Whoever annoys Allah and His Messenger, is cursed in this World and the Hereafter Here,
Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ يُوْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالاْخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا
Verily, those who annoy Allah and His Messenger, Allah has cursed them in this world and in the Hereafter, and has prepared for them a humiliating torment.
Allah warns and threatens those who annoy Him by going against His commands and doing that which He has forbidden, and who persist in doing so, and those who annoy His Messenger by accusing him of having faults or shortcomings -- Allah forbid.
Ikrimah said that the Ayah:
إِنَّ الَّذِينَ يُوْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
(Verily, those who annoy Allah and His Messenger), was revealed concerning those who make pictures or images.
In The Two Sahihs, it is reported that Abu Hurayrah said:
"The Messenger of Allah said:
يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يُوْذِينِي ابْنُ ادَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَه
Allah says: "The son of Adam annoys Me by inveighing against time, but I am time, for I cause the alternation of night and day.""
The meaning of this Hadith is that in the Jahiliyyah they used to say, "How bad time is, it has done such and such to us!"
They used to attribute the deeds of Allah to time, and inveigh against it, but the One Who did that was Allah, may He be exalted. So, He forbade them from this.
Al-`Awfi reported that Ibn Abbas said that the Ayah,
إِنَّ الَّذِينَ يُوْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
(Verily, those who annoy Allah and His Messenger), was revealed about those who slandered the Prophet over his marriage to Safiyyah bint Huyay bin Akhtab. The Ayah appears to be general in meaning and to apply to all those who annoy him in any way, because whoever annoys him annoys Allah, just as whoever obeys him obeys Allah.
The Threat to Those Who fabricate Slander
Allah says:
ملعون و معذب لوگ ۔
جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں ۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں ۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں ۔ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا ۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کرکے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں ۔ بقول ابن عباس یہ آیت اس بارے میں اتری ۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے ۔ اس لئے کہ رسول اللہ کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے ۔ جس طرح آپ کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب کو میرے بعد نشانہ نہ بنالینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض دبیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے ۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے ۔ جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں ۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں ۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں پھر رافضی شیعہ جو صحابہ پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے ۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے ۔ لیکن یہ بےخبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں ۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہوگئے ہیں اس لئے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں ۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ فرماتے ہیں تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو ۔ آپ سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ نے فرمایا جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے ۔ ( ترمذی ) ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے سوال کیا کہ سب سے بڑی سود خواری کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول ۔ آپ نے فرمایا سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے ۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔