سورة فَاطِر نام : پہلی ہی آیت کا لفظ فاطر اس سورہ کا عنوان قرار دیا گیا ہے جس کے معنی صرف یہ ہیں کہ یہ وہ سورۃ ہے جس میں فاطر کا لفظ آیا ہے ۔ دوسرا نام المَلَا ئکہ بھی ہے اور یہ لفظ بھی پہلی آیت میں وارد ہوا ہے ۔ زمانۂ نزول : انداز کلام کی اندرونی شہادت سے مترشح ہوتا ہے کہ اس سورت کے نزول کا زمانہ غالباً مکہ معظمہ کا دور متوسط ہے ، اور اس کا بھی وہ حصہ جس میں مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کر چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے ہر طرح کی بری سے بری چالیں چلی جا رہی تھیں ۔ موضوع و مضمون : کلام کا مدعا یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید کے مقابلہ میں جو رویہ اس وقت اہل مکہ اور ان کے سرداروں نے اختیار کر رکھا تھا اس پر ناصحانہ انداز میں ان کو تنبیہ و ملامت بھی کی جائے اور معلمانہ انداز میں فہمائش بھی ۔ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ نادانو ، یہ نبی جس راہ کی طرف تم کو بلا رہا ہے اس میں تمہارا اپنا بھلا ہے ۔ اس پر تمہارا غصہ ، اور تمہاری مکاریاں اور چال بازیاں ، اور اس کو ناکام کرنے کے لیے تمہاری تدبیریں دراصل اس کے خلاف نہیں بلکہ تمہارے اپنے خلاف پڑ رہی ہیں ۔ اس کی بات نہ مانو گے تو اپنا ہی کچھ بگاڑو گے ، اس کا کچھ نہ بگاڑو گے ۔ وہ جو کچھ تم سے کہہ رہا ہے اس پر غور تو کرو ، آخر اس میں غلط کیا بات ہے ۔ وہ شرک کی تردید کرتا ہے ۔ تم خود آنکھیں کھول کر دیکھو ، کیا شرک کے لیے دنیا میں کوئی معقول بنیاد موجود ہے؟ وہ توحید کی دعوت دیتا ہے ۔ تم خود عقل سے کام لے کر غور کرو ، کیا للہ فاطر السمٰوات و الارض کے سوا کہیں کوئی ایسی ہستی پائی جاتی ہے جو خدائی صفات اور اختیارات رکھتی ہو؟ وہ تم سے کہتا ہے کہ تم اس دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں ہو بلکہ تمہیں اپنے خدا کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور اس دنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں ہر ایک کو اپنے کیے کا نتیجہ دیکھنا ہو گا ۔ تم خود سوچو کہ اس پر تمہارے شبہات اور اچنبھے کس قدر بے اصل ہیں ۔ کیا تمہاری آنکھیں رات دن اعادہ خلق کا مشاہدہ نہیں کر رہی ہیں؟پھر تمہارا ہی اعادہ اس خدا کے لیے کیوں ناممکن ہو جس نے تم کو ایک ذرا سے نطفے سے پیدا کر دیا ۔ کیا تمہاری عقل یہ گواہی نہیں دیتی کہ بھلے اور برے کو یکساں نہ ہونا چاہیے؟ پھر تم ہی بتاؤ کہ معقول بات کیا ہے؟ یہ کہ بھلے اور برے کا انجام یکساں ہو ، یعنی مٹی میں ملنا اور فنا ہو جانا ؟ یا یہ کہ بھلے کو بھلا اور برے کو برا بدلہ ملے؟ اب اگر ان سراسر معقول اور مبنی بر حقیقت باتوں کو تم نہیں مانتے اور جھوٹے خداؤں کی بندگی نہیں چھوڑتے اور اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھتے ہوئے شتر بے مہار ہی کی طرح دنیا میں جینا چاہتے ہو تو اس میں نبی کا کیا نقصان ہے ۔ شامت تو تمہاری اپنی ہی آئے گی ۔ نبی پر صرف سمجھانے کی ذمہ داری تھی ، اور وہ اس نے ادا کر دی ۔ سلسلہ کلام میں بار بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ جب نصیحت کا حق پوری طرح ادا کر رہے ہیں تو گمراہی پر اصرار کرنے والوں کے راہ راست قبول نہ کرنے کی کوئی ذمہ داری آپ کے اوپر عائد نہیں ہوتی ۔ اس کے ساتھ آپ کو یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ جو لوگ نہیں ماننا چاہتے ان کے رویے پر نہ آپ غمگین ہوں اور نہ انہیں راہ راست پر لانے کی فکر میں اپنی جان گھلائیں ۔ اس کے بجائے آپ اپنی توجہات ان لوگوں پر صرف کریں جو بات سننے کے لیے تیار ہیں ۔ ایمان قبول کرنے والوں کو بھی اسی سلسلے میں بڑی بشارتیں دی گئی ہیں تا کہ ان کے دل مضبوط ہوں اور وہ اللہ کے وعدوں پر اعتماد کر کے راہ حق میں ثابت قدم رہیں ۔
تعارف سورۃ فاطر اس سورت میں بنیادی طور پر مشرکین کو توحید اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی جو نشانیاں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں، اُن پر سنجیدگی سے غور کرنے سے اول تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جس قادر مطلق نے یہ کائنات پیدا فرمائی ہے اسے اپنی خدائی کا نظام چلانے میں کسی شریک یا مددگار کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور دوسرے یہ کہ وہ یہ کائنات کسی مقصد کے بغیر فضول پیدا نہیں کرسکتا، یقیناً اس کا کوئی مقصد ہے، اور وہ یہ کہ جو لوگ یہاں اس کے احکام کے مطابق نیک زندگی گزاریں، انہیں انعامات سے نوازا جائے، اور جو نافرمانی کریں ان کو سزا دی جائے، جس کے لئے آخرت کی زندگی ضروری ہے، تیسرے یہ کہ جو ذات کائنات کے اس عظیم الشان کارخانے کو عدم سے وجود میں لے کر آئی ہے، اس کے لئے اس کو ختم کرکے نئے سرے سے آخرت کا عالم پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، جسے ناممکن سمجھ کر اس کا انکار کیا جائے، اور جب یہ حقیقتیں مان لی جائیں تو اس سے خود بخود یہ بات ثابت ہوسکتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ اس دنیا میں انسان اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے، تو ظاہر ہے کہ اپنی مرضی لوگوں کو بتانے کے لئے اس نے رہنمائی کا کوئی سلسلہ ضرور جاری فرمایا ہوگا، ای سلسلے کا نام رسالت نبوت یا پیغمبری ہے، اور حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی سلسلے کے آخری نمائندے ہیں، اس سورت میں آپ کو یہ تسلی بھی دی گئی ہے کہ اگر کافر لوگ آپ کی بات نہیں مان رہے ہیں تو اس میں آپ پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ؛ بلکہ آپ کا فریضہ صرف اتنا ہے کہ لوگوں تک حق کا پیغام واضح طریقے سے پہنچادیں، آگے ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے اور وہی اس کے لئے جواب دہ ہیں۔ سورت کا نام فاطر بالکل پہلی آیت سے لیا گیا ہے، جس کے معنی ہیں پیدا کرنے والا۔ اسی سورت کا دوسرا نام سورۂ ملائکہ بھی ہے، کیونکہ اس کی پہلی آیت میں فرشتوں کا بھی ذکر ہے۔
سورة نمبر ٣٥۔ کل رکوع ٥۔ آیات ٤٥۔ الفاظ وکلمات ٧٩٢۔ حروف ٣٢٨٩۔ مقام نزول مکہ مکرمہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرماتے ہوئے کہا، کہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی زمین کے اندر سے پانی کے ایسے چشمے بہا دیے ہیں کہ جن میں کوئی میٹھا اور پسندیدہ پانی ہے، اور کوئی کڑوا ہی کیوں نہ ہو اس میں پیدا ہونے والی مچھلیوں میں پانی کی کرواہٹ نہیں ہوتی، جب مچھلی پکا کر کھائی جائے، تو اسپر نمک لگا کر کھایاجاتا ہے، نہ صرف اللہ کی قدرت ہے، کہ اس نے ہر چیز کی تاثیر کو اپنے قبضے میں رکھا ہے، وہی ہر چیز میں تاثیر پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ زمین ، آسمان اور فرشتوں کا خالق ومالک اللہ ہی ہے ۔ وہ جس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے تو کسی کو یہ جرأت و طاقت نہیں کہ اس کو روک سکے اور جس وہ اپنی رحمتوں اور کرم کے دروازے بند کر دے اس کو کوئی کھلوانے والا نہیں ہے۔ ٭ انسان پر اللہ نے ہزاروں نعمتیں نازل فرمائی ہیں ان کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ کی ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کرتا رہے کیونکہ اللہ کو بندے کا جذبہ شکر بہت پسند ہے ، شکر سے نعمتوں میں اضافہ اور ترقی نصیب ہوتی ہے صرف ایک اللہ ہی شکر کا حق دار ہے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جا نثاروں کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ کفار و مشرکین اور بت پرست اللہ کے نبی اور اس کی آیات کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی ایسی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے کیونکہ ہر دور میں جب بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) نے دنیا کے لالچ میں ڈوبے ہوئے رسم پرستوں اور بت پرستوں کو اللہ کے دین کی طرف بلایا تو انہوں نے نہ صرف اس کا انکار کیا بلکہ شدید مزاحمت بھی کی ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ہر طرح کے مصائب پر صبر کیا جس پر انہوں نے ان کی امتوں کو دنیا اور آخرت کی خیر ، بھلائی اور نعمتوں سے نوازا گیا ۔ ٭کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے اس کا فیصلہ انسان نہیں کرسکتا ، ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی ایک بات کو بہت پسند کرتا ہو مگر وہی بات اللہ کو ناپسند ہو تو اس بات کا فیصلہ دنیا میں اللہ کا کلام کر دے گا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ خود فرما دیں گے کہ ان کو انسانوں کے کون کون سے اعمال پسند یا ناپسند تھے۔ ٭حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کے ذریعہ نسل انسانی کی ابتداء ہوئی ، ان لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام نازل فرمایا اور لوگوں کی اصلاح کے لئے انبیاء کرام (علیہ السلام) جیسے منتخب بندوں کو بھیجا ۔ یہاں تک کہ اللہ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیج کر سلسلہ نبوت کو مکمل فرمایا ۔ (اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی زمین کے اندر سے پانی کے ایسے چشمے بہا دیئے ہیں کہ جن میں کوئی میٹھا اور پسندیدہ پانی ہے اور کوئی کڑوا ، کسیلا ، کھارا اور نمکین پانی ہے اگرچہ پانی کڑوا ہی کیوں نہ ہو اس میں پیدا ہونے والی مچھلیوں میں پانی کی کوئی کڑواہٹ نہیں ہوتی بلکہ جب مچھلی پکا کر کھائی جاتی ہے تو اس پر نمک چھڑک کر کھاتا جاتا ہے۔ نہ صرف اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے ہر چیز کی تاثیر کو اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے ، وہی ہر چیز میں تاثیر پیدا کرتا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ جو کتاب الٰہی کو پڑھ کر اس کے مطابق ایمان اور عمل صالح کا پیکر بن جاتے ہیں ، نمازوں کا اہتمام اور اللہ کے بندوں پر مال خرچ کرتے ہیں وہ در حقیقت ایسی تجارت کر رہے ہیں جس میں کسی نقصان کا اندیشہ یا خوف نہیں ہے۔ ) اب صرف نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری ہی انسانوں کی کامیابی کی ضمانت ہے جو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کے ڈگر سے ہٹے گا وہ راہ ہدایت سے بھٹک جائے گا اور جو ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرے گا دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور نجات اس کو عطاء کی جائیں گی۔ ٭اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی زمین سے میٹھے ، کڑوے ، کھارے اور پانی کے سوتے جا ری کردیئے ہیں جو ہر ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں آپس میں نہیں ملتے ۔ اسی کڑوے اور نمکین پانی میں جب کوئی مچھلی اپنی رزق حاصل کرتی ہے تو اس میں پانی کی کوئی کڑواہٹ نہیں آتی اسی کڑوے اور کسیلے پانی میں بہترین سچے موتی اور مونگے پیدا ہوتے ہیں اور اپنی چمک دمک سے وہ لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کردیتے ہیں یہ سب اللہ کی قدرت سے ہے۔ اللہ نے دریا ، چشمے اور سمندر بنائے اس میں کشتیاں جہاز چلتے ہیں اور کنارے سے دوسرے کنارے تک لوگوں کو اور ان کی ضرورت کے سامان کو لے کر دن رات سفر کرتے ہیں ۔ ہوائیں ان جہازوں کو سہارا دیتی ہیں اس طرح ہر شخص اس کی نعمت سے فائدہ حاصل کرتا ہے۔ چاند ، سورج ، ستارے ، حیوانات سب اللہ نے انسان کے خادم بنا دیئے ہیں ۔ وہ اللہ کی قدرت سے انسانوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ فرمایا کہ آدمی یہ نہیں سوچتا کہ ان تمام چیزوں کو صرف ایک اللہ ہی نے پیدا کیا ہے وہ ان کا خالق ہے اور وہی ان سب چیزوں کا مالک ہے وہی اس نظام کائنات کو اپنے حکم سے چلا رہا ہے۔ ٭انسان ان میں سے ہر چیز کا محتاج ہے لیکن ان چیزوں کا خالق کسی کا محتاج نہیں ہے۔ ساری قدرتیں اس کے ہاتھ میں ہیں وہ اگر چاہے تو دنیا کے سارے لوگوں کو ختم کر کے ایک دوسری مخلوق کو لے آئے کوئی چیز اس کے دست قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اس کے قبضے اور اختیار میں ہے۔ ٭اللہ تو اپنے بندوں پر بہت مہربان اور کرم کرنے والا ہے مگر انسان نا شکری کر کے اپنے لیے تباہی کے گڑھے اپنے ہاتھوں سے کھود لیتا ہے اور اس میں فرق نہیں کرتا کہ کون سی چیز بہتر ہے اور کون سی بدتر ۔ فرمایا کہ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔ ٭جس طرح اندھا اور آنکھوں والا ، اندھیرا اور روشنی ، دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح زندہ اور مردہ بھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ کفار در حقیقت اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے مردہ ہوچکے ہیں اور زندگی کے اندھیروں میں اس طرح ڈوب چکے ہیں کہ انہیں روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول آئے ان کو واضح دلائل ، کھلے معجزات ، صحیفے اور روشنی کتابیں دی گئیں لیکن کفار نے ان سب کو دیکھنے ، سمجھنے اور سننے کے باوجود انکار کردیا ۔ ان کو مہلت بھی دی گئی لیکن جب وہ حد سے گزر گئے تو ان پر اللہ کا قہر نازل ہو کر رہا ۔ ٭اللہ نے ایسا انتظام کردیا ہے کہ آسمانی بلندیوں سے پانی برستا ہے جس سے مختلف قسم کے پھل ، پھول ، سبزی ، ترکاری اور میوے نکلتے ہیں ۔ اسی طرح پہاڑوں کے رنگ بھی مختلف ہیں کوئی سفید کوئی سیاہ کوئی سرخ اور کوئی زرد رنگ کا ہوتا ہے۔ جانوروں میں بھی مختلف رنگ روپے ہوتے ہیں ان سب چیزوں کو سوائے اللہ کے اور کس نے پیدا کیا ؟ یہ سب اسی کی قدرت کے شاہکار ہیں ۔ منکرین کو اللہ سے ڈرنا اور توبہ کرنا چاہیے لیکن اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم و فہم رکھنے والے ہیں جو ہر سچائی سے منہ پھیر کر چلنے کو اپنی شان سمجھتے ہیں وہ کبھی اس سچائی کو قبول نہ کریں گے ۔ ٭جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب کو پڑھ کر اس کے مطابق ایمان و عمل صالح اختیار کرتے ہیں ، اپنی عبادات میں خاص طور پر نمازوں کا اہتمام اور ادائیگی کرتے ہیں اور مالی عبادت میں وہ کھل کھلایا چھپ کر اپنا مال خرچ کرتے ہیں وہ در حقیقت ایسی تجارت کر رہے ہیں جس میں نقصان کا کوئی اندیشہ یا خوف نہیں ہے۔ اس پر انہیں اتنا عظیم صلہ اور بدلہ ملے گا جس کا وہ اس دنیا میں تصور میں بھی نہیں کرسکتے لیکن جو کفر پر جمے بیٹھے ہیں ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس میں جانے کے بعد روئیں گے ، فریاد کریں گے ، جلائیں گے مگر یہ سب چیزیں ان کے کام نہ آسکیں گی۔ ٭اللہ ہی ہر غیب اور چھپے ہوئے کا جاننے والا اور دلوں کے بھید سے واقف ہے۔ وہ ہر شخص کو ایک خاص مہلت دیتا ہے تا کہ وہ اچھی طرح سوچ کر اپنے حق میں بہتر فیصلہ کرے۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ ہر شخص کو اس کے ہر عمل پر اسی وقت سزا نہیں دیتا بلکہ اس کو پھر ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے لیکن وہ ڈینگیں مارنے والے بد قسمت اپنے گناہوں پر شرمندہ نہیں ہوتے اس لیے مدت گزرنے کے بعدان کو سخت سزا دی جاتی ہے جو دوسروں کے لیے بھی عبرت و نصیحت بن جاتے ہیں۔
سورة فاطر کا تعارف سورۃ فاطر مکہ کی سرزمین پر نازل ہوئی۔ اس کا نام اس کی پہلی آیت کا تیسرا لفظ ہے۔ یہ سورت پانچ رکوع اور پینتالیس آیات پر مشتمل ہے۔ ربط سورة : سورة سبا کے اختتام میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت کے بارے میں شک کرتے ہیں۔ وقت آئے گا کہ وہ آخرت پر ایمان لائیں گے لیکن اس وقت انہیں ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ بھاگنے کی کوشش کریں گے لیکن فوراً گرفتار کرلیے جائیں گے۔ سورة فاطر کی ابتداء ” اللہ “ کی حمد سے ہوئی ہے اور ملائکہ کی قوت کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ کچھ ملائکہ کے دو دو پر ہیں کچھ کے تین تین اور کچھ ملائکہ چار پروں والے ہیں۔ اور جبریل امین (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ کے نبی نے فرمایا ہے کہ ” لَہُ سِتُّ ماءَۃِ جَنَاحٍ قَد سَدَّالْاُفُقَ “ (رواہ الترمذی : باب ومن سورة النجم) ان کے چھ سو پر ہیں۔ اس کا ایک پر حد نگاہ سے بھی بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے اپنی مخلوق کو پیدا کرتا ہے اور وہ ہر کام کرنے پر پوری قوت اور اختیار رکھتا ہے۔ ملائکہ کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیارات کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت سے سرفراز کرے اور جسے چاہے اپنی رحمت سے محروم رکھے۔ نہ اس کی رحمت کو کوئی روک سکتا ہے اور نہ اسے جبراً کوئی حاصل کرسکتا ہے وہ ہر اعتبار سے غالب اور حکمت والا ہے۔ یہ اس کی رحمت کا ہی انداز ہے کہ وہ جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے کم کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں لیکن اس کے باوجود لوگ دوسروں کو معبود بناتے اور بہک جاتے ہیں۔ قیامت قائم کرنے کے بارے میں اس کا وعدہ برحق ہے۔ اس دن کفار کو شدید عذاب ہوگا اور نیک لوگوں کو اجر عظیم دیا جائے گا۔ سورۃ کے دوسرے رکوع میں انسان کی تخلیق کے مراحل کا ذکر فرما کر واضح کیا ہے کہ انسان کن مراحل سے گزر کر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد بتلایا کہ سمندر میں میٹھے اور کڑوے پانی کا اکٹھا چلنا، سمندر سے مچھلیوں اور موتیوں کا نکلنا، رات اور دن کا ایک دوسرے کے کچھ حصہ پر غالب آنا اور چاند اور سورج کا اپنی اپنی ڈیوٹی پر وقت مقرر کے مطابق چلتے رہنا، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ عظیم نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ یہی تمہارا ” اللہ “ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور سب کچھ اسی کا ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی میں پڑے ہوئے پردے کے برابر بھی اختیارات نہیں رکھتے۔ یہاں تک کہ وہ تمہاری فریاد بھی نہیں سن سکتے جن کو تم اپنے رب کا شریک بناتے ہو وہ قیامت کے دن اپنے ماننے والوں کا انکار کریں گے۔ لہٰذا لوگو ! اِدھر ادھر جانے کی بجائے صرف اپنے رب سے مانگا کرو۔ وہ غنی اور صاحب تعریف ہے اور تم سب اس کے در کے فقیر ہو۔ اگر وہ چاہے تو سب کو ختم کر کے نئی مخلوق پیدا کر دے وہ ایسا کرنے پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ اور نہ ہی قیامت کے دن بھی کوئی اس کے کام میں دخل انداز نہیں ہو سکے گا یہاں تک کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اس حقیقت سے آگاہ کرنے کے بعد توحید اور کفر کا تقابل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح اندھا اور دیکھنے والا، اندھیرا اور روشنی، دھوپ اور سایہ، زندہ اور مردے برابر نہیں ہوتے یہی توحید اور شرک کا آپس میں فرق ہے۔ اتنا فرق ہونے کے باوجود لوگ ” اللہ “ کی توحید کو ماننے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا گیا تھا یہ لوگ حقیقت میں مردہ ہوچکے ہیں آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ اس کے بعد بارش، پہاڑوں اور چوپاؤں کا ذکر فرماکر اشارۃً سمجھایا ہے کہ جس طرح بارش سے مختلف قسم کی نباتات نکلتی ہیں اور پہاڑوں کی مختلف اقسام اور رنگ ہوتے ہیں، چوپاؤں اور انسانوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اسی طرح لوگوں کے مزاج میں فرق ہوتا ہے کچھ لوگ نرم اور سلیم الفطرت ہوتے ہیں جو حق بات کو جلد قبول کرلیتے ہیں اور کچھ ان میں سے سخت طبیعت اور بدمزاج ہوتے ہیں جو حق بات کو قبول کرنے کی بجائے اس کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں البتہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی علم سے نوازا ہے وہ اپنے رب سے ڈرنے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی خطاؤں کو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے کیونکہ وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ سورت کے آخری دو رکوع میں دیگر مسائل بتلانے کے بعد مشرکوں کو چیلنج دیا ہے اگر تمہارے بنائے ہوئے شریکوں کے پاس ان کی پیدا کردہ کوئی چیز ہو یا کوئی اور دلیل ہو تو وہ پیش کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا بردبار اور بخشنہار ہے۔ اگر وہ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑنے پر آئے تو زمین پر کوئی چیز باقی نہ رہے لیکن اس نے لوگوں کو ایک وقت تک مہلت دے رکھی ہے۔ یقیناً وہ اپنے بندوں کی ہر وقت نگرانی کرنے والا ہے۔
سورة فاطر ۔ 35 آیات 1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 45 سورۂفا طر ایک نظر میں یہ مکی سورة ہے اور سیاق کلام اور موضوع کے اعتبار سے اس کا یک مخصوص انداز ہے ۔ اس کا انداز سورة رعد کے مطابق ہے ۔ آغاز سے لے کر انتہاتک قلب انسانی کے لیے نہایت ہی موثر ضربات لگائی گئی ہیں ۔ یہ ضربات نہایت ہی موثر اور اشاراتی اور انسان کو خوب جھنجھوڑ نے والی ہیں ۔ انسان کو غفلت سے جگا تی ہیں تاکہ وہ غور کرے اور اس کا ئنات کی عظمت کا ادراک کرے ۔ اس کائنات کی حیران کن خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکے اور اس کے اندر خالق کائنات کے وجود پر جو دلائل اور نشانیاں جابجا بکھری پڑی ہیں ان پر انسان غور اور تدبرکرے۔ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرے اور اللہ کی رحمت اور اللہ کی نگرانی اور مہربانی کو یاد کرے۔ گزرے ہوئے لوگوں کی مقتل گاہوں کو دیکھے اور قیامت کے مناظر بھی دیکھے ۔ اس کا ئنات میں اللہ کی صنعت کا ریوں ، وست قدرت کے معجزات ، انسانی ننس کے اندر تخلیق کردہ اعجوبے ، انسانی زندگی کے عجیب نشیب و فراز اور انسانی تاریخ کے عبرت آموز واقعات کو دیکھ کر اللہ کو خوف اپنے دل کے اندر پیدا کرے ۔ پھر وہ دیکھے کہ اس کائنات اور ان تمام آثار کے اندر ایک ہی سچائی اور ایک ہی قانون جاری وساری ہے اور ایک ہی صانع ، مہدع اور قوی وست قدرت کام کررہا ہے ۔ یہ تمام امور ایسے موثر انداز میں بیان کیے گئے ہیں کہ کوئی زندہ دل ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ یہ سورة اس طرح ہے جس طرح زنجیر کی کڑیاں باہم پیوست ہوتی ہیں ، اس کو اسباق اور دروس کے اندر تقسیم نہیں کیا جاسکتا ۔ پوری سورة کا ایک ہی موضوع ہے ۔ انسان کے قلب و خرو کی تاروں پر ضربات ہیں اور یہ ضربات اس کائنات ، نفس انسانی ، حیات انسانی ، تاریخ انسانی ، بعث بعد الموت کے واقعات سے مملو ہیں ۔ یوں یہ زمز مے نفس کو ہر پہلو سے متاثر کرتے ہیں اور دل کو ہر طرف سے گھیرتے ہیں اور انسان کی روحانی دنیا کو ایمان ، خضوع وخشوع اور یقین سے بھر دیتے ہیں ۔ ان تمام تبصروں اور نصیحتوں میں ممتازبات یہ ہے کہ تمام ڈوریوں کے سرے دست قدرت میں پکڑے گئے ہیں اور یہ دکھایا گیا ہے کہ دست قدرت کی کارفرمائیاں ہیں کہ وہ ان ڈوریوں کو ہلاتا ہے اور اس کائنات میں اعجوبے نمودار ہوتے ہیں ۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو کسی رسی کو کھینچ لیتا ہے اور کسی کو دراز چھوڑتا ہے ، کسی کو سخت کرتا ہے اور کسی کو نرم کرتا ہے ۔ اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی مددگار اور شریک ہے ۔ سورة کے آغار ہی سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ دست قدرت کی یہ کار فرمائیاں نمایاں ہیں ۔ اور یہ سورة کے خاتمے تک یونہی جاری ہیں ۔ سب سے پہلے یہ کہا گیا ہے کہ یہ عظیم کائنات دست قدرت کا کرشمہ ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو اسے وجود میں لایا ہے اور وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔ الحمدللہ ۔۔۔۔۔۔ کل شی قدیر (35: 1) ” تعریف اللہ ہی کے لیے جو آسمان اور زمین کا بنانے والا اور فرشتوں کو پیغام رساں مقرر کرنے والا ہے جن کے دودو تین تین اور چارچار بازو ہیں ۔ وہ اپنی مخلوق کی ساخت مین جیسا چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے ، یقیناًوہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اور اللہ کا یہ قبضہ قدرت بےقید ہے ۔ اگر اللہ رحمت کا فیضان عام کرتا ہے تو اسے کوئی بند نہیں کو سکتا اور اگر اللہ اپنی رحمت کے سرچشمے خشک کردے تو کوئی نہیں ہے کہ انہیں جاری کو سکے ۔ یایھا الناس۔۔۔۔۔۔ الحکیم (35: 2) ” اللہ جس رحمت کا لوگوں کے لیے دروازہ کھول دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے بند کردے ، اسے کوئی دوسراکھولنے والا نہیں ہے ۔ وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ ہدایت اور ضلالت بھی ایک قسم کی رحمت ہے یا رحمت ۔ فان اللہ ۔۔۔۔ من یشاء (35: 8) ” اللہ ہی ہے جسے چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے ہدایت دے دے “۔ ان اللہ ۔۔۔۔ فی القبور (35: 22) ان انت الا نذیر (35: 23) ” اللہ جسے چاہتا ہے ، سنوارتا ہے مگر تم ان لوگوں کو نہیں سناسکتے جو قبروں میں مدفون ہیں ۔ تم تو بس ایک خبر دار کرنے والے ہو “۔ یہی دست قدرت ہے جس نے پہلے زندگی پیدا کی اور وہ دوبارہ بھی زندگی عطاکرے گا اور قیامت میں مردوں کو اٹھائے گا۔ واللہ الزی ۔۔۔۔ کذٰلک النشور (35: 9) ” وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے ، پھر وہ بادل اٹھاتی ہیں پھر ہم اسے ایک اجاڑزمین کی طرف لے جاتے ہیں جو مری پڑی تھی ۔ مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اس طرح ہوگا “۔ اور عزت اور برتری سب اللہ لے لیے ہیں ۔ اور ہر قسم کی عزت اور برتری کا سرچشمہ اللہ ہی ہے ۔ من کان ۔۔۔۔۔ جمیعا (35: 10) ” جو عزت چاہتے ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ عزت سازی کی سازی اللہ کے لیے ہے “۔ تخلیق ، وجود میں لانا ، نسل چلانا اور پھر مارناسب کے سب اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ واللہ خلقکم۔۔۔۔۔۔۔۔ علی اللہ یسیر (35: 11) ” اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے ۔ پھر تمہارے جو ڑے بنا دیئے ۔ کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جتنی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے ۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کہی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوا ہوتا ہے ، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہوتا ہے “۔ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں آسمان و زمین کی کٹجیاں ، افلاک وکواکب کی حرکات اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔ یولج الیل ۔۔۔۔۔۔ من قطمیر (35: 13) ” وہ دن کے اندر رات اور رات کے اندر دن کو پروتا ہے ہوالے آتا ہے ، چاند اور سورج کو اس نے مسخر کررکھا ہے ۔ یہ سب کچھ ایک وقت مقررہ تک چلے جارہا ہے ۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے ۔ بادشاہی اسی کی ہے ۔ اسے چھوڑ کر جن دوسروں کو تم پکارتے ہو ، وہ ایک پر کا ہ کے مالک بھی نہیں ہیں “۔ اللہ کا دست قدرت اس کائنات میں متصرف ہے ۔ وہ جمادلت ، نباتات اور حیوانات اور انسانوں میں تصرف کررہا ہے ۔ الم تر ان۔۔۔۔۔۔۔۔ عزیزغفور (35: 27) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمانوں سے پانی برسارہا ہے اور پھر اس کے ذریعے سے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں ۔ جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں ۔ پہاڑوں میں بھی سفید سرخ اور گہری سیاہ دھاریاَں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں ۔ یہ دست قدرت انسان کو قدم بقدم آگے لے آتا ہے اور ایک نسل کو دوسری نسل کا وارث بناتا ہے ۔ ثم اور ثنا ۔۔۔۔۔ من عبادنا (35: 32) ” پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنادیا ان لوگوں کو ، جنہیں ہم نے اپنے بندوں کے لیے منتخب کیا “۔ ھو الزی۔۔۔۔ فی الارض (35: 39) ” وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو خلیفہ بنایا “۔ اور یہی اللہ ہے جس نے اس پوری کائنات کو تھام رکھا ہے اور اسے زوال سے محفوظ کردیا ہے ۔ ان اللہ ۔۔۔۔۔ من بعدہ (35: 41) حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہے جو زمین و آسمان کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی دوسرا انہیں تھامنے والا نہیں ہے “۔ تمام امور اللہ کے دست قدرت کے قبضہ میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کو کوئی قوت کسی کام سے عاجز نہیں کرسکتی ۔ وما کان ۔۔۔۔۔ فی الارض (35: 44) ” اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کی کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی “۔ انہ کان علیما قدیرا (35: 44) ” وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ وھوالعزیزالحکیم (35: 2) ” وہ عزیز و حکیم ہے “۔ والی اللہ ترجع الا مور (35: 4) ” تمام امور اللہ کی طرف لوٹتے ہیں “۔ علیم بما یصنعون (35: 8) ” وہ ان باتوں کو جانتا ہے جو تم کرتے ہو “۔ لہ الملک ” بادشاہت اسی کی ہے “۔ الغنی الحمید ” وہ غنی اور اپنی ذات میں محمود ہے “۔ الی اللہ المصیر (18:35) ” اور اللہ ہی کی طرف لو ٹنا ہے “۔ وہ ” عزیزو غفور “ ہے۔ وہ ” غفورو شکور “ ہے وہ ” خبیروبصیر “ ہے۔ وہ ” زمین و آسمانوں “ کے غیب کا جاننے والا ہے ۔ وہ علیم بذات الصدد رہے ۔ وہ حلیم و غفور ہے ۔ وہ علیم وقدیر ہے وہ تمام بندوں پر بصیر ہے ۔ ان آیات اور آیات کے تراجم سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة کی فضا کیا ہے اور اس پوری سورة کا یہ رنگ ہے۔ ہاں سورة کی تشریح کی خاطر ہم نے اسے چھ حصوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ اس کے معانی اور تشریحات سہولت سے کی جائیں ورنہ یوں یہ سورة دراصل ایک ہی حلقہ اور ایک ہی سبق ہے اور ادل سے آخر تک مضمون وموضوع بھی ایک ہی رنگ کا ہے ۔