Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 33

سورة يس

وَ اٰیَۃٌ لَّہُمُ الۡاَرۡضُ الۡمَیۡتَۃُ ۚ ۖ اَحۡیَیۡنٰہَا وَ اَخۡرَجۡنَا مِنۡہَا حَبًّا فَمِنۡہُ یَاۡکُلُوۡنَ ﴿۳۳﴾

And a sign for them is the dead earth. We have brought it to life and brought forth from it grain, and from it they eat.

اور ان کے لئے ایک نشانی ( خشک ) زمین ہے جس کو ہم نے زندہ کر دیا اور اس سے غلّہ نکالا جس میں سے وہ کھاتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Proof of the Creator of the Universe and of Life after Death Allah, may He be glorified and exalted, says: وَايَةٌ لَّهُمُ ... And a sign for them, means, evidence for them of the existence of the Creator and His perfect power and ability to resurrect the dead, ... الاَْرْضُ الْمَيْتَةُ ... ... is the dead land. means, when it is dead and arid, with no vegetation, then Allah sends water upon it, it is stirred (to life), and it swells and puts forth every lovely kind (of growth). Allah says: ... أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ We give it life, and We bring forth from it grains, so that they eat thereof. meaning, `We have made it a provision for them and their cattle.' وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنْ الْعُيُونِ

وجود باری تعالیٰ کی ایک نشانی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر ، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی ، تازگی ، ہریالی ، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی ۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں ۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کر دیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں ۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کر دیتے ہیں ۔ نہریں جاری کر دیتے ہیں جو باغوں اور کیھتوں کو سیراب ، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں ۔ یہ سب اس لئے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے ، کھیتیوں سے ، باغات سے نفع حاصل کرے ، حاجتیں پوری کرے ، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں ، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں ، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں ۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت ، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار ۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں ۔ پھر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو شکر گذاری نہیں کرتے؟ اور اللہ تعالیٰ کی بے انتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے؟ ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں ، چنانچہ ابن مسعود کی قرأت میں ( وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ ۭ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ 35؀ۙ ) 36-يس:35 ) ہے ۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو ۔ جیسے اور آیت میں ہے ( وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 49؀ ) 51- الذاريات:49 ) ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی قدرت اور مردوں کو زندہ کرنے پر نشانی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣٢] دلائل توحید۔۔ ہر قسم کی نباتات کا بہترین حصہ انسان کے لئے ہوتا ہے :۔ زمین سے جو اناج بھی پیدا ہوتا ہے اس کا بہتر حصہ تو انسانوں کی خوراک بنتا ہے اور ناقص حصہ مویشیوں اور دوسرے جانوروں کی۔ مثلاً گندم کے اناج میں سے گندم کے دانے بہتر حصہ ہے اور یہ انسانوں کی خوراک ہے۔ اور باقی کا حصہ جسے بھوسہ یا توڑی کہتے ہیں مویشیوں کی خوراک بنتا ہے۔ یہی حال سب غلوں کا ہے اور پھل دار درختوں میں سے پھل انسان کی خوراک بنتے ہیں اور پتے وغیرہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کی خوراک بنتے ہیں۔ پھر کچھ چیزیں انسانوں کے لباس کے کام آتی ہیں اور کچھ دواؤں کے اور کچھ جھاڑ جھنکاڑ ایندھن کے کام آتے ہیں اور کچھ سے انسان کئی قسم کی مصنوعات تیار کرتا ہے۔ غرضیکہ زمین کی نباتات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو بلاواسطہ یا بالواسطہ آخر انسان ہی کے کام نہ آتی ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ : پچھلی آیت میں تمام لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر کیے جانے کا ذکر ہے، جو قیامت کے دن ہوگا، چونکہ کفار اسے نہیں مانتے تھے، اس لیے اب اس کی کئی دلیلیں بیان فرمائیں۔ یہاں ” َاٰيَةٌ“ (نشانی) سے مراد دلیل وبرہان ہے۔ مردہ زمین سے مراد بنجر اور بےآباد زمین ہے۔ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا : ” اٰيَةٌ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی ہماری مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت کی ایک عظیم دلیل یہ ہے کہ ہم بنجر اور قحط زدہ زمین پر بارش برساتے ہیں تو وہ بڑھتی پھولتی اور لہلہاتی ہے، پھر ہم اس سے غلہ پیدا کرتے ہیں جو ان کے کھانے کی چیزوں کا اکثر حصہ ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Most of the subjects taken up in Surah Ya Sin related to signs of Divine power and the rewards and favors bestowed on human beings. These have been harnessed to prove that there is a life hereafter and that people need to be firm in their belief in being raised again and having to face the Day of Judgment. In the verse cited above, the Divine signs pointed to are, on one hand, clear proofs of His perfect power, while on the other, they serve as mirrors of particular rewards and favors of Allah Ta’ ala bestowed on human beings and the rest of creatures. In this, lie unusual lessons of wisdom.

خلاصہ تفسیر اور (قدرت کی نشانیاں اور عظیم الشان نعمتیں جو توحید کے دلائل بھی ہیں، ان میں سے) ایک نشانی ان لوگوں کے (استدلال کے) لئے مردہ زمین ہے (اور اس میں نشانی کی بات یہ ہے کہ) ہم نے اس کو (بارش سے) زندہ کیا اور ہم نے اس (زمین) سے (مختلف) غلے نکالے سو ان میں سے لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے اس (زمین میں) کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگائے اور اس میں (باغ کی آب پاشی کے لئے) چشمے (اور نالے) جاری کئے تاکہ (مثل غلے کے) لوگ باغ کے پھلوں میں سے (بھی) کھائیں اور اس (پھل اور غلہ) کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا (گو تخم ریزی اور آبپاشی بظاہر انہی کے ہاتھوں ہوئی ہو مگر بیج سے درخت اور درخت سے پھل پیدا کرنے میں ان کا کوئی دخل نہیں) خاص خدا ہی کا کام ہے سو (ایسے دلائل دیکھ کر بھی) کیا شکر نہیں کرتے (جس کا اول زینہ اللہ کے وجود اور توحید کا اقرار ہے۔ یہ استدلال ہے یعنی) وہ پاک ذات ہے جس نے تمام مقابل قسموں کو پیدا کیا، نباتات زمین کی قسم سے بھی (خواہ مقابلہ مماثل کا ہو جیسے ایک سے غلے، ایک سے پھل، خواہ مقابلہ مضادت و مخالفت کا ہو جیسے گیہوں اور جو اور شیریں پھل اور ترش پھل) اور (خود) ان آدمیوں سے بھی (جیسے مرد اور عورت) اور ان چیزوں میں بھی جن کو (عام) لوگ نہیں جانتے (مقابلہ کے عام مفہوم کے اعتبار سے مخفی چیزوں میں بھی کوئی شے مقابل سے خالی نہیں اور اسی سے حق تعالیٰ کا بےمقابل ہونا معلوم ہوگیا۔ یہاں سے آیت ومن کل شئی خلقنا زوجین کی بھی توضیح ہوگئی) اور (آگے بعض آیات آفاقیہ سماویہ اور ان کے بعض آثار سے استدلال ہے یعنی) ایک نشانی ان لوگوں کے لئے رات کا (وقت) ہے کہ (بوجہ اصل ہونے ظلمت کے گویا اصل وقت وہی تھا اور نور آفتاب عارضی تھا، گویا اس ظلمت کو دن نے چھپا لیا تھا، جیسے بکری کے گوشت کو اس کی کھال چھپا لیتی ہے پس) ہم (اسی عارض کو زائل کر کے گویا) اس (رات) پر سے دن کو اتار لیتے ہیں سو یکایک (پھر رات نمودار ہوجاتی ہے اور) وہ لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں اور (ایک نشانی) آفتاب (ہے کہ وہ) اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے (یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے اور نقطہ افقیہ کو بھی، کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے) اور یہ اندازہ باندھا ہوا ہے اس (خدا) کا جو زبردست (یعنی قادر ہے اور) علم والا ہے (کہ علم سے ان انتظامات میں مصلحت و حکمت جانتا ہے اور قدرت سے ان انتظامات کو نافذ کرتا ہے) اور (ایک نشانی) چاند (ہے کہ اس کی چال) کے لئے منزلیں مقرر کیں (کہ ہر روز ایک منزل قطع کرتا ہے) یہاں تک کہ (اپنے آخر دورے میں پتلا ہوتا ہوتا) ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی (کہ پتلی اور خمدار ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ ضعف نور کی وجہ سے زردی میں بھی تشبیہ کا اعتبار کیا جاوے اور سورج اور چاند کی چال اور رات و دن کی آمد و رفت ایسے انداز اور انتظام سے رکھی گئی ہے کہ) نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو (اس کے ظہور نور کے وقت میں یعنی رات میں جبکہ وہ منور ہو) جا پکڑے یعنی قبل از وقت خود طلوع ہو کر اس کو اور اس کے وقت یعنی رات کو ہٹا کر دن بنا دے جیسا کہ قمر بھی اس طرح آفتاب کو اس کے ظہور نور کے وقت نہیں پکڑ سکتا کہ دن کو ہٹا کر رات کو بنا دے اور اس میں قمر کا نور ظاہر ہوجاوے) اور (اسی طرح) نہ رات دن (کے زمانہ مقررہ کے ختم ہونے) سے پہلے آسکتی ہے (جیسے دن بھی رات کے زمانہ مقررہ کے ختم ہونے سے پہلے نہیں آسکتا) اور (چاند اور سورج) دونوں ایک ایک کے دائرہ میں (حساب سے اس طرح چل رہے ہیں جیسے گویا) تیر رہے ہیں (اور حساب سے باہر نہیں ہو سکتے کہ رات دن کے حساب میں خلل واقع ہو سکے) اور (آگے آیات آفاقیہ ارضیہ میں سے ایک خاص نشانی سفر اور سواری وغیرہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں یعنی) ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا، (اپنی اولاد کو اکثر لوگ تجارت کے لئے سفر میں بھیجتے تھے، پس اس تعبیر میں تین نعمتوں کی طرف اشارہ ہوگیا۔ اول بھری ہوئی کشتی کو جو بوجھل ہونے کی وجہ سے پانی میں غرق ہونے والی چیز ہے سطح آب پر رواں کرنا، دوسرے ان لوگوں کو اولاد عطا فرمانا، تیسرے رزق و سامان دینا جس سے خود گھر بیٹھے رہیں اور اولاد کو کارندہ بنا کر بھیجیں) اور (سفر خشکی کے لئے) ہم نے ان کے لئے کشتی ہی جیسی ایسی چیزیں پیدا کیں جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں (مراد اس سے اونٹ وغیرہ ہیں اور تشبیہ کشتی کے ساتھ اس خاص وصف کے اعتبار سے ہے کہ اس پر بھی سواری اور بار برداری اور قطع مسافت کی جاتی ہے اور اس تشبیہ کا حسن اس سے بڑھ گیا کہ عرب میں اونٹ کو ” سفینہ البر “ یعنی خشکی کی کشتی کہنے کا محاورہ شائع تھا۔ آگے کشتی کے ذکر کی مناسبت سے کفار کے لئے ایک وعید عذاب کی بیان فرمائی کہ) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ تو (جن چیزوں کو وہ پوجتے ہیں ان میں سے) ان کا کوئی فریاد رس ہو (جو غرق سے بچا لے) اور نہ یہ (بعد غرق کے موت سے) خلاصی دیئے جائیں (یعنی نہ کوئی موت سے چھڑا سکے) مگر یہ ہماری ہی مہربانی ہے اور ان کو ایک وقت معین تک (دنیاوی زندگی سے) فائدہ دینا (منظور) ہے (اس لئے مہلت دے رکھی ہے) ۔ معارف ومسائل سورة یٰسین میں زیادہ تر مضامین آیات قدرت اور اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات بیان کر کے آخرت پر استدلال اور حشر ونشر کے عقیدے پر پختہ کرنے سے متعلق ہیں۔ مذکور الصدر آیات میں قدرت آلٰہیہ کی ایسی ہی نشانیاں بیان فرمائی ہیں جو ایک طرف اس کی قدرت کاملہ کے دلائل واضحہ ہیں، دوسری طرف انسان اور عام مخلوقات پر حق تعالیٰ کے خاص انعامات و احسانات اور ان میں عجیب و غریب حکمتوں کا اثبات ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاٰيَۃٌ لَّہُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَۃُ۝ ٠ ۚۖ اَحْيَيْنٰہَا وَاَخْرَجْنَا مِنْہَا حَبًّا فَمِنْہُ يَاْكُلُوْنَ۝ ٣٣ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی معنی مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے ۔ ( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13 اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی ۔ ( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں ۔ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور نشانیوں کے طور پر ان مکہ والوں کے لیے ایک نشانی مردہ زمین ہے کہ ہم نے اسے بارش سے زندہ کیا اور اس سے ہر قسموں کے غلے نکالے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ { وَاٰیَۃٌ لَّـہُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ } ” اور ان کے لیے ایک نشانی ُ مردہ زمین ہے “ { اَحْیَیْنٰہَا وَاَخْرَجْنَا مِنْہَا حَبًّا فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ } ” ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا ‘ تو اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔ “ بارش برستے ہی بظاہر مردہ اور بنجر زمین میں زندگی کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے طرح طرح کا سبزہ ‘ فصلیں اور پودے اگ آتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

26 Until now the disbelieves of Makkah were being warned and reproved for their denial of the truth and their attitude of antagonism which they had adopted towards the Holy Prophet. Now the discourse turns to the basic thing which was the actual cause of the conflict between them and the Holy Prophet, i . c. , the doctrine of Tauhid and the Hereafter, which the Holy Prophet was presenting and the disbelievers were refusing to acecpt. In this connection, some arguments have been given, one after the other, to make the people ponder over the realities, as if to say, "Observe these phenomena of the universe, which are ever present before you. Do they not point to the same reality, which this Prophet is presenting before you?" 27 "A Sign" : A Sign that Tauhid is the Truth and shirk the falsehood.

سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :26 پچھلے دو رکوعوں میں کفار مکہ کو انکار و تکذیب اور مخالفت حق کے اس رویہ پر ملامت کی گئی تھی جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں اختیار کر رکھا تھا ۔ اب تقریر کا رخ اس بنیادی نزاع کی طرف پھرتا ہے جو ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کشمکش کی اصل وجہ تھی ، یعنی توحید و آخرت کا عقیدہ ، جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے تھے اور کفار ماننے سے انکار کر رہے تھے ۔ اس سلسلے میں پے در پے چند دلائل دے کر لوگوں کو دعوت غور و فکر دی جا رہی ہے کہ دیکھو ، کائنات کے یہ آثار جو علانیہ تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں ، کیا اس حقیقت کی صاف صاف نشان دہی نہیں کرتے جسے یہ نبی تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے ؟ سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :27 یعنی اس امر کی نشانی کہ توحید ہی حق ہے اور شرک سراسر بے بنیاد ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٣ تا ٣٦۔ اوپر کی آیت انانحن نحی الوتی میں حشر کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس کی مثال بیان فرمائی کہ ہر سال حشر کا حال سمجھنے کے لیے وہ مردہ زمین کہ جس میں گھانس تک نہیں ہوتی منکریں حشر کے حق میں ایک نشانی ہے کہ جس وقت ہم نے اس پر مینہ برسایا تو وہ ملتی ابھرتی ہے اور ہر قسم کی چیزیں اگاتی ہے گویا بعد مرنے کے جی اٹھتی ہے اس واسطے فرمایا کہ زندہ کیا ہم نے اس کو اور نکالا ہم نے اس سے اناج جو کھاتے ہیں یہ بھی اور ان کے چوپائے بھی پھر فرمایا کہ بنائے ہم نے باغ کھجور اور انگور کے اور بہائے زمین میں چشمے اور ندیاں تاکہ کھائیں اس کے میووں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اناج کے پیدا کرنے کا احسان مخلوق پر رکھا اس کے بعد میووں کا اور پھلوں کا ذکر کیا۔ کیوں کہ انسان کو بہ نسبت میووں کے اناج کی ضرورت زیادہ پڑتی ہے اس لیے اناج کا پیدا کرنا ایک بڑی نعمت ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ ١ ؎ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے (١ ؎ مشکوۃ ص ٤٨١ باب النفح فی الصور) کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی طرح قیامت تک کی سب مردہ مخلوقات کے پتلے اسی طرح تیار ہوجائیں گے جس طرح اب ہر سال کے مینہ کی تاثیر سے ہر طرح کا اناج اور میوہ پیدا ہوجاتا ہے قرآن شریف میں جگہ جگہ حشر گی حالت کے سمجھانے کے لیے حشر کے ذکر کے ساتھ اناج اور میووں کی پیدا وار کا جو ذکر فرمایا گیا ہے اس حدیث سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کس لیے کہ اب جو ہر سال مینہ کی تاثیر سے کام لیا جاتا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے بہت بڑا کام ہے کہ ایک اناج کے دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک میوہ کی گٹھلی سے ہزاروں میوے پیدا کئے جاتے ہیں حشر کے دن جو مینہ برسے گا اس کی تاثیر سے فقط اتنا ہی کام لیا جائے گا کہ ایک مردہ کی مٹی سے ایک پتلا تیار کردیا جائے گا پھر اب جس طرح ماں کے پیٹ میں پتلا تیار ہوجاتا ہے اور اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اسی طرح حشر کے دن سب پتلوں میں روحیں پھونک دی جاویں گی۔ منکرین حشر کی یہ بڑی نادانی ہے کہ وہ باوجود سمجھانے کے کھیتی کی حالت سے حشر کی حالت کو نہیں سمجھتے ‘ جو فلسفی لوگ جسمانی حشر کے منکر ہیں انہوں نے بھی اس مثال کے سمجھنے میں غلطی کی ہے بعضے میوے ایسے قدرتی ہوتے ہیں کہ انسان کا کچھ دخل ان میں گٹھلی کے بونے یا پانی کے دینے کا نہیں ہوتا حضرت عبداللہ اللہ بن عباس (رض) نے ایسے ہی میووں کو وماعملتہ ایدیھم کی تفسیر قرار دیا ہے اس تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنے ہاتھ کے لگائے ہوئے اور پانی دئے ہوئے درختوں کے میوے کھاتے ہیں اور ایسے درختوں کے میوے بھی کھاتے ہیں جو ان کے ہاتھ کے لگائے ہوئے نہیں ہیں اور قدرتی ندیوں کے پانی سے ان درختوں کی پرورش ہوئی ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا یہ قول تفسیر ابراہیم ٢ ؎ بن المنذر میں ہے۔ (٢ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٢٦٣ ج ٥) یہ ابراہیم ابن المنذر حاکم اور ابن ماجہ کے رتبہ کے قدیم مفسروں میں ہیں اور ابو حاتم رازی نے ان کو معتبر علماء میں شمار کیا ہے اس لیے یہی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے اسی خیال سے تینوں ١ ؎ ترجموں میں اسی تفسیر کے موافق ترجمہ کیا گیا ہے (١ ؎ شاہ ولی اللہ (رح) (فارسی شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر (اردو ‘ (ع۔ ح) آگے فرمایا جس نے انسان اور ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے وہ اللہ ان ناشکر مشرکوں کے شرک سے پاک اور دور ہے اور مما لایعلمون ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگل اور دریا میں بہت سے ایسے جانور ہیں جن کو لوگ نہیں جانتے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:33) ایۃ لہم الارض المیتۃ میں الارض المیتۃ (موصوف وصفت) مبتدا ہے اور ایۃ خبر مقدم لہم متعلق ایۃ ہم ضمیر کا مرجع کفار مکہ ہیں اور مردہ (یعنی خشک) زمین ان کے لئے ایک نشانی ہے (اللہ کی قدرت کی یا بطور دلیل مردوں کو دوبارہ زندہ کردینے کی) الارض سے مراد جنس زمین ہے کوئی معین زمین مراد نہیں ہے۔ احییناھا ۔۔ الخ ایۃ کی تفسیر ہے ماضی جمع متکلم احیاء (افعال) مصدر سے۔ ھا ضمیر کا مرجع الارض ہے ہم نے اس کو زندہ کردیا (بارش برسا کر اور نباتات اگا کر) ۔ حبا۔ غلہ۔ اناج (گندم ، جو وغیرہ) اناج کے دانہ کو حب وحبۃ کہتے ہیں اس کی جمع حبوب ہے یہاں مراد جنس غلہ ہے۔ فمنہ۔ فا سببیہ ہے من ابتدائیہ بھی ہوسکتا ہے اور تبعیضیہ بھی۔ ہ ضمیر کا مرجع حبا ہے جارومجرور متعلق یاکلون کے ہے۔ مطلب یہ کہ جب ہم مردہ زمین کو بارش کی وجہ سے سرسبز کردیتے ہیں اور اس سے غلہ برآمد کرتے ہیں پھر اسی غلہ سے یہ لوگ کھاتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 جو خدا مردہ زمین میں جان ڈال سکتا ہے وہ اس چیز پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ انسانوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اپنے حضور حاضر کرسکے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے کھجوروں اور انگوروں کے باغات ہیں جن کے پھلوں سے یہ لذیذ غذا حاصل کرتے ہیں اور انہیں پھلوں کو ملا کر کبھی پکا کر اور کبھی کسی اور طرح سے یہ کس قدر لذیذغذائیں تیار کرتے ہیں کیا یہ نعمتیں اور ان کے استعمال کا شعور نیز فرصت و مہلت اور لذت حاصل کرنے کی طاقت جس نے دی ہے اس کا شکر نہ کیا جائے گا ؟ یہ کیوں اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اللہ پاک ہے اس کی قدرت کاملہ میں کسی طرح کی کمی کا شائبہ تک نہیں اس نے بیشمار قسم کی مخلوق پیدا فرما دی ہے جن کے حلیے قدوقامت رنگ ، خصوصیات مختلف کوئی گن نہیں سکتا پھر ہر مخلوق کے اندر ایک نظام جو الگ ایک جہان ہے نباتات ہی کو دیکھو جو زمین سے اگتی ہے اس کا ایک ایک پتا پھل پھول یا وہ ذرات جو اس کے وجود میں شامل ہیں آگے ان سب کا اپنا ایک جہان ہے ایک ذرے میں کروڑوں ایٹم اور ہر ایٹم میں ایک الگ نظام موجود ہے۔ خود ان کے اپنے اجسام کے اندر۔ انسان سب ایک ہیں۔ ناک آنکھ کان ہاتھ پاؤں سب کے ہیں مگر اربوں انسانوں میں کوئی ایک کسی دوسرے سے نہیں ملتا پھر سب کی عقل شعور اور فکر الگ زندگی الگ صحت جدا علم و عمل اپنا اپنا اور پھر ان کے اندر ایک ایک خلیے میں الگ الگ جہان آباد ہیں اور کتنی ایسی مخلوق ہے جس تک انسانی نگاہ پہنچ ہی نہیں پائی ایک بہت بڑی نشانی رات کی ہے کہ اصل جہان تاریک ہے اللہ کی قدرت کاملہ نے سیارگان کو پیدا فرما کر اس میں دن کی روشنی بھیج دی جب وہ کھینچ لیتا ہے تو کہتے ہیں رات ہوگئی وار یہ شب و روز مھض اندھیرے اور روشنی کا کھیل ہیں بلکہ سورج اپنے مقرر شدہ مقام تک پہنچنے کے سفر پر ہے کہ اس رات دن کے کھیل نے ہر شے کی عمر ، پیدائش اور موت کے اوقات کو اس تک پہنچانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو اپنے مقررہ انجام کی طرف یعنی یوم حشر کی طرف بڑھ رہا ہے یہ سفر اور اس پر بغیر کسی لمحہ کے فرق کے چلنا سورج کی مجبوری ہے کہ اس کے لیے اللہ نے جو بہت غلبہ رکھنے والا ہے یہ مقرر کردیا ہے یہاں پر مفسرین کرام نے سورج کے کچلنے یا ساکن ہونے کے فلسفے پر بھی بہت کچھ لکھا ہے مگر بےغبار بات یہی ہے کہ قرآن حکیم کا مضوع سائنس میں اصلاح خلق ہے جس کا تعلق قیامت سے ایمان پر بھی ہے تو سورج کا طلوع غروب جس طرح بیشمار اشیاء اور جانداروں کی تخلیق کا سبب اور ان کے دنیا میں آنے کا وقت لانے کا سبب ہے ایسے ہی ان کے وقت پورا کرکے رخصت کی گھڑی لانے کا سبب بھی ہے اور یہ عمل ہر آن قیامت قیامت کو قریب تر کر رہا ہے۔ یہی حال چاند کا ہے کہ اس کی منازل بھی متعین ہیں ہر منزل کا نتیجہ یہی ہے کہ مخلوق کی آمدورفت کو متاثر کر رہی ہے ہاں وہ گھٹتا بڑھتا بھی ہے کہ گھٹتے گھٹے ایک خشک سی ٹہنی سا ہوجاتا ہے اور پھر نئے سرے سے طلوع ہو کر بڑھنے لگ جاتا ہے۔ شمس و قمر کی ان منازل یا حرکات پر ایک پورے علم کی بنیاد رکھی گئی ہے جسے علم نجوم کہا جاتا ہے جہلا نے اس کے بہت سے اثرات مان رکھے ہیں جبکہ دوسرا فریق اسے کفر و شرک تک کہنے میں باک محسوس نہیں کرتا حق یہ ہے کہ شمس و قمر کی حرکات کا عالم تخلیق سے تعلق تو اللہ نے طے کردیا اور ہے اگر اگر انسانی عقل نے اس کے اندازے بھانپ لیے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ کسی واقعہ کی سن گن اور کے ظہور پذیر ہونے سے قبل اندازا جان سکیں گے اور بس یہ ممکن نہیں کہ انسان ان کی تاثیر کو بدل دے یا ان کی رفتار کو متاثر کرے اس کی مثال صرف ایک نباض کی ہے کہ نبض پر ہاتھ رکھ کر جسم کی صحت وبیماری یا اس کی وجوہات کا اندازہ کرلیتا ہے جو ٹھیک بھی ہوسکتا ہے اور نہیں بھی۔ ایک بہترین مثال ہلاکو خان کے دربارکا واقعہ ہے جب اس نے درباری نجومی پہ سوال کیا کہ کیا علم نجوم کے سبب آنے والے کسی ناخوشگوار واقعہ کو روکا یا تبدیل کیا جاسکتا ہے اس نے کہا ممکن نہیں تو بولا اس علم کا فائدہ ؟ اس نے عرض کیا کل جب آپ دربار کریں تو کسی کو حکم دیجیے بالائی منزل سے تانبے کا تھال دربار میں پھینک دے پھر جواب دے سکوں گا دوسرے دن اہل دربار تو بادشاہ کے جلال میں کھوئے تھے کہ ایک زوردار گونچ سے تھال گرا سب پریشان ہوگئے بہادروں نے تلواریں سونت لیں کمزور دل بھاگ نکلے جبکہ بادشاہ اور نجومی پرسکون تھے تو اس نے عرض کیا یہ حاصل ہے کہ اگر کسی حادثے کا امکان ذہن میں ہو تو اس کا وقوع پریشانی پیدا نہیں کرتا اور بس۔ ان کے اوقات اس قدر سختی سے مقرر ہیں کہ اگر ان میں لمحوں کا فرق آتا تو صدیوں میں دنیا تباہ ہوجاتی مگر سورج کی جرات نہیں کہ چاند کو جا پکڑے یا دن رات کو عبور کرجائے ہرگز نہیں جبکہ سب سیارے اسی ایک فضا میں تیر رہے ہیں مگر نہ ٹکراتے ہیں نہ اوقات تدبیل کرتے ہیں اپنی مقررہ منزل کو گامزن ہیں۔ کیا انہیں اس میں بھی قدرت کا کرشمہ نظر نہیں آتا کہ ہر طرف سمندروں کی میلوں گہرائیاں پھیلا کر ایک محفوظ کشتی کی طرح زمین کو اس مٰں سجا دیا ہے جس پر نسل ا انسانی آبادی کے مزے لے رہی ہے اسی طرح جانداروں کے علاوہ بےجان مشینوں کو بھی ان کی سواری کے لیے بنا دیا ہے۔ اللہ نے عقل دی جس سے انسان نے ایجادات کیں۔ اللہ نے ہر شے پیدا کی جسے جوڑ کر سواری کے اسباب لاری کا ریل سمندری اور ہوائی جہاز یہ سب کچھ بنا لیا اگر اللہ چاہے تو ساری زمین کو غرق کردے وہ چاہے تو ان کی سواریوں کو تباہ کردے تو اس کے مقابلے میں تو کوئی ان کی فریاد بھی نہیں سن سکتا اور نہ مدد ہی کرکے چھڑا سکتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی رحم کرے اور کام چلتا ہے مگر کب تک کہ اس نے بھی ایک آخری لمحہ مقرر کردیا ہے لہذا ہر شخص اللہ کی دی ہوئی فرصے کے لمحات میں دنیا سے استفادہ بھی کرسکتا ہے۔ یہی بات جب ان سے کہی جائے کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو جو دنیا کی زندگی مٰں بھی آسکتا ہے اور کفر پر مرنے سے آخرت میں تو ضرور سامنا ہوگا۔ آج حق قبول کرلو تو اللہ کی رحمت کو پاسکتے ہو اور اس کے غضب سے بچ سکتے ہو مگر ایسے بدبخت کہ جب بھی کوئی دلیل پیش کی جائے اسے ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مذاق اڑاتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ دولت اور نعمتیں اللہ نے بخشی ہیں ان میں سے اسی کی راہ پر خرچ کرو تو کفار مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھلا جن کو اللہ نے رزق نہیں دیا ان کو ہم کیوں کھانے پینے کو دیں تم لوگ جو ہمیں کھانے پینے کی دعوت دے رہے ہو غلط کر رہے ہو حالانکہ بات درست رزاق اللہ ہی ہے اور اس نے مخلوق کا رزق اسباب کے تابع مخلوق تک پہنچایا ہے لہذا اگر کوئی امیر کسی فقیر کو دیتا ہے یا مالک مزدور کو اور نوکر کو تو رزق اللہ کی طرف سے تھا جیسے زمین سے اناج درخت سے پھل دیتا ہے ایسے اس کی جیب سے انہیں سکے عطا کردئیے اور انہیں اس کا کام کرنا پڑا یہ نظام عالم کے چلنے کا سبب ہے لہذا جو کسی کا حق روکتا ہے وہ گویا نظام عالم کی تباہی کا سبب بن رہا ہے نیز یہاں حضرت استاذی المکرم (رح) کا ایک جمہ حاشیے پر درج ہے جسے نقل کرنا سعادت ہے۔ کفار کا انفاق غیر پر تبرع و احسان میں داخل ہے جس کا فائدہ کفار کو بھی ہوتا ہے۔ سبحان اللہ کیا خوبصور تتحقیق ہے واقعی کبھی تو کافر کو اس کے بدلے ایمان نصیب ہوجاتا ہے ورنہ دنیا کا فائدہ ضرور ہوتا ہے ۔ اور کہتے ہیں یار یہ قیامت قیامت سے ڈراتے رہتے ہو کہاں ہے وہ قیامت اگر تمہاری بات سچ ہے تو آ کیوں نہیں چکتی۔ مگر انہیں تکلیف نہیں کرنی پڑے گی وہ اپنے وقت مقررہ پر خود آجائے گی اور ان کی حیثیت تو یہ ہے کہ پہلی چنگھاڑ پر ہی چوکڑی بھول جائیں گے اور ایک دوسرے سے لڑیں گے کہ مجھے تو تیری باتوں نے کفر پہ لگایا اور تو میری تباہی کا سبب ہے مگر فرصت گزر چکی ہوگی کسی کے پاس وقت نہ ہوگا کہ کچھ کہہ ہی مرے یا کسی سے مل تو لے اپنے پیاروں کے پاس واپس پہنچ سکے ہرگز نہیں۔ بس ایک کڑک ہوگی جو سب کچھ تباہ کردے گی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد) تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی ۔ ہر انسان دیکھتا ہے کہ ایک زمین بالکل خشک اور سوکھی پڑی ہے جو ویران سی لگتی ہے لیکن جیسے ہی بارش برستی ہے تو اس سوکھی اور مردہ سی زمین میں زندگی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں اور کچھ دنوں میں وہ زمین ہری بھری دکھائی دینے لگتی ہے۔ درختوں پر ایک رونق سی آجاتی ہے ، کھجوریں اور انگور اگ آتے ہیں ۔ پھر انسانوں اور نباتات کو سر سبز و شاداب رکھنے کے لئے جگہ جگہ پانی کے چشمے بہنے لگتے ہیں جن کے ذریعہ کھیتوں ، درختوں اور بیلوں کے ذریعہ انسانوں اور تمام جان داروں کے رزق کا انتظام کردیا جاتا ہے۔ اللہ نے انسان کو یہ طریقہ سکھایا ہے کہ وہ زمین کو تیار کر کے اس میں بیج ڈال دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سوال کیا ہے کہ کھیتوں کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟ اس کی وضاحت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد سے ہوتی ہے کہ انسان تو کھیتی باڑی میں ایک کام کرتا ہے لیکن نناوے کام تو اللہ کی قدرت سے ہوتے ہیں انسان اللہ کی پیدا کی ہوئی نعمتوں کو تربیت دیتا ہے لیکن وہ خود ان چیزوں کا خالق نہیں ہوتا ۔ خالق صرف اللہ ہی ہے اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ایک کھلی ہوئی نشانی ہے کہ زمین ، ہوا ، پانی سب ایک ہی فضاء میں ہیں لیکن ان سے پیدا ہونے والی چیزیں بالکل مختلف ہیں ، مزا مختلف ، شکل صورت مختلف ، کوئی پھل میٹھا ہے کوئی کھٹا ، کوئی نمکین ہے تو کوئی کڑوا ۔ اسی طرح انسانوں میں بھی یہی صورت ہے کہ ماں باپ اور گھر کا ماحول ایک جیسا لیکن صورت ، شکل اور مختلف ذہنوں اور مزاجوں میں اولاد پیدا ہوتی ہے۔ کوئی گورا کوئی کالا کوئی پیلا تو کوئی سرخ ۔ فرمایا کہ اسی طرح اللہ کی نشانیوں میں سے رات اور دن کا آنا جانا ہے۔ جب رات پر دن کی روشنی چھا جاتی ہے تو وہ روشن ہوجاتی ہے اور جب دن کی روشنی پر رات کی تاریکی چھا جاتی ہے تو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوجاتا ہے۔ سورج اپنے مقرر راستے پر چل رہا ہے اور چاند اپنی رفتار اور انداز سے اپنی منزلیں طے کرتا ہے کبھی وہ گھٹتا ہے اور کبھی بڑھتا ہے کبھی وہ اس طرح ہوجاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی شاخ مڑ کر کمان بن جاتی ہے۔ چاند ، سورج اور ستارے سب کے سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح کنٹرول کر رکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے تک نہیں پہنچ سکتے۔ سورج اپنے مدار اور دائرے سے نکل کر چاند کے دائرے میں نہیں جاسکتا اور چاند اپنے مدار کو چھوڑ کر سورج کی طرف نہیں جاسکتا ۔ ایسے ہی جتنے بھی سیارے اور ستارے ہیں اللہ نے ان کے دائرے مقرر کردیئے ہیں وہ اب اللہ کی حمد وثناء تسبیح کرتے ہوئے اپنے اپنے دائرے میں گھوم رہے ہیں ۔ کروڑوں سال سے یہ نظام اسی طرح چل رہا ہے جو اللہ کی قدرت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ فرمایا کہ خود انسان کی اپنی ذات میں بیشمار نشانیاں موجود ہیں ۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر پانی کا عذاب آیا تو اس وقت کی معلوم دنیا اس پانی میں غرق ہوگئی اور سوائے سفینہ نوح (علیہ السلام) کے جو انسانوں اور جانوروں سے بھرا ہوا تھا ایک جان دار بھی زندہ رہ سکا لیکن اللہ کی قدرت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے لوگ اور جان داروں کے جوڑے اس کشتی میں سوار کرا دیئے گئے تھے وہی بچ سکے ان کے علاوہ سب کے سب غرق کردیئے گئے ۔ اس طرح نسل انسانی کا سلسلہ باقی رہ سکا ۔ پھر وہی نسل انسانی پھیلتی اور بڑھتی چلی گئی ۔ فرمایا کہ اللہ نے اپنی قدرت کا ملہ سے انسانوں کے لئے ایسی ایسی سواریاں پیدا کیں اور آئندہ زمانے میں انسانی ضرورتوں کے لحاظ سے مختلف سواریاں پیدا کی جاتی رہیں گی ۔ سمندر میں ایک جہاز ایک تنکے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا مگر اللہ تعالیٰ نے پانی اور ہواؤں کو انسان کے اس طرح تابع کردیا کہ وہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اپنی ضرورت کا سامان اور لوگوں کو پہنچانے کا کام کرتے ہیں ۔ اسی طرح خشکی میں بھی اس نے طرح طرح کی سواریاں پیدا کی ہیں ۔ موجودہ دور میں انسانی ترقی کا راز فضاء ، ہوا ، سمندر اور خشکی پر چلنے والی سواریاں ہی ہیں جن سے ساری دنیا ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہیں لیکن ان فضاؤں ، خشکی اور تری کو انسان کے تابع کس نے کردیا ہے۔ یقینا اسی ایک اللہ نے جو کائنات کی ساری چیزوں کا خالق اور بنانے والا ہے۔ وہی شکر اور عبادت و بندگی کے لائق ہے ۔ اگر کوئی شخص ان کھلی نشانیوں کو دیکھنے کے باوجود اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود اور کار ساز اور مشکل کشا مانتا ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی بھول اور بد نصیبی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ہلاک ہونے والے باغیوں اور نافرمانوں کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد ہمیں کوئی اٹھا نہیں سکے گا۔ لہٰذا مارنے کے بعد اٹھا لینے کی دلائل اور مشاہدات پیش کیے جاتے ہیں۔ انسان ! اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان ہو یا نافرمان ہر کوئی اسی زمین پر رہتا اور مرتا ہے۔ موت کے بعد زندہ ہونے کی مثال زمین اور لیل و نہار سے پیش کی جاتی ہے۔ جس کا ہر شخص صبح و شام زندگی بھر مشاہدہ کرتا ہے۔ زمین پر غور فرمائیں تو بظاہر یہ بےجان دکھائی دیتی ہے۔ دیکھنے میں اس میں کوئی حِس و حرکت دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ اسے نہ صرف بارش سے زندہ کرتا ہے بلکہ اَن گنت مخلوق کی زندگی کا سبب بھی بنا دیتا ہے۔ بارش سے پہلے زمین مردہ ہوتی ہے۔ جوں ہی یہ سیراب ہوتی ہے تو اپنے پیٹ میں چھپائے ہوئے بیج کو اس طرح اپنے سینے پر سجا لیتی ہے کہ جس کا اس سے پہلے تصور کرنا محال تھا۔ خاص طور پر ویران زمین پر غور کریں کہ بارش سے پہلے آدمی سوچتا ہے کہ یہ زمین بھی سر سبزو شاداب ہوسکے گی لیکن جوں ہی بارش ہوتی ہے تو اس طرح سبزہ اگاتی ہے کہ دیکھنے والا ” اللہ “ کی قدرت پر عش عش کر اٹھتا ہے۔ بالخصوص ایک زمیندار کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ کس طرح وہ زمین میں دانہ ڈالتا ہے اور اس کے سامنے کس طرح بیج اگتا، پودا بنتا اور پھل دیتا ہے۔ پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ زمین، پانی، فضا اور ہوا ایک ہی ہوتی ہے لیکن ہر بیج اپنی جوہری صلاحیت کی بنیاد پر اگتا، پرورش پاتا اور پھل دیتا ہے۔ جس کے لیے چار چیزوں کا قدرت کاملہ نے اہتمام کیا ہے جو کسی زرعی سائنسدان اور حکمران کے بس کی بات نہیں۔ 1 ۔ زمین کو ایک خاص حد تک نرم رکھنا۔ یہاں تک کہ پہاڑ کے سینے میں بھی یہ نرمی رکھی گئی ہے کہ وہ بیج کو اگائے جس کا مشاہدہ ہم پہاڑوں پر اگنے والے بلندو بالا اور سرسبزو شاداب درختوں کی صورت میں کرتے ہیں۔ 2 ۔ بارش، شبنم، چشموں اور ندی نالوں کے ذریعے زمین کو سیراب کرنا اور اس میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ 3 ۔ ہوا میں ایک مخصوص مقدار میں نمی قائم رکھنا اور ہوا کے ذریعے نردرختوں کے جرثوموں کو مادہ درختوں تک پہنچانا اور پھر اسے ہائیڈروجن مہیا کرنا۔ 4 ۔ سورج کے ذریعے زمین میں پڑے ہوئے بیج کو ایک خاص مقدار سے حرارت دینا اور فصلوں، پودوں اور درختوں تک سورج کی توانائی کو پہنچانا۔ اس سارے نظام میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا عمل دخل نہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں، چوپاؤں، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی روزی کا بندوبست فرمایا ہے۔ اس نظام پر انسان معمولی سا بھی غور کرے تو اسے توحید باری تعالیٰ کی سمجھ آسکتی ہے۔ اس حیرت انگیز انتظام پر جو شخص بھی غور کرے گا بشرطیکہ وہ ہٹ دھرمی اور تعصّب میں مبتلا نہیں تو اس کا دل گواہی دے گا کہ یہ سب کچھ آپ سے آپ نہیں ہوسکتا۔ اس میں صریح طور پر ایک حکیمانہ منصوبہ کام کررہا ہے جس کے تحت زمین، پانی، ہوا اور موسم کی مناسبتیں نباتات کے ساتھ اور نباتات کی مناسبتیں حیوانات اور انسانوں کی حاجات کے ساتھ، انتہائی نزاکتوں اور باریکیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے قائم کی گئی ہیں۔ کوئی ہوش مند انسان یہ تصور نہیں کرسکتا کہ ایسی ہمہ گیر مناسبتیں محض حادثہ کے طور پر قائم ہوسکتی ہیں۔ پھر یہی انتظام اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ یہ بہت سے خداؤں کا کارنامہ نہیں ہوسکتا۔ یہ تو ایک ہی ایسے خدا کا انتظام ہے اور ہوسکتا ہے جو زمین، ہوا، پانی، سورج، نباتات، حیوانات اور نوع انسانی میں سے سب کا خالق ومالک ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے خدا الگ الگ ہوتے تو کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک جامع، ہمہ گیر اور گہری حکیمانہ مناسبتیں رکھنے والا منصوبہ بن جاتا اور لاکھوں کروڑوں برس تک اتنی باقاعدگی سے چلتا رہتا۔ (تفہیم القرآن، سورة یٰسٓ ) توحید کے حق میں دلائل دینے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” اَفَلَا یَشْکُرُوْنَ “ کیا جس رب نے سب سامان ان کے لیے مہیا کیا ہے اس کے یہ شکرگزار نہیں ہوتے اور اس کی نعمتیں کھا کھا کر دوسروں کے شکریے ادا کرتے ہیں ؟ اس کے آگے نہیں جھکتے اور ان معبودوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں جنہوں نے ایک تنکا بھی ان کے لیے نہیں پیدا کیا۔ مسائل ١۔ مردہ زمین کو زندہ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ٢۔ اللہ ہی زمین کو زندہ کرنے والا اور اس سے اناج نکالنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی زمین سے بیج اگاتا ہے : ١۔ بھلا دیکھو جو کچھ تم بوتے ہو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں۔ (الواقعۃ : ٦٣۔ ٦٤) ٢۔ اللہ تعالیٰ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : ١١) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : ١٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : ٩٩) ٥۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ (الانعام : ١٤١) ٦۔ تمہارے لیے مسخر کیا نباتات کو زمین پر پھیلاکر، ان کی اقسام مختلف ہیں۔ (النحل : ١٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وایۃ لھم الارض المیتۃ۔۔۔۔۔ ومما لا یعلمون (33 – 36 پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں “۔ یہ لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ کے اندر تکذیب کرنے والوں کی قتل گاہوں اور بربادیوں پر گور نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ مخلوق کی اس حالت سے کوئی سبق نہیں لیتے کہ لوگ چلے جا رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہو رہا ہے۔ اور رسول کی دعوت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں ۔ وہ اللہ جس کے وجود پر ان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات اچھی طرح دلالت کرتی ہے۔ اللہ کی ثنا کرتی ہے اور اس کے وجود پر شاہد ہے۔ یہ زمین جو ان کے پاؤں کے نیچے ہے ، یہ دیکھتے ہیں کہ ایک وقت میں یہ مر جاتی ہے۔ اس میں کوئی روئیدگی نہیں ہوتی۔ پھر یہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں حیوانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اندر باغات پیدا ہوتے ہیں۔ کھجوریں ، انگور اور پھر ان باغات کے اندر چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور یوں انسانی اور دوسری زندگی رواں دواں نظر آتی ہے۔ اور پھر یہ زندگی بذات خود ایک معجزہ ہے اور کوئی انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ زندگی کا اجرا کرسکے ، اس کی تخلیق کرسکے اور اس کے بعد اس کا سلسلہ تناسل کو جاری کرسکے۔ زندگی کے اس عظیم معجزے کا اجراء دست قدرت کا عجیب کارنامہ ہے۔ مردہ جسم کے اندر زندگی کی روح پھونک دی جاتی ہے دم بدم بڑھنے والی فصل کو دیکھ کر ، گھنی چھاؤں والے باغات کو دیکھ کر ، اور اس سے بھرے ہوئے پختہ پھلوں کو دیکھ کر انسانی دل و دماغ کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انسان دیکھتا ہے کہ یہ پوری زمین کو پھاڑ کر روشنی اور آزادی کے لیے سر نکالتے ہیں۔ اور یہ سر نکالنے والی لکڑی سورج کی روشنی میں سرسز و شاداب ہوجاتی ہے۔ اور پھر یہ پودا پتوں اور پھلوں سے مزین ہوجاتا ہے۔ پھول کھل جاتے ہیں ، پھل پک جاتے ہیں اور توڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ لیاکلوا ۔۔۔ ایدیھم (36: 35) ” تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے “۔ یہ اللہ ہی کا ہاتھ ہے جس نے ان کو اس کام پر قدرت دی۔ جس طرح اس نے فصلوں اور پھلوں کو بڑھنے کی صلاحیت دی۔ افلا یشکرون (36: 35) ” پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے۔ اس کے بعد قرآن کریم میں ایک لطیف اشارہ ، اس طرح آتا ہے کہ جس ذات نے انسان کی راہنمائی ان نباتات اور باغات کی طرف فرمائی۔ وہ وہی ہے جس نے فصلوں کے اندر بھی جوڑے پیدا کیے یعنی نر اور مادہ جس طرح انسانوں اور حیوانوں کے اندر جوڑے ہیں اور تمام دوسری مخلوق میں بھی جوڑے ہیں جن کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مردہ زمین کو زندہ فرمانا اور اس میں سے کھیتیاں اور پھل پیدا فرمانا، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بعض مظاہرے ہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہرے تو بہت ہیں اور کثیر تعداد میں ایسی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، اللہ کی نشانیاں ہیں، انہیں نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ زمین مردہ ہوجاتی ہے اس میں کوئی سبزی اور گھاس پھونس باقی نہیں رہتا، پھر اللہ جل شانہٗ پانی برسا دیتے ہیں اور اس پانی کے ذریعے زمین کو زندہ فرما دیتے ہیں، پانی برسا زمین زندہ ہوگئی کسانوں نے بیج ڈالا تو کھیتی ظاہر ہوگئی، آگے بڑھی بالیں نکلیں ان میں دانے پیدا ہوئے پھر وہ پک گئے، کاٹی گئیں، غلے نکالے پھر لوگوں نے ان کو غذا بنایا، یہ تو سلسلہ کھیتی کا ہے اور کھیتی کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں بہت سارے باغ بھی پیدا فرمائے ہیں، ان میں مختلف قسم کے درختوں کے باغ ہیں۔ آیت بالا میں انگوروں اور کھجوروں کے باغوں کا تذکرہ فرمایا، کھجور اور انگور یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتیں ہیں ان میں بڑی غذائیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چشمے بھی پیدا فرما دئیے ہیں، جن کا پانی میٹھا ہوتا ہے بارش نہ ہو تو ان چشموں سے کھیتوں کو اور باغوں کو سیراب کردیا جاتا ہے جس طرح کھیتوں سے پیدا ہونے والے غلوں سے خوراک حاصل کرتے ہیں اسی طرح درختوں کے پھل بھی غذائیت کا کام دیتے ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان کے میوہ جات بھی بنائے جاتے ہیں۔ کھیتوں اور باغوں کا تذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا : (وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْ ) کہ یہ جو چیزیں ہم نے پیدا کی ہیں انہیں ان کے ہاتھوں نے پیدا نہیں کیا یہ سب چیزیں ہماری ہی بنائی ہوئی ہیں، ان نعمتوں کا شکر کرنا لازم ہے (اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ) کیا پھر بھی شکر ادا نہیں کرتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ وایۃ لہم الارض الخ :۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ ہم نے مردہ زمین کو بارانِ رحمت سے زندہ کیا اور اس میں انسانوں کی غذا کے لیے انواع و اقسام کے غلے، انگوروں اور کھجوروں کے باغات پیدا کیے۔ زمین سے پانی کے چشمے رواں کردئیے یہ سب کچھ ہم نے کیا ہے یہ ان کے ہاتھوں کی کمائی نہیں اور نہ وہ ان امور پر قادر ہی ہیں لیکن وہ پھر بھی اللہ کا شکر نہیں کرتے اور اس کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرتے ہیں انکار واستقباح لعدم شکرھم للمنعم بالنعم المعدودۃ بالتوحید والعبادۃ (روح ج 23 ص 9) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں ایدیہم میں ضمیر مجرور سے جنسِ مخلوق مراد ہے۔ اور اس میں جن و انس اور فرشتے سب داخل ہیں۔ جس طرح قل لو انتم تملکون خزائن رحمۃ ربی الایۃ (بنی اسرائیل رکوع 11) میں انتم سے سے خطاب عام مراد ہے۔ یعنی یہ تمام نعمتیں اور برکتیں اللہ نے عطا فرمائی ہیں۔ جن کو تم اپنے معبود قرار دیتے ہو ان میں سے کسی کا بھی ان کاموں میں کوئی دخل نہیں۔ جب تخلیق میں وہ خدا کے شریک نہیں تو عبادت اور پکار میں بھی وہ اس کے شریک نہیں ہوسکتے اور نہ اس کی بارگاہ میں شفیع غالب ہو ہی سکتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(33) اور منجملہ آیات قدرت و توحید کے ان لوگوں کے لئے خشک اور مردہ زمین ایک قدرت کی نشانی ہے کہ ہم نے اس مردہ زمین کو زندہ کیا اور ہم نے اس زمین سے اناج اور مختلف قسم کے غلے نکالے سو اس میں سے یہ کھاتے ہیں۔ یعنی خشک اور بےگیاہ زمین کو ہم زندہ کردیتے ہیں اور اس میں سے ہر قسم کے غلے اور اناج پیدا کرتے ہیں اور اسی اناج اور حبوب کو یہ لوگ کھاتے ہیں اور چونکہ یہ کام وہی کرتا ہے اسی کی قدرت کا یہ کرشمہ ہے اس لئے وہی قادرمطلق ہے اور غذائی معاملات میں ان کے معبود ان باطلہ کی کوئی شرکت نہیں ہے اس لئے وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔