ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن شریف کا دل سورہ یاسین ہے ۔ سورہ یاسین کے پڑھنے والے کو دس قرآن ختم کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی مجہول ہے ۔ اس باب میں اور روایتیں بھی ہیں لیکن سنداً وہ بھی کچھ ایسی بہت اچھی نہیں اور حدیث میں ہے جو شخص رات کو سورہ یاسین پڑھے اسے بخش دیا جاتا ہے اور جو سورہ دخان پڑھے اسے بھی بخش دیا جاتا ہے اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ۔ مسند کی حدیث میں ہے سورہ بقرہ قرآن کی کوہان ہے اور اس کی بلندی ہے ۔ اس کی ایک ایک آیت کے ساتھ اسی اسی فرشتے اترے ہیں ۔ اس کی ایک آیت یعنی آیت الکرسی عرش کے نیچے سے لائی گئی ہے اور اس کے ساتھ ملائی گئی ہے سورۃ یٰسین قرآن کا دل ہے اسے جو شخص نیک نیتی سے اللہ کی رضا جوئی کے لئے پڑھے اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔ اسے ان لوگوں کے سامنے پڑھا کرو جو سکرات کی حالت میں ہوں ۔ بعض علماء کرام رحمتہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ جس سخت کام کے وقت سورہ یاسین پڑھی جاتی ہے اللہ اسے آسان کر دیتا ہے ۔ مرنے والے کے سامنے جب اس کی تلاوت ہوتی ہے تو رحمت و برکت نازل ہوتی ہے اور روح آسانی سے نکلتی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ مشائخ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایسے وقت سورہ یاسین پڑھنے سے اللہ تعالیٰ تخفیف کر دیتا ہے اور آسانی ہو جاتی ہے ۔ بزار میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ میری چاہت ہے کہ میری امت کے ہر ہر فرد کو یہ سورت یاد ہو ۔