Woe to the Disbelievers!
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas commented on the Ayah:
يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ
...
Alas for mankind!,
this means, woe to mankind!
Qatadah said:
يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ
(Alas for mankind!) means,
"Alas for mankind, who have neglected the command of Allah."
The meaning is that they will feel regret and sorrow on the Day of Resurrection. When they see the punishment with their own eyes; they will regret how they disbelieved the Messengers of Allah and went against the commands of Allah, for they used to disbelieve in them in this world.
...
مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِوُون
There never came a Messenger to them but they used to mock at him.
means, they disbelieved him and made fun of him, and rejected the message of truth with which he had been sent.
The Refutation of the Belief in the Transmigration of Souls
Then Allah says:
أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنْ الْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لاَ يَرْجِعُونَ
منکرین کی ندامت ۔
بندوں پر حسرت و افسوس ہے ۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے ۔ بار بار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا ۔ بعض قرأتوں میں یا حسرۃ العباد علی انفسھا بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا ؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا ؟ دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بے ادبی اور توہین کی ۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کر دیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں ۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ سکا نہ اس دار آخرت سے کوئی واپس پلٹا ۔ اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو دہریہ تھے جن کا خیال تھا کہ یونہی دنیا میں مرتے جیتے چلے جائیں گے ، لوٹ لوٹ کر اس دنیا میں آئیں گے ۔ تمام گذرے ہوئے موجود اور آنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ کے سامنے حساب و کتاب کے لئے حاضر کئے جائیں گے اور وہاں ہر ایک بھلائی برائی کا بدلہ پائیں گے جیسے اور آیت میں فرمایا ( وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ ۭ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ ١١١ ) 11-ھود:111 ) یعنی ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ تیرا رب عطا فرمائے گا ، ایک قرأت میں لما ہے تو ، ان ، اثبات کے لئے ہو گا ، اور لما پڑھنے کے وقت ، ان ، نافیہ ہو گا اور لما معنی میں الا کے ہو گا تو مطلب آیت کا یہ ہو گا کہ نہیں ہیں سب مگر یہ کہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر شدہ ہیں دوسری قرأت کی صورت میں بھی مطلب یہی رہے گا ۔ واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم ۔