Commentary According to most commentators, the attending condition described in verse 51: وَأُخِذُوا مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ (and they will be seized from a place near at hand) refers to the Day of Resurrection (al-hashr) from the terror of which disbelievers and sinners will not be able to escape even if they try to do so. In our normal experience in this world, when a culprit runs away, he has to be searched for. Something like that will not happen in the present case. In fact, all of them will be seized from where they are located. No one will have the chance to escape. Others have taken this time to be that of the agony of death, that is, when the time of death comes, they will be terrified and, unable to extricate themselves from the hands of the angels, they will be seized where they are with their soul taken out.
خلاصہ تفسیر اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ وہ وقت ملاحظہ کریں (تو آپ کو حیرت ہو) جب یہ کفار (قیامت کے ہول وہیبت سے) گھبرائے پھریں گے پھر نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور پاس کے پاس ہی سے (یعنی فوراً ) پکڑ لئے جاویں گے اور (اس وقت) کہیں گے کہ ہم اس حق پر ایمان لے آئے (اور جتنے امور اس میں بتلائے گئے ہیں سب کو مان لیا اس لئے ہماری توبہ قبول کرلیجئے، خواہ دوبارہ دنیا میں بھیج کر یا بغیر بھیجے ہوئے اور اتنی دور جگہ سے (ایمان کا) ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے (یعنی ایمان لانے کی جگہ بوجہ دارالعمل ہونے کے دنیا تھی جو بڑی دور ہوگئی، اب آخرت کا عالم ہے جو دارالعمل نہیں دارالجزاء ہے، اس میں ایمان مقبول نہیں کیونکہ اب جو ایمان ہوگا وہ ایمان بالغیب نہیں بلکہ مشاہدہ کے بعد ہے، مشاہدہ کے بعد کسی چیز کا اقرار کرنا تو طبعی امر ہے، اس میں اطاعت حکم کا کوئی پہلو نہیں) حالانکہ پہلے سے (دنیا میں) یہ لوگ اس حق کا انکار کرتے رہے اور (ان کا انکار بھی ایسا جس کا کوئی صحیح منشاء نہ تھا بلکہ) بےتحقیق باتیں دور ہی دور سے ہانکا کرتے تھے، (دور کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تحقیق سے دور تھے، یعنی دنیا میں تو کفر کرتے رہے اب ایمان سوجھا ہے، اور اس کے مقبول ہونے کی آرزو ہے) اور (چونکہ آخرت دارالعمل نہیں ہے اس لئے) ان میں اور ان کے (قبول ایمان) کی آرزو میں ایک آڑ کردی جائے گی (یعنی ان کی آرزو پوری نہ ہوگی) جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کے ساتھ (بھی) یہی (برتاؤ) کیا جائے گا جو ان سے پہلے (کفر کرچکے) تھے، یہ سب بڑے شک میں تھے جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا تھا۔ معارف ومسائل (آیت) واخذوا من مکان قریب، اکثر مفسرین کے نزدیک ہی حال روز حشر کا ہے کہ کفار و فجار گھبرا کر بھاگنا چاہیں گے تو چھوٹ نہ سکیں گے۔ اور یہ بھی نہ ہوگا جیسے دنیا میں کوئی مجرم بھاگ جائے تو اس کو تلاش کرنا پڑتا ہے، بلکہ سب کے سب اپنی ہی جگہ میں گرفتار کر لئے جاویں گے، کسی کو بھاگ نکلنے کا موقع نہ ملے گا۔ بعض حضرات نے اس کو وقت نزع اور موت کا حال قرار دیا ہے، کہ جب موت کا وقت آجائے گا اور ان پر گھبراہٹ طاری ہوگی تو فرشتوں کے ہاتھ سے چھوٹ نہ سکیں گے اور وہیں اپنی جگہ سے روح قبض کر کے پکڑ لئے جائیں گے۔