Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 13

سورة فاطر

یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ ۖکُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ لَہُ الۡمُلۡکُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِیۡرٍ ﴿ؕ۱۳﴾

He causes the night to enter the day, and He causes the day to enter the night and has subjected the sun and the moon - each running [its course] for a specified term. That is Allah , your Lord; to Him belongs sovereignty. And those whom you invoke other than Him do not possess [as much as] the membrane of a date seed.

وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور آفتاب و ماہتاب کو اسی نے کام میں لگا دیا ہے ۔ ہر ایک میعاد معین پر چل رہا ہے یہی ہے اللہ تم سب کا پالنے والا اسی کی سلطنت ہے ۔ جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The gods of the Idolators do not even own a Qitmir Allah says, يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ... He merges the night into the day, and He merges the day into the night. Another aspect of His perfect power and might is that He has subjugated the night with its darkness and the day with its light. He takes from the length of the one and adds it to the shortness of the other, until they become equal. Then He takes from the latter and adds to the former, so one becomes long and the other becomes short, so they take from one another in summer and in winter. ... وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ... And He has subjected the sun and the moon, and the stars and planets, with their light. All of them run in their appointed courses and in the manner prescribed for them, as decreed by the Almighty, All-Knowing. ... كُلٌّ يَجْرِي لاَِجَلٍ مُّسَمًّى ... each runs its course for a term appointed. means, until the Day of Resurrection. ... ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ ... Such is Allah, your Lord. means, the One Who has done all this is the Almighty Lord besides Whom there is no other true God. ... لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ ... And those, whom you invoke or call upon instead of Him, means, `the idols and false gods whom you claim to be in the form of angels who are close to Allah,' ... مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ own not even a Qitmir. Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ikrimah, Ata, Atiyah Al-Awfi, Al-Hasan, Qatadah and others said, This is the thread that is attached to the pit of a date. In other words, they do not possess anything in the heavens or on earth, not even anything equivalent to this Qitmir. Then Allah says:

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے رات کو اندھیرے والی اور دن کو روشنی والا بنایا ہے ۔ کبھی کی راتیں بڑی کبھی کے دن بڑے ۔ کبھی دونوں یکساں ۔ کبھی جاڑے ہیں کبھی گرمیاں ہیں ۔ اسی نے سورج اور چاند کو تھمے ہوئے اور چلتے پھرتے ستاروں کو مطیع کر رکھا ہے ۔ مقدار معین پر اللہ کی طرف سے مقرر شدہ چال پر چلتے رہتے ہیں ۔ پوری قدرتوں والے اور کامل علم والے اللہ نے یہ نظام قائم کر رکھا ہے جو برابر چل رہا ہے اور وقت مقررہ یعنی قیامت تک یونہی جاری رہے گا ۔ جس اللہ نے یہ سب کیا ہے وہی دراصل لائق عبادت ہے اور وہی سب کا پالنے والا ہے ۔ اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں ۔ جن بتوں کو اور اللہ کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں خواہ وہ فرشتے ہی کیوں نہ ہوں اور اللہ کے پاس بڑے درجے رکھنے والے ہی کیوں نہ ہوں لیکن سب کے سب اس کے سامنے محض مجبور اور بالکل بےبس ہیں ۔ کھجور کی گٹھلی کے اوپر کے باریک چھلکے جیسی چیز کا بھی انہیں اختیار نہیں ۔ آسمان و زمین کی حقیر سے حقیر چیز کے بھی وہ مالک نہیں ، جن جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری آواز سنتے ہی نہیں ۔ تمہارے یہ بت وغیرہ بےجان چیزیں کان والی نہیں جو سن سکیں ۔ بےجان چیزیں بھی کہیں کسی کی سن سکتی ہیں اور بالفرض تمہاری پکار سن بھی لیں تو چونکہ ان کے قبضے میں کوئی چیز نہیں اسلئے وہ تمہاری حاجت برآری کر نہیں سکتے ۔ قیامت کے دن تمہارے اس شرک سے وہ انکاری ہو جائیں گے ۔ تم سے بیزار نظر آئیں گے ۔ جیسے فرمایا ( وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ Ĉ۝ ) 46- الأحقاف:5 ) ، یعنی اس سے زیادہ گمراہ کون ہو گا جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کو نہ قبول کر سکیں بلکہ ان کی دعا سے وہ محض بےخبر اور غافل ہیں اور میدان محشر میں وہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں سے منکر ہو جائیں گے اور آیت میں ہے ( وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا 81؀ۙ ) 19-مريم:81 ) یعنی اللہ کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزت بنیں لیکن ایسا نہیں ہو سکے گا بلکہ وہ ان کی عبادتوں سے بھی منکر ہو جائیں گے اور ان کے مخالف اور دشمن بن جائیں گے ۔ بھلا بتاؤ تو اللہ جیسی سچی خبریں اور کون دے سکتا ہے؟ جو اس نے فرمایا وہ یقینا ہو کر ہی رہے گا ۔ جو کچھ ہونے والا ہے اس سے اللہ تعالیٰ پورا خبردار ہے اسی جیسی خبر کوئی اور نہیں دے سکتا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 یعنی مذکورہ تمام افعال کا فاعل ہے۔ 13۔ 2 یعنی اتنی حقیر چیز کے بھی مالک نہیں نہ اسے پیدا کرنے پر ہی قادر ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ١٩] دن اور رات کے نظام میں تدریج :۔ یعنی جب سورج نکلنے کے قریب ہوتا ہے تو سب سے پہلے روشنی کی ایک لکیر آسمان پر نمودار ہوتی ہے یہ دن کا آغاز ہے۔ پھر یہ روشنی پھیلنا شروع ہوجاتی ہے۔ اور ہر چیز نظر آنے لگتی ہے پھر سورج نکلتا ہے تو روشنی میں اور اضافہ ہوجاتا ہے حتیٰ کہ دوپہر ہونے تک اس کی روشنی بڑھتی ہی جاتی ہے اور اس میں حرارت اور شدت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے پھر زوال کا وقت شروع ہوتا ہے تو اسی طرح بتدریج گرمی میں اور روشنی میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ حتیٰ کہ غروب آفتاب کے کچھ عرصہ بعد روشنی ختم ہوجاتی ہے تو اس کی جگہ تاریکی بڑھنے لگتی ہے اور یہ سب کچھ اس طرح آہستہ آہستہ اور تدریج کے ساتھ واقع ہوتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹا جارہا ہے۔ رات اور دن دونوں ایک دوسرے کے اندر آہستہ آہستہ داخل ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس رات اور دن کی آمدورفت میں سورج کو بڑا دخل ہے۔ رات کو سورج کی جگہ چاند اہل زمین کو روشنی مہیا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رات اور دن کا یہ نظام نہ بناتا تو بھی کوئی چیز زندہ نہ رہ سکتی تھی اور نہ ہی کوئی نباتات وغیرہ اگ سکتی تھی۔ اور یہ نظام کائنات تاقیامت مسلسل اسی طرح برقرار رہے گا۔ اور جب اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی تو اسی کا نام قیامت ہے۔ یہ سب کارنامے تو پروردگار حقیقی کے ہیں اس لئے وہ تو بندگی کا صحیح مستحق ہے۔ اب تم بتاؤ کہ تمہارے معبودوں نے تمہارے لئے کون کون سی فائدہ بخش چیزیں پیدا کی ہیں ؟ اور اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر ان کا اس کائنات میں تصرف اور اختیار کہاں سے آگیا ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (٢٧) ، حج (٦١) اور سورة لقمان (٢٩) ۔ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى : یعنی یہ سب قیامت کے دن تک چل رہے ہیں، جب قیامت آئے گی تو ان کا چلنا موقوف ہوجائے گا اور یہ نظام باقی نہیں رہے گا۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ ۔۔ :” قِطْمِيْرٍ “ کھجور کی گٹھلی پر باریک سے چھلکے کو کہتے ہیں، یعنی جس کی صفات اوپر بیان ہوئی ہیں حقیقت میں یہ ہے تمہارا سچا پروردگار، جو اکیلا زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اور جنھیں تم حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہو وہ بےچارے بادشاہ تو کیا ہوں گے، کھجور کی گٹھلی پر باریک سی جھلی کے مالک بھی نہیں۔ بعض مفسرین نے ” مِنْ دُوْنِهٖ “ سے مراد بت قرار دیے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی ہے سب شامل ہیں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے سید الاولین و الآخرین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ برملا اعلان کردیں کہ وہ نہ اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کے مالک ہیں، نہ کسی دوسرے کے لیے، پھر کسی اور پیر فقیر کی کیا حیثیت ہے ؟ دیکھیے سورة اعراف (١٨٨) اور سورة جنّ (٢١) اس کی ایک دلیل اگلی آیت کے یہ الفاظ ہیں : (وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ ) [ فاطر : ١٤ ] ” اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔ “ ظاہر ہے قیامت کے دن ان کے شرک کا انکار بت نہیں، بلکہ وہ فرشتے، انبیاء اور صالحین کریں گے جن کے وہ بت بناتے تھے اور جنھیں وہ پکارتے رہے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول نقل فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (١١٦) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَيُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ۝ ٠ ۙ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ۝ ٠ ۡ ۖ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى۝ ٠ ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ لَہُ الْمُلْكُ۝ ٠ ۭ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ۝ ١ ٣ۭ ولج الوُلُوجُ : الدّخول في مضیق . قال تعالی: حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] ، وقوله : يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ [ الحج/ 61] فتنبيه علی ما ركّب اللہ عزّ وجلّ عليه العالم من زيادة اللیل في النهار، وزیادة النهار في اللیل، وذلک بحسب مطالع الشمس ومغاربها . ( و ل ج ) الولوج ( ض ) کے معنی کسی تنک جگہ میں داخل ہونے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے ۔ اور آیت : ۔ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ [ الحج/ 61]( کہ خدا ) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔ میں اس نظام کائنات پت متنبہ کیا گیا ہو جو اس عالم میں رات کے دن اور دن کے رات میں داخل ہونے کی صورت میں قائم ہے اور مطالع شمسی کے حساب سے رونما ہوتا رہتا ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ سخر التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] ( س خ ر ) التسخیر ( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔ شمس یومنا واشمس ۔ دن کا دھوپ ولا ہونا شمس فلان شماسا گھوڑے کا بدکنا ایک جگہ پر قرار نہ پکڑناز ۔ گویا قرار نہ پکڑنے ہیں میں سورج کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔ قمر القَمَرُ : قَمَرُ السّماء . يقال عند الامتلاء وذلک بعد الثالثة، قيل : وسمّي بذلک لأنه يَقْمُرُ ضوء الکواکب ويفوز به . قال : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ( ق م ر ) القمر ۔ چاند جب پورا ہورہا ہو تو اسے قمر کہا جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ چاندکو قمر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ستاروں کی روشنی کو خیاہ کردیتا ہے اور ان پر غالب آجا تا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا ۔ جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔ خواہ نافعل اس کا متولی ہو یا نہ ہو ۔ چناچہ پہلے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تو اس کو تباہ کردیتے ہیں ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] کہ اس نے تم میں پیغمبر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ ملك ( مالک) فالمُلْك ضبط الشیء المتصرّف فيه بالحکم، والمِلْكُ کالجنس للمُلْكِ ، فكلّ مُلْك مِلْك، ولیس کلّ مِلْك مُلْكا . قال : قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وقال : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] وفي غيرها من الآیات ملک کے معنی زیر تصرف چیز پر بذیعہ حکم کنٹرول کرنے کے ہیں اور ملک بمنزلہ جنس کے ہیں لہذا ہر ملک کو ملک تو کہہ سکتے ہیں لیکن ہر ملک ملک نہیں کہہ سکتے قرآن میں ہے : ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] اور نہ نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا ۔ اور فرمایا : ۔ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] یا تمہارے کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا علی بذلقیاس بہت سی آیات ہیں قطمر قال تعالی: وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ ما يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ [ فاطر/ 13] أي : الأثر في ظهر النّواة، وذلک مثل للشیء الطّفيف . ( ق ط م ر ) القطمیر ( نقطہ سپید بر پشت دانہ کہ خرما ازدے روید ) قرآن پاک میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ ما يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ [ فاطر/ 13] اور جن لوگوں کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گھٹلی نے نقطہ سپید کے برابر بھی تو چیز کے مالک نہیں ۔ قطمیر کے معنی اس ہلکے سے سپید نقطہ کے ہیں جو گٹھلی پر ہوتا ہے ۔ یہ حقیر اور بےقدر چیز کے لئے ظرب المثل ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے جس کی وجہ سے چند گھنٹے دن رات سے بڑا ہوجاتا ہے اور دن کے اجزاء رات میں داخل کرتا ہے جس سے چند گھنٹے رات لمبی ہوجاتی ہے اور اس نے چاند و سورج کی روشنی کو انسانوں کے کام میں لگا رکھا ہے۔ چاند، سورج، رات اور دن میں سے ہر ایک وقت مقررہ تک اپنی منزلوں میں چلتے رہیں گے۔ یہی اللہ جس کی یہ شان ہے تمہارا پروردگار ہے وہی یہ تمام کام کرتا ہے یہ جھوٹے معبود کچھ بھی نہیں کرسکتے اسی کے قبضہ قدرت میں تمام خزانے ہیں اور جن کی تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ پوجا کرتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣ { یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ لا } ” وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں “ { وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَز } ” اور اس نے مسخر کیا ہے سورج اور چاند کو۔ “ { کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی } ” ہرچیز چل رہی ہے ایک معین ّوقت تک۔ “ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ } ” یہ اللہ ہے تمہارا ربّ ! ُ کل بادشاہی اسی کی ہے۔ “ { وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ } ” اور جنہیں تم پکارتے ہو اس کے سوا ‘ وہ ایک ذرّہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔ “ عرب میں کھجور عام پائی جاتی تھی بلکہ یہ ان کی بنیادی غذائی جنس تھی ‘ اس لیے اس کے حوالے سے مختلف مثالیں بھی دی جاتیں۔ چناچہ کسی حقیر چیز کا ذکر کرنے کے لیے قرآن میں کھجور سے متعلق دو الفاظ قِطمِیر اور فَتِیلاستعمال ہوئے ہیں۔ کھجور کی گٹھلی کے اوپر جو باریک سی جھلی ہوتی ہے اسے قِطمِیر کہا جاتا ہے ‘ جبکہ فَتِیل وہ باریک سا دھاگا ہے جو کھجور کی گٹھلی کی ناف کے اندر ہوتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30 That is, "The light of the day starts diminishing and the darkness of the night increasing gradually so as to cover up everything completely. Likewise, towards the end of the night, in the beginning, a streak of the light appears on the horizon, and then the bright day dawns." 31 "Subjected .." : subjected to a law. 32 The word qitmira in the original means the thin skin that covers the stone of the date-fruit; but what is meant to be said is that the gods of the mushriks do not own anything whatever. That is why we have translated it "a blade of grass", which is an insignificant thing.

سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :30 یعنی دن کی روشنی آہستہ آہستہ گھٹنی شروع ہوتی ہے اور رات کی تاریکی بڑھتے بڑھتے آخر کار پوری طرح چھا جاتی ہے ۔ اسی طرح رات کے آخر میں پہلے افق پر ہلکی سے روشنی نمودار ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ روز روشن نکل آتا ہے ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :31 ایک ضابطہ کا پابند بنا رکھا ہے ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :32 اصل میں لفظ قِطْمِیْر استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد وہ پتلی سی جھلی ہے جو کھجور کی گٹھلی پر ہوتے ہے ۔ لیکن اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ مشرکین کے معبود کسی حقیر سے حقیر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں ۔ اسی لیے ہم نے لفظی ترجمہ چھوڑ کر مرادی ترجمہ کیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٣ تا ١٧۔ یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملایا جا کر دن کو بڑا کردیا جاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیا جاتا ہے پھر فرمایا سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے نفع کے لیے کام میں لگا رکھا کہ ہر ایک چلتا ہے مقدار معین کے ساتھ مدت مقرر تک پھر فرمایا یہ ہے اللہ پروردگار ہے تمہارا جس نے یہ سارے کام کئے ہیں اسی کے واسطے بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ مالک نہیں ایک قطمیر کے ‘ قطمیر چھلکے کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور مجاہد وغیرہ نے کہا ہے کہ قطمیر وہ چھلکا ہے جو کھجور کی کٹھلی پر ہوتا ہے پھر فرمایا کہ اگر تم ان کو پکارو تو نہ سنیں وہ تمہارا پکارنا اس لیے کہ وہ تو پتھر ہی جن میں جان نہیں ہے اور اگر سنیں تو جو کچھ تم ان سے مانگتے ہو وہ اس میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے جو تم کو دیں ‘ قیامت کے دن وہ منکر ہوں گے تمہارے شریک ٹھہرانے کے اور تم سے بیزار ہوں گے جن فرشتوں اور نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ مشرک لوگ پوجتے ہیں ان فرشتوں اور نیک لوگوں کی قیامت کے دن کی بیزاری کا حال سورة یونس اور سورة سبا میں گزر چکا ہے ‘ یہ قیامت کے دن کا حال سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں اسی واسطے فرمایا کہ سوا اللہ کے اور کوئی اس حال کو نہیں بتلا سکتا ‘ اوپر طرح طرح کی قدرت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا کر آگے فرمایا اے لوگو تم اپنی ضرورت کی ہر ایک چیز میں اللہ کے محتاج ہو اور اوپر جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ان کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں اس لیے تعریف کے قابل بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے پھر فرمایا اس فہمائش کے بعد بھی اگر تم لوگ نہ مانو گے تو اللہ کی قدرت سے یہ بات کچھ بعید نہیں کہ وہ تم کو ہلاک کرکے تمہاری جگہ کسی فرما نبرداری مخلوقات کو پیدا کر دیوے ‘ سورة تبت کی تفسیر میں آوے گا کہ ابو لہب کو اللہ تعالیٰ نے طاعون کی بلا میں پکڑ کر ہلاک کردیا کہ تین دن تک اس کی لاش بغیر دفن کے پڑی رہی ‘ بعد اس کے ابولہب کے دونوں بیٹوں عتبہ اور معتبہ کو احکام دین کا فرمانبر دار بنا دیا ‘ نافرما نبرداروں کو ہلاک کر کے ان کی جگو فرما نبرداروں کو پیدا کردینے کا ذکر جو آخر کی آیت میں ہے اس کا مطلب ابولہب اور اس کے دونوں بیٹوں کے حال سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ ١ ؎ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے (١ ؎ مشکوۃ باب الظلم فصل اول) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بردباری ہے کہ لوگ شرک کرتے ہیں اور وہ ان کی صحت اور خوشحالی کے انتظام کو قائم رکھتا ہے ‘ نافرمان لوگوں کے جلدی ہلاک نہ ہونے کی یہ گویا تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:13) یولج۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ایلاج مصدر (افعال) سے وہ داخل کرتا ہے۔ یجری۔ مضارع واحد مذکر غائب جری وجریان مصدر (باب ضرب) وہ چلتا ہے وہ جاری رہتا ہے۔ اجل مسمی۔ اجل مدت مقررہ۔ موصوف ۔ مسمی اسم مفعول واحد مذکر ۔ تسمیۃ مصدر باب تفعیل۔ مقرر کردہ شدہ۔ صفت۔ اجل مسمی مدت مقررہ۔ ذلکم یہ ۔ یہی۔ اس میں کم ضمیر جمع خطاب کے لئے ہے۔ جو اتنی قدرتوں کا مالک ہے۔ جو اتنی حکمتوں والا ہے، جو اتنا عظیم احسان کرنے والا ہے ۔ اللہ ۔ وہ ہے اللہ۔ ربکم جو تمہارا پروردگار ہے۔ یعنی تمہارا پروردگار اللہ ان مذکوروہ بالا خوبیوں کا مالک ہے۔ تدعون۔ مضارع۔ جمع مذکر (جنہیں) تم پکارتے ہو۔ یعنی جن کی تم پوجا کرتے ہو۔ قطمیر۔ وہ باریک چھلکا جو گٹھلی پر لپٹا ہوتا ہے یا وہ باریک ڈورا جو گٹھلی کے شگاف میں ہوتا ہے۔ مراد حقیر یا بےمقدار چیز۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی دن کی روشنی آہستہ آہستہ گھنٹی شروع ہوتی ہے اور رات کی تاریکی بڑھتے بڑھتے آخر کارپوری طرح چھا جاتی ہے۔ وبالعکس (دیکھئے آل عمران آیت 26) اشارہ ہے کہ رات دن کی طرح کبھی کفر غالب ہے کبھی اسلام اور سورج چاند کی طرح ہر چیز کی مدت بندھی ہے دیر سویر نہیں ہوتی۔ ( موضح)4 یعنی کوئی معمولی سے معمولی اختیار بھی نہیں رکھتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

9۔ جس سے دن اور رات کے گھٹنے بڑہنے کے متعلق منافع حاصل ہوتے ہیں۔ 10۔ یعنی یوم قیامت تک۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : میٹھے اور کڑوے پانی، مچھلیوں، کشتیوں اور جو ہرات کے ذکر کے بعد رات اور دن کا ذکر کیونکہ رات اور دن بھی قدرت کی بڑی، بڑی نشانیوں میں سے عظیم نشانی ہیں اور اسی سے ہی زندگی کا نظام ترتیب پاتا ہے۔ قرآن مجید میں کئی بار ذکر ہوا ہے کہ لیل و نہار کی گردش، سورج اور چاند کا آنا جانا ” اللہ “ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں۔ بنیادی طور پر دن اور رات کا تعلق سورج اور چاند کی گردش کے ساتھ ہے۔ سورج اور چاند کے بارے میں سورة یٰس میں فرمایا ہے کہ نہ سورج چاند کو پاسکتا ہے اور نہ چاند سورج کے ساتھ مل سکتا ہے۔ دونوں اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ رات اور دن کے آنے، جانے میں سورج کا مرکزی کردار ہے۔ جونہی سورج طلوع ہوتا ہے تو رات کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کا اندھیرا عود کر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کا نظام اس طرح بنایا اور چلایا ہے کہ کبھی دن رات پر ایک حد تک غلبہ پاتا ہے اور کبھی رات دن کے ایک حصے کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے۔ نہ دن رات کے کچھ حصہ پر یکدم غلبہ پاتا ہے اور نہ رات یکبارگی دن کو اپنے دامن میں لپیٹتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کے لیے ایک رفتار اور نظام الاوقات مقرر کر رکھا ہے۔ سائنسدان کی ریسرچ کے مطابق کھربوں سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ آج تک لیل ونہار کی آمد ورفت میں خلل واقع نہیں ہوا۔ یہ سلسلہ مضبوط نظم کے ساتھ قیامت تک جاری رہے گا۔ اس میں قدرت کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انہیں بنانے اور چلانے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ اگر اس کے سوا یا اس کے ساتھ اور کوئی چلانے والے ہوتے تو بالیقین اس نظام میں کوئی نہ کوئی خلل واقع ہوتا۔ کیونکہ اسے چلانے والا ایک ہی الٰہ ہے۔ اس لیے یہ نظام منظم طریقے کے ساتھ جاری وساری ہے جو قیامت تک اس طرح ہی چلتا رہے گا۔ جہاں تک سورج کی روشنی اور اس کی تپش کے فوائد ہیں اور چاند کی چاندنی اور اس کے فائدے ہیں وہ اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی ان کا شمار نہیں کرسکتا اور یہی حال رات اور دن کے فوائد کا ہے جن سے ہر آدمی مستفید ہوتا ہے۔ اپنی نعمتوں سے مستفید کرنے والا اور لوگوں کی زندگی ترتیب دینے والا صرف ایک اللہ ہے اور وہی لوگوں کا رب اور بادشاہ ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے خالق اور مالک کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا خیرخواہ اور مددگار سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ پکارا جاتا ہے وہ کھجور کی گھٹلی کے پردے کے برابر بھی اختیارات نہیں رکھتے۔” قِطْمِیْرُ “ کھجور کے اس پردے کو کہا جاتا ہے جو اس کی گھٹلی کے درمیان لکیر میں پایا جاتا ہے یہ پردہ اس قدر باریک اور نازک ہوتا ہے کہ اکثر اوقات کھجور کے گودے کے ساتھ چمٹا رہتا ہے اور دیکھنے والے کو دکھائی نہیں دیتاگویا کہ بہت ہی حقیر اور کمزور ہوتا ہے۔ مگر مشرک ان لوگوں کو خدا کی خدائی میں شریک کرتے ہیں جن کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہی سب کا مالک ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہی نے چاند اور سورج کو مسخر فرمایا ہے۔ ٤۔ چاند اور سورج اپنے اپنے وقت اور مدار میں چلے جارہے ہیں۔ ٥۔ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنیوالا ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو کھجور کی گٹھلی کے پردے کے برابر بھی اختیار نہیں دیا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے اپنی بادشاہی میں کسی کو کچھ بھی اختیار نہیں دیا : ١۔ ہر کام کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔ (الحج : ٤١) ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرہ : ٢٠) ٣۔ ” اللہ “ پیدا کرتا ہے اور مختار کل ہے دوسروں کو کوئی اختیار نہیں ہے اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔ (القصص : ٦٨) ٤۔ قیامت کے دن آسمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ ( الزمر : ٦٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یولج الیل ۔۔۔۔۔ لاجل مسمی ” رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں ۔ یہ نہایت ہی خوبصورت مناظر ہیں۔ جب رات دن میں داخل ہوتی ہے تو روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی ہے اور تاریکی دھیرے دھیرے چھاتی ہے۔ غروب کے بعد پھر تاریکی گہری ہوتی جاتی ہے اور رات کے اندر دن کے داخل ہونے کا منظر بھی بہت ہی دلچسپ ہے۔ سفیدہ صبح آہستہ آہستہ نمودار ہوتا ہے ، روشنی پھیلتی جاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ روشنی نمودار ہوتی ہے اور خوب پھیل جاتی ہے۔ یعنی رات دن کو پوری طرح کھا جاتی ہے اور دن رات کو کھا جاتا ہے۔ دونوں اوقات میں دل کو خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے اور دونوں اوقات میں انسان کے غوروفکر کی قوت تیز ہوتی ہے۔ وہ خدا سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ خدا بہت ہی عظیم ہے جو یہ عظیم تصورات لاتا ہے۔ یوں خطوط کھینچتا ہے۔ ایک رسی کو کھینچتا ہے اور دوسری کو ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ اور گردش لیل و نہار کا یہ نظام نہایت ہی پیچیدہ اور حساس ہے اس کے اندر اس قدر استحکام ہے کہ کبھی اس میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی اضطراب پیدا نہیں ہوتا اور نہ کبھی اس میں خلل پڑتا ہے۔ شمس و قمر کی تسخیر اور اجل مقرر تک ان کا یونہی چلتے رہنا۔ اس وقت تک جس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ وہ منظر جسے ہر انسان دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ چاہے اسے شمس و قمر کا صحیح علم ہو یا نہ ہو ، چاہے اسے ستاروں اور سیاروں کے جسم ، حرکت اور حجم کے بارے میں معلومات ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن یہ دونوں اجرام فلکی ہمارے سامنے طلوع اور غروب ہوتے ہیں۔ ہر آنکھ کے سامنے چڑھتے اور گرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کی یہ حرکت ایک مسلسل حرکت ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کے لیے بھی خلل ، اضطراب اور وقفہ نہیں ہوتا۔ اس منظر کو اس حد تک دیکھنے کے لیے کسی گہرے علم و حساب کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لہٰذا گردش لیل و نہار اور شمس و قمر کا طلوع و غروب وہ منظر ہے جو ہماری نظروں کے سامنے بچھا ہوا ہے۔ آج ہم ان کے بارے میں ذرا زیادہ جانتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جن کے سامنے یہ قرآن نازل ہو رہا تھا۔ لیکن علم کی مقدار اہم نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ان سے کس قدر متاثر ہوتے ہیں ۔ ہمارے دل اس سے کس قدر اثر لیتے ہیں۔ ہمارے اندر غوروفکر کی کس قدر قوت پیدا ہوتی ہے اور ہم اس منظر سے اللہ کی قدرت کا کس قدر گہرا ادراک کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے دل کس قدر زندہ ہوتے ہیں کیونکہ اصل زندگی تو دلوں کی زندگی ہوتی ہے۔ ذلکم اللہ ربکم ۔۔۔۔۔۔ ینبئک مثل خبیر (13 – 14) یہ ہے وہ رب جس نے ہواؤں کے ذریعہ بال بھیجے ، جس نے بادلوں کے ذریعہ بارشیں بھیجیں ، جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، جس نے تمہیں جوڑے جوڑے بنایا ، جو جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا حمل لیتی ہے ، وہ جو جانتا ہے کہ کس کی عمر کیا ہے اور زیوریشن کیا ہے ، جس نے دو سمندر پیدا کیے۔ میٹھا اور کھارا ، جس نے رات اور دن پیدا کیے ، جس نے شمس و قمر کی گردش مقرر کی ۔ یہ ہے تمہارا رب۔ سب کچھ اسی کا ہے۔ لہ الملک اور والذین تدعون ۔۔۔۔۔ من قطمیر (35: 13) ” اور اس کے سوا جن دوسروں کو تم پکارتے ہو ، وہ پرکار کے مالک بھی نہیں ہیں “۔ قطمیر گٹھلی کے خلاف اور مہین پردے کو کہتے ہیں۔ یہ مہین اور حقیر پردہ بھی ان کی ملکیت میں نہیں ہے جن کو تم خواہ مخواہ پکارتے ہو۔ ذرا مزید تشریح۔ ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم (35: 14) ” انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن ہی نہیں سکتے “۔ یہ تو بت اور مورتیاں ہیں ، درخت ہیں ، ملائکہ اور جن ہیں۔ یہ سب کے سب بھی قطمیر کے مالک نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی تمہاری دعائیں نہیں سنتا۔ اگر سنتا بھی ہے تو وہ سمجھتا نہیں۔ اگر سمجھتا بھی ہے تو مدد نہیں دے سکتا۔ ولو سمعوا ما استجابوا (35: 14) ” اگر سنیں بھی تو جواب نہیں دے سکتے “۔ مثلاً جن و ملائکہ تو سنتے ہیں تو جن جواب ہی نہیں دے سکتے۔ اور ملائکہ بھی از خود کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ یہ تو ہے ان کی حالت دنیا میں اور قیامت میں تو وہ تم سے براءت کا اعلان کردیں گے۔ ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم (35: 14) ” اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے “۔ ذرا ہوش کرو ، یہ اطلاع تمہیں کون دے رہا ہے “۔ ولا ینبئک مثل خبیر (35: 14) ” ایسی صحیح خبریں تمہیں خبردار کرنے والے کے سوا کوئی نہیں دے سکتا “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوتا ہے اور اس کائنات کی سیر ختم ہوتی ہے۔ اس سیر سے قلب مومن نے بہت کچھ سیکھا اور دیکھا۔ وہ کیفیات مغفرت میں ڈوبا اور تیرا۔ اگر کوئی ہدایت لینا چاہے تو قرآن کی ایک سورة کا ایک ہی سبق اس کے لیے کافی ہے بشرطیکہ کوئی برہان و سلطان کا متلاشی ہو کسی نشانی اور معجزات کا طالب ہو۔ مجھے یہ ڈر ہے کہ دل زندہ تو نہ مر جائے ۔ کہ زندگی تو عبادت ہے تیرے جینے سے نہایت ہی گہرائی تک متاثر کردینے والے ان مناظر کی چھاؤں میں اور حیران کن حد تک متاثر کردینے والے دلائل ربوبیت کے ان مناظر میں بتایا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ یہ اسی کے کارنامے ہیں اور جو لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ نہایت ہی بڑے خسارے میں ہوں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا اللہ دن میں رات کو اور رات میں دن کو داخل فرماتا ہے، کبھی یہ کم ہو کر وہ بڑھ جاتا ہے اور کبھی وہ کم ہوتا ہے تو یہ بڑھ جاتا ہے، اور چاند اور سورج کو بھی اس نے مسخر فرمایا ہے یعنی ہر ایک کو اس سے متعلقہ کام میں لگا دیا ہے، ان کی روزانہ کی جو حرکات مقرر فرمائی ہیں اور ان کے لیے جو مدار معین فرمایا ہے وہ اس کے خلاف نہیں چل سکتے۔ ان کی یہ رفتار (اَجَلٍ مُّسَمًّی) یعنی مقررہ مدت تک اسی طرح جاری رہے گی جس طرح اللہ نے مقرر فرما دی اور مقررہ مدت سے یوم قیامت مراد ہے۔ (ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ ) یہ ذات پاک جس کی مخلوقات اور مصنوعات کا اوپر تذکرہ ہوا یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، وہ تمہارا رب ہے اسی کے لیے ملک ہے۔ (وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ ) اور جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

19:۔ یولج الیل الخ : یہ ساتویں عقلی دلیل ہے۔ رات دن کی آمد و رفت اور سورج اور چاند دوسرے لفظوں میں سارا نظام کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور اس میں تنہا وہی متصرف و مختار ہے لہذا وہی سب کا کارساز ہے۔ ذلک اللہ : یہ گذشتہ تمام دلائل پر متفرع ہے۔ یعنی جو ذات پاک مذکورہ بالا تمام صفات سے متصف ہے وہی اللہ تم سب کا مالک ہے اور ساری کائنات میں اسی کی حکومت اور اسی کا اختیار و تصرف ہے اس لیے کارساز اور حاجت روا بھی وہی ہے۔ اور وہی ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے اور وہی دعا اور پکار کے لائق ہے۔ 20:۔ والذین تدعون الخ : یہ دلائل سابقہ کا تفصیلی ثمرہ ہے۔ دلائل سابقہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کا خالق ومالک ہے رحمت و برکت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ سب کا رازق بھی وہی ہے سارے جہان میں اسی کا تصرف و اختیار چلتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا ہے سارے جہاں کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔ اور اللہ کے سوا یہ صفتیں کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔ لہذا ہر قسم کی عبادت اسی کا حق ہے اور وہی سب کا کارساز ہے اور حاجات میں پکارے جانے کے لائق بھی وہی ہے۔ باقی رہے تمہارے خود ساختہ کارساز جن کو تم حاجات و بلیات میں غائبانہ پکارتے ہو۔ وہ تو ایک چھلکے کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ اختیار رکھنا تو درکنار اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار سن بھی نہیں سکتے۔ اور اگر بالفرض وہ تمہاری پکار سن بھی لیں تو تمہاری حاجت برآری نہیں کرسکتے اور قیامت کے دن تمہارے خود ساختہ معبود جن کو تم دنیا میں پکارتے ہو تمہارے اس شرک (غائبانہ پکار) کا انکار کریں گے۔ یعنی صاف کہیں گے کہ ہمیں تو تمہاری آہ و فغاں اور پکار کا کوئی علم ہی نہیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ فکفی باللہ شہیدا بیننا و بینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین (یونس) ۔ ولا ینبئک الخ : اللہ تعالیٰ جو تمام حالات سے باخبر ہے اور ظاہر و باطن کو جانتا ہے اس سے بہتر کوئی بھی حقیقت سے پردہ نہیں اٹھا سکتا۔ وہ فرما رہا ہے کہ تمہارے خود ساختہ کارساز نہ تمہاری پکار سنتے ہیں نہ تمہاری حاجت روائی کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس آیت میں من دونہ سے تمام معبودان باطلہ مراد ہیں۔ من دونہ ای غیرہ وھم الاصنام و غیرہا وکل شیء دونہ (سربینی ج 2 ص 301) ۔ یحتمل ان یکون (الکلام) مع عبد تھا (الاصنما) و عبدۃ الملائکۃ و عیسیٰ وغیرہم من المقربین (روح ج 22 ص 182) ۔ ثم یجوز ان یرجع ھذا الی المعبودین مما یعقل کالملائکۃ والجن والانبیاء والشیاطین (قرطبی جلد 14 ص 336) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) وہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیا کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو تابع فرمان بنا رکھا ہے اور اس کام میں لگا رکھا ہے ان میں سے ہر ایک سورج اور چاند ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا یہی اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار ہے اسی کی سلطنت اور بادشاہی ہے اس کے سوا جن کو تم پوجتے اور پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی رات کے اجزاء دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کے اجزاء رات میں داخل کردیتا ہے۔ دونوں سورج چاند مسخر ہیں اور اس کے تابع فرمان ہیں۔ ایک وقت مقرر سے مراد قیامت ہے کہ قیامت کے دن تک یہ اسی طرح چلتے رہیں گے۔ یہی اللہ تعالیٰ جس کی یہ عظمت اور شان ہے تمہارا پروردگار ہے۔ اسی کی سلطنت ہے وہی عالم بالا پر حکومت کرتا ہے اور وہی عالم خاکی اور ارضی کا فرماں روا ہے اور جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو اور پکارتے ہو ان کو ایک چھلکے کا بھی اختیار نہیں۔ کہاں ارض و سماء پر حکمرانی اور کہاں ایک چھلکے کا مالک نہ ہونا یہ تمہارے معبود ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رات دن کی طرح کبھی کفر غالب ہے کبھی اسلام اور سورج چاند کی طرح ہر چیز کی مدت بندھی ہے دیر سویر نہیں ہوتی پھر اس میں سے اللہ کی وحدانیت نکلی۔ قطمیر کہتے ہیں باریک چھلکے جو کھجور کی گٹھلی پر ہے۔ دن رات گھٹنا بڑھنا مشاہدات میں سے ہے۔