Surat Saba

Surah: 34

Verse: 31

سورة سبأ

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ بِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ ؕ وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ مَوۡقُوۡفُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ ۖ یَرۡجِعُ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضِۣ الۡقَوۡلَ ۚ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اَنۡتُمۡ لَکُنَّا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳۱﴾

And those who disbelieve say, "We will never believe in this Qur'an nor in that before it." But if you could see when the wrongdoers are made to stand before their Lord, refuting each other's words... Those who were oppressed will say to those who were arrogant, "If not for you, we would have been believers."

اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز نہ تو اس قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو! اے دیکھنے والے کاش کہ تو ان ظالموں کو اس وقت دیکھتا جبکہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہونگے کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم مو من ہوتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How the Disbelievers have agreed in this World to deny the Truth, and how They will dispute with One Another on the Day of Resurrection Allah tells us about the excessive wrongdoing and stubbornness of the disbelievers, and their insistence on not believing in the Holy Qur'an and what it tells them about the Resurrection. Allah says: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن نُّوْمِنَ بِهَذَا الْقُرْانِ وَلاَ بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ... And those who disbelieve say: "We believe not in this Qur'an nor in that which was before it." ... وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ ... But if you could see when the wrongdoers are made to stand before their Lord, Allah threatens them and warns them of the humiliating position they will be in before Him, arguing and disputing with one another: ... يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا ... how they will cast the (blaming) word one to another! Those who were deemed weak (this refers to the followers) -- ... لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا ... to those who were arrogant -- (this refers to the leaders and masters) -- ... لَوْلاَ أَنتُمْ لَكُنَّا مُوْمِنِينَ Had it not been for you, we should certainly have been believers! meaning, `if you had not stopped us, we would have followed the Messengers and believed in what they brought.'

کافروں کی سرکشی ۔ کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں بھی دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے ۔ بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے ۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے چھوٹے بڑوں کو ، بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے ۔ ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا ۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے ، ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے دوسری جانب سے دلیلیوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی ، تم خود شہوت پرست تھے ، تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے ، رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گذرتی تھی ۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو؟ اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں ، جعل سازیاں ، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں ، ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے ، پرانے دین کے نہ بدلنے ، باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا ، ہماری کمر تھپکنا ۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا ۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکو سلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے ۔ دونوں الزام بھی دیں گے ۔ برات بھی کریں گے ۔ لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے ۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا ۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا ۔ گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی ۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہو گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک شعلے کی لپیٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آ پڑے گا ۔ ( ابن ابی حاتم ) حسن بن یحییٰ خشنی فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے ، ہر غار ، ہر زنجیر ، ہر قید پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب حضرت سلیمان دارانی کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہو گا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہو جائیں ۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں ، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں ، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے ۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا ۔ اللھم سلم اللھم سلم

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 جیسے تورات، زبور اور انجیل وغیرہ۔ 31۔ 2 یعنی دنیا میں یہ کفر و شرک ایک دوسرے کے ساتھی اور اس ناطے سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے، لیکن آخرت میں یہ ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کو مورد الزام بنائیں گے۔ 31۔ 3 یعنی دنیا میں یہ لوگ، جو سوچے سمجھے بغیر، روش عام پر چلنے والے ہوتے ہیں اپنے ان لیڈروں سے کہیں گے جن کے وہ دنیا میں پیروکار بنے رہے تھے۔ 31۔ 4 یعنی تم ہی نے ہمیں پیغمبروں کے پیچھے چلنے سے روکا تھا، اگر تم اس طرح نہ کرتے تو ہم یقینا ایمان والے ہوتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤٦] یعنی مشرکین مکہ صرف قرآن کے ہی منکر نہ تھے۔ بلکہ پہلی آسمانی کتابوں مثلاً تورات، انجیل وغیرہ کے بھی منکر تھے اور ان کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ ان سب کتابوں کے مرکزی اور بنیادی مضامین ملتے جلتے تھے۔ سب کتابوں میں توحید کا دعوت دی گئی تھی اور مشرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح عقیدہ آخرت کے بارے میں بھی سب الہامی کتابیں ایک دوسری کی تائید و توثیق کرتی تھیں۔ اور یہی دو باتیں تھیں جن پر محاذ آرائی شروع ہوچکی تھی۔ اور مشرکین مکہ انھیں کسی قیمت پر بھی ماننے کو تیار نہ تھے۔ لہذاسب الہامی کتابوں کا انکار کردیتے تھے۔ [ ٤٧] قرآن کریم میں ان دو فریقوں کا مکامہ بہت سے مقامات پر مذکور ہے۔ ایک فریق مطبع ہے یعنی کمزور قسم کے لوگ جو اپنے بڑوں کی اطاعت کرتے رہے۔ اور دوسرا فریق مطاع ہے یعنی بڑے لوگ جن کی اطاعت کی جاتی رہی۔ پھر ان بڑے لوگوں میں حکمران بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ سیاسی لیڈر، چودھری بھی، مولوی بھی، پروفیسر بھی یعنی ہر وہ شخص جو دینی یا دنیوی لحاظ سے عام لوگوں پر فوقیت رکھتا ہو۔ اور اس کی بات تسلیم کی جاتی رہی ہو اور یہ مکالمہ جہنم میں داخلہ سے پیشتر ہوگا۔ تاہم اس وقت تک سب لوگوں کو اپنا انجام معلوم ہوچکا ہوگا۔ [ ٤٨] کمزور لوگ یا اطاعت کرنے والے اپنے بڑے بزرگوں سے کہیں گے کہ ہماری گمراہی کا باعث تو تم ہی لوگ تھے۔ اگر تم لوگ ہمیں انبیاء کے خلاف استعمال نہ کرتے تو ہم یقیناً ان پر ایمان لے آتے اور اس برے انجام سے ہمیں دو چار نہ ہونا پڑتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ ۔۔ : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار مکہ سے توحید، رسالت اور آخرت پر بات کرتے ہوئے کبھی اپنی وحی کی تائید کے طور پر تورات و انجیل کا ذکر فرماتے کہ قرآن کی طرح ان میں بھی توحید اور آخرت کا ذکر ہے، تو کفار مکہ کبر و عناد میں آکر کہتے کہ نہ ہم اس قرآن کو مانیں گے، نہ اس سے پہلی کسی کتاب کو۔ قرآن مجید نے ان کی اس بات کے جواب یا اس کی تردید کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی، کیونکہ انھوں نے بات ہی ایسی کی جس کا نتیجہ پہلے تمام پیغمبروں کا انکار تھا، جو واضح طور پر غلط تھا اور انھوں نے یہ بات محض ضد میں آکر کہی تھی، ورنہ وہ پہلے پیغمبروں اور ان کی کتابوں کو جانتے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ انھوں نے کبھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے موسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزے لانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ سورة قصص میں ہے : ( لَوْلَآ اُوْتِيَ مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي ) [ القصص : ٤٨ ]” اسے اس جیسی چیزیں کیوں نہ دی گئیں جو موسیٰ کو دی گئیں ؟ “ کبھی تورات کی طرح لکھی ہوئی کتاب لانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں ہے : (وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ) [ بني إسرائیل : ٩٣ ] ” اور ہم تیرے چڑھنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ تو ہم پر کوئی کتاب اتار لائے جسے ہم پڑھیں۔ “ اگر پہلے کسی نبی یا اس کی شریعت یا کتاب کو مانتے ہی نہ تھے تو ان مطالبوں کا کیا مطلب ؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی تردید کے بجائے قیامت کے دن ان کے ہونے والے برے حال کا ذکر فرمایا، جس قیامت کا وہ شدت سے انکار کرتے اور مذاق اڑاتے تھے۔ وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۔۔ : ” رَجَعَ یَرْجِعُ “ (ض) لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی، لوٹنا اور لوٹانا۔ یہاں لوٹانا مراد ہے۔ ” الظّٰلِمُوْنَ “ ظالم سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے، الف لام کی وجہ سے ” یہ ظالم “ ترجمہ کیا گیا ہے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام دوسروں پر دھر رہا ہوگا، جیسا کہ عموماً ناکامی کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ مکالمہ جہنم میں داخلے سے پہلے ہوگا، تاہم جہنم میں داخلے کے بعد بھی ان کا یہ جھگڑا جاری رہے گا۔ دیکھیے سورة اعراف (٣٨، ٣٩) ، ابراہیم (٢١) ، قصص (٦٣) ، احزاب (٦٦ تا ٦٨) ، مومن (٤٧، ٤٨) ، ص (٥٥ تا ٦١) بقرہ (١٦٥ تا ١٦٧) اور حمٰ السجدہ (٢٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْہِ۝ ٠ ۭ وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝ ٠ ۚۖ يَرْجِــعُ بَعْضُہُمْ اِلٰى بَعْضِۨ الْقَوْلَ۝ ٠ ۚ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِيْنَ۝ ٣١ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں وقف يقال : وَقَفْتُ القومَ أَقِفُهُمْ وَقْفاً ، ووَاقَفُوهُمْ وُقُوفاً. قال تعالی: وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُلُونَ [ الصافات/ 24] ومنه استعیر : وَقَفْتُ الدّارَ : إذا سبّلتها، والوَقْفُ : سوارٌ من عاج، وحمارٌ مُوَقَّفٌ بأرساغه مثلُ الوَقْفِ من البیاض، کقولهم : فرس مُحجَّل : إذا کان به مثلُ الحَجَل، ومَوْقِفُ الإنسانِ حيث يَقِفُ ، والمُوَاقَفَةُ : أن يَقِفَ كلُّ واحد أمره علی ما يَقِفُهُ عليه صاحبه، والوَقِيفَةُ : الوحشيّة التي يلجئها الصائد إلى أن تَقِفَ حتی تصاد . ( و ق ف ) وقعت القوم ( ض) وقفا ر ( متعدی ) لوگوں کو ٹھہر انا اور دقفو ا وقو قا لازم ٹھہر نا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُلُونَ [ الصافات/ 24] اور ان کو ٹھہرائے رکھو کہ ان سے کچھ پوچھنا ہے اور سی سے بطور استعارہ وقفت الدار آتا ہے جس کے معنی مکان کو وقف کردینے ہیں ۔ نیز الوقف کے معنی ہاتھی دانت کا کنگن بھی آتے ہیں اور حمار موقف اس گدھے کو کہتے ہیں جس کی کلائوں پر کنگن جیسے سفید نشان ہوں جیسا کہ فرس محجل اس گھوڑے کا کہا جاتا ہے جس کے پاؤں میں حجل کی طرح سفیدی ہو ۔ مرقف الانسان انسان کے ٹھہرنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور الموافقتہ کا مفہوم یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے معاملہ کو اسی چیز پر روک دے جس پر کہ دوسرے نے روکا ہے ۔ ( ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑا ہونا ) الوقیفتہ بھگا یا ہوا شکار جو شکاری کے تعاقب سے عاجز ہوکر ٹھہر جائے ۔ یہاں تک کہ وہ اسے شکار کرلے ۔ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے بعض بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] ( ب ع ض ) بعض الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ اسْتَضْعَفْ واسْتَضْعَفْتُهُ : وجدتُهُ ضَعِيفاً ، قال وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ [ النساء/ 75] ، قالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 97] ، إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي[ الأعراف/ 150] ، وقوبل بالاستکبار في قوله : قالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا[ سبأ/ 33] استضعفتہ ۔ میں نے اسے کمزور سمجھا حقیر جانا ۔ قران میں ہے : ۔ وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا[ القصص/ 5] اور ہم چاہتے تھے کہ جنہیں ملک میں کمزور سمجھا گیا ہے ان پر احسان کریں : وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ [ النساء/ 75] اور ان بےبس مردوں عورتوں اور بچوں قالوا فِيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 97] تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز اور ناتوان تھے ۔ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي[ الأعراف/ 150] کہ لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ قالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا[ سبأ/ 33] اور کمزور لوگ برے لوگوں سے کہیں گے ۔ میں استضاف استکبار کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] . ( ک ب ر ) کبیر اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کہر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔ الاستکبار ( استتعال ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو ۔ جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا ) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مدموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور کفار مکہ یعنی ابو جہل وغیرہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن حکیم پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ان سے پہلی کتابوں یعنی توریت، انیل، زبور تمام آسمانی کتب پر ایمان لائیں گے اور اگر محمد آپ اس وقت کی حالت دیکھیں جبکہ قیامت کے دن یہ مشرکین اپنے پروردگار کے سامنے حاضر کیے جائیں گے کہ ایک دوسرے پر الزام لگائے ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن و طعن کرتے ہوں گے۔ چناچہ ادنی درجہ کے لوگ سرداروں سے جنہوں نے ایمان لانے سے تکبر کیا تھا کہتے ہوں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لے آتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ } ” اور کہا ان کافروں نے کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ہی اس (قرآن) پر جو اس سے پہلے تھا۔ “ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں لفظ قرآن کا اطلاق تورات پر بھی ہوا ہے۔ اس نکتہ کو سمجھنے کے لیے سورة القصص کی آیت ٤٨ کی تشریح بھی مدنظر رہنی چاہیے ‘ جس میں کفار کا وہ قول نقل ہوا ہے جس میں انہوں نے قرآن اور تورات کو سِحْرٰنِ تَظَاہَرَا قرار دیا تھا۔ ان کے اس الزام کا مطلب یہ تھا کہ تورات اور قرآن دراصل دو جادو ہیں جنہوں نے باہم گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ تورات میں قرآن اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں پیشین گوئیاں ہیں جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قرآن تورات کی تصدیق کررہا ہے۔ اس طرح ان دونوں نے ایکا کرکے ہمارے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا ہے۔ گویا انہوں نے اپنے اس بیان کے ذریعے قرآن اور تورات کے ایک ہونے کی تصدیق کی تھی۔ آیت زیر مطالعہ میں یہی بات ایک دوسرے انداز میں بیان کی گئی ہے۔ قرآن حکیم کے اس مطالعے کے دوران یہ اصول کئی بار دہرا یا جا چکا ہے کہ قرآن نے تورات کے جن احکام کی نفی نہیں کی وہ احکام حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی شریعت میں قائم رکھے ہیں۔ مثلاً قتل ِمرتد ُ اور رجم تورات کے احکام تھے جن کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برقرار رکھا۔ اور اسی اصول کے تحت قرآن میں کوئی صریح حکم نہ ہونے کے باوجود بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا ہے اور خلفائے راشدین (رض) سے بھی رجم کرنا ثابت ہے۔ چناچہ سوائے خوارج کے اہل ِسنت اور اہل تشیع ّکے تمام مکاتب فکر اس پر متفق ہیں کہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا ہے۔ البتہ قرآن پہلی الہامی کتابوں پر مُھَیْمِنْ (نگران) ہے ‘ یعنی اس کی حیثیت کسوٹی کی ہے۔ پہلی کتابوں کے اندر جو تحریفات ہوگئی تھیں ان کی تصحیح اس قرآن کے ذریعے ہوئی ہے۔ یہاں پر میں ایک حدیث کا حوالہ دیناچاہتا ہوں۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک کتاب (تورات کا نسخہ) لے کر آئے جو انہیں اہل کتاب میں سے کسی نے دی تھی اور اسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھ کر سنانا شروع کردیا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہوئے اور فرمایا : (أَمُتَھَوِّکُونَ فِیْھَا یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہٖ بَیْضَائَ نَقِیَّۃً لَا تَسْأَلُـوْھُمْ عَنْ شَیْئٍ فَیُخْبِرُوْکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوْا بِہٖ اَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوْا بِہٖ ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَـوْ اَنَّ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا مَا وَسِعَہُ اِلاَّ اَنْ یَّـتَّبِعَنِی) (١) ” اے خطاب کے بیٹے ! کیا تم لوگ اس (تورات) کے بارے میں متحیر ہو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے پاس یہ (قرآن) روشن اور پاکیزہ اور ہر آمیزش سے پاک لے کر آیا ہوں۔ ان (اہل کتاب) سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھو ‘ مبادا وہ تمہیں حق بتائیں اور تم اس کو جھٹلا دو ‘ یا باطل خبر دیں اور تم اس کی تصدیق کر دو ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر موسیٰ (d) زندہ ہوتے تو ان کے پاس بھی میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کا مدعا بہت واضح ہے کہ قرآن کے احکام آخری اور حتمی ہیں ‘ تورات کے کسی حکم سے قرآن کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا قرآن کے کسی حکم کے سامنے تورات کے کسی حکم کا حوالہ دینے کا کوئی جواز نہیں۔ { وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ } ” اور کاش آپ دیکھیں جب یہ ظالم کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے۔ “ { یَرْجِعُ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضِ نِ الْقَوْلَ } ” وہ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹائیں گے۔ “ یعنی آپس میں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ { یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ } ” جو لوگ کمزور تھے وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ اگر تم لوگ نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔ “ تاویل ِخاص کے لحاظ سے یہاں قریش کے بڑے بڑے سرداروں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے عوام کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے برگشتہ کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزماتے تھے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے عوام انہیں کوس رہے ہوں گے کہ اگر تم لوگ ہماری راہ میں حائل نہ ہوتے تو ہم ایمان لا چکے ہوتے اور آج ہمیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

50 The allusion is to the pagans of Arabia, who did not believe in any Divine Book. 51 That is, "The common people who are following their leaders, chiefs, saints and rulers blindly, and are not prepared to listen to any word of advice from a well-wisher against them. When the same people will sec the actual reality and will also remember how their religious leaders used to misrepresent things, and when they will realize what doom they are going to meet on account of following their leaders, they will turn on them, and say, "O wretched people, you led us astray: you are responsible for all our afflictions. Had you not misguided us, we would have listened to the Messengers of AIlah and believed in what they said."

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :50 مراد ہیں کفار عرب جو کسی آسمانی کتاب کو نہیں مانتے تھے ۔ سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :51 یعنی عوام الناس ، جو آج دنیا میں اپنے لیڈروں ، سرداروں ، پیروں اور حاکموں کے پیچھے آنکھیں بند کیے چلے جا رہے ہیں ، اور ان کے خلاف کسی ناصح کی بات پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ، یہی عوام جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ حقیقت کیا تھی اور ان کے یہ پیشوا انہیں کیا باور کرا رہے تھے ، اور جب انہیں یہ پتہ چل جائے گا کہ ان رہنماؤں کی پیروی انہیں کس انجام سے دوچار کرنے والی ہے ، تو یہ اپنے ان بزرگوں پر پلٹ پڑیں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ کم بختو ، تم نے ہمیں گمراہ کیا ، تم ہماری ساری مصیبتوں کے ذمہ دار ہو ، تم ہمیں نہ بہکاتے تو ہم خدا کے رسولوں کی بات مان لیتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:31) لن نؤمن مضارع نفی۔ تاکید بلن منصوب بوجہ عمل لن۔ ہم ہرگز نہ مانیں گے۔ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ بین یدیہ۔ بین بمعنی بیچ ۔ درمیان۔ اسم ظرف مکان۔ یدی مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ بین مضاف کے۔ اس کے دونوں ہاتھوں کے درمیان ۔ یا۔ سامنے۔ مراد آگے۔ سامنے۔ پہلے۔ ولا بالذی بین یدیہ اور نہ (ہم ایمان لائیں گے) ان کتابوں پر جو اس قرآن سے قبل (نازل کی گئی ) ہیں۔ بین کا استعمال یا تو وہاں ہوتا ہے جہاں مسافت پائی جائے مثلاً بین البلدین (دو شہروں کے درمیان یا جہاں دو یا دو سے زیادہ کا عدد موجود ہو۔ مثلاً بین الرجلین (دو شخصوں کے درمیان ) یا بین القوم (قوم کے درمیان) ۔ اور جس جگہ وحدت کے معنی ہوں وہاں بین کی اضافت ہو تو تکرار ضروری ہے مثلاً ومن وبینک حجاب (41:5) اور درمیان ہمارے اور درمیان تیرے پردہ ہے۔ فاجعل بیننا وبینک موعدا (20:58) پس ٹھہرالے ہمارے اور اپنے بیچ میں وعدہ۔ جب بین کی اضافت ایدی کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں بین یدیہ یہاں مراد قبل القرآن نازل کتب بھی ہوسکتی ہیں یا آنے والی قیامت اور وہاں کے بہشت و دوزخ ہیں۔ لو تری۔ میں لو حرف تمنا ہے تری مضارع کا صیغہ واحد مذکر اے کاش تو دیکھے اس کے بعد حال محذوف ہے ای ولو تری حالہم۔ موقوفون۔ اسم مفعول جمع مذکر وقوف مصدر (باب ضرب) کھڑے کئے جائیں گے۔ یرجع بعضہم الی بعض ن القول۔ القول۔ یرجع کا مفعول ہے۔ جملہ موضع حال میں ہے۔ رجع یہاں فعل متعدی استعمال ہوا ہے یرجع القول الی کسی بات کو اس کے مبدا حقیقی یا تقدیری کی طرف لوٹا دینا۔ رد کردینا۔ واپس کرنا۔ یرجع بعضہم الی بعض ن القول درآنحالیکہ ہر ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہوگا ۔ ہر ایک دوسرے پر بات ڈال رہا ہوگا۔ یعنی ہر ایک ودسرے پر الزام تھوپ رہا ہوگا۔ استضعفوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب استضعاف (استفعال) مصدر۔ وہ جو کمزور سمجھے جاتے تھے۔ استکبروا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر وہ (جنہوں نے ) تکبر کیا۔ یا جو تکبر کیا کرتے تھے۔ گھمنڈ کیا کرتے تھے۔ لولا۔ لو شرطیہ ہے لا نافیہ ہے۔ لو لا انتم۔ اگر تم نہ ہوتے۔ لکنا مؤمنین۔ میں لام تاکید جواب شرط کے لئے آیا ہے۔ کنا کون سے ماجی صیغہ جمع متکلم ۔ مؤمنین ” کنا “ کی خبر ہے۔ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار ہوتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی ان میں سے ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام دوسروں پر دھر رہا ہوگا جیسا کہ عموماً ناکامی کی صورت میں ہوتا ہے۔ ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 31 تا 36 ۔ اسرار و معاف : قیامت اور جزا و سزا کی بات سن کر کفار مذاق اڑاتے اور انکار کرتے ہیں کہ ہم سا قرآن پہ یقین ہی نہیں رکھتے اور نہ اس طرح کی پہلی کتابوں پر جو ایسی بات کرتی ہیں لیکن ان کا انکار قیامت قائم ہونے کو روک تو نہ سکے گا اور اے مخاطب تو دیکھے گا جب یہ سب بدکار اللہ کے حضور پیشی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے تو گھبرا کر ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگیں گے۔ عام طبقے کے لوگ خواص سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان قبول کرچکے ہوتے ہماری گمراہی کا باعث تم لوگ ہو تو وہ لوگ جواب دینگے بھلا ہم نے تم کو زبردستی تھوڑی روک رکھا تھا یا مسلمان ہونے پہ کوئی اور پابندی لگا رکھی تھی جب تمہیں دعوت ایمان پہنچ رہی تھی اسے ہم نے نہ روکا تو تمہیں ماننے سے کب روکا تھا یہ سب تمہارا اپنا کیا دھرا ہے تب عوام جواب دیں گے کہ تم لوگ تھے جو معاشرے کی تدبیر کرتے تھے تعلیم و تعلم کا شعبہ تم بناتے تھے معاش اور روزگار تمہارے ہاتھوں میں تھے قانون اور عدالتوں پر تم مسلط تھے غرض معاشرے پر تمہارا تسلط تھا تم نے معاشرے کو ایسے ڈھب میں ڈالا کہ ہم ایمان سے دور ہوتے چلے گئے اور تمہاری شب و روز کی تدابیر نے ہمیں کفر کا راستہ دکھایا اور غیر اللہ سے امیدیں دلوائیں جس کے نتیجے میں ہم حق سے دور ہوگئے لیکن اندر ہی اندر سب جانتے ہوں گے طبقہ امراء بھی اپنے کیے پہ پچھتا رہے ہوں گے کہ واقعی ہم نے بڑی خطا کی اور عوام کو بھی احساس ہوگا کہ ہم نے بھی کچھ نہ سوچا کاش اس وقت حق کا انتخاب کیا ہوتا مگر اپنی ندامت ایک دوسرے سے چھپا رہے ہوں گے لیکن کب تک ابھی تو عذاب صرف سامنے تھا تو یہ حال تھا جب ان کے گلے میں طوق اور زنجیریں پہنا دی جائیں گی اور جہنم میں پھینکے جائیں گے تب صحیح سمجھ سکیں گے اور چالئیں گے مگر بےسود کہ حاصل تو وہی ہوگا جو اپنے عمل سے کما کر لائے تھے اب نہ پچھتانے سے بات بن سکے گی اور نہ فریاد کرنے سے ۔ اور ہمیشہ سے یہ حال رہا ہے کہ جب کسی قوم میں اللہ کا نبی مبعوث ہوا اور یہ ان کی خوش نصیبی کہ انہیں بروقت کفر کے انجام بد کی خبر کردی مگر اقتدار کے نشے میں اندھے لوگوں نے سب سے پہلے اس کو ماننے سے انکار کردیا اور دلیل یہ دی کہ دیکھو ہمارے پاس مال و دولت بھی ہے اولاد کی نعمت بھی بھلا اگر ہم سے اللہ ناراض ہوتا تو یہ سب مہربانی کیوں کرتا لہذا ہم پر وہ خوش ہے ہمیں کبھی عذاب نہ دے گا انہیں بتا دیجیے کہ دولت دنیا اس کی رضا مندی کی دلیل نہیں بلکہ محض ایک آزمائش ہے کسی کو زیادہ رزق اور اختیار و اقتدار دے کر آزماتا ہے تو دوسرے پر تنگی بھیج کر اسے پرکھ لیتا ہے ۔ رضا مندی کی دلیل صرف اطاعت کی توفیق ہے مگر یہ بات اکثر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ رہی اور وہ نہیں جانتے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 33 موقوفون : کھڑے کیے گئے یرجع : وہ لوٹتا ہے استضعفوا : کمزور کردئے گئے لکنا : البتہ ہم ہوتے صددنا : ہم نے روک دیا تامرون : تم حکم دیتے ہو۔ تم سکھاتے ہو اسروا : انہوں نے چھپایا اغلال : طوق۔ زنجریں اعناق (عنق) : گردنیں تشریح : آیت نمبر 31 تا 33 جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار عرب کے سامنے قرآن کریم کی آیات پیش کرکے بتایا کہ قرآن کریم اور اس سے پہلے نازل کی ہوئیں کتابیں توریت ، زبور اور انجیل وغیرہ یہ سب اللہ تعالیٰ نے انسانی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل فرمائی ہیں تو کفار بڑی ڈھٹائی اور بےشرمی سے کہتے تھے کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانتے ہیں اور نہ اس سے پہلی کتابوں کو مانتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ اس دنیا میں حقیقت کا انکار کر کے ایک بہت بڑے جرم کے مرتکب ہورہے ہیں ان کو انکار حق کے بھیانک انجام کا اندازہ نہیں ہے ۔ وہ دن کس قدر حسرت ناک ہوگا جب اللہ تعالیٰ سارے انسانون کو جمع کر کے ان سے ان کی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لے گا اس وقت چھوٹے بڑوں کو اور بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے اور ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا عام لوگ جو اپنے رہبروں اور رہنمائی کی ہر بات کو آنکھیں بند کر کے مانتے تھے ان سے چیخ چیخ کرر کہیں گے کہ تم نے ہمیں راستے سے بھٹکایا تھا۔ ہماری ان مصیبتوں کے ذمہ دار تم ہو ۔ اگر تم ہمیں غلط راستے پر نہ ڈالتے تو ہم رسولوں کی بات مانتے اور آج کے دن ہم نجات پا لیتے ۔ جو ان کے بڑے لوگ ہوں گے وہ ان کو جواب دیں گے کہ اپنے آپ کو شرمندگی سے بچانے کے لئے ہمیں الزام نہ دو کیونکہ تمہیں تمہاری خواہشوں اور بری تمناؤں نے گمراہ کیا ہے ۔ تم نے اگر ہماری بات کو مانا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ تمہاری یہی خواہش تھیں۔ وہ ہم نے تمہیں فراہم کردیں اس طرح تم نے خود ہی اپنے گلے میں اس پھندے کو ڈالا ہے ورنہ ہمارے پاس ایسی کون سی طاقت تھی کہ ہم زبردستی تمہاری گردنوں میں گمراہی کے پندے ڈال دیتے۔ اس طرح یہ لوگ ایک دوسرے کو الزم دے کر اپن شرمندگی کو مٹا رہے ہوں گے لیکن اپنے دیل میں اپنے کئے ہوئے غلط فیصلوں پر پچھتا رہے ہوں گے اور اپنے آپ کو قصور وار سمجھ رہے ہوں گے مگر شرم و ذلت کی وجہ سے ایک دوسرے پر ظاہر نہ ہونے دیں گے ۔ اس کے بعد اللہ کا فیصلہ آجائے گا اور ان سب کے ہاتھوں کو گردنوں سے ملا کر طوق اور زنجیروں سے جکڑ دیا جائے گا اور فرمایا جائے گا کہ اب ہر ایک کو اس کے اپنے کئے ہوئے اعمال کے مطابق بدلہ دیاجائے گا ۔ گمراہ کرنے والے ہوں یا گمراہ ہونے والے دونوں کو پورا پورا عذاب دیا جائے گا اور اس طرح سارے لوگ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی توابع۔ 6۔ یعنی متبوعین سے۔ 7۔ یعنی ہم تو تمہارے سبب سے برباد ہوئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قیامت کی ہٹ دھرمی کی انتہا اور اس کا جواب۔ توحید و رسالت اور قیامت کے دلائل سُننے اور ان کے سامنے جھکنے کی بجائے منکرین قیامت ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کہا کرتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن کو ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اس سے پہلی کتابوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے جو شخص کسی دلیل کو ماننے اور کھلی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو اسے سمجھانا اور منوانا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی کیفیت منکرین قیامت کی تھی اس لیے ان کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اب تو یہ لوگ پوری ڈھٹائی کے ساتھ انکار کیے جاتے ہیں۔ کاش ! آپ اس وقت ان کا حال دیکھیں جب ظالم اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت یہ لوگ اپنے کفر کو ایک دوسرے کے ذمے لگائیں گے۔ ماتحت لوگ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ اگر تم رکاوٹ نہ بنتے تو ہم ضرور ایمان لانے والوں میں شامل ہوتے۔ گویا کہ مرید اپنے پیروں، ور کر اپنے لیڈروں اور ماتحت اپنے حاکموں کو مورودِالزام ٹھہراتے ہوئے اپنے آپ کو بری الذّمہ قرار دینے کی کوشش کریں گے۔ اس کے جواب میں پیر، لیڈر اور حاکم اپنے ماتحتوں سے کہیں گے کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی ؟ ایسا ہرگز نہیں تم تو خود ہی مجرم تھے یعنی تم پہلے سے ہی دین کے باغی اور قیامت کے منکر بنے ہوئے تھے۔ مسائل ١۔ ہٹ دھرم لوگ کسی دلیل کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ٢۔ حق کا انکار کرنیوالے لوگ ایک دوسرے کو مجرم ٹھہرائیں گے۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کا آپس میں تکرار کرنا : ١۔ جہنم میں مرید، پیروں، ور کر، لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابع تھے کیا تم اللہ کے عذاب کا کچھ حصہ دور کرسکتے ہو ؟ (ابراہیم : ٢١) ٢۔ جب جہنمی اپنے سے پہلے لوگوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ (الاعراف : ٣٨) ٣۔ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کا انکار کریں گے اور ایک دوسرے پر پھٹکار کریں گے۔ (العنکبوت : ٢٥) ٤۔ وہ آہ زاریاں کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کردیا۔ (الاحزاب : ٦٧) ٥۔ اے رب ان کو دوہرا عذاب دو اور ان پر سخت لعنت کرو۔ (الاحزاب : ٦٨) ٦۔ قیامت کے دن پیروکار کہیں گے اگر دنیا میں جانا ہمارے لیے ممکن ہو تو ہم تم سے براءت کا اظھار کریں گے۔ (البقرۃ : ١٦٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔ بین یدیہ ” “۔ یہ ہے وہ عناد جس میں مخالفین اسلام اول روز سے مبتلا تھے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہدایت کو مان کر نہ دیں گے اگرچہ اس کا منبع کتب سابقہ میں ہو۔ نہ قرآن کو مانیں گے اور نہ پہلی کسی کتاب کو۔ نہ اس کو نہ سابقہ کتب کو ۔ یہی فیصلہ مخالفین اسلام کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ پختہ فیصلہ انہوں نے کرلیا ہے کہ وہ کفر پر اصرار کریں گے اور دلائل ہدایت پر غور ہی نہ کریں گے۔ جب انہوں نے یہ فیصلہ کر ہی دیا ہے تو ان کا علاج یہی ہے کہ ان کے سامنے بس مناظر قیامت میں سے ایک منظر پیش کردیا جائے۔ ولو تری اذ ۔۔۔۔۔ الا ما کانوا یعملون (21 – 23) یہ تو تھی ان کی دنیاوی بات ” ہم ہرگز قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے “۔ لیکن ان ظالموں کی ھالت قیامت کے دن دیکھنے کے قابل ہوگی جب یہ لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور بطور ملزم اللہ کی عدالت میں سزا کا انتظار کر رہے ہوں گے اور ان کو اس وقت یقین ہوگا کہ انہوں نے تو ہدایت کا انکار کیا تھا لہٰذا نتیجہ سامنے ہے۔ اب اور تو کچھ بس نہ چلے گا ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کریں گے اور اس انجام کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالیں گے۔ یہ اس وقت کیا کہیں گے ؟ یقول الذین ۔۔۔۔۔ انتم لکنا مومنین (34: 31) ” جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اس وقت وہ جس خوفناک صورت حالات سے دوچار ہیں یہ اس کی ذمہ داری اکابرین پر رکھیں گے۔ کیونکہ ان کو نظر آرہا ہے کہ مصیبت سر پر ہے۔ آج تو وہ ان کے منہ پر یہ حق بات کہہ رہے ہیں لیکن دنیا میں ان کو یہ حق بات کہنے کی توفیق نہ تھی۔ ان کو وقت ، کمزوری ، غلامی ، حق بات کہنے نہ دیتی تھی۔ انہوں نے اللہ کی بخشی ہوئی آزادی کو فروخت کردیا تھا۔ وہ عزت جو اللہ نے ہر انسان کو دی تھی اس سے وہ دستبردار ہوگئے تھے۔ وہ قوت مدرکہ جو ہر انسان کو دی گئی ، انہوں نے معطل کردی تھی۔ آج تو سب جھوٹی اور کھوٹی قدریں ختم ہیں۔ سامنے دردناک عذاب ہے۔ اب وہ یہ حق بات کہتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لو لا انتم لکنا مومنین (34: 31) ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اور یہ اکابرین بھی نہایت ہی تنگی اور ترشی سے جواب دیتے ہیں۔ خطرہ تو اب دونوں کے لیے برابر ہے۔ یہ اپنی ذمہ داری خواہ مخواہ ان پر ڈالتے ہیں۔ وہ بھی خوب جواب دیتے ہیں۔ قال الذین ۔۔۔۔۔۔ کنتم مجرمین (34: 32) ” اور ان بڑے بننے والوں نے جواب دیا ، کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی ؟ نہیں بلکہ تم خود مجرم تھے “۔ یوں وہ کسی ذمہ داری کے قبول کرنے کا صاف انکار کردیتے ہیں۔ اور یہ اقرار کرلیتے ہیں کہ ہدایت آئی تھی۔ یہ مستکبرین دنیا میں تو ضعفاء کو کوئی اہمیت ہی نہ دیتے تھے۔ نہ ان سے رائے طلب کرتے تھے ، بلکہ ان کا وجود ہی تسلیم نہ کرتے تھے اور یہ بات برداشت ہی نہ کرتے تھے کہ یہ ضعفاء ان کی مخالفت کریں یا مباحثہ کریں لیکن آج جبکہ عذاب کا سامنا ہے تو وہ صاف صاف انکار کرتے ہیں کہ۔ انحن صددنکم ۔۔۔۔۔ اذجآء کم (34: 32) ” کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ، جب تمہارے پاس ہدایت آئی تھی “۔ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ تم نے مجرمانہ انداز اختیار کرلیا تھا۔ اگر دنیا ہوتی تو ان کمزور لوگوں کے ہونٹ سلے ہوئے ہوتے لیکن آخرت میں دنیا کے تمام جھوٹے پردے اٹھ جائیں گے۔ جھوٹی قدریں مٹ جائیں گی۔ آنکھیں کھل جائیں گی اور چھپے حقائق پردے سے باہر آجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ کمزور لوگ بھی کھل کر بات کریں گے۔ بلکہ اب وہاں مستکبرین کے منہ میں منہ ڈال کر بات کریں گے اور کہیں گے کہ تم ہی اس سب صورت حالات کے ذمہ ہو۔ تم رات اور دن مکاری کرتے تھے اور ہمیں ہدایت سے روکتے تھے۔ تم نے باطل کو تھام رکھا تھا ، ہم پر مسلط کردیا تھا اور دعوت اسلامی کو ہم پر مشتبہ بنا دیا تھا۔ تم اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ہمیں گمراہ کرتے تھے۔ وقال الذین استضعفوا ۔۔۔ ونجعل لہ اندادا (34: 33) وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ” نہیں ، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں “۔ اب ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مکالمہ اور مجادلہ نہ ان کے لیے مفید ہے اور ان کے لیے۔ نہ بڑے کی نجات ممکن ہے اور نہ چھوٹوں کی۔ ہر گروہ مجرم ہے ، البتہ بڑوں پر اپنی گواہی کی بھی ذمہ داری ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی بھی ذمہ داری ہے۔ چھوٹوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ انہوں نے کیوں ان بڑے لوگوں کی اطاعت کی۔ یہ بات وہاں معانی کی وجہ نہیں بن سکتی کہ یہ ضعیف تھے۔ اللہ نے ان کو عقل اور آزادی دی تھی۔ انہوں نے عقل سے کام نہ لیا اور اپنی آزادی رائے کو فروخت کردیا۔ وہ طفیلی پن رہنے پر راضی ہوئے اور ذلت کی زندگی قبول کی۔ اس لیے وہ عذاب کے مستحق بن گئے۔ اس گفتگو کے دوران ہی ان پر سخت ندامت طاری ہوگئی اور یہ اسے چھپانے لگے۔ جب انہوں نے عذاب دیکھ لیا۔ واسروا الندامۃ لما راوا العذاب (34: 33) ” جب یہ عذاب دیکھیں گے تو پچھتائیں گے “۔ اور اپنی ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔ یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ دل کی بات دل ہی میں رہ جاتی ہے۔ زبانیں بند ہوجاتی ہیں ، ہونٹ سل جاتے ہیں اور سخت عذاب انہیں آلیتا ہے۔ وجعلنا الاغلل ۔۔۔۔۔ الذین کفروا (34: 33) ” ہم ان منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے “ اب یہ لوگ طوقوں میں بندھے ہوئے ہیں لیکن بات کا رخ ان سے پھرجاتا ہے اور عام بدکاروں سے کہا جاتا ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ ھل یجزون الا ما کانوا یعملون (34: 33) ” کیا لوگوں کو اس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جاسکتا ہے کہ جیسے اعمال ان کے تھے ، ویسی ہی جزا وہ پائیں۔ اب بڑے بننے والے اور چھوٹے بننے والے دونوں قسم کے ظالموں کے اس منظر پر پردہ گرتا ہے۔ دونوں ظالم ہیں۔ یہ اس لیے ظالم ہیں کہ سرکش تھے اور باغی تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے تھے۔ وہ اس لیے ظالم تھے کہ انہوں نے انسانی شرافت اور آزادی کے مقام کو ترک کردیا اور اپنے جیسے انسانوں کے غلام بن گئے۔ ان کے سامنے ذلت اختیار کی۔ اب دونوں کے لیے دائمی عذاب ہے۔ پردہ گرتا ہے اور ظالم اپنا منظر اچھی طرح دیکھ چکے ، زندہ مشکل ہیں۔ انہوں نے اپنی ہر حالت دیکھ لی اور وہ اس زمین پر زندہ ہیں۔ دوسروں نے بھی اس منظر کو دیکھ لیا۔ سب کے سامنے ابھی مہلت کی گھڑیاں ہیں۔ کبراء قریش جو باتیں کرتے ہیں ایسی ہی باتیں اقوام رفتہ کے مستکبرین بھی کرتے چلے آئے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

عذاب کی وجہ سے کافروں کی بدحالی اور ایک دوسرے پر جرم کو ٹالنے کی گفتگو ان آیات میں قیامت کے دن کا ایک منظر بیان فرمایا ہے جو کافروں کے آپس کے سوال و جواب سے متعلق ہے وہاں سبھی چھوٹے بڑے موجود ہوں گے، کفر کی سزا سامنے ہوگی، دوزخ کا داخلہ یقینی ہوچکا ہوگا، ان میں سے جو لوگ دنیا میں چھوٹے یعنی کم درجہ کے لوگ تھے وہ اپنے بڑوں سے (جن کی دنیا میں بات مانتے تھے) کہیں گے کہ تم نے ہی ہمیں برباد کیا اگر تم نہ ہوتے تو ہم اللہ کے نبیوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لے آتے اور آج کے دن پر بھی ایمان لاتے، ان کے بڑے کہیں گے کہ اپنا قصور ہمارے سر کیوں منڈھ رہے ہو، اپنی کرنی ہمارے ذمہ کیوں لگاتے ہو ؟ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا، جب تمہارے پاس ہدایت آگئی تو ہم نے کوئی زبردستی نہیں کی تھی اور کسی جبر واکراہ سے کام لے کر تمہیں ایمان سے نہیں روکا تھا، ایسا تو نہیں ہوا کہ تم نے ایمان قبول کرنے کا ارادہ کیا ہو اور ہم نے تمہیں جبر واکراہ کے ساتھ روک دیا ہو، اپنی آئی ہم پر کیوں لگاتے ہو ؟ بات یہ ہے کہ تم خود ہی مجرم ہو۔ یہ جواب سن کر چھوٹے بڑوں سے کہیں گے کہ تم نے تلوار لے کر جبر واکراہ کے ساتھ تو ہمیں ایمان سے نہیں روکا لیکن رات دن تم مکاری کرتے تھے اور ایسی تدبیریں کرتے تھے کہ ہم ایمان نہ لائیں اور کفر پر جمے رہیں تاکہ تمہاری جماعت سے نہ نکلیں تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اللہ کے لیے شریک تجویز کریں۔ تمہاری یہ محنتیں اور تدبیریں اپنا کام کرگئیں اور ہم کفر پر جمے رہے اور موت آنے تک کفر ہی پر رہے، تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے آج ہم اس مصیبت میں پھنسے ہیں دونوں فریق چھوٹے اور بڑے جب عذاب دیکھیں گے تو نادم و پشیمان ہوں گے لیکن ندامت کا اظہار نہ کریں گے اپنے دلوں ہی میں پشیمان ہوتے رہیں گے۔ (لیکن پشیمانی کچھ فائدہ نہ دے گی۔ ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے اور اسی حالت میں دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے اور ہر ایک کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا ایسا نہ ہوگا کہ بغیر کسی جرم کے سزا مل جائے یا جرم سے زیادہ سزا دے دی جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

33:۔ وقال الذین کفروا الخ : شکوہ مع تخویف اخروی۔ یہ کفار دنیا میں تو بڑے طمطراق سے کہتے ہیں کہ ہم نہ قرآن کو مانیں گے نہ ان کتابوں کو مانیں گے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔ یعنی تورات و انجیل وغیرہ جن میں مسئلہ توحید بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ اصل وجہ ٔ نزاع یہی ہے۔ ای مانزل قبل القران من کتب اللہ (مدارک) ۔ لیکن انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ ان کے اس عناد و انکار کا انجام کس قدر ہولناک ہونے والا ہے۔ ولو تری۔ تا۔ ما کانوا یعملون۔ تخویف اخروی ہے۔ اور اس میں کفار و مشرکین کے انجام بد اور میدان حشر میں اپنے راہنماؤں سے ان کی گفتگو کا ذکر ہے۔ قیامت کے دن جب یہ ظالم مشرکین اپنے مولائے حقیقی کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ان کے اور ان کے مشرک پیشوؤ کے درمیان حسب ذیل گفتگو ہوگی۔ اور دونوں ایک دوسرے کو ملامت کرینگے۔ یقول الذین استضعفوا الخ : اتباع و مریدین اپنے بڑوں اور پیشواؤں سے جنہوں نے ان کو اپنے پیچھے لگا کر گمراہ کیا، کہیں گے اگر تم ہمیں راہ راست پر چلنے اور حق و صداقت کو قبول کرنے سے نہ روکتے تو یقیناً ہم توحید و رسالت پر ایمان لے آتے اور راہ ہدایت پر گامزن ہوجاتے مگر تم نے ہمیں ہدایت قبول کرنے سے روکا اور گمراہ کردیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(31) اور دین حق کے منکروں نے یوں کہا کہ ہم ہرگز اس قرآن کریم پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر ایمان لائیں گے اور کاش اے مخاطب تو ان منکروں کی حالت اس وقت دیکھتا جبکہ یہ ظالم اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے پر بات کو پلٹ رہے ہوں گے تو تجھ کو بڑا عجیب معلوم ہو جو لوگ کمزور اور تابع تھے وہ بڑائی کرنے والوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم یقینا ایماندار ہوتے۔ یعنی کفار قریش یوں کہتے ہیں نہ ہم قرآن کریم پر ایمان لائیں گے اور نہ دوسری کتب سماویہ پر ایمان لائیں گے کیونکہ دیگر کتب سماویہ میں بھی اس آخری کتاب یعنی قرآن کریم کا ذکر ہے اس لئے ہم کسی بھی آسمانی کتاب پر ایمان لائیں گے۔ آگے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے یا عام مخاطب کو خطاب فرمایا ہے۔ مفسروں کے دونوں قول ہیں اس لئے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں قول اختیار کر لئے ہیں جب یہ ظالم اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے آپس میں سوال و جواب اور تو تو میں میں کر رہے ہوں گے ایک دوسرے پر بات کو لوٹاتے ہوں گے۔ چناچہ دنیا میں وہ لوگ جو کمزور اور دبے ہوئے تھے وہ سرکشوں اور سرداروں اور چودھریوں سے کہہ رہے ہوں گے اگر تم نہ ہوتے اور تمہارا دبائو نہ ہوتا تو ہم اسلام قبول کرلیتے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے ہوتے آگے متکبرین کا جواب ہے۔