Surat Saba

Surah: 34

Verse: 51

سورة سبأ

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ فَزِعُوۡا فَلَا فَوۡتَ وَ اُخِذُوۡا مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۵۱﴾

And if you could see when they are terrified but there is no escape, and they will be seized from a place nearby.

اور اگر آپ ( وہ وقت ) ملاحظہ کریں جبکہ یہ کفار گھبرائے پھریں گے پھر نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریب کی جگہ سے گرفتار کر لئے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says; وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُوا فَلَ فَوْتَ ... And if you could but see, when they will be terrified with no escape, Here Allah says: `if only you could see, O Muhammad, when these deniers are terrified on the Day of Resurrection, and they have no way of escape and nowhere to run to and no refuge.' ... وَأُخِذُوا مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ and they will be seized from a near place. means, they will not even be given the slightest chance of escape, but they will be seized from the first instant. Al-Hasan Al-Basri said: "When they come forth from their graves."

عذاب قیامت اور کافر ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے اے نبی کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے ۔ کہ ہر چند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے ۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے ۔ نہ بھاگ کر ، نہ چھپ کر ، نہ کسی کی حمایت سے ، نہ کسی کی پناہ سے ۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے پکڑ لئے جائیں گے ۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لئے گئے ۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لئے گئے ۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے ۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں ۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکے مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے ۔ ابن جریر نے اسے بیان کر کے اس کی دلیل میں ایک حدیث وارد کی ہے جو بالکل ہی موضوع اور گھڑی ہوئی یہ ۔ لیکن تعجب سا تعجب ہے کہ امام صاحب نے اس کا موضوع ہونا بیان نہیں کیا ، قیامت کے دن کہیں گے کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر ایمان لائے ۔ جیسے اور آیت میں ہے ( وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ؀ ) 32- السجدة:12 ) ، کاش کے تو دیکھتا جبکہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں گے اور شرمندگی سے کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ نے دیکھ سن لیا ، ہمیں یقین آ گیا ۔ اب تو ہمیں پھر سے دنیا میں بھیج دے تو ہم دل سے مانیں گے ۔ لیکن کوئی شخص جس طرح بہت دور کی چیز کو لینے کے لئے دور سے ہی ہاتھ بڑھائے اور اس کے ہاتھ نہیں آ سکتی ۔ اسی طرح یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ آخرت میں وہ کام کرتے ہیں جو دنیا میں کرنا چاہیے تھا ۔ تو آخرت میں ایمان لانا بےسود ہے ۔ اب نہ دنیا میں لوٹائے جائیں نہ اس وقت کی گریہ و زاری ، توبہ و فریاد ، ایمان و اسلام کچھ کام آئے گا ۔ اس سے پہلے دنیا میں تو منکر رہے ۔ نہ اللہ کو مانا نہ رسول پر ایمان لائے نہ قیامت کے قائل ہوئے یونہی جیسے کوئی بن دیکھے اندازے سے ہی نشانے پر تیر بازی کر رہا ہو اسی طرح اللہ کی باتوں کو اپنے گمان سے ہی رد کرتے رہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کاہن کہدیا کبھی شاعر بتا دیا ۔ کبھی جادوگر کہا اور کبھی مجنون ۔ صرف اٹکل پچو کے ساتھ قیامت کو جھٹلاتے رہے اور بےدلیل اداروں کی عبادت کرتے رہے ، جنت دوزخ کا مذاق اڑاتے رہے ، اب ایمان اور ان میں حجاب آ گیا ۔ توبہ میں اور ان میں پردہ پڑ گیا ۔ دنیا ان سے چھوٹ گئی ۔ یہ دنیا سے الگ ہوگئے ۔ ابن ابی حاتم میں یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر نقل کیا ہے جسے ہم پورا ہی نقل کرتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ بنو اسرائیل میں ایک فاتح شخص تھا جس کے پاس مال بہت تھا ۔ جب وہ مر گیا اور اس کا لڑکا اس کا وارث ہوا تو بری طرح نافرمانیوں میں مال لٹانے لگا ۔ اس کے چچاؤں نے اسے ملامت کی اور سمجھایا اس نے غصے میں آ کر سب چیزیں بیچ کر روپیہ لے کر عین شجاجہ کے پاس آ کر ایک محل تعمیر کرا کر یہاں رہنے لگا ۔ ایک روز زور کی آندھی اٹھی جس میں ایک بہت خوبصورت خوشبو دار عورت اس کے پاس آ گری ۔ اس نے اس سے پوچھا تم کون ہو؟ اس نے کہا بنی اسرائیلی شخص ہوں کہا یہ محل اور مال آپ کا ہے؟ اس نے کہا ہاں ۔ پوچھا آپ کی بیوی بھی ہے؟ کہا نہیں ۔ کہا پھر تم اپنی زندگی کا لطف کیا اٹھاتے ہو؟ اب اس نے پوچھا کہ کیا تمہارا خاوند ہے؟ اس نے کا نہیں ۔ کہا پھر مجھے قبول کرو اس نے جواب دیا میں یہاں سے میل بھر دور رہتی ہوں کل تم یہاں سے اپنے ساتھ دن بھر کا کھانا پینا لے کر چلو اور میرے ہاں آؤ ۔ راستے میں کچھ عجائبات دیکھو تو گھبرانا نہیں ۔ اس نے قبول کیا اور دوسرے دن توشہ لے کر چلا ۔ میل بھر دور جا کر ایک نہایت عالی شان محل دیکھا دستک دینے سے ایک خوبصورت نوجوان شخص آیا پوچھا آپ کون ہیں؟ جواب دیا کہ میں بنی اسرائیلی ہوں کہا کیسے آئے ہیں؟ کہا اس مکان کی مالکہ نے بلوایا ہے پوچھا راستے میں کچھ ہولناک چیزیں بھی دیکھیں جواب دیا ہاں اور اگر مجھے یہ کہا ہوا نہ ہوتا کہ گھبرانا مت تو میں ہول و دہشت سے ہلاک ہو گیا ہوتا ۔ میں چلا ایک چوڑے راستے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک کتیا منہ پھاڑے بیٹھی ہوئی ہے میں گھبرا کر دوڑا تو دیکھا کہ مجھ سے آگے آگے وہ ہے اور اس کے پلے ( بچے ) اس کے پیٹ میں ہیں اور بھونک رہے ہیں ۔ اس نوجوان نے کہا تو اسے نہیں پائے گا یہ تو آخر زمانے میں ہونے والی ایک بات کی مثال تجھے دکھائی گئی ہے کہ ایک نوجوان بوڑھے بڑوں کی مجلس میں بیٹھے گا اور ان سے اپنے راز کی پوشیدہ باتیں کرے گا ۔ میں اور آگے بڑھا تو دیکھا ایک سو بکریاں ہیں جن کے تھن دودھ سے پر ہیں ایک بچہ ہے جو دودھ پی رہا ہے جب دودھ ختم ہو جاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اور کچھ باقی نہیں رہا تو وہ منہ کھول دیتا ہے گویا اور مانگ رہا ہے ۔ اس نوجوان دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا یہ مثال تجھے بتائی گئی ہے ان بادشاہوں کی جو آخر زمانے میں آئیں گے لوگوں سے سونا چاندی گھسیٹیں گے یہاں تک کہ سمجھ لیں گے کہ اب کسی کے پاس کچھ نہیں بچا تو بھی وہ ظلم و زیادتی کر کے منہ پھیلائے رہیں گے ۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے ایک درخت نہایت ترو تازہ خوش رنگ اور خوش وضع دیکھا میں نے اس کی ایک ٹہنی توڑنی چاہی تو دوسرے درخت سے آواز آئی کہ اے بندہ الٰہی! میری ڈالی توڑ جا پھر تو ہر ایک درخت سے یہی آواز آنے لگی دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت ہو جائے گی یہاں تک کہ جب ایک مرد کی طرف سے کسی عورت کو پیغام جائے گا تو دس بیس عورتیں اسے اپنی طرف بلانے لگیں گی ۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک دریا کے کنارے ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور لوگوں کو پانی بھر بھر کر دے رہا ہے پھر اپنی مشک میں ڈالتا ہے لیکن اس میں ایک قطرہ بھی نہیں ٹھہرتا ۔ دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا ۔ اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں ایسے علماء اور واعظ ہوں گے جو لوگوں کو علم سکھائیں گے ۔ بھلی باتیں بتائیں گے ۔ لیکن خود عامل نہیں ہوں گئے ۔ بلکہ خود گناہوں میں مبتلا رہے گے پھر جو میں آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک بکری کو بعض لوگوں نے تو اس کے پاؤں پکڑ رکھے ہیں ، بعض نے دم تھام رکھی ہے ، بعض نے سینگ پکڑ رکھے ہیں ، بعض اس پر سوار ہیں اور بعض اس کا دودھ دھو رہے ہیں ۔ اس نے کہا یہ مثال ہے دنیا کی جو اس کے پیر تھامے ہوئے ہیں ۔ یہ تو وہ ہیں جو دنیا سے گر گئے جنہیں یہ نہ ملی جس نے سینگ تھام رکھے ہیں یہ وہ ہے جو اپنا گذارہ کر لیتا ہے لیکن تنگی ترشی سے دم پکڑنے والے وہ ہیں جن سے دنیا بھاگ چکی ہے ۔ سوار وہ ہیں جو از خود تارک دنیا میں ہوگئے ہیں ۔ ہاں دنیا سے صحیح فائدہ اٹھانے والے وہ ہیں جنہیں تم نے اس بکری کا دودھ نکالتے ہوئے دیکھا ۔ انہیں خوشی ہو یہ مستحق مبارک باد ہیں ۔ اس نے کہا میں اور آگے چلا تو دیکھا کہ ایک شخص ایک کنویں میں سے پانی کھینچ رہا ہے اور ایک حوض میں ڈال رہا ہے جس حوض میں سے پانی پھر کنوئیں میں چلا جاتا ہے ۔ اس نے کہا یہ وہ شخص ہے جو نیک عمل کرتا ہے لیکن قبول نہیں ہوتے ۔ اس نے کہا پھر میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص نے دانے زمین میں بوئے اسی وقت کھیتی تیار ہو گئی اور بہت اچھے نفیس گیہوں نکل آئے ۔ کہا یہ وہ شخص ہے جس کی نیکیاں اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے ۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا پڑا ہے ۔ مجھ سے کہنے لگا بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا دو ، واللہ جب سے پیدا ہوا ہوں ، بیٹھا ہی نہیں ۔ میرے ہاتھ پکڑتے ہی وہ کھڑا ہو کر تیز دوڑا یہاں تک کہ میری نظروں سے پوشیدہ ہو گیا ۔ اس دربان نے کہا یہ تیری عمر تھی جو جاچکی اور ختم ہو گئی میں ملک الموت ہوں اور جس عورت سے تو ملنے آیا ہے اس کی صورت میں بھی میں ہی تھا اللہ کے حکم سے تیرے پاس آیا تھا کہ تیری روح اس جگہ قبض کروں پھر تجھے جہنم رسید کروں ۔ اس کے بارے میں یہ آیت ( وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54؀ۧ ) 34- سبأ:54 ) ، نازل ہوئی ۔ یہ اثر غریب ہے اور اس کی صحت میں بھی نظر ہے ۔ آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ کافروں کی جب موت آتی ہے ان کی روح حیات دنیا کی لذتوں میں اٹکی رہتی ہے ۔ لیکن موت مہلت نہیں دیتی اور ان کی خواہش اور ان کے درمیان وہ حائل ہو جاتا ہے ۔ جیسے اس مغرور و مفتون شخص کا حال ہوا کہ گیا تو عورت ڈھونڈھنے کو اور ملاقات ہوئی ملک الموت سے ۔ امید پوری ہونے سے پہلے روح پرواز کر گئی ۔ پھر فرماتا ہے ان سے پہلے کی امتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا وہ بھی موت کے وقت زندگی اور ایمان کی آرزو کرتے رہے ۔ جو محض بےسود تھی ۔ جیسے فرمان عالی شان ہے ( فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84؀ ) 40-غافر:84 ) جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس جس کو ہم شریک اللہ بناتے تھے ان سب سے ہم انکار کرتے ہیں لیکن اس وقت ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا ان سے پہلوؤں میں بھی یہی طریقہ جاری رہا کفار نفع سے محروم ہی ہیں ۔ یہاں فرمایا کہ دنیا میں تو زندگی بھر شک شبہ میں اور تردد میں ہی رہے ۔ اسی وجہ سے عذاب کے دیکھنے کے بعد کا ایمان بیکار رہا ۔ حضرت قتادہ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے آپ فرماتے ہیں کہ شبہات اور شکوک سے بچو ۔ اس پر جس کی موت آئی وہ قیامت کے دن بھی اسی پر اٹھایا جائے گا اور جو یقین پر مرا ہے اسے یقین پر ہی اٹھایا جائے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

51۔ 1 فَلَافَوْتَ کہیں بھاگ نہیں سکیں گے ؟ کیونکہ وہ اللہ کی گرفت میں ہونگے، یہ میدان محشر کا بیان ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٧٦] یعنی ایسے مجرموں کو کہیں دور سے تلاش نہیں کرنا پڑے گا۔ بلکہ وہ جہاں بھی ہوں گے وہیں گرفتار کر لئے جائیں گے کہیں بھاگ کھڑا ہونے کی ان میں ہمت ہی نہ ہوگی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَوْ تَرٰٓى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ : ” اِذْ فَزِعُوْا “ (جب گھبرا جائیں گے) سے دنیا کے بعد آخرت کی تمام منزلیں مراد ہیں، جن میں موت کے وقت فرشتوں کی آمد، پھر قبر میں سوال و جواب، پھر قبروں سے نکلنا اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا، پھر جہنم میں جانا سب کچھ شامل ہے۔ یعنی اب تو کفار بہت ڈینگیں مارتے ہیں، لیکن جب دنیا کی مہلت ختم ہوگی، اللہ تعالیٰ کی گرفت آئے گی اور ان پر گھبراہٹ طاری ہوگی، اس وقت ان کے لیے اس سے بچ کر نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ وَاُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ : یعنی ایسے مجرموں کو کہیں دور سے تلاش نہیں کرنا پڑے گا، وہ جہاں بھی ہوں گے وہیں گرفتار کرلیے جائیں گے۔ بچ نکلنے کی یا بھاگ کھڑے ہونے کی کوئی صورت نہ ہوگی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary According to most commentators, the attending condition described in verse 51: وَأُخِذُوا مِن مَّكَانٍ قَرِ‌يبٍ (and they will be seized from a place near at hand) refers to the Day of Resurrection (al-hashr) from the terror of which disbelievers and sinners will not be able to escape even if they try to do so. In our normal experience in this world, when a culprit runs away, he has to be searched for. Something like that will not happen in the present case. In fact, all of them will be seized from where they are located. No one will have the chance to escape. Others have taken this time to be that of the agony of death, that is, when the time of death comes, they will be terrified and, unable to extricate themselves from the hands of the angels, they will be seized where they are with their soul taken out.

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ وہ وقت ملاحظہ کریں (تو آپ کو حیرت ہو) جب یہ کفار (قیامت کے ہول وہیبت سے) گھبرائے پھریں گے پھر نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور پاس کے پاس ہی سے (یعنی فوراً ) پکڑ لئے جاویں گے اور (اس وقت) کہیں گے کہ ہم اس حق پر ایمان لے آئے (اور جتنے امور اس میں بتلائے گئے ہیں سب کو مان لیا اس لئے ہماری توبہ قبول کرلیجئے، خواہ دوبارہ دنیا میں بھیج کر یا بغیر بھیجے ہوئے اور اتنی دور جگہ سے (ایمان کا) ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے (یعنی ایمان لانے کی جگہ بوجہ دارالعمل ہونے کے دنیا تھی جو بڑی دور ہوگئی، اب آخرت کا عالم ہے جو دارالعمل نہیں دارالجزاء ہے، اس میں ایمان مقبول نہیں کیونکہ اب جو ایمان ہوگا وہ ایمان بالغیب نہیں بلکہ مشاہدہ کے بعد ہے، مشاہدہ کے بعد کسی چیز کا اقرار کرنا تو طبعی امر ہے، اس میں اطاعت حکم کا کوئی پہلو نہیں) حالانکہ پہلے سے (دنیا میں) یہ لوگ اس حق کا انکار کرتے رہے اور (ان کا انکار بھی ایسا جس کا کوئی صحیح منشاء نہ تھا بلکہ) بےتحقیق باتیں دور ہی دور سے ہانکا کرتے تھے، (دور کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تحقیق سے دور تھے، یعنی دنیا میں تو کفر کرتے رہے اب ایمان سوجھا ہے، اور اس کے مقبول ہونے کی آرزو ہے) اور (چونکہ آخرت دارالعمل نہیں ہے اس لئے) ان میں اور ان کے (قبول ایمان) کی آرزو میں ایک آڑ کردی جائے گی (یعنی ان کی آرزو پوری نہ ہوگی) جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کے ساتھ (بھی) یہی (برتاؤ) کیا جائے گا جو ان سے پہلے (کفر کرچکے) تھے، یہ سب بڑے شک میں تھے جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا تھا۔ معارف ومسائل (آیت) واخذوا من مکان قریب، اکثر مفسرین کے نزدیک ہی حال روز حشر کا ہے کہ کفار و فجار گھبرا کر بھاگنا چاہیں گے تو چھوٹ نہ سکیں گے۔ اور یہ بھی نہ ہوگا جیسے دنیا میں کوئی مجرم بھاگ جائے تو اس کو تلاش کرنا پڑتا ہے، بلکہ سب کے سب اپنی ہی جگہ میں گرفتار کر لئے جاویں گے، کسی کو بھاگ نکلنے کا موقع نہ ملے گا۔ بعض حضرات نے اس کو وقت نزع اور موت کا حال قرار دیا ہے، کہ جب موت کا وقت آجائے گا اور ان پر گھبراہٹ طاری ہوگی تو فرشتوں کے ہاتھ سے چھوٹ نہ سکیں گے اور وہیں اپنی جگہ سے روح قبض کر کے پکڑ لئے جائیں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ تَرٰٓى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَاُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ۝ ٥١ۙ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ فزع الفَزَعُ : انقباض ونفار يعتري الإنسان من الشیء المخیف، وهو من جنس الجزع، ولا يقال : فَزِعْتُ من الله، كما يقال : خفت منه . وقوله تعالی: لا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ [ الأنبیاء/ 103] ، فهو الفزع من دخول النار . فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ [ النمل/ 87] ، وَهُمْ مِنْ فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ [ النمل/ 89] ، وقوله تعالی: حَتَّى إِذا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ [ سبأ/ 23] ، أي : أزيل عنها الفزع، ويقال : فَزِعَ إليه : إذا استغاث به عند الفزع، وفَزِعَ له : أغاثه . وقول الشاعر : كنّا إذا ما أتانا صارخ فَزِعٌ أي : صارخ أصابه فزع، ومن فسّره بأنّ معناه المستغیث، فإنّ ذلک تفسیر للمقصود من الکلام لا للفظ الفزع . ( ف ز ع ) الفزع انقباض اور وحشت کی اس حالت کو کہتے ہیں جو کسی خوفناک امر کی وجہ سے انسان پر طاری ہوجاتی ہے یہ جزع کی ایک قسم ہے اور خفت من اللہ کا محاورہ تو استعمال ہوتا ہے لیکن فزعت منہ کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت کریمہ : ۔ لا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ [ الأنبیاء/ 103] ان کو ( اس دن کا ) بڑا بھاری غم غمگین نہیں کرے گا ۔ میں فزع اکبر سے دوزخ میں داخل ہونیکا خوف مراد ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ [ النمل/ 87] تو جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سبب گھبرا اٹھیں گے ۔ وَهُمْ مِنْ فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ [ النمل/ 89] اور ایسے لوگ ( اس روز ) گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے ۔ حَتَّى إِذا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ [ سبأ/ 23] یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا ۔ یعنی ان کے دلوں سے گبراہٹ دوری کردی جائے گی فزع الیہ کے معنی گھبراہٹ کے وقت کسی سے فریاد کرنے اور مدد مانگنے کے ہیں اور فزع لہ کے معنی مدد کرنے کے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 339 ) ولنا اذا مااتانا صارع خ فزع یعنی جب کوئی فریاد چاہنے والا گھبرا کر ہمارے پاس آتا ۔ بعض نے فزع کے معنی مستغیت کئے ہیں تو یہ لفظ فزع کے اصل معنی نہیں ہیں بلکہ معنی مقصود کی تشریح ہے ۔ فوت الْفَوْتُ : بُعْدُ الشیء عن الإنسان بحیث يتعذّر إدراکه، قال : وَإِنْ فاتَكُمْ شَيْءٌ مِنْ أَزْواجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ [ الممتحنة/ 11] ، وقال : لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ [ الحدید/ 23] ، وَلَوْ تَرى إِذْ فَزِعُوا فَلا فَوْتَ [ سبأ/ 51] ، أي : لا يَفُوتُونَ ما فزعوا منه، ويقال : هو منّي فَوْتَ الرّمح «2» ، أي : حيث لا يدركه الرّمح، وجعل اللہ رزقه فَوْتَ فمه . أي : حيث يراه ولا يصل إليه فمه، والِافْتِيَاتُ : افتعال منه، وهو أن يفعل الإنسان الشیء من دون ائتمار من حقّه أن يؤتمر فيه، والتَّفَاوُتُ : الاختلاف في الأوصاف، كأنه يُفَوِّتُ وصف أحدهما الآخر، أو وصف کلّ واحد منهما الآخر . قال تعالی: ما تَرى فِي خَلْقِ الرَّحْمنِ مِنْ تَفاوُتٍ [ الملک/ 3] ، أي : ليس فيها ما يخرج عن مقتضی الحکمة . ( ف و ت ) الفوت ( ن ) ہاتھ سے نکل جانا کسی چیز کا انسان سے اتنا دور ہوجانا کہ اس کا حاصل کرلیناز اس کے لئے دشوارہو ۔ چناچہ فرمایا ؛ وَإِنْ فاتَكُمْ شَيْءٌ مِنْ أَزْواجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ [ الممتحنة/ 11] اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے ۔ لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ [ الحدید/ 23] ناکہ جو مطلب تم سے فوت ہوگیا ہے ۔ اس کا غم نہ کھایا کرو ۔ وَلَوْ تَرى إِذْ فَزِعُوا فَلا فَوْتَ [ سبأ/ 51] اور کاش تم دیکھو جب یہ گبھرا جائیں گے تو عذاب سے ) بچ نہیں سکیں گے ۔ یعنی جس عذاب سے وہ گھبرائیں گے اس سے بچ نہیں سکیں گے ۔ محاورہ ہے : ۔ ھومنی فوت الرمح وہ میرے نیزے کی دسترس سے باہر ہے ۔ جعل اللہ رزقہ فوت فمہ ( اللہ اس کا رزق اس کی سترس سے باہر کردے یعنی رزق سامنے نظر آئے لیکن منہ تک نہ پہنچ سکے ( بددعا ) اسی سے افتیات ( افتعال ) ہے اور اس کے معنی کسی ایسے شخص سے مشورہ کے بغیر کوئی کام کرنے کے ہیں جس سے مشورہ ضروری ہو ۔ التفاوت ( تفاعل ) کے معنی دو چیزوں کے اوصاف مختلف ہونے کے ہیں گویا ایک کا وصف دوسری کا یا ہر ایک کا وصف دوسری کو فوت کررہا ہے قرآن میں : ۔ ما تَرى فِي خَلْقِ الرَّحْمنِ مِنْ تَفاوُتٍ [ الملک/ 3] کیا تو ( خدا ) رحمٰن کی آفرینش میں کچھ نقص دکھتا ہے یعنی اس میں کوئی بات بھی حکمت کے خلاف نہیں ہے ۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ «مَكَانُ»( استکان) قيل أصله من : كَانَ يَكُونُ ، فلمّا كثر في کلامهم توهّمت المیم أصليّة فقیل : تمكّن كما قيل في المسکين : تمسکن، واسْتَكانَ فلان : تضرّع وكأنه سکن وترک الدّعة لضراعته . قال تعالی: فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] . المکان ۔ بعض کے نزدیک یہ دراصل کان یکون ( ک و ن ) سے ہے مگر کثرت استعمال کے سبب میم کو اصلی تصور کر کے اس سے تملن وغیرہ مشتقات استعمال ہونے لگے ہیں جیسا کہ مسکین سے تمسکن بنا لیتے ہیں حالانکہ یہ ( ص ک ن ) سے ہے ۔ استکان فلان فلاں نے عاجز ی کا اظہار کیا ۔ گو یا وہ ٹہھر گیا اور ذلت کی وجہ سے سکون وطما نینت کو چھوڑدیا قرآن میں ہے : ۔ فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی ۔ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ «3» ، وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ( ق ر ب ) القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ قرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اگر آپ اس وقت کا ملاحظہ کریں جس وقت یہ کفار زمین میں دھنسا دیے جائیں گے اور ان کو موت آئے گی یعنی مقام بیداء میں دھنسیں گے تو ان میں سے کسی کے لیے بچ کر نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور پیروں کے نیچے سے پکڑ لیے جائیں گے تو پھر زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥١ { وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ } ” اور کاش آپ دیکھیں جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے ‘ تب بچ نکلنا ممکن نہیں ہوگا “ انسانوں کی گھبراہٹ اور پریشانی کی اس کیفیت کو سورة الانبیاء کی آیت ١٠٣ میں ” الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ “ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کیفیت قیامت کے اس ” زلزلے “ کے باعث ہوگی جس کا ذکر سورة الحج کی ابتدائی آیت میں اس طرح ہوا ہے : { اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ۔ ” یقینا قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہوگا۔ “ { وَاُخِذُوْا مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ } ” اور وہ پکڑ لیے جائیں گے قریبی جگہ سے۔ “ جیسے کوئی پاس پڑی ہوئی چیز کو ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیتا ہے اسی طرح انہیں آسانی کے ساتھ قابو میں کر لیاجائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

72 That is, "On the Day of Resurrection, every culprit will be seized in a way as though he lay in hiding closeby. As he will try to flee, he will be seized inunediately . "

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :72 یعنی قیامت کے روز ہر مجرم اس طرح پکڑا جائے گا کہ گویا پکڑنے والا قریب ہی کہیں چھپا کھڑا تھا ، ذرا اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور فوراً ہی دھر لیا گیا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:51) لو تری میں لو حرف تمنا ہے۔ کاش تو دیکھے۔ فزعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب فزع مصدر۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل استعمال ہوا ہے (جب) یہ لوگ گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ گھبراہٹ میں ہوں گے۔ ڈر اور کو ف کی حالت میں ہوں گے۔ نیز ملاحظہ ہو (34:23) فوت۔ اسم فعل۔ آگے بڑھ جانا۔ گرفت سے باہر ہوجانا۔ الفوت (باب نصر) ہاتھ سے نکل جانا۔ کسی چیز کا انسان سے اتنی دور ہوجانا کہ اس کا ھاصل کرلینا اس کے لئے دشوار ہو مثلاً قرآن مجید میں ہے وان فاتکم شییء من ازواجکم الی الکفار (60: 11) اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے ۔ دوسری آیت : لکیلا تاسوا علی ما فاتکم۔ تا کہ تم غم نہ کیا کرو اس پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل جاوے۔ بددعا کے وقت کہتے ہیں جعل اللہ رزقہ فوت فمہ اللہ اس کا رزق اس کے منہ کی دسترس سے باہر کردے۔ یعنی رزق سامنے نظر آئے لیکن منہ تک نہ پہنچ سکے ! فات یفوت (نصر) فوت آدمی کے مرجانے کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی دوسروں کی دسترس سے باہر ہوجاتا ہے۔ فلا فوت۔ ای فلا فوت لہم ان کے لئے فرار (ممکن) نہ ہوگا۔ اولا یفوتون اللہ عزوجل بھرب۔ وہ بھاگ کر اللہ کی دسترس سے باہر نہیں جاسکیں گے۔ واخذوا۔ وائو عاطفہ ہے اخذوا ماضی (بمعنی مستقبل) جمع مذکر غائب۔ وہ پکڑے جائیں گے۔ من مکان قریب۔ من موقف الحساب مکان قریب یعنی جائے حساب سے (ہی ) پکڑ لئے جائیں گے۔ (یعنی جہاں بوقت حساب وہ عذاب کو سامنے دیکھیں گے ڈر اور خوف سے گھبرائے ہوں گے اور کوئی راہ فرار نہ پائیں گے اور وہیں موقع پر ہی دھر لئے جائیں گے) ۔ واخذوا کا عطف فزعوا پر ہے۔ ای فزعوا و اخذوا فلا فوت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یعنی اس طرح پکڑ لئے جائیں گے گویا ان کا پکڑنے والا قریب ہی کھڑا تھا۔ جونہی انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی فوراً پکڑ لئے تھے۔ ابن جریر (رح) لکھتے ہیں کہ ان سے مراد وہ لشکر ہے جو عباسی دور حکومت میں مکہ اور مدینہ کے درمیان زمین کے اندر دھنسا دیا گیا تھا اور افسوس ہے کہ انہوں نے اس کی تائید میں ایک موضوع حدیث بھی درج کردی ہے مگر صحیح ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ( ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔ فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔ واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔ اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت دور نکل گیا ہے ۔ بہت دور جا چکا ہے ۔ یہ ان اسے پکڑ نہیں سکتے ۔ التناوش من مکان بعید (34: 52) اب ان کی سعی طرح ہے جس طرح کوئی کسی چیز کو دور سے پکڑ نا چاہے ، مگر نہ پکڑ سکے ۔ ایمان تو دور دنیا میں رہ گیا ہے ۔ انہوں نے موقع ضائع کردیا۔ وقدکفر وابہ من قبل (34: 53) ” اس سے پہلے انہوں نے ایمان سے انکار کردیا “۔ اب یہاں تو معاملہ ختم ہے ، مہلت ختم ، اب سعی لا حاصل ہے ۔ ویقذ فون بالغیب من مکان بعید (34: 53) ” یہ دور سے غائب نشانے پر پھینکتے تھے “۔ اس وقت انہوں نے انکار ہی کر دیا تھا کہ قیامت نہیں ہے حالانکہ وہ مستقبل کے پر دوں میں اسے کسی طرح دیکھ سکتے تھے کہ نہیں ہے ۔ اس طرح وہ دور نامعلوم نشانے پر بمباری کررہے تھے ۔ اور اب ایمان لانے کی سعی کررہے ہیں جبکہ وہ دور نکل گیا ہے ۔ وحیل ۔۔۔ یشتھون (34: 54) ” اس وقت جس چیز کی یہ تمنا کررہے ہوں گے ۔ اس سے وہ محروم کردیئے جائیں گے “۔ اب یہ ایمان سے محروم ہوں گے کیونکہ وہ بعدازوقت ہوگا ۔ اب عذاب سے بچنا ممکن نہ ہوگا کہ وہ سرپر ہوگا ۔ کما۔۔۔ من قبل (34: 54) ” جس طرح ان کے پیش ردہم مشرب محروم کردیئے جائیں گے “۔ یعنی جب ان پر پکڑ آئی تو انہوں نے نجات کی دعا کی لیکن اب نہ دعا کا وقت تھا نہ بھا گنے کی جگہ تھی ۔ انھم۔۔۔ مریب (34: 54) ” یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے “۔ اور اب یقین کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں “۔ اس سورة کا خاتمہ اس شدید ضرب پر ہوتا ہے ۔ اور یہ منظر قیامت ، قیام قیامت کو عملاً ثابت کردیتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت برپا ہوگئی ! یہی مضمون تھا اس سورة کا ۔ آغاز بھی قیامت کے قیام اور انتہا بھی احوال قیامت پر ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخری آیتوں میں منکرین کے لیے وعید ہے، فرمایا (وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا) (الی اخر السورۃ) (اور اگر آپ اس وقت کو دیکھیں جب یہ لوگ گھبرا جائیں گے تو پھر چھوٹنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریبی جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لائے اور اتنی دور سے ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے اس کا انکار کرچکے ہیں، اور دور ہی دور سے بےتحقیق باتیں پھینکا کرتے ہیں اور ان کے اور ان کی آرزو کے درمیان آڑ کردی جائے گی۔ بلاشبہ وہ تردد میں ڈالنے والے شک میں تھے۔ بتوفیق اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ سورة سبا کی تفسیر تمام ہوئی والحمد للّٰہ اولاً واخرًا و باطناً وظاھرًا والسلام علی من ارسل طیبًا وطاھرًا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

53:۔ ولو تری الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ فلا فوت : یعنی بھاگ نہ سکیں گے۔ واخذوا الخ : یہ بھی اسی سے کنایہ ہے قیامت کے دن جب وہ میدانِ حشر کی ہولناکی سے گھبرا اٹھیں گے تو اس وقت وہ کہیں بھاگ کر جان نہیں بچا سکیں گے۔ اور انہیں پکڑ لینا نہایت ہی آسان ہوگا۔ وحیثنا کانوا فہم من اللہ قریب لا یفوتونہ ولا یعجرزونہ (معالم و خازن ج 5 ص 243) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(51) اور اے پیغمبر آپ ان دین حق کے منکروں کی حالت اس وقت دیکھئے کہ جب یہ منکر سخت گھبرا رہے ہوں گے اور کہیں بھاگ کر بچ بھی نہ سکتے ہوں گے اور قریب ہی کے قریب پکڑ لئے جائیں گے۔