Surat Saba

Surah: 34

Verse: 13

سورة سبأ

یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَ تَمَاثِیۡلَ وَ جِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَ قُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾

They made for him what he willed of elevated chambers, statues, bowls like reservoirs, and stationary kettles. [We said], "Work, O family of David, in gratitude." And few of My servants are grateful.

جو کچھ سلیمان چاہتے وہ جنات تیار کر دیتے مثلا قلعے اور اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو ، میرے بندوں میں سے شکر گزار بندے کم ہی ہوتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاء مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ ... They worked for him as he desired on Maharib, Tamathil, Maharib refers to beautiful structures, the best and innermost part of a dwelling. Ibn Zayd said, "This means dwellings." With regard to "Tamathil," Atiyah Al-Awfi, Ad-Dahhak and As-Suddi said that; Tamathil means pictures. ... وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ ... large basins like Jawab and Qudur Rasiyat. Jawab, the plural form of Jabiyah, refers to cisterns or tanks in which water is held, and Qudur Rasiyat are cauldrons that stay in one place and are not moved around because of their great size. This was the view of Mujahid, Ad-Dahhak and others. ... اعْمَلُوا الَ دَاوُودَ شُكْرًا ... Work you, O family of Dawud, with thanks! means, `We said to them: Work with thanks for the blessings that We have bestowed upon you in this world and the Hereafter.' This indicates that thanks may be expressed by actions as much as by words and intentions. Abu Abdur-Rahman Al-Hubuli said, "Prayer is thanks, fasting is thanks, every good deed that you do for the sake of Allah is thanks, and the best of thanks is praise." This was recorded by Ibn Jarir. In the Two Sahihs, it is reported that the Messenger of Allah said: إِنَّ أَحَبَّ الصَّلَةِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صَلَةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَأَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَأ يَفِرُّ إِذَا لاَأقَى The most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud. He used to sleep for half the night, stand in prayer for a third of it and sleep for a sixth of it. The most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud. He used to fast for a day then not fast for a day, and he never fled the battlefield. Ibn Abi Hatim narrated that Fudayl said concerning the Ayah: اعْمَلُوا الَ دَاوُودَ شُكْرًا (Work you, O family of Dawud, with thanks!) Dawud said, "O Lord! How can I thank you when thanks itself is a blessing from You!" He said: "Now you have truly given thanks to Me, for you have realized that it is a blessing from Me." ... وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ But few of My servants are grateful. This is a reflection of reality.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 محاریب محراب کی جمع ہے مطلب ہے بلند محلات، عالی شان عمارتیں یا مساجد و تصویریں۔ یہ تصویریں غیر حیوان چیزوں کی ہوتی تھیں، بعض کہتے ہیں کہ انبیاء (علیہ السلام) کی تصاویر مسجدوں میں بنائی جاتی تھیں تاکہ انھیں دیکھ کر لوگ بھی عبادت کریں۔ یہ معنی اس صورت میں صحیح ہے جب تسلیم کیا جائے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شریعت میں تصویر سازی کی اجازت تھی جو صحیح نہیں۔ تاہم اسلام میں تو نہایت سختی کے ساتھ اس کی ممانعت ہے۔ جفان، جفنۃ کی جمع ہے لگن جواب، جابیۃ کی جمع ہے حوض جس میں پانی جمع کیا جاتا ہے یعنی حوض جتنے بڑے بڑے لگن قدور دیگیں، راسیات جمی ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دیگیں پہاڑوں کو تراش کر بنائی جاتی تھیں جنہیں ظاہر ہے اٹھا کر ادھر ادھر نہیں لے جایا جاسکتا تھا اس میں بیک وقت ہزاروں افراد کا کھانا پک جاتا تھا یہ سارے کام جنات کرتے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢١] یہ جنات حضرت سلیمان کے آرڈر کے مطابق بڑے بڑے محل، مساجد، قلعے، مختلف مسجدوں کے ماڈل یا سینیریوں کے ماڈل، بڑے بڑے لگن اور اتنی بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی بوجھل اور ناقابل حمل و نقل ہونے کی وجہ کسی خاص مقام پر نصب کردی جاتی تھیں اور ان میں حضرت سلیمان کے لشکروں کے لئے کھانا تیار کیا جاتا تھا۔ بعض لوگوں نے جنوں یا شیاطین سے دیہاتی مضبوط قسم کے انسان مراد لئے ہیں یہ توجیہہ غلط اور قرآن کے سیاق وسباق کے خلاف ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورة انبیاء کی آیت ٨٢ کا حاشیہ) [ ٢٢] یعنی ایسے عمل کرو جو شکرگزار بندے کیا کرتے ہیں۔ شکر گزار بندے ایک تو وہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں اور اس کی نعمتوں کا ہر ایک سامنے برملا اعتراف کرتے ہیں۔ پھر وہ جو کام بھی کرتے ہیں اللہ کی مرضی کے مطابق کرتے ہیں اور اس کی رضا کے لئے کرتے ہیں۔ اور شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوتے ہیں اور جو چیز تھوڑی ہو اس کی قدرو منزلت بڑھ جاتی ہے۔ یعنی اگر تم شکرگزار بن جاؤ گے تو میرے ہاں تمہاری قدرومنزل اور بڑھ جائے گی۔ کہتے ہیں کہ اس حکم کے بعد داود نے دن اور رات کے پورے اوقات اپنے گھر والوں پر تقسیم کر رکھے تھے اور کوئی وقت ایسا نہ ہوتا تھا جبکہ آپ کے گھر کا کوئی نہ کوئی اللہ کی عبادت میں مصروف نہ رہتا ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ :” مَّحَارِيْبَ “ ” مِحْرَابٌ“ کی جمع ہے، یہ ” حَرْبٌ“ سے ” مِفْعَالٌ“ کے وزن پر ہے، جو آلہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اصل معنی اس کا جنگ کا آلہ یا ہتھیار ہے، پھر یہ لفظ کئی معانی میں استعمال ہونے لگا، جن سب معانی میں کسی نہ کسی طرح جنگ کا مفہوم شامل ہے۔ چناچہ قلعہ اور بڑی عالی شان عمارت کو بھی ” محراب “ کہتے ہیں، کیونکہ اس میں رہ کر دشمن سے جنگ کی جاتی ہے۔ عبادت کے لیے خاص کمرے کو بھی ” محراب “ کہتے ہیں، کیونکہ وہ شیطان سے جنگ میں مددگار ہے، جیسا کہ زکریا (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (فَنَادَتْهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَھُوَ قَاۗىِٕمٌ يُّصَلِّيْ فِي الْمِحْرَابِ ) [ آل عمران : ٣٩ ] ” تو فرشتوں نے اسے آواز دی، جب کہ وہ عبادت خانے میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔ “ داؤد (علیہ السلام) کی عبادت کے لیے مخصوص جگہ کو بھی ” محراب “ کہا گیا ہے، فرمایا : (وَهَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ) [ ص : ٢١ ] ” اور کیا تیرے پاس جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے، جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں آگئے۔ “ سلیمان (علیہ السلام) کی سیرت میں سب سے نمایاں وصف جہاد ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں انسانوں، جنوں اور پرندوں کی فوجیں عطا فرما رکھی تھیں۔ جنگی ضروریات کی تیاری اور فراہمی سے انھیں خاص دلچسپی تھی، چناچہ گھوڑوں کی دوڑ کروانے کے بعد ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنے کا ذکر سورة ص (٣٠ تا ٣٣) میں ہے۔ یہ سن کر کہ زمین کے کسی خطے پر شرک کا غلبہ اور مشرک عورت کی حکومت ہے، فوراً جہاد کے لیے تیار ہوجانے کا ذکر ملکہ سبا کے قصے میں ہے۔ (دیکھیے سورة نمل) ظاہر ہے اس کے لیے ہر قسم کا جنگی سازو سامان تیار کرنا ضروری تھا، اسے ذخیرہ کرنے کے لیے بڑی بڑی عمارتوں کی ضرورت تھی، دشمن کے علاقے میں پیش قدمی، اس پر حملے اور جنگ کے لیے ان شہروں کے نقشے اور اہم عمارتوں کے ماڈل بہم پہنچانا ضروری تھا۔ بڑی تعداد میں فوجوں کے لیے کھانا پکانے، تقسیم کرنے اور اس کے لیے برتن مہیا کرنے کا کام بہت بڑا کام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام کاموں کے لیے انسانوں اور پرندوں کے علاوہ جنوں کو بھی سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا۔ اگر ان میں سے کوئی ان کے حکم سے سرتابی کرتا، تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگ کے شعلوں کے ساتھ سزا دی جاتی تھی۔ چناچہ وہ ان کی جنگی ضروریات کے لیے دور دراز سے ہر قسم کا عمارتی سامان پتھر، مرمر، لکڑی اور لوہا وغیرہ مہیا کرتے اور ان کے ساتھ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرتے۔ ان عمارتوں میں مسجد اقصیٰ کی عمارت بھی شامل تھی۔ وَتَمَاثِيْلَ : یہ ” تِمْثَالٌ“ کی جمع ہے، کسی دوسری چیز کی مثل جو چیز بنائی جائے، خواہ جان دار کی ہو یا بےجان کی، ماڈل اور مجسّمہ کی شکل میں ہو، یا کاغذ پر تصویر کی شکل میں ہو۔ جنّات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے کس قسم کی تماثیل بناتے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی تفصیل نہیں آئی، بعض مفسرین نے اس کی تفصیل میں جو جان دار اشیاء، مثلاً شیر، چیتے وغیرہ کی تصاویر یا مجسّمے بنانے کا ذکر کیا ہے، وہ ان کی سنی سنائی بات ہے، کیونکہ نہ انھوں نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے، نہ وہ سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ رہے ہیں اور نہ اپنی معلومات کا ذریعہ بتاتے ہیں، جو سلیمان (علیہ السلام) تک پہنچتا ہو۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ جنات سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے وہ محاریب اور تماثیل بناتے تھے جو وہ چاہتے تھے۔ ظاہر ہے اللہ کا اتنا جلیل القدر پیغمبر شیروں، ہاتھیوں اور چیتوں یا انسانوں کے لاحاصل مجسّمے بنوائے، ممکن ہی نہیں، خصوصاً اس لیے کہ وہ جس تورات کے احکام پر عامل تھے اس میں جان دار اشیاء کی مورتیاں بنانا حرام تھا۔ حرمت کا یہ حکم اب بھی تورات میں متعدد مقامات پر موجود ہے : ” تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا، نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔ “ (خروج، باب : ٢٠، آیت : ٤) اور ایک جگہ ہے : ” تم اپنے لیے بت نہ بنانا اور نہ کوئی تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لیے کھڑی کرنا اور نہ ملک میں کوئی شبیہ دار پتھر رکھنا کہ اسے سجدہ کرو، اس لیے کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ “ (احبار، باب : ٢٦، آیت ١) ایک اور جگہ ہے : ” تانہ ہو کہ تم بگڑ کر کسی شکل یا صورت کی کھودی ہوئی مورت اپنے لیے بنا لو، جس کی شبیہ کسی مرد یا عورت یا زمین کے کسی حیوان یا ہوا میں اڑنے والے پرندے یا زمین کے رینگنے والے جان دار یا مچھلی سے جو زمین کے نیچے پانی میں رہتی ہو، ملتی ہو۔ “ (استثناء، باب : ٤، آیت : ١٦ تا ١٨) ۔ تورات کی ان صریح آیات سے واضح ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جان دار اشیاء کے مجسّمے بنانے کی نسبت ان پر بہتان ہے، جو اسی طرح ان پر لگایا گیا ہے جیسے ان پر جادوگر ہونے کا یا بیویوں کے عشق میں مبتلا ہو کر بت پرستی کا بہتان لگایا گیا ہے، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے اور تورات کے احکام پر پوری طرح عامل تھے۔ اس لیے آیت کا مطلب یہی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) جو عمارت بنوانا چاہتے یا جن علاقوں کے نقشے یا عمارتوں کے ماڈل بنوانا چاہتے تھے، جنّات ان کے حکم سے تیار کردیتے تھے۔ اس آیت سے جان دار اشیاء کی تصاویر یا مجسّموں کا جواز نکالنا ہرگز درست نہیں، کیونکہ ان کی حرمت متفق علیہ مسئلہ ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جان دار اشیاء کی تصاویر کی صریح حرمت اور ان پر وعید کے لیے صحیح بخاری اور دوسری کتب احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔ اختصار کے پیش نظر انھیں یہاں نقل نہیں کیا گیا۔ وَجِفَانٍ كَالْجَــوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ : ” وَجِفَانٍ “ ” جَفْنَۃٌ“ کی جمع ہے، کھانے کا بڑا برتن، لگن، تھال۔ ” اَلْجَوَابِ “ اصل میں ” اَلْجَوَابِيْ “ ہے جو ” جَابِیَۃٌ“ کی جمع ہے ” حوض “۔ ” قُدُوْرٍ “ ” قِدْرٌ“ کی جمع ہے، ہانڈی، دیگ۔ ” رّٰسِيٰتٍ “ ” رَسَا یَرْسُوْ “ سے اسم فاعل مؤنث ” رَاسِیَۃٌ“ کی جمع ہے۔ قرآن میں پہاڑوں کو ” رّٰسِيٰتٍ “ کہا گیا ہے، زمین میں گڑے ہوئے۔ سلیمان (علیہ السلام) کی فوجوں کی کثرت کے پیش نظر عام دیگیں جتنی بھی ہوں کافی نہیں تھیں، نہ چھوٹے چھوٹے برتن کھانا کھلانے کے لیے کافی تھے، اس لیے جنّات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کی خواہش کے مطابق پکانے کے لیے تانبے وغیرہ کی یا پہاڑوں کو تراش کر پتھر کی اتنی بڑی بڑی دیگیں تیار کرتے تھے جو ایک ہی جگہ جمی رہتیں۔ انھیں اٹھا کر دوسری جگہ لے جایا نہیں جاسکتا تھا۔ ان میں سے ہر دیگ میں ہزاروں آدمیوں کا کھانا پکتا تھا اور مجاہدین کو اجتماعی طور پر کھانا کھلانے کے لیے جنّات سلیمان (علیہ السلام) کی حسب منشا اتنے بڑے بڑے لگن یا تھال بناتے تھے جو حوضوں کی طرح لمبے چوڑے ہوتے، جن پر ایک وقت میں بہت سے آدمی کھانا کھالیتے تھے۔ ایک ہی برتن میں بہت سے آدمیوں کے کھانا کھانے کا یہ معمول ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں بھی موجود تھا۔ عبداللہ بن بسر (رض) بیان کرتے ہیں : ( کَان للنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَصْعَۃٌ یَحْمِلُہَا أَرْبَعَۃُ رِجَالٍ یُقَالُ لَہَا الْغَرَّاءُ فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحٰی أُتِيَ بِتِلْکَ الْقَصْعَۃِ یَعْنِيْ وَقَدْ ثُرِدَ فِیْہَا فَالْتَفُّوْا عَلَیْہَا فَلَمَّا کَثُرُوْا جَثَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ مَا ہٰذِہِ الْجِلْسَۃُ ؟ قَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی جَعَلَنِيْ عَبْدًا کَرِیْمًا وَلَمْ یَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا عَنِیْدًا ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ کُلُوْا مِنْ حَوَالَیْہَا وَ دَعُوْا ذِرْوَتَہَا یُبَارَکْ فِیْہَا ) [ أبو داوٗد، الأطعمۃ، باب ما جاء في الأکل من أعلی الصحفۃ : ٣٧٧٣، قال الألباني صحیح ] ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک لگن یا تھال تھا، جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، اسے ” غراء “ کہتے تھے۔ جب ضحی ہوئی اور لوگوں نے ضحی کی نماز پڑھ لی تو وہ لگن لایا گیا، اس میں گوشت کے سالن میں روٹی بھگو کر ثرید بنایا گیا تھا۔ لوگ اس کے گرد بیٹھ گئے، جب لوگ زیادہ ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھٹنوں کے بل ہوگئے، ایک اعرابی نے کہا : ” یہ کیا بیٹھنے کا طریقہ ہے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے کریم بندہ بنایا ہے، بدبخت و سرکش نہیں بنایا۔ “ پھر فرمایا : ” اس کے اردگرد سے کھاؤ، درمیان کو چھوڑے رکھو کہ اس میں برکت ہو۔ “ ظاہر ہے جس برتن کو چار آدمی اٹھائیں، اس میں سو دو سو آدمیوں کا کھانا تو ضرور ہوگا اور جو برتن حوض جیسا کھلا ہو، اس میں سے کھانے والوں کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جنوں کے ان کاموں کے بیان کا مقصد ان کی سلطنت کی وسعت، جہاد کے لیے ان کی افواج کی کثرت، ان کی وسعت قلب، سخاوت اور انسانوں کے علاوہ جنّات پر ان کی ہیبت کا بیان ہے کہ یہ سب کچھ ان پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام تھا۔ اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا : ” اِعْمَلُوْٓا “ سے پہلے ” قُلْنَا “ اور ” اٰلَ دَاوٗدَ “ سے پہلے حرف ندا ” یَا “ محذوف ہے، جس کی وجہ سے ” ال “ کا لفظ منصوب ہے۔ ” اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا “ مفعول لہ ہے۔ آل داؤد میں ان کے گھر والوں کے ساتھ وہ خود بھی شامل ہیں، یعنی ہم نے کہا، اے داؤد کے گھر والو ! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔ معلوم ہوا آدمی پر اللہ تعالیٰ کے انعام جتنے زیادہ ہوں، اسے اتنی ہی زیادہ اعمال صالحہ کی کوشش کرنی چاہیے۔ مغیرہ بن شعبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یقیناً نماز کے لیے اتنا قیام کرتے کہ آپ کے دونوں پاؤں، یا (یہ کہا کہ) آپ کی دونوں پنڈلیوں پر ورم آجاتا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (اس بارے میں) کہا جاتا تو فرماتے : ( أَفَلَا أَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا ؟ ) ” تو کیا میں پورا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ “ [ بخاري، التہجد، باب قیام النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللیل : ١١٣٠ ] داؤد (علیہ السلام) کی نماز، ان کے روزوں اور جہاد کا تذکرہ اس سورت کی آیت (١٠) میں گزر چکا ہے۔ وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ : ” الشَّكُوْرُ “ مبالغے کا صیغہ ہے، اس لیے ترجمہ ” پورے شکر گزار “ کیا ہے۔ اس میں ترغیب ہے کہ تم بھی میرے ان قلیل بندوں میں شامل ہونے کی کوشش کرو جو پورے شکر گزار ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 13: يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِ‌يبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ‌ رَّ‌اسِيَاتٍ (They used to make for him whatever he wished of castles, images, basins as (large as) tanks and big cook-wares fixed in their places), there is a somewhat detailed description of the jobs Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) assigned to the Jinns. The word: مَحَاریب (maharib, translated above as &castles& ) is the plural form of: مِحرَاب (mihrab) and is used to identify the noblest part of the house. When kings and men of authority make a state operation chamber, sort of power niche for themselves, it is also known as mihrab. Then the word: is a derivation from: حَرب (harb) meaning war. One makes a seat of power for himself, keeps it safe against being approached by others, and should anyone resort to any high-handedness, he would fight against the aggressor. Given this congruity, the special section of a mansion is called mihrab. Then the masajid or mosques as such are, on occasions, referred to as maharib. When reference is made to the maharib of sahabah from among the maharib of Ban& Isra&il and Islam, it means their Masajid or mosques. The injunction of having a separate place for making a Mihrab in Masajid As far as the blessed period of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the rightly-guided Khulafa& is concerned, the custom of making the place where the Imam stands as a separate special unit just did not exist. After the early centuries of Islam, the kings promoted this custom for their security and, among common Muslims, it found currency due to the expedient consideration that the whole row where the Imam stands remains empty. It is in view of the large number of people praying in the congregation of masajid already short on space that only a place for the Imam to stand is made by going in depth toward the wall facing the Qiblah so that full rows could be formed behind him. Since this method did not prevail during the early centuries of Islam, some ` Ulama& have dubbed it as bid&ah (innovation in the established religious practice of Islam). Shaykh Jalaluddin as-Suyuti& has written a regular treatise entitled: I` lam-ul-&Aranib fi Bid` atil-Maharib on this issue. However, the correct position in this matter is that, should mihrabs of this nature be made for the convenience of the people praying, and in the best interests of the masjid - without taking it to be the desired Sunnah - then, there is no reason to call it a bid&ah (innovation in established religion). Yes, if this is made to be the desired Sunnah, and whoever does anything against it gets to be censured, then, this excess (ghuluww) can make such an action fall under the purview of bid&ah. Ruling If mihrab is made in the form of a regular place for the Imam to stand and lead the prayers, it is incumbent on the Imam that he stands slightly outside the mihrab in a manner that his feet remain out of the mihrab, so that the place in which the Imam and the muqtadis (those praying behind the Imam) can be counted as one. Otherwise, reprehensible and impermissible is the situation in which the Imam stands alone in a separate place and the rest of the muqtadis, in another. Some masajid would make a mihrab so spacious that it would be good enough to hold a small row of muqtadis within it. In a mihrab such as this, should a row of muqtadis also stand in the mihrab and the Imam stands ahead of them, being fully inside the mihrab, then, because of the Imam and the muqtadis being on common grounds, the element of harahah (reprehensibility) will no more be there. The next word: تَمَاثِیل (tamathil, translated above as &images& ) is the plural form of: J (timthal). It appears in the Arabic Lexicon, al-Qamus, that: تِمثَال (timthal) with a fathah on the letter: sUi (ta& is a verbal noun, and the word: تِمثَال (timthal) with a kasrah on the letter: اَلتَاء (ta) denotes a picture. In Ahkam-ul-Qur&an, Ibn-ul-` Arabi has said that timthal, that is, a picture is of two kinds: (1) The picture of animate and living things, (2) that of inanimate and lifeless things. After that, inanimate things are further divided in two kinds: (1) Jamad or inorganic in which there is no increase and growth, such as, rock or soil, (2) nami or organic in which increase and growth go on, such as, trees and crops. The Jinns used to make pictures of all kinds of these things for Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) . To begin with, the very generality of the Qur&anic word: تَمَاثِیل (tamathil: images) lends support to the view that these pictures were not those of some particular kind, instead, were common to all kinds. Then there are the historical narratives in which the presence of the pictures of birds on the throne of Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) has also been mentioned. The prohibition of making and using pictures of the living in Shari’ ah The cited verse (12) tells us that making and using pictures of the living was not haram (forbidden) in the Shari` ah of Sayyidna Sulayman (علیہ السلام) . But, experience bore out that pictures of people were made among past communities to pay homage to them, then they were put in their houses of worship to serve as reminders of their devotion in the hope that it might enable them too to devote likewise. This did not happen. Gradually, what really happened was that these people made these very pictures the objects of their worship and thus began the worship of idols and icons. In short, the pictures of the living creatures made in past communities became the conduit of idol-worship. Since it is divinely destined that the Shari` ah of Islam must stay and survive right through the Day of Judgment, therefore, particular attention has been paid there to block the intrusion of the undesirable. Hence, the way sins and initially haram things have been made unlawful, similarly, their conduits and close causes have also been made unlawful by appending these to main sins and haram things. Of crimes, the real one, and the most serious, happens to be shirk and idol-worship. When this was forbidden, the law of Islam did not leave the ways and means that could smuggle idol-worship in it unchecked. It was boldly and wisely checked when the conduits and close causes of idol-worship were also prohibited. Making and using pictures of the living was made prohibited on this very basis. That it is unlawful stands proved on the authority of the ahadith of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ahadith that are sound, authentic, and have been transmitted in an uninterrupted succession. Similarly, when liquor was made haram, also made haram were its buying and selling, wages to deliver or carry it, and its making, everything about it, being the conduits of drinking. When theft was made haram, the very entry in someone&s house without permission, in fact, even peeping in from outside the house was prohibited. When zina (fornication, adultery) was made haram, even casting a look intentionally at a non-mahram was also made haram. Comparable examples of it abound in the Shari` ah of Islam. The prohibition of pictures: A common doubt and its answer It can be said that the use of pictures during the blessed time of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) could have become a source of idol-worship. But, in our time, pictures serve many purposes, such as establishing identity of criminals, advertising trademarks, meeting friends and relatives, investigating events and circumstances and so many other things. For this reason, it has been included in one of the necessities of life. In this, the apprehension of any idol-worship is far too remote to conceive. As such, this prohibition that was made to offset the danger of idol-worship should now be lifted. Answer to this doubt is that First of all, it is not correct to say that, in our time, pictures are no more a source of idol-worship. Even today, there are so many sects and groups who worship their peers. Then, it is not necessary either that the wisdom behind an operative divine order should be found in every individual case. In addition to that, the sole reason for the prohibition of pictures is not that it is a conduit of idol-worship. In fact, there are Sahih (sound and authentic) ahadith in which other reasons for this prohibition have also been given. For example, picture making is a duplication of the special attribute of Allah Ta’ ala. The name: مُصَوَّر (musawwir: the giver of form, shape, color and real presence) is one of the most beautiful names of Allah Subhanahu wa Ta’ ala, and making of pictures (and the giving of form, shape and presence) is, in reality, befitting for Him and it lies within His power to create among His creations thousands in terms of genus, race, class, category and kinds with millions and billions of living units in each kind, each different in shape. Take the example of human beings. The form and shape of men is different. So is the form and shape of women. There have been billions of individual men and women. None of them were absolutely like anyone else. The distinct features of every person are so manifest that an onlooker would easily recognize him without much hesitation. Who can claim to give the creatures such marvelous shapes other than Allah Almighty? A human being who makes a picture, or painting, or statue of someone living is claiming, for all practical purposes, that he or she too can make (the same) &images.& Therefore, it appears in the Sahih of al-Bukhari and in other ahadith that, on the Day of Judgment, those who make pictures will be told: When you have tried to imitate Us, make the imitation perfect too - if you have the power to do so. We did not simply make an image. We have invested it with a spirit too. If you claim to have &created& it, then, you better put a spirit inside the thing you have &made’. Another reason why a picture is prohibited appears in Sahih ahadith where it is said that the angels of Allah hate pictures and dogs. Angels do not enter the house that has these, because of which, the bliss and radiance of the house is gone, and the ability of the inmates to worship and remain obedient to Allah is reduced. Then, along with it, not so wrong is the well-known saying: خانہ خالی را دیو می گیرد (A vacant house is occupied by demons). So, when some house remains unvisited by angels of mercy, who else but the devils and demons will be all over it staying there to sow scruples of sins first and then give the intention and the courage to fall into them. Yet another reason appearing in some ahadith is that pictures are unnecessary embellishment of this world. Of course, in our time, pictures yield many benefits but thousands of crimes, including those that range between immodesty and pornography, also breed and flourish from these very pictures. In short, it is not simply one reason alone that was made basis for its prohibition, rather, there is a host of reasons why the Shari&ah of Islam has declared it prohibited to make and use pictures of the living. Now, if we were to suppose that there is some particular person in whom those causes are not found, then, from this stray incidence, the rule of the Shari&ah cannot change. According to a narration from Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud (رض) appearing in the .Sahih of al-Bukhari and Muslim, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been reported to have said: اَشَدُّ النَّاسِ عَذَاباً یَّومَ القِامۃ المُصَوِّرُونَ Of people the most affected by punishment on the Day of Judgment shall be the makers of pictures. And in some other narrations of Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) t has been reported to havb cursed the makers of pictures. Then, a narration from Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) appearing in the two Sahihs of al-Bukhari and Muslim reports that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) t said: کُلُّ مُصَوِّرِ فِی النَّارِ Every maker of pictures will be in the Jahannam. This humble writer has put together detailed evidences concerning this issue from the narrations of Hadith and the practice of the early forbears of Islam in his treatise entitled, At-taswir li-ahkam-it-taswir. Also included in it, there are answers to doubts entertained by people. If needed, please consult. A photograph is also a picture Some people argue that a photo is outside the definition of taswir or picture, because it is a shadow, or reflection, as it would appear in mirror or water. So, they would argue, the way it is permissible to look at yourself in a mirror, in the same way, a photo picture is also permissible. But this argument is absolutely wrong, because a reflection or shadow is a reflection until it has not been made to last through some device. Take the example of mirror or water. Your reflection in it will be gone once you move away from it. If the reflection of this figure were to be made lasting through the use of some chemical process or device, this very thing will become a picture, the forbiddance and prohibition of which stands proved from ahadith appearing in an uninterrupted succession. A detailed discussion relating to the issue of photographs has also been included in my treatise on pictures referred to earlier. The next word: جِفَان (jifan, translated in the text as &basins& ) is the plural of: جَفنَۃ (jafnah) which means a large dish-like pan or tub to hold ample supply of water, and the word: اَلجَوِاب (aljawab, translated above as &tanks& ) in: کَالجَوَابِ (kaljawab) is the plural of: جاَبِیَۃ (jabiyah). A small water tank is called: جابیہ (jabiyah). The sense is that they would make water-storing utensils so large as would hold water equal to that of a small tank. The first of the next two words: قُدُور (qudur, translated above as &cook-wares& ) is the plural of: قِدر (qidr) which is spelt with the Kasrah of the letter: القَاف (qaf). It means a pot (to boil or cook. The last of the two words: رَاسِیَات (rasiyat, translated as &fixed at their place& ) refers to their state as being set where they were. The sense is that they used to make these cauldrons so huge and heavy that they were virtually immovable - and it is also possible that they would have made these cauldrons fixed on the ovens of solid rock, and therefore they were immovable in that respect. Early Tafsir authority, Dahhak has given this very explanation of these words. In verse 13: اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرً‌ا وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ‌ (Do good, 0 family of Dawud, in thankfulness. And few from My slaves are thankful.|" [ 34:13]), after having stated that Sayyidna Dawud and Sulayman (علیہما السلام) were particularly blessed by Allah Ta’ ala, they and their family and children have been ordered to remain grateful. The reality of Shukr (gratitude) and its injunctions According to Al-Qurtubi, the reality of shukr (gratitude) is that one admits that this blessing has been bestowed by such and such giver and then goes on to use it in consonance with the spirit of his pleasure and in obedience to him. Therefore, using the blessing bestowed by someone counter to his pleasure is ungratefulness and a virtual denial of that blessing. This tells us that the way gratefulness can be in words, it can also be expressed by acts. When expressed by acts, it would mean the use of that blessing in accordance with the pleasure of the giver and in obedience to him. Abu &Abdur-Rahman As-Sulami has said that Salah is gratitude, fasting is gratitude, and every good deed is gratitude. And Muhammad Ibn Ka&b al-Qurazi says that gratitude is the name of piety and righteous conduct. (Ibn Kathir) In the verse under study, the noble Qur&an could have used the comparatively brief expression اَشکُرُونِی (ushkuruni: thank Me), but the words used are اعْمَلُوا شُكْرً‌ا ‌ Perhaps this expression is adopted to release the hint that the gratitude expected from the House of Dawud was gratitude in practice. (The translation in the text has taken care of this hint by saying, &Do good....& ) This injunction was carried out so faithfully by Sayyidna Dawud and Sulayman (علیہما السلام) and their families and children, both in word and deed, that no time passed in their homes when they did not have an individual member of the family standing exclusively devoted to worship. In fact, specific time was allotted to all family members for this purpose. As a result, the prayer mat of Sayyidna Dawud (علیہ السلام) would not remain unoccupied at any time by one or the other maker of prayer. (Ibn Kathir) According to Hadith in al-Bukhari and Muslim, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that the dearest prayer to Allah is that of Dawud (علیہ السلام) . He would sleep half of the night, stand in worship for one third of it, and then, sleep -during the last one sixth. And the dearest fasts to Allah are the fasts of Dawud علیہ السلام ، for he would fast on alternate days. (Ibn Kathir) It has been reported from Fudayl (رح) that following the revelation of this command of gratitude to Sayyidna Dawud (علیہ السلام) ، he submitted before Allah Ta’ ala: &0 my Lord, how could I show my gratitude to You fully and sufficiently while my gratitude too, be it oral or practical, is nothing but a blessing bestowed by You? On this too, a separate gratitude becomes due.& Allah Ta’ ala said, اَلاٰنَ شَکَرتنِی یَا داؤدُ (Now, 0 Dawud, you did thank Me). The reason was that he had realized his inability to thank Him as was His due, and had made a confession to that effect. Tirmidhi and Abu Bakr al-Jassas (رح) report from Sayyidna ` Ata& Ibn Yasar (رض) that when this verse: اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرً‌ا (Do good, 0 family of Dawud, in thankfulness) was revealed, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to the pulpit, recited this verse and then said, |"There are three acts whoever accomplishes them would achieve the same excellence as was bestowed on the House of Dawud.|" The noble Sahabah asked: |"Ya RasulAllah, what are those three acts?|" He said, |"Staying firm on justice in states of pleasure and displeasure both; and taking the path of moderation in states of prosperity and adversity both; and fearing Allah both in private and in public.|" (Qurtubi, Ahkam ul-Quran, al-Jassas) In the last sentence of verse وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ‌ soon after having given the command for gratitude with special emphasis, the reality on ground was also pointed to by saying that &And few from My slaves are thankful.& which is an admonition for a believer, and an incitement to observe gratitude.

(آیت) یعملون لہ ما یشاء من محاریب وتماثیل وجفان کالجواب وقدورراسیات، اس آیت میں ان کاموں کی کچھ تفصیل ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنات سے لیتے تھے۔ محاریب، محراب کی جمع ہے جو مکان کے اشرف واعلیٰ حصہ کے لئے بولا جاتا ہے، بادشاہ اور بڑے لوگ جو اپنے لئے حکومت کا کمرہ بنائیں اس کو بھی محراب کہا جاتا ہے۔ اور لفظ محراب حرب بمعنی جنگ سے مشتق ہے، کوئی آدمی جو اپنا حکومت کدہ خاص بناتا ہے اس کو دوسروں کی رسائی سے محفوظ رکھتا ہے، اس میں کوئی دست اندازی کرے تو اس کے خلاف لڑائی کرتا ہے۔ اس مناسبت سے مکان کے مخصوص حصہ کو محراب کہتے ہیں۔ مساجد میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کو بھی اسی امتیاز کی بنا پر محراب کہتے ہیں، اور کبھی خود مساجد کو محاریب کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں محاریب بنی اسرائیل اور اسلام میں محاریب صحابہ سے ان کی مساجد مراد ہوتی ہیں۔ مساجد میں محراب کے لئے مستقل مکان بنانے کا حکم : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خلفائے راشدین کے عہد تک امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کو ایک علیحدہ مکان کی حیثیت سے بنانے کا رواج نہیں تھا، قرون اولیٰ کے بعد سلاطین نے اس کا رواج اپنے تحفظ کے لئے دیا اور عام مسلمانوں میں اس کا رواج اس مصلحت سے بھی ہوا کہ امام جس جگہ کھڑا ہوتا ہے وہ پوری صف خالی رہتی ہے۔ نمازیوں کی کثرت اور مساجد کی تنگی کے پیش نظر صرف امام کے کھڑے ہونے کی جگہ دیوار قبلہ میں گہری کر کے بنادی جاتی ہے، تاکہ اس کے پیچھے پوری صفوف کھڑی ہو سکیں، چونکہ یہ طریقہ قرون اولیٰ میں نہ تھا اس لئے بعض علماء نے اس کو بدعت کہہ دیا ہے۔ شیخ جلال الدین سیوطی نے اس مسئلہ پر مستقل رسالہ بنام اعلام الارانیب فی بدعة المحاریب لکھا ہے۔ اور تحقیق اور صحیح بات یہ ہے کہ اگر اس طرح کی محرابیں نمازیوں کی سہولت اور مسجد کے مصالح کے پیش نظر بنائیں جائیں اور ان کو سنت مقصودہ نہ سمجھا جائے تو ان کو بدعت کہنے کی کوئی وجہ نہیں، ہاں اس کو سنت مقصودہ بنا لیا جائے اس کے خلاف کرنیوالے پر نکیر ہونے لگے تو اس غلو سے یہ عمل بدعت میں داخل ہوسکتا ہے۔ مسئلہ : جن مساجد میں محراب امام ایک مستقل مکان کی صورت میں بنائی جاتی ہے وہاں امام پر لازم ہے کہ اس محراب سے کسی قدر باہر اس طرح کھڑا ہو کہ اس کے قدم محراب سے باہر نمازیوں کی طرف رہیں، تاکہ امام اور مقتدیوں کا مکان ایک شمار ہو سکے، ورنہ یہ صورت مکروہ و ناجائز ہے کہ امام الگ مکان میں تنہا کھڑا ہو، اور سب مقتدی دوسرے مکان میں۔ بعض مساجد میں محراب اتنی وسیع و عریض بنائی جاتی ہے کہ ایک مختصر سی صف مقتدیوں کی بھی اس میں آجائے، ایسی محراب میں اگر ایک صف مقتدیوں کی بھی محراب میں کھڑی ہو اور امام ان کے آگے پورا محراب میں کھڑا ہو تو امام و مقتدیوں کے مکان کا اشتراک ہوجانے کی وجہ سے کراہت نہیں رہے گی۔ تماثیل، تمثال کی جمع ہے۔ قاموس میں ہے کہ تمثال فتح التاء مصدر ہے اور بکسر التاء تمثال تصویر کو کہا جاتا ہے۔ ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ تمثال یعنی تصویر دو طرح کی ہوتی ہے، ایک ذی روح جاندار چیزوں کی تصویر، دوسرے غیر ذی روح بےجان چیزوں کی۔ پھر بےجان چیزوں میں دو قسمیں ہیں۔ ایک جماد جس میں زیادتی اور نمو نہیں ہوتا، جیسے پتھر مٹی وغیرہ، دوسرے نامی جس میں نمو اور زیادتی ہوتی رہتی ہے، جیسے درخت اور کھیتی وغیرہ۔ جنات حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ان سب قسم کی چیزوں کی تصویریں بناتے تھے۔ اول تو لفظ تماثیل کے عموم ہی سے یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ یہ تصاویر کسی خاص قسم کی نہیں، بلکہ ہر قسم کے لئے عام تھیں۔ دوسرے تاریخی روایات میں تخت سلیمان پر پرندوں کی تصاویر ہونا بھی مذکور ہے۔ شرح اسلام میں جاندار کی تصویر بنانے اور استعمال کرنے کی ممانعت : آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شریعت میں جان داروں کی تصاویر بنانا اور استعمال کرنا حرام نہیں تھا، مگر چونکہ پچھلی امتوں میں اس کا مشاہدہ ہوا کہ لوگوں کی تصاویر ان کی یادگار کے طور پر بنائیں اور ان کو اپنے عبادت خانوں میں اس غرض کے لئے رکھا کہ ان کو دیکھ کر ان کی عبادت گزاری کا نقشہ سامنے آئے تو خود ہمیں بھی عبادت کی توفیق ہوجائے گی مگر رفتہ رفتہ ان لوگوں نے انہی تصویروں کو اپنا معبود بنا لیا، اور بت پرستی شروع ہوگئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں جانداروں کی تصاویر بت پرستی کا ذریعہ بن گئیں، شریعت اسلام کے لئے چونکہ قیامت تک قائم اور باقی رکھنا تقدیر الٰہی ہے، اس لئے اس میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ جس طرح اصل حرام چیزوں اور معاصی کو حرام و ممنوع کیا گیا ہے، اسی طرح ان کے ذرائع اور اسباب قریبہ کو بھی اصل معاصی کے ساتھ ملحق کر کے حرام کردیا گیا ہے۔ اصل جرم عظیم شرک و بت پرستی ہے، اس کی ممانعت ہوئی تو جن راستوں سے بت پرستی آسکتی تھی ان راستوں پر بھی شرعی پہرہ بٹھا دیا گیا اور بت پرستی کے ذرائع اور اسباب قریبہ کو بھی حرام کردیا گیا۔ ذی روح کی تصاویر کا بنانا اور استعمال کرنا اسی اصول کی بنا پر حرام کیا گیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث صحیحہ سے متواتر سے اس کی حرمت ثابت ہے۔ اسی طرح شراب حرام کی گئی تو اس کی خرید، فروخت، اس کو لانے لے جانے کی مزدوری اس کی صنعت سب حرام کردی گئی جو شراب نوشی کے ذرائع ہیں۔ چوری حرام کی گئی تو کسی کے مکان میں بلا اجازت داخل ہونا بلکہ باہر سے جھانکنا بھی ممنوع کردیا گیا زنا حرام کیا گیا تو غیر محرم کی طرف بالقصد نظر کرنے کو بھی حرام کردیا گیا۔ شریعت اسلام میں اس کی بیشمار نظائر موجود ہیں۔ حرمت تصویر پر ایک عام شبہ اور اس کا جواب : یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں تصاویر کو جس حیثیت سے استعمال کیا جاتا تھا وہ ذریعہ بت پرستی بن سکتی تھی، لیکن آج کل تصویر سے جس طرح کے کام لئے جاتے ہیں، ملزموں کی شناخت، تجارتوں کے خاص مارک، دوستوں عزیزوں سے ملاقات، واقعات و حالات کی تحقیق میں امداد وغیرہ جس کی وجہ سے وہ ضروریات زندگی میں داخل کرلی گئی ہیں اس میں بت پرستی اور عبادت کا کوئی تصور دور دور نہیں، تو یہ ممانعت جو بت پرستی کے خطرہ سے کی گئی تھی اب مرتفع ہوجانی چاہئے۔ جواب یہ ہے کہ اولاً یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ آج کل تصویر ذریعہ بت پرستی نہیں رہی، آج بھی کتنے فرقے اور گروہ ہیں جو اپنے پیرو وں کی تصویر کو پوجا پاٹ کرتے ہیں اور جو حکم کسی علت پر دائر ہو، یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر فرد میں پایا جائے۔ اس کے علاوہ تصویر کی ممانعت کا سبب صرف ایک یہی نہیں کہ وہ بت پرستی کا ذریعہ ہے، بلکہ احادیث صحیحہ میں اس کی حرمت کی دوسری وجوہ بھی مذکور ہیں۔ مثلاً یہ کہ تصویر سازی حق تعالیٰ کی صفت خاص کی نقالی ہے، مصور حق تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے اور صورت گری درحقیقت اسی کے لئے سزاوار اور اسی کی قدرت میں ہے کہ مخلوقات کی ہزاروں اجناس اور انواع اور ہر نوع میں اس کے کروڑوں افراد ہوتے ہیں، ایک کی صورت دوسرے سے نہیں ملتی، انسان ہی کو لے لو تو مرد کی صورت اور عورت کی صورت میں نمایاں امتیاز، پھر عورتوں اور مردوں کے کروڑوں افراد میں دو فرد بالکل یکساں نہیں ہوئے۔ ایسے کھلے ہوئے امتیازات ہوتے ہیں کہ دیکھنے والوں کو کسی تامل اور غور و فکر کے بغیر ہی امتیاز واضح ہوجاتا ہے۔ یہ صورت گری اللہ رب العزت کے سوا کس کی قدرت میں ہے، جو انسان کسی جاندار کا مجسمہ یا نقوش اور رنگ سے اس کی تصویر بناتا ہے وہ گویا عملی طور پر اس کا مدعی ہے کہ وہ بھی صورت گری کرسکتا ہے۔ اسی لئے صحیح بخاری وغیرہ کی احادیث میں ہے کہ قیامت کے روز تصویریں بنانے والوں کو کہا جائے گا کہ جب تم نے ہماری نقل اتاری تو اس کو مکمل کر کے دکھلاؤ، اگر تمہارے بس میں ہو کہ ہم نے تو صرف صورت ہی نہیں بنائی اس میں روح بھی ڈالی ہے۔ اگر تمہیں اس تخلیق کا دعویٰ ہے تو اپنی بنائی ہوئی صورت میں روح بھی ڈال کر دکھلاؤ۔ ایک سبب تصویر کی ممانعت کا احادیث صحیحہ میں یہ بھی آیا ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو تصویر اور کتے سے نفرت ہے جس گھر میں یہ چیزیں ہوتی ہیں، اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس کے سبب اس گھر کی برکت اور نورانیت مٹ جاتی ہے، گھر میں بسنے والوں کو عبادت و اطاعت کی توفیق گھٹ جاتی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ مشہور مقولہ بھی غلط نہیں کہ ” خانہ خالی راد یومی گیرد “ یعنی خالی گھر پر جن بھوت قبضہ کرلیتے ہیں جب کوئی گھر رحمت کے فرشتوں سے خالی ہوگا تو شیاطین اس کو گھیر لیں گے اور ان کے بسنے والوں کے دلوں میں گناہوں کے وسوسے اور پھر ارادے پیدا کرتے رہیں گے۔ ایک سبب بعض احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ تصویریں دنیا کی زائد از ضرورت زینت ہیں اور اس زمانے میں جس طرح تصاویر سے بہت سے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں ہزاروں جرائم اور فحاشی بھی انہی تصاویر سے جنم لیتے ہیں۔ غرض شریعت اسلام نے صرف ایک وجہ سے نہیں، بہت سے اسباب پر نظر کر کے جاندار کی تصاویر بنانے اور اس کے استعمال کرنے کو حرام قرار دے دیا ہے۔ اب اگر کسی خاص فرد میں فرض کرلیں کہ وہ اسباب اتفاق سے موجود نہ ہوں تو اس اتفاقی واقعہ سے قانون شرعی نہیں بدل سکتا۔ صحیح و بخاری و مسلم میں بروایت عبداللہ بن مسعود یہ حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اشد الناس عذاباً یوم القیمة المصورون، یعنی سب سے زیادہ سخت عذاب میں قیامت کے روز تصویر بنانے والے ہوں گے۔ اور بعض روایات حدیث میں تصویر بنانے والوں پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت فرمائی ہے، اور صحیحین میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کل مصور فی النار، الحدیث، یعنی ہر مصور جہنم میں جائے گا۔ اس مسئلہ کے متعلق روایات حدیث اور تعامل سلف کے شواہد تفصیل کے ساتھ احقر نے اپنے رسالہ ” التصویر الاحکام التصویر “ میں جمع کردیئے ہیں، اور لوگوں کے شبہات کے جوابات بھی اس میں مفصل ہیں، ضرورت ہو تو اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ فوٹو کی تصویر بھی تصویر ہی ہے : بعض لوگوں کا یہ کہنا قطعاً غلط ہے کہ فوٹو تصویر سے خارج ہے، کیونکہ وہ تو ظل اور عکس ہے، جیسے آئینہ اور پانی وغیرہ میں آجاتا ہے تو جس طرح آئینہ میں اپنی صورت دیکھنا جائز ہے ایسے ہی فوٹو کی تصویر بھی جائز ہے۔ جواب واضح ہے کہ عکس اور ظل اس وقت تک عکس ہے جب تک وہ کسی ذریعہ سے قائم اور پائدار نہ بنا لیا جائے، جیسے آئینہ یا پانی میں اپنا عکس جس وقت پانی کے مقابلہ سے آپ ہٹ جائیں گے ختم ہوجائے گا، اگر آئینہ کے اوپر کسی مسالہ یا آلہ کے ذریعہ اس صورت کے عکس کو پائیدار بنادیا جائے تو یہی تصویر ہوجائے گی، جس کی حرمت و ممانعت احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ فوٹو کی مفصل بحث بھی رسالہ مذکور التصویر میں لکھ دی گئی ہے۔ جفان، جفنہ کی جمع ہے، جو پانی کے بڑے برتن جیسے تشلہ یا ٹب وغیرہ کو کہا جاتا ہے۔ کالجواب، جابیہ کی جمع ہے، چھوٹے حوض کو جابیہ کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ پانی بھرنے کے بڑے برتن ایسے بناتے ہیں جس میں چھوٹے حوض کے برابر پانی آتا ہے۔ قدور قدر بکسر القاف کی جمع ہے، ہنڈیا کو کہا جاتا ہے۔ راسیات، اپنی جگہ ٹھہری ہوئی۔ مراد یہ ہے کہ اتنی وزنی اور بڑی دیگیں بناتے تھے جو ہلائے نہ ہلیں، اور ممکن ہے کہ یہ دیگیں پتھر سے تراش کر پتھر ہی کے چولہوں پر لگی ہوئی بناتے ہوں جو ناقابل حمل و نقل ہوں۔ امام تفسیر ضحاک نے قدور راسیات کی یہی تفسیر کی ہے۔ (آیت) اعملوا آل داؤد شکراً و قلیل من عبادی الشکور، حضرت داؤد سلیمان (علیہما السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے نوازا اور مخصوص انعامات عطا فرمائے، ان کا بیان فرمانے کے بعد ان کو مع ان کے اہل و عیال کے شکر گزاری کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے۔ شکر کی حقیقت اور اس کے احکام : قرطبی نے فرمایا کہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا اعتراف کرے کہ یہ نعمت فلاں منعم نے دی ہے اور پھر اس کو اس کی اطاعت ومرضی کے مطابق استعمال کرے، اور کسی کی دی ہوئی نعمت کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرنا ناشکری اور کفران نعمت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شکر جس طرح زبان سے ہوتا ہے اسی طرح عمل سے بھی شکر ہوتا ہے، اور عملی شکر اس نعمت کا منعم کی اطاعت ومرضی کے مطابق استعمال ہے اور ابو عبدالرحمن اسلمی نے فرمایا کہ نماز شکر ہے، روزہ شکر ہے اور ہر نیک کام شکر ہے، اور محمد بن کعب قرظی نے فرمایا کہ شکر تقویٰ اور عمل صالح کا نام ہے، (ابن کثیر) ۔ آیت مذکورہ میں قرآن حکیم نے حکم شکر کے لئے مختصر لفظ اشکرونی کے بجائے اعملوا شکراً استعمال فرما کر شاید اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ آل داؤد سے مطلوب شکر عملی ہے، چناچہ اس حکم کی تعمیل حضرت داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) اور ان کے خاندان نے قول و عمل دونوں سے اس طرح کی کہ ان کے گھر میں کوئی وقت ایسا نہ گزرتا تھا جس میں گھر کا کوئی فرد اللہ کی عبادت میں نہ لگا ہوا ہو۔ افراد خاندان پر اوقات تقسیم کردیئے گئے تھے۔ اس طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کا مصلیٰ کسی وقت نماز پڑھنے والے سے خالی نہ رہتا تھا۔ (ابن کثیر) بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نمازوں میں اللہ کے نزدیک محبوب تر نماز داؤد (علیہ السلام) کی ہے، وہ نصف رات سوتے تھے پھر ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے تھے، پھر آخری چھٹے حصہ میں سوتے تھے اور سب روزوں میں محبوب تر اللہ کے نزدیک صیام داؤد (علیہ السلام) ہیں کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ (ابن کثیر) حضرت فضیل سے منقول ہے کہ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) پر یہ حکم شکر نازل ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اے میرے پروردگار میں آپ کا شکر کس طرح پورا کرسکتا ہوں جب کہ میرا شکر قولی ہو یا عملی وہ بھی آپ ہی کی عطا کردہ نعمت ہے، اس پر بھی مستقل شکر واجب ہے۔ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : الان شکرتنی یا داؤد، یعنی اے داؤد اب آپ نے شکر ادا کردیا، کیونکہ حق شکر ادا کرنے اپنے عجز و قصور کو سمجھ لیا اور اعتراف کرلیا۔ حکیم ترمذی اور امام ابوبکر جصاص نے حضرت عطاء بن یسار سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اعملوا آل داؤد شکراً تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف لائے اور اس آیت کو تلاوت فرمایا پھر ارشاد فرمایا کہ تین کام ایسے ہیں کہ جو شخص ان کو پورا کرلے تو جو فضیلت آل داؤد کو عطا کی گئی تھی وہ اس کو بھی مل جائے گی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ وہ تین کام کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ رضا اور غضب کی دونوں حالتوں میں انصاف پر قائم رہنا، اور غنا اور فقر کی دونوں حالتوں میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنا، اور خفیہ اور علانیہ دونوں حالتوں میں اللہ سے ڈرنا (قرطبی احکام القرآن، جصاص) وقلیل من عبادی الشکور، شکر کے حکم اور تاکید کے بعد اس واقعہ کا بھی اظہار فرما دیا کہ میرے بندوں میں شکر گزار کم ہی ہوں گے۔ اس میں بھی مومن کے لئے تنبیہ اور تحریض ہے شکر پر۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيْلَ وَجِفَانٍ كَالْجَــوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ۝ ٠ ۭ اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا۝ ٠ ۭ وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ۝ ١٣ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے حرب الحَرْبُ معروف، والحَرَب : السّلب في الحرب ثم قد سمّي كل سلب حربا، قال : والحرب فيه الحرائب، وقال : والحرب مشتقة المعنی من الحرب «5» وقد حُرِبَ فهو حَرِيب، أي : سلیب، والتّحریب : إثارة الحرب، ورجل مِحْرَب، كأنه آلة في الحرب، والحَرْبَة : آلة للحرب معروفة، وأصله الفعلة من الحرب أو من الحراب، ومِحرابُ المسجد قيل : سمّي بذلک لأنه موضع محاربة الشیطان والهوى، وقیل : سمّي بذلک لکون حقّ الإنسان فيه أن يكون حریبا من أشغال الدنیا ومن توزّع الخواطر، وقیل : الأصل فيه أنّ محراب البیت صدر المجلس، ثم اتّخذت المساجد فسمّي صدره به، وقیل : بل المحراب أصله في المسجد، وهو اسم خصّ به صدر المجلس، فسمّي صدر البیت محرابا تشبيها بمحراب المسجد، وكأنّ هذا أصح، قال عزّ وجل : يَعْمَلُونَ لَهُ ما يَشاءُ مِنْ مَحارِيبَ وَتَماثِيلَ [ سبأ/ 13] . والحِرْبَاء : دویبة تتلقی الشمس كأنها تحاربها، والحِرْبَاء : مسمار، تشبيها بالحرباء التي هي دویبة في الهيئة، کقولهم في مثلها : ضبّة وکلب، تشبيها بالضبّ والکلب . ( ح ر ب ) الحرب جنگ کا راز ۔ اور فتحۃ را کے ساتھ لڑائی میں کسی کا مال چھیننے کے ہیں پھر ہر قسم کے سب کے حرب کہاجاتا ہے اور حرب معنوی لحاظ سے حرب سے مشتق ہے کہا جاتا ہے ۔ حرب الرجل ان کا سامان چھین لیا گیا فھو حریب یعنی لٹا ہوا ۔ التحریب لڑائی کا بھڑکا نا ۔ رجل محرب جنگجو گویا وہ لڑائی بھڑکانے کا آلہ ہے ۔ الحربۃ بر چھا ۔ اصل میں یہ حرب یا حراب سے فعلۃ کے وزن پر ہے اور مسجد کے محراب کو محراب یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ شیطان اور خواہشات نفسانی سے جنگ کرنے کی جگہ ہے اور یا اس لئے کہ اس جگہ میں کھڑے ہو کر عبادت کرنیوالے پر حق یہ ہے کہ دنیوی کاروبار ۔ اور پریشان خیالیوں سے یک سو ہوجانے ۔ بعض کہتے ہیں کہ اصل میں محراب البیت صدر مجلس کو کہتے ہیں اسی بنا پر جب مسجد میں امام کی گہ بنائی گئی تو اسے بھی محراب کہہ دیا گیا ۔ اور بعض نے اس کے برعکس محراب المسجد کو اصل اور محراب البیت کو اس کی فرع نانا ہے اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَعْمَلُونَ لَهُ ما يَشاءُ مِنْ مَحارِيبَ وَتَماثِيلَ [ سبأ/ 13] وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی محراب اور مجسمے ۔ الحرباء گرگٹ کیونکہ وہ سورج کے سامنے اس طرح بیٹھ جاتی ہے گویا اس سے جنگ کرنا چاہتی ہے نیز زرہ کے حلقہ یا میخ کو بھی صوری مشابہت کی بنا پر حرباء کہاجاتا ہے جیسا کہ ضب اور کلب کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے اس کی بعض حصوں کو ضبہ اور کلب کہہ دیتے ہیں ۔ جفن الجَفْنَة خصت بوعاء الأطعمة، وجمعها جِفَان، قال عزّ وجل : وَجِفانٍ كَالْجَوابِ [ سبأ/ 13] ، وفي حدیث «وأنت الجفنة الغرّاء» «2» أي : المطعام، وقیل للبئر الصغیرة جفنة تشبيها بها، والجِفْن خصّ بوعاء السیف والعین، وجمعه أجفان، وسمي الکرم جفنا تصوّرا أنّه وعاء العنب . ( ج ف ن ) الجفنۃ ۔ پیالہ ۔ خاص کر کھانے کے برتن کو کہتے ہیں ج جفان قرآن میں ہے :۔ وَجِفانٍ كَالْجَوابِ [ سبأ/ 13] وجفان کالجواب (34 ۔ 13) اور لگن جیسے بڑی حوض ۔ حدیث میں ہے (63) وانت الجفنۃ الغرا سخی سردار ہو ۔ اور لگن کے ساتھ تشبیہ دے کر چھوٹے کنوئیں کو بھی جفنۃ کہا جاتا ہے ؛۔ الجفن اس کے معنی خاص کر تلوار ک نیام یا آنکھ کے پیوٹے کے آتے ہیں ج اجفان اور انگور کی بیل کو بھی جفن کہا جاتا ہے گو یا وہ انگور کے لئے بمنزلہ برتن کے ہے ۔ جوب الجَوْبُ : قطع الجَوْبَة، وهي کا لغائط من الأرض، ثم يستعمل في قطع کلّ أرض، قال تعالی: وَثَمُودَ الَّذِينَ جابُوا الصَّخْرَ بِالْوادِ [ الفجر/ 9] ، ويقال : هل عندک جَائِبَة خبر ( ج و ب ) الجوب رض ) اس کے اصل معنی جو بہ قطع کرنے کے میں اور یہ پست زمین کی طرح گڑھاسا ) ہوتا ہے ۔ پھر ہر طرح زمین کے قطع کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَثَمُودَ الَّذِينَ جابُوا الصَّخْرَ بِالْوادِ [ الفجر/ 9] اور غمود کے ساتھ کیا کیا جو وادی ( قریٰ ) میں پتھر تراشتے اور مکانات بناتے تھے ۔ الجائبتہ ۔ پھیلنے والی ) محاورہ ہے ھن عندک من جایبتہ خبر ۔ کیا تمہارے پاس کوئی نشر ہونے والی خبر ہے ۔ قِدْرُ : اسم لما يطبخ فيه اللّحم، قال تعالی: وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] ، وقَدَرْتُ اللّحم : طبخته في الْقِدْرِ ، والْقَدِيرُ : المطبوخ فيها، والْقُدَارُ : الذي ينحر ويُقْدَرُ ، قال الشاعر : ضرب القدار نقیعة القدّام القدر ( دیگ) برتن جس میں گوشت پکایا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی ہیں ۔ اور قدرت اللحم کے معنی ہانڈی میں گوشت پکانے کے ہیں اور ہینڈیاں پکائے ہوئے گوشت کو قدیر کہاجاتا ہے ۔ القدار ( قصاب ) وہ شخص جو اونٹ کو نحر ( ذبح ) کرکے دیگ میں اس کا گوشت پکاتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الکامل) (351) ضرب القدار نقیعۃ القدام جیسا کہ قصاب سفر سے آنے والے کی خوشی میں دعوت کے لئے گوشت کاٹتا ہے ۔ رسا يقال : رَسَا الشیء يَرْسُو : ثبت، وأَرْسَاهُ غيره، قال تعالی: وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] ، وقال تعالی: ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها وَمُرْساها من : أجریت، وأَرْسَيْتُ ، فالمُرْسَى يقال للمصدر، والمکان، والزمان، والمفعول، وقرئ : ( مجريها ومرسيها) ( ر س و ) رسا الشئی ۔ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں اور ارسٰی کے معنی ٹھہرانے اور استوار کردینے کے ۔ قرآن میں ہے : وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] اور بڑی بھاری بھاری دیگیں جو ایک پر جمی رہیں ۔ اور قرآن میں جو ہے ۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها وَمُرْساها«3» اللہ کے نام سے اس کا چلنا اور لنگر انداز ہونا ہے ۔ تو یہ اجریت وارسیت ( باب افعال ) سے موخوذ ہے ۔ اور مرسی کا لفظ مصدر میمی آتا ہے اور صیغہ ظرف زمان ومکان اور اسم مفعول بھی استعمال ہوتا ہے اور آیت نذکورۃ الصدر میں ایک قرات وقرئ : ( مجريها ومرسيها) بھی ہے ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے داود داود اسم أعجميّ. ( د و د ) داؤد ) (علیہ السلام) یہ عجمی نام ہے اور عجمہ وعلمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے ) شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي : ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکانات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔ اللہ نے تصویریں اور مجسمے بنانے والوں پر لعنت بھیجی ہے) اس میں ایک قول یہ بھی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کسی میں اس کی شبیہ بناتا ہو وہ یہاں مراد ہے۔ دو انتہائوں کے درمیان میانہ روی کی تلقین قول باری ہے (اعملوا الی دائود شکرا۔ اے دائود کے خاندان والو ! تم شکر میں نیک کام کرو) عطاء بن یسار سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور پھر فرمایا ثلاث من اوتیھن فقد اوتی مثل مااوتی ال دائود العدل فی الغضب والرضا والقصد فی الغنی والفقرو خشیۃ اللہ فی السروالعلانیۃ۔ تین باتیں جسے عطا ہوگئیں اسے گویا وہ کچھ عطا ہوگیا جو دائود (علیہ السلام) کے خاندان والوں کو عطا ہوا تھا۔ غضب اور رضادونوں حالتوں میں انصاف کرنا، فقر وغنی میں میانہ روی اختیار کرنا اور کھلے بندوں نیز چھپے بندوں اللہ سے ڈرتے رہنا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ جنات ان کے لیے وہ چیزیں بناتے تھے جو انہیں منظور ہوتا تھا۔ بڑی بڑی مسجدیں اور فرشتوں اور انبیاء کرام (علیہم السلام) اور نیک بندوں کی تصویریں دیکھ کر اپنے پروردگار کی ان کی طرح عبادت کریں اور حوض کی طرح بڑے بڑے طشت جو اپنی جگہ سے حرکت نہ کرتے ہوں اور ایسی بڑی بڑی دیگیں جو اپنی جگی جمی رہیں ہلائے نہ ہلیں اور تقریبا ایک ہزار آدمی اس کا کھانا کھا لیں۔ سلیمان (علیہ السلام) خوب نیک کام کرو تاکہ میں نے جو تمہیں نعمتیں دی ہیں اس کا شکریہ ادا ہو اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت ہی کم ہوتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣ { یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ } ” وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا تھا ‘ بڑی بڑی عمارتیں اور مجسمے “ شریعت ِمحمدی میں مجسمے بنانا حرام ہے ‘ لیکن ان الفاظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں ایسا کرنا جائز تھا۔ ویسے ” تِمثال “ عربی زبان میں ہر اس شبیہہ یا پیکر کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنایا جائے ‘ خواہ وہ جاند ار ہو یا بےجان۔ { وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ } ” اور تالابوں کی مانند بڑے بڑے لگن اور بڑی بڑی دیگیں جو ایک جگہ مستقل پڑی رہتی تھیں۔ “ یعنی وہ دیگیں اتنی بڑی ہوتی تھیں کہ چولہوں کے اوپر ہی پڑی رہتی تھی اور وہاں سے انہیں ہلایا نہیں جاسکتا تھا۔ اس طرح کی دیگیں اجمیر شریف (انڈیا) میں حضرت معین الدین اجمیری (رح) کے مزار پر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ { اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا } ” اے دائود (علیہ السلام) کے گھر والو ! عمل کرو شکر ادا کرتے ہوئے “ حضرت سلیمان (علیہ السلام) چونکہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اس لیے آپ ( علیہ السلام) کو آلِ دائود ( علیہ السلام) کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) پر اللہ کی ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) کا ایک ایک عمل اللہ تعالیٰ کی احسان مندی کا مظہر ہونا چاہیے۔ { وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ } ” اور (واقعہ یہ ہے کہ ) میرے بندوں میں شکر کرنے والے کم ہی ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 The word tamathil in the Text is the plural of timthal, which in Arabic is used for every such thing as is made to resemble a natural thing, whether it is a human being, an animal, a tree, a flower, a river, or some inanimate object. Timthal is the name of every artificial thing which may have been made to resemble something made by God. " (Lisan al- Arab). "Timthal is every such picture which may have been made to resemble the likeness of something else, whether living or dead." (The Commentary, Al-Kashshaf). On this basis the statement of the Qur'an does not necessarily imply that the "images" made for the Prophet Solomon were the pictures or images of human beings and animals. They might have been floral designs or natural landscape or different kinds of decorations with which the Prophet Solomon might have decorated his buildings and works. The misunderstanding has been created by some commentators who have stated that the Prophet Solomon had got the pictures of the Prophets and the angels made for himself. They took such things from the Israelite traditions and then explained them saying that in the former Shari'ahs it was not forbidden to make the pictures. But while accepting and citing these traditions without question, these scholars did not keep in mind the fact that the Prophet Solomon was a follower of the Mosaic Law and in that Law also making of the pictures and images of human beings and animals was forbidden as it is in the Shari'ah of Muhammad (upon whom be Allah's peace). And they also did not remember that because of the enmity which a section of the Israelites bore against the Prophet Solomon they have accused him of crimes like polytheism, idolatry, sorcery and adultery. Therefore. one should not place reliance on the Israelite traditions and accept anything about this great Prophet, which might contradict any Shari'ah enjoined by God. Everyone knows that all the Prophets who came after the Prophet Moses till the Prophet Jesus among the Israelites were the followers of the Torah, and none of them had brought forth a new law, which might have abrogated the Law of the Torah. Now the Torah clearly enjoins repeatedly that making of the pictures and images of human beings and animals is absolutely forbidden. "Thou shalt not make unto thee any graven image, or any likeness of any thing that is in the heaven above, or that is in the earth beneath, or that is in the water under the earth." (Exod., 20: 4) "Ye shall make you no idols nor graven image, nor rear you up a standing image, neither shall ye set up any image of stone in your land, to bow down unto it." (Levit., 26: 1) 'Lest ye corrupt yourselves, and make you a graven image, the similitude of any figure, the likeness of male or female. The likeness of any beast that is on the earth, the likeness of any winged fowl that flieth in the air. The likeness of any thing that creepeth on the ground, the likeness of any fish that is in the waters beneath the earth." (Deut., 4: 16-18). "Cursed be the man that maketh any graven or molten image, an abomination unto the Lord, the work of the hands of the craftsman, and putteth it in a secret place." (Deut., 27: 15). In the face of these clear and express injunctions how can it be accepted that the Prophet Solomon might have employed the jinns to make pictures and images of the Prophets and the angels for him? And how can this thing be admitted on the authority of the statements of the Jews who accuse the Prophet Solomon of idolatry due to his love for polytheistic wives? (t Kings, oh., 11). However, the Muslim commentators, while citing the Israelite traditions, had made it clear that in the Shari'ah of Muhammad (upon whom be Allah's peace) this thing is forbidden; therefore, it is no more lawful for anybody to make pictures and images in imitation of the Prophct Solomon. But some people of the modern time, who want to make photography and carving of idols lawful in imitation of the West, took this verse of the Qur'an as an argument for themselves. They argue like this: "When a Prophet of Allah has done this and Allah Himself has mentioned this act of the Prophet in His Book, and has expressed no disapproval of it either, it must be lawful . " This argument of these followers of the West is wrong for two reasons. First, the word tamathil that has been used in the Qur'an, dces not explicitly give the meaning of the human and animal pictures, but it applies to the pictures of lifeless things as well. Therefore, only on the basis of this word, it cannot be concluded that it is lawful to make the human and animal pictures according to the Qur'an. Secondly, it is established by a large number of the Ahadith, which have been reported through authentic chains of transmitters, and commonly reported by many authorities, that the Holy Prophct absolutely forbade the making and keeping of the pictures of the living things. In this connection, we reproduce below the authentic Traditions of the Holy, Prophet and the verdicts given by the eminent Companions: (1) Mother of the faithful Hadrat `A'ishah has reported that Hadrat Umm Habibah and Hadrat Umm Salamah had seen a church in Habash, which had pictures in it. When they mentioned this before the Holy Prophet, he said: "The custom among those people was that when a pious man from among them died, they would build a house of worship at his grave and would make his pictures in it. On the Day of Resurrection, these people will be among the most wretched creatures in the sight of Allah." (Bukhari: Kitab as-Salat,' Muslim: Kitab al-Masajid; Nasa`i: Kitab al-Masajid). (2) Abu Hujaifah has reported that the messenger of Allah has cursed the maker of pictures. (Bukhari Kitab al-Buyu', Kitab at-Talaq, Kitab alLibas). (3) Abu Zur'ah says, "Once when I entered a house along with Hadrat Abu Hurairah I saw that a painter was making pictures at the top. Thereupon, Hadrat Abu Hurairah said, 'I have heard the Holy Prophet say: Allah says who could be more wicked than the one who tries to create a thing like My creation? Let them, if they can, create a seed or an ant'." (Bukhari: Kitab al-Libas; Musnad Ahmad. According to the tradition in Muslim, this was the house of Marwan). (4) Abu Muhammad Hudhali has reported on the authority of Hadrat `Ali: The Holy Prophet was present at a funeral prayer when he said: Who from among you would go to Madinah and demolish every idol that he sees, and level down every grave that he sees, and blot out every picture that he sees. A man said that he would go. So he went but came back without carrying out the task due to fear of the people of Madinah. Then Hadrat `Ali submitted that he would go, and the Holy Prophet allowed him to go. Hadrat `Ali went, then came back and said: I have demolished every idol and leveled down every grave and blotted out every picture. Thereupon the Holy Prophet said: "Now if any one made any of these things, he would be denying the teaching sent down on Muhammad (upon whom be Allah's peace)." (Musnad Ahmad; Muslim: Kitab al-Jana 'iz; Nasa' i (Kitab al-Jan 'iz) also contain a Tradition on the same subject). (5) Ibn `Abbas has reported: ".....And he who made a picture would be chastised and compelled to breathe the soul into it, which he will not be able to do." (Bukhari: Kitab al-Ta 'bir, Tirmidhi: Abwab al Libas; Nasa`i: Kitab az-Zinah; Musnad Ahmad). (6) Said bin al-Hasan says: "I was sitting with Ibn `Abbas when a man came and said: O Ibn `Abbas, I am a man who earns his living with his hand, and my profession is to make these pictures. Ibn `Abbas replied: I shall say to you the same that I have heard from the Holy Prophet. I have heard this from him that Allah will chastise the one who makes pictures, and . will not leave him till he breathes the saul into it, and he will never be able to breathe the soul into it. At this the man was much upset and his face turned pale. Ibn `Abbas said: Well, if you have to make the pictures, make of this tree, or of something which is lifeless. " (Bukhari: Kitab al-Buyu'; Muslim: Kitab al-Libas; Nasa`i; Kitab al-Zinah; Musnad Ahmad). (7) "Abdullah bin Mas'ud has reported that the Holy Prophet said: "On the Day of Resurrection the ones to be most severely punished by Allah would be the painters of the pictures. "(Bukhari: Kitab al-Libas; Muslim: Kitab al-Libas; Nasa`i; Kitab al-Zinah; Musnad Ahmad). (8) 'Abdullah bin `Umar has reported that the Holy Prophet said: Those who paint the pictures will be punished on the Day of Resurrection. They will be asked to put life into what they have made. (Bukhari: Kitab al-Libas; Muslim: Kitab al-Libas; Nasa`i; Kitab al-Zinah; Musnad Ahmad). (9) Hadrat 'A'ishah says that she bought a cushion in which pictures had been painted. Then the Holy Prophet came and stood at the door and did not enter. I said: "I repent before God of any sin that I may have committed." The Holy Prophet asked: "What is this cushion for?" I said: "This is here so that you may sit and may recline on it." He said: "The painters of these pictures will be chastised on the Day of Resurrection: they will be asked to put life into what they have made; and the angels (i. e. the angels of mercy) do not enter a house which has pictures in it. "(Bukhari; : Kitab al-Libas; Muslim: Kitab al-Libas; Nasa`i: Kitab az-Zinah; Ibn Majah: Kitab at-Tajarat; Mu`watta': Kitab al-Istidhan). (10) Hadrat `A'ishah says: Once the Holy Prophet came to my house, and I had hung a curtain which had pictures on it. The colour of his face changed. Then he took hold of the curtain and tore it and said: "Those who try to create like the creation of Allah will be among, those who will be severely punished by Allah on the Day of Resurrection." (Muslim: Kitab al-Libas; Bukhari: Kitab al-Libas; Nasa`i: Kitab az -Zinah). (11) Hadrat `A'ishah says: Once the Holy Prophet came back; from a journey and I had hung a curtain at my door, which had the pictures of winged horses on it. The Holy Prophet commanded me to remove it and I removed it. (Muslim: Kitab al-Libas, Nasa'i: Kitab al-Zinah). (12) Jabir bin `Abdullah says: The Holy Prophet prohibited keeping of the pictures in the house and also forbade that somebody should make pictures. (Tirmidhi: Abwab al-Libas). (13) Ibn `Abbas has related on the authority of Abu Talhah Ansari: The Holy Prophet said that the angels (i.e. of mercy) do not enter a house where there is a dog, nor where there is a picture. (Bukhari: Kitab al-Libas). (14) 'Abdullah bin `Umar says: Once Gabriel promised to pay the Holy Prophet a visit, but the time passed and he did not come. The Holy Prophet felt troubled and came out of his house and met him. When he complained to him, he (Gabriel) replied: "We do not enter a house where there is a dog or a picture. " (Bukhari: Kitab a/-Libas. Several Traditions on this subject have been related by Bukhari, Muslim, Abu Da`ud, Tirmidhi, Nasa'i, Ibn Majah, Imam Malik and Imam Ahmad on the authority of several Companions). As against these, there are some other Traditions which allow some exceptions regarding the pictures. For example, according to a tradition of Abu Talhah Ansari, it is permissible to hang the curtain of a cloth which has pictures embroidered on it. (Bukhari: Kitab al-Libas); and according to Hadrat 'A'ishah's tradition, when she tore a cloth having pictures on it and made a cushion from it to be spread on the floor, the Holy Prophet did not forbid it. (Muslim: Kitab al-Libas); and Salim bin `Abdullah bin `Umar's tradition that the prohibition is of the picture which is displayed and installed prominently and not of the one which is used as a carpet: (Musnad Ahmad). But none of these traditions contradicts the Traditions which have been cited above. None of these sanctions the making and painting of the pictures. They only tell that if a person has got a piece of cloth having pictures on it, how he should use it. In this regard, the tradition of Abu Talhah Ansari cannot at all be accepted because it contradicts many, other authentic Traditions in which the Holy Prophet not only forbade use of cloth having pictures on it as a curtain but even tore it into pieces. Moreover, Hadrat Abu Talhah Ansari's own practice that has been reported in Tirmidhi and Mu'watta', in this regard, was that he did not even like to use a piece of cloth which had pictures on it, as a carpet, not to speak of hanging it as a curtain. As for the traditions related by Hadrat `A'ishah and Salim bin `Abdullah. they only permit that if a picture is not placed prominently out of respect and esteem but is used as a carpet disrespectfully and is trodden under the feet, it could be tolerable. After all, how can these Traditions be cited for obtaining sanction for the culture which regards the art of painting and portrait making and sculpture as an enviable achievement of the human civilization, and wants to popularize it among the Muslims? The code of practice that the Holy Prophet left for his Ummah with regard to the pictures, Can be seen from the conduct and practice of the eminent Companions, which they adopted in this regard. The admitted principle of law in Islam is that the authentic and reliable Islamic Law is that which the Holy Prophet enjoined during the latter part of his life after it had passed through gradual and preliminary injunctions and exceptions. And after the Holy Prophet the eminent Companions' practice and persistence on a particular way is a proof that he left the Ummah on that way. Now Iet us sec how these holy and pious people treated and regarded the picntres. Hadrat 'Umar said to the Christians: "We do not enter your churches because there are pictures in them. " (Bukhari: Kitab as -Salat). Ibn 'Abbas would sometimes offer his Prayer in the church, but not in a church which had pictures in it. (Bukhari; : Kitab as-Salam). Abu al-Hayyaj al-Asadi says: Hadrat 'Ali said to me: "Should I not send yon on the same mission on which the Holy Prophet had sent me? And it is this that you should not leave any idol that you should not break, and you should not Ieave any grave that you should not level down, and you should not leave any picture that you should not blot out." (Muslim: Kitab al-Jana'iz; Nasa'i: Kitab al .lane 'iz). Hanash al-Kinani says: Hadrat 'AIi said to his chief of the police: "Do you know on what mission I am going to send you?-on the mission on which the Holy Prophet had sent me, that you should blot out every picture and level down every grave.' (Musnad Ahmad). This very established Law of Islam has been accepted and acknowledged by the jurists of Islam and regarded as an article of the Islamic Law. Thus, 'Allama Badruddin 'Aini writes with reference to Tauhid.' "Our elders (i. e. the Hanifite jurists) and other jurists say that making the pictures of a living thing is not only unlawful but strictly forbidden and a major sin, whether the maker has made it for a purpose where it would be held with contempt or for some other use and purpose. The making and painting of the picture anyway is unlawful, because it is an attempt to create like the creation of Allah. Likewise. the making of pictures whether in the cloth, or in the carpet, or nn a coin, or in a utensil, or in a wall, is in any case unlawful. However, making the pictures of something else, for instance, of a tree, etc., is not forbidden. Whether the picture casts a shadow or not is immaterial. The same is the opinion of Imam Malik, Sufyan Thauri, Imam Abu Hanifah, and other scholars. Qadi Iyad says that the dolls of girls are an exception, but Imam Malik; disapproved of even buying them." (`Umdat al-Qari vol. XXII p. 70). Imam Nawawi has elucidated this same view in greater detail in his commentary of Muslim. Please refer to Sharh Nawawi, Egyptian Ed., vol. XIV, pp. 81-82). This is then the injunction about the making of pictures. As regards the use of the pictures made by others, `Allama Ibn Hajar has cited the views of the jurists of Islam as follows: "Ibn 'Arabi, the Malikite jurist, says that the consensus of opinion is that the picture that casts a shadow is unlawful, whether it is regarded with contempt or not. Only the dolls of girls are an exception .. .. Ibn 'Arab; also says that the picture which does not cast a shadow but which persists (as in the printed form, unlike the reflection of a mirror) is also unlawful, whether it is regarded with contempt or not. However, if its head is cut off, or its limbs or parts are separated, it may be used. ... Imam al-Harmayn has cited a verdict according to which a curtain or a cushion having pictures on it may be used, but the picture hung on the wall or ceiling is forbidden, for it would show respect and esteem for it, while the picture on the curtain or cushion, on the contrary, would be held with contempt. ... Ibn Abi Shaibah has related on the authority of 'Ikrimah that the scholars among the immediate followers of the Companions held the opinion that the picture's being in the carpet or cushion is disgraceful for it; they also opined that the picture hung prominently is unlawful, but the one trodden under the feet is permissible. The same opinion has been cited from Ibn Sirin, Salim bin 'Abdullah, 'Ikrimah bin Khalid and Said bin Jubair." (Fath al-Bari, vol. X, p. 300). The details given above clearly show that the forbiddence of the pictures is not a controversial or doubtful matter in Islam, but it is an established article of the law according to the express instructions of the Holy Prophet, the practice of the Companions and the unanimous verdicts of the jurists of Islam, which cannot be changed by the hairsplitting of the people influenced by the alien cultures. In this connection, certain other things should also be understood so that there remains no misunderstanding in this regard. Some people try to make a distinction Between a photograph and a painting, whereas the Shari ah forbids the picture itself and not any process or method of making pictures. There is no difference between a photograph and a painting: they are both pictures. Whatever difference is there between them is due to the method of making them, and in this regard the Shari'ah injunctions make no difference between them. Some people give the argument that the picture was forbidden in Islam 'in order to put an end to idol-worship. As there is no such danger now, this injunction should be annulled. But this argument is absolutely wrong. In the first place, nowhere in the Traditions has it been said that the pictures have been made unlawful in order to avoid –the danger of shirk and idol-worship. Secondly, the assertion that shirk and idol-worship have been eradicated from the world is also baseless. Today in the Indo-Pak sub-continent itself there are millions of idolworshippers and polytheists. Shirk is being practised in different regions of the world in different ways. The Christian people of the Book also are worshipping the images and portraits of the Prophet Jesus and Mary and other saints; so much so that even a large number of the Muslims also are involved in the evil of worshipping others than God. Some people say that only those pictures which are polytheistic in nature should be forbidden, i. e. , pictures and images of those persons who have been made gods. As for the other pictures and images there is no reason why they should be forbidden. But the people who argue like this, in fact, become their own law-givers instead of deriving law from the Commandments and instructions of the Law-Giver, They do not know that the picture does not become the cause of polytheism and idol-worship only but has become the cause of. many other mischiefs in the world, and is becoming so even today. The picture is one of those major means by which the aura of greatness of the kings, dictators and political Ieaders has been impressed upon the minds of the common people. The picture also has been used extensively for spreading obscenity and today this mischief has touched heights unknown to previous history. Pictures have also been used for sowing discord and hatred and for creating mischief between the nations and for misleading the masses in different ways. Therefore, the view that the Law-Giver forbade the picture only in order to eradicate idol-worship is basically wrong. The Law-Giver has absolutely forbidden pictures of the living things. If we are not our own law-givers but are the followers of the-Law-Giver, we should desist from this accordingly. It is not at alI lawful for us that we should propose from ourselves a basis for a particular injunction and then, on the basis of it, should declare some pictures lawful and some as unlawful. Some people refer to some apparently "harmless' kinds of pictures and say that there could be no danger from these: they could not cause the mischiefs of shirk, obscenity, political propaganda or other evils; therefore, they should not be forbidden. Here again the people commit the same error: they first propose a cause and a basis for an injunction, and then argue that when the cause is not found in a particular forbidden thing, it should not be forbidden. Furthermore, these people also do not understand the rule of the Islamic Shari ah that it dces not make vague and ambiguous boundaries between the lawful and the unlawful from which a man may not be able to judge when he is within the bounds and when he has crossed them; but it draws a clear line of demarcation which every person can see like the broad daylight. The demarcation in respect of the picture is absolutely clear: pictures of living things are unlawful and of the lifeless things lawful. This line of demarcation does not admit any ambiguity. The one who has to follow the injunctions can clearly know what is permissible for him and what is not. But, if some pictures of the living things had been declared lawful and some unlawful, no list of the two kinds of the pictures however extensive, would have made the boundary between the lawful and the unlawful clear, and the case of many pictures would still have remained ambiguous as to whether they were within the bounds of lawfulness or outside them. This is similar to the Islamic injunction about wine that one should completely abstain from it, and this marks a clear limit, Hut, if it had been said that one should abstain from such a quantity of wine as intoxicates, it would be impossible to demarcate between the lawful and the unlawful , and no one would have been able to decide what quantity of wine he could drink; and where he had to stop. (For a further discussion, see Rasa 'iI-o-Masa'il, Part 1, pp. 152-155). 21 This gives an idea of the generous and large scale hospitality practised by the Prophet Solomon. Big bowls like troughs had been arranged to serve as containers of food for the guests and heavy cooking pots were meant for cooking food for thousands of the people at one and the same time. 22 "Work gratefully": work like grateful servants. The mere verbal thankfulness of a person who acknowledges only verbally the favours done by the benefactor but uses them against his will is meaningless. The truly grateful person is he who acknowledges the favours with the tongue as well as uses and employs the favours according to the will of the benefactor.

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :20 اصل میں لفظ تَمَاثِیل استعمال ہوا ہے جو تِمثَال کی جمع ہے ۔ تمثال عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنائی جائے قطع نظر اس اصل سے کہ وہ کوئی انسان ہو یا حیوان ، کوئی درخت ہو یا پھول یا دریا یا کوئی دوسری بے جان چیز ۔ التمثال اسم للشئ المصنوع مشبھا بخلق من خلق اللہ ( لسان العرب ) تمثال نام ہے ہر اس مصنوعی چیز کا جو خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کے مانند بنائی گئی ہو التمثال کل ما صور علی صورۃ غیرہ من حیوان و غیر حیوان ۔ ( تفسیر کشاف ) تمثال ہر اس تصویر کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل بنائی گئی ہو ، خواہ وہ جان دار ہو یا بے جان ۔ اس بنا پر قرآن مجید کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے جو تماثیل بنائی جاتی تھیں وہ ضرور انسانوں اور حیوانوں کی تصاویر یا ان کے مجسمے ہی ہوں گے ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پھول پتیاں اور قدرتی مناظر اور مختلف قسم کے نقش و نگار ہوں جن سے حضرت سلیمان نے اپنی عمارتوں کو آراستہ کرایا ہو ۔ غلط فہمی کا منشا بعض مفسرین کے یہ بیانات ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے انبیاء اور ملائکہ کی تصویریں بنوائی تھیں ۔ یہ باتیں ان حضرات نے بنی اسرائیل کی روایات سے اخذ کرلیں اور پھر ان کی توجیہ یہ کی کہ پچھلی شریعتوں میں اس قسم کی تصویر بنانا ممنوع نہ تھا لیکن ان روایات کو بلا تحقیق نقل کرتے ہوئے ان بزرگوں کو یہ خیال نہ رہا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جس شریعت موسوی کے پیرو تھے اس میں بھی انسانی اور حیوانی تصاویر اور مجسمے اسی طرح حرام تھے جس طرح شریعت محمدیہ میں حرام ہیں ۔ اور وہ یہ بھی بھول گئے کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو حضرت سلیمان علیہ السلام سے جو عداوت تھی اس کی بنا پر انہوں نے آنجناب کو شرک و بت پرستی جادوگری اور زنا کے بد ترین الزامات سے متہم کیا ہے ، اس لیے ان کی روایات پر اعتماد کر کے اس جلیل القدر پیغمبر کے بارے میں کوئی ایسی بات ہرگز قبول نہ کرنی چاہیے جو خدا کی بھیجی ہوئی کسی شریعت کے خلاف پڑتی ہو ۔ یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بنی اسرائیل میں جتنے انبیاء بھی آئے ہیں وہ سب تورات کے پیرو تھے ان میں سے کوئی بھی نئی شریعت نہ لایا تھا جو تورات کے قانون کی ناسخ ہوتی ۔ اب تورات کو دیکھیے تو اس میں بار بار بصراحت یہ حکم ملتا ہے کہ انسانی اور حیوانی تصویریں اور مجسمے قطعاً حرام ہیں : تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے ( خروج ۔ باب 20 ۔ آیت 4 ) ۔ تم اپنے لیے بت نہ بنانا اور نہ تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لیے کھڑی کرنا اور نہ اپنے ملک میں کوئی شبیہ دار پتھر رکھنا کہ اسے سجدہ کرو ( احبار ۔ باب 26 ، آیت 1 ) تا نہ ہو کہ تم بگڑ کر کسی شکل یا صورت کی کھودی ہوئی مورت اپنے لیے بنا لو جس کی شبیہ کسی مرد یا عورت یا زمین کے کسی حیوان یا ہوا میں اڑنے والے کسی پرند یا زمین میں رینگنے والے جاندار یا مچھلی سے جو زمین کے نیچے پانی میں رہتی ہے ملتی ہو ( استثنا ، باب 4 ۔ آیت 16 ۔ 18 ) ۔ لعنت اس آدمی پر جو کاریگری کی صنعت کی طرح کھودی ہوئی یا ڈھالی ہوئی مورت بنا کر جو خداوند کے نزدیک مکروہ ہے اس کو کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے ( استثناء ، باب 27 ۔ آیت 15 ) ان صاف اور صریح احکام کے بعد یہ بات کیسے مانی جا سکتی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے انبیاء اور ملائکہ کی تصویریں یا ان کے مجسمے بنانے کا کام جنوں سے لیا ہو گا اور یہ بات آخر ان یہودیوں کے بیان پر اعتماد کر کے کیسے تسلیم کر لی جائے جو حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنی مشرک بیویوں کے عشق میں مبتلا ہو کر بت پرستی کرنے لگے تھے ( 1 ۔ سلاطین ۔ باب 11 ) . تاہم مفسرین نے تو بنی اسرائیل کی یہ روایات نقل کرنے کے ساتھ اس امر کی صراحت کر دی تھی کہ شریعت محمدیہ میں یہ فعل حرام ہے اس لیے اب کوئی شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کی پیروی میں تصویریں اور مجسمے بنانے کا مجاز نہیں ہے ۔ لیکن موجودہ زمانے کے بعض لوگوں نے ) جو اہل مغرب کی تقلید میں مصوری و بت تراشی کو حلال کرنا چاہتے ہیں ، قرآن مجید کی اس آیت کو دلیل ٹھہرا لیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایک پیغمبر نے یہ کام کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں اس کے اس فعل کا ذکر کیا ہے اور اس پر کسی ناپسندیدگی کا اظہار بھی نہیں فرمایا ہے تو اسے لازماً حلال ہی ہونا چاہیے ۔ ان مقلدین مغرب کا یہ استدلال دو وجوہ سے غلط ہے ۔ اول یہ کہ لفظ تماثیل جو قرآن مجید میں استعمال کیا گیا ہے ، انسانی اور حیوانی تصاویر کے معنی میں صریح نہیں ہے ، بلکہ اس کا اطلاق غیر جاندار اشیاء کی تصویروں پر بھی ہوتا ہے ، اس لیے محض اس لفظ کے سہارے حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ قرآن کی رو سے انسانی اور حیوانی تصاویر حلال ہیں ۔ دوسرے یہ کہ نہایت کثیر التعداد اور قوی الاسناد اور متواتر المعنیٰ احادیث سے ہی ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی روح اشیاء کی تصویریں بنانے اور رکھنے کو قطعی حرام قرار دیا ہے ۔ اس معاملہ میں جو ارشادات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور جو آثار اکابر صحابہ سے منقول ہوئے ہیں انہیں ہم یہاں نقل کرتے ہیں: 1 ۔ عن عائشہ اُم المومنین ان ام جیبۃ وام سلمۃ ذکرتا کنیسۃ رأینھا بالحبشۃ فیھا تصاویر فذکرتا للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال ان اولٰٓئِک اذا کان فیھم الرجل الصالح فمات بنوا علیٰ قبرہ مسجد او صوروا فیہ تلک الصور فاولٰٓئِک شرار الخلق عنداللہ یوم القیٰمۃ ( بخاری ، کتاب المساجد ) ام المومنین حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے حبش میں ایک کنیسہ دیکھا تھا جس میں تصویریں تھیں ۔ اس کا ذکر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب ان میں کوئی صالح شخص ہوتا تو اس کے مرنے کے بعد وہ اس کی قبر پر ایک عبادت گاہ بناتے اور اس میں یہ تصویریں بنا لیا کرتے تھے ۔ یہ لوگ قیامت کے روز اللہ کے نزدیک بدترین خلائق قرار پائیں گے ۔ 2 ۔ عن ابی جحیفہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعن المصور ( بخاری ، کتاب البیوع ، کتاب الطلاق و کتاب اللباس ) ابو جحیفہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصور پر لعنت فرمائی ہے ۔ 3 ۔ عن ابی زرعہ قال دخلتُ مع ابی ھریرۃ داراً بالمدینۃ فرأی اعلاھا مصوراً یصور قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ومن اظلم ممن ذھب یخلق کخلقی فلیخلقوا حبۃ و لیخلقوا ذرۃ ( بخاری ، کتاب اللباس ۔ مُسند احمد اور مسلم کی روایت میں تصریح ہے کہ یہ مروان کا گھر تھا ) ابو زرعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مکان میں داخل ہوا تو دیکھا کہ مکان کے اوپر ایک مصور تصویریں بنا رہا ہے ۔ اس پر حضرت ابوہریرہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میری تخلیق کے مانند تخلیق کی کوشش کرے ۔ یہ لوگ ایک دانہ یا ایک چیونٹی تو بنا کر دکھائیں ۔ 4 ۔ عن ابی محمد الھذلی عن علی قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی جنازۃ فقال ایکم ینطلق الی المدینۃ فلا یَدَع بھا وثناً الا کسرہ ولا قبراً الا سوّاہ ولا صورۃ الا لطخھا ۔ فقال رجل انا یا رسول اللہ فانطلق فھاب اھل المدینہ ۔ فرجع ۔ فقال علی انا انطلق یا رسول اللہ ۔ قال فانطلق ، فانطلقَ ثم رجع ۔ فقال یا رسول اللہ لم ادع بھا وثناً الا کسرتہ ولا قبراً الّا سویتہ ولا صورۃ الا لطختھا ۔ ثم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من عاد لصنعۃ شئ من ھٰذا فقد کفر بما انزل علیٰ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ( مسند احمد ۔ مسلم ، کتاب الجنائر اور نَسائی کتاب الجنائیر میں بھی اس مضمون کی ایک حدیث منقول ہوئی ہے ) ۔ ابو محمد ہُذَلی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے ۔ آپ نے فرمایا تم لوگوں میں سے کون ہے جو جا کر مدینہ میں کوئی بت نہ چھوڑے جسے توڑ نہ دے اور کوئی قبر نہ چھوڑے جسے زمین کے برابر نہ کر دے اور کوئی تصویر نہ چھوڑے جسے مٹا نہ دے ۔ ایک شخص نے عرض کیا میں اس کے لیے حاضر ہوں ۔ چنانچہ وہ گیا مگر اہل مدینہ کے خوف سے یہ کام کیے بغیر پلٹ آیا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں جاتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم جاؤ ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے اور واپس آ کر انہوں نے عرض کیا میں نے کوئی بت نہیں چھوڑا جسے توڑ نہ دیا ہو ، اور کوئی قبر نہیں چھوڑی جسے زمین کے برابر نہ کر دیا ہو اور کوئی تصویر نہ چھوڑی جسے مٹا نہ دیا ہو ۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اب اگر کسی شخص نے ان چیزوں میں سے کوئی چیز بنائی تو اس نے اس تعلیم سے کفر کیا جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل ہوئی ہے ۔ 5 ۔ عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ………… ومن صور صورۃ عذب و کلف ان ینفخ فیھا ولیس بنافخ ( بخاری ۔ کتاب التعبیر ۔ ترمذی ، ابواب للباس نسائی ۔ کتاب الزینۃ ۔ مسند احمد ) ابن عباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں……اور جس شخص نے تصویر بنائی اسے عذاب دیا جائے گا اور مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ نہ پھونک سکے گا ۔ 6 ۔ عن سعید بن ابی الحسن قال کنت عند ابن عباس رضی اللہ عنہما اذا تاہ رجل فقال یا ابا عباس انی انسان انما معیشتی من صنعۃ یدی وانی اصنع ھٰذہ التصاویر ۔ فقال ابن عباس لا احدثک الا ما سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ۔ سمعتہ یقول من صور صورۃً فان اللہ معذبہ حتٰی ینفخ فیھا الروح ولیس بنافخ فیھا ابداً ۔ فربا الرجل ربوۃً شدیدۃ واصفر وجھہ ۔ فقال ویحک ان ابیت الا ان تصنع فعلیک بھٰذا الشجر کل شئی لیس فیہ روح ( بخاری ، کتاب البیوع ۔ مسلم ، کتاب اللباس ۔ نسائی ، کتاب الزینۃ ۔ مسند احمد ) ۔ سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا ۔ اتنے میں ایک شخص آیا ، اور اس نے کہا کہ اے ابو عباس میں ایک ایسا شخص ہوں جو اپنے ہاتھ سے روزی کماتا ہے اور میرا روزگار یہ تصویریں بنانا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں تم سے وہی بات کہوں گاجو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنی ہے ۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے کہ جو شخص تصویر بنائے گا اللہ اسے عذاب دے گا اور اسے نہ چھوڑے گا جب تک وہ اس میں روح نہ پھونکے ، اور وہ کبھی روح نہ پھونک سکے گا ۔ یہ بات سن کر وہ شخص سخت برافروختہ ہوا اور اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا ۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا بندہ خدا ، اگر تجھے تصویر بنانی ہے تو اس درخت کی بنا ، یا کسی ایسی چیز کی بنا جس میں روح نہ ہو ۔ 7 ۔ عن عبد اللہ بن مسعود قال سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول ان اشد الناس عذابا عنداللہ یوم القیامۃ المصورون ( بخاری ، کتاب اللباس ، مسلم ، کتاب اللباس ۔ نسائی ، کتاب الزینۃ ۔ مسند احمد ) عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے روز اللہ کے ہاں سخت ترین سزا پانے والے مصور ہوں گے ۔ 8 ۔ عن عبداللہ بن عمران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان الذین یصنعون ھٰذہ الصور یعذبون یوم القیٰمۃ یقال لہم احیوا ما خلقتم ( بخاری ، کتاب اللباس ۔ مسلم ، کتاب اللباس ۔ نسائی ، کتاب الزینہ ۔ مسند احمد ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں ان کو قیامت کے روز عذاب دیا جائے گا کہ جو کچھ تم نے بنایا ہے اسے زندہ کرو ۔ 9 ۔ عن عائشہ رضی اللہ عنھا انھا اشترت نمرقۃ فیھا تصاویر فقام النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالباب ولم یدخل فقلت اتوب الی اللہ ممّا اذنبت قال ما ھٰذہ النمرقۃ قلت لتجلس علیھا و توسدھا قال ان اصحاب ھٰذہ الصور یعذبون یوم القیٰمۃ یقال لہم احیوا ما خلقتم و ان الملائکۃ لا تدخل بیتاً فیہ الصورۃ ۔ ( بخاری ، کتاب الباس ، مسلم ، کتاب اللباس ۔ نسائی ، کتاب الزینہ ، ابن ماجہ ، کتاب التجارات ۔ موطا ، کتاب الاستیذان ) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک تکیہ خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دروازے ہی میں کھڑے ہو گئے ۔ اندر داخل نہ ہوئے ۔ میں نے عرض کیا کہ میں خدا سے توبہ کرتی ہوں ہر اس گناہ پر جو میں نے کیا ہو ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا یہ اس غرض کے لیے ہے کہ آپ یہاں تشریف رکھیں اور اس پر ٹیک لگائیں ۔ فرمایا ان تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے روز عذاب دیا جائے گا ۔ ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے بنایا ہے اس کو زندہ کرو ۔ اس ملائکہ ( یعنی ملائکہ رحمت ) کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں ۔ 10 ۔ عن عائشۃ قالت دخل علَیّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و انا متسترہ بقرام فیہ صورۃ فتلوَّنَ وجھہ ثم تناول الستر فھتکہ ثم قال ان من اشد الناس عذاباً یوم القیٰمۃ الذین یشبہون بخلق اللہ ( مسلم ، کتاب اللباس بخاری ، کتاب اللباس ۔ نسائی ، کتاب الزینہ ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصویر تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا ، پھر آپ نے اس پردے کو لے کر پھاڑ ڈالا اور فرمایا قیامت کے روز سخت ترین عذاب جن لوگوں کو دیا جائے گا ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کی تخلیق کے مانند تخلیق کی کوشش کرتے ہیں ۔ 11 ۔ عن عائشۃ قالت قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سفر وقد سترت علی بابی درنوکا فیہ الخیل ذوات الاجنحۃ فامرنی فنزعتہ ( مسلم ، کتاب اللباس ۔ نسائی ، کتاب الزینۃ ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائے اور میں نے اپنے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا تھا ، جس میں پردار گھوڑوں کی تصویریں تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے اتار دو اور میں نے اتار دیا ۔ 12 ۔ عن جابر قال نھیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الصورۃ فی البیت ونھٰی ان یصنع ذالک ۔ ( ترمذی ، ابواب اللباس ) جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا کہ گھر میں تصویر رکھی جائے اور اس سے بھی منع فرما دیا کہ کوئی شخص تصویر بنائے ۔ 13 ۔ عن ابن عباس عن ابی طلحہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ کلب ولا صورۃ ۔ ( بخاری کتاب اللباس ) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ ابوطلحہ انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملائکہ ( یعنی ملائکہ رحمت ) کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا پلا ہوا ہو اور نہ ایسے گھر میں جس میں تصویر ہو ۔ 14 ۔ عن عبداللہ بن عمر قال وعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم جبریل فراث علیہ حتی اشتد علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فخرج النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلقیہ فشکا الیہ ماوجد فقال لہْ انّا لا ندخل بیتاً فیہ صورۃ ولا کلب ۔ ( بخاری ، کتاب اللباس ۔ اس مضمون کی متعدد روایات بخاری ، مسلم ، ابو داوْد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، امام مالک اور امام احمد نے متعدد صحابہ سے نقل کی ہیں ) ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا وعدہ کیا مگر بہت دیر لگ گئی اور وہ نہ آئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پریشانی ہوئی اور آپ گھر سے نکلے تو وہ مل گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شکایت کی تو انہوں نے کہا ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویر ہو ۔ ان روایات کے مقابلے میں کچھ روایتیں ایسی پیش کی جاتی ہیں جن میں تصاویر کے معاملہ میں رخصت پائی جاتی ہے مثلاً ابو طلحہ انصاری کی یہ روایت کہ جس کپڑے میں تصویر کڑھی ہوئی ہو اس کا پردہ لٹکانے کی اجازت ہے ۔ ( بخاری ، کتاب اللباس ) اور حضرت عائشہ کی یہ روایت کہ تصویر دار کپڑے کو پھاڑ کر جب انہوں نے گدّا بنالیا تو حضور نے اسے بچھانے سے منع نہ فرمایا ۔ ( مسلم ، کتاب اللباس ) اور سالم بن عبداللہ بن عمر کی روایت کہ ممانعت اس تصویر کی ہے جو نمایاں مقام پر نصب کی گئی ہو ، نہ کہ اس تصویر کی جو فرش کے طور پر بچھا دی گئی ہو ( مسند احمد ) ۔ لیکن ان میں سے کوئی حدیث بھی دراصل ان احادیث کی تردید نہیں کرتی جو اوپر نقل کی گئی ہیں ۔ جہاں تک تصویر بنانے کا تعلق ہے اس کا جواز ان میں سے کسی حدیث سے بھی نہیں نکلتا ۔ یہ احادیث صرف اس مسئلے سے بحث کرتی ہیں کہ اگر کسی کپڑے پر تصویر بنی ہوئی ہو اور آدمی اس کو لے چکا ہو تو کیا کرے ۔ اس باب میں ابو طلحہ انصاری والی روایت کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے ، کیونکہ وہ بکثرت دوسری صحیح احادیث سے ٹکراتی ہے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر دار کپڑا لٹکانے سے نہ صرف منع فرمایا ہے بلکہ اسے پھاڑ دیا ہے ۔ نیز خود حضرت ابو طلحہ کا اپنا عمل جو ترمذی اور موطا میں منقول ہوا ہے وہ یہ ہے کہ تصویر دار پردہ تو درکنار وہ ایسا فرش بچھانے میں بھی کراہت محسوس کرتے تھے جس میں تصاویر ہوں ۔ رہیں حضرت عائشہ اور سالم بن عبداللہ کی روایات تو ان سے صرف اتنا جواز نکلتا ہے کہ اگر تصویر احترام کی جگہ پر نہ ہو بلکہ ذلت کے ساتھ فرش میں رکھی جائے اور اسے پامال کیا جائے تو وہ قابل برداشت ہے ۔ ان احادیث سے آخر اس پوری ثقافت کا جواز کیسے نکالا جا سکتا ہے جو تصویر کشی اور مجسمہ سازی کے آرٹ کو تہذیب انسانی کا قابل فخر کمال قرار دیتی ہے اور اسے مسلمانوں میں رواج دینا چاہتی ہے ۔ تصاویر کے معاملہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر کار امت کے لیے جو ضابطہ چھوڑا ہے اس کا پتہ اکابر صحابہ کے اس طرز عمل سے چلتا ہے جو انہوں نے اس باب میں اختیار کیا ۔ اسلام میں یہ اصول مسلم ہے کہ معتبر اسلامی ضابطہ وہی ہے جو تمام تدریجی احکام اور ابتدائی رخصتوں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخر عہد میں مقرر کر دیا ہو ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اکابر صحابہ کا کسی طریقے پر عمل درآمد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسی طریقے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو چھوڑا تھا ۔ اب دیکھیے کہ تصویروں کے ساتھ اس مقدس گروہ کا کیا برتاؤ تھا ۔ قال عمر رضی اللہ عنہ انا لا ندخل کنائسکم من اجل التماثیل التی فیھا الصُّوَر ۔ ( بخاری ، کتاب الصلوٰۃ ) حضرت عمر نے عیسائیوں سے کہا کہ ہم تمہارے کنیسوں میں اس لیے داخل نہیں ہوتے کہ ان میں تصویریں ہیں ۔ کان ابن عباس یصلی فی بیعۃ الابیعۃ فیھا تماثیل ( بخاری ، کتاب الصلوٰۃ ) ابن عباس رضی اللہ عنہ گرجا میں نماز پڑھ لیتے تھے ، مگر کسی ایسے گرجا میں نہیں جس میں تصویریں ہوں ۔ عن ابی الھیاج الاسدی قال لی عَلی الا ابعثک علیٰ ما بعثنی علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لا تدع تمثیلاً الا طمستہ ولا قبراً مشرفاً الا سویتہ ولا صورۃ الا طمستھا ۔ ) مسلم ، کتاب الجنائز ۔ نسائی ، کتاب الجنائز ) ابو الہیاج اسدی کہتے ہیں کہ حضرت علی نے مجھ سے کہا کیا نہ بھیجوں میں تم کو اس مہم پر جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا ؟ اور وہ یہ کہ تم کوئی مجسمہ نہ چھوڑو جسے توڑ نہ دو ، اور کوئی اونچی قبر نہ چھوڑو جسے زمین کے برابر نہ کر دو اور کوئی تصویر نہ چھوڑو جسے مٹا نہ دو ۔ عن حنش الکنانی عن علی انہ بعث عامل شرطہِ فقال لہ اتدری علی ما ابعثک؟ علی ما بعثنی علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان انحت کل صورۃ و ان اسوی کل قبر ( مسند احمد ) حنش الکنانی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی پولیس کے کوتوال سے کہا کہ تم جانتے ہو میں کس مہم پر تمہیں بھیج رہا ہوں؟ اس مہم پر جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا ۔ یہ کہ میں ہر تصویر کو مٹا دوں اور ہر قبر کو زمین کے برابر کر دوں ۔ اسی ثابت شدہ اسلامی ضابطہ کو فقہائے اسلام نے تسلیم کیا ہے اور اسے قانون اسلامی کی ایک دفعہ قرار دیا ہے ۔ چنانچہ علامہ بدر الدین عینی توضیح کے حوالہ سے لکھتے ہیں: ہمارے اصحاب ( یعنی فقہائے احناف ) اور دوسرے فقہاء کہتے ہیں کہ کسی جاندار چیز کی تصویر بنانا حرام ہی نہیں ، سخت حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے ، خواہ بنانے والے نے اسے کسی ایسے استعمال کے لیے بنایا ہو جس میں اس کی تذلیل ہو ، یا کسی دوسری غرض کے لیے ۔ ہر حالت میں تصویر کشی حرام ہے کیونکہ اس میں اللہ کی تخلیق سے مشابہت ہے ۔ اسی طرح تصویر خواہ کپڑے میں ہو یا فرش میں یا دینار یا درہم یا پیسے میں ، یا کسی برتن میں یا دیوار میں ، بہرحال اس کا بنانا حرام ہے ۔ البتہ جاندار کے سوا کسی دوسری چیز مثلاً درخت وغیرہ کی تصویر بنانا حرام نہیں ہے ۔ ان تمام امور میں تصویر کے سایہ دار ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ یہی رائے امام مالک ، سفیان ثوری ، امام ابو حنیفہ اور دوسرے علماء کی ہے ۔ قاضی عیاض کہتے ہیں کہ اس سے لڑکیوں کی گڑیاں مستثنی ہیں ۔ مگر امام مالک ان کے خریدنے کو بھی ناپسند کرتے تھے ۔ ( عمدۃ القاری ۔ ج22 ص70 ۔ اسی مسلک کو امام ثوری نے شرح مسلم میں زیادہ تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو شرح نَسَدِی ، مطبوعہ مصر ، ج 14 ۔ ص 81 ۔ 82 ) یہ تو ہے تصویر سازی کا حکم ۔ رہا دوسرے کی بنائی ہوئی تصویر کے استعمال کا مسئلہ تو اس کے بارے میں فقہائے اسلام کے مسلک علامہ ابن حجر نے اس طرح نقل کیے ہیں: مالکی فقیہ ابن عربی کہتے ہیں کہ جس تصویر کا سایہ پڑتا ہو اس کے حرام ہونے پر تو اجماع ہے قطع نظر اس سے کہ وہ تحقیر کے ساتھ رکھی گئی ہو یا نہ ۔ اس اجماع سے صرف لڑکیوں کی گڑیاں مستثنیٰ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابن عربی یہ بھی کہتے ہیں کہ جس تصویر کا سایہ نہ پڑتا ہو وہ اگر اپنی حالت پر باقی رہے ( یعنی آئنہ کی پرچھائیں کی طرح نہ ہو بلکہ چھپی ہوئی تصویر کی طرح ثابت و قائم ہو ) تو وہ بھی حرام ہے ، خواہ اسے حقارت کے ساتھ رکھا گیا ہو یا نہ ۔ البتہ اگر اس کا سر کاٹ دیا گیا ہو یا اس کے اجزاء الگ الگ کردیے گئے ہوں تو اس کا استعمال جائز ہے …… امام الحرمین نے ایک مسلک یہ نقل کیا ہے کہ پردے یا تکیہ پر اگر تصویر ہو تو اس کے استعمال کی اجازت ہے ، مگر دیوار یا چھت میں جو تصویر لگائی جائے وہ ممنوع ہے کیونکہ اس صورت میں اس کا اعزاز ہو گا ، بخلا ف اس کے پردے اور تکیے کی تصویر حقارت سے رہے گی. ابن ابی شیبہ نے عکرمہ سے نقل کیا ہے کہ زمانہ تابعین کے علماء یہ رائے رکھتے تھے کہ فرش اور تکیہ میں تصویر کا ہونا اس کے لیے باعث ذلت ہے ۔ نیز ان کا یہ خیال بھی تھا کہ اونچی جگہ پر جو تصویر لگائی گئی ہو وہ حرام ہے اور قدموں میں جسے پامال کیا جاتا ہو وہ جائز ہے ۔ یہی رائے ابن سیرین ، سالم بن عبداللہ ، عِکرمہ بن خالد اور سعید بن جُبیر سے بھی منقول ہے ۔ ( فتح الباری ، ج10 ، ص300 ) اس تفصیل سے یہ بات بھی اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں تصاویر کی حرمت کوئی مختلف فیہ یا مشکوک مسئلہ نہیں ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح ارشادات صحابہ کرام کے عمل اور فقہائے اسلام کے متفقہ فتاویٰ کی رو سے ایک مسلم قانون ہے جسے آج بیرونی ثقافتوں سے متاثر لوگوں کی موشگافیاں بدل نہیں سکتیں ۔ اس سلسلے میں چند باتیں اور بھی سمجھ لینی ضروری ہیں تاکہ کسی قسم کی غلطی فہمی باقی نہ رہے ۔ بعض لوگ فوٹو اور ہاتھ سے بنی ہوئی تصویر میں فرق کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حالانکہ شریعت بجائے خود تصویر کو حرام کرتی ہے نہ کہ تصویر سازی کے کسی خاص طریقے کو ۔ فوٹو اور دستی تصویر میں تصویر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے ۔ ان کے درمیان جو کچھ بھی فرق ہے وہ طریق تصویر سازی کے لحاظ سے ہے اور اس لحاظ سے شریعت نے احکام میں کوئی فرق نہیں کیا ۔ بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ اسلام میں تصویر کی حرمت کا حکم محض شرک و بت پرستی کو روکنے کی خاطر دیا گیا تھا ، اور اب اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے ، لہذا یہ حکم باقی نہ رہنا چاہیے ، لیکن یہ استدلال بالکل غلط ہے ، اول تو احادیث میں کہیں یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ تصاویر صرف شرک و بت پرستی کے خطرے سے بچانے کے لئے حرام کی گئی ہیں ۔ دوسرے یہ دعویٰ بھی بالکل بے بنیاد ہے کہ اب دنیا میں شرک و بت پرستی کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔ آج خود بر عظیم ہندو پاکستان میں کروڑوں بت پرست مشرکین موجود ہیں ، دنیا کے مختلف خطوں میں طرح طرح سے شرک ہورہا ہے ، عیسائی اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام اور اپنے متعدد اولیاء کی تصاویر اور مجسموں کو پوج رہے ہیں ، حتی کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی مخلوق پرستی کی آفتوں سے محفوظ نہیں ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف وہ تصویریں ممنوع ہونی چاہییں جو مشرکانہ نوعیت کی ہیں ، یعنی ایسے اشخاص کی تصاویر اور مجسمے جن کو معبود بنا لیا گیا ہو ، باقی دوسری تصویروں اور مجسموں کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ لیکن اس طرح کی باتیں کرنے والے دراصل شارع کے احکام و ارشادات سے قانون اخذ کرنے کے بجائے آپ ہی اپنے شارع بن بیٹھتے ہیں ۔ ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ تصویر صرف بڑے ذرائع میں سے ایک ہے جن سے بادشاہوں ، ڈکٹیٹروں اور سیاسی لیڈروں کی عظمت کا سکہ عوام الناس کے دماغوں پر بٹھانے کی کوشش کی گءی ہے ۔ تصویر کو دنیا میں شہوانیت پھیلانے کے لیے بھی بہت بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے اور آج یہ فتنہ ہر زمانے سے زیادہ برسر عروج ہے ۔ تصاویر قوموں میں نفرت اور عداوت کے بیج بونے ، فساد ڈلوانے اور عام لوگوں کو طرح طرح سے گمراہ کرنے کے لیے بھی بکثرت استعمال کی جاتی رہی ہیں اور آج سب سے زیادہ استعمال کی جارہی ہیں ۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ شارع نے تصویر کی حرمت کا حکم صرف بت پرستی کے استیصال کی خاطر دیا ہے ، اصلاً غلط ہے ۔ شارع نے مطلقاً جاندار اشیاء کی تصویر کو روکا ہے ۔ ہم اگر خود شارع نہیں بلکہ شارع کے متبع ہیں تو ہمیں علی الاطلاق اس سے رک جانا چاہیے ، ہمارے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہے کہ اپنی طرف سے کوئی علت حکم خود تجویز کر کے اس کے لحاظ سے بعض تصویروں کو حرام اور بعض کو حلال قرار دینے لگیں ۔ بعض لوگ چند بظاہر بالکل بے ضرر قسم کی تصاویر کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں کہ آخر ان میں کیا خطرہ ہے ، یہ تو شرک اور شہوانیت اور فساد انگیزی اور سیادی پروپیگنڈے اور ایسے ہی دوسرے مفسدات سے قطعی پاک ہیں ، پھر ان کے ممنوع ہونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ اس معاملہ میں لوگ پھر وہی غلطی کرتے ہیں کہ پہلے علت حکم خود تجویز کرلیتے ہیں اور اس کے بعد یہ سوال کرتے ہیں کہ جب فلاں چیز میں یہ علت نہیں پائی جاتی تو وہ کیوں ناجائز ہے ۔ علاوہ بریں یہ لوگ اسلامی شریعت کے اس قاعدے کو بھی نہیں سمجھتے کہ وہ حلال اور حرام کے درمیان ایسی دھندلی اور مبہم حد بندیاں قائم نہیں کرتی جن سے آدمی یہ فیصلہ نہ کرسکتا ہو کہ وہ کہاں تک جواز کی حد میں ہے اور کہاں اس حد کو پار کر گیا ہے ، بلکہ ایسا واضح خط امتیاز کھینچتی ہے جسے ہر شخص روز روشن کی طرح دیکھ سکتا ہو ۔ تصاویر کے درمیان یہ حد بندی قطعی واضح ہے کہ جانداروں کی تصویریں حرام اور بے جان اشیاء کی تصویریں حلال ہیں ۔ اس خط امتیاز میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے جسے احکام کی پیروی کرنی ہو وہ صاف صاف جان سکتا ہے کہ اس کے لئے کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز ۔ لیکن اگر جانداروں کی تصاویر میں سے بعض کو جائز اور بعض ناجائز ٹھہرایا جاتا تو دونوں قسم کی تصاویر کی کوئی بڑی سے بڑی فہرست بیان کردینے کے بعد بھی جواز و عدم جواز کی سرحد کبھی واضح نہ ہوسکتی اور بے شمار تصویروں کے بارے میں یہ اشتباہ باقی رہ جاتا کہ انہیں حد جواز کے اندر سمجھا جائے یا باہر ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے شراب کے بارے میں اسلام کا یہ حکم کہ اس سے قطعی اجتناب کیا جائے ایک صاف حد قائم کردیتا ہے ۔ لیکن اگر یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی اتنی مقدار استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے جس سے نشہ پیدا ہو تو حلال اور حرام کے درمیان کسی جگہ بھی حد فاصل قائم نہ کی جاسکتی اور کوئی شخص بھی فیصلہ نہ کرسکتا کہ کس حد تک وہ شراب پی سکتا ہے اور کہاں جاکر اسے رک جانا چاہیے ۔ ( مزید تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو رسائل و مسائل ، حصہ اول ، ص۱۵۲تا ۱۵۵ ) سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :21 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاں بہت بڑے پیمانے پر مہمان نوازی ہوتی تھی ۔ بڑے بڑے حوض جیسے لگن اس لیے بنائے گئے تھے کہ ان میں لوگوں کے لیے کھانا نکال کر رکھا جائے اور بھاری دیگیں اس لیے بنوائی گئی تھیں کہ ان میں بیک وقت ہزاروں آدمیوں کا کھانا پک سکے ۔ سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :22 یعنی شکر گزار بندوں کی طرح کام کرو ۔ جو شخص نعمت دینے والے کا احسان محض زبان سے مانتا ہو ، مگر اس کی نعمتوں کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرتا ہو ، اس کا محض زبانی شکریہ بے معنی ہے ۔ اصل شکر گزار بندہ وہی ہے جو زبان سے بھی نعمت کا اعتراف کرے ، اور اس کے ساتھ منعم کی عطا کردہ نعمتوں سے وہی کام بھی لے جو منعم کی مرضی کے مطابق ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: ظاہر یہ ہے کہ تصویریں بے جان چیزوں کی ہوتی تھیں، جیسے درختوں اور عمارتوں وغیرہ کی، اس لئے کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ جانداروں کی تصویریں بنانا حضرت سلیمان علیہ السلام کی شریعت میں بھی ناجائز تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٣۔ مطلب یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے عمدہ عمدہ کمکان اور مسجدیں اور تصویریں اور لگن مانند تالاب کے نہیں تھی وہ جنات یہ سب چیزیں بناتے تھے اعملوا آل داؤد شکرا اس کا مطلب یہ ہے کہ اے داؤد کی اولاد جو نعمتیں اللہ نے تم کو دی ہیں ان کا شکرادا کرو صیحی بخاری ومسلم میں عبداللہ بن عمروبن العاص (رض) سے روایت ٣ ؎ ہے (٣ ؎ مشکوۃ باب التحریض علی قیام اللیل فصل اول۔ ) کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے زیادہ پیار نماز اللہ تعالیٰ کو داؤد کی ہے نصف رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز پڑھتے تھے اور پھر چھٹا حصہ رات کا سوتے تھے ‘ اس حدیث کا ایک ٹکڑا اوپر گزر چکا ہے کہ داؤد (علیہ السلام) ایک دن بیچ کر کے روزہ کھا کرتے تھے سورة صٓ میں آیتیں آویں گی جن میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی عبادت کی تفریف فرمائی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت میں شکر گزاری کا جو حکم تھا داؤد میں آسکتا ہے۔ صحیح بخاری مسلم وغیرہ میں حضرت عائشہ (رض) مغیرہ بن شعبہ اور ابوہریرہ (رض) سے جو روایتیں ١ ؎ ہیں (١ ؎ مشکوۃ ایضا۔ ) ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تہجد کی نماز میں اس قدر کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے یہ حال دیکھ کر بعضے صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ حضرت آپ کے اگلے پچھلے گناہ تو اللہ تعالیٰ نے سب معاف کروئے ہیں پھر آپ عبادت میں اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں آپ نے جواب دیا کہ کیا میں اپنے آپ کو اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنا ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اللہ کی عبادت میں لگے رہنا یہی اللہ کی نعمتوں کی شکرگزاری ہے لیکن بہت سے صاحب نعمت لوگوں میں یہ حالت پائی نہیں جاتی اسی واسطے فرمایا کہ اللہ کے شکر گزار بندے دنیا میں تھوڑے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت ٢ ؎ ہے (٢ ؎ مشکوۃ کتاب الرقاق فصل اول۔ ) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تندرستی اور فارغ البالی یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمتیں ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی جگہ اکثر لوگ نقصان اٹھاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ مثلا جو شخص فقط تندرست ہو اور وہ اس نعمت کی شکر گزاری کے طور پر عبادت الٰہی میں کوتاہی کرے تو ایسا شخص فکر معاش سے فرصت نہ ملنے کا عذر کرسکتا ہے اسی طرح جو شخص فارغ البال اور بیمار ہو تو وہ بیماری کا عذر پیش کرسکتا ہے لیکن جس شخص میں یہ دونوں نعمتیں جمع ہوں وہ کاہلی سے عبادت الٰہی میں کوتاہی کرے اور دس سے لے کر سات سو تک اور بعض عبادتوں کا اس سے بھی زیادہ ثواب نہ کماوے تو وہ قیامت کے دن اجر کے حساب سے بڑے ٹوٹے میں رہے گا حاصل کلام یہ ہے کہ آیت میں قلیل کا لفظ اور حدیث کثیر کا لفظ جو فرمایا گیا ہے اس سے یہ حدیث گویا آیت کو تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بہت سے تندرت فارغ البال لوگ ان دونوں نعمتوں کی شکر گزاری کے طور پر عبادت الٰہی کی پروا نہیں کرتے اس لیے کے شکر گزار بندوں کی تعداد دناک میں گھٹی ہوئی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:13) محاریب محراب کی جمع۔ یہاں مراد مضبوط محل، قلعے ، اونچی اونچی عبادت گاہیں۔ تماثیل۔ تمثال کی جمع۔ مورتیں۔ تصویریں۔ شریعت سلیمانی میں مجسمہ تراشی اور مصوری حرام نہ تھیں۔ جفان۔ جفنۃ واحد۔ لگن، بڑا پیالہ۔ برتن جس میں شراب بنائی جائے کالجواب۔ کاف تشبیہ کا ہے۔ جواب جابیۃ کی جمع ہے۔ بڑا حوض۔ تالاب۔ قدور راسیت۔ موصوف وصفت۔ قدور۔ قدر کی جمع۔ ہانڈیاں۔ دیگیں۔ راسیت رسو سے اسم فاعل کا صیگہ جمع مؤنث راسیۃ کی جمع۔ رسو کے معنی کسی چیز پر قائم رہنا اور استوار ہونا کے ہیں راسیت ایک جگہ دھری رہنے والی۔ ہر وقت چولھوں پر قائم رہنے والی (دیگیں) ۔ ال داود۔ ای یا ال داود۔ اے دائود کی آل۔ اے دائود کے گھر والو۔ منادی۔ مرکب اضافی ہے۔ مضاف منصوب ہوگا۔ داود بوجہ علمیت وعجمیت غیر منصرف ہے۔ شکرا۔ منصوب بوجہ مفعول لہ۔ اعملوا شکرا تم شکر میں نیک اعمال کیا کرو۔ وقلیل۔ میں وائو حالیہ ہے۔ الشکور۔ شکر سے بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ مؤنث، مذکر دونوں کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ بڑا شکر گذار۔ بڑا احسان ماننے والا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے بھی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں واقع ہو تو اس کا مطلب ہوگا ! بڑا قدردان۔ تھوڑے کام پر دگنا ثواب دینے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یہ تصویریں بےجان چیزوں کی تھیں اور اگر جاندار چیزوں (انسانوں اور حیوانوں کی ہوں یا ا انبیاء صلحا کی تصویریں ہوں جیسا کہ بعض مفسرین (رح) نے بیان کیا ہے تو کہا جائیگا کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی شریعت میں جاندار چیزوں کی تصویریں بنانا جائز تھا لیکن شریعت محمدیہ میں حرام قرار دے دیا گیا ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں مصورین کے لیے وعید مذکور ہے اور تصویر بنانیوالوں کو شرار الخلق “ (بدترین مخلوق) قرار دیا ہے۔ ( شوکانی) واضح رہے کہ فوٹو بھی تصویر کے حکم میں ہے اور فوٹو اتارنا اور اتروانا بھی حرام ہے۔ 10 یعنی ایسی دیگیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ رکھی رہتی تھیں۔11 شکر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی رضا مندی میں صرف کرے۔ احادیث میں حضرت دائود ( علیہ السلام) کی نماز اور روزے کی تعریف آئی ہے۔ حضرت دائود ( علیہ السلام) پہلی آدھی رات تک سوتے پھر تہائی راست عبادت کرتے، پھر رات کا باقی چھٹا حصہ سو کر گزارتے اور روزہ ایک دن رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے اور فرمایا سب سے محبوب روز و حضرت دائود ( علیہ السلام) کا روزہ ہے اور سب سے محبوب نماز حضرت دائود ( علیہ السلام) کی نماز ہے۔ ( ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جو کام جنات کرتے ان میں بڑے بڑے حفاظتی قلعے بھی تعمیر کیا کرتے تھے جن پر بہترین قسم کے نقش ونگار بنائے جاتے اور ایسی دیگیں بنائی جاتیں جنہیں ایک جگہ نصب کرکے بیک وقت ہزاروں لوگوں کا کھانا تیار کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر قسم کی خوشحالی اور عروج و اقبال سے نوازتے ہوئے یہ حکم دیا اے داؤد اور اس کے گھر والو ! تمہیں ان انعامات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یاد رکھو ! اللہ کے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔ قلعے :۔ قرآن مجید سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دفاع کے طور پر وسیع قلعے تعمیر کرنے کی ابتداء حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور میں ہوئی۔ تَمَاثِیْلَ : ” تَمْثَالٌ“ کی جمع ہے۔ اس کے مندرجہ ذیل معانی ہیں۔ 1 ” تَمْثَالٌ“ عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنائی جائے۔ 2 ” تَمْثَالٌ“ نام ہے ہر اس مصنوعی چیز کا جو اللہ تعالیٰکی بنائی ہوئی چیز کے مانند بنائی گئی ہو۔ 3 ” تَمْثَالٌ“ ہر اس تصوّر کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل ہو۔ خواہ وہ جاندار ہو یا بےجان۔ طشت اور دیگیں : حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنی رعایا پر بڑے مہربان اور فیّاض تھے۔ انہوں نے پورے ملک میں معذروں، مسافروں اور غریبوں کے لیے ریسٹورنٹ قائم کیے۔ جہاں صبح و شام بڑے بڑے عوامی دستر خوان بچھائے جاتے جن پر ہزاروں لوگ کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس لیے کھانا پکانے کے لیے غیر معمولی قسم کی دیگیں اور اچھے خاصے تالاب کی مانند طشت تیار کیے جاتے تھے تاکہ لوگوں کے لیے بروقت اور وافر کھاناتیار ہوسکے اور وہ پوری آزادی کے ساتھ کھا سکیں۔ تصویر کشی حرام ہے : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ قَتَلَہٗ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِیًّا وَإِمَامُ ضَلَالَۃٍ وَمُمَثِّلٌ مِّنَ الْمُمَثِّلِیْنَ ) [ مسندا حمد : باب مسند عبداللہ بن مسعود ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن سخت ترین عذاب اس شخص کو ہوگا جس کو نبی نے قتل کیا یا اس نے نبی کو قتل کیا اور گمراہ امام اور تصویریں بنانے والے کو عذاب ہوگا۔ “ (عَنْ أَبِی الْہَیَّاجِ الأَسَدِیِّ قَالَ قَالَ لِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ (رض) أَلاَّ أَبْعَثُکَ عَلَی مَا بَعَثَنِی عَلَیْہِ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنْ لاَ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلاَّ طَمَسْتَہُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّیْتَہُ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنائز ] ” ابو الھیاج اسدی کہتے ہیں مجھے علی بن ابی طالب (رض) نے کہا کیا میں تجھے اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھیجا تھا کہ ہر تصویرکو مٹادو اور جو اونچی قبر نظر آئے اسے برابر کردو۔ “ کون سی تصویر جائز ہے ؟ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ کُلُّ مُصَوِّرٍ فِی النَّارِ یَجْعَلُ لَہُ بِکُلِّ صُورَۃٍ صَوَّرَہَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُہُ فِی جَہَنَّمَ وَقَالَ إِنْ کُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لاَ نَفْسَ لَہُ )[ رواہ مسلم : باب لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَءِکَۃُ بَیْتًا فیہِ کَلْبٌ وَلاَ صُورَۃٌ] ” حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہر تصویر بنانے والا آگ میں جلے گا ہر تصویر کو ایک نفس کی شکل دی جائے گی اور تصویر بنانے والے کو اس کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اگر تو ضرور تصویر بنانا چاہتا ہے تو درخت یا اس چیز کی تصویر بنا جس میں جان نہ ہو۔ مسائل ١۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جنات بڑے بڑے قلعے، طشت اور دیگیں تیار کیا کرتے تھے۔ ٢۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنی رعایا پر بڑے مہربان اور فیاض تھے۔ ٣۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے اہل و عیال اپنے رب کا شکر ادا کرنے والے تھے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یعملوان لہ ۔۔۔۔۔ وقدور رسیت (34: 13) ” “۔ محاریب تو ان جگہوں کو کہا جاتا ہے جہاں عبادت کی جاتی ہے۔ تماثیل تانبے اور لکڑی کی تصاویر کو کہتے ہیں۔ جوابی جابیہ کی جمع ہے وہ حوض جس میں پانی آئے۔ جن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ایسے بڑے لگن بناتے تھے جو حوضوں کی طرح تھے اور وہ ان کے لئے ایسے بڑے دیگ بناتے تھے جو اپنی بڑائی کی وجہ سے جڑے رہتے تھے۔ یہ تمام خدمات وہ ہیں جن پر جنات مامور تھے۔ یہ تمام امور اس وقت خارق عادت تھے اس لیے ان کی یہی تفسیر درست ہے۔ اگر ان کو معمولی بنا دیا جائے تو یہ فضل نہیں رہتا۔ اب آل داؤد کو مخاطب کرکے ہدایت دی جاتی ہے۔ اعملوا آل داؤد شکرا (34: 13) ” “۔ ہم نے تمہارے لیے یہ فضل و کرم حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی شکل میں فراہم کردیا ہے ، لہٰذا اے آل داؤد تم شکر کا طریقہ اختیار کرو۔ فخر و مباہات کا طریقہ نہ اپناؤ اور عمل صالح کا طریقہ اپناؤ۔ وقلیل من عبادی الشکور (34: 13) ” “۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جو حقیقت نفس الامری قارئین کے سامنے رکھتا ہے اور یہ قرآن کریم کے تمام قصوں پر آتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ کا فضل و کرم انسانوں پر اس قدر زیادہ ہے کہ کم انسان شکر ادا کرسکتے ہیں اور بشر ہمیشہ شکر الٰہی کی بجا آوری میں قاصر ہی رہتے ہیں۔ وہ جس قدر زیادہ شکر بھی ادا کریں پھر بھی قاصر رہتے ہیں لیکن اگر وہ بالکل شکر ہی نہ کریں تو ان کا قصور بہت زیادہ ہوگا اور اگر سرکشی کریں تو۔۔۔۔۔ اللہ کے بندے نہایت ہی محدود قوت کے مالک ہیں اور ان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اللہ کی لامحدود نعمتوں پر شکر بجا لاسکیں۔ اگر اللہ کی نعمتوں کو کوئی گنے تو گن ہی نہ سکے ، یہ نعمتیں گو انسان کو اوپر سے ڈھانپ رہی ہے ، پاؤں کے نیچے سے انسان ان میں غرق ہے ، دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے انسان ان سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اس کی ذات ان میں ڈوبی ہوئی ہے۔ خود انشان انعامات الہیہ کا ایک نمونہ ہے۔ ایک بار ہم بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ نہایت ہی دلچسپی کے ساتھ ہمکلام تھے۔ ہر قسم کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اچانک چھوٹی بلی سو سو نمودار ہوئی۔ یہ ہمارے اردگرد گھوم رہی تھی گویا کوئی چیز تلاش کر رہی ہے لیکن وہ بلی زبان سے کچھ کہنے پر قادر نہ تھی۔ اچانک اللہ نے ہمارے دل میں ڈال دیا کہ شاید یہ پیاسی ہے۔ جب ہم نے پانی فراہم کیا تو معلوم ہوا کہ وہ پیاسی تھی ، اسے شدید پیاس لگی ہوئی تھی لیکن وہ زبان سے کچھ کہہ نہ سکتی تھی۔ اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ انسان پر اللہ کے فضل و کرم سے ایک بڑا فضل و کرم زبان بھی ہے جس کا شکر ادا کرنا انسان کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ایک طویل عرصے تک ہم نے سورج نہ دیکھا تھا۔ سورج کی شعاعیں صرف ایک پیسے کے برابر ہم پر چمکتی تھیں ہم اس کے سامنے کھڑے ہوجاتے اور اپنے منہ ، ہاتھ اور چہرے اس سورج کے سامنے لاتے ” سر “ پیٹھ اور پاؤں کو اس سورج کی شعاعوں کی ٹکیا سے غسل دیتے۔ اور ہم سب یہ عمل باری باری کرتے۔ یہ ایک نعمت تھی جو ہمیں مل رہی تھی اور جب پہلے دن ہم سورج میں نکلے تو میں وہ خوشی بھول نہیں سکتا۔ اس وقت ہر ایک کے چہرے پر جو مسرت تھی اسکا تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ ہر ایک اللہ کا گہرا شکر ادا کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا ، الحمد للہ یہ ہے سورج اور یہ تو ہمیشہ ہی چمکتا رہتا ہے۔ روزانہ یہ شعاعیں کس قدر پھیلتی ہیں اور ہم ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ اور ان شعاعوں میں غسل کرتے ہیں۔ یوں ہم اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اللہ کی نعمت میں غرق رہتے ہیں۔ ذرا سوچئے کہ ہم اس عظیم فیض الٰہی سے کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں جو مفت اور بلا حساب ہمیں فراہم کردیا گیا ہے بغیر مشقت اور بغیر کسی تکلیف کے۔ اگر ہم اسی طرز پر اللہ کی نعمتوں کو پیش کرتے رہیں تو ہماری عمر ختم ہوجائے ، ہماری پوری قوت صرف ہوجائے لیکن پھر بھی ہم ان نعمتوں میں سے کسی معتدبہ حصے کا شمار نہ کرسکیں۔ لہٰذا ہم بھی یہاں اسی مجمل اشارے پر اکتفاء کرتے جو قرآن نے کیا ہے تاکہ آگے اہل فکر و تدبر خود ہی سوچ لیں اور وہ جس قدر اللہ چاہے اس سے تاثر لیں۔ یہ تو ہے اللہ کی نعمتوں کا ایک حصہ اور وہی شخص ان کو پاسکتا ہے جو نہایت ہی توجہ ، خلوص اور یکسوئی کے ساتھ اس طرف متوجہ ہو۔ اب ہم قرآنی قصے کی آخری آیات کی طرف آتے ہیں۔ یہ آخری منظر کا حصہ ہیں۔ حضرت سلیمان وفات پا جاتے ہیں اور جنات ان احکام کی تعمیل میں لگے ہوئے تھے جو انہوں نے اپنی زندگی کے دوران دئیے تھے۔ جنات کو معلوم نہیں ہے کہ حضرت سلیمان تو فوت ہوچکے ہیں۔ حضرت سلیمان جنات کے سامنے عصا پر ٹیک لگائے کھڑے ہی تھے کہ گھن نے ان کے عصا کو کھالیا اور آپ گر گئے۔ تب جنوں کو معلوم ہوا کہ وہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے اس مشقت میں مبتلا رہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

محاریب اور تماثیل کا تذکرہ : (یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ ) یہ جنات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کی فرمائش کے مطابق بڑی بڑی عمارتیں اور مجسّمے یعنی مورتیاں بناتے تھے۔ لفظ (مَحَارِیْبَ ) محراب کی جمع ہے جس کا ترجمہ عمارتیں کیا گیا ہے، بعض حضرات نے اس کا ترجمہ قصور یعنی محلات کیا ہے، اور بعض حضرات نے مساکن یعنی رہنے کی جگہیں، اور بعض نے اونچی جگہ یعنی بالا خانہ کا ترجمہ کیا ہے۔ اور (تَمَاثِیْلَ ) تمثال کی جمع ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے جنات تصویریں بناتے تھے جو تانبا، پیتل، شیشہ اور سفید پتھروں کی ہوتی تھیں۔ جِفَانٍ اور قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ : (وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ ) اور بڑے بڑے لگن بناتے تھے جو حوضوں کی طرح ہوتے تھے (وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ ) اور ایسی دیگیں جو ایک ہی جگہ جمی رہنے والی تھیں۔ (جفانٌ) ، (جفنۃٌ) کی جمع ہے جو پیالہ کے معنی میں آتا ہے اور (اَلْجَوَابُ ) جمع ہے (جَابِیَۃٌ) کی۔ جیسے (نَوَاصِیْ ) ، (ناصِیَۃٌ) کی جمع ہے اس کے آخر سے یاء حذف ہوگئی ہے۔ جابیہ بڑے پیالہ کے معنی میں آتا ہے کیونکہ وہ پیالے بڑے بڑے ہوتے تھے اس لیے اوپر لگن کا ترجمہ کیا گیا۔ جنات جو دیگیں بناتے تھے وہ بہت بڑی بڑی ہوتی تھیں جو اپنی جگہوں پر جمی رہتی تھیں معالم التنزیل جلد ٣: ص ٥٥٢ میں لکھا ہے کہ ایک پیالہ سے ہزار آدمی کھاتے تھے اور یہ پیالے پایوں والے تھے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتے تھے اور سیڑھیوں کے ذریعہ ان تک پہنچتے تھے۔ ظاہر ہے کہ پیالے اتنے بڑے تھے تو دیگیں کتنی بڑی ہوں گی جو اپنی جگہ جمی رہتی تھیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا یہ سلسلہ یمن میں تھا۔ ادائیگی شکر کا حکم : (اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا) اے داؤد کے گھر والو شکر کا کام کرو (یعنی تمہیں جو نعمتیں ملی ہیں قولاً و فعلاً ان کا شکر ادا کر، اعمال صالحہ میں لگے رہو) (وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ ) (اور میرے بندوں میں شکر گزار کم ہیں۔ ) صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بےروزہ رہتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب نماز داؤد (علیہ السلام) کی تھی (یعنی نماز تہجد) وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز میں کھڑے رہتے تھے اور رات کے چوتھے حصہ میں پھر سو جاتے تھے۔ (رجع صحیح البخاری کتاب الانبیاء) اور معالم التنزیل میں حضرت ثابت بنانی (رح) سے نقل کیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے رات اور دن کے حصوں کو اپنے اہل و عیال پر تقسیم کر رکھا تھا، رات اور دن میں جو بھی کوئی وقت ہوتا تھا ان کے گھر کا کوئی نہ کوئی شخص نماز میں مشغول رہتا تھا۔ شریعت محمدیہ میں تماثیل اور تصاویر کا حرام ہونا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جنات ان کے تابع کردئیے گئے تھے، ان کے بعض اعمال سورة سباء میں اور بعض اعمال سورة ص میں مذکور ہیں۔ یہاں جنات کے جن اعمال کا ذکر ہے ان میں تماثیل یعنی مورتیاں بنانے کا بھی تذکرہ فرمایا۔ بعض وہ لوگ جنہیں تصاویر اور مورتیوں سے محبت ہے وہ تصاویر اور تماثیل کے جواز پر اس آیت کو پیش کرتے ہیں، یہ ان لوگوں کی غلطی ہے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرما دیا جو قرآن کو اور احکام الٰہیہ کو سب سے زیادہ جانتے تھے تو کسی دوسرے کو کیا اختیار ہے کہ آپ کے حکم سے سرتابی کرے اور جس چیز کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرام قرار دیں اسے حلال کہے، بات یہ ہے کہ سابقہ امتوں کے لیے بعض چیزیں حلال کردی گئیں تھیں اور بعض چیزیں ان پر حرام تھیں، شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ نے ان حلال چیزوں میں سے بہت سی چیزیں حرام قرار دے دیں، یہ منسوخ ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، خود اس امت کے لیے ابتدائے اسلام میں بہت سی چیزیں جائز تھیں پھر ان کو حرام کردیا گیا، اس میں شراب کا ابتداءً حلال ہونا پھر حرام ہونا تو تقریباً سب ہی جانتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔ (رواہ البخاری ص ٨٨٠: ج ٢) حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر تصویر بنانے والا دوزخ میں ہوگا، جو بھی صورت اس نے بنائی تھی وہ ایک جان بنا دی جائے گی جو اسے دوزخ میں عذاب دیتی رہے گی۔ (رواہ البخاری و مسلم کما فی المشکوٰۃ ص ٣٨٥) اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ان تصویر والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو کچھ بنایا تھا اس میں جان ڈالو، اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جس گھر میں تصویر ہو اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (رواہ البخاری ص ٨٨١) حضرت ابو جحیفہ (رض) نے بیان کیا کہ بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خون کی قیمت اور کتے کی قیمت اور زنا کے ذریعہ مال کمانے سے منع فرمایا اور سود کھانے والے اور سود کھلانے والے پر اور گودنے والی اور گدوانے والی پر اور تصویر بنانے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ (رواہ البخاری ص ٢٨٠) یہ چند حدیثیں ہم نے صحیح بخاری سے نقل کردی ہیں اور ان کے علاوہ بھی بہت سی حدیثیں ہیں جن میں تصویر بنانے اور تصویر رکھنے کی ممانعت ہے، مجموعی حیثیت سے ان کی تعداد تواتر معنوی کو پہنچی ہوئی ہے۔ جو لوگ تصاویر و تماثیل کو جائز کہہ رہے ہیں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات اور وجہ ممانعت کو نہیں دیکھتے اور اپنی طرف سے علتیں نکالتے ہیں پھر یوں کہتے ہیں کہ علت نہ رہی تو حکم بھی باقی نہیں رہا اور خود سے یہ علت نکالی کہ اہل عرب مشرک تھے، ان کے دلوں میں تصاویر کی اہمیت تھی لہٰذا ان کے دلوں سے تصاویر کی محبت نکالنے کے لیے تصاویر و تماثیل کو حرام قرار دے دیا تھا اب جب علت نہ رہی تو حکم بھی نہ رہا۔ العیاذ باللہ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو یہ علت نہیں بتائی۔ آپ نے تو یہ بتایا ہے کہ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کے مشابہ بنتے ہیں۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو میری صفت خالقیت سے ساجھا کرے۔ اگر ایسے ہی پیدا کرنے والے ہیں تو ایک ذرہ پیدا کردیں یا ایک حبہ یا ایک جو پیدا کردیں۔ (رواہ البخاری ص ٨٠٠: ج ٢) آخر میں ایک اور حدیث سنتے چلیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخ سے ایک گردن نکلے گی، اس کی آنکھیں ہوں گی ان سے دیکھتی ہوگی اور دو کان ہوں گے جن سے سنتی ہوگی اور ایک زبان ہوگی جس سے بات کرتی ہوگی اور یوں کہے گی کہ میں تین شخصوں پر مسلط کی گئی ہوں، (١) ہر وہ شخص جو ظالم ہو، عناد کرنے والا ہو (٢) وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا کر کسی کو پکارا ہو (٣) جو تصویر بنانے والا ہو۔ (رواہ الترمذی) ایک شخص داڑھی منڈی ہوئی، پتلون پہنے ہوئے نصرانی صورت میں احقر سے بھڑ گیا کہنے لگا کیمرہ تو بہت سے بہت ڈیڑھ سو سال پہلے کی ایجاد ہے، میں نے کہا گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے کرو تو توبہ کی توفیق بھی ہوجائے گی اور اگر گناہ کو حلال کرنے کی کوشش کی جائے گی تو گناہ ڈبل ہوجائے گا اور گناہ حلال نہیں ہوگا اور حلال سمجھنے کی وجہ سے توبہ کی توفیق بھی نہیں ہوگی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی آلہ کی تخصیص تو نہیں فرمائی کہ تصویر ہاتھ سے بناؤ گے تو فرشتے گھر میں داخل نہ ہوں گے اور کسی آلہ کے ذریعہ سے تصویر کھینچو گے تو فرشتوں کو ناگواری نہ ہوگی، اور یہ نہیں کہ یہ عمل (یضاھؤن خلق اللّٰہ) میں شامل نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ یعملون لہ الخ : محاریب، محراب کی جمع ہے۔ مراد عبادت خانے، امام قتادہ فرماتے ہیں۔ محاریب سے عالیشان محالت اور مساجد مراد ہیں (بحر، روح) ۔ تماثیل، تمثال کی جمع اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے جاندار تصاویر مراد ہیں اور حضرت سلیمان کی شریعت میں تصویر سازی جائز تھی۔ لیکن ہماری شریعت میں حرام ہے۔ وھذا یدل علی ان التصویر کان مباحافی ذالک الزمان و نسخ ذلک بشرع محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (قرطبی ج 14 ص 272) ۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے غیر جاندار اشیاء کی تصویریں یا پتھر، تانبے اور شیشے سے بنی ہوئی مکتلف اشیاء مراد ہیں قیل کانت من زجاج و نھ اس و رخام تماثیل اشیا لیست بحیوان (ایضا) ۔ امام رازی فرماتے ہیں۔ محاریب سے عالیشان محلات اور تماثیل سے ان کی دیواروں پر بنائے گئے نقش و نگار مراد ہیں۔ المحاریب اشارۃ الی الابنیۃ الرفیعۃ۔ والتماثیل ما یکون فیہا من النقوش (کبیر ج 7 ص 10) ۔ لیکن حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں ممکن ہے تماثیل سے چارپائیاں مراد ہوں چونکہ چارپائی انسان کے قد و قامت کے برابر ہوتی ہے اس لیے اسے تمثال اور مثال کہا جاتا ہے جیسا کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں۔ نزلت عن المثال یعنی میں چارپائی سے اتر آئی۔ اس کے بعد حضرت شیخ نے لکھا ہے مثال کے معنی چارپائی اہل لغت نے لکھے ہیں۔ لیکن تمثال کے معنی چارپائی ہم نے نہیں دیکھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ جفان، جفنۃ کی جمع ہے اور الجواب، جابیۃ کی جمع ہے یعنی حوض تو جفان سے ایسی بڑی بڑی صحنکیں مراد ہیں جن میں بیک وقت پوری جماعت کھانا کھا سکے۔ قدور راسیات : ایسی بڑی اور بھاری دیگیں جو ایک جگہ قائم رہیں اور اٹھائی ہی نہ جاسکیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) یہ تمام چیزیں جنوں سے بنواتے تھے۔ جو اللہ کے حکم سے ان کے ماتحت تھے۔ اعملوا ال داود شکرا الخ : اس سے پہلے قلنا محذوف ہے یعنی ہم نے کہا آل داود سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین مراد ہیں۔ اے آل داود ! ان بےپایاں انعامات خداوندی کا شکر بجا لاؤ۔ یعنی نیک عمل کرو۔ میرے بندوں میں شکر گذار اور اعمال صالحہ بجا لانے والے بہت کم ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) وہ جنات سلیمان (علیہ السلام) کیلئے جو چیزیں وہ چاہتا تھا بنایا کرتے تھے۔ بڑی بڑی اونچی عمارتیں اور تصویریں اور بڑے بڑے لگن جیسے حوض اور بڑی بڑی دیگیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے چولھوں پر جمی رہتی تھیں۔ اے دائود کے خاندان والو ! تم سب ان نعمتوں کا شکر ادا کیا کرو اور شکریئے میں نیک کام کیا کرو اور میرے بندوں میں بہت کم بندے شکرگزار ہوتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جناب سے جو کام لیا کرتے تھے ان کی کچھ تفصیل سورة انبیاء میں گزر چکی ہے۔ کچھ یہاں بیان فرمائی۔ ان سے قلعے اور مساجد تعمیر کراتے تھے بیت المقدس کی تعمیر میں ان کا بہت بڑا حصہ تھا اور دوسری بڑی بڑی عمارتیں بھی وہ بناتے تھے۔ محاریب کی تفسیر قلعوں سے اور مساجد سے کی گئی ہے۔ تماثیل سے مراد یا تو مجسمے ہیں یا دوسری تصویریں ہیں جو دیواروں پر بطور آرائش اس زمانہ میں بنائی جاتی ہوں اور ایسا کرنا ان کی شریعت میں اس وقت جائز ہوگا اور آخری شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح اس وقت تماثیل کا بنانا حرام نہ ہوگا اور پگھلے ہوئے تانبے کے بڑے بڑے لگن جس میں سینکڑوں آدمی کھانا کھا سکیں اسی طرح بڑی بڑی دیگیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ بڑے بڑے چولھوں پر جما دی جاتی تھیں اور ان میں لشکر کا کھانا پکتا تھا۔ یہ تمام انعامات الٰہی تھے جن سے دائود (علیہ السلام) اور ان کے لڑکے سلیمان کو نوازا تھا۔ اسی پر شکر کا مطالبہ فرمایا شکر نعمتہائے توچنداں کہ نعمتہائے تو آخر میں فرمایا کہ میرے بندوں میں سے شکر ادا کرنے والے تھوڑے ہی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بہت کم لوگ شکر ادا کرتے ہیں۔ اے منزہ اززن و فرزند و جفت کے تو انم شکر نعمتہات گفت