Surat Yaseen
Surah: 36
Verse: 25
سورة يس
اِنِّیۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّکُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ ﴿ؕ۲۵﴾
Indeed, I have believed in your Lord, so listen to me."
میری سنو! میں تو ( سچے دل سے ) تم سب کے رب پر ایمان لا چکا ۔
اِنِّیۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّکُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ ﴿ؕ۲۵﴾
Indeed, I have believed in your Lord, so listen to me."
میری سنو! میں تو ( سچے دل سے ) تم سب کے رب پر ایمان لا چکا ۔
Verily, I have believed in your Lord, so listen to me! Ibn Ishaq said, quoting from what had reached him from Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, Ka`b and Wahb, "He said to his people: إِنِّي امَنتُ بِرَبِّكُمْ (`Verily, I have believed in your Lord) in Whom you have disbelieved, فَاسْمَعُونِ (so listen to me!)' means, listen to what I say." Or it may be that he was addressing the Messengers when he said: إِنِّي امَنتُ بِرَبِّكُمْ (`Verily, I have believed in your Lord,) meaning, `Who has sent you,' (so listen to me!) meaning, `bear witness to that before Him.' This was narrated by Ibn Jarir, who said, "And others said that this was addressed to the Messengers, and he said to them: `Listen to what I say and bear witness to what I say before my Lord, that I have believed in your Lord and have followed you.' This interpretation is more apparent, and Allah knows best. Ibn Ishaq said, quoting from what had reached him from Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, Ka`b and Wahb, `When he said that, they turned on him as one, and killed him at once, and he had no one to protect him from that."' Qatadah said, "They started to stone him while he was saying, `O Allah, guide my people for they do not know, and they kept stoning him until he died a violent death, and he was still praying for them.' May Allah have mercy on him."
25۔ 1 اس کی دعوت توحید اور اقرار توحید کے جواب میں قوم نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے پیغمبروں سے خطاب کر کے یہ کہا مقصد اپنے ایمان پر ان پیغمبروں کو گواہ بنایا تھا۔ یا اپنی قوم سے خطاب کر کے کہا جس سے مقصود دین حق پر اپنی صلاحیت اور استقامت کا اظہار تھا کہ تم جو چاہو کرلو، لیکن اچھی طرح سن لو کہ میرا ایمان اسی رب پر ہے، جو تمہارا بھی رب ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا اور کسی نے ان کو اس سے نہیں روکا۔ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
[ ٢٧] اپنے ایمان کا برملا اعلان :۔ یہ باتیں سمجھانے کے بعد اس نے کافروں کے بھرے مجمع میں پوری جرأت کے ساتھ اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور اعلان بھی اس انداز میں کیا کہ && میں تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا && یہ نہیں کہا کہ میں اپنے پروردگار پر ایمان لاچکا۔ یعنی جیسے وہ میرا پروردگار ہے ویسے ہی تمہارا بھی ہے۔ اور میں اس پر ایمان لاکر غلطی نہیں کر رہا بلکہ تم ایمان نہ لاکر غلطی کر رہے ہو۔
اِنِّىْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ : پھر اس مرد ناصح نے لوگوں کو اور اس بستی کی طرف بھیجے گئے پیغمبروں کو، سب کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ایمان لانے کا اور اس پر اپنی استقامت کا اعلان کیا، یعنی میں اس رب پر ایمان لایا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی رب ہے، سو تم پر لازم ہے کہ میری بات غور سے سنو۔
The addressee here could be his own people where calling Allah Ta’ ala their Lord was to express a reality - though, they did not accept it. Then, it could also be that this address is to the messengers and the purpose of saying: إِنِّي آمَنتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ (listen to me) may be that they should hear what he was saying and bear witness before Allah that he was a believer.
(آیت) انی امنت بربکم فاسمعون یعنی میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں تم سن لو۔ اس کا مخاطب اس کی قوم بھی ہو سکتی ہے، اور اس میں اللہ تعالیٰ کو ان کا رب کہنا اظہار حقیقت کے لئے تھا، اگرچہ وہ اس کو تسلیم نہ کرتے تھے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خطاب رسولوں کو ہو، اور فاسمعون کہنے کا مقصد یہ ہو کہ آپ سن لیں اور اللہ کے سامنے میرے ایمان کی شہادت دیں۔
اِنِّىْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ ٢ ٥ۭ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔
پھر ان سے حبیب نجار نے فرمایا کہ میں تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا تم بھی میری بات مانو یا یہ کہ حبیب نجار نے رسولوں سے کہا کہ میں تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا لہٰذا تم میری اس بات پر گواہ رہو اور میں اللہ کا بندہ ہوں۔
آیت ٢٥ { اِنِّیْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ } ” میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں ‘ سو میری بات سنو ! “ یعنی اللہ کے یہ تینوں رسول (علیہ السلام) تمہیں توحید کی دعوت دے رہے ہیں اور تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں۔ ان کی یہ باتیں تمہاری سمجھ میں آئیں نہ آئیں میں ان کی حقیقت تک پہنچ چکا ہوں۔ اور تم ان کی تصدیق کرو نہ کرو میں تو ان پر ایمان لا چکا ہوں۔ یوں اللہ کے اس بندے نے ڈنکے کی چوٹ اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ یہ سنتے ہی اس کی قوم کے لوگ غصے سے پاگل ہوگئے۔ انہیں ان رسولوں پر تو زیادہ غصہ نہ آیا ‘ کیونکہ وہ باہر سے آئے ہوئے افراد تھے ‘ لیکن اپنی قوم کے ایک فرد کی طرف سے اس ” اعلانِ بغاوت “ کو وہ برداشت نہ کرسکے ‘ چناچہ اللہ کے اس بندے کو اسی لمحے شہید کردیا گیا۔
21 This sentence again contains a subtle point of the wisdom of preaching. Saying this the man made the people realize: "The Lord in Whom I have believed is not merely my Lord but your Lord, too. I have committed no error by believing in Him, but you, in fact, are certainly committing an error by not believing in Him. "
سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :21 اس فقرے میں پھر حکمت تبلیغ کا ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے ۔ یہ کہہ کر اس شخص نے ان لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ جس رب پر میں ایمان لایا ہوں وہ محض میرا ہی رب نہیں ہے بلکہ تمہارا رب بھی ہے ۔ اس پر ایمان لا کر میں نے غلطی نہیں کی ہے بلکہ اس پر ایمان نہ لا کر تم ہی غلطی کر رہے ہو ۔
(36:25) انی امنت بربکم (میں ایمان لے آیا ہوں تمہارے رب پر) ۔ اس کی تین صورتیں ہیں ! (1) یہ خطاب قوم سے ہے جس کو اس نے یوں خطاب کیا تھا۔ یقوم اتبعوا المرسلین۔ (2) یہ خطاب بادشاہ سے ہے جس کے پاس قوم کے آدمی اسے پکڑ کرلے گئے تھے۔ (3) بعض علما نے کہا ہے کہ بربکم میں خطاب رسولوں کو ہے کیونکہ جب اس کو یقین ہوگیا کہ مجھے قتل کردیا جائے گا۔ تو اس نے اپنے مومن ہونے کا پیغمبروں کو گواہ بنا لیا۔ اور کہا کہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں۔ میرے گواہ رہنا۔ ترجیحا یہ خطاب قوم سے ہی ہے۔ فاسمعون۔ اسمعوا۔ سماع سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ن وقایہ ہے ی متکلم کی محذوف ہے ۔ پس میری سنو ! یعنی میرے ایمان کی اطلاع سن لو۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ اس پر مجھے تمہاری طرف سے کیا سہنا پڑے گا۔ فائدہ۔ (1) تفسیر الماجدی میں ہے کہ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔ ء اتخذ انی اذا ہر جگہ صیغہ واحد متکلم کے استعمال سے مولانا اشرف علی تھانوی نے یہ استنباط کیا ہے کہ مرد مومن نے یہ سب اپنے اوپر رکھ کر اس لئے کہا کہ مخاطبین کو اشتعال نہ ہو جو غوروتدبر کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ فائدہ : (2) انی امنت بربکم میں بجائے بربی کہنے کے بربکم کہا اس کہنے میں ایمان کی ایک بلیغ دعوت ہے۔
ف 5 یعنی میں جس خدا پر ایمان لایا ہوں وہ میرا ہی نہیں تمہارا بھی پروردگار ہے لہٰذا تمہیں میری بات سننی چاہیے اور صرف ایک خدا پر ایمان لانا چاہیے۔ یہ اس شخص کا اپنی قوم سے خطاب ہے۔ بعض مفسرین (رح) نے اس جملہ کا مخاطب انبیاء ( علیہ السلام) کو قرار دیتے ہوئے یہ مطلب بیان کیا ہے ” اپے جس رب اللہ تعالیٰ کی طرف تم دعوت دے رہے ہوئیں اس پر ایمان لے آیا، تم میرے مومن ہونے کے گواہ رہو “۔ یہ تاویل حضرت عبد اللہ بن (رض) مسعود سے منقول ہے جو ابن جریر (رح) اور قرطبی (رح) نے ذکر کی ہے اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اسے اظہر قرار دیا ہے۔ بہر حال اس بات کے کہنے پر اس کی قوم کے لوگ اس پر پل پڑے اور اسے شہید کردیا۔ (ابن کثیر وغیرہ)
اس کے بعد اس شخص نے اپنے دین توحید کا کھل کر اعلان کردیا کہ (اِنِّیْ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنَ ) (بلاشک و شبہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم میرے اس اعلان کو سن لو) اس اعلان میں (بِرَبِّیْ ) نہیں کہا بلکہ (بِرَبِّکُمْ ) کہا جس میں انہیں تنبیہ کردی اور یہ بتادیا کہ جو تمہارا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے، دوسرے یہ بتایا کہ تم اسی کی طرف واپس جاؤ گے، تیسرے یہ بتایا کہ تم نے جو اس کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں بےحقیقت ہیں، چوتھے یہ بتایا کہ تم کھلی ہوئی گمراہی میں ہو، اور پانچویں یہ بتادیا کہ میں نے یہی دین اختیار کیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کروں تم بھی یہ دین اختیار کرلو۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب اس شخص نے یہ باتیں کہیں تو وہ لوگ یکبار ہی اس پر پل پڑے اور اسے قتل کردیا، حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ اسے پاؤں سے اتنا روندا کہ اس کی آنتیں نکل پڑیں۔