Surat Yaseen
Surah: 36
Verse: 1
سورة يس
یٰسٓ ۚ﴿۱﴾
Ya, Seen.
یٰس
یٰسٓ ۚ﴿۱﴾
Ya, Seen.
یٰس
The Messenger was sent as a Warner Allah exalted says, يس Ya Sin. We have already discussed the individual letters at the beginning of Surah Al-Baqarah. وَالْقُرْانِ الْحَكِيمِ
1۔ 1 بعض نے اس کے معنی یا رجل یا انسان کے کئے ہیں۔ بعض نے اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام اور بعض نے اسے اللہ کے اسمائے حسنٰی میں سے بتلایا ہے۔ لیکن یہ سب اقوال بلا دلیل ہیں۔ یہ بھی ان حروف مقطعات میں سے ہی ہے۔ جن کا معنی و مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
[ ٢] اگرچہ یہ لفظ بھی دو حروف مقطعات کا مجموعہ ہے۔ تاہم اس کے پہلے لفظ یا سے جو حرف ندا ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ندا اور منادیٰ سے مل کر ایک جملہ بن رہا ہے۔ اسی لئے اکثر مفسرین نے اس کا ترجمہ اے شخص، اے مرد یا اے انسان سے کیا ہے۔ اور اس سے مراد رسول اللہ ہیں۔
يٰسۗ: یہ حروف مقطعات ہیں، ان کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔
Commentary The Merits of Surah Ya Sin Sayyidna Ma&qil Ibn Yasar (رض) narrates that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: یٰسٓ قَلبُ القُرآن (Surah Ya Sin is the heart of the Qur&an) and some words of this Hadith tell us that a person who recites Surah Ya Sin exclusively for the sake of Allah and the &Akhirah is forgiven, and that it should be recited over the dead among us (reported by Ahmad and Abu Dawud and an-Nas&i and Ibn Hibban and al-Hakim and others - as in Ruh-ul-Ma’ ani and al-Mazhari). Imam al-Ghazzali said that one reason for calling Surah Ya Sin the heart of the Qur&an could be that, in this Surah, themes relating to the Day of Judgment and the Resurrection have appeared with particular details and eloquent presentation. Then, out of the principles of faith, there is the belief in the Hereafter, something on which depends the soundness of human deeds. The fear of the Hereafter makes one ready for good deeds and this is what stops one from indulging in desires that are impermissible and things that are unlawful. So, the way soundness of the body depends on the soundness of the heart, similarly the soundness of the faith (&Iman) depends on the concern for the Hereafter (Ruh). And the way Ya Sin is a well recognized name of this Surah, it is named in a Hadith also as ` Azimah (reported by Abu Nasr as-Sajazi from Sayyidah ` A&ishah (رض) . And according to another Hadith the name of this Surah has appeared in Torah as مُعِمَّۃ (Mu&immah), that is, a Surah that universalizes its blessings in worldly life and in the Hereafter for its readers, and the name of its reader has been given as Ash-Sharif, and it was said that his intercession on the Day of Judgment will be accepted for a number of people that would exceed the number of people in the tribe of Rabi&ah (reported by Said Ibn Mansur and al-Baihaqi from Hassan Ibn ` Atiyyah) and in some narrations, its name has also been cited as مُدَافَعَۃ (mudafiah) that is, it removes misfortunes from its readers, while some others mention it by the name قاضِیۃ (Qadiyah) that is, the caretaker of needs (Ruh-ul- Ma’ ani). And narration of Sayyidna Abu Dharr al-Ghifari (رض) says: The reciting of Surah Ya Sin near a dying person makes the ordeal of death easy on him (reported by ad-Dailami and Ibn Hibban - Mazhari). And Sayyidna ` Abdullah Ibn Zubayr (رض) said: Whoever puts Surah Ya Sin ahead of his need, his need is fulfilled (reported by al-Mahamili in his &Amali - Mazhari) And Yahya Ibn Kathir said: Whoever recites Surah Ya Sin in the morning will remain happy until evening and whoever recites it in the evening will be happy until morning and he said that this thing was confided to him by a person who had experienced it (reported by Ibn al-Faris - Mazhari). Ya Sin (يس): According to the well-known position concerning this word, it is one of the &isolated letters& (al-huruf-ul-muqatta’ at) the knowledge of which rests with Allah alone. Hower, Ibn-ul- ` Arabi has reported that Imam Malik has said that it is one of the names of Allah. And a narration from Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) also says that it is one of the Divine Names. And according to another narration, this is a word from the Ethiopian language that means: &0 human person& and denotes the person of the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And, it is gathered from a saying of Sayyidna Ibn Jubayr (رض) that the word: Ya Sin is the name of the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . It appears in Ruh-ul-Ma’ ani that giving the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a name composed of these two elegant letters - Ya and Sin - has great secrets behind it. About Giving someone the name: (Ya Sin: written as Yasin): Imam Malik (رح) does not like to name a person as Yasin for the reason that, according to him, it is one of the Divine Names and its exact meaning remains unknown. Therefore, it is possible that it may have some meaning that is exclusive to Allah Ta’ ala, and nobody is allowed to have that name, for example: اَلخَالق (al-khaliq: The Creator), اَلرَّازِق (ar-raziq: The Provider-Sustainer) and other names of this nature. Still, if this word is written with a script that reads: (Yasin), it is permissible to give that name to a human being, because the Qur&an says: سَلَامٌ عَلَىٰ إِلْ يَاسِينَ (Peace on Ilyasin or Al Yasin) (Ibn al-&Arabi). The well recognized rendering (qira&ah) of this verse is: إِلْ يَاسِينَ (ilyasin) but, in some renderings, it also appears as: اٰلِ یَاسِین (al-yasin).
خلاصہ تفسیر یٰس (اس کی مراد اللہ ہی کو معلوم ہے) قسم ہے قرآن باحکمت کی کہ بیشک آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں (اور) سیدھے رستہ پر ہیں (کہ اس میں جو آپ کی پیروی کرے خدا تک پہنچ جائے نہ کہ جیسا کفار کہتے ہیں لست مرسلاً ، یعنی آپ رسول نہیں، یا کہتے تھے بل افتراہ یعنی آپ نے خود گھڑ لیا ہے، جس کے لئے گمراہ ہونا لازم ہے اور قرآن تعمیم ہدایت کے ساتھ آپ کی رسالت و نبوت کی دلیل بھی ہے کیونکہ) یہ قرآن خدائے زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے (اور آپ پیغمبر اس لئے بنائے گئے ہیں) تاکہ آپ (اولاً ) ایسے لوگوں کو (عذاب خداوندی سے) ڈراویں جن کے باپ دادے (قریب کے کسی رسول کے ذریعہ سے) نہیں ڈرائے گئے تھے، سو اسی سے یہ بیخبر ہیں (کیونکہ گو عرب میں بعض مضامین شرائع رسل سابقہ کے منقول بھی تھے، جیسا اس آیت میں ہے ( آیت) ام جاءھم ما لم یات اباءھم الاولین) یعنی کیا قرآن ان کے پاس کوئی ایسی چیز لایا ہے جو ان کے آباء کے پاس نہیں آئی تھی، یعنی دعوت توحید کوئی نئی چیز نہیں، یہ ہمیشہ ان کے آباء و اجداد میں بھی جاری رہی ہے، مگر پھر بھی نبی کے آنے سے جس قدر تنبہ ہوتا ہے محض اس کے احکام واخبار نقل ہو کر پہنچنے سے جبکہ وہ ناتمام اور متغیر بھی ہوگئے ہوں ویسا تنبہ نہیں ہوتا۔ اور اولاً ڈرانا آپ کا قریش کو تھا، اس لئے اس جگہ انہی کا ذکر فرمایا، پھر عام لوگوں کو بھی آپ نے دعوت فرمائی، کیونکہ بعثت آپ کی عام ہے اور باوجود آپ کی صحت رسالت و صدق قرآن کے یہ لوگ جو نہیں مانتے آپ اس کا غم نہ کیجئے، کیونکہ) ان میں اکثر لوگوں پر (تقدیری) بات ثابت ہوچکی ہے (وہ بات یہ ہے کہ یہ ہدایت کے راستہ پر نہ آئیں گے) سو یہ لوگ ہرگز ایمان نہ لاویں گے (یہ حال ان کے اکثر کا تھا اور بعض کی قسمت میں ایمان بھی تھا وہ ایمان بھی لے آئے اور ان لوگوں کی مثال ایمان سے دوری میں ایسی ہوگئی کہ گویا) ہم نے ان کی گردنوں میں (بھاری بھاری) طوق ڈال دیئے ہیں پھر وہ تھوڑیوں تک (اڑ گئے) ہیں جس سے ان کے سر اوپر کو الل گئے (یعنی اٹھے رہ گئے، نیچے کو نہیں ہو سکتے، خواہ اس وجہ سے کہ طوق میں جو موقع تحت ذقن رہنے کا ہے وہاں کوئی میخ وغیرہ ایسی ہو جو ذقن میں جا کر اڑ جاوے، اور یا طوق کا چکلا ایسا ہو کہ اس کی کگر ذقن میں اڑ جاوے۔ بہرحال دونوں طور پر وہ راہ دیکھنے سے محروم رہے) اور نیز ان کی مثال بعد عن الایمان میں ایسی ہوگئی کہ گویا) ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی اور ایک آڑ ان کے پیچھے کردی جس سے ہم نے (ہر طرف سے) ان کو (پردوں میں) گھیر دیا سو وہ (اس احاطہ حجابات کی وجہ سے کسی چیز کو) نہیں دیکھ سکتے، اور (دونوں تمثیلوں سے حاصل یہ ہے کہ) ان کے حق میں آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں، یہ (کسی حالت میں بھی) ایمان نہیں لائیں گے (اس لئے آپ ان سے مایوس ہو کر راحت حاصل کرلیجئے) بس آپ تو (ایسا ڈرانا جس پر نفع مرتب ہو) صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت پر چلے اور خدا سے بےدیکھے ڈرے (کہ ڈر ہی سے طلب حق ہوتی ہے اور طلب سے وصول، اور یہ ڈرتے ہی نہیں) سو (جو ایسا شخص ہو) آپ اس کو (گناہوں کی) مغفرت اور (اطاعت پر) عمدہ عوض کی خوش خبری سنا دیجئے (اور اسی سے اس پر بھی دلالت ہوگئی کہ جو ضلالت اور اعراض کا مرتکب ہو وہ مغفرت اور اجر سے محروم اور مستحق عذاب ہے، اور گو دنیا میں اس جزاء و سزا کا ظہور لازم نہیں، لیکن) بیشک ہم (ایک روز) مردوں کو زندہ کریں گے (اس وقت ان سب کا ظہور ہوجائے گا) اور (جن اعمال پر جزا و سزا ہوگی) ہم (ان کو برابر) لکھے جاتے ہیں وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے جاتے ہیں اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑے جاتے ہیں (ماقدموا) سے مراد جو کام اپنے ہاتھ سے کیا اور آثارہم سے مراد وہ اثر جو اس کام کے سبب پیدا ہوا اور بعد موت بھی باقی رہا، مثلاً کسی نے کوئی نیک کام کیا اور وہ سبب ہوگیا دوسروں کی بھی ہدایت کا یا کسی نے کوئی برا کام کیا اور وہ سبب ہوگیا دوسروں کی بھی گمراہی کا۔ غرض یہ سب لکھے جا رہے ہیں اور وہاں ان سب پر جزا وسزا مرتب ہوجاوے گی) اور (ہمارا علم تو ایسا وسیع ہے کہ ہم اس کتابت کے بھی محتاج نہیں جو بعد الوقوع ہوئی ہے کیونکہ) ہم نے (تو) ہر چیز کو (جو کچھ قیامت تک ہوگا وقوع سے پہلے ہی) ایک واضح کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ضبط کردیا تھا (محض بعض حکمتوں سے اعمال کی کتابت ہوتی ہے۔ پس جب قبل وقوع ہم کو سب چیزوں کا علم ہے تو بعد وقوع تو کیوں نہ ہوتا، اس لئے کسی عمل سے مکرنے یا پوشیدہ رکھنے کی گنجائش نہیں، ضرور سزا ہوگی اور لوح محفوظ کو واضح با عتبار تفصیل اشیاء کے کہا گیا ہے۔ معارف ومسائل فضائل سورة یٰسین : حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یسین قلب القرآن، یعنی سورة یٰسین قرآن کا دل ہے اور اس حدیث کے بعض الفاظ میں ہے کہ جو شخص سورة یٰسین کو خالص اللہ اور آخرت کے لئے پڑھتا ہے اس کی مغفرت ہوجاتی ہے اس کو اپنے مردوں پر پڑھا کرو (رواہ احمد وا بوداؤد والنسائی وابن حبان والحاکم وغیرہم، کذافی الروح والمظہری) امام غزالی نے فرمایا کہ سورة یٰسین کو قلب قرآن فرمانے کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ اس سورة میں قیامت اور حشر و نشر کے مضامین خاص تفصیل اور بلاغت کے ساتھ آئے ہیں اور اصول ایمان میں سے عقیدہ آخرت وہ چیز ہے جس پر انسان کے اعمال کی صحت موقوف ہے۔ خوف آخرت ہی انسان کو عمل صالح کے لئے مستعد کرتا ہے اور وہی اس کو ناجائز خواہشات اور حرام سے روکتا ہے۔ تو جس طرح بدن کی صحت قلب کی صحت پر موقوف ہے اسی طرح ایمان کی صحت فکر آخرت پر موقوف ہے (روح) اور اس سورة کا نام جیسا سورة یٰسین معروف ہے اسی طرح ایک حدیث میں اس کا نام عظیمہ بھی آیا ہے (اخرجہ ابو نصر اسجزی عن عائشہ) اور ایک حدیث میں ہے کہ اس سورة کا نام تورات میں معمہ آیا ہے، یعنی اپنے پڑھنے والے کے لئے دنیا و آخرت کی خیرات و برکات عام کرنے والی۔ اور اس کے پڑھنے والے کا نام شریف آیا ہے اور فرمایا کہ قیامت کے روز اس کی شفاعت قبیلہ ربیعہ کے لوگوں سے زیادہ کے لئے قبول ہوگی۔ (رواہ سعید بن منصور والبیہقی عن حسان بن عطیہ) اور بعض روایات میں اس کا نام مدافعہ بھی آیا ہے، یعنی اپنے پڑھنے والے سے بلاؤں کو دفع کرنے والی اور بعض میں اس کا نام قاضیہ بھی مذکور ہے، یعنی حاجات کو پورا کرنے والی۔ (روح المعانی) اور حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ جس مرنے والے کے پاس سورة یٰسین پڑھی جائے تو اس کی موت کے وقت آسانی ہوجاتی ہے۔ (رواہ الدیلمی وابن حبان، مظہری) اور حضرت عبداللہ بن زبیر نے فرمایا کہ جو شخص سورة یٰسین کو اپنی حاجت کے آگے کر دے تو اس کی حاجت پوری ہوجاتی ہے۔ (اخرجہ المحاملی فی امالیہ، مظہری) اور یحییٰ بن کثیر نے فرمایا کہ جو شخص صبح کو سورة یٰسین پڑھ لے وہ شام تک خوشی اور آرام سے رہے گا اور جو شام کو پڑھ لے تو صبح تک خوشی میں رہے گا۔ اور فرمایا کہ مجھے یہ بات ایسے شخص نے بتلائی ہے جس نے اس کا تجربہ کیا ہے۔ (اخرجہ ابن الفریس، مظہری) یٰس، اس لفظ کے متعلق مشہور قول تو وہی ہے جس کو اوپر خلاصہ تفسیر میں لیا گیا ہے۔ کہ حروف مقطعات میں سے ہے، جن کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے عام بندوں کو نہیں دیا۔ اور ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ امام مالک نے فرمایا کہ یہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور حضرت ابن عباس سے بھی ایک روایت یہی ہے کہ اسماء آلٰہیہ میں سے ہے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ” اے انسان “ اور مراد انسان سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور حضرت ابن جبیر کے کلام سے یہ مستفاد ہے کہ لفظ یٰسین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام ہے۔ روح المعانی میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام ان دو عظیم الشان حرفوں سے رکھنا، یعنی یا اور سین اس میں بڑے راز ہیں۔ یٰسین کسی کا نام رکھنا کیسا ہے : امام مالک نے اس کو اس لئے پسند نہیں کیا کہ ان کے نزدیک یہ اسماء آلٰہیہ میں سے ہے، اور اس کے صحیح معنی معلوم نہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ کوئی ایسے معنی ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں، جیسے خالق، رازق وغیرہ البتہ اس لفظ کو یاسین کے رسم الخط سے لکھا جائے تو یہ کسی انسان کا نام رکھنا جائز ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں آیا ہے (آیت) سلام علیٰ آل یاسین (ابن عربی) آیت مذکورہ کی معروف قرآت لیاسین ہے مگر بعض قرأتوں میں آل یاسین بھی آیا ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ يٰسۗ ١ۚوَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ ٢ۙ يس يس قيل معناه يا إنسان والصحیح أنّ يس هو من حروف التّهجّي كسائر أوائل السّور، قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لہزا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟
(١۔ ٤) حضرت ابن عباس سورة یسین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب سریانی زبانی میں یہ ہے کہ اے انسان یا یہ کہ بطور تاکید کے یہ قسم ہے یعنی میں ایسے قرآن حکیم کی قسم کھا کر جو کہ حلال و حرام اور امر و نواہی کے بیان میں محکم ہے۔ کہتا ہوں کہ آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں اور پسندیدہ دین یعنی دین اسلام پر قائم ہیں۔
ٓیت ١ { یٰسٓ۔ ” یٰـسٓ ! “ زیادہ تر مفسرین کی رائے میں ” یٰـسٓ“ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اسی طرح ” طٰہٰ “ کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام ہے۔ واللہ اعلم !
1 Ibn 'Abbas, 'Ikrimah, Dahhak, Hasan Basri and Sufyan bin 'Uyainah have opined that it means, "O man", or "O person"; some other commentators have regarded it as an abbreviation of "Ya Sayyid" as well, which, according to this interpretation, would be an address to the Holy Prophet.
١ تا ٤۔ حروف مقطعات کا ذکر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے ‘ یہ سورة مکی ہے مکہ کے مشرک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو نہیں مانتے تھے کبھی تو جادو گر بتلاتے تھے اور کبھی شاعر اور کاہن کہتے تھے اور کبھی فقط اتنا ہی کہہ دیتے کہ لست مرسلا جس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول نہیں ہو اس لیے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ان مشرکوں کو یقین دلانے کے لیے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ذکر کیا ہے ان آیتوں میں قریش کی بات کا جواب تھا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خاندان قریش کا ذکر لتنذ رقوما ما آنذر آباء ھم سے فرمایا ورنہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت تمام مخلوقات کے لیے عام ہے چناچہ اور آیتوں میں ہے وقل للذین اوتوا الکتاب والا میبن اور لا نذرکم بد ومن بلغ اور صحیح حدیثوں میں آپ نے فرمایا ہے کہ میری نبوت عام ہے چناچہ صحیح مسلم کی ابوہریرہ (رض) کی روایت ٢ ؎ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (٢ ؎ مشکوۃ ص ١٢ کتاب الایمان) کہ جو یہودی یا نصرانی میری نبوت پر ایمان نہ لائے گا وہ دوزخی ٹھہرے گا اور علاوہ تمام مخلوقات انسانی کے آپ کا جنات کی ہدایت کے لیے جنگل میں جانا اور جنات کا آپ کے پاس احکام شریعت سیکھنے کے لیے آنا یہ بھی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے ‘ چناچہ صحیح مسلم کی عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت ١ ؎ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنات کی ہدایت کے لیے جانے اور ان کو قرآن شریف سنانے کا تفصیل سے ذکر ہے۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٦٤ ج ٤) جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ کہتے ہیں اور جس بات کی صداقت کے لیے قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں ‘ یہاں مقسم بہ قرآن ہے اور مقسم علیہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت ہے قرآن شریف میں مقسم بہ اکثر ظاہر چیزیں ہیں جیسے آسمان چاند سورج وغیرہ اگرچہ مشرکین مکہ کے نزدیک قرآن شریف کا کلام الٰہی ہونا ایسا ظاہر نہ تھا جس طرح چاند سورج کو ظاہر میں وہ آنکھوں سے دیکھتے تھے لیکن اللہ کے رسول کا ان پڑھ ہونا اور قرآن شریف میں ایسی باتوں کا پایا جانا ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی پڑھا لکھا شخص بھی ایسی باتیں بغیر غیبی مدد کے نہیں کہہ سکتا اس لیے قرآن کی قسم کھا کر مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ بات جتلائی کہ جس طرح چاند سورج ظاہر چیزیں ہیں اسی طرح یہ بھی ایک ظاہر بات ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ اللہ کا کلام اترا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں اور جس راہ پر وہ لوگوں کو لگاتے ہیں وہ سید ہا راستہ نجات کا ہے۔ صراط مستقیم اور بدعتی فرقے معتبر سند سے مسند امام احمد نسائی دارمی اور مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے (٢ ؎ مشکوۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فضل دوسری مع تنقیح الرواۃ ص ٤٠ ج ١) جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک خط کھینچ کر فرمایا کہ یہ راستہ اللہ کا ہے اور پھر اس خط کے دائیں بائیں اور خط کھینچ کر فرمایا ان سب راستوں میں شیطان کا دخل ہے ترمذی ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ابوہریرہ (رض) اور فقط ترمذی میں عبداللہ بن عمروبن العاص سے ٣ ؎ جو روایتیں ہیں (٣ ؎ ایضا مع تنقیح الرواۃ ص ٤١ جلد اول) ان میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اختلاف کے سے سبب بنی اسرائیل میں بہتر فرقے ہوگئے ہیں اور میری امت میں تہتر فرقے ہوجائیں گے جن میں ایک فرقہ جنتی اور سیدھی راہ پر ہوگا اور یہ وہی فرقہ ہے جو میرے اور میرے صحابہ (رض) کے طریقہ پر ہوگا ‘ یہ حدیثیں صراط مستقیم کی گویا تفسیر ہیں “ ابوہریرہ (رض) کی حدیث کو ترمذی نے صحیح اور عبداللہ بن عمر وبن العاص کی حدیث کو حسن کہا ہے عبداللہ بن عمر وبن العاص کی سند کے ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد افریقی کو اگرچہ دار قطنی نے ضعیف کہا ہے لیکن یحییٰ بن سعید القطان نے عبدالرحمن بن زیاد کو ثقہ قرار دیا ہے ٤ ؎ یحییٰ بن سعید رادیوں کی جانچ کے باب میں امام مشہور ہیں (٤ ؎ ایضا تنقیح الرواۃ) اور راویوں کی جانچ میں ان کے قول کا بڑا اعتبار ہے یہ یحییٰ امام احمد (رح) کے استادوں میں شمار کئے جاتے ہیں فلسفہ یونانی اسلام میں آن کر اہل قبلہ میں طرح طرح کے فرقے جو پیدا ہوگئے ان حدیثوں میں اس کی پیشین گوئی کے موافق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیثوں اوراقوال صحابہ (رض) کو اصول فلسفہ کی طرف کھینچنا اور سلف کے طریقہ کو چھوڑنا شروع ہوا۔ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کی عظمت جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ہر ایک چیز کی قسم کھائی ہے لیکن مسلمان آدمی کو سوا اللہ تعالیٰ کے نام کے اور چیزوں کی قسم کھانے کی مناہی ہے چناچہ صححو بخاری وغیرہ کی عبداللہ بن عمر (رض) کی روایتوں میں اس کا ذکر تفصیل سے آیا ٥ ؎ ہے (٥ ؎ مشکوۃ ص ٢٩٦ باب الایمان والنذور)
(36:1) یس۔ یا اور س حروف مقطعات میں سے ہیں اس کے مراد ی معنی سوائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی کو معلوم نہیں۔ یہ سورة کا عنوان بھی ہے ۔ اس سورة کے کئی دیگر نام بھی ہیں مثلاً معمہ۔ کیونکہ اس کے پڑھنے والے کو دونوں جہانوں کی بھلائی بھی عطا ہوتی ہے اس کو دافعہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے پڑھنے والے سے ہر برائی کو دفع کرتی ہے اس کا نام قاضیہ بھی ہے کہ یہ اپنے پڑھنے والے کی ہر ضرورت کو پورا کرتی ہے وغیرہ ذلک۔
ف 5 یٰسین حروف مقلعات میں سے ہے جن کی تشریح سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) اور بعض تابعین (رض) نے اس کے معنی اے مرد یا اے انسان اور بعض نے یا سید البشر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( اے انسانوں کے سردار) بیان کئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس کے مخاطب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ امام مالک فرماتے ہیں : یہ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ واللہ اعلم (شوکانی)
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12: اسرار و معارف : سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں کہ ہر کام اور ہر بات میں وہی رائے درست اور وہی راہ سیدھی ہے جو آپ ارشاد فرما دیں اور اس کی یہ حقانیت اس بات کی دلیل بھی ہے کہ اسے اللہ نے نازل فرمایا ہے جو سب سے زبردست بھی ہے اور سب پر رحم کرنے والا بھی اور اس کے نزول کا مقصد بھی بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ہدایت دکھانا ہے کہ جن کی کئی پشتوں میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک پوری انسانیت کے لیے کوئی نبی نہ تھا جس کے سبب لوگ غفلت میں گرفتار ہوگئے مگر آپ کی بعثت اور اتنی بڑی نعمت کے باوجود بھی کچھ لوگوں پر اللہ کی وعید صادق آئی اب انہیں ہدایت نصیب نہ ہوگی کہ گناہ اور جرائم سے دل پہ سیاہی بڑتی جاتی ہے حتی کہ وہ حد آجاتی ہے جہاں نہ صرف توبہ کی توفیق سلب ہوجاتی ہے بلکہ فکر و شعور میں ٹیڑھا پن آجاتا ہے اور بندہ قلبی اندھے پن کا شکار ہوجاتا ہے ان کی بھی مثال ایسی ہی ہے جیسے ان کے گلے میں بہت بڑے بڑے طوق پڑے ہوں جنہوں نے ٹھوڑیوں تک کو اوپر اٹھا رکھا ہو اور سرا اوپر ہی جھول رہے ہوں کہ راستہ دیکھ ہی نہ سکتے ہوں یا ان کے ہر طرف ایسی دیوار چن دی گئی ہو کہ انہیں کچھ نظر نہ آتا ہو۔ اور جب وہ دیوار اوپر سے ڈھانپ بھی دی جائے تو یہ بالکل تاریکی گھر گئے لہذا انہیں کچھ نظر نہیں آسکتا۔ یہ مثال ان کے اعمال بد کی ہے کہ بڑھتے بڑھتے انہوں نے ان کی چشم بصیرت کا ہر طرف سے گھیراؤ کرلیا۔ اللہ کریم نے یہ دیواریں چننے کی نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی ہے کہ ہر طرح اجر تو وہ ذات واحد ہی مرتب کرتی ہے مگر اس کا سبب ان لوگوں کا کردار ہے لہذا آپ انہیں انجام بد کی خبر دیں تو بھی ان کا وہی حال ہے جو خبر نہ دینے سے ہوتا ہے کہ ان سے توفیق ایمان ضائع ہوچکی اب یہ ایمان نہ لائیں گے۔ ارشاد نبوی قبول کرنے کے لیے استعداد شرط ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات تو صرف وہ لوگ قبول کریں گے جن میں نصیحت قبول کرنے کی استعداد ہوگی تب وہ غائبانہ اور بن دیکھے اللہ کی عظمت و جلالت کے سامنے سر جھکا دیں گے اور ان کے دل میں اس بہت بڑے رحم کرنے والے پر فدا ہونے کا جذبہ جاگ اٹھے گا ایسے لوگوں کو بخشش کی بشارت دیجیے کہ اگر بتقاضائے بشری ان سے خطا بھی ہوگئی تو اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے وہ بخش دے اور ان کے نیک اعمال پر بہت ہی زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔ یہ ہماری ذات اور قدرت کاملہ کا کام ہے کہ مردہ کو زندہ کرتے ہیں یعنی جس کی تخلیق وسعت کائنات میں بکھر کر اس کی خلاقی پہ شہادت دے رہی ہے وہی ذات مردوں کو زندہ کرے گی اور نہ صرف زندہ کریگی بلکہ ان سے حساب بھی لے گی اور اس معاملہ میں بھی اسے کسی کی احتیاج نہیں اس کا علم اس قدر وسیع ہے اس نے ان کے اعمال اور اعمال کے اثرات تک ہر شے پوری پوری شمار کرکے ان سے پہلے یعنی ان کے قبر میں پہنچنے یا میدان حشر میں حاضری سے پہلے لکھ رکھی ہے یہاں یہ ارشاد بھی فرما دیا کہ ہر عمل کا جو اثر اور نتیجہ ہوگا جیسے کسی نے کنواں راستہ مسجد مدرسہ یا نیک اور مسلم ریاست میں لوگوں کی بھلائی کا کوئی کام کیا جب تک اس کے اثرات رہیں گے اجر لکھا جاتا رہے گا ایسے ہی برائی کے کامون کی داغ بیل ڈالنے والے ان کے اثرات بھگتیں گے اور سب سے بڑا ظلم مسلمانوں کو غیر اسلامی طرز حکومت میں جکڑنا ہے بعد میں جب تک اس میں گرفتار رہیں گے اس کا اہتمام کرنے والوں کے اعمالنامے سیاہ ہوتے رہیں گے ۔ اعاذنا اللہ منہا۔ اور اپنی پناہ میں رکھے اور کافرانہ نظام کو تبدیل کرکے نفاذ اسلام کی توفیق عطا فرمائے۔
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ بعض علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ ’ ’ یٰسین “ کے معنی اے انسان کے ہیں جس سے مراد انسان کامل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ( ابن عباس (رض) ، عکرمہ (رض) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو ان کے نام سے پکارا ہے جیسے یا آدم ، یا موسیٰ ، یا عیسیٰ وغیرہ لیکن اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن کریم میں کسی جگہ ” یا محمد “ کہہ کر خطاب نہیں کیا بلکہ آپ کی مختلف صفات سے آپ کو پکارا گیا ہے جیسے ” یایھا المدثر، یا ایھا المزمل “ وغیرہ اسی طرح آپ کے صحابہ (رض) نے بھی کبھی آپ کو ” یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “ کہہ کر خطاب نہیں کیا بلکہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ کر کوئی بات عرض کیا کرتے تھے۔ البتہ کفار اور گستاخ منافقین آپ کو ” یا محمد “ کہہ کر اپنے کلام کا آغاز کرتے تھے ۔ لہٰذا یا محمد کہنا یا لکھنا دونوں جائز نہیں ہیں۔ اس سورت کو ” یٰسین “ سے شروع کیا ہے جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے حکمت سے بھر پور قرآن کریم کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ اس نے آپ کو اپنے رسولوں میں سے ایک رسول بنا کر بھیجا ہے اور آپ صراط مستقیم پر گامزن ہیں ۔ یہ وہ صراط مستقیم ( قرآن حکیم) ہے جس کو ایسے زبردست اور رحم و کرم کرنے والے اللہ نے نازل کیا ہے جس میں کسی شک و شبہ اور وہم کی گنجائش نہیں ہے تا کہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو ان کے برے اعمال کے بد ترین نتائج سے آگاہ کردیں اور ان کو اصل کامیابی و کامرانی اور منزل مقصود کی طرف رہنمائی فرما دیں ۔ یہ اللہ کا وہ آسان اور سہل کلام ہے جسے ہر شخص سمجھ کر اس پر عمل کرسکتا ہے۔ فرمایا کہ آپ ان لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیجئے جن کے پاس سیکڑوں سال سے کوئی آگاہ اور خبردار کرنے والا نہیں آیا ہے۔ آپ ان کو وہ باتیں بتا دیجئے جن سے وہ خود اور ان کے باپ دادا ناواقف تھے۔ اب بھی اگر وہ خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو یہ ان کی بد نصیبی ہوگی ۔ آپ کا کام ہے پیغام حق سنا دینا جو سعادت مند ہے وہ اس کو یقینا مان لے گا لیکن جس کے مقدر میں بد نصیبی اس کے برے اعمال کے سبب لکھ دی گئی ہے وہ اس حقیقت کو کبھی تسلیم نہ کرے گا ، لہٰذا آپ ایسے لوگوں کی پرواہ نہ کیجئے ۔ ایسے لوگوں کو جنہیں ان کی دولت اور دنیا کے اسباب نے غرور وتکبر کا پیکر بنا دیا ہے وہ اپنی بڑائی اور ذات میں اس طرح گم ہیں کہ وہ اپنے سے باہر کی کسی حقیقت کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور گردنیں اکڑ کر چلتے ہیں ان کا انجام یہ ہے کہ قیامت کے دن ان کی گردنوں میں ایسے طوق ڈال دیئے جائیں گے جو ان کی گردنوں کو ٹھوڑیوں تک جکڑدیں گے جن سے ان کا سر اور چہرہ اوپر کو اٹھا رہ جائے گا ۔ نہ وہ اپنی گردنوں کو ہلا سکیں گے اور نہ نیچے دیکھ سکیں گے یہ ان کی آخرت سے غفلتوں کا نتیجہ ہوگا ۔ فرمایا کہ ہم نے ان کے سامنے اور پیچھے دیوار کھڑی کردی ہے جس سے وہ باہر کی ہر حقیقت کو دیکھنے سے محروم ہیں ۔ حق و صداقت کو دیکھنے اور سننے کے قابل نہیں رہے۔ ان پر غفلتوں کے ایسے پردے پڑچکے ہیں کہ ان کو آخرت اور عذاب الٰہی سے ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں ۔ کیونکہ جو آدمی کسی سچائی کو ماننے کے لئے تیار ہی نہ ہو اس سے ایمان لانے کی توقع کرنا فضو ہے۔ ان پر اللہ کی پھٹکار مسلط ہوچکی ہے ۔ تا ہم اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اپنا مشن جاری رکھئے جو لوگ اپنے دلوں میں خوف الٰہی کی شمعیں روشن کرچکے ہیں ان کا غیب پر کامل یقین ہے اور وہ اللہ و رسول کے ہر حکم کی تعمیل کرنے والے ہیں ایسے لوگوں کو معافی و مغفرت اور ایک بہت بڑے اجر وثواب کی خوش خبری دے دیجئے۔ فرمایا کہ ساری مخلوق کے مر جانے کے بعد نہ صرف ہم ان سب کو دوبارہ پیدا کریں گے بلکہ ان کے وہ تمام اعمال جو انہوں نے اپنے آگے بھیجے ہیں یا اپنے پیچھے چھوڑے ہیں وہ سب لکھ کر محفوظ کر لئے گئے ہیں جس کے جیسے اعمال ہوں گے اس کو ویسا ہی بدلے ملے گا ۔ ان آیات کی چند باتوں کی وضاحت یہ سورت جو عام طور پر ” سورة یٰسین “ کہی جاتی ہے اس کے احادیث میں بہت سے نام آئے ہیں جو اس سورت کی عظمت کی نمایاں دلیل ہے۔ عظیمہ ، معمہ ، مدافعہ ، قاصیہ۔ معمہ :۔ جو شخص اس سورت کو پڑھتا ہے وہ دنیا و آخرت کی تمام برکات اور رحمتوں کو حاصل کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ یہ سورت اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گی۔ مدافعہ : جو شخص اس سورت کی تلاوت کا عادی ہوگا وہ بہت سی بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ رہے گا ۔ قاضیہ : اس سورت کو پڑھنے سے انسان کی ضروریات اور حاجات پوری کی جاتی ہیں ۔ اس لئے حضرت عبد اللہ ابن زبیر (رض) نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنی حاجت کے لئے سورة یٰسین کو پڑھے گا تو اس کی ہر حاجت پوری ہوجائے گی۔ ( المحاملی) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور بہت سی احادیث میں اس سورت کے پڑھنے والوں کے لئے بعض سے ارشادات ہیں ۔ حضرت ابو دردائ (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس مرنے والے کے پاس اس سورت کی تلاوت کی جاتی ہے تو اس کی موت کے قوت آسانی ہوجاتی ہے۔ ( ویلمی ۔ ابن حیان) حضرت معقل ابن یسار نے روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” یٰسین “ قرآن حکیم کا قلب ( دل) ہے۔ فرمایا کہ جو شخص سورة یٰسین پڑھے گا اس کی مغفرت کردی جائے گی ۔ اس کو تم اپنے مرنے والوں پر پڑھا کرو۔ ( نسائی ، حاکم، روح) حضرت یحییٰ ابن کثیر نے فرمایا ہے کہ جو شخص صبح کو سورة یٰسین پڑھے گا وہ شام تک خوشی اور آرام سے رہے گا ۔ اور اگر شام کو پڑھے گا تو صبح تک خوش و خرم رہے گا ۔ فرمایا کہ مجھے یہ بات اس نے بتائی ہے جس نے اس کا تجربہ کیا ہے۔ ( این الفریس) ٭یہ بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان اور عظمت کا ایک پہلو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت و رسالت کی گواہی دی ہے اور قسم کھائی ہے۔ یہ مقام کسی اور نبی اور رسول کو حاصل نہیں ہے۔ اہل عرب کا دستور یہ تھا کہ جب وہ کوئی یقینی بات کہتے تھے تو قسم کھا کر کہتے تھے تا کہ دوسرے کو اس بات کی سچائی پر یقین آجائے۔ دوسرے یہ کہ کلام کی فصاحت وبلاغت کا یہ بھی اندازہ تھا کہ اس کلام میں مختلف چیزوں کی قسمیں کھائی جاتی تھیں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زمین و آسمان ، چاند، سورج ، ستاروں ، دن رات ، گھوڑوں اور نفس انسانی اور اپنی ذات اور قرآن کریم کی قسمیں کھا کر بہت سی ان حقیقتوں کی وضاحت فرمائی ہے جو انسان کو کھلی آنکھ سے نظر آتی ہیں ۔ قرآن کریم میں ایسے سات مقامات ہیں جہاں اللہ نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت پر قسم کھاتے ہوئے ان کفار کو جو قسمیں کھا کر آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کیا کرتے تھے آگاہ اور خبردار کیا ہے کہ آپ کو اللہ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے جس میں کسی شک و شبہ اور وہم کی گنجائش نہیں ہے اور آپ کو جو کتاب الٰہی دی گئی ہے وہ علم و حکمت اور دانائی و بینائی کے اصولوں سے بھر پور ہے اور قیامت تک اسی کی روشنی میں زندگی کے اندھیرے دور کئے جاسکیں گے۔ ٭قرآن کریم میں جتنی باتیں اور احکامات نازل کئے گئے ہیں وہ نہایت متانت ، سنجیدگی اور وقار کا تقاضا کرتے ہیں ۔ لہٰذا وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی چمک دمک اور رونقوں میں مبتلا ہو کر آخرت کی زندگی کو بھلا دیا ہے اور اپنی زندگیوں کو کھیل کود بنا لیا ہے ان کے مزاج اس طرح الٹ دیئے گئے ہیں کہ انہوں نے ہر سچی بات کو جھٹلانا اپنا مزاج بنا لیا ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگ جو اپنی بد عملی کی انتہاؤں تک پہنچ چکے ہیں آپ ان کی پروا نہ کیجئے کیونکہ ان پر حجت تمام ہوچکی ہے اور اب وہ ان لوگوں میں شامل ہو کر اپنے عقیدے میں پختہ ہوچکے ہیں جن پر اللہ کا عذاب طے ہوچکا ہے لہٰذا آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے اور آپ پیغام رسالت کو ساری دنیا تک پہنچانے کی جس جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں اس مشن کو جاری رکھئے اور ان بدکرداروں کو سچائی کا سعور ، صراط مستقیم کی تڑپ اور اللہ کے سامنے حاضری کا احساس دلاتے رہئے۔ ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو حق و صداقت کی آواز سن کر اس کی طرف دوڑ کر آئیں گے اور دین اسلام کی سچائیوں کو ساری دنیا میں پھیلانے میں اپنا سب کچھ قربان کردیں گے۔ آپ ان کو پیغام حق پہنچایئے جو اللہ اور اس کے رسول کی محبت و اطاعت کی شمعیں روشن کرنا چاہتے ہیں یہی ایک انعام عظیم کے مستحق ہوں گے اور ان کو ان کی نیکی اور قربانیوں کا پورا پورا بدلہ اور صلہ دیا جائے گا ۔ ٭ اس کے بر خلاف وہ لوگ جو اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری سے منہ موڑ کر چلیں گے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا ۔ گردنوں میں طوق ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے کسی مجرم کی گردن اچھی طرح شکنجے میں اس طرح جکڑ دی جائے جس سے اس کا چہرہ اور سر اوپر کو اٹھا رہ جائے ۔ جس سے وہ اپنی گردن کو نہ تو ہلا سکتا ہو اور نہ اپنے سر کو نیچے کرسکتا ہو ۔ اگر وہ کسی راستے پر جا رہا ہو اور راستے میں کوئی کھڈیا گڑھا آجائے اور وہ اس میں گر کر ہلاک ہوجائے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے اسی طرح وہ لوگ جو زندگی کے اسباب کا طوق اپنے گلے میں ڈالے گھوم رہے ہیں وہ کبھی سچائی کو دیکھنے کے قابل نہیں رہ جاتے۔ ان کی ضد اور ہٹ ڈدھرمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ حق و صداقت کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ نہ وہ حق کو دیکھ سکتے ہیں اور وہ اللہ کے سامنے اپنی گردن جھکانے کو تیار ہوتے ہیں ۔ فرمایا کہ ان کی غفلت کا یہ حال ہے کہ وہ کائنات میں بکھری ہوئی ہزاروں نشانیوں کو یکھنے اور سمجھنے کے باوجود اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کا پیغام دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچاتے رہیے جو سعادت مند اور خوش نصیب ہیں وہ اس کو مان لیں گے لیکن جنہوں نے بد نصیبی اور جہنم کا راستہ اختیار کرلیا ہے اور انہوں نے اپنے دل کو سخت بنا لیا ہے ان کے سامنے ساری حقیقتیں بھی کھول کر رکھی دی جائیں گی وہ ان کو کبھی تسلیم نہ کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا کی رونقوں ، چمک دمک، مال و دولت کی کثرت ، باپ دادا کی اندھی تلقید ، غفلت ، جہالت ، بد عملی ، نادانی اور ان کے اعمال کی شامت نے چاروں طرف سے اس طرح گھیر لیا ہے جیسے ان کے آگے اور پیچھے ایک دیوار ہے اور اوپر سے اس کو ڈھانپ دیا گیا ہے۔ جس طرح ایسا شخص ارد گرد سے بیخبر اور غافل ہوتا ہے اسی طرح اپنی خواہشات کی دیواروں میں یہ اس طرح بند ہیں کہ وہ حق و صداقت کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے لئے بد ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” ونکتب ما قدموا و اثارھم ‘ ‘ اور ہم اس کو لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا یا اس کو پیچھے چھوڑا ۔ عمل کو آگے بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں جو بھی اچھا یا برا عمل کرتا ہے وہ یہیں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ وہ آخرت میں لکھا لکھا یا اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا ۔ جس کے اعمال اچھے ہوں گے وہ جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار ہوگا اور جس کے برے اور بد ترین اعمال ہوں گے اس کو ہمیشہ کے لئے جہنم کے انگاروں پر لوٹنا ہوگا ۔ یہ تو وہ اعمال ہیں جو اس نے آگے بھیجے ہیں لیکن وہ نیک اعمال جو اس نے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں وہ اس کے لئے ثواب جاریہ ہیں جن کا اجر قیامت تک ملتا رہے گا جیسے اس نے نیک اولادچھوڑی یا اس نے کوئی ایسا کام کیا ہو جس میں اللہ کے بندوں کا بھلا ہو وہ اس کے لئے صدقہ جاریہ ہے جیسے کسی نے مسجد بنوا دی یا اس کے بنوانے میں شرکت کی یا کسی کو حافظ قرآن یا عالم بنا دیا جب تک وہ مسجد رہے گی حافظ قرآن کو سناتا رہے گا عالم اپنے علم کو پھیلاتا رہے گا اس کا ثواب اس کے کرنے والے کو بھی ملے گا اور بغیر کسی کمی کے اس شخص کو بھی ملتا رہے گا جس نے اس کار خیر کا آغاز کیا تھا ۔ اسی طرح اگر کسی نے کوئی ایسا کام کیا جو اللہ و رسول کی نافرمانی کا کام ہے تو اس کا عذاب کرنے والے کو اور جس نے اس کو قائم کیا دونوں کو ملے گا ۔ حضرت جریر ابن عبد اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا ثواب ( قیامت تک) ملتا رہے گا اور اس کے طریقے پر جو عمل کریں گے ان کو بھی ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کمی کی جائے اور جس نے برا طریقہ جاری کیا تو اس کو ( قیامت تک) گناہ ملتا رہے گا اور جتنے لوگ اس برے عمل کو اختیار کریں گے ان کا گناہ اس ( جاری کرنے والے) کو بھی ملتا رہے گا بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے گناہ میں کمی آئے۔ ( ابن کثیر ، ابن ابی حاتم)
درس نمبر 205 تشریح آیات 1 ۔۔ تا۔۔۔ 29 ﷽ یس والقرآن الحکیم۔۔۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین (1 – 12) اللہ تعالیٰ دو حرفوں ” یا “ اور ” سین “ کی قسم اٹھا تا ہے اور اسی طرح قرآن کریم کی بھی قسم اٹھاتا ہے ۔ اللہ نے یہاں قسم میں ان حروف اور قرآن کریم کو یکجا فرمایاِ ، اس سے حروف مقطعات کی اس تفیرٹ کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے جو ہم نے ان حروف کے حوالے سے اختیار کی ہے ۔ ان حروف کے تذ کرے اور قرآن کے تذکرے کے درمیان یہ ربط ہے کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنا ہے ۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ کی جا نب سے ہے اور جس پر یہ لوگ تدبر نہیں کرتے ، اس کے ذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو متوجہ کرتا ہے کہ تم اس نکتے پر غور کرو ، کہ یہ قرآن انہی حروف سے بنایا گیا ہے جو تمہاری دسترس میں ہیں۔ لیکن قرآن کا انداز تعبیر ، اس کا انداز بیان اور اس کی منطقی فکر ایسی ہے کہ تم اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے ہو۔ قسم کھائے ہوئے قرآن کی جو صفت یہاں لائی جاتی ہے۔ وہ صفت حکمت ہے۔ حکمت ایک ذی عقل کی صفت ہوتی ہے جو زندہ اور عقلمند ہو۔ قرآن کریم کی یہ صفت بتا کر یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ یہ زندہ اور قصد و ارادے کی مالک کتاب ہے۔ اسی وجہ سے یہ حکیم ہے۔ اگرچہ قرآن کریم کے لئے یہ صفت بطور مجاز استعمال کی گئی ہے لیکن یہ ایک عظیم حقیقت کی مظہر ہے۔ ایک اہم حقیقت کو اذہان کے قریب لایا جا رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کتاب کی ایک روح اور ایک زندگی ہے۔ اور جب قاری کا دل صاف ہوجائے اور وہ محبت کے ساتھ اس سے ہم کلام ہوجائے تو یہ کتاب نہایت الفت اور محبت کے ساتھ اس شخص کے ساتھ ہمکلام ہوتی ہے اور وہ ایسے شخص پر پھر اپنے اسرار و رموز کھولتی ہے بشرطیکہ قاری خود اس کے لئے اپنا دل کھول دے اور اپنے دل و جان کے ساتھ اس کا ہوجائے۔ پھر اس کے قاری کو اس کے وہ خدوخال نظر آئیں گے جس طرح کسی دوست کے چہرے میں انسان کو نظر آتے ہیں۔ اور وہ اس کتاب کی طرف اسی شوق کے ساتھ مائل ہوگا جس طرح کوئی اپنے دوست کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اور پھر قرآن میں اسے وہی سکون ملتا ہے جس طرح ایک دوست کی محفل میں ملتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسروں سے قرآن کو سننا پسند فرماتے تھے۔ آپ ایسے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے اور سنتے جن میں قرآن حکیم کی تلاوت ہو رہی ہوتی تھی ۔ جس طرح کوئی عاشق اپنے محبوب کی باتیں غور سے سنتا ہے۔ اور قرآن تو حکیم ہے۔ وہ ہر اس شخص سے ہمکلام ہوتا ہے جو اس کا گرویدہ ہوجائے ۔ وہ ایک مومن کے دل کی حساس تاروں کو چھیڑتا ہے۔ اس کے ساتھ اسی مقدار میں ہمکلام ہوتا ہے جس قدر اس کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ مکالمہ نہایت حکمت سے ہوتا ہے ۔ اس انداز میں کہ مخاطب کی اصلاح ہوتی ہے اور اس کو ایک سمت ملتی ہے۔ قرآن حکیم ہے ، بڑی حکمت کے ساتھ تربیت کرتا ہے۔ نہایت ہی معقول انداز میں۔ درست نفسیاتی سمت میں۔ ایسے انداز میں کہ جس میں تمام انسانی صلاحیتوں کو تعمیری انداز میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اور انسانی صلاحیتوں کو صحت مند ترقی کے لیے ایک سمت دی جاتی ہے ۔ یہ انسانوں کو زندگی گزارنے کا نہایت ہی حکیمانہ نظام دیتا ہے جس کے کھلے اور وسیع حدود کے اندر انسان زندگی کی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یا اور سین اور پھر قرآن مجید کی قسم کھا کر یقین دہانی فرماتا ہے کہ اے رسول آپ رسولوں میں سے ہیں اور آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ آپ رسول کریم ہیں اور یہ قرآن حکیم ہے۔