Surat Saba

Surah: 34

Verse: 3

سورة سبأ

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَاۡتِیۡنَا السَّاعَۃُ ؕ قُلۡ بَلٰی وَ رَبِّیۡ لَتَاۡتِیَنَّکُمۡ ۙ عٰلِمِ الۡغَیۡبِ ۚ لَا یَعۡزُبُ عَنۡہُ مِثۡقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ وَ لَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡبَرُ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ٭ۙ﴿۳﴾

But those who disbelieve say, "The Hour will not come to us." Say, "Yes, by my Lord, it will surely come to you. [ Allah is] the Knower of the unseen." Not absent from Him is an atom's weight within the heavens or within the earth or [what is] smaller than that or greater, except that it is in a clear register -

کفار کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی ۔ آپ کہہ دیجئے! مجھے میرے رب کی قسم! جو عالم الغیب ہے وہ یقیناً تم پر آئے گی اللہ تعالٰی سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیدہ نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی ہرچیز کھلی کتاب میں موجود ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Hour will come so that each Person will be rewarded or punished in accordance with His Deeds This is one of three Ayat -- there is no fourth -- where Allah commands His Messenger to swear by His Almighty Lord that the resurrection will surely come, because the stubborn followers of disbelief denied that it would happen. - One of these Ayat is in Surah Yunus, where Allah says: وَيَسْتَنْبِيُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِى وَرَبِّى إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَأ أَنتُمْ بِمُعْجِزِينَ And they ask you to inform them (saying): "Is it true!" Say: "Yes! By my Lord! It is the very truth! and you cannot escape it!" (10:53) - The second of these Ayat is this one: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لاَ تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ ... Those who disbelieve say: "The Hour will not come to us." Say: "Yes, by my Lord, it will come to you...". - And the third of them appears in Surah At-Taghabun, where Allah says: زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَن لَّن يُبْعَثُواْ قُلْ بَلَى وَرَبِّى لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّوُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ The disbelievers pretend that they will never be resurrected (for reckoning). Say: "Yes! By my Lord, you will certainly be resurrected, then you will be informed of what you did; and that is easy for Allah." (64:7) And Allah says here: .. قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ ... Say: "Yes, by my Lord, it will come to you..." Then Allah is described in a manner that affirms that: ... عَالِمِ الْغَيْبِ لاَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلاَا فِي الاْاَرْضِ وَلاَا أَصْغَرُ مِن ذَلِكَ وَلاَا أَكْبَرُ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ the All-Knower of the Unseen, not even the weight of a speck of dust or less than that or greater escapes His knowledge in the heavens or in the earth but it is in a Clear Book. Mujahid and Qatadah said, "Nothing is hidden or concealed from Him." In other words, everything is encompassed by His knowledge, and nothing is hidden from Him. Even though bones may be scattered and disintegrate, He knows where they have gone and where they have dispersed, then He will bring them back just as He created them in the first place, because He has knowledge of all things. Then Allah tells us of His wisdom in re-creating bodies and bringing about the Hour, as He says: لِيَجْزِيَ الَّذِينَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَيِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ

قیامت آکر رہے گی ۔ پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھاکر بیان فرمایا گیا ہے ۔ ایک تو سورۃ یونس میں ( وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 53؀ۧ ) 10- یونس:53 ) لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہی ہے؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقینا حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کرسکتے ۔ دوسری آیت یہی ۔ تیسری آیت سورۃ تغابن میں ( زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ Ċ۝ ) 64- التغابن:7 ) یعنی کفار کا خیال ہے کہ وہ قیامت کے دن اٹھائے نہ جائیں گے ۔ تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر اپنے اعمال کی خبر دیئے جاؤ گے اور یہ تو اللہ پر بالکل ہی آسان ہے ۔ پس یہاں بھی کافروں کے انکار قیامت کا ذکر کرکے اپنے نبی کو ان کے بارے قسمیہ بتا کر پھر اس کی مزیدتاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو عالم الغیب ہے جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں ۔ سب اس کے علم میں ہے ۔ گو ہڈیاں سڑ گل جائیں ان کے ریزے متفرق ہو جائیں لیکن وہ کہاں ہیں؟ کتنے ہیں؟ سب وہ جانتا ہے ۔ وہ ان سب کے جمع کرنے پر بھی قادر ہے ۔ جیسے کہ پہلے انہیں پیدا کیا ۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔ اور تمام چیزیں اس کے پاس اس کی کتاب میں بھی لکھی ہوئی ہیں ، پھر قیامت کے آنے کی حکمت بیان فرمائی کہ ایمان والوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ ملے ۔ وہ مغفرت اور رزق کریم سے نوازے جائیں ، اور جنہوں نے اللہ کی باتوں سے ضد کی رسولوں کی نہ مانی انہیں بدترین اور سخت سزائیں ہوں ۔ نیک کار مومن جزا اور بدکار کفار سزا پائیں گے ۔ جیسے فرمایا جہنمی اور جنتی برابر نہیں ۔ جنتی کامیاب اور مقصد ور ہیں ۔ اور آیت میں ہے ( اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ 28؀ ) 38-ص:28 ) ، یعنی مومن اور مفسد متقی اور فاجر برابر نہیں ، پھر قیامت کی ایک اور حکمت بیان فرمائی کہ ایماندار بھی قیامت کے دن جب نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو وہ علم الیقین سے عین الیقین حاصل کرلیں گے اور اس وقت کہہ اٹھیں گے کہ ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے ۔ اور اس وقت کہا جائے گا کہ یہ ہے جس کا وعدہ رحمان نے دیا تھا اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا ۔ اللہ نے تو لکھ دیا تھا کہ تم قیامت تک رہو گے تو اب قیامت کا دن آچکا ۔ وہ اللہ عزیز ہے یعنی بلند جناب والا بڑی سرکار والا ہے ۔ بہت عزت والا ہے پورے غلبے والا ہے ۔ نہ اس پر کسی کا بس نہ کسی کا زور ۔ ہر چیز اس کے سامنے پست اور عاجز ۔ وہ قابل تعریف ہے اپنے اقوال و افعال شرع و فعل میں ۔ ان تمام میں اس کی ساری مخلوق اس کی ثناء خواں ہے ۔ جل و علا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 قسم بھی کھائی اور صیغہ بھی تاکید کا اور اس پر مزید لام تاکید یعنی قیامت کیوں نہیں آئے گی ؟ وہ تو بہر صورت یقینا آئے گی۔ 3۔ 2 یعنی جب آسمان و زمین کا کوئی ذرہ اس سے غائب اور پوشیدہ نہیں، تو پھر تمہارے اجزائے منتشرہ کو، جو مٹی میں مل گئے ہوں گے، جمع کر کے دوبارہ تمہیں زندہ کردینا کیوں ناممکن ہوگا 3۔ 3 یعنی وہ لوح محفوظ میں موجود اور درج ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٥] جس دعویٰ پر کوئی ظاہری دلیل موجود نہ ہو یا مخاطب اسے تسلیم کرنے سے منکر ہو تو اللہ کی قسم سے اپنے دعویٰ کو موکد کیا جاتا ہے۔ یہاں قسم کھانے والی وہ ہستی ہے جسے کفار مکہ صادق اور امین سمجھتے تھے اولاً تو انھیں اس بات یا دعویٰ پر یقین کرلینا چاہئے تھا کیونکہ وہ صادق اور امین ہے ثانیاً وہ اللہ کی قسم اٹھا کر اپنے دعویٰ کو موکد بنا رہا ہے۔ اور ضمناً اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قیامت کا علم صرف اسے ہوسکتا ہے جو عالم الغیب ہو اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ [ ٦] یعنی کائنات کی ہر چھوٹی بڑی، خفیہ اور علانیہ غرض ہر چیز سے اللہ تعالیٰ واقف ہی نہیں بلکہ کائنات میں کوئی بھی چھوٹا یا بڑا پیش آنے والا واقعہ یا حادثہ اس کے پاس پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ پھر جب ایسی ذات قیامت کے واقع ہونے کی خبر دے رہی ہے۔ تو پھر اس میں کیا شک و شبہ ہوسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ : یہ بیان کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو بےحساب نعمتیں کی ہیں، ان پر دنیا کے علاوہ آخرت میں بھی حمد اور شکر اسی کے لیے ہے، یہ بیان فرمایا کہ کفار اپنے خالق ومالک کی حمد کے بجائے دوبارہ زندہ ہو کر اس کے سامنے پیش ہونے کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ : قسم اٹھا کر بات کرنے سے اس بات کی اہمیت اور اس کے واقع ہونے کی تاکید مقصود ہوتی ہے، جس پر قسم اٹھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بات جتنی شدت سے کی گئی ہو اس کا رد اتنی ہی یا اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کفار قیامت کا انکار قسمیں اٹھا اٹھا کر کرتے تھے، جیسا کہ اللہ نے ذکر فرمایا : (واقسموا باللہ جہد ایمانھم لایبعث اللہ من یموت) [ النحل : ٣٨ ] ” اور انھوں نے اپنی پکی قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مرجائے۔ “ وہ قیامت کا مذاق بھی اڑاتے تھے اور اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ بھی کرتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر انھیں بتائیں کہ وہ تم پر ضرور بالضرور آئے گی۔ حافظ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ آیت ان تین آیات میں سے ایک ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت ضرور قائم ہوگی۔ ان میں سے ایک سورة یونس کی آیت ہے : (ویستنبئونک احق ھو قل سای ) [ یونس : ٥٣ ] ” اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے ؟ تو کہہ ہاں ! مجھے اپنے رب کی قسم ! یقیناً یہ ضرور سچ ہے اور تم ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ “ دوسری یہ آیت اور تیسری سورة تغابن میں ہے : (زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن ثم لتنبئن بما عملتم ) [ التغابن : ٧ ] ” وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔ کہہ دے کیوں نہیں ؟ میرے رب کی قسم ! تم ضرور بالضرور اٹھائے جاؤ گے۔ “ عٰلِمِ الْغَيْبِ ۚ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ ۔۔ : ” عٰلِمِ الْغَيْبِ “ ” ربی “ کی صفت ہے۔ ” عَزَبَ یَعْزُبُ “ (ن، ض) غائب ہونا، چھپا رہنا۔ ” وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ ۔۔ “ میں ” اصغر “ اور ” اکبر “ پر رفع مبتدا ہونے کی وجہ سے ہے۔ ” الا “ حرف استثنا ہے اور ” فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ “ خبر ہے۔ ” كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ “ سے مراد لوح محفوظ ہے۔ کتاب کو واضح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کتابوں میں لکھی ہوئی بات ڈھونڈنا پڑتی ہے، مگر وہ ایسی کتاب ہے جو ہر چیز کو خود ہی واضح کردیتی ہے۔ 3 قیامت کے منکروں کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی اور ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوگئے اور ہماری خاک کے ذرّات بھی کہاں سے کہاں منتشر ہوگئے تو ہم دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے کہو، مجھے اپنے اس رب کی قسم ہے جو غیب کو جاننے والا ہے ! جس سے ذرہ برابر کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں، نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی، مگر اس کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں درج ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرنے والوں کے ذرّات جہاں بھی ہوں وہ سب سے واقف بھی ہے اور انھیں جمع کرنے اور دوبارہ جوڑنے اور زندہ کرنے پر قادر بھی ہے۔ دیکھیے سورة ق (٣، ٤) اور قیامہ (٣، ٤) ۔ ” ذرةٍ “ غبار کے اس چھوٹے سے چھوٹے حصے کو کہتے ہیں جو روشنی میں چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ” کہ اس سے چھوٹی ہر چیز بھی کتاب مبین میں ہے “ اس حقیقت کا بیان ہے جو ان آیات کے نزول کے سیکڑوں برس بعد تجربے سے ثابت ہوئی کہ ذرہ (ایٹم) بھی قابل تقسیم ہے اور اس سے چھوٹی بھی بہت سے چیزیں موجود ہیں۔ ولا اکبر : یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنے کے بعد کہ ” ذرے سے چھوٹی چیزیں بھی کتاب مبین میں ہیں “ یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ ” اس سے بڑی چیزیں بھی کتاب مبین میں ہیں۔ “ جواب اس کا یہ ہے کہ اس کی ضرورت یہ ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ لوح محفوظ میں صرف باریک چیزوں کا علم ہی محفوظ کیا گیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary عَالِمِ الْغَيْبِ (the knower of the unseen). This is an attribute of the Rabb (Lord) in whose name an oath has been taken in verse 3. At this place, out of the many attributes of Allah Ta’ ala, the attribute of all-encompassing knowledge and the knowledge of the unseen has, perhaps, been mentioned particularly because the text is dealing with the matter of the deniers of the day of Resurrection. The major reason why the disbelievers rejected the inevitability of Qiyamah, the day of doom, was their inability to comprehend how the whole thing would work out. When all human beings die, and become dust, and the particles of this dust get scattered all over the world, they wondered, how would it be possible to collect all these particles, separate the particles belonging to each human being from the particles of all others, and then go on to put the relevant particles back into the frame of everyone&s existence? And they took it as impossible because they had very conveniently taken the knowledge and power of Allah Ta’ ala on the analogy of their own knowledge and power! Allah Ta’ ala has told them that His knowledge encompasses the entire universe in a manner that He knows everything in the heavens and the earth to the extent that He also knows where and in what state it is. Not a single particle of what has been created remains outside His knowledge - and this comprehensive and all-encompassing knowledge is hallmark of Allah Ta’ ala. No created entity, whether an angel or prophet, can ever have such an all-encompassing knowledge that no particle of this universe remains outside it. Then, for a Being that has such an all-encompassing knowledge, why would it be difficult to reclaim the scattered particles of a human being from all over the universe, each separate from the other, and reconstitute their bodies from these once again?

خلاصہ تفسیر اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہ آئے گی، آپ فرما دیجئے کہ کیوں نہیں (آویگی) قسم اپنے پروردگار عالم الغیب کی کہ وہ ضرور تم پر آوے گی (اس کا علم ایسا وسیع اور محیط ہے کہ) اس (کے علم) سے کوئی ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ آسمانوں میں نہ زمین میں (بلکہ سب اس کے علم میں حاضر ہیں) اور نہ کوئی چیز اس (مقدار مذکور) سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی چیز (اس سے) بڑی ہے مگر یہ سب (بوجہ احاطہ علم الٰہی کے) کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (مرقوم) ہے (قیامت کے متعلق کفار کے کئی شہبات تھے، ایک یہ کہ اگر آنے والی ہے تو اس کا وقت بتلایئے، کما قال تعالیٰ (آیت) ایان مرسہا، دوسرا یہ کہ جن اجزاء کو جمع کر کے ان میں حیات پیدا کرنا بتلایا جاتا ہے، اس کا کہیں نشان بھی نہ رہے گا پھر جمع کیسے ہوں گے ؟ اس مضمون اثبات علم غیب سے شبہ اول کا جواب ہوگیا، کہ اس کا علم بوجہ حکمت کے مختص ہے باری تعالیٰ کے ساتھ، اگر نبی کو اس کا معین وقت معلوم نہ ہو تو لازم نہیں آتا کہ اس کا وقوع ہی نہ ہو، کما قال تعالیٰ (آیت) قل انما علمہا عند اللہ اور مضمون اثبات علم محیط سے دوسرے شبہ کا جواب ہوگیا ہے کہ ان تمام اجزاء کے زمین میں منتشر اور ہوا میں پھیل جانے کے باوجود وہ ہمارے علم سے خارج نہ ہوں گے، ہم جب چاہیں گے جمع کرلیں گے کما قال تعالیٰ (آیت) افلم یروا الخ، اب قیامت کی غایت بتلاتے ہیں کہ وہ قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ ان لوگوں کو صلہ (نیک) دے جو ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک کام کیا تھا (سو) ایسے لوگوں کے لئے مغفرت اور (بہشت میں) عزت کی روزی ہے، اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے متعلق (ان کے ابطال کی) کوشش کی تھی (نبی کو) ہرانے کے لئے (گو اس کوشش میں ناکام ہی رہے) ایسے لوگوں کے واسطے سختی کا دردناک عذاب ہوگا اور (آیات قرآنیہ کی تکذیب پر یہ سزا ہونی ہی چاہئے، کیونکہ اول تو قرآن فی نفسہ امر حق منزل من اللہ ہے اور ایسے امر حق کی تکذیب خود حق تعالیٰ کی تکذیب ہے، اس پر جتنی سزا ہو بجا ہے۔ دوسرے قرآن راہ راست کی تعلیم و ہدایت کرتا ہے، جو شخص اس کو نہ مانے گا وہ راہ راست سے قصداً دور رہے گا، نہ اس کو عقائد حقہ کا پتہ لگے گا نہ اعمال صالحہ کا اور یہی طریقہ تھا نجات کا۔ پس طریقہ نجات سے قصداً دور رہنے پر سزا کا ہونا بےجا نہیں ہے، اور قرآن کا حق اور ہادی ہونا ایسا واضح ہے کہ علاوہ اس کے اور دلائل سے ثابت ہے۔ ایک سہل طریق اس کے ثبوت کا یہ ہے کہ) جن لوگوں کو (آسمانی کتابوں کا) علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو کہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس بھیجا گیا ہے ایسا سمجھتے ہیں کہ وہ حق ہے اور وہ خدائے غالب محمود (کی رضا) کا راستہ بتلاتا ہے (اس استدلال کی تقریر شروع رکوع اخیر سورة شعراء میں گزر چکی ہے۔ اور شاید منجملہ جمیع امور واجبة الایمان کے، بیان حقیقت قرآن کا اہتمام اس لئے فرمایا ہو کہ یہ ان امور واجبۃ الایمان پر مشتمل ہے بالخصوص خبر قیامت پر جس میں اس مقام میں کلام ہے۔ پس اس بنا پر حاصل یہ ہوا کہ قیامت کے روز اسی قیامت کی تکذیب پر بھی سزا ہوگی) اور (آگے پھر قیامت کا اثبات ہے یعنی) یہ کافر (آپس میں) کہتے کہ کیا ہم تم کو ایک ایسا آدمی بتائیں جو تم کو یہ (عجیب) خبر دیتا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو (اس کے بعد قیامت کو) تم ضرور ایک نئے جنم میں آؤ گے معلوم نہیں اس شخص نے خدا پر (قصداً ) جھوٹ بہتان باندھا ہے یا اس کو کسی طرح کا جنون ہے (کہ بلاقصد جھوٹ بول رہا ہے، کیونکہ یہ امر تو محال ہے تو اس کے وقوع کی خبر ضرور غلط ہے، خواہ قصد سے ہو یا فساد تخیل سے ہو۔ حق تعالیٰ ان دونوں شقوں کو رد فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی تو مفتری اور مجنون کچھ بھی نہیں) بلکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے (وہی) عذاب اور دور دراز گمراہی میں (مبتلا) ہیں، (اس گمراہی کا حالی اثر یہ ہے کہ سچے بھی مفتری اور مجنون نظر آتے ہیں، اور مالی اثر یہ ہے کہ عذاب بھگتنا پڑے گا۔ اور یہ جاہل جو اس جمع واحیاء اجزاء متفرقہ جمادیہ کو محال بعید از قدرت سمجھ رہے ہیں) تو کیا انہوں نے (دلائل عظمت قدرت آلہیہ میں سے) آسمان اور زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے آگے (بھی) اور ان کے پیچھے (بھی) موجود ہیں (کہ جدھر دیکھیں وہ نظر آ رہے ہیں۔ پس ان اجرام عظیمہ کا ابتداً پیدا کرنیوالا کیا اجسام صغیرہ کے ثانیاً پیدا کرنے پر قادر نہیں، کما قال تعالیٰ لخلق السموٰت والارض اکبر من خلق الناس الخ۔ اور باوجود وضوح دلائل حق کے پھر بھی اکار وعناد کرنے کی وجہ سے یہ ہیں تو اس قابل کہ ان کو ابھی سزا دی جائے اور سزا بھی ایسی کہ یہ دلائل قدرت آسمان و زمین جو ان کے لئے نعمت عظیمہ بھی ہیں انہی کو ان کے آلہ تعذیب بنادیا جائے کہ جس نعمت کا کفران ہو اسی نعمت کو نقمت یعنی عذاب بنانے سے سخت حسرت ہوتی ہے۔ اور ہم اس سزا پر بھی قادر ہیں چنانچہ) اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا (اگر چاہیں تو) ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں (لیکن حکمت مقتضی ہے تاخیر کو، اس لئے مہلت دے رکھی ہے، غرض ان لوگوں کو دفع تو ہم استحالہ کے لئے آسمان و زمین پر نظر کرنا چاہئے کیونکہ) اس (دلیل مذکور) میں (قدرت آلہیہ) کی پوری دلیل ہے (مگر) اس بندہ کے لئے جو (خدا کی طرف) متوجہ (بھی) ہو (اور حق کی طلب ہو یعنی دلیل تو کافی ہے مگر ان کی طرف سے طلب نہیں اس لئے محروم ہیں) ۔ معارف ومسائل عالم الغیب، یہ صفت رب کی ہے جس کی اوپر قسم کھائی گئی ہے، اور اللہ جل شانہ، کی تمام صفات میں سے اس جگہ صفت علم غیب وعلم محیط کو شاید اس لئے خاص کیا گیا کہ کلام منکرین قیامت کے معاملہ میں ہے، اور قیامت کے انکار کا بڑا سبب کفار کے لئے یہ تھا کہ جب سب انسان مر کر مٹی ہوجائیں گے اور اس مٹی کے ذرات بھی دنیا میں منتشر ہوجائیں گے تو سارے جہان میں پھیلے ہوئے ذرات کو جمع کرنا پھر ہر ایک انسان کے ذرات کو دوسرے انسانوں کے ذرات سے الگ کر کے ہر ایک کے ذرات اسی کے وجود میں پیوست کرنا کیسے ممکن ہے ؟ اور اس کو ناممکن سمجھنا اسی بنا پر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کو اپنے علم وقدرت پر قیاس کر رکھا تھا۔ حق تعالیٰ نے بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کا علم سارے عالم پر ایسا محیط ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے اس کو سب معلوم ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے، کوئی ذرہ مخلوقات کا اس کے علم سے باہر نہیں، اور یہ علم محیط حق تعالیٰ کی خصوصیت ہے کسی مخلوق کو خواہ فرشتہ ہو یا پیغمبر ایسا علم محیط کہ کوئی ذرہ جہاں کا اس سے خارج نہ ہو حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور جس ذات کو ایسا علم محیط حاصل ہو اس کے لئے ایک انسان کے ذرات کو الگ الگ سارے جہان میں سے جمع کرلینا اور اس سے ان کے اجسام کو دوبارہ مرکب کردینا کیا مشکل ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَۃُ۝ ٠ ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ۝ ٠ ۙ عٰلِمِ الْغَيْبِ۝ ٠ ۚ لَا يَعْزُبُ عَنْہُ مِثْـقَالُ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۝ ٣ ۤ ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7» فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) «1» فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے عزب العَازِبُ : المتباعد في طلب الکلإ عن أهله، يقال : عَزَبَ يَعْزُبُ ويَعْزِبُ «3» . قال تعالی: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ [يونس/ 61] ، ( ع ز ب ) عزب العازب وہ آدمی جو گھاس کی تلاش میں اپنے اہل عیال سے دور نکل جائے عزب یعزب ویعزب ( ض ن ) دور نکل جانا پوشیدہ ہوجا نا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ۔ مِثْقَال : ما يوزن به، وهو من الثّقل، وذلک اسم لکل سنج قال تعالی: وَإِنْ كانَ مِثْقالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنا بِها وَكَفى بِنا حاسِبِينَ [ الأنبیاء/ 47] ، وقال تعالی: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ [ الزلزلة/ 7- 8] ، وقوله تعالی: فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 6- 7] ، فإشارة إلى كثرة الخیرات، وقوله تعالی: وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوازِينُهُ [ القارعة/ 8] ، فإشارة إلى قلّة الخیرات . والثقیل والخفیف يستعمل علی وجهين : أحدهما علی سبیل المضایفة، وهو أن لا يقال لشیء ثقیل أو خفیف إلا باعتباره بغیره، ولهذا يصحّ للشیء الواحد أن يقال خفیف إذا اعتبرته بما هو أثقل منه، و ثقیل إذا اعتبرته بما هو أخفّ منه، وعلی هذه الآية المتقدمة آنفا . والثاني أن يستعمل الثقیل في الأجسام المرجّحة إلى أسفل، کالحجر والمدر، والخفیف يقال في الأجسام المائلة إلى الصعود کالنار والدخان، ومن هذا الثقل قوله تعالی: اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ [ التوبة/ 38] . المثقال ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے کسی چیز کا وزن کیا جائے چناچہ ہر باٹ کو مثقال کہہ سکتے ہیں قرآن میں ہے ؛۔ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ [ الزلزلة/ 7- 8] ، وقوله تعالی: فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 6- 7] تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لیگا تو جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور آیت کریمہ :۔ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوازِينُهُ [ القارعة/ 8] اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے ۔ میں وزن کے ہلکا نکلنے سے اعمال حسنہ کے کم ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ ثقیل اور خفیف کے الفاظ دو طرح استعمال ہوتے ہیں ایک بطور مقابلہ کے یعنی ایک چیز کو دوسری چیز کے اعتبار سے ثقیل یا خفیف کہہ دیا جاتا ہے چناچہ مذکورہ بالاآیت میں نہی معنی مراد ہیں اور دوسرے یہ کہ جو چیزیں ( طبعا) نیچے کی طرف مائل ہوتی ہیں انہیں ثقیل کہا جاتا ہے جیسے حجر مدر وغیرہ اور جو چیزیں ( طبعا) اوپر کو چڑھتی ہیں جیسے آگ اور دہواں انہیں حفیف کہا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ ؛ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ [ التوبة/ 38] تو تم زمین پر گر سے جاتے ہو ۔ میں زمین پر گرنا دوسرے معنی کے اعتبار سے ہے ۔ ذَرَّةٍ [ النساء/ 40] ، وقد قيل : أصله الهمز، وقد تذکر بعد في بابه . ذرأ الذَّرْءُ : إظهار اللہ تعالیٰ ما أبداه، يقال : ذَرَأَ اللہ الخلق، أي : أوجد أشخاصهم . قال تعالی: وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ كَثِيراً مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ [ الأعراف/ 179] ، وقال : وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعامِ نَصِيباً [ الأنعام/ 136] ، وقال : وَمِنَ الْأَنْعامِ أَزْواجاً يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ [ الشوری/ 11] ، وقرئ : ( تذرؤه الرّياح) «3» ، والذُّرْأَة : بياض الشّيب والملح . فيقال : ملح ذُرْآنيّ ، ورجل أَذْرَأُ ، وامرأة ذَرْآءُ ، وقد ذَرِئَ شعره . ( ذ ر ء ) الذرء کے معنی ہیں اللہ نے جس چیز کا ارادہ کیا اسے ظاہر کردیا ۔ کہا جاتا ہے ۔ یعنی ان کے اشخاص کو موجود کیا قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ كَثِيراً مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ [ الأعراف/ 179] اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں ۔ وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعامِ نَصِيباً [ الأنعام/ 136] اور یہ لوگ ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں ( یعنی ) کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں وَمِنَ الْأَنْعامِ أَزْواجاً يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ [ الشوری/ 11] اور چار پایوں کے بھی جوڑے بنادے اور اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے ۔ اور تَذْرُوهُ الرِّياحُ [ الكهف/ 45] میں ایک قراءت بھی ہے ۔ الذرؤۃ ۔ بڑھاپے یا نمک کی سفیدی ۔ کہاجاتا ہے ملح ذرانی نہایت سفید نمک اور جس کے بال سفید ہوجائیں اسے رجل اذرء کہاجاتا ہے اس کی مونث ذرآء ہے ۔ ذری شعرہ روذرء کفرح ومنع) اس کے بال سفید ہوگئے ۔ صغر الصِّغَرُ والکبر من الأسماء المتضادّة التي تقال عند اعتبار بعضها ببعض، فالشیء قد يكون صَغِيراً في جنب الشیء، وكبيرا في جنب آخر . وقد تقال تارة باعتبار الزّمان، فيقال : فلان صَغِيرٌ ، وفلان کبير : إذا کان ما له من السّنين أقلّ ممّا للآخر، وتارة تقال باعتبار الجثّة، وتارة باعتبار القدر والمنزلة، وقوله : وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ [ القمر/ 53] ، ( ص غ ر ) الصغریہ الکبر کی ضد ہے جو کہ ایک دوسرے کے اعتبار سے استعمال ہوتے ہیں ایک ہی چیز دوسری چیز کے مقابلہ میں صغیر ہوتی ہے اور وہی کبھی اور چیز کے مقابلہ میں کبیر کہلاتی ہے پھر صغیر وکبیر کا اطلاق کبھی تو باعتبار زمانہ کے ہوتا ہے ۔ یعنی ایک شخص دوسرے سے عمر میں چھوٹا ہوتا ہے اور دوسرا بڑا اور کبھی باعتبار جسامت کے اور کبھی بلحاظ قدر ومنزلت کے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ [ القمر/ 53] یعنی ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھ دیا گیا ہے ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور کفار مکہ یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی وغیرہ کہتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہوگی۔ آپ ان سے فرما دیجیے کہ کیوں نہیں قیامت ضرور قائم ہوگی قسم ہے اپنے پروردگار عالم الغیب کی وہ ضرور تم پر آئے گی۔ بندوں کے اعمال میں سے اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی پوشیدہ نہیں اور نہ کوئی چیز اس مقدار مذکور سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی بڑی ہے مگر یہ سب لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ } ” اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت کبھی نہیں آئے گی۔ “ عام طور پر ” السَّاعۃ “ کا ترجمہ قیامت ہی کردیا جاتا ہے ‘ مگر جیسا کہ سورة لقمان کی آیت ٣٤ کے ضمن میں بھی بتایا جا چکا ہے السَّاعۃ اور قیامت دو مختلف الفاظ ہیں اور دونوں کے معانی بھی الگ الگ ہیں۔ السَّاعۃ سے مراد وہ خاص گھڑی ہے جب زمین میں ایک عظیم زلزلہ برپا ہوگا ‘ ستاروں اور سیاروں کا پورا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور دنیا مکمل طور پر تباہ ہوجائے گی۔ جبکہ القیامۃ اس کے بعد کی کیفیت کا نام ہے جب دنیا دوبارہ نئی شکل میں پیدا ہوگی اور تمام انسانوں کو زندہ کر کے ایک جگہ اکٹھے کرلیا جائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ کائنات ابدی ہے اور اس کا اختتام ممکن نہیں ‘ لیکن اب فزکس کے میدان میں نئی نئی تحقیقات کی روشنی میں سائنسدانوں کا جو نیا موقف سامنے آیا ہے وہ بھی یہی ہے کہ یہ کائنات ابدی نہیں ہے ‘ اس کا اختتام ایک ّمسلمہ حقیقت ہے اور یہ کہ جس طرح اپنے آغاز کے بعد یہ ایک پھلجھڑی کی طرح پھیلتی رہی ہے ‘ اسی طریقے سے اختتام پذیر ہوجائے گی۔ { قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّکُمْ عٰلِمِ الْغَیْبِ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ کہیے ‘ کیوں نہیں ! میرے رب کی قسم ‘ جو تمام پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہے ‘ وہ تم پر ضرور آکر رہے گی۔ “ { لَا یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ } ” اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی ذرّہ برابر بھی کوئی چیز نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں “ { وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرُ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ } ” اور نہ کوئی اس سے چھوٹی چیز اور نہ بڑی ‘ مگر وہ ایک روشن کتاب میں (لکھی ہوئی) موجود ہے۔ “ یہ قیامت کیوں آئے گی ؟ اس کا منطقی جواز کیا ہے ؟ اس کا جواب اگلی آیات میں دیا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 This they said satirically and mockingly. What they meant was: "This Prophet has been giving us the news of his coming of Resurrection for along tune now, but Resurrection has not overtaken us so far although we have openly denied and rejected him as a Prophet, have been insolent to him and have ridiculed him in every way." 6 The use of the attribute "Knower of the unseen" for Allah while swearing by him by itself points to the fact that the coming of Resurrection is certain, but no one knows except AIlah, Knower of the unseen, when exactly it will come. This same theme has been explained at different places in the Qur'an in various ways. For details, see AI-A'raf: 187, Ta Ha: 15. Luqman: 34, Al-Ahzab: 63, Al-hulk: 25-26, An-Naziyat: 42-44. 7 This is one of the arguments for the possibility of the Hereafter as is being stated in verse 7 below. One of the reasons why the deniers of the Hereafter regarded the life-after-death as irrational was ;' They said that when all human beings will have become dust after death, and scattered away in particles, how it will be possible to bring all the countless particles together and combine them to be re-created as the same human bodies once again. This doubt has been dispelled, saying, "Every particle wherever it is, is recorded in God's Register, and God knows where a particle is. Therefore, when He wills to recreate, He will not face any difficulty in gathering together all the particles of the body of each and every man. "

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :5 یہ بات وہ طنز اور تمسخر کے طور پر چندرا چَندرا کر کہتے تھے ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت دنوں سے یہ پیغمبر صاحب قیامت کے آنے کی خبر سنا رہے ہیں ، مگر کچھ خبر نہیں کہ وہ آتے آتے کہاں رہ گئی ۔ ہم نے اتنا کچھ انہیں جھٹلایا ، اتنی گستاخیاں کیں ، ان کا مذاق تک اڑایا ، مگر وہ قیامت ہے کہ کسی طرح نہیں آ چکتی ۔ سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :6 پروردگار کی قسم کھاتے ہوئے اس کے لیے عالم الغیب کی صفت استعمال کرنے سے خود بخود اس امر کی طرف اشارہ ہو گیا کہ قیامت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے کا وقت خدائے عالم الغیب کے سوا کسی کو معلوم نہیں ۔ یہی مضمون قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان ہوا ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف ، 187 ۔ طٰہٰ ، 15 ۔ لقمان 34 ۔ الاحزاب ، 63 ۔ الملک ، 25 ۔ 26 ۔ النازعات ، 42 یا 44 ۔ سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :7 یہ امکان آخرت کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے ۔ جیسا کہ آگے آیت نمبر7 میں آ رہا ہے ، منکرین آخرت جن وجوہ سے زندگی بعد موت کو بعید از عقل سمجھتے تھے ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ جب سارے انسان مر کر مٹی میں رل مل جائیں گے اور ان کا ذرہ ذرہ منتشر ہو جائے تو کس طرح یہ ممکن ہے کہ یہ بے شمار اجزا پھر سے اکٹھے ہوں اور ان کو جوڑ کر ہم دوبارہ اپنے انہی اجسام کے ساتھ پیدا کر دیے جائیں ۔ اس شبہ کو یہ کہہ کر رفع کیا گیا ہے کہ ہر ذرہ جو کہیں گیا ہے ، خدا کے دفتر میں اس کا اندراج موجود ہے اور خدا کو معلوم ہے کہ کیا چیز کہاں گئی ہے ۔ جب وہ دوبارہ پیدا کرنے کا ارادہ کرے گا تو اسے ایک ایک انسان کے اجزائے جسم کو سمیٹ لانے میں کوئی زحمت پیش نہ آئے گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: جو کافر لوگ آخرت کی زندگی کا انکار کرتے تھے، اُن کا کہنا یہ تھا کہ اِنسان کے مٹی میں مل جانے کے بعد اس کو از سرِ نو زندگی دینا کیسے ممکن ہے؟ ان آیتوں میں جواب یہ دیا جارہا ہے کہ تم اﷲ تعالیٰ کے علم اور قدرت کو اِنسان پر قیاس کر رہے ہو۔ اﷲ تعالیٰ کا علم تو اس کائنات کے ہر چھوٹے سے چھوٹے ذرّے کا بھی اِحاطہ کئے ہوئے ہے، اور جو ذات آسمان و زمین جیسی عظیم الشان مخلوقات کو بالکل عدم سے وجود میں لا سکتی ہے، اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ مردہ جسم کے ذرّات کو دوبارہ اِکٹھا کر کے اُنہیں نئی زندگی عطا کردے؟ اور آیت نمبر:۴ میں آخرت کی زندگی کی عقلی ضرورت بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ اگر یہ دُنیا ہی سب کچھ ہے، اور کوئی دوسری زندگی آنے والی نہیں ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے فرماں برداروں اور نافرمانوں میں کوئی فرق ہی نہیں رکھا، آخرت کی زندگی اس لئے ضروری ہے تاکہ اُس میں فرماں براداروں کو اُن کی نیکی کا انعام دیا جائے، اور نافرمانوں کو سزا ملے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣‘ ٤۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے جگہ جگہ قیامت کے آن پر قسم کھانے کو فرمایا ہے چناچہ سورة یونس میں فرمایا قل ای وربی اور یہاں اس سورة میں فرمایا قل بلیٰ وربی اور سورة تغابن میں فرمایا قل بلیٰ وربی لتبعثن جگہ جگہ اس تاکید سے قیامت کا ذکر فرمانے سے ایک تو بڑی تاکید سے ان منکر لوگوں کا جواب دنیا مضود ہے جو قیامت کے منکر تھے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب قیامت کا ذکر فرماتے تھے تو یہ لوگ لڑا تعجب کرتے تھے اور اللہ کے رسول کو دیوانہ بتلاتے تھے دوسرا مقصود یہ ہے کہ قیامت کے ساتھ اس دن حساب و کتاب عملوں کا تو لنا جنت اور دوزخ میں داخل ہونا جن جن باتوں کا ذکر ہے ان باتوں پر مسلمانوں کا ایمان خوب مضبوط ہوجاوے کیوں کہ جب تک ان باتوں پر ایمان مضبوط نہ ہوگا تو ثواب آخرت کی نیت سے نیک کام نہ کیا جائے گا اور دنیا کے دکھاوے گا کام شریعت میں مقبول نہیں ہے قرآن شریف اور حدیث شریف میں قیامت کا نام یوم آخر جو آیا ہے اس کا سبب علماء نے بھی لکھا ہے کہ پہلا دن تو ہر انسان کے لیے وہ ہے جس دن وہ بالکل نسیت سے ہست ہو کر دنیا میں پیدا ہوا اور دوسرا دن وہ ہوگا کہ دنیا فنا ہو کر پھر دوبارہ انسان نیست سے ہست ہوجاوے گا غرض پہلی دفعہ کی نیستی اور ہستی میں اور دوسری دفعہ کی نیستی اور ہستی میں کچھ فرق نہیں ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آگے افلم یروا الی مابین ایدھم وما خلفھم من السمآء والارض فرمایا آسمان اور زمین اور تمام مخلوقات کو پیدا کرنا یاد دلا کر منکروں کو قائل کیا ہے کہ جس طرح پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے یہ سبب کچھ بالکل نیست سے ہست کیا ہے اسی طرح قیامت کے دن ہوگا اور جس طرح پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ کے علم اور حکمت سے کوئی چیز باہر نہ تھی دوسری دفعہ بھی باہر نہیں ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر (رض) وبن العاص کی حدیث کئی ٣ ؎ جگہ گزر چکی ہے (٣ ؎ بحوالہ مشکوۃ باب الایمان بالقدر فصل اول) کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ سب لوح محفوظ میں اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لکھ لیا ہے ‘ آیت میں ہر ایک چھوٹی بڑی چیز کے کتاب مبیں میں لکھے جانے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس سے یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ کتاب مبین سے مقصود لوح محفوظ ہے جس میں ہر ایک چھوٹی بڑی چیز دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے لکھی جاچکی ہے یہ منکر قیامت جو اس کو جھٹلاتے ہیں تو ان کے چھٹلانے سے نہ اللہ تعالیٰ کا علم غیب بدل سکتا ہے نہ لوح محفوظ کا لکھا ان کے منکر ہونے کے سبب سے مٹ سکتا ہے ‘ جہاں لوح محفوظ میں اور سب کچھ لکھا گیا ہے وہاں یہ بھی ہے کہ دنیا کا اتنا بڑا کار خانہ بےفائدہ اور بےٹھکانہ نہیں پیدا کیا گیا بلکہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد دوسرا جہان قائم ہوگا اور نیک وبد کا فیصلہ کیا جاوے گا یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتلاتے ہیں اور ان کو اتنی بھی خبر نہیں کہ قیامت کی صداقت کی تاکید جس طرح اس آخری شریعت میں ہے اسی طرح ملت ابراہیمی میں ہے اس واسطے ان لوگوں کے پاس کوئی نقلی سند تو ایسی نہیں ہے جس کو اپنے انکار کی تائید میں یہ لوگ پیش کرسکتیں رہی ان کی یہ عقلی حجت کہ مرنے کے بعد جب ان کی خاک رواں دواں ہوجاوے گی تو پھر وہ خاک کیوں کر جمع ہوجاوے گی اس کا جواب بھی ان کو سمجھا دیا گیا ہے کہ ان کی خاک رواں دواں ہو کر جہاں ہیں جاوے گی تو پھر وہ خاک کیوں کر جمع ہوجاوے گی اس کا جواب بھی ان کو سمجھا دیا گیا ہے کہ ان کی خاک رواں دواں ہو کر جہاں کہیں جاوے گی اس کا پتہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اس پتے کے موافق وہ خاک جمع کی جاوے گی اور اس کا پتلا بنایا جاکر اس پتلے میں روح پھونک دی جاوے گی جس سے یہ دوبارہ زندہ ہوجاویں گے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ١ ؎ سے حدیث قدسی ہے (١ ؎ نیز مشکوۃ باب ٣ باب الاستغفار والتوبۃ فصل اول) جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر ایک نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک اور بعض نیکیوں کا بدلہ اس سے بھی زیادہ قیامت کے دن ایماندار لوگوں کو دیا جائے گا ‘ یہ حدیث سیجزی الذین امنو وعملو الصالحات کی گویا تفسیر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ٢ ؎ ہے (٢ ؎ مشکوۃ باب صفۃ الجنۃ واہلہا فصل اول۔ ) جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت میں جو نعمتیں ایماندار جنتی لوگوں کو ملیں گی وہ نہ کسی نے آنکھ سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ‘ یہ حدیث وزق کریم کی گویا تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:3) لا تاتینا۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ اتیان (باب ضرب) مصدر نا ضمیر جمع متکلم وہ ہمارے پاس نہیں آئے گی۔ الساعۃ القیامۃ۔ یعنی ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ بلی۔ ہاں۔ بلی کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے :۔ (1) نفی ما قبل کی تردید کے لئے مثلاً زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا۔ قل بلی وربی لتبعثن (64:7) جو لوگ کافر ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ آپ (ان سے) کہئے ضرور اور قسم ہے میرے پروردگار کی تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ (2) اس استفہام کے جواب میں جو نفی پر واقع ہو :۔ (الف) خواہ یہ استفہام حقیقی ہو مثلاً ۔ الیس زید بقائم (کیا زید کھڑا نہیں ؟ ) اور جواب میں کہا جائے بلی (ہاں یعنی ہاں کھڑا ہے) ۔ (ب) یا استفہام تو بیخی ہو مثلاً ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ۔ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:3 ۔ 4) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ضرور (جمع کریں گے) ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پوروں تک کو درست کردیں۔ (ج) یا استفہام تقریری ہو مثلاً الست بربکم قالوا بلی شھدنا (7:172) کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں (تو ہی ہے) یہاں آیت ہذا میں نفی ما قبل کی تردید کے لئے ہے ” کافر لوگ کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی۔ آپ کہہ دیجئے ضرور (آئے گی) قسم ہے میرے پروردگار کی جو عالم الغیب ہے وہ تم پر ضرور آئے گی ! وربی۔ وائو قسم کے لئے ہے قسم ہے میرے پروردگار کی۔ قسم کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ضمیر واحد متکلم کا مرجع ذات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے اور یہ شدت قسم پر دلالت کرتی ہے۔ لتا تینکم لام تاکید کا ہے تاتین مضارع تاکید بانون ثقیلہ کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ وہ تم پر ضرور آئے گی۔ عالم الغیب المقسم ہے (ربی) کا بدل ہے یا اس سے عطف بیان۔ بعض کے نزدیک یہ رب کی صفت ہے اور بدیں وجہ مجرور ہے عبارت یوں ہوگی ! قل بلی وربی عالم الغیب لتاتینکم۔ لا یعزب۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب عزوب (باب نصر) مصدر بمعنی چھپ جانا مخفی ہونا۔ غائب ہونا۔ ضمیر فاعل مثقال ذرہ کے لئے ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب عالم الغیب کے لئے ہے۔ مثقال ذرۃ۔ مضاف مضاف الیہ مثقال اسم مفرد بمعنی وزن برابر۔ ہم وزن ۔ ایک ذرہ وزن برابر، ذرہ برابر ۔ ذرہ کے ہموزن ۔ ولا اصغر من ذلک ولا اکبر۔ ذلک کا اشارہ مثقال ذرۃ کی طرف ہے اصغر واکبر کا عطف مثقال ذرۃ پر ہے۔ آسمانوں کی اور نہ ہی زمین کی کوئی ذرہ برابر شے یا اس سے چھوٹی یا اس سے بڑی اس (عالم الغیب) سے پوشیدہ نہیں ہے۔ الا حرف استثناء ہے۔ مگر۔ کتب مبین، موصوف وصفت واضح کتاب ، مراد لوح محفوظ۔ الا فی کتب مبین مگر یہ کہ یہ سب چیزیں لوح محفوظ میں (درج) ہیں۔ فائدہ : تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ پورے قرآن میں صرف تین آیات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ قیامت کے وقوع پذیر ہونے پر اپنے رب عظیم کی قسم کھائیں ۔ (1) ویستنبئونک احق ھو قل ای وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین (10:53) اور لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہی ہے ؟ تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم وہ یقینا حق ہی ہے۔ اور تم خدا کو مغلوب نہیں کرسکتے۔ (2) آیت ہذا۔ وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ قل بلی وربی لتاتینکم (34:3) ترجمہ اوپر ملاحظہ ہو لا تاتینا کے محاذ (3) زعم الذین کفروا۔۔ الخ (64:7) اوپر (34:3) بلی کے محاذ ملاحظہ فرمائیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی اخروی نعمتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ حمد و ستائش کے مستحق ہیں مگر کچھ لوگ کہ اخروی نعمت کے منکر ہیں اور قیامت جس کے بعد آخرت میں نعمتیں حاصل ہونگی اس کا انکار کر رہے ہیں۔ ( کبیر) ۔10 یہ آیت ان تینوں آیتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کے آنے پر قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ دوسری آیت سورة یونس میں ہے ” ولستبلوانک احق ھو “ الایۃ۔ اور تیسری آیت سورة تغابن میں ہے۔” رعم الدین کفروا “ (الایۃ)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 3 تا 6 لا یعزب : دور نہیں کرتا۔ دور نہیں ہے مثقال : برابر اصغر : چھوٹا رزق کریم : عزت کا رزق سعوا : انہوں نے کوشش کی معجزین : بےبس اور عاجز کرنے والے رجز : سخت عذاب یھدی : وہ ہدایت دیتا ہے تشریح : آیات نمبر 3 تا 6 کفار مکہ رسمی طور پر قیامت کا انکار نہیں کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کو اپنے قیاس کرکے اس بات کو ممکن سمجھتے تھے کہ جب انسان مرنے کے بعد گل سڑ جائے گا اور اس کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے یا کائنات ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے گی تو دوبارہ انسان اور کائنات کیسے پیدا ہوسکے گی ؟ وہ اپنی بےعقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسان کے دوبارہ پیدا ہونے ، اس کے ذرات جمع ہونے اور دنیا کے دوبارہ بن جانے کے بارے میں کس طرح طرح کے شہبات کا شکار تھے اور کہتے تھے کہ یہ سب باتیں ناممکن ہیں قیامت کوئی چیز نہیں ہے سب کہنے کی باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میرے اس رب کی قسم جو عالم الغیب ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن وہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ اللہ ہر غیب کا جاننے والا ہے وہ ایک ایک ذرے کی حالت سے اچھی طرح واقف ہے ، درخت سے ایک پتہ بھی گرتا ہے تو اس کا علم اللہ کو ہوجاتا ہے ۔ اس کو نظروں سے کوئی بات، کیفیت اور حالت پوشیدہ نہیں ہے۔ ہر چیز ” کتاب مبین “ یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ۔ جب عدل و انصاف کا وہ دن آئے گا جس کو قیامت کہتے ہیں تو کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوگی۔ جن لوگوں نے کفر و شرک ، ظلم و زیادتی اور لوگوں سے مکر و فریب کیا ہوگا نا کو سخت سزادی جائے گی اور جنہوں نے ایمان اور صالح اور نیکی کے ساتھ زندگی گذاری ہوگی اور اللہ و رسول کے تمام احکامات کی پابندی کی ہوگی ان کو ان کی محنت سے زیادہ بہتر اور اچھا بدلہ دیا جائے گا۔ انہیں مغفرت، سکون قلب اور عزت کے رزق سے نوازا جائیگا۔ فرمایا کہ جو لوگ علم رکھنے والے ہیں وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت محمد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ کیطرف سے جو کلام نازل کیا گیا ہے وہ برحق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے جو زبر دست اور تمام تعریفوں کا حق دار ہے ہدایت دینے والا ہے ۔ اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے وہ انسانی ذرات کو جب چاہے گا جمع کرکے پھر اس کو جیتا جاگتا انسان بنادے گا اور ایک ایسی نئی دنیا تعمیر فرمادے گا جس میں ہر انسان کے ہر عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی لوح محفوظ میں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح صرف ” اللہ “ ہی جانتا ہے کہ جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور جو اس میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اوپر چڑھتا ہے۔ قیامت کب قائم ہوگی صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے لوگوں کو ایک وقت تک مہلت دے رکھی جس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے منکرین قیامت اپنی ہٹ دھرمی کی بناء پر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے تو پھر اسے کس طرح اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ آپ انہیں اپنے رب کی قسم اٹھا کر بتلائیں کہ مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ قیامت ہر صورت برپا ہو کر رہے گی۔ یہ اعلان اس رب کی طرف سے ہے جس سے زمین و آسمانوں میں ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے وہ ہر چھوٹی، بڑی چیز کو جانتا ہے اور اس نے ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے۔ کفار کا خیال تھا اور ہے کہ آج تک کروڑوں، اربوں انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوچکے ہیں ان میں آگ میں جل کر مرنے والے بھی ہیں اور پانی میں ڈوب کر جان دینے والے بھی۔ جنہیں مچھلیوں نے کھالیا ان سب کو کیسے زندہ کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سوال کے اور بھی جواب دئیے ہیں۔ یہاں قیامت کے قیام کی ایک عقلی دلیل دی ہے کہ قیامت برپا کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ اللہ تعالیٰ صاحب کردار ایمانداروں کو بہترین جزا دے اور ان کی خطائیں معاف کرے اور ان کو بہترین نعمتوں سے نوازے۔ ان کے مقابلے میں جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو حقیر جانا اور ان کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا انہیں اذّیت ناک عذاب دے گا۔ منکرین قیامت ہمیشہ سے یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو دوبارہ کس طرح اسے زندہ کیا جائے گا۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر اس بات کی تردید اور قیامت برپا ہونے کے درجنوں ثبوت دینے کے ساتھ ساتھ انبیاء کے ذریعے اس کے عملی تجربے پیش کیے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں چار پرندوں کو ذبح کروانے کے بعد انہیں زندہ کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے ایک مقتول کا زندہ ہو کر اپنے قاتلوں کا نام بتلانا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو زندہ کیا جانا۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کا گدھا سو سال کے بعد زندہ کیے گئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو زندہ کیا۔ اتنے ٹھوس دلائل اور واضح حقائق پیش کرنے کے باوجود جو لوگ قیام قیامت کو نہیں مانتے انہیں درد ناک عذاب دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے : (وَ عِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّ رَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُھَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ )[ الانعام : ٥٩] ” اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی تر اور خشک دانہ نہیں مگر وہ ایک واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ “ (یٰبُنَیَّ اِنَّھَآ اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِے الْاَرْضِ یَاْتِ بِھَا اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ) [ لقمان : ١٦] ” بیٹا کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو۔ کسی چٹان یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ اسے لے آئے گا۔ کیونکہ وہ نہایت باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ کی قسم ! قیامت ہر صورت برپا ہوگی۔ ٢۔ زمین و آسمانوں میں کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں۔ ٣۔ قیامت اس لیے برپا کی جائے گی تاکہ ایمان داروں کو جزا ملے اور انکار کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ تفسیر بالقرآن مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت : ١۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن : ٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام : ٦٠) ٣۔ ” اللہ “ تمام مردوں کو اٹھائے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : ٣٦) ٤۔ قیامت کے دن ” اللہ “ سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انہیں خبر دے گا۔ (المجادلۃ : ٦ تا ١٨) ٥۔ موت کے بعد تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (ھود : ٧) ٦۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : ١٢) ٧۔ آپ فرما دیں تمہارے پہلے اور پچھلوں کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعۃ : ٤٧ تا ٥٠) ٨۔ پھر ہم تمہیں تمہاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : ٥٦) ٩۔ جس دن تم سب کو جمع ہونے والے دن میں اللہ تعالیٰ جمع کرے گا۔ (التغابن : ٩) ١٠۔ جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا۔ (المائدۃ : ١٠٩) ١١۔ یہ فیصلہ کا دن ہے ہم نے تم کو اور تم سے پہلوں کو بھی جمع کرلیا ہے۔ (المرسلات : ٣٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (3 – 5) کافروں کی جانب سے آخرت کا انکار اس وجہ سے تھا کہ وہ تخلیق انسانیت میں پنہاں حکمت الہیہ اور تقدیر الٰہی کا ادراک نہ کرسکے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو شتر بےمہار کی طرح نہ چھوڑ دیا جائے کہ جو اچھائی کرے اس کی بھی مرضی ہے اور جو برائی کرے اس کی بھی مرضی ہے۔ نہ محسن کو جزاء ملے اور نہ بدکار کو سزا ملے۔ اللہ نے اپنے رسولوں کی زبانی لوگوں کو متنبہ کردیا تھا کہ جزاء کا ایک حصہ آخرت کے لیے باقی رہتا ہے اور سزا کا ایک حصہ بھی آخرت کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کو حکمت تخلیق کا ادراک ہوجائے وہ جان لیتے ہیں کہ اللہ کی اسکیم کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ آخرت برپا ہو ، تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور اللہ کی اطلاع سچی ہو۔ کفار کی نظروں سے بس یہی حکمت اوجھل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے۔ لا تاتینا الساعۃ (34: 3) ” قیامت ہم پر نہیں آئے گی “۔ اور اللہ ان کی اس بات کی پرزور تردید فرماتے ہیں۔ قل بلی وربی لتاتینکم (34: 3) ” کہہ دیجئے ، ہاں میرے رب کی قسم قیامت تم پر ضرور آئے گی “۔ اللہ بھی سچا ہے اور اس کے رسول بھی سچے ہیں۔ وہ غیب تو نہیں جانتے لیکن وہ اللہ پر اعتماد کرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں۔ جس چیز کا خود انہیں علم نہیں ہوتا اس کے معاملے میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ جو تاکیداً کہتا ہے کہ قیامت آئے گی وہ عالم الغیب ہے اس لیے اس کی بات سچ ہے کیونکہ وہ علم پر مبنی ہے۔ اب علم الٰہی کو ایک کائناتی حقیقت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے جس طرح سورة کے آغاز ہی میں اس کی ایک جامع مثال دی گئی تھی۔ اس شہادت سے معلوم ہوا تھا کہ یہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے کیونکہ اس قسم کی جامع تمثیلات انسانی فکر کا نتیجہ نہیں ہوسکتیں۔ اسی بات کو اب یہاں دوسرے الفاظ میں پڑھئے۔ لا یعزب عنہ مثقال۔۔۔۔ فی کتب مبین (34: 3) ” اس سے زرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ۔ نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی ! سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے “۔ میں اس بات کو یہاں دوبارہ دہراتا ہوں کہ یہ تصور ایک انسانی تصور نہیں ہے اور نہ انسان اس طرح کی جامع سوچ سوچتا ہے۔ آج تک انسانی کلام کے جو نمونے ہیں نظم کے ہیں یا نثر کے ، ان میں ایسی جامع بات نہیں ملتی۔ جب بھی انسان علم کی جامعیت اور اس کے احاطے کے بارے میں کوئی سوچ پیش کرتا ہے وہ اس قدر کائناتی رنگ میں نہیں ہوتی۔ لا یعزب عنہ ۔۔۔۔۔ من ذلک ولا اکبر (34: 3) ” اس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ، نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی “۔ کم از کم انسانی نمونہ ہائے کلام میں علم کی شمولیت ، گہرائی اور جامعیت کے لیے ایسا انداز نہیں ملتا جو قرآن نے اختیار کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس طرح اپنے علم کی جامعیت کو بیان کرسکتا ہے اپنے علم کی گہرائی کو بیان کرسکتا ہے۔ یہ باتیں انسانی تخیل کے احاطے میں ہی نہیں آسکتیں۔ اسی طرح مسلمانوں کا تصور الٰہ اس طرح بلند ہوجاتا ہے جس کی مثال ان کے خیال میں نہیں آتی۔ وہ اپنے تصور اور خیال کو سمجھتے ہوئے اور اسے فوق التصور اور فوق الحیال سمجھتے ہوئے اس کی بندگی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کتاب مبین کیا ہے ؟ کتاب مبین اللہ کا علم ہی ہے جس نے ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ جس سے کائنات کے اندر تیرنے والا ذرہ بھی چھوٹ کر رہ نہیں گیا ، نہ ڈرنے سے کم اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز۔ ذرا اس تعبیر پر کھڑے ہوکر غور کیجئے ” نہ ذرے سے کم “ نزول قرآن کے زمانے تک معروف اور مشہور بات یہ تھی کہ ذرہ صغیر ترین جسم ہے۔ اس سے کم کا تصور موجود ہی نہ تھا۔ آج ذرے کے توڑنے سے انسان کو معلوم ہوا کہ ذرے سے زیادہ چھوٹی چیز بھی موجود ہے۔ اس وقت انسان کے تصور اور حساب میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اللہ بہت ہی برکت والا ہے کہ اسکے بندے اسکی صفت کے وہ اسرار و رموز بھی جانتے ہیں۔ دوسرے لوگ صدیوں بعد مانتے ہیں اور یہ اللہ ہئ ہے جو کسی بھی وقت ان اسرار و رموز سے پردہ اٹھا دیتا ہے ، جب چاہتا ہے۔ یہ قیامت کیوں برپا ہوگی ؟ جس کا حتمی اور جزی علم اللہ کو ہے جو صغیر و کبیر کا جاننے والا ہے ؟ لیجزی الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (34: 4 – 5) ” اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ اللہ جزاء دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ ان کیلئے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے ان کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے “۔ یہ ہے اللہ کی حکمت ، اس کا ارادہ اور اس کی تدبیر۔ اللہ نے اس بات کو مقدر بنا دیا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد نیک کام کیے ان کو پوری جزاء دے اور ان لوگوں کو بھی سزا دے جنہوں نے اللہ کی آیات کی نیچا دکھانے کیلئے مقدر بھر کوشش کی۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کا ایمان اعمال صالحہ کے روپ میں نمودار ہوا۔ ان کے لیے مغفرت ہے ، ان معاملات کے لئے جو ان سے غلط ہوگئے اور تقصیرات ہوگئیں اور پھر مغفرت کے بعد ان کے لئے رزق کریم ہے۔ اس سورة میں رزق کا ذکر بہت آتا ہے ، مراد جنتیں ہیں کیونکہ اللہ کی نعمتیں رزق کریم ہیں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات کو نیچا دکھانے کی مساعی کیں اور تحریک اسلامی کے خلاف پوری قوت لگا دی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ رجز نہایت ہی برے عذاب کو کہا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے تحریک اسلامی کی خلاف سرگرمیاں دکھائیں ، تحریک کو ناکام کرنے کی سعی کی اور بری راہ پر جدوجہد کرتے رہے۔ یوں اللہ کی حکمت اور اس کا منصوبہ مکمل ہوتا ہے اور ان لوگوں نے جو نظریہ اپنا رکھا ہے کہ آخرت برپا نہ ہوگی اسکی وجہ ان کی لاعلمی ہے۔ حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ ضرور آئے گی ان لوگوں نے یقین کرلیا تھا کہ قیامت نہ آئے گی جبکہ وہ اللہ کے مخصوص غیوب میں سے ایک غیب ہے اور اللہ نے فیصلہ دے دیا کہ وہ ضرور آئے گی۔ اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دے دیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پیغام کو نشر کردیں اور یہ کہ ان کا یہ عقیدہ جہالت پر مبنی ہے۔ اہل علم بھی اس نتیجے تک پہنچے ہیں جس تک اہل ایمان پہنچے ہیں۔ یہی راستہ ہے اللہ عزیز وحمید کا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ وقال الذین کفرو الخ : یہ شکوہ ہے کفار نہ صرف توحید کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ قیامت کے بھی منکر ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی۔ قل بلی الخ : یہ جواب شکوہ ہے اور توحید کی دوسری عقلی دلیل ہے۔ فرمایا جواب دو ۔ کیوں نہیں آئیگی ؟ ضرور آئے گی مجھے اپنے مالک و مربی کی قسم جو عالم الغیب ہے اور زمین و آسمان میں ایک ذرہ بلکہ اس سے بھی کوئی چھوٹی چیز بھی اس سے اوجھل نہیں۔ ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے علم میں ہے کتاب مبین سے یا تو لوح محفوظ یعنی علم الٰہی مراد ہے یا صحائف ملائکہ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہی راجح ہے یعنی تمام اعمال صغیرہ و کبیرہ کو فرشتے اپنے صحائف میں لکھ رہے ہیں تاکہ ان کے مطابق جزاء و سزا دی جائے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) اور دین حق کے منکر یوں کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئی گی آپ ان سے کہہ دیجئے کیوں نہیں آئے گی۔ قسم ہے میرے پروردگار کی وہ قیامت تم پر ضرور آئے گی۔ وہ میرا پروردگار عالم الغیب ہے یعنی وہ عالم بالعلم المحیط ہے ذرہ برابر بھی کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ وہ زمین میں ہو اور نہ ذرے کی مقدار سے کوئی چیز چھوٹی ہے اور نہ اس سے بڑی ہے لیکن وہ سب کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی موجود ہے۔ قیامت کے متعلق منکر جو شکوک و شبہات کیا کرتے تھے ان شبہات کا تفصیلی جواب قرآن کریم میں مختلف جگہ آتا رہتا ہے۔ یہاں لا تاتینا الساعۃ کا جواب دیا گیا ہے اور چونکہ منکر پوری قوت اور یقین کے ساتھ انکار کرتے تھے۔ اس لئے جواب بھی موکد بالقسم دیا گیا اور چونکہ اس کے وقوع کا وقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اس لئے اس کے علم محیط کو تفصیل فرمائی کہ ذرہ بھر بھی کوئی چیز اس پر آسمانوں کی اور زمین کی پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ سب اس کے علم میں حاضر ہیں اور ذرے پر کیا منحصر ہے بلکہ ذرے سے خواہ کوئی چھوٹی چیز ہو یا بڑی چیز وہ سب لوح محفوظ میں مرقوم ہے۔ آگے قیامت کے وقوع کی وجہ بیان فرمائی شاید ذرے کی بحث اس وجہ سے آئی ہو کہ کفار کہا کرتے تھے جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے اور ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی پھر ان کو کس طرح جمع کیا جائے گا۔