ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن شریف کا دل سورہ یاسین ہے ۔ سورہ یاسین کے پڑھنے والے کو دس قرآن ختم کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی مجہول ہے ۔ اس باب میں اور روایتیں بھی ہیں لیکن سنداً وہ بھی کچھ ایسی بہت اچھی نہیں اور حدیث میں ہے جو شخص رات کو سورہ یاسین پڑھے اسے بخش دیا جاتا ہے اور جو سورہ دخان پڑھے اسے بھی بخش دیا جاتا ہے اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ۔ مسند کی حدیث میں ہے سورہ بقرہ قرآن کی کوہان ہے اور اس کی بلندی ہے ۔ اس کی ایک ایک آیت کے ساتھ اسی اسی فرشتے اترے ہیں ۔ اس کی ایک آیت یعنی آیت الکرسی عرش کے نیچے سے لائی گئی ہے اور اس کے ساتھ ملائی گئی ہے سورۃ یٰسین قرآن کا دل ہے اسے جو شخص نیک نیتی سے اللہ کی رضا جوئی کے لئے پڑھے اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔ اسے ان لوگوں کے سامنے پڑھا کرو جو سکرات کی حالت میں ہوں ۔ بعض علماء کرام رحمتہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ جس سخت کام کے وقت سورہ یاسین پڑھی جاتی ہے اللہ اسے آسان کر دیتا ہے ۔ مرنے والے کے سامنے جب اس کی تلاوت ہوتی ہے تو رحمت و برکت نازل ہوتی ہے اور روح آسانی سے نکلتی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ مشائخ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایسے وقت سورہ یاسین پڑھنے سے اللہ تعالیٰ تخفیف کر دیتا ہے اور آسانی ہو جاتی ہے ۔ بزار میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ میری چاہت ہے کہ میری امت کے ہر ہر فرد کو یہ سورت یاد ہو ۔
سورة یٰسٓ نام : آغاز ہی کے دو حرفوں کو اس سورے کا نام قرار دیا گیا ہے ۔ زمانۂ نزول : انداز بیان پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس سورہ کا نزول یا تو مکہ کے دور متوسط کا آخری زمانہ ہے ، یا پھر یہ زمانہ قیام مکہ کے آخری دور کی سورتوں میں سے ہے ۔ موضوع و مضمون : کلام کا مدعا کفار قریش کو نبوت محمدی پر ایمان نہ لانے اور ظلم و استہزاء سے اس کا مقابلہ کرنے کے انجام سے ڈرانا ہے ۔ اس میں انذار کا پہلو غالب اور نمایاں ہے مگر بار بار اِنذار کے ساتھ استدلال سے تفہیم بھی کی گئی ہے ۔ استدلال تین امور پر کیا گیا ہے : توحید پر آثار کائنات اور عقل عام سے ، آخرت پر آثار کائنات ، عقل عام اور خود انسان کے اپنے وجود سے ، اور رسالت محمدی کی صداقت پر اس بات سے کہ آپ تبلیغ رسالت میں یہ ساری مشقت محض بے غرضانہ برداشت کر رہے تھے ، اور اس امر سے کہ جن باتوں کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دے رہے تھے وہ سراسر معقول تھیں اور انہیں قبول کرنے میں لوگوں کا اپنا بھلا تھا ۔ اس استدلال کی قوت پر زجر و توبیخ اور ملامت و تنبیہ کے مضامین نہایت زور دار طریقہ سے بار بار ارشاد ہوئے ہیں تاکہ دلوں کے قفل ٹوٹیں اور جن کے اندر قبول حق کی تھوڑی سی صلاحیت بھی ہو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں ۔ امام احمد ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ اور طبرانی وغیرہ نے مَعقِل بن یَسار سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یٰس قلب القرآن ، یعنی یہ سورہ قرآن کا دل ہے ۔ یہ اسی طرح کی تشبیہ ہے جس طرح سورہ فاتحہ کو ام القرآن فرمایا گیا ہے ۔ فاتحہ کو ام القرآن قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں قرآن مجید کی پوری تعلیم کا خلاصہ آگیا ہے ۔ اور یٰس کو قرآن کا دھڑکتا ہوا دل اس لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ قرآن کی دعوت کو نہایت پر زور طریقے سے پیش کرتی ہے جس سے جمود ٹوٹتا اور روح میں حرکت پیدا ہوتی ہے ۔ انہی حضرت مَعقِل بن یسار سے امام احمد ، ابو داؤد اور ابن ماجہ نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اقرءوا سُورۃ یٰس علیٰ موتاکم ۔ اپنے مرنے والوں پر سورہ یٰس پڑھا کرو ۔ اس کی مصلحت یہ ہے کہ مرتے وقت مسلمان کے ذہن میں نہ صرف یہ کہ تمام اسلامی عقائد تازہ ہو جائیں ، بلکہ خصوصیت کے ساتھ اس کے سامنے عالم آخرت کا پورا نقشہ بھی آجائے اور وہ جان لے کہ حیات دنیا کی منزل سے گزر کر اب آگے کن منزلوں سے اس کو سابقہ پیش آنے والا ہے ۔ اس مصلحت کی تکمیل کے لیے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر عربی داں آدمی کو سورہ یٰس سنانے کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی سنا دیا جائے تاکہ تذکیر کا حق پوری طرح ادا ہو جائے ۔
تعارفسورۃ یٰسٓ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی وہ نشانیاں بیان فرمائی ہیں جونہ صرف پوری کائنات میں بلکہ خود انسان کے اپنے وجود میں پائی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ان مظاہر سے ایک طرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو ذات اتنی قدرت اور حکمت کی مالک ہے اس کو اپنی خدائی کا نظام چلانے کے لئے نہ کسی شریک کی ضرورت ہے نہ کسی مددگار کی، اس لئے وہ اور صرف وہ عبادت کے لائق ہے، اور دوسری طرف قدرت کی ان نشانیوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جس ذات نے یہ کائنات اور اس کا محیر العقول نظام پیدا فرمایا ہے، اس کے لئے یہ بات کچھ بھی مشکل نہیں ہے کہ وہ انسانوں کے مرنے کے بعد انہیں دوسری زندگی عطا فرمائے، اس طرح قدرت کی ان نشانیوں سے توحید اور آخرت کا عقیدہ واضح طور پر ثابت ہوجاتا ہے، حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو یہی دعوت دینے کے لئے تشریف لائے ہیں کہ وہ ان نشانیوں پر غور کرکے اپنا عقیدہ اور عمل درست کریں، اس کے باوجود اگر کچھ لوگ اس دعوت کو قبول نہیں کررہے ہیں تو وہ اپنا ہی نقصان کررہے ہیں ؛ کیونکہ اس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے مستحق بن رہے ہیں، اسی سلسلے میں آیات نمبر ١٣ سے ٢٩ تک ایک ایسی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے جس نے حق کی دعوت کو قبول نہ کیا ؛ بلکہ حق کے داعیوں کے ساتھ ظلم وبربریت کا معاملہ کیا جس کے نتیجے میں حق کے داعی کا انجام تو بہترین ہوا لیکن حق کے یہ منکر اللہ تعالیٰ کے عذاب کی پکڑ میں آگئے ؛ چونکہ اس سورت میں اسلام کے بنیادی عقائد کو بڑے فصیح وبلیغ اور جامع انداز میں بیان فرمایا گیا ہے، اس لئے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ نے اس سورت کو قرآن کا دل قرار دیا ہے۔
تعارف سورة یٰسین۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورة یا سین کے مضامین کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی قسم کھا کر تصدیق فرما دی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں اور صراط مستقیم پر قائم ہیں۔ قرآن کریم کے متعلق فرمایا کہ اس کے نازل کئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو ان کے برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ کردیا جائے جو کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانی میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسے نافرمانوں کو ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں آپ ان کی نا فرمانیوں ، ضد اور ہٹ دھرمی کی پروانہ کیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا مقصد زندگی بیان کرتے جایئے جو بھی اس پر ایمان لا کر عمل صالح کرے گا اس کو آخرت میں اجر عظیم عطاء کیا جائے گا اور منکرین جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔ (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس مرنے والے کے پاس سورة یا سین کو پڑھا جاتا ہے تو اس کے لئے اس کی موت آسان ہوجاتی ہے۔ ( ویلمی ، ابن حیان) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ کفار و مشرکین جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دین کی سچائیوں کو قبول کرنے سے گریز کر رہے ہیں ان کو سمجھاتے رہیے۔ یہی تمام نبیوں اور رسولوں کا طریقہ رہا ہے ، چناچہ اللہ نے مثال کے طور پر ایک بستی کے نافرمانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اس بستی میں آباد قوم نے کفر اور نا فرمانیوں کی انتہاء کردی تب اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے دوپیغمبروں کو بھیجا جنہوں نے ان کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی ضدر پر اڑے رہے ۔ اسی دوران اللہ نے ان دونوں پیغمبروں کی حمایت و تصدیق کرنے کے لئے ایک اور پیغمبر کو بھیجا مگر نافرمان قوم نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ تم تو ہم جیسے ہی آدمی ہو آخر تمہارے اندر وہ کون سی خصوصیت ہے جس کی بناء پر ہم تمہیں اللہ کا پیغمبر سمجھ لیں ۔ ان تمام پیغمبروں نے کہا کہ ہم جھوٹے نہیں ہیں بلکہ رب العالمین کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ۔ کفار و منکرین نے اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب سے تم نے یہ وعظ و نصیحت کا سلسلہ شروع کیا ہے ہمارے گھروں اور خاندانوں میں ہر طرف نحوست پھیل گئی ہے۔ ہم بڑے سکون سے رہتے تھے مگر تمہاری باتوں کی وجہ سے ہمارے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوگئے ہیں ۔ اگر تم اپنی ان نصیحتوں سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے۔ وہ بستی والے ایمان لانے کے بجائے ان پیغمبروں کے دشمن بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس بستی کے آخری کنارے پر ایک نیک آدمی رہتا تھا اس نے ان پیغمبروں کی بات کو سن کر قبول کیا ۔ جب اس نے یہ سنا کہ اس کی قوم اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلا رہی ہے اور ہر طرح کی دھمکیاں دے رہی ہے تو وہ بڑی تیزی سے جوش اور اسلامی جذبے سے سرشار ہو کر بستی والوں کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم اللہ کے پیغمبروں کا کہا مانو ان کی اتباع و پیروی کرو اور ان سے منہ نہ موڑو ۔ یہ تمہاری بھلائی کے علاوہ تم سے کوئی معاوضہ اور بدلہ تو نہیں مانگ رہے ہیں ۔ اس نیک آدمی نے کہا کہ میں اپنے باپ دادا کے دین و مذہب کو چھوڑ کر اگر اللہ کی عبادت و بندگی نہ کروں جس نے اس ساری کائنات کو پیدا کیا ہے تو میری طرف سے یہ سراسر زیادتی اور ظلم ہوگا ۔ میں تو ایک اللہ کی بندگی کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ تم بھی اسی راستے پر چلو۔ جب قوم کے لوگوں نے اس نیک آدمی کی تقریر سنی تو وہ اس کو برداشت نہ کرسکے ۔ جوش میں آ کر چاروں طرف سے اس پر لاتوں گھونسوں کی بارش کردی اور اسے مار مار کر شہید کردیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب اس شہید کو جنت کی راحتیں عطاء کی گئیں اور اس نے عزت کا اعلیٰ ترین مقام دیکھا تو کہنے لگا کہ کاش میری قوم اس بات کو جان لیتی کہ مجھے رب العالمین نے دین اسلام کی برکت سے کتنا زبردست اعزازو اکرام عطاء فرمایا ہے۔ (قرآن کریم میں جتنی باتیں اور احکامات نازل کیے گئے ہیں وہ نہایت متانت ، سنجیدگی اور وقار کا تقاضا کرتے ہیں ، لہٰذا وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی چمک دمک اور رونقوں میں مبتلا ہو کر آخرت کی زندگی کو بھلا دیا ہے اور اپنی زندگیوں کو کھیل کود بنا لیا ہے ان کے مزاج اس طرح الٹ دیئے گئے ہیں کہ انہوں نے ہر سچی بات کو جھٹلانا اپنا مزاج بنا لیا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ایسے لوگوں کی پروانہ کیجئے اور اپنا نیک مشن اور مقصد جاری رکھیے اور ان بدکرداروں کو سچائی کا شعور ، صراط مستقیم کی تڑپ اور اللہ کے سامنے حاضری کا احساس دلاتے رہیے۔ حق و صداقت کی آواز پر تو صرف سعادت مند اور خوش نصیب لوگ ہی دوڑتے ہوئے آتے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں یہ پیغمبر اللہ کا پیغام پہنچانے آئے تھے جب منکرین نے نا فرمانیوں کی انتہاء کردی تو پھر اس قوم پر عذاب آگیا ۔ ایک زبردست چنگھاڑ سنائی دی اور وہ سب کے سب وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئے۔ اس وقت نہ ان کے معبود ان کے کام آئے اور نہ ان کی مالت و دولت ان کو سہارا دے سکی ۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ نافرمانی نہ کرتے اور ان انبیاء کرام کو نہ جھٹلاتے تو اس طرح صفحہ ہستی سے نہ مٹ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بیشمار نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم نے کبھی اس بات پر غور و فکر کیا ہے کہ چاند ، سورج ، ستارے تمہارے سامنے جگمگا رہے ہیں ۔ دن اور رات آتے اور جاتے ہیں مگر انہیں کون کنٹرول کر رہا ہے کس کے حکم سے یہ چل رہے ہیں یقینا ہر شخص کا ضمیر کہہ اٹھے گا کہ صرف ایک اللہ کی ذات ہے جو کائنات کی ہر چیز کے نظام کو چلا رہی ہے۔ فرمایا کہ تم سمندروں کو دیکھتے ہو کہ اس میں جہاز اور کشتیاں چل رہی ہیں ۔ اپنی زندگی گزارنے کے سامنا ادھر سے ادھر لے کر جاتے ہو ۔ انسان کو یہ طاقت اور صلاحیت کس نے عطاء کی ہے۔ تم بھی عجیب ہو کہ دن رات اس کی نشانیوں اور انقلابات کو دیکھ کر بھی یہ جاہلانہ مطالبہ کرتے ہو کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے اس کو آنا ہے تو آجائے یعنی ان کا گمان تھا کہ اگر عذاب ہم پر آئے گا تو ہمارے جھوٹے معبود ہمیں بچا لیں گے۔ فرمایا کہ یاد رکھو جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو پھر کسی کو ایک لمحہ کی مہلت بھی نہ دی جائے گی۔ اگر وہ بازاروں میں ہوگا تو اس کو گھر والوں تک پہنچنے کا موقع بھی نہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب زندہ ہو کر بد حواسی میں ادھر ادھر دوڑتے ہوئے رب العالمین تک پہنچ جائیں گے اور کہیں گے کہ ہائے ! ہماری بد نصیبی کہ ہم اس عذاب کے مقابلے میں اپنی قبروں میں زیادہ آرام سے تھے نہ جانے ہمیں کس نے ہماری قبروں سے اٹھادیا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہی وہ قیامت کا دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور ہمارے پیغمبروں نے جو کچھ کہا تھا وہ بالکل حق اور سچ تھا ۔ جن لوگوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے ان کو جنت کی راحتیں دی جائیں گی جن میں وہ خوش و خرم اور عیش و عشرت کی زندگی گزاریں گے۔ انہیں ہر طرح کی نعمتیں حاصل ہوں گی اور وہ جو بھی نعمت کی تمنا کریں گے وہ فوراً ان کے سامنے پیش کردی جائے گی ۔ انہیں وہاں دیدار الٰہی نصیب ہوگا ۔ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آئے گا ۔ اس کے بر خلاف مجرمین کو اہل ایمان سے الگ کردیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ اب جہنم کی آگ ہی میں رہو جنت کی راحتیں تم پر حرام ہیں ۔ وہ جھوٹ بولتے ہوئے کہیں گے کہ الٰہی ہم پر جو الزامات ہیں وہ کام ہم نے نہیں کیے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں ، پاؤں اور کھالوں تک کو زبان دے دے گا اور وہ ان کے ہر گناہ پر گواہی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آخر میں فرمایا کہ جس طرح گزشتہ قوموں نے اپنے نبیوں کو جھٹلایا اور طرح طرح کی باتیں کیں اسی طرح جب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو قرآنی آیات سناتے تو کہتے کہ یہ تو کوئی شاعر ہیں ۔ اللہ نے فرمایا یہ لوگ کس قدر بد نصیب ہیں کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت و بندگی شروع کردی اور اپنے خالق ومالک اللہ کو بھول گئے کہنے لگے کہ جب ہم ہڈیاں ہوجائیں گے تو دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں ؟ اللہ نے فرمایا کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے جو اللہ سبز درختوں سے آگ کو پیدا کرسکتا ہے وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
یٰس کا تعارف سورة یٰس مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی۔ پانچ رکوع اور تراسی آیات پر مشتمل ہے۔ ربط سورة : سورة فاطر کا اختتام اس انتباہ پر ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے جرائم کی وجہ سے پکڑنے پر آئے تو زمین میں انسان ہی نہیں بلکہ چوپائے بھی نہ بچ سکیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک وقت تک لوگوں کو مہلت دے رکھی ہے جب اس مہلت کا وقت ختم ہوگا تو اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے سامنے پیش کر دے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں کو ہر حال میں دیکھنے والا ہے۔ سورة یٰس کا آغاز اس فرمان سے شروع ہوا کہ اے رسول لوگوں کی ہرزہ سرائی پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ اپنے رب کے نزدیک لوگوں کے لیے قائد اور سردار ہیں اور آپ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں لہٰذا اپنا کام جاری رکھیں اور ” اللہ “ پر بھروسہ رکھیں۔ (عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ لِکُلِّ شَیْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ یسَ مَنْ قَرَأَ یس کَتَبَ اللَّہُ لَہُ بِقِرَاءَتِہَا قِرَاءَ ۃَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ وَقَالَ أَبُو عیسَی ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ)[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی فَضْلِ یٰسٓ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر چیز کا دل ہوتا ہے قرآن کا دل سورة یٰسٓ ہے جو ایک دفعہ سورة یٰس پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَرَأَ طہ ویس قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بِأَلْفِ عَامٍ ، فَلَمَّا سَمِعْتِ الْمَلاَءِکَۃُ الْقُرْآنَ قَالَتْ طُوبَی لأُمَّۃٍ یَنْزِلُ ہَذَا عَلَیْہَا، وَطُوبَی لأَجْوَافٍ تَحْمِلُ ہَذَا، وَطُوبَی لأَلْسِنَۃٍ تَتَکَلَّمُ بِہَذَا) [ رواہ الدارمی : باب فِی فَضْلِ سُورَۃِ طہ ویس (لم تتم دراستہ)] ” حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے ہزار سال پہلے سورة طٰہ اور یٰس کی تلاوت فرمائی۔ فرشتوں نے قرآن کی تلاوت سنی تو کہنے لگے اس امت کے لیے خوشخبری ہو جس پر یہ قرآن نازل ہوگا، ان سینوں کے لیے مبارک ہو جو اس قرآن کو اٹھائیں گے اور ان زبانوں کو خوش آمدید ہو جو اس قرآن کی تلاوت کریں گی۔ “ سورة یٰسکے پہلے دورکوع میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا ثبوت دیا گیا ہے جس کی ابتدا اس طرح کی ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ سردار ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں اس سے پہلے ڈرانے والا نہیں آیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی کیونکہ ان کی گردنوں میں جہالت کے طوق پڑچکے ہیں اس لیے ان کو سمجھانا یا نہ سمجھانا برابر ہوچکا ہے۔ ان کے سامنے اس بستی کا ذکر کریں جس میں اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے تین پیغمبر بھیجے۔ بستی والوں نے ان پر ایمان لانے کی بجائے یہ دھمکی دی کہ کہ ہم تمہیں پتھر مار مار کر ختم کردیں گے۔ پیغمبروں کی تائید کے لیے اسی بستی کے مضافات سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اس بستی والوں کو سمجھایا لیکن انہوں نے اسے شہید کردیا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے جنّت میں داخل کیا اور اس کے پیغام کو قرآن مجید میں ذکر فرمایا۔ سورت کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں ہر قسم کی نباتات اور شمس و قمر کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جس طرح چاند اور سورج طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور مردہ زمین سے نباتات اگتی ہیں یہی انسان کی زندگی کا معاملہ ہے اور اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائے گا۔ جوں ہی اسرافیل دوسرا صور پھونکے گا تو لوگ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف اس طرح جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانے پر جاتا ہے۔ جوں ہی لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو قیامت کا انکار کرنے والے اپنے آپ پر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم پر افسوس ! ہم قیامت کا انکار کرتے تھے حالانکہ انبیائے کرام (علیہ السلام) صحیح فرماتے تھے۔ اس دن جنتی لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ مسندوں پر بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مشغول ہوں گے اور جو چاہیں گے ان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ان پرربّ کریم کی مسلسل اور ہمیشہ ہمیش کرم نوازیاں ہوتی رہیں گی۔ ان کے مقابلے میں مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے پوچھا جائے گا کیا تم سے یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ شیطان کی پیروی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے مگر تم نے اپنے عہد کی پاسداری نہ کی لہٰذا جہنّم میں داخل ہوجاؤ۔ سورة یًٰس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعروشاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی آپ کی شان ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے شعرگوئی کریں۔ اس لیے قرآن مجید شاعرانہ تخیّل نہیں ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ تمہاری موت کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اگر تمہیں اس بات پر یقین نہیں آتا تو اپنی پیدائش پر غور کرو اور زمین و آسمان کو دیکھو ! جس رب نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ اگر انہیں اس بات پر یقین نہیں آتا تو انہیں بتلائیں اور سمجھائیں وہی رب دوبارہ پیدا کرے گا جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو بغیر نمونے کے پیدا کیا ہے۔ اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ اپنی مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے کیونکہ وہ سب کچھ پیدا کرنے والا اور ہر بات کا علم رکھنے والا ہے جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف ” کُنْ “ کا حکم صادر فرماتا ہے اور وہ کام بالکل اس کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے اور زمین و آسمانوں کی ہر چیز اس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور تم سب نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔
سورة یسین ۔ 36 آیات 1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 21 سورة یسین ایک نظر میں یہ مکی سورت ہے اور اس کے فقرے مختصر ہیں۔ یوں لگتا ہے اس میں عقل و خرد کی تاروں پر جلدی جلدی ضربات لگائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کی آیات 82 ہونے کے باوجود یہ اس سے پہلے آنے والی سورت ، سورة فاطر سے بہت چھوٹی ہے جبکہ اس کی آیات 45 ہیں۔ مختصرفقرات اور آیات کے آکر میں فواصل اور پے در پے ضربات کی وجہ سے اس سورت کا ایک خاص مزاج اور ایک خاص طبیعت واضح نظر آتی ہے۔ عقل و خرد کی تاروں پر مسلسل ضربات ، انسان احسان کو بیدار کرتی چلی جاتی ہیں اور کلام کی اس تیز رفتاری کی وجہ سے اس سورت کے اثرات میں اضافہ ہوت ا ہے۔ اور وہ سائے اور تصویر کشیاں اور مناظر جو اس سورت کے آغار سے انجام تک مسلسل اور پے در پے آرہے ہیں ، وہ انسان پر مختلف النوع اور گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اس سورت کا مرکزی موضوع اور مضمون وہی ہے جو تمام مکی سورتوں کا ہوا کرتا ہے۔ سورت کا مقصد اس کے آغاز ہی سے یہ نظر آتا ہے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کی بنیادی نکات کو مستحکم کرنا چاہتی ہے۔ چناچہ آغاز ہی سے وحی و رسالت کی سچائی پر زور دیا جاتا ہے۔ یسن ۔۔۔۔۔ العزیز الرحیم (36: 1 – 5) ” پس۔ قسم ہے قرآن حکیم کی کہ تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ، سیدھے راستے پر ہو اور یہ قرآن غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے “۔ اس کے بعد اصحاب القریہ کا قصہ آتا ہے۔ اس گاؤں والوں کے پاس رسول آتے ہیں۔ یہ رسول لوگوں کو وحی و رسالت کی تکذیب سے ڈراتے ہیں اور قصہ کا انجام دکھا کر سورت کے محور اور موضوع کو ثابت کیا جاتا ہے اور سورت کے اختتام کے قریب بھی دوبارہ اسی موضوع کو لیا جاتا ہے۔ وما علمنہ ۔۔۔۔ علی الکفرین (36: 69- 70) ” اور ہم نے اس نبی کو شعر نہیں سکھایا اور نہ شاعری اس کو زیب ہی دیتی ہے ۔ یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف صاف پڑھی جانے والی کتاب تاکہ ہر اس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت تمام ہوجائے “۔ اس سورت میں اللہ کی حاکمیت اور وحدانیت کے مسئلے کو بھی لیا گیا ہے۔ ایک رجل مومن کی زبانی شرک کی کراہت اور نہایت گھناؤنے پن کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ شخص اس قریہ کے دوردراز علاقوں سے آیات اور رسولوں کے حوالے سے اپنی قوم کے رویے پر اس نے سخت مواخذہ کیا۔ اس نے اپنی قوم پر اس طرح تنقید کی۔ وما لی لا۔۔۔۔ لفی ضلل مبین (36: 22 – 24) ” آخر کیوں نہ اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے۔ کیا میں اس کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنا لوں حالانکہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچاتا ہے تو نہ ان کی شفاعت کچھ کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا سکتے ہیں۔ اگر میں ایسا کروں تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا “۔ اور سورت کے خاتمے کے قریب اس موضوع کو دوبارہ لایا جاتا ہے۔ واتخذوا من دون۔۔۔ جند محضرون (36: 74 – 75) ” اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے بلکہ یہ لوگ الٹے ان کے لیے حاضر ہیں “۔ جس مسئلے پر اس سورت میں بہت زور دیا گیا ہے وہ مسئلہ بعث بعد الموت ہے۔ اس سورت میں یہ مسئلہ بہت سے مقامات پر دہرایا گیا ہے۔ اس کے آغاز میں اس پر یوں بحث کی گئی ہے۔ انا نحن نحی ۔۔۔۔۔ امام مبین (36: 12) ” ہم یقیناً ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔ جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ ہم سب لکھتے جا رہے ہیں اور جو آثار انہوں نے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے “۔ اور گاؤں والوں کے قصہ میں بھی بعث بعد الموت کا ذکر آتا ہے۔ رجل مومن کے واقعہ کے ضمن میں اور سیاق کلام میں اس کی جزاء کا فوری تذکرہ بھی کردیا گیا ہے۔ قیل ادخل الجنۃ ۔۔۔۔۔ من المکرمین (36: 26 – 27) “ اس شخص سے کہہ دیا کہ ” داخل ہوجا جنت میں “ اس نے کہا کاش میری قوم کو معلوم ہوتا کہ میرے رب نے کس چیز کی بدولت میری مغفرت فرمادی اور مجھے باعزت لوگوں میں داخل کردیا “۔ اس کے بعد سورت کے وسط میں بھی اس کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔۔ اھلھم یرجعون (36: 48 – 50) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ بتا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر تم سچے ہو “ دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اسی حالت میں دھرلے گا جب یہ اپنے دنیوی معاملات میں جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت نہ کرسکیں گے ، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ اس کے بعد پھر مناظر قیامت میں سے ایک مکمل منظر دیا جاتا ہے اور سورت کے آخر میں اس موضوع کو ایک مکالمے کی صورت میں لیا جاتا ہے۔ وضرب لنا مثلا۔۔۔۔۔ بکل خلق علیم (36: 78 – 79) ” اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے۔ کہتا ہے ” کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں “ اس سے کہو انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے “۔ یہ مسائل تو وہ تھے جو اسلامی نظریہ حیات کے بنیادی مسائل سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ مسائل بار بار زیر بحث لائے جاتے ہیں اور مکی سورتوں میں تو ان پر کلام بار بار کیا جاتا ہے۔ لیکن ہر بار ان مسائل کو مختلف زاویوں سے لیا جاتا ہے اور ہر بار قصہ نیا نظر آتا ہے۔ موضوع پر ہر بار نئی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اور ہر بار اس کے اثرات نئے ہوئے ہیں اور ہر بار سورت کی مجموعی فضا ، اس کے ماحول اور اس کی تصاویر کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ سب اثرات مناظر قیامت کے ذریعہ اور پھر قصے کے مناظر اور اس کے کرداروں کے موقف اور ان کے مکالمات کے ذریعہ نفس انسان پر نقش کیے جاتے ہیں۔ پوری انسانی تاریخ میں گزری ہوئی اقوام پر آنے والے عذاب اور اس کائنات کے مختلف النوع اور حیرت انگیز مظاہر کے ذریعہ انسان کو مسحور کرایا جاتا ہے۔ ایک بےآب وگیاہ مردہ زمین ہے اور چشم زون میں سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ اندھیری رات ہے اور اس سے سپیدہ صبح نمودار ہوتا ہے اور پھر شام کے بعد اندھیرا۔ پھر سورج اپنے جائے قرار کے لیے چل رہا ہے۔ چاند اپنی منازل میں سرگرداں ہے اور سوکھتے سوکھتے کھجور کی خشک شاخ کی طرح بن جاتا ہے۔ پھر ذرا سمندر کے سینے پر کشتی کو دیکھو کہ وہ انسانوں سے بھری جاری ہے۔ اور پھر ذرا حیوانات کو دیکھو کہ وہ انسانوں کے لئے مسخر ہیں اور پھر انسان کو دیکھو کہ نطفے کے اندر وہ خوردبین کے ذریعے بمشکل نظر آتا ہے اور پھر مختلف مراحل سے ہو کر جب وہ مکمل انسان بنا دیا جاتا ہے تو وہ باتیں بناتا ہے ۔ اور سرسبز و شاداب درخت کو تو دیکھو کہ اس کے اندر تمہارے لئے آگ کو مسخر کردیا گیا ہے اور رم اسے جلاتے ہو۔ ان مشاہد کے علاوہ اس سورت میں کچھ اور بھی سحر انگیز چیزیں ہیں جو انسانی وجدان پر اثر ڈالتی ہیں اور اسے جگاتی ہیں۔ مثلاً ان مکذبین کی تصویر کشی جن کے خلاف خود ان کے کفر کی وجہ سے اللہ کا فیصلہ صادر ہوگیا اور ان کی حالت یہ ہوگئی نہ ڈراوا ان پر اثر انداز ہوا اور نہ آیات الہیہ ان کے لئے نفع بخش ثابت ہوئیں۔ انا جعلنا فی اعناقھم۔۔۔۔۔ فھم لا یبصرون (36: 8 – 9) ” ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں جن سے وپہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں۔ اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے۔ انہیں اب کچھ نظر نہیں آتا۔ انہی چیزوں میں سے یہ امر بھی ہے کہ لوگوں کے نفسیاتی حالات سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے ، چاہے وہ چھپے ہوئے ہوں یا ظاہر ہوں۔ اور یہ کہ عمل تخلیق صرف ایک لفظ کن سے مکمل ہوتا ہے۔ انما آمرہ۔۔۔۔۔ کن فیکون (36: 82) ” وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے۔ یہ تمام امور انسان کے دل و دماغ کو چھوتے ہیں اور انسان ان چیزوں کے مفہوم کو عالم واقعہ میں موجود پاتا ہے۔ یہ سورت اپنے مضامین کے بیان کے اعتبار سے تین اسباق میں منقسم ہوتی ہے۔ پہلا سبق دو حروف کے ساتھ قسم کھا کر شروع کیا جاتا ہے۔ یاسین اور ان حروف کی قسم کے بعد پھر قرآن مجید کے ساتھ قسم کھائی جاتی ہے۔ یہ قسم اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے رسول ہیں اور بالکل سیدھے راستے پر چل رہے ہیں اور جو لوگ غفلت کی وجہ سے آپ کی تکذیب کر رہے ہیں ، ان کا انجام نہایت ہی برا ہونے والا ہے۔ اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرلیا ہے کہ یہ لوگ راہ راست کی طرف نہ پلٹ سکیں گے۔ کیونکہ ان کے اپن بےعمل کی وجہ سے اور راہ راست کے درمیان مشیت الہیہ حائل ہوچکی ہے اور اس حقیقت کی تفصیل یہ ہے کہ ہدایت صرف اس شخص کے لیے مفید ہوا کرتی ہے جو اللہ سے غائبانہ طور پر ڈرتا رہے اور جو نصیحت قبول کرنے کا داعیہ رکھتا ہو۔ اور اس کا قلب دلائل ہدایت کی طرف مائل ہو اور اس کائنات میں جو شواہد انسان کو ایمان لانے پر مجبور کرتے ہیں وہ سن کو دیکھنے کے لیے تیار ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان کے سامنے اصحاب قریہ کا قصہ اور مثال بیان کریں۔ اور ذرا ان کو بتائیں کہ جھٹلانے کا انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اور ایمان لانے والا دل کیا ہوتا ہے۔ اور جو شخص ایمان لے آتا ہے اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ دوسرا سبق ایسے مکذبین کی حالت پر سخت افسوس کے اظہار پر مشتمل ہے ، جو تکذیب پر تل جاتے ہیں۔ ہر رسول کی تکذیب ایسے ہی لوگ کرتے چلے آئے ہیں بلکہ وہ اس پر مزید استہزاء اور مذاق بھی کرتے چلے آتے ہیں اور انسانوں نے کبھی بھی اپنی تاریخ میں ، اس تکذیب کی وجہ سے ہلاک کی جانے والی اقوام کے انجام پر غور نہیں کیا۔ اور یہ لوگ ہمیشہ غافل رہتے ہیں اور اس کائنات میں پائی جانے والی روشن نشانیوں پر غور نہیں کرتے اور اس کے بعد دوسرے سبق میں ان نشانیوں کی تفصیل سے لایا جاتا ہے ، جیسا کہ اس سے قبل ہم کہہ آئے ہیں۔ اس سبق میں بڑی تفصیل سے قیامت کے مظاہر بھی دئیے جاتے ہیں۔ تیسرے سبق میں دوبارہ پوری سورت کے مضامین کو دہرایا گیا ہے۔ پہلے یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ لے کر آئے ہیں اور شعری و شای نہیں ہے۔ اس کے بعد بعض وجدانی اشارات دئیے جاتے ہیں کہ اللہ ایک ہے اور وحدہ لا شریک ہے۔ اس بات پر افسوس کیا جاتا ہے کہ لوگ اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کو الٰہ پکڑتے ہیں ۔ یہ لوگ ان الہوں سے نصرت طلب کرتے ہیں اور خود ان الہوں کے فوجدار بنے ہوئے ہیں ، اس کے بعد مسئلہ بعث بعد الموت کو لیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دیکھو تمہیں اللہ نے نطفے سے پیدا کیا ، کیا اس کے لیے بوسیدہ ہڈیوں سے ایک انسان کو کھڑا کرنا مشکل ہے۔ اس میں آخر انوکھے پن کی کیا بات ہے۔ اللہ تو وہ ہے جو بالکل سرسبز درخت سے آگ پیدا کردیتا ہے۔ یہ بات کیا عجیب تر نہیں ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین پر مشتمل یہ عظیم کائنات تخلیق کی ہے۔ اللہ ایسا ایک دوسرا جہان بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اور آخرت میں انسانوں کو بھی دوبارہ بنا سکتا ہے۔ اب سورت کے آخر میں فکر و نظر کی تاروں پر ضرب لگائی جاتی ہے۔ انما امرہ اذا۔۔۔۔۔۔ والیہ ترجعون ” وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے۔ پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو “۔