Commentary عَالِمِ الْغَيْبِ (the knower of the unseen). This is an attribute of the Rabb (Lord) in whose name an oath has been taken in verse 3. At this place, out of the many attributes of Allah Ta’ ala, the attribute of all-encompassing knowledge and the knowledge of the unseen has, perhaps, been mentioned particularly because the text is dealing with the matter of the deniers of the day of Resurrection. The major reason why the disbelievers rejected the inevitability of Qiyamah, the day of doom, was their inability to comprehend how the whole thing would work out. When all human beings die, and become dust, and the particles of this dust get scattered all over the world, they wondered, how would it be possible to collect all these particles, separate the particles belonging to each human being from the particles of all others, and then go on to put the relevant particles back into the frame of everyone&s existence? And they took it as impossible because they had very conveniently taken the knowledge and power of Allah Ta’ ala on the analogy of their own knowledge and power! Allah Ta’ ala has told them that His knowledge encompasses the entire universe in a manner that He knows everything in the heavens and the earth to the extent that He also knows where and in what state it is. Not a single particle of what has been created remains outside His knowledge - and this comprehensive and all-encompassing knowledge is hallmark of Allah Ta’ ala. No created entity, whether an angel or prophet, can ever have such an all-encompassing knowledge that no particle of this universe remains outside it. Then, for a Being that has such an all-encompassing knowledge, why would it be difficult to reclaim the scattered particles of a human being from all over the universe, each separate from the other, and reconstitute their bodies from these once again?
خلاصہ تفسیر اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہ آئے گی، آپ فرما دیجئے کہ کیوں نہیں (آویگی) قسم اپنے پروردگار عالم الغیب کی کہ وہ ضرور تم پر آوے گی (اس کا علم ایسا وسیع اور محیط ہے کہ) اس (کے علم) سے کوئی ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ آسمانوں میں نہ زمین میں (بلکہ سب اس کے علم میں حاضر ہیں) اور نہ کوئی چیز اس (مقدار مذکور) سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی چیز (اس سے) بڑی ہے مگر یہ سب (بوجہ احاطہ علم الٰہی کے) کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (مرقوم) ہے (قیامت کے متعلق کفار کے کئی شہبات تھے، ایک یہ کہ اگر آنے والی ہے تو اس کا وقت بتلایئے، کما قال تعالیٰ (آیت) ایان مرسہا، دوسرا یہ کہ جن اجزاء کو جمع کر کے ان میں حیات پیدا کرنا بتلایا جاتا ہے، اس کا کہیں نشان بھی نہ رہے گا پھر جمع کیسے ہوں گے ؟ اس مضمون اثبات علم غیب سے شبہ اول کا جواب ہوگیا، کہ اس کا علم بوجہ حکمت کے مختص ہے باری تعالیٰ کے ساتھ، اگر نبی کو اس کا معین وقت معلوم نہ ہو تو لازم نہیں آتا کہ اس کا وقوع ہی نہ ہو، کما قال تعالیٰ (آیت) قل انما علمہا عند اللہ اور مضمون اثبات علم محیط سے دوسرے شبہ کا جواب ہوگیا ہے کہ ان تمام اجزاء کے زمین میں منتشر اور ہوا میں پھیل جانے کے باوجود وہ ہمارے علم سے خارج نہ ہوں گے، ہم جب چاہیں گے جمع کرلیں گے کما قال تعالیٰ (آیت) افلم یروا الخ، اب قیامت کی غایت بتلاتے ہیں کہ وہ قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ ان لوگوں کو صلہ (نیک) دے جو ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک کام کیا تھا (سو) ایسے لوگوں کے لئے مغفرت اور (بہشت میں) عزت کی روزی ہے، اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے متعلق (ان کے ابطال کی) کوشش کی تھی (نبی کو) ہرانے کے لئے (گو اس کوشش میں ناکام ہی رہے) ایسے لوگوں کے واسطے سختی کا دردناک عذاب ہوگا اور (آیات قرآنیہ کی تکذیب پر یہ سزا ہونی ہی چاہئے، کیونکہ اول تو قرآن فی نفسہ امر حق منزل من اللہ ہے اور ایسے امر حق کی تکذیب خود حق تعالیٰ کی تکذیب ہے، اس پر جتنی سزا ہو بجا ہے۔ دوسرے قرآن راہ راست کی تعلیم و ہدایت کرتا ہے، جو شخص اس کو نہ مانے گا وہ راہ راست سے قصداً دور رہے گا، نہ اس کو عقائد حقہ کا پتہ لگے گا نہ اعمال صالحہ کا اور یہی طریقہ تھا نجات کا۔ پس طریقہ نجات سے قصداً دور رہنے پر سزا کا ہونا بےجا نہیں ہے، اور قرآن کا حق اور ہادی ہونا ایسا واضح ہے کہ علاوہ اس کے اور دلائل سے ثابت ہے۔ ایک سہل طریق اس کے ثبوت کا یہ ہے کہ) جن لوگوں کو (آسمانی کتابوں کا) علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو کہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس بھیجا گیا ہے ایسا سمجھتے ہیں کہ وہ حق ہے اور وہ خدائے غالب محمود (کی رضا) کا راستہ بتلاتا ہے (اس استدلال کی تقریر شروع رکوع اخیر سورة شعراء میں گزر چکی ہے۔ اور شاید منجملہ جمیع امور واجبة الایمان کے، بیان حقیقت قرآن کا اہتمام اس لئے فرمایا ہو کہ یہ ان امور واجبۃ الایمان پر مشتمل ہے بالخصوص خبر قیامت پر جس میں اس مقام میں کلام ہے۔ پس اس بنا پر حاصل یہ ہوا کہ قیامت کے روز اسی قیامت کی تکذیب پر بھی سزا ہوگی) اور (آگے پھر قیامت کا اثبات ہے یعنی) یہ کافر (آپس میں) کہتے کہ کیا ہم تم کو ایک ایسا آدمی بتائیں جو تم کو یہ (عجیب) خبر دیتا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو (اس کے بعد قیامت کو) تم ضرور ایک نئے جنم میں آؤ گے معلوم نہیں اس شخص نے خدا پر (قصداً ) جھوٹ بہتان باندھا ہے یا اس کو کسی طرح کا جنون ہے (کہ بلاقصد جھوٹ بول رہا ہے، کیونکہ یہ امر تو محال ہے تو اس کے وقوع کی خبر ضرور غلط ہے، خواہ قصد سے ہو یا فساد تخیل سے ہو۔ حق تعالیٰ ان دونوں شقوں کو رد فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی تو مفتری اور مجنون کچھ بھی نہیں) بلکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے (وہی) عذاب اور دور دراز گمراہی میں (مبتلا) ہیں، (اس گمراہی کا حالی اثر یہ ہے کہ سچے بھی مفتری اور مجنون نظر آتے ہیں، اور مالی اثر یہ ہے کہ عذاب بھگتنا پڑے گا۔ اور یہ جاہل جو اس جمع واحیاء اجزاء متفرقہ جمادیہ کو محال بعید از قدرت سمجھ رہے ہیں) تو کیا انہوں نے (دلائل عظمت قدرت آلہیہ میں سے) آسمان اور زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے آگے (بھی) اور ان کے پیچھے (بھی) موجود ہیں (کہ جدھر دیکھیں وہ نظر آ رہے ہیں۔ پس ان اجرام عظیمہ کا ابتداً پیدا کرنیوالا کیا اجسام صغیرہ کے ثانیاً پیدا کرنے پر قادر نہیں، کما قال تعالیٰ لخلق السموٰت والارض اکبر من خلق الناس الخ۔ اور باوجود وضوح دلائل حق کے پھر بھی اکار وعناد کرنے کی وجہ سے یہ ہیں تو اس قابل کہ ان کو ابھی سزا دی جائے اور سزا بھی ایسی کہ یہ دلائل قدرت آسمان و زمین جو ان کے لئے نعمت عظیمہ بھی ہیں انہی کو ان کے آلہ تعذیب بنادیا جائے کہ جس نعمت کا کفران ہو اسی نعمت کو نقمت یعنی عذاب بنانے سے سخت حسرت ہوتی ہے۔ اور ہم اس سزا پر بھی قادر ہیں چنانچہ) اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا (اگر چاہیں تو) ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں (لیکن حکمت مقتضی ہے تاخیر کو، اس لئے مہلت دے رکھی ہے، غرض ان لوگوں کو دفع تو ہم استحالہ کے لئے آسمان و زمین پر نظر کرنا چاہئے کیونکہ) اس (دلیل مذکور) میں (قدرت آلہیہ) کی پوری دلیل ہے (مگر) اس بندہ کے لئے جو (خدا کی طرف) متوجہ (بھی) ہو (اور حق کی طلب ہو یعنی دلیل تو کافی ہے مگر ان کی طرف سے طلب نہیں اس لئے محروم ہیں) ۔ معارف ومسائل عالم الغیب، یہ صفت رب کی ہے جس کی اوپر قسم کھائی گئی ہے، اور اللہ جل شانہ، کی تمام صفات میں سے اس جگہ صفت علم غیب وعلم محیط کو شاید اس لئے خاص کیا گیا کہ کلام منکرین قیامت کے معاملہ میں ہے، اور قیامت کے انکار کا بڑا سبب کفار کے لئے یہ تھا کہ جب سب انسان مر کر مٹی ہوجائیں گے اور اس مٹی کے ذرات بھی دنیا میں منتشر ہوجائیں گے تو سارے جہان میں پھیلے ہوئے ذرات کو جمع کرنا پھر ہر ایک انسان کے ذرات کو دوسرے انسانوں کے ذرات سے الگ کر کے ہر ایک کے ذرات اسی کے وجود میں پیوست کرنا کیسے ممکن ہے ؟ اور اس کو ناممکن سمجھنا اسی بنا پر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کو اپنے علم وقدرت پر قیاس کر رکھا تھا۔ حق تعالیٰ نے بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کا علم سارے عالم پر ایسا محیط ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے اس کو سب معلوم ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے، کوئی ذرہ مخلوقات کا اس کے علم سے باہر نہیں، اور یہ علم محیط حق تعالیٰ کی خصوصیت ہے کسی مخلوق کو خواہ فرشتہ ہو یا پیغمبر ایسا علم محیط کہ کوئی ذرہ جہاں کا اس سے خارج نہ ہو حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور جس ذات کو ایسا علم محیط حاصل ہو اس کے لئے ایک انسان کے ذرات کو الگ الگ سارے جہان میں سے جمع کرلینا اور اس سے ان کے اجسام کو دوبارہ مرکب کردینا کیا مشکل ہے۔