مجنون وغیرہ کہنا مراد ہے۔ قال الجمہور معناہ (ایذاء اللہ) بالکفر و نسبۃ الصاحبۃ والولد والشریک الیہ ووصفہ بما لا یلیق بہ الخ (قرطبی ج 14 ص 237) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

57۔ بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ستانے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دیتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذلیل اور رسوا کرنے والا عذاب تیار کررکھا ہے۔ یہاں بھی اوپر کی طرح عموم مجاز ہے اللہ تعالیٰ کی ایذا رسانی سے مراد ان افعال کا ارتکاب ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور نا رضا مندی کا موجب ہوں ۔ قصدا ً کا لفظ تمہید میں میں نے عرض کیا کیونکہ اوپر جو باتیں گزری ہیں مثلاً ازواج مطہرات کا نان و نفقہ طلب کرنا یا کھانے کے بعد پیغمبر کے گھر میں باتیں کرنا وہاں مقصد ایذا نہ تھا اور اس آیت میں اس ایذا رسانی پر وعید ہے جو کفار اور اہل نفا ق کا شیوہ تھا، آگے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایذا اور تکلیف دینے پر وعید ہے اشارد ہوتا ہے۔