Surat Saba

Sheba

Surah: 34

Verses: 54

Ruku: 6

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة سَبـَا نام : آیت 15 کے فقرے لقد کان لسبا فی مسکنھم آیۃ سے ماخوذ ہے ۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورہ جس میں سبا کا ذکر آیا ہے ۔ زمانۂ نزول : اس کے نزول کا ٹھیک زمانہ کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں ہوتا ۔ البتہ انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ یا تو مکہ کا دور متوسط ہے یا دور اول ۔ اور اگر دور متوسط ہے تو غالباً اس کا ابتدائی زمانہ ہے جبکہ ظلم و ستم کی شدت شروع نہ ہوئی تھی اور ابھی صرف تضحیک استہزاء ، افواہی جنگ ، جھوٹے الزامات اور وسوسہ اندازیوں سے اسلام کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی ۔ موضوع اور مضمون : اس سورہ میں کفار کے ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید و آخرت پر اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر زیادہ تر طنز و تمسخر اور بیہودہ الزامات کی شکل میں پیش کرتے تھے ۔ ان اعتراضات کا جواب کہیں تو ان کو نقل کر کے دیا گیا ہے ، اور کہیں تقریر سے خود یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ کس اعتراض کا جواب ہے ۔ جوابات اکثر و بیشتر تفہیم و تذکیر اور استدلال کے انداز میں ہیں ، لیکن کہیں کفار کو ان کی ہٹ دھرمی کے برے انجام سے ڈرایا بھی گیا ہے ۔ اسی سلسلہ میں حضرت داؤد علیہ السلام و سلیمان علی السلام اور قوم سبا کے قصے اس غرض کے لیے بیان کیے گئے ہیں کہ تمہارے سامنے تاریخ کی یہ دونوں مثالیں موجود ہیں ۔ ایک طرف حضرت داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بڑی طاقتیں بخشیں اور وہ شوکت و حشمت عطا کی جو پہلے کم ہی کسی کو ملی ہے ، مگر یہ سب کچھ پا کر وہ کبر و غرور میں مبتلا نہ ہوئے بلکہ اپنے رب کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائے اس کے شکر گذار بندے ہی بنے رہے ۔ اور دوسری طرف سبا کی قوم ہے جسے اللہ نے جب اپنی نعمتوں سے نوازا تو وہ پھول گئی اور آخر کار اس طرح پارہ پارہ ہوئی کہ اس کے بس افسانے ہی اب دنیا میں باقی رہ گئے ہیں ۔ ان دونوں مثالوں کو سامنے رکھ کر خود رائے قائم کر لو کہ توحید و آخرت کے یقین اور شکر نعمت کے جذبے سے جو زندگی بنتی ہے وہ زیادہ بہتر یا وہ زندگی جو کفر و شرک اور انکار آخرت اور دنیا پرستی کی بنیاد پر بنتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ سبا اس سورت کا بنیادی موضوع اہل مکہ اور دوسرے مشرکین کو اسلام کے بنیادی عقائد کی دعوت دینا ہے، اس سلسلے میں ان کے اعتراضات اور شبہات کا جواب بھی دیا گیا ہے، اور ان کو نافرمانی کے برے انجام سے بھی ڈرایا گیا ہے، اسی مناسبت سے ایک طرف حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی اور دوسری طرف قوم سبا کی عظیم الشان حکومتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کو ایسی زبردست سلطنت سے نوازا گیا جس کی کوئی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی، لیکن ان برگزیدہ پیغمبروں کو کبھی اس سلطنت پر ذرہ برابر غرور نہیں ہوا، اور وہ اس سلطنت کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے رہے، اور اپنی حکومت کو نیکی کی ترویج اور بندوں کی فلاح وبہبود کے کاموں میں استعمال کیا، چنانچہ وہ دنیا میں بھی سرخرو رہے، اور آخرت میں بھی اونچا مقام پایا، دوسری طرف قوم سبا کو جو یمن میں آباد تھی، اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی خوشحالی سے نوازا ؛ لیکن انہوں نے ناشکری کی روش اختیار کی، اور کفر وشرک کو فروغ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا، اور ان کی خوشحالی ایک قصہ ٔ پارینہ بن کر رہ گئی، ان دونوں واقعات کا ذکر فرماکر سبق یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اقتدار حاصل ہو یا دنیوی خوشحالی نصیب ہو تو اس میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کو بھلا بیٹھنا تباہی کو دعوت دینا ہے، اس سے مشرکین کے ان سرداروں کو متنبہ کیا گیا ہے جو اپنے اقتدار کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر دین حق کے راستے میں روڑے اٹکا رہے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

سورة نمبر ٣٤ سورة نمبر : ٣٤ کل رکوع : ٦ آیات : ٥٤ الفاظ و کلمات : ٨٩٦ حروف : ٣٦٣٦ مقام نزول : مکہ مکرمہ اللہ کا یہ اٹل قانون ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی اور دین کے بنیادی اصولوں کی پابندی اختیار کی اللہ نے ان کو دنیا میں بھی کامیاب کیا اور آخرت کی ہر نعمت ان کو دی جائے گی لیکن جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا اور انہوں نے اپنی دولت اور عالی شان عمارتوں پر بےجا فخر و غرور کیا تو ان کو دنیا میں تو یہ سزا دی گئی کہ ان کا سب تباہ و برباد کردیا گیا اور آخرت میں ان کو سخت سزا دی جائے گی۔ رزق میں وسعت اور تنگی یہ دونوں اللہ کی طرف سے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے اس کو رزق دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کی روزی کو تنگ کردیتا ہے وہی سب سے بہتر رازق ہے وہی برے حالات کو بہتر حالات میں تبدیل کردیتا ہے۔ تعارف سورة سبا سورة سبا میں اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور قوم سباد دونوں کے واقعات زندگی بیان کر کے کفار عرب کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ان میں سے جس کی زندگی کو بھی اپنائیں گے دونوں کا انجام واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان واقعات کے ذریعہ ہر ایک کے ضمیر سے ایک ہی سوال کیا ہے کہ وہ اس بات پر غور کرکے فیصلہ کرے جب اللہ کے فرما نبرداروں اور اور نافرمانوں کا ایک جیسا انجام نہیں ہے تو اب وہ ان دونوں میں سے کونسا راستہ اختیار کرکے کامیاب یا ناکام ہونا چاہتا ہے ۔ حضرت دائود اور ان کے صاحبزادے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے زبردست حکومتیں اور سلطنتیں عطا فرمائی تھیں مگر انہوں نے اور ان کے ماننے والوں نے کفر و شرک اور غرور تکبر کے بجائے اللہ کا شکر اور مصائب پر صبر کرنے کو زندگی بنایا تو آج بھی ان کا نام عزت سے لیا جاتا ہے اور قیامت تک ان کو یہ عظمتیں حاصل رہیں گی۔ اس کے برخلاف قوم سبا جس کو اللہ نے ایک ہزار سال تک دنیا پر حکومت کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔ سوکت، حشمت، عزت سر بلندی و دولت سے مالا مال فرمایا۔ ان کی ہدایت کے لئے بےسما انبیاء کرام کو بھیجا مگر انہوں نے اللہ سے بغاوت کرکے نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا۔ بت پرستی اور جہالت کے ہزاروں وہ طریقے اختیار کیے جن سے اللہ کا غضب جوش میں آگیا اور ان کو اتنی سخت سزادی گئی کہ آج ان کا کوئی نام لیوا تک موجود نہیں ہے۔ ان کی عالی شان عمارتوں اور مکانات کے کھنڈرات بھی پکار کار کر کہہ رہے ہیں کہ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت مہر بان ہے لیکن جو لوگ نافرمانی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کو دنیا سے اس طرح مٹا دیا جاتا ہے کہ پھر ان کا ذکرصرف قصے کہانیاں بن کر رہ جاتا ہے ۔ یہ اللہ کا ایسا دستور اور طریقہ ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ فرمایا گیا ہے کہ شیطان جو انسان کا ازالی دشمن ہے وہ لوگوں کا بہکا کر غلط راستے پر ڈال دیتا ہے اور اس طرح وہ عذاب الہٰی کا شکا ہوجاتے ہیں لیکن جو اللہ کے نیک بندے ہیں وہ شیطان کے پھیلائے ہوئے جال میں کبھی نہیں پھستے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن میدان حشر میں کفار و مشرکین اور ان بتوں کا ذکر کیا ہے جنہیں انہوں نے دنیا میں اپنا سفارشی اور معبود بنا رکھا تھا کہ وہ ایک دوسرے پر الزامات لگائیں گے اور لعنتیں بھیجیں گے مگر اس وقت ان کا پچھتانا ان کے کام نہ آسکے گا اور ان دونوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ نبی کری م (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار مکہ کی باتوں سے شدید رنج پہنچتا تھا اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ماننے والوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر آج یہ کفار مشرکین اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور آپ کی تعلیمات کع جھٹلا رہے ہیں تو یہ ایسی نئی بات نہیں ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے ہیں ان کو اسی طرح جھٹلایا گیا ، تنگ کیا گیا مگر اللہ نے ان انبیاء کو اور ان کے ماننے والوں کو کامیاب فرمایا۔ آپ بھی اسی طرح کامیاب و با مراد ہوں گے فرمایا کہ جو لوگ اپنے مال و دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں پر اس قدر اترا رہے ہیں ان کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے کیونکہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا تو یہ مال و دولت اور حکومت و سلطنت ان کے کسی کام نہ آسکے گی اور اگر انہوں نے اللہ و رسول کا کہا مانا اور ان کے راستے پر چلے تو ان کے لیے جنت کے وہ بہترین اور حسین و خوبصورت باغات ہوں گے جن میں وہ آرام و سکون اور چین و اطمینان سے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی ہر نیکی کا ان کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا لیکن جن لوگوں نے اپنے مال و دولت اور عظیم الشان عمارتوں پے بےجا فکر و غرور کرکے کفر و شرک کا راستہ اختیار کیا تو ان کو جہنم کی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی آگ کا ایندھن بننا پڑے گا۔ فرمایا کہ رزق کی وسعت اور رزق میں تنگی یہ سب اللہ کر طرف سے ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق بہت زیادہ وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے اس کے حالات کو اس پر تنگ اور محدود کردیتا ہے ۔ اگر کسی کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہے تو یہ اس بات کی دلیل نیں ہے کہ وہ اللہ کا بہت پیارا ہے اور وہ اللہ کے ہاں بہت مقبول ہے ۔ اس سورة میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کفار مکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی دیوانہ کبھی شاعر اور کبھی جادوگر کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کفار سب کے سب سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور پھر غور کریں کہ وہ جتنے الزامات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لگا رہے ہیں جنہوں نے پوری زندگی مکہ ہی میں گزاری ہے کیا ان میں سے ان کے متعلق ایک بات بھی درست اور صحیح ہے۔ اگر ان کے الزامات غلط اور بےبنیاد ہیں تو انہیں اللہ سے توبہ کرنا چاہیے تاکہ آخرت کی کامیابیاں انہیں نصیب ہوسکیں اگر انہوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا یہی انداز جاری رکھا تو پھر وہ دنیا و آخرت کی ہر نعمت سے محروم کردیئے جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة سبا ۔ 34 آیات 1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 54 سورة سبا ایک نظر میں اس مکی سورة کے موضاعات عقائد سے متعلق ہیں۔ اللہ وحدہ لاشریک ہے ، وحی پر ایمان ، بعث بعد الموت کا عقیدہ اور اسلامی نظریہ حیات کے بارے میں بعض اہم اقدار کی تصحیح۔ یہ کہ ایمان اور عمل صالح ذریعہ نجات ہے۔ مال اور اولاد ذریعہ نجات نہیں ہے۔ اللہ کے نزدیک جزاء و سزا کا مدار ایمان و عمل پر ہے۔ اللہ اگر پکڑنا چاہے تو اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ اور اللہ کے ہاں کوئی سفارش نہیں ہوسکتی الایہ وہ اجازت دے۔ اس سورة میں بعث بعد الموت اور جزاء و سزا کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور یہ کہ اللہ کا علم محیط ہے ، عام ہے اور بہت گہرا اور پیچیدہ اور نہایت دقیق ہے۔ اس سورة میں مختلف اسالیب سے ان دونوں موضوعات کو بار بار لایا گیا ہے اور ابتداء سے انتہاء تک اس سورة کی فضا یہی ہے۔ بعث بعد الموت کے بارے میں ہے وقال الذین کفرا ۔۔۔۔۔۔۔ فی کتب مبین (34: 3) ” منکرین حق کہتے ہیں کہ کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آتی ؟ کہو میرے پروردگار عالم الغیب کی قسم وہ تم پر آکر رہے گی اللہ سے ایک ذرے کے برابر چیز بھی پوشیدہ نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں بلکہ اس کے ہاں چھوٹی اور بڑی ہر چیز کھلی کتاب میں موجود ہے “۔ وقال الذین کفرو۔۔۔۔۔۔ والضلل البعید (34: 7 – 8) ” منکرین لوگوں سے کہتے ہیں ” ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہوچکا ہوگا ، اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دئیے جاؤ گے ؟ نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنوں لاحق ہے “۔ نہیں بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور بری طرح بہکے ہوئے ہیں “۔ اور دوسری جگہ ہے : لیجزی الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ عذاب من رجز الیم (34: 4 – 5) ” اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ جزا دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں ، ان کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے “۔ اس سورة میں متعدد مناظر قیامت دکھائے گئے ہیں۔ ان میں قیامت کے منکرین کو سخت سرزنش کی گئی ہے اور عذاب کی ایسی صورتیں پیش کی گئی ہیں جن کی وہ تکذیب کرتے تھے یا ان کے واقعہ ہونے میں شک کرتے تھے۔ وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔ الا ما کانوا یعملون (34: 31 – 33) ” کافروں نے کہا کہ ہم نہ تو قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو کاش تم دیکھو ان کا حال ، اس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوں گے۔ اس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے جو ۔۔ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے۔ وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے : ” کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی ؟ ۔۔۔ ، بلکہ تم خود مجرم تھے ؟ وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے ” نہیں ، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں “۔ آخر کار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم ان منکرین کے گلوں میں طوق ڈالیں گے۔ کیا لوگوں کو اس کے سوا اور کوئی ۔۔ دیا جاسکتا ہے۔ جیسے اعمال ان کے تھے ، ویسے ہی جزاء وہ پائیں گے ؟ “ یہ مناظر اس سورة میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہیں اور بار بار آتے ہیں اور خاتمہ یوں ہوتا ہے ۔ ولو تری اذ فزعوا۔۔۔۔۔۔۔ فی شک مریب (34: 51 – 54) ” کاش تم دیکھو انہیں اس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جاسکیں گے ، بلکہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔ اس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لائے حالانکہ اب دور نکلی ہوئی چیز کب ہاتھ آسکتی ہے۔ اس سے پہلے یہ کفر کرچکے تھے اور بلاتحقیق دور دور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے۔ اس وقت جس چیز کی یہ تمنا کر رہے ہوں گے اس سے محروم کر دئیے جائیں گے جس طرح ان کے ہم مشرب پیش رو محروم ہوچکے ہوں گے۔ یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔ سورة کے آغاز میں اللہ کے علم محیط اور شامل کے متعلق کہا گیا ہے۔ یعلم ما یلج ۔۔۔۔۔۔ الرحیم الغفور (34: 2) ” جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے ہر چیز کو وہ جانتا ہے “۔ اور قیامت کے منکرین پر جگہ جگہ تبصرے ہوتے ہیں کہ قیامت آئے گی۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔ کتب مبین (34: 3) ” منکرین کہتے ہیں کہ کیا بات ہے قیامت ہم پر آکیوں نہیں جاتی ، کہو ، قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی ، وہ تم پر آ کر رہے گی۔ اس سے ذرا برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہے ، نہ زمین میں ، نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی۔ سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے “۔ اور سورة کے خاتمہ کے قریب آتا ہے۔ قل جآء الحق۔۔۔۔۔۔۔ الحکیم الخبیر (34: 1) ” حمد اس خدا کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے اور آخرت میں بھی اس کے لیے حمد ہے۔ وہ دانا اور خبیر ہے “۔ اور مشرکین کو ان کے بنائے ہوئے الہوں کے بارے میں بار بار چیلنج دیا جاتا ہے ۔ جن کو وہ پکارتے ہیں۔ قل ادعوا الذین۔۔۔۔۔۔ منھم ظھیر (34: 22) ” ان سے کہو کہ پکارو اپنے ان معبودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو۔ وہ انہ آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں ، نہ زمین میں۔ وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے “۔ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں اشارتاً کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ ملائکہ اور جنوں کی بندگی کرتے ہیں۔ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔۔۔۔ بھم مومنون (34: 40 – 41) ” اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا ، پھر فرشتوں سے پوچھے گا کہ یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے ؟ تو وہ جواب دیں گے ، پاک ہے آپ کی ذات۔ ہمارے ولی تو آپ ہیں نہ یہ لوگ ، دراصل یہ ہماری نہیں جنوں کی عبادت کرتے تھے ۔ ان میں سے اکثر انہیں پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ اب اس بات کی تردید کردی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ بعض مشرکین کا یہ عقیدہ غلط ہے کہ ملائکہ اللہ کے ہاں ان کی کوئی سفارش کریں گے۔ ولا تنفع الشفاعۃ۔۔۔۔۔ وھو العلی الکبیر (34: 23) ” اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہوسکتی۔ بجز اس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو۔ حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوگی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا کہا۔ وہ کہیں گے ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے۔ جنوں کی عبادت کی تردید کے لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ لایا جاتا ہے کہ وہ پوری طرح ان کے زیر کنٹرول تھے اور ان کو پتہ ہی نہ چلا کہ حضرت فوت ہوگئے ہیں۔ فلما قضینا علیہ ۔۔۔۔۔ فی العذاب المھین (34: 14) ” پھر جب سلیمان پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اسکی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اس گھن کے سوا نہ تھی جو اس عصا کو کھا رہا تھا اس طرح جب سلیمان گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے “۔ اور اس رسالت کے بارے میں آتا ہے۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ لکنا مومنین (34: 31) ” اور کافر کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے کاش دیکھو ان کا حال اس وقت جب یہ عالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اس وقت کمزور متکبرین سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اور دوسری جگہ ہے۔ واذا تتلی علیھم ایتنا۔۔۔۔۔۔ الا سحر مبین (34: 43) ” اور ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو ان معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ اور یہ قرآن محض ایک جھوٹ گھڑ لایا ہے۔ ان کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو صریح جادو ہے “۔ اس کی تردید یوں کی جاتی ہے کہ یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔ وتری الذین ۔۔۔۔۔ العزیز الحمید (34: 6) ” اے نبی علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز وحمید کا راستہ دکھاتا ہے “۔ اور دوسری جگہ ہے۔ وما ارسلنک الا۔۔۔۔۔۔ لا یعلمون (34: 28) ” اور ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اقدار حیات کے سلسلے میں آتا ہے : وما ارسلنا فی۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (34: 34 – 38) ” کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو ، اور اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو کہ جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے ، انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں ہیں “۔ اے نبی ، ان سے کہو ” تیرا رب جسے چاہتا ہے ، کشادہ رزق دیتا ہے یا نپا تلا عطا کرتا ہے۔ مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے “۔ یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ان کے عمل کی دہری جزاء ہے اور وہ بلند وبالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے “۔ اور اس مضمون پر بعض تاریخی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ اہل داؤد کا قصہ پیش کیا جاتا ہے جو اللہ کی نعمتوں پر شکر کرنے والے تھے اور اہل سبا کا قصہ پیش کیا جاتا ہے۔ جو دولت کی وجہ سے سرکش ہوگئے تھے اور دونوں کا جو انجام ہوا وہ بھی پیش کیا گیا ہے اور ان دو مثالوں میں مدعا کی پوری تصدیق ہے۔ یہ مسائل جن پر اکثر مکی سورتیں بحث کرتی ہیں ، ان کو مختلف سورتوں میں پیش کیا جاتا ہے اور ہر سورة میں ایک مستقل تکوینی پس منظر میں ان موضوعات کو پیش کیا جاتا ہے۔ ہر بار نئے دلائل کے ساتھ اور ہر بار دل پر ان پر ان کا ایک نیا اثر مرتب ہوتا ہے۔ سورة سبا میں بھی ان مسائل کو اسی طرح کائناتی پس منظر میں لایا گیا ہے۔ اس معلوم کائنات کے وسیع پس منظر میں اور اس سے بھی وسیع تر عالم غیب کے میدان میں جو ابھی تک نامعلوم ہے۔ پھر ان حقائق کو حشر کے میدان کے زبردست مناظر کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے اور پھر خود انسان کی شخصیت کی گہرائیوں میں اور انسانی تاریخ کے صفحات میں اور جس پس منظر میں بھی ان حقائق کو قرآن پیش کرتا ہے ہر مرتبہ ایک نیا تاثر قائم کرتا ہے اور انسان کے لیے غفلت سے جاگنے کا سبب بنتا ہے۔ سورة کے آغاز ہی سے اس کائنات کی عظیم نشانیوں کو وحدت کردگار کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کائنات کے صفحات کو پیش کیا جاتا۔ اس کے اندر جو نشانیاں ہیں انہیں پیش کیا جاتا ہے اور ان سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اللہ کا علم بہت ہی گہرا ، دقیق اور محیط ہے۔ یعلم ما یلج فی ۔۔۔۔۔۔۔ ھو الرحیم الغفور (34: 2) ” جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے اور وہ رحیم و غفور ہے “۔ اور دوسری جگہ۔ وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ فی کتب مبین (34: 3) ” منکرین حق کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آرہی ہے ۔ کہو ” قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی وہ تم پر آکر رہے گی۔ اس سے ذرا برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے نہ زمین میں ، نہ ذرے سے بڑی اور نہ اس سے چھوٹی سب ایک نمایاں دفتر میں درج ہے “۔ اور جو لوگ آخرت کی تکذیب کرتے ہیں ان کو عظیم کائناتی حادثات کی دھمکی دی جاتی ہے۔ افلم یروا الی ۔۔۔۔۔ لکل عبد منیب (34: 9) ” کیا انہوں نے کبھی آسمان اور زمین کو نہیں دیکھا جو انہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے ؟ ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا آسمان کے کچھ ٹکڑے ان پر گرا دیں۔ درحقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو “۔ اور جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پوجا کرتے ہیں ملائکہ کی یا جنوں کی ، ان کو عالم غیب کے حقائق کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ملا اعلیٰ کا ایک خوفناک منظر ہے۔ ولا تنفع الشفاعۃ ۔۔۔۔۔ وھو العلی الکبیر (34: 23) ” اور اللہ کے ہاں کوئی شفاعت کسی کے لیے نافع نہیں ہوسکتی بجز اس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو ، حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہر گی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا جواب دیا ، وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے “۔ اور دشمنوں کیلئے ان کو حشر کے میدان میں پیش کیا جاتا ہے جہاں کوئی شک و شبہ نہ ہوگا اور نہ کوئی بات کی گنجائش ہوگی ؟ ویوم یحشرھم۔۔۔۔۔۔ ایاکم کانوا یعبدون (34: 40) ” اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے ؟ “ تو وہ جواب دیں گے پاک ہے آپ کی ذات ہمارا تعلق تو آپ سے ہے نہ ان سے ، دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے “۔ اور رسول اللہ کو جھٹلانے والے ، جو یہ کہتے ہیں کہ آپ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ، یا یہ کہ آپ مجنون ہیں ، ان کو بھی لاکر ان کی فطرت کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے دل کی عدالت میں ان کو پیش کیا جاتا ہے جہاں کوئی جھوٹی اور مصنوعی شہادت پیش ہوتی۔ قل انما اعظکم ۔۔۔۔۔ یدی عذاب شدید (34: 46) ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہو کہ ” میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں ، خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ اور سوچو ، تمہارے صاحب میں آخر کون سی بات ہے جو جنوں کی ہو ؟ وہ تو ایک سخت عذاب سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے “۔ یوں یہ سورة انسانی عقل و خرد کو لے کر ان مختلف میدانوں کی سیر کراتی ہے ، مختلف دلائل اور اشارات سے دو چار کرتی ہے اور آخرت کے ہولناک مناظر کی سیر بھی کراتی ہے۔ اس سورة کو اپنے ان مضامین ، دلائل اور اشارات کے اعتبار سے ہم پانچ چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پانچ حصوں میں بھی ہم اسے محض آسان تفسیر کے لیے تقسیم کرتے ہیں ورنہ پوری سورة ایک مسلسل مضمون ہے۔ یہی اس سورة کی خصوصیت ہے۔ سورة کا آغاز اللہ کی حمد سے ہوتا ہے جو زمین و آسمان کا مالک اور دنیا و آخرت میں محمود ہے۔ اور اس کا علم محیط ہے۔ اوپر سے نیچے آنے والی چیزوں اور نیچے سے اوپر جانے والی چیز پر محیط ہے۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کس طرح برپا ہوگی اور انسانوں کے ڈرے ذرے کو اللہ کس طرح جمع کرے گا ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا علم ذرے ذرے پر محیط ہے۔ اللہ جب کو جمع کرے گا اور جزاء و سزا دے گا۔ خصوصا ان لوگوں کو سزا دے گا جو اللہ کی اس دعوت کو مٹانا چاہتے ہیں۔ جو لوگ اہل علم ہیں اور فطرت سلیم رکھتے ہیں ، وہ قیام قیامت کو حق سمجھتے ہیں اور جو لوگ اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں وہ دراصل راہ حق سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ ایسے لوگوں کا علاج تو یہ ہے کہ ان پر آسمان کا کوئی حصہ گرا دیا جائے۔ دوسرے حصے میں آل داؤد کے احوال ہیں جنہوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا کیونکہ اللہ نے اکثر کائناتی قوتوں کو ان کے لیے مسخر کردیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ مغرور اور سرکش نہ بنے اور ان مسخر کردہ قوتوں میں سے جنوں کی قوت بھی تھی جن کو بیوقوف عرب پوجتے ہیں اور ان سے غیبی باتیں معلوم کرتے ہیں۔ حالانکہ جنوں کو بھی غیب کا علم نہیں ہوا۔ یہ تو خود سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مشقت کرتے رہے۔ وہ مر بھی گئے ان کو علم نہ ہوا۔ یہ راز تو تب کھلا جب ان کے عصا کو گھن نے کھالیا اور سلیمان کے شکر الٰہی کے مقابلے میں قوم سبا کی ناشکری اور سرکشی کا قصہ۔ ان کو بھی اللہ نے نعمتوں سے نوازا تھا۔ اس ناشکری کی وجہ سے۔ فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق (34: 19) ” ہم نے ان کو داستان سابقہ بنا دیا اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا “۔ کیونکہ یہ شیطان کے پیرو ہوگئے تھے۔ حالانکہ شیطان کا ان پر کوئی جبر نہ تھا۔ یہ خوشی سے شیطان کے پیرو ہوگئے تھے۔ اور تیسرا سبق اس چیلنج سے شروع ہوتا ہے جو مشرکین کو دیا گیا ہے کہ وہ ذرا ان الہوں کو بلائیں جن کو وہ الٰہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ قل ادعوا الذین ۔۔۔۔۔۔۔ منھم ظھیر (34: 22) ” کہو کہ پکار دیکھو اپنے ان معبودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو۔ وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں اور نہ زمین میں ، وہ زمین و آسمان کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے “۔ ان کو اللہ کے ہاں سفارش کا بھی کوئی اختیار نہیں ہے اگرچہ وہ ملائکہ ہوں۔ کیونکہ ملائکہ تو نہایت عاجزی سے احکام لیتے ہیں اور وہ اس وقت تک بات نہیں کرتے جب تک ان پر سے خوف دور نہیں ہوجاتا۔ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آسمان و زمین میں سے ان کو کوئی رزق دیتا ہے جبکہ مالک ان کا اللہ ہے اور وہی ان کو رزق دیتا ہے۔ بہرحال معاملہ اللہ کے حوالے ہے ، وہی قیامت کے دن وہ فیصلہ کرے گا۔ سبق کا خاتمہ بھی اس تحدی پر ہوتا ہے جو شرک کرتے ہیں کہ وہ اس سے باز آجائیں۔ معبود تو صرف ایک ہے جو اللہ عزیز و حکیم ہے۔ چوتھے سبق کا موضوع وحی و رسالت ہے۔ اس کے متعلق مشرکین کے موقف پر بحث کی گئی ہے۔ اسی طرح یہ بتایا گیا کہ مشرکین کے مالدار لوگ یہ کہتے تھے کہ منصب رسالت کے ہم مستحق ہیں ، جواب آتا ہے کہ مال اور اولاد اسلام میں معیار مطلوب نہیں ہے۔ جزاء و سزا میں امارت اور غربت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ایمان اور عمل پر دار و مدار ہے۔ اولاد اور مال پر نہیں ہے۔ اس سبق میں مکذبین کا انجام انسانی تاریخ سے بھی پیش کیا گیا ہے اور مناظر قیامت میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ جہاں اطاعت کرنے والے غریب امراء لیڈروں سے براءت کا اظہار کریں گے جیسا کہ ملائکہ گمراہوں اور مشرکین کی عبادت سے انکار کریں گے۔ اس کے بعد لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے دل میں اور اپنی فطری منطق کے ذریعے غور و فکر کریں کہ آخر دعوت اسلامی میں کیا نقص ہے اور داعی اسلام میں کیا چیز ہے کہ تم تکذیب کرتے ہو۔ وہ تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ یہ جھوتا اور مجنون نہیں ہے۔ پھر قیامت کا ایک منظر ، اور آخر میں ایک زبردست تبصرہ۔ قل ان ربی یقذف۔۔۔۔۔ انہ سمیع قریب (34: 48 – 50) ” ان سے کہو میرا رب مجھ پر حق کا القاء کرتا ہے اور رہ تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا ہے۔ کہو ” حق آگیا اور اب باطل کے لیے کچھ نہیں ہوسکتا “۔ کہو ” اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے۔ اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا رب میرے اوپر نازل کرتا ہے۔ وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے “۔ اور سورة اور اس سبق کا خاتمہ قیامت کے ایک مختصر منظر پر ہوتا ہے جس کے اندر حرکات مختصر مگر بہت ہی قوی اور سخت ہیں۔ اب آیات کی تشریح۔ درس نمبر 194 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 9

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi