Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 5

سورة فاطر

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۵﴾

O mankind, indeed the promise of Allah is truth, so let not the worldly life delude you and be not deceived about Allah by the Deceiver.

لوگو! اللہ تعالٰی کا وعدہ سچا ہے تمہیں زندگانی دنیا دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز شیطان تمہیں غفلت میں ڈالے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ... O mankind! Verily, the promise of Allah is true. meaning the Resurrection will undoubtedly come to pass. ... فَلَ تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ... So, let not this present life deceive you, means, `this life is as nothing in compare to the great good that Allah has promised to His close friends and the followers of His Messengers, so do not let these transient attractions distract you from that which is lasting.' ... وَلاَ يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ and let not the chief deceiver deceive you about Allah. This refers to Shaytan, as stated by Ibn Abbas, may Allah be pleased with him. Meaning, do not let the Shaytan tempt you and divert you away from following the Messengers of Allah and believing what they say, for he is the chief deceiver and arch-liar. This Ayah is like the Ayah that appears at the end of Surah Luqman: فَلَ تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا وَلاَ يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ let not then this (worldly) present life deceive you, nor let the chief deceiver deceive you about Allah. (31:33) Then Allah tells us of the enmity of Iblis towards the sons of Adam:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 کہ قیامت برپا ہوگی اور نیک و بد کو ان کے عملوں کی جزا و سزا دی جائے گی۔ 5۔ 2 یعنی آخرت کی ان نعمتوں سے غافل نہ کردے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں اور رسولوں کے پیروکاروں کے لئے تیار کر رکھی ہیں۔ پس اس دنیا کی عارضی لذتوں میں کھو کر آخرت کی دائمی راحتوں کو نظر انداز نہ کرو

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٨] یعنی دنیا کے مال و دولت، اس کے عیش و آرام، اس کی دلکشیوں اور دلفریبیوں میں محو اور مستغرق ہو کر اپنے انجام کو بھول نہ جانا۔ اللہ کے ہاں ہر نعمت سے متعلق باز پرس ہونے والی ہے کہ اس کا شکریہ ادا کیا تھا یا ناشکری کی تھی۔ نیز اس دنیا میں کوئی بھی چیز بےکار پیدا نہیں کی گئی۔ ہر عمل اپنا ایک نتیجہ رکھتا ہے۔ اور اس کے محاسبہ سے تم بچ نہیں سکتے۔ لہذا اس دھوکہ میں نہ رہنا کہ زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ تمہارے تمام تر اعمال ریکارڈ ہو رہے ہیں اور ان کے نتائج تمہیں دوسری زندگی میں بھگتنا ہوں گے۔ اللہ کا یہ وعدہ ہے اور یہی اس کا قانون مکافات ہے جس کا خلاف کبھی نہیں ہوسکتا۔ [ ٩] شیطان کا اللہ کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینا :۔ غرور بمعنی بہت بڑا دھوکا باز اور یہ شیطان ہے۔ جو اللہ ہی کے بارے میں انسان کو دھوکا میں ڈالے رکھتا ہے۔ سب سے پہلے تو وہ اللہ کی ہستی کے بارے میں لوگوں کو دھوکا دیتا ہے اور وہ اس کے دھوکہ میں آکر اللہ کی ہستی کے ہی منکر بن جاتے ہیں اور جو لوگ شیطان کے اس فریب سے بچ نکلتے ہیں تو وہ اللہ کی صفات میں بہت سی دوسری ہستیوں کو شریک بنانے کی راہیں سجھاتا ہے اور ہر دور میں نئی نئی راہیں سجھاتا ہے کچھ لوگ مظاہر کائنات کے پجاری ہیں کچھ فرشتوں & کچھ جنوں & کچھ اولیاء اللہ اور ان کی قبروں سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ہر دور میں شیطان انہیں شرک کے جواز پر نئی سے نئی دلیلیں سجھاتا رہتا ہے۔ پھر جو لوگ اس فریب سے بھی بچ نکلتے ہیں انہیں یہ پٹی پڑھاتا رہتا ہے کہ اگر تم سے یہ گناہ سرزد ہو بھی گیا تو اللہ بڑا غفور رحیم ہے یا ابھی بہت زندگی پڑی ہے۔ بعد میں توبہ تائب کرلیں گے۔ اس طرح شیطان لوگوں کو اللہ اور اس کے عذاب سے نڈر اور گناہوں پر جری بنا دیتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ : وعدے سے مراد آخرت کا وعدہ ہے، جس کا پچھلی آیت کے آخری جملے میں ذکر ہے کہ تمام معاملات اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا : یعنی اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے کہ تمہیں اس کے حضور پیش ہونا ہے تو کہیں دنیا کی زندگی اپنی لذتوں اور دل فریبیوں کے ساتھ تمہیں اس دھوکے میں نہ ڈال دے کہ بس یہی زندگی ہے، کیونکہ اس دنیا نے بہت سے لوگوں کو اس دھوکے میں رکھ کر برباد کردیا۔ دیکھیے سورة انعام (٢٩) ، مؤمنون (٣٧) اور سورة جاثیہ (٢٤) ” الدُّنْيَا “ ” اَلْأَدْنٰی “ کی مؤنث ہے، قریب کی زندگی جو آخرت کے مقابلے میں قریب ہے، یا کمینی اور حقیر زندگی، جیسا کہ ” دَنِئٌ“ بمعنی حقیر ہے۔ مقصود دنیا کی زندگی کی حقارت کی طرف توجہ دلا کر اس سے ہوشیار ہونے کی تاکید ہے۔ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ باللّٰهِ الْغَرُوْر :” الْغَرُوْر “ غین کے ضمّہ کے ساتھ ” غَرَّ یَغُرُّ “ (ن) کا مصدر ہے، دھوکا دینا اور غین کے فتحہ کے ساتھ صفت مشبہ ہے، جس میں مبالغے کا معنی بھی ہے، یعنی بہت دھوکا دینے والا۔ الف لام اس میں عہد کا ہے، وہ دھوکا دینے والا جسے تم بھی جانتے ہو، یعنی شیطان، جس کی صراحت اگلی آیت میں آرہی ہے، جیسا کہ ” شُکُوْرٌ“ (شین کے ضمّہ کے ساتھ) شکر کرنا اور ” شَکُوْرٌ“ (شین کے فتحہ کے ساتھ) بہت شکر کرنے والا۔ شیطان اللہ تعالیٰ کے بارے میں کئی طرح سے فریب دیتا ہے، کسی کو یہ فریب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا سرے سے وجود ہی نہیں، یہ کائنات خود بخود چل رہی ہے۔ کسی کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ اللہ کے سوا اور بھی معبود ہیں جو نفع و نقصان کا اختیار رکھتے ہیں۔ کسی کو یہ حکم دیتا ہے کہ گناہ کرلو پھر توبہ کرلینا، کسی کو اللہ کی رحمت کے نام پر دھوکا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غفور و رحیم ہے، جتنے چاہو گناہ کرلو، وہ بخش دے گا اور اکثر کو ” تسویف “ کے ساتھ دھوکا دیتا ہے، تسویف کا معنی ہے ” سَوْفَ أَفْعَلُ “ کہ میں نیک عمل کر ہی لوں گا، ایسی بھی کیا جلدی ہے، ابھی بہت وقت باقی ہے، وہ آدمی کو اسی دھوکے میں رکھتا ہے، حتیٰ کہ عمل کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The word: غَرُ‌ورُ‌ (gharur) is an emphatic form of an adjective that means one who is very deceiving (hence, rendered here as &big deceiver& ). It refers to the Shaitan (Satan) whose sole job is to deceive people and throw them into disbelief and sin. And the expression لَا يَغُرَّ‌نَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُ‌ورُ‌ (5) means &nor should you be deceived about Allah&. To explain this deception, it can be said that the Shaitan may not, by showing your evil deeds as good, cause you to become so involved with these that you reach the stage when you go on committing a sin and, at the same time, keep thinking that you are of those accepted in the sight of Allah, and that you will not have to undergo any punishment.& (Qurtubi)

معارف و مسائل (آیت) لایغرنکم باللہ الغرور، غرور بفح غین مبالغہ کا صیغہ ہے، جس کے معنی ہیں بہت دھوکہ دینے والا اور مراد اس سے شیطان ہے کہ اس کا کام ہی لوگوں کو دھوکہ میں ڈال کر کفر و معصیت میں مبتلا کرنا ہے اور یغرنکم باللہ یعنی وہ تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکہ نہ دیدے، اس دھوکہ سے مطلب یہ ہے کہ شیطان برے کاموں کو اچھا ثابت کر کے تمہیں اس میں مبتلا نہ کر دے اور تمہارا حال یہ ہوجائے کہ گناہ کرتے رہو اور ساتھ ہی یہ سمجھتے رہو کہ ہم اللہ کے نزدیک مقبول ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا۝ ٠ ۪ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللہِ الْغَرُوْرُ۝ ٥ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ غرر يقال : غَررْتُ فلانا : أصبت غِرَّتَهُ ونلت منه ما أريده، والغِرَّةُ : غفلة في الیقظة، والْغِرَارُ : غفلة مع غفوة، وأصل ذلک من الْغُرِّ ، وهو الأثر الظاهر من الشیء، ومنه : غُرَّةُ الفرس . وغِرَارُ السّيف أي : حدّه، وغَرُّ الثّوب : أثر کسره، وقیل : اطوه علی غَرِّهِ «5» ، وغَرَّهُ كذا غُرُوراً كأنما طواه علی غَرِّهِ. قال تعالی: ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ [ الانفطار/ 6] ، لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ [ آل عمران/ 196] ، وقال : وَما يَعِدُهُمُ الشَّيْطانُ إِلَّا غُرُوراً [ النساء/ 120] ، وقال : بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً إِلَّا غُرُوراً [ فاطر/ 40] ، وقال : يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] ، وقال : وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا مَتاعُ الْغُرُورِ [ آل عمران/ 185] ، وَغَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا [ الأنعام/ 70] ، ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً [ الأحزاب/ 12] ، وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ [ لقمان/ 33] ، فَالْغَرُورُ : كلّ ما يَغُرُّ الإنسان من مال وجاه وشهوة وشیطان، وقد فسّر بالشیطان إذ هو أخبث الْغَارِّينَ ، وبالدّنيا لما قيل : الدّنيا تَغُرُّ وتضرّ وتمرّ «1» ، والْغَرَرُ : الخطر، وهو من الْغَرِّ ، «ونهي عن بيع الْغَرَرِ» «2» . والْغَرِيرُ : الخلق الحسن اعتبارا بأنّه يَغُرُّ ، وقیل : فلان أدبر غَرِيرُهُ وأقبل هريرة «3» ، فباعتبار غُرَّةِ الفرس وشهرته بها قيل : فلان أَغَرُّ إذا کان مشهورا کريما، وقیل : الْغُرَرُ لثلاث ليال من أوّل الشّهر لکون ذلک منه كالْغُرَّةِ من الفرس، وغِرَارُ السّيفِ : حدّه، والْغِرَارُ : لَبَنٌ قلیل، وغَارَتِ النّاقةُ : قلّ لبنها بعد أن ظنّ أن لا يقلّ ، فكأنّها غَرَّتْ صاحبها . ( غ ر ر ) غررت ( ن ) فلانا ( فریب دینا ) کسی کو غافل پاکر اس سے اپنا مقصد حاصل کرنا غرۃ بیداری کی حالت میں غفلت غرار اونکھ کے ساتھ غفلت اصل میں یہ غر سے ہے جس کے معنی کسی شے پر ظاہری نشان کے ہیں ۔ اسی سے غرۃ الفرس ( کگوڑے کی پیشانی کی سفیدی ہے اور غر ار السیف کے معنی تلوار کی دھار کے ہیں غر الثواب کپڑے کی تہ اسی سے محاورہ ہے : ۔ اطوہ علی غرہ کپڑے کو اس کی تہ پر لپیٹ دو یعنی اس معاملہ کو جوں توں رہنے دو غرہ کذا غرورا سے فریب دیا گویا اسے اس کی نہ پر لپیٹ دیا ۔ قرآن میں ہے ؛ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ [ الانفطار/ 6] ای انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دہو کا دیا ۔ لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ [ آل عمران/ 196]( اے پیغمبر ) کافروں کا شہروں میں چلنا پھر تمہیں دھوکا نہ دے ۔ وَما يَعِدُهُمُ الشَّيْطانُ إِلَّا غُرُوراً [ النساء/ 120] اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے ۔ بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً إِلَّا غُرُوراً [ فاطر/ 40] بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے ۔ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] وہ دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالنتے رہتے ہیں ۔ وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا مَتاعُ الْغُرُورِ [ آل عمران/ 185] اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے ۔ وَغَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا[ الأنعام/ 70] اور دنیا کی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً [ الأحزاب/ 12] کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے دھوکے کا وعدہ کیا تھا ۔ وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ [ لقمان/ 33] اور نہ فریب دینے والا شیطان ) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے ۔ پس غرور سے مال وجاہ خواہش نفسانی ، شیطان اور ہر وہ چیز مراد ہے جو انسان کو فریب میں مبتلا کرے بعض نے غرور سے مراد صرف شیطان لیا ہے کیونکہ چو چیزیں انسان کو فریب میں مبتلا کرتی ہیں شیطان ان سب سے زیادہ خبیث اور بعض نے اس کی تفسیر دنیا کی ہے کیونکہ دنیا بھی انسان سے فریب کھیلتی ہے دھوکا دیتی ہے نقصان پہنچاتی ہے اور گزر جاتی ہے ۔ الغرور دھوکا ۔ یہ غر سے ہے اور ( حدیث میں ) بیع الغرر سے منع کیا گیا ہے (57) الغریر اچھا خلق ۔ کیونکہ وہ بھی دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ چناچہ ( بوڑھے شخص کے متعلق محاورہ ہے ۔ فلان ادبر غریرہ واقبل ہریرہ ( اس سے حسن خلق جاتارہا اور چڑ چڑاپن آگیا ۔ اور غرہ الفرس سے تشبیہ کے طور پر مشہور معروف آدمی کو اغر کہاجاتا ہے اور مہینے کی ابتدائی تین راتوں کو غرر کہتے ہیں کیونکہ مہینہ میں ان کی حیثیت غرۃ الفرس کی وہوتی ہے غرار السیف تلوار کی دھار اور غرار کے معنی تھوڑا سا دودھ کے بھی آتے ہیں اور غارت الناقۃ کے معنی ہیں اونٹنی کا دودھ کم ہوگیا حالانکہ اس کے متعلق یہ گہان نہ تھا کہ اسکا دودھ کم ہوجائیگا گویا کہ اس اونٹنی نے مالک کو دھوکا دیا ۔ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے مکہ والو بعث بعد الموت ضرور ہوگا سو ایسا نہ ہو کہ یہ دنیوی زندگی رونق و بہار تمہیں اللہ کی پیروی سے دھوکے میں ڈالے رکھے اور ایسا نہ ہو کہ تمہیں دھوکا باز شیطان دین الہی سے دھوکا میں ڈال دیں یا کہ دنیا کی جھوٹی چیزیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقفۃ } ” اے لوگو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ تو دیکھو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے “ { وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ } ” اور نہ ہی تمہیں دھوکے میں ڈالے اللہ کے بارے میں وہ بڑا دھوکے باز۔ “ اس سے پہلے ہم یہی الفاظ سورة لقمان کی آیت ٣٣ میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ لفظ ” غرور “ اگر ” غ “ کی پیش کے ساتھ ہو تو مصدر ہے ‘ اور اگر ” غ “ کی زبر کے ساتھ (فَعول کے وزن پر) ہوتویہ مبالغے کا صیغہ ہوگا۔ چناچہ ” الـغَرُور “ کے معنی ہیں بہت بڑا دھوکے باز ‘ یعنی ابلیس لعین جو اکثر لوگوں کو اللہ کے بارے میں اس طرح بھی ورغلاتا ہے کہ اللہ بڑا رحیم ‘ کریم ‘ شفیق اور مغفرت کرنے والا ہے۔ تمہیں کا ہے کی فکر ہے ؟ تم نے کون سے ایسے بڑے گناہ کیے ہیں۔ اور یہ سودی کاروبار ! اس کا کیا ہے ؟ یہ تو سب کرتے ہیں۔ اور وہ فلاں غلط کام اگر تم سے ہوگیا ہے تو کیا ہوا ؟ اللہ غفورٌ رحیم ہے ‘ وہ تو بڑے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتا ہے ‘ چناچہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ‘ تم جو کچھ کر رہے ہو کرتے جائو اور جس راستے پر چل رہے ہو چلتے جائو ! اللہ کی شان کریمی اور صفت ِغفاری کے نام پر انسان کو دھوکے میں ڈالنے کا یہ ایک ابلیسی حربہ ہے جس سے یہاں خبردار کیا گیا ہے کہ دیکھو ! یہ ابلیس بہت بڑا دھوکے باز ہے ‘ یہ کہیں تمہیں اللہ کی رحمت کے حوالے سے ہی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے بہلاوے میں آکر تم دنیوی زندگی کی رنگینیوں میں گم ہو کر اللہ کو بھول جائو اور اس طرح تمہاری یہ زندگی تمہارے لیے ایک بہت بڑا دھوکہ بن جائے۔ اور دیکھو ! دُنیوی زندگی کے بارے میں یہ حقیقت کبھی تمہاری نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے : { وَما الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ } (آل عمران) ” اور دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 "The promise" implies the promise of the Hereafter to which allusion was made in the preceding sentence, saying: 'All affairs shall ultimately be presented before Allah. 11 "Let not...deceive you": "Deceive you that the world is an end in itself: that there is no Hereafter when one will have to render an account of one's deeds: or that even if there is the Hereafter, the one who is enjoying life here will enjoy life there, too." 12 "Great deceiver": Satan, as is evident from the next sentence. And "deceive you concerning Allah" means: ( Il That he should stake some people believe that Allah does not exist at All; (2) involve others in the misunderstanding that Allah after having once created the world, has retired and has now practically nothing to do with the universe any more; (3) delude others into believing that Allah no doubt is running the universe, but He has taken no responsibility of providing guidance to man: therefore, Revelation and Prophethood are a mere deception; and 14) give still others the false hope that since Allah is All-Forgiving and All-Merciful. He will forgive one whatever sins one might have committed, and that He has some beloved ones too: if one remains attached to them, success and salvation are assured.

سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :10 وعدے سے مراد آخرت کا وعدہ ہے جس کی طرف اوپر کے اس فقرے میں اشارہ کیا گیا تھا کہ تمام معاملات آخر کار اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہیں ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :11 یعنی اس دھوکے میں کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا ہے ، اس کے بعد کوئی آخرت نہیں ہے جس میں اعمال کا حساب ہونے والا ہو ۔ یا اس دھوکے میں کہ اگر کوئی آخرت ہے بھی تو جو اس دنیا میں مزے کر رہا ہے وہ وہاں بھی مزے کرے گا ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :12 بڑے دھوکے باز سے مراد یہاں شیطان ہے ، جیسا کہ آگے کا فقرہ بتا رہا ہے ۔ اور اللہ کے بارے میں دھوکا دینے سے مراد یہ ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو تو یہ باور کرائے کہ خدا سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔ اور کچھ لوگوں کو اس غلط فہمی میں ڈالے کہ خدا ایک دفعہ دنیا کو حرکت دے کر الگ جا بیٹھا ہے ، اب اسے اپنی بنائی ہوئی اس کائنات سے عملاً کوئی سروکار نہیں ہے ۔ اور کچھ لوگوں کو یہ چکر دے کہ خدا کائنات کا انتظام تو بے شک کر رہا ہے ، مگر اس نے انسانوں کی رہنمائی کرنے کا کوئی ذمہ نہیں لیا ہے ، اس لیے یہ وحی و رسالت محض ایک ڈھکوسلا ہے ۔ اور کچھ لوگوں کو یہ جھوٹے بھروسے دلائے کہ اللہ بڑا غفور رحیم ہے ، تم خواہ کتنے ہی گناہ کرو ، وہ بخش دے گا ، اور اس کے کچھ پیارے ایسے ہیں کہ ان کا دامن تھام لو تو بیڑا پار ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:5) لا تغرنکم۔ مضارع منفی تاکید بانون ثقیلہ۔ صیغہ واحد مؤنث غائب غرور (باب نصر) مصدر سے۔ بمعنی دھوکہ دینا۔ بہکانا۔ فریب دینا۔ غلط طمع دلانا۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو فریب نہ دے۔ وہ تم کو بہکانہ دے۔ یغرنکم باللہ۔ مضارع واحد مذکر غائب تاکید بانون ثقیلہ۔ وہ تم کو اللہ کے بارہ میں دھوکہ میں نہ ڈال دے۔ الغرور۔ دھوکہ ۔ بےجا غرور۔ دھوکہ کا ذریعہ۔ علامہ اصمعی کہتے ہیں : غرور اسے کہتے ہیں کہ جو تجھے دھوکہ اور فریب میں مبتلا کر دے فریبی۔ مکار۔ دھوکہ باز۔ کیونکہ سب سے بڑا دھوکہ باز شیطان ہے۔ اس لئے یہاں اس آیت میں غرور سے مراد شیطان ہے۔ ولا یغرنکم باللہ الغرور۔ اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ بڑا فریبی ( شیطان) تمہیں مبتلا نہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے فریب میں مبتلا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان دھڑا دھڑ گناہ کرتا رہے اور تمنا یہ کرے کہ اللہ تعالیٰ بخش دے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی آخرت سے غافل کر دے یہاں تک کہ تم سمجھنے لگ کہ جو مزے ہیں وہ بس اسی دنیا میں ہیں۔ 3 اللہ کے باب میں شیطان کا فریب کئی طرح سے ہوتا ہے۔ کسی کو وہ یہ فریب دیتا ہے کہ خدا کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ کسی کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ خدا کے علاوہ دوسرے بھی معبود ہیں جن کی بندگی کی جانی چاہیے۔ سعید (رض) بن جبیر فرماتے ہیں اللہ کے باب میں دھوکہ کھانا یہ ہے کہ انسان جی بھر کر گناہ کرتا رہے اور سمجھے کہ اللہ غفور و رحیم ہے وہ سب گناہ معاف کر دے گا وغیرہ۔ ( قرطبی، فتح البیان )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ کہ اس میں منہمک ہو کر اس یوم موعود سے غافل رہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سب نے ” اللہ “ کی طرف لوٹ کر جانا ہے یہ ایک اعلان ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں کے ساتھ وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ ہر کسی نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اس لیے سمجھایا گیا ہے کہ لوگو ! اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور پکا ہے کہ بالآخر تمہیں اپنے اعمال کے ساتھ میرے حضور پیش ہونا ہے۔ لہٰذا دنیا کے دھندوں اور مفادات میں پھنس کر اپنے رب کے وعدے کو بھول نہ بیٹھنا اور نہ ہی اپنے رب کے بارے میں شیطان کے فریب میں آنا۔ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھنا اور اس سے بچتے رہنا وہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو جہنم کی طرف ہی بلاتا اور دھکیلتا ہے۔ دوسرے مقام پر شیطان کی شیطنت سے بچانے کے لیے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ اے آدم کی اولاد ! شیطان تمہیں اس طرح نہ پھسلا دے جس طرح تمہارے ماں، باپ آدم اور حوا ( علیہ السلام) کو پھسلا کر جنت سے نکلوا دیا تھا۔ جنت میں انکا لباس اتر گیا اور وہ جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنی شرمگاہوں کو چھپاتے رہے۔ خبر دار ! شیطان اور اس کے چیلے تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ (الاعراف : ٢٨) (عَنْ أَنَسٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ مَعَ إِحْدَی نِسَاءِہِ فَمَرَّ بِہِ رَجُلٌ فَدَعَاہُ فَجَاءَ فَقَالَ یَا فُلاَنُ ہَذِہِ زَوْجَتِی فُلاَنَۃُ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ مَنْ کُنْتُ أَظُنُّ بِہِ فَلَمْ أَکُنْ أَظُنُّ بِکَ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِی مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ )[ رواہ مسلم : باب بَیَانِ أَنَّہُ یُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُءِیَ خَالِیًا بامْرَأَۃٍ وَکَانَتْ زَوْجَۃً أَوْ مَحْرَمًا لَہُ أَنْ یَقُولَ ہَذِہِ فُلاَنَۃُلِیَدْفَعَ ظَنَّ السَّوْءِ بِہِ ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ کھڑے تھے وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا آپ نے اسے بلا کر فرمایا اے فلاں یہ میری فلاں بیوی ہے۔ اس نے عرض کی آپ کے متعلق کون ایسا گمان کرسکتا ہے ؟ نہ ہی میں نے ایسا سوچا ہے۔ آپ نے فرمایا شیطان خون کی گردش کی طرح آدمی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ “ شیطان سے بچنے کا حکم اور دعا : ” حضرت سلیمان بن صرد (رض) بیان کرتے ہیں دو آدمیوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں آپس میں گالی گلوچ کی اور ہم آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک شدید غصے میں تھا اور دوسرے کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ تھا۔ سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں ایسی بات جانتا ہوں اگر وہ اسے پڑھ لے تو اس سے اس کا غصہ جاتا رہے۔ وہ پڑھے : أَعُوذ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیمِ ” میں شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔ “ صحابہ کرام (رض) نے اس شخص سے کہا کیا تم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نہیں سنتے ہو ؟ اس شخص نے کہا میں پاگل تو نہیں ہوں۔ (اس کا یہ مقصد ہے کہ میں نے آپ کا فرمان سن لیا ہے اور اسے پڑھتا ہوں) “ [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے کہ قیامت برپاہو کر رہے گی۔ ٢۔ دنیا کے مال و اسباب پر دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان کے مغالطوں سے بچنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن دنیا کی حقیقت : ١۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ (الرّعد : ٢٦) ٢۔ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں نہایت مختصر ہے۔ (التّوبۃ : ٣٨) ٣۔ دنیا کی زندگی تھوڑی ہے اور آخرت متقین کے لیے بہتر ہے۔ (النّساء : ٧٧) ٤۔ یقیناً دنیا کی زندگی عارضی فائدہ ہے اور آخرت کا گھر ہی اصل رہنے کی جگہ ہے۔ (المؤمن : ٤٣) ٥۔ دنیا کا فائدہ قلیل ہے۔ (النساء : ٧٧) ٦۔ اللہ کی آیات کے مقابلے میں پوری دنیا حقیر ہے۔ (البقرۃ : ١٧٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یا یھا الناس ۔۔۔۔۔ مناصحٰب السعیر (5 ۔ 6) ” “۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور وہ واقع ہونے والا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ جب یہ حق ہے تو حق ہوتا ہی وہ ہے جو واقع ہونے والاہو۔ حق نہ ضائع ہوتا ہے ، نہ باطل ہوتا ہے اور نہ کالعدم ہوتا ہے ، نہ اپنا دھارا اور راستہ بدلتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کو صرف یہ دنیاوی زندگی دھوکہ دیتی ہے ۔ فلا تغرنکم الحیٰوۃ الدنیا (35: 5) ” لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ نہ دے “۔ لیکن شیطان تو رات اور دن لگا ہوا ہے دھوکہ دینے میں ، اس لیے تم کو چاہئے کہ اس سے چوکنے رہو۔ ولا یغرنکم باللہ الغرور (35: 5) ” اور نہ کوئی بڑا دھوکہ بار تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے “۔ شیطان نے اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ وہ تمہارا دشمن ہے اور اسے تمہاری دشمنی پر اصرار بھی ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ یا ایہا الناس الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ الغرور بفتح عین، دھوکہ دینے والا مراد شیطان ہے۔ اور بضم غین مصد رہے یعنی دھوکہ دینا۔ وعد اللہ سے قیامت اور جزاء و سزا مراد ہے۔ وعداللہ بالبعث والجزاء (مدارک ج 3 ص 255) ۔ اللہ کی توحید کو مان لو ورنہ آخرت میں دردناک سزا ملے گی۔ قیامت کا آنا اور جزاء و سزا برحق ہے اس میں تخلف نہیں ہوگا۔ دنیا کی لذات اور عیش و نشاط سے دھوکا نہ کھاؤ کہ یہ ہمیشہ رہیں گی اور نہ شیطان کے بہکانے سے فریب کھاؤ۔ ان الشیطان الخ : شیطان کی انسان دشمنی ور اس کے فریب کا بیان ہے کہ شیطان تمہارا پرانا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھنا کہیں اس کے فریب میں آ کر اس کی بات نہ مان لینا کیونکہ وہ اپنے اتباع و اذناب کو جہنم کی طرف بلاتا ہے اور مکر و فریب سے ان کو راہ توحید سے بہکاتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) اے لوگو ! یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے سو تم کو دنیوی زندگی کہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور تم کو خدا کے بارے میں وہ دھوکے باز یعنی شیطان کسی دھوکے میں مبتلا نہ کر دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وعدے سزا اور جزا کے کئے ہیں اور بعث اور حشرونشر کے جو وعدے تم سے کئے ہیں وہ سب برحق ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کی زندگی تم کو فریب دے دے یا دغاباز شیطان تم کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی جانب سے کسی فریب میں مبتلا کر دے۔ دنیا کی زندگی کا دھوکہ یہی کہ اس زندگی میں منہمک ہو کر آخرت سے غافل ہو جائو اور شیطان کا دھوکہ یہی کہ وہ تم کو سمجھا دے کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو جانا نہیں اور وہ تم کو عذاب نہ کرے گا یا نیک کاموں کا صلہ نہ ملے گا۔