Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 30

سورة يس

یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚ ؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۳۰﴾

How regretful for the servants. There did not come to them any messenger except that they used to ridicule him.

۔ ( ایسے ) بندوں پر افسوس! کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Woe to the Disbelievers! Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas commented on the Ayah: يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ... Alas for mankind!, this means, woe to mankind! Qatadah said: يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ (Alas for mankind!) means, "Alas for mankind, who have neglected the command of Allah." The meaning is that they will feel regret and sorrow on the Day of Resurrection. When they see the punishment with their own eyes; they will regret how they disbelieved the Messengers of Allah and went against the commands of Allah, for they used to disbelieve in them in this world. ... مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِوُون There never came a Messenger to them but they used to mock at him. means, they disbelieved him and made fun of him, and rejected the message of truth with which he had been sent. The Refutation of the Belief in the Transmigration of Souls Then Allah says: أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنْ الْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لاَ يَرْجِعُونَ

منکرین کی ندامت ۔ بندوں پر حسرت و افسوس ہے ۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے ۔ بار بار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا ۔ بعض قرأتوں میں یا حسرۃ العباد علی انفسھا بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا ؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا ؟ دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بے ادبی اور توہین کی ۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کر دیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں ۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ سکا نہ اس دار آخرت سے کوئی واپس پلٹا ۔ اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو دہریہ تھے جن کا خیال تھا کہ یونہی دنیا میں مرتے جیتے چلے جائیں گے ، لوٹ لوٹ کر اس دنیا میں آئیں گے ۔ تمام گذرے ہوئے موجود اور آنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ کے سامنے حساب و کتاب کے لئے حاضر کئے جائیں گے اور وہاں ہر ایک بھلائی برائی کا بدلہ پائیں گے جیسے اور آیت میں فرمایا ( وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ ۭ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ ١١١؁ ) 11-ھود:111 ) یعنی ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ تیرا رب عطا فرمائے گا ، ایک قرأت میں لما ہے تو ، ان ، اثبات کے لئے ہو گا ، اور لما پڑھنے کے وقت ، ان ، نافیہ ہو گا اور لما معنی میں الا کے ہو گا تو مطلب آیت کا یہ ہو گا کہ نہیں ہیں سب مگر یہ کہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر شدہ ہیں دوسری قرأت کی صورت میں بھی مطلب یہی رہے گا ۔ واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

30۔ 1 حسرت و ندامت کا یہ اظہار خود اپنے نفسوں پر، قیامت والے دن، عذاب دیکھنے کے بعد کریں گے کہ کاش انہوں نے اللہ کے بارے میں کوتاہی نہ کی ہوتی یا اللہ تعالیٰ بندوں کے رویے پر افسوس کر رہا ہے کہ ان کے پاس جب بھی کوئی رسول آیا انہوں نے اس کے ساتھ مذاق ہی کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ : فوت شدہ چیز پر شدید افسوس کو حسرت کہتے ہیں۔ ” الْعِبَادِ “ میں الف لام عہد کا ہے، مراد وہ بندے ہیں جو رسولوں کو جھٹلاتے رہے، اس بستی والے بھی ان میں شامل ہیں۔ یہ ان کی حالت کا نقشہ ہے کہ ان کا حال ایسا ہے جس پر حسرت و افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان کے پاس جو رسول بھی آیا وہ اسے جھٹلاتے ہی رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰحَسْرَۃً عَلَي الْعِبَادِ۝ ٠ ۚؗ مَا يَاْتِيْہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ ٣٠ حسر الحسر : كشف الملبس عمّا عليه، يقال : حسرت عن الذراع، والحاسر : من لا درع عليه ولا مغفر، والمِحْسَرَة : المکنسة، وفلان کريم المَحْسَر، كناية عن المختبر، وناقة حَسِير : انحسر عنها اللحم والقوّة، ونوق حَسْرَى، والحاسر : المُعْيَا لانکشاف قواه، ويقال للمعیا حاسر ومحسور، أمّا الحاسر فتصوّرا أنّه قد حسر بنفسه قواه، وأما المحسور فتصوّرا أنّ التعب قد حسره، وقوله عزّ وجل : يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] ، يصحّ أن يكون بمعنی حاسر، وأن يكون بمعنی محسور، قال تعالی: فَتَقْعُدَ مَلُوماً مَحْسُوراً [ الإسراء/ 29] . والحَسْرةُ : الغمّ علی ما فاته والندم عليه، كأنه انحسر عنه الجهل الذي حمله علی ما ارتکبه، أو انحسر قواه من فرط غمّ ، أو أدركه إعياء من تدارک ما فرط منه، قال تعالی: لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكافِرِينَ [ الحاقة/ 50] ، وقال تعالی: يا حَسْرَتى عَلى ما فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ [ الزمر/ 56] ، وقال تعالی: كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ حَسَراتٍ عَلَيْهِمْ [ البقرة/ 167] ، وقوله تعالی: يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ [يس/ 30] ، وقوله تعالی: في وصف الملائكة : لا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِهِ وَلا يَسْتَحْسِرُونَ [ الأنبیاء/ 19] ، وذلک أبلغ من قولک : ( لا يحسرون) . ( ح س ر ) الحسر ( ن ض ) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور حسرت عن الذارع میں نے آستین چڑھائی الحاسر بغیر زرہ مابغیر خود کے ۔ المحسرۃ فلان کریم الحسر کنایہ یعنی ناقۃ حسیر تھکی ہوئی اور کمزور اونٹنی جسکا گوشت اور قوت زائل ہوگئی ہو اس کی جمع حسریٰ ہے الحاسر ۔ تھکا ہوا ۔ کیونکہ اس کے قویٰ ظاہر ہوجاتے ہیں عاجز اور درماندہ کو حاسربھی کہتے ہیں اور محسورۃ بھی حاسرۃ تو اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے خود اپنے قوٰی کو ننگا کردیا اور محسور اس تصور پر کہ درماندگی نے اس کے قویٰ کو ننگا دیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] تو نظر ( ہر بار ) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی ۔ میں حسیر بمعنی حاسرۃ بھی ہوسکتا ہے اور کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہوکر بیٹھ جاؤ ۔ الحسرۃ ۔ غم ۔ جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر پشیمان اور نادم ہونا گویا وہ جہالت اور غفلت جو اس کے ارتکاب کی باعث تھی وہ اس سے دیر ہوگئی یا فرط غم سے اس کے قوی ننگے ہوگئے یا اس کوتاہی کے تدارک سے اسے درماند گی نے پالیا قرآن میں ہے : ۔ لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ آل عمران/ 156] ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کردے ۔ وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكافِرِينَ [ الحاقة/ 50] نیز یہ کافروں کے لئے ( موجب ) حسرت ہے ۔ يا حَسْرَتى عَلى ما فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ [ الزمر/ 56] اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی ۔ كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ حَسَراتٍ عَلَيْهِمْ [ البقرة/ 167] اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گا ۔ يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ [يس/ 30] بندوں پر افسوس ہے اور فرشتوں کے متعلق فرمایا : ۔ لا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِهِ وَلا يَسْتَحْسِرُونَ [ الأنبیاء/ 19] وہ اس کی عبادت سے نہ کنیا تے ہیں اور نہ در ماندہ ہوتے ہیں ۔ اس میں سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7» فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) «1» فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ، وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] ، ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [ الحجر/ 11] ، إِذا سَمِعْتُمْ آياتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِها وَيُسْتَهْزَأُ بِها[ النساء/ 140] ، وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ [ الأنعام/ 10] والِاسْتِهْزَاءُ من اللہ في الحقیقة لا يصحّ ، كما لا يصحّ من اللہ اللهو واللّعب، تعالیٰ اللہ عنه . وقوله : اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] أي : يجازيهم جزاء الهزؤ . ومعناه : أنه أمهلهم مدّة ثمّ أخذهم مغافصة «1» ، فسمّى إمهاله إيّاهم استهزاء من حيث إنهم اغترّوا به اغترارهم بالهزؤ، فيكون ذلک کالاستدراج من حيث لا يعلمون، أو لأنهم استهزء وا فعرف ذلک منهم، فصار كأنه يهزأ بهم كما قيل : من خدعک وفطنت له ولم تعرّفه فاحترزت منه فقد خدعته . وقد روي : [أنّ الْمُسْتَهْزِئِينَ في الدّنيا يفتح لهم باب من الجنّة فيسرعون نحوه فإذا انتهوا إليه سدّ عليهم فذلک قوله : فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 34] «2» وعلی هذه الوجوه قوله عزّ وجلّ : سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ [ التوبة/ 79] . الا ستھزاء اصل میں طلب ھزع کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل منعی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ۔ وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ۔ تھے وہ ان کو گھر لے گی ۔ ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [ الحجر/ 11] اور ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر اس کے ساتھ مذاق کرتے تھے ۔إِذا سَمِعْتُمْ آياتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِها وَيُسْتَهْزَأُ بِها[ النساء/ 140] کہ جب تم ( کہیں ) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہوراہا ہے ا اور ان کی ہنسی ارائی جاتی ہے ۔ وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ [ الأنعام/ 10] اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے ہے ۔ حقیقی معنی کے لحاظ سے استزاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف صحیح نہیں ہے جیسا کہ لہو ولعب کا استعمال باری تعالیٰ کے حق میں جائز نہیں ہے لہذا آیت : ۔ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15]( ان ) منافقوں سے ) خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسر کشی میں پڑے بہک رہے ہیں ۔ میں یستھزئ کے معنی یا تو استھزاء کی سزا تک مہلت دی اور پھر انہیں دفعتہ پکڑ لیا یہاں انہوں نے ھزء کی طرح دھوکا کھا یا پس یا اس مارج کے ہم معنی ہے جیسے فرمایا : ۔ ان کو بتریج اس طرح سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا ۔ اور آہت کے معنی یہ ہیں کہ جس قدر وہ استہزار اڑا رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے استہزار سے باخبر ہے تو گو یا اللہ تعالیٰ بھی ان کا مذاق اڑارہا ہے ۔ مثلا ایک شخص کسی کو دھوکہ دے ۔ اور وہ اس کے دھوکے سے باخبر ہوکر اسے اطلاع دیئے بغیر اسے سے احتراز کرے تو کہا جاتا ہے ۔ خدعنہ یعنی وہ اس کے دھوکے سے باخبر ہے ۔ ایک حدیث میں ہے ۔ ان للستھزبین فی الدنیا الفتح لھم باب من الجنتہ فیسر عون نحوہ فاذا انتھرا الیہ سد علیھم ۔ کہ جو لوگ دنیا میں دین الہٰی کا مذاق اڑاتے ہیں قیامت کے دن ان کے لئے جنت کا دروازہ کھولا جائیگا جب یہ لوگ اس میں داخل ہونے کے لئے سرپ دوڑ کر وہاں پہنچیں گے تو وہ دروازہ بند کردیا جائیگا چناچہ آیت : ۔ فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 34] تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے ۔ میں بعض کے نزدیک ضحک سے یہی معنی مراد ہیں اور آیت سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ [ التوبة/ 79] خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لئے تکلیف دینے والا عذاب تیار ہے ۔ میں بھی اسی قسم کی تاویل ہوسکتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

قیامت کے دن ایسے لوگوں کے حال پر جو کہ ایمان نہیں لائے افسوس اور حسرت کا مقام ہوگا کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو اور ان لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو بھی شہید کر کے کنوئیں میں ڈال دیا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ { یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِج مَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ” افسوس ہے بندوں کے حال پر ! نہیں آتا ان کے پاس کوئی پیغمبر مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:30) یحسرۃ۔ حسرۃ افسوس، پشیمانی، پچھتاوا۔ حسر یحسر (سمع) کا مصدر ہے یا حرف ندا ہے اور حسرۃ منادی۔ اے افسوس ! علی العباد۔ العباد میں الف لام عہد کا ہے اور مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ کانوا بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب رسول کے لئے ہے۔ یستھزء ون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب۔ وہ استہزا کیا کرتے تھے، ہنسی اڑایا کرتے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : تباہ ہونے والی اقوام کا انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ سلوک اور ان کا انجام۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ” اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن “ ہے اس لیے اپنے بندوں کو باربار موقعہ اور مہلت دیتا ہے کہ وہ بغاوت اور سرکشی سے باز آجائیں لیکن جب کوئی قوم اور لوگ تمرد اور سرکشی کی انتہا کردیتے ہیں تو پھر زمین کا نظام چلانے اور اسے متوازن رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ اس قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔ جس میں ایک طرف ظالموں کو کیفرِکردار تک پہنچانا مطلوب ہوتا ہے اور دوسری طرف حق والوں اور مظلوموں کی مدد کرنا مقصود ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنی شفقت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ ظالموں پر افسوس ! کہ وہ اپنے سے پہلی اقوام کا انجام دیکھنے اور اس سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے اپنی تباہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے پاس جب کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول آیاتو انہوں نے اس کی دعوت پر غور کرنے کی بجائے اسے استہزا کا نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ذلت کی موت مارا اور قیامت کے دن انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہوگا۔ جب یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے تو اس وقت افسوس کا اظہار کریں گے کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ ہم مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے لیکن آج ہمیں اپنے اپنے اعمال نامے کے ساتھ رب ذوالجلال کے سامنے پیش کردیا گیا ہے۔ اس پر وہ اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور حسرت کا اظہار کریں گے کہ کا ش ! ہم انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرتے اور اس انجام سے بچ جاتے۔ قیامت کے دن آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گھڑی ہوگی اور ہر امت کو اس کی کتاب کی طرف بلایا جائے گا۔ (الجاثیہ : ٢٨) جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم اکٹھا کریں گے اس دن آنکھیں پیلی ہوچکی ہوں گی۔ ( طٰہٰ : ١٠٢) ” اس دن آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل ظاہر ہوگا اور فرشتے گروہ درگروہ اتاردیے جائیں گے۔ اس دن حقیقی بادشا ہی صرف الرّحمان کی ہوگی وہ دن منکرین کے لیے بڑاسخت ہوگا۔ ظالم انسان اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا ہائے میری کم بختی۔ کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ “ (الفرقان : ٢٥، ٢٨) ” جس دن روح القدس اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے کوئی بات تک نہ کرسکے گا مگر جس کو الرّحمن اجازت دے گا اور وہ ٹھیک ٹھیک بات کہے گا۔ یہی وہ دن ہے جس کا آنا برحق ہے پھر جس کا جی چاہے وہ اپنے مالک کے پاس ٹھکانہ بنا لے۔ ہم نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا ہے جو نزدیک ہے جس دن آدمی اپنے کیے ہوئے اعمال کو دیکھے گا اور کافر کہے گا کاش ! میں مٹی بنا رہتا۔ “ (النبا : ٣٨ تا ٤٠) مسائل ١۔ بیشمار اقوام نے اپنے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو تضحیک کا نشانہ بنایا۔ ٢۔ انبیاء ( علیہ السلام) کو تضحیک کا نشانہ بنانے والوں کا بدترین انجام ہوا۔ ٣۔ نیک و بد نے بالآخر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیر بالقرآن بڑی بڑی اقوام کی تباہی : ١۔ ہم نے ان سے پہلے کئی بستیوں کو ہلاک کیا جو ٹھاٹھ باٹھ میں بہت آگے تھے۔ (مریم : ٧٤) ٢۔ ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں، جو قوت میں مکہ والوں سے بڑھ کر تھیں۔ (ق : ٣٦) ٣۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ نے ان سے پہلے بستیوں والوں کو ہلاک کیا۔ (القصص : ٧٨) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : ٦) ٥۔ قوم لوط کو آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ ( ھود : ٨٢) ٦۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : ١٣) ٧۔ فاسق ہلاک کردیے گئے۔ (الاحقاف : ٣٥) ٨۔ قوم نوح سیلاب کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : ١٣٦) ٩۔ قوم نوح کی ہلاکت کا سبب بتوں کی پرستش تھی۔ (نوح : ٢٣) ١٠۔ قوم لوط کی تباہی کا سبب اغلام بازی کرنا تھی۔ (الاعراف : ٨١) ١١۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا سبب ماپ تول میں کمی تھی۔ (ھود : ٨٤، ٨٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس 206 ایک نظر میں پہلے سبق میں بات ان لوگوں کے بارے میں تھی جنہوں نے دعوت اسلامی کا استقبال انکار اور تکذیب کے ساتھ کیا۔ اور اس کا انجام ان کے گاؤں کا قصہ بیان کرکے بتایا گیا کہ ان جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ ان کا انجام یہ ہوا کہ فاذاھم خمدون (36: 29) ” اچانک وہ بجھ کر رہ گئے “۔ لیکن اس سبق میں تمام ملتوں اور تمام کتب سماوی کے مکذبین کا انجام بنایا گیا ہے۔ اور پوری انسانی تاریخ سے گمراہ انسانوں کے خدوخال اور نقوش یہاں بتائے گئے ہیں اور یہاں نہایت ہی دلدوز آواز و انداز میں پکارا جاتا ہے کہ تعجب ہے کہ لوگ ان اقوام کی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔ جن کی سچائی کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ یہ مکذبین وہ ہیں جو گمراہی کے راستے پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں اور یوم الدین کا انہیں کوئی خیال نہیں ہے۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون (36: 32) ” ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جاتا ہے “۔ اس کے بعد تکوینی دلائل اور معجزات اور نشانیوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ یہ وہ نشانیاں ہیں جن کو یہ لوگ رات اور دن دیکھتے ہیں اور نہایت ہی لاپرواہی سے ان پر سے گزر جاتے ہیں۔ یہ خود ان کے نفوس کے اندر بھی موجود ہیں۔ ان کے ماحول میں بھی موجود ہیں۔ ان کی قدیم تاریخ میں بھی موجود ہیں لیکن ان کو اس کا شعور نہیں ہے اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو وہ یاد نہیں کرتے۔ سبق نہیں حاصل کرے۔ وما تاتیھم من ۔۔۔۔ عنھا معرضین (36: 46) ” ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے “۔ اس کے برعکس یہ لوگ اللہ کے عذاب کے بارے میں جلد آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ مطالبہ وہ اس لیے کرتے ہیں کہ ان کو عذاب کے آنے کا کوئی یقین نہیں۔ ویقولون متی۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ چونکہ یہ لوگ عذاب میں شتابی کا مطالبہ کرتے ہیں ، قیامت کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور دل میں یہ ہے کہ ان کو ان امور کے واقع ہونے کا یقین نہیں ہے۔ اس لیے یہاں مناظر قیامت میں سے ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ منظر صاف صاف بتاتا ہے کہ انجام کیا ہوگا ، جس کے واقع ہونے کی ان کو بہت جلدی ہے۔ یہ منظر اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ گویا ان کا انجام واقع ہوگیا اور یہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔ درس نمبر 206 تشریح آیات 30 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68 یحسرۃ علی العباد۔۔۔۔۔ لدنیا محضرون (30 – 32) حسرت ایک ایسی نفسیاتی حالت ہے جس میں انسان کو بےحد افسوس ہوتا ہے لیکن وہ اس حالت کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پس وہ دیکھ دیکھ کر کڑھتا ہے اور اسے اذیت ہوتی ہے۔ اللہ کو تو بندوں کے ایمان نہ لانے پر کوئی حسرت نہیں ہوتی۔ مفہوم یہ ہے کہ انسان نقطہ نظر سے یہ لوگ قابل حسرت ہیں۔ وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی حالت پر افسوس کیا جائے۔ کیونکہ ان کا یہ حال نہایت ہی قابل تالیف ، پریشان کن اور قابل رحم ہے کہ یہ لوگ اپنی اس ضلالت کی وجہ سے دائمی شر اور دائمی مصیبت میں مبتلا ہونے والے ہیں۔ یقیناً وہ لوگ اس قابل ہیں کہ ان کی حالت پر افسوس کیا جائے جن کو نجات کا موقعہ ملتا ہے اور وہ اس سے استفادہ نہیں کرتے۔ ان کے سامنے انسانی تاریخ موجود ہے اور وہ اس تاریخ سے عبرت نہیں پکڑتے اور نہ ہی تاریخی واقعات پر غور کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس وقتاً فوقتاً اللہ ان کی ہدایت کے لیے رسولوں کو بھیجتا ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی رحمت کے دروازوں سے دور ہوجاتے ہیں اور پھر اللہ کی شان میں گستاخی بھی کرتے ہیں۔ یحسرۃ علی ۔۔۔۔ یستھزءون (36: 30) ” جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(یَاحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ) (افسوس ہے بندوں کے حال پر) بیان القرآن میں لفظ ” حسرت “ کا ترجمہ افسوس سے کیا ہے، لفظ حسرت وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی نفع مند چیز فوت ہوجائے اور اس پر ندامت اور شرمندگی ہونے لگے۔ چونکہ ذات باری تعالیٰ کے لیے اصلی معنی میں حسرت ہونا محال ہے اس لیے افسوس سے ترجمہ کیا گیا ہے، لیکن احقر کو اس میں بھی اشکال ہے کیونکہ افسوس سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات پاک بلندو برتر ہے، صاحب روح المعانی نے اس موقع پر متعدد اقوال نقل کیے ہیں کہ حسرت کرنے والے کون ہیں اور العباد کون ہیں جن پر حسرت کی گئی، پھر ایک قول یہ لکھا گیا ہے : (وجوزان یکون التحسر منہ سبحانہ وتعالیٰ مجازًا علی استعظام ما جن وہ علی انفسھم) (اور ہوسکتا ہے کہ یہ حسرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجازاً ہو ان کے جرم کی بڑائی کو ظاہر کرنے کے لیے) پھر چند سطر کے بعد لکھا ہے : (وقیل (یا) للنداء والمنادی محذوف و (حسرۃ) مفعول مطلق لفعل مضمرو (علی العباد) متعلق بذلک الفعل ای یا ھؤلاء تحسروا حسرۃ علی العباد) (بعض نے کہا ہے یا نداء کے لیے ہے اور منادی محذوف ہے اور حسرۃً فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے اور علی العباد اسی فعل محذوف کا متعلق ہے یعنی اے لوگو ! ان بندوں پر خوب حسرت کرو) یعنی منادی محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اے لوگو ! بندوں کے حال پر حسرت کرو، ان کے پاس جب کبھی کوئی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا اور اپنی آخرت برباد کی۔ صاحب روح المعانی نے اخیر میں لکھا ہے : (ولعل الاوفق للمقام المتبادر الی الافھام ان المراد نداء حسرۃ کل من یأتی منہ التحسر ففیہ من المبالغۃ مافیہ) (اور مقام کے زیادہ موافق ذہن کو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس سے مراد حسرت کی دعوت ہے ہر اس آدمی کو جو حسرت کرسکتا ہے ایسی صورت میں اس میں مبالغہ ہے) یعنی مقام کے مناسب یہ مطلب زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ شخص جو حسرت کرنے کا اہل ہے ان لوگوں کے حال پر حسرت کرے جنہوں نے نبیوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق بنایا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ یحسرۃ الخ، قصہ کے اختتام پر حسب عادت مستمرہ ارشاد فرمایا، انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے والے اور توحید کا انکار کرنے والے بندوں پر افسوس ! ان کے پاس جو بھی رسول توحید کا پیغام لے کر آیا۔ ماننے کے بجائے یہ اس سے استہزا کرنے لگے۔ یہ اظہار حسرت تینوں رسولوں کی طرف سے تھا یا فرشتوں کی طرف سے۔ قال الضحاک انہا حسرۃ الملائکۃ علی الکفار حین کذبوا الرسل وقیل ان الرسل الثلاثۃ ہم الذین قالو لما قتل القوم ذلک الرجل الذی جاء من اقصی المدینۃ یسعی، و حل بالقوم العذاب یا حسرۃ علی ھؤلاء کانہم تمنوا ان یکونوا قد امنوا (قرطبی ج 15 ص 23) ۔ ما یاتیہم، ماضی استمراری کے معنوں میں ہے یعنی ان کے پاس جو بھی رسول آتے رہے وہ ان سے استہزاء کرتے رہے اس سے حال یا استقبال مراد نہیں تاکہ اس سے اجراء نبوت پر استدلال کیا جاسکے۔ جیسا کہ مرزائیوں کا خیال ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(30) اے وائے اور افسوس بندوں کے حال پر کبھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو۔ یعنی ایسے بندوں پر جن کی عادت ہی تکذیب کی ہے بہت افسوس ہے ان کی حالت یہ ہے کہ کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا مگر یہ کہ انہوں نے اس پیغمبر کی تکذیب ہی کی یعنی ہر پیغمبر کو جھٹلایا۔