Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 66

سورة يس

وَ لَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤی اَعۡیُنِہِمۡ فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۶۶﴾

And if We willed, We could have obliterated their eyes, and they would race to [find] the path, and how could they see?

اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں بے نور کر دیتے پھر یہ رستے کی طرف دوڑتے پھرتے لیکن انہیں کیسے دکھائی دیتا؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And if it had been Our will, We would surely have wiped out their eyes, so that they would struggle for the path, how then would they see! Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, explained it: "Allah says, `If We willed, We could have misguided them all away from true guidance, so how could they be guided." And on one occasion he said, "We could have blinded them."' Al-Hasan Al-Basri said, "If Allah willed, He could have covered their eyes and made them blind, stumbling about." Mujahid, Abu Salih, Qatadah and As-Suddi said, "So that they would struggle for the path, i.e., the right way." Ibn Zayd said, "The meaning of path here is the truth -- `How could they see when We have covered their eyes"' Al-`Awfi reported that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him said: فَأَنَّى يُبْصِرُونَ (how then would they see), "They would not see the truth."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

66۔ 1 یعنی بینائی سے محرومی کے بعد انہیں راستہ کس طرح دکھائی دیتا ؟ لیکن یہ ہمارا حلم و کرم ہے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٥٩] فوراً سزا دینا اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے :۔ ایسے کٹر مجرموں کو اگر ہم چاہیں تو اس دنیا میں بھی سزا دے سکتے ہیں۔ ان کی بینائی سلب کرسکتے ہیں کہ وہ چاہیں بھی تو گناہوں کے کاموں کی طرف آگے بڑھ ہی نہ سکیں اور انہیں کچھ بھی سجھائی نہ دے۔ اسی طرح اگر چاہیں تو ان پر فالج گرا کر ان کو اپاہج بنا سکتے ہیں کہ اپنی جگہ سے حرکت کر ہی نہ سکیں، نہ آگے بڑھ سکیں نہ پیچھے جاسکیں۔ بس اپنے بستر پر ہی ہاتھ پاؤں رگڑتے رہیں۔ یا ان کا حلیہ ہی بگاڑ سکتے ہیں کہ ان کی دوسری بھی کئی قوتیں ختم ہوجائیں۔ مگر مجرموں کو فوری طور پر پکڑنا ہماری مشیئت کے خلاف ہے اور یہ لوگ اس مہلت کا بڑا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَوْ نَشَاۗءُ لَطَمَسْنَا عَلٰٓي اَعْيُـنِهِمْ : پچھلی دو آیتوں کے ساتھ ان دو آیات کا تعلق یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ قیامت کے دن شرک سے انکار کے بعد اس کے اعتراف پر مجبور ہوجائیں گے، تو اس سے دل میں خیال گزرتا ہے کہ کاش ! دنیا میں بھی انھیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے رسولوں کی تصدیق پر مجبور کردیا جاتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اگر ہمارا ارادہ یہ ہوتا تو ہم ایسا کردیتے اور کفرو شرک کرنے والوں کو فوراً پکڑ لیتے، تاکہ وہ اپنے کفرو شرک سے باز آجائیں، مگر ہم نے دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے اور ہر ایک کو عمل کی مہلت دی ہے۔ (ابن عاشور) ” طَمَسَ یَطْمِسُ “ (ض) کا معنی ” مٹانا “ ہے، لفظ ” عَلٰٓي “ کے بغیر بھی اس کا معنی یہی ہے، ” عَلٰٓي “ کے لفظ سے مراد مٹانے میں مبالغہ ہے۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں سرے ہی سے مٹا دیں، پھر وہ راستے کی طرف بڑھیں تو اسے کس طرح دیکھیں گے۔ ” لَوْ “ کا لفظ شرط کے نہ ہونے کی وجہ سے جزا کے نہ ہونے کے لیے ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ” لیکن ہم نے یہ نہیں چاہا تو ایسا نہیں ہوا، بلکہ ہم نے انھیں ان کی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود ایک وقت تک مہلت دی ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ نَشَاۗءُ لَطَمَسْـنَا عَلٰٓي اَعْيُـنِہِمْ فَاسْتَــبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى يُبْصِرُوْنَ۝ ٦٦ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ طمس الطَّمْسُ : إزالةُ الأثرِ بالمحو . قال تعالی: فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ [ المرسلات/ 8] ، رَبَّنَا اطْمِسْ عَلى أَمْوالِهِمْ [يونس/ 88] ، أي : أزل صورتها، وَلَوْ نَشاءُ لَطَمَسْنا عَلى أَعْيُنِهِمْ [يس/ 66] ، أي : أزلنا ضوأها وصورتها كما يُطْمَسُ الأثرُ ، وقوله : مِنْ قَبْلِ أَنْ نَطْمِسَ وُجُوهاً [ النساء/ 47] ، منهم من قال : عنی ذلک في الدّنيا، وهو أن يصير علی وجوههم الشّعر فتصیر صورهم کصورة القردة والکلاب «3» ، ومنهم من قال : ذلك هو في الآخرة إشارة إلى ما قال : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] ، وهو أن تصیر عيونهم في قفاهم، وقیل : معناه يردّهم عن الهداية إلى الضّلالة کقوله : وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ [ الجاثية/ 23] ، وقیل : عنی بالوجوه الأعيان والرّؤساء، ومعناه : نجعل رؤساء هم أذنابا، وذلک أعظم سبب البوار . ( ط م س ) الطمس کے معنی کسی چیز کا نام ونشان مٹادینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ [ المرسلات/ 8] جب ستاروں کی روشنی جاتی رہے گی ۔ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلى أَمْوالِهِمْ [يونس/ 88] اے پروردگار ان کے مال و دولت کو تباہ وبرباد کردے یعنی ان کا نامونشان مٹادے ۔ وَلَوْ نَشاءُ لَطَمَسْنا عَلى أَعْيُنِهِمْ [يس/ 66] اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر اندھا کردیں ۔ یعنی آنکھوں کی روشنی سلب کرلیں اور انکار نشان مٹادیں جس طرح کہ کسی کو مٹادیا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَطْمِسَ وُجُوهاً [ النساء/ 47] قبل اس کے کہ ہم ان کے چہروں کو بگاڑ کر ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ دنیا ان کے چہروں کو بگاڑنا مراد ہے مثلا ان کے چہروں پر بال اگادیں ۔ ان کی صورتیں بندروں اور کتوں جیسی کردی جائیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آخرت میں ہوگا جس کی طرف کہ آیت : ۔ وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] اور جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائیگا میں اشارہ پایا جاتا ہے اور چہروں کو مٹانے کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کی آنکھیں گدی پر پر لگادی جائیں اور یاہدایت سے گمراہی کی طرف لوٹا دینا مراد ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ [ الجاثية/ 23] اور باوجود جاننے بوجھنے کے ( گمراہ ہورہا ہے نہ تو خدا نے بھی اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگادی ۔ بعض نے کہا ہے کہ وجوہ سے قوم کے اعیان اکابر مراد اور معنی یہ ہیں کہ ہم بڑے بڑے سر داروں کو رعیت اور محکوم بنادیں اس سے بڑھ کر اور کونسی ہلاکت ہوسکتی ہے ۔ عين العَيْنُ الجارحة . قال تعالی: وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ [ المائدة/ 45] ( ع ی ن ) العین کے معنی آنکھ کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ [ المائدة/ 45] آنکھ کے بدلے آنکھ ۔ لَطَمَسْنا عَلى أَعْيُنِهِمْ [يس/ 66] ان کی آنکھوں کو مٹا ( کر اندھا ) کردیں ۔ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ، ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔ صرط الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم . سرط السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من : سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام : 231- رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه «2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه . ( ص ر ط ) الصراط ۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے ۔ اسے سراط ( بسین مھملہ ) پڑھا جاتا ہے ملاحظہ ہو ( س ر ط) السراط کے معنی آسان راستہ ، کے آتے ہیں اور اصل میں سرطت الطعام وزاردتہ سے مشتق ہے جس کے معنی طعام کو نگل جانے کے ہیں ۔ اور راستہ کو صراط اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ راہر کو گویا نگل لیتا ہے یار ہرد اس کو نگلتا ہوا چلایا جاتا ہے ۔ مثل مشہور ہے ۔ قتل ارضا عالھا وقتلت ارض جاھلھا کہ واقف کار رہر و توزمین کو مار ڈالتا ہے لیکن ناواقف کو زمین ہلاک کردیتی ہے ۔ ابو تمام نے کہا ہے ۔ رعتہ الفیما فی بعد ماکان حقبۃ رعاھا اذا ماالمزن ینھل ساکبہ اس کے بعد کو اس نے ایک زمانہ دراز تک سرسبز جنگلوں میں گھاس کھائی اب اس کو جنگلات نے کھالیا یعنی دبلا کردیا ۔ اسی طرح راستہ کو لقم اور ملتقم بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ گویا ر ہرو اس کو لقمہ بنالیتا ہے۔ أنى أَنَّى للبحث عن الحال والمکان، ولذلک قيل : هو بمعنی كيف وأين «4» ، لتضمنه معناهما، قال اللہ عزّ وجل : أَنَّى لَكِ هذا [ آل عمران/ 37] ، أي : من أين، وكيف . ( انیٰ ) انی۔ یہ حالت اور جگہ دونوں کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اس لئے بعض نے کہا ہے کہ یہ بمعنیٰ این اور کیف ۔ کے آتا ہے پس آیت کریمہ ؛۔ { أَنَّى لَكِ هَذَا } ( سورة آل عمران 37) کے معنی یہ ہیں کہ کھانا تجھے کہاں سے ملتا ہے ۔ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اگر ہم چاہتے تو ان کی گمراہ آنکھوں کو مل یا میٹ کردیتے اور پھر یہ رستہ تلاش کرتے سو ان کو کہاں نظر آتا مگر ہم نے ان کی گمراہ آنکھوں کو اندھا نہیں کیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٦ { وَلَوْ نَشَآئُ لَطَمَسْنَا عَلٰٓی اَعْیُنِہِمْ } ” اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں “ { فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبْصِرُوْنَ } ” پھر یہ دوڑیں راستہ پانے کے لیے ‘ لیکن کہاں دیکھ سکیں گے ؟ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٦ تا ٦٨۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن ہاتھ پیر گواہی دیویں گے اس کے سمجھانے کے لیے فرمایا کہ دنیا میں جب کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ جس کو چاہے اندھا کرے اور جس کی صورت کو بدلنا چاہے تو بدل دیوے مثلا جس طرح آدمی کا بدن بگڑ کر یا اندھا ہو کر اس کی صورت بگڑ جاتی ہے تو وہ اس پر بھی قادر ہے کہ قیامت کے دن زبان کو گونگا کر دے اور زبان کا کام ہاتھ پیروں سے لیوے پھر فرمایا کہ ان کے اعضاء جس قدر اور جس طرح ہر وقت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں کہ اس کا حال یہ لوگ اپنے بچہ پننے، جوانی اور بوڑھاپے کی حالت سے نہیں سمجھ سکے کہ جوانی سے پہلے ان کی کمزوری کا کیا حال تھا جوانی میں وہ کمزوری کیسی قوت سے بدل گئی اور بوڑھاپا آتے ہی پھر وہی کمزوری کیوں کر پلٹ کر آگئی۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ١ ؎ ہے (١ ؎ الرغیب والترہیب ص ٢٥١ ج ٤۔ ) جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جوانی ایسی چیز ہے کہ بوڑھاپے سے پہلے آدمی کو اس کی قدر کرنی چاہئے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ بوڑھاپے میں آدمی کے اعضاء ایسے کمزور ہوجاتے ہیں کہ اس سے کچھ ہو نہیں سکتا اس لیے بوڑھاپے کے آنے سے پہلے آدمی کو چاہئے کہ جوانی کی قدر کر لیوے حاصل کلام یہ ہے کہ آیتوں میں بڑھاپے کے سبب سے انسان کے اعضاء کی کمزوری کا جو ذکر ہے جس کمزوری سے نیک عملوں میں کوتاہی ہوجاتی ہے اس کوتاہی کا علاج سکھانے میں یہ حدیث گویا ان آیتوں کی تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:66) لو نشائ۔ جملہ شرطیہ۔ نشاء مضارع کا صیغہ جمع متکلم ہے شیء اور مشیئۃ مصدر (باب فتح) ہم چاہیں یا ہم چاہتے ہیں۔ لو نشاء اگر ہم چاہیں۔ اگر ہم چاہتے۔ لطمسنا۔ لام لو کے جواب میں آیا ہے طمس (باب ضرب) واطمس (افعال) علی طمس وطماسۃ مصدر۔ ہلاک کرنا۔ برباد کرنا۔ کسی چیز کا نشان مٹا دینا۔ کسی چیز کو جڑ سے مٹا دینا۔ ملیا میٹ کردینا۔ (اگر ہم چاہتے ) تو (ان کی آنکھوں کو) ملیا میٹ کردیتے (ایسا کہ ان کا نشان تک مٹا دیتے) ۔ طمس فعل لازم ومتعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے (باب ضرب ونصر) سے (طموس مصدر) فنا کرنا یا فنا ہونا۔ مٹنا یا مٹانا۔ ستاروں کا اپنی چمک کھو دینا۔ جیسے واذا النجوم طمست (77:8) سو جس وقت کہ ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ لطمسنا علی اعینہم کی تفسیر میں علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ ان ظاہری آنکھوں کو ایسا مٹا دیتے کہ نہ پپوٹا کا نشان رہتا نہ آنکھوں کا شگاف۔ طمس کا یہی معنی ہے۔ الطمس۔ ازالۃ الاثر بالمحو۔ یعنی کسی چیز کو یوں مٹا دینا کہ اس کا نشان باقی نہ رہے۔ فاستبقوا الصراط فا عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف لطمسنا پر ہے الصراط کا نصب بوجہ نزع الخافض (جر دینے والے حرف کو حذف کرنا) ہے اصل میں استبقوا الی الصراط تھا۔ الی حرف جار کی وجہ سے جر تھی الی کے حذف ہونے پر کسرہ بھی گرگیا۔ اتصال فعل کی وجہ سے الصراط منصوب ہوگیا۔ الصراط کا نصب بوجہ ظرفیت نہیں کیونکہ الطریق کی طرح الصراط ایک مکان مختص ہے اور ایسی صورت میں الظرفیۃ کی وجہ سے نصب نہیں آتا۔ اگر استبقوا بمعنی ابتدروا (باہم سبقت کرنا) لیا جائے تو الصراط کا بوجہ مفعول بہ ہونے کے منصوب ہونا جائز ہے فاستبقوا ماضی جمع مذکر غائب استباق (افتعال) مصدر سے وہ سبقت کرتے وہ دوڑتے الصراط ایک خاص راستہ۔ یعنی وہ راستہ جس پر چلنے کے وہ عادی تھے۔ فاستبقوا الصراط۔ پھر وہ راستہ کی طرف دوڑتے۔ فانی یبصرون۔ انی استفہامیہ ہے بمعنی کیف ، یہاں بطور استفہام انکاری کے آیا ہے۔ کیونکر ۔ کیسے۔ یبصرون مضارع جمع مذکر غائب ابصار (افعال) مصدر بمعنی دیکھنا۔ پھر وہ کیسے دیکھ سکیں گے۔ دیکھ پائیں گے راستہ کو۔ مراد یہ کہ وہ نہیں دیکھ سکیں گے۔ ای فکیف یبصرون الطریق۔ ای لا یبصرون۔ انی جب بطور اسم ظرف زمان آئے تو بمعنی متی ہوتا ہے (جب) جس وقت کب، کس وقت) ۔ مثلاً فاتوا حرثکم انی شئتم۔ (2:223) سو تم اپنی کھیت میں آئو جب چاہو۔ اور جب بطور ظرف زمان کے آئے تو بمعنی این (جہاں، کہاں) آتا ہے مثلاً قال یمریم انی لک ھذا (3:37) حضرت زکریا (علیہ السلام) نے کہا) اے مریم یہ (کھانا) تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے ؟

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولو نشآء لطمسنا۔۔۔۔ ولا یرجعون (66 – 67) “۔ یہ دو مناظر ہیں ان میں عذاب اور سزا بھی ہے اور تحقیر اور مزاح بھی ہے۔ تحقیر ان لوگوں کی ہے جو دعوت اسلامی کی تکذیب کرتے ہیں اور مزاح ان لوگوں کا ہے جو دین اسلام کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں ۔ جو یہ کہتے تھے۔ متی ھذا۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو “۔ چناچہ پہلے منظر میں ان کو ان کی شکل بگاڑ کر ان کو اندھا کردیا گیا ہے۔ اندھوں کے درمیان ایک دوسرے کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ ہے۔ وہ راستے کو عبور کرکے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ان کو اندھوں کی طرح راہ نہیں سوجھتی۔ اور وہ گرتے پڑتے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ سیدھی راہ دیکھ سکیں۔ فانی یبصرون (36: 66) ” کہاں سے انہیں راستہ سجھائی دے گا “۔ اور دوسرے منظر میں انہیں یوں دکھایا گیا ہے کہ چلتے چلتے وہ اپنی جگہ جم گئے ۔ بت بن گئے جو نہ آگے جاسکتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ حالانکہ ابھی یہ لوگ اندھے تھے اور ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے۔ ان دو مناظر میں وہ کھلونے نطر آتے ہیں ، ایسے کھلونے جنہیں دیکھ کر بےاختیار ہنسی آتی ہے۔ یہ وہی لوگ تھے جو قیامت کے وقوع کے بارے میں مزاح کرتے تھے اور اسے اہمیت ہی نہ دیتے تھے۔ یہ حالت تو ان کی اس وقت ہوگی جب قیامت واقع ہوجائے گی جس کے بارے میں انہیں بہت جلدی ہے لیکن اگر انہیں زمین پر مہلت دے دی گئی اور انہوں نے اس میں خوب ترقی کی اور اسے ترقی دی اور قیام قیامت تک اللہ کے منصوبے کے مطابق یہاں زندہ رہے تو بھی یہ لوگ ایک ایسی ناپسندیدہ حالت تک پہنچ جائیں گے جس کے اندر زندگی گزارنے کے بجائے وہ جلدی مرنا زیادہ پسند کریں گے۔ یہ لوگ ایسے ناتواں اور بوڑھے ہوجائیں گے اور ان کی جسمانی اور دماغی قوتیں اس قدر مضحل ہوجائیں گی کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہ آئے گی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا (وَلَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰی اَعْیُنِہِمْ ) (الآیۃ) اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو ختم کردیں پھر وہ راستے کی طرف دوڑیں سو ان کو کہاں نظر آئے۔ (وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰہُمْ ) (الآیۃ) اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہوں پر ہی ان کی صورتوں کو مسخ کردیں تو انہیں نہ گزرنے کی طاقت رہے نہ واپس ہوسکیں۔ ان دو آیتوں میں یہ بتایا کہ ہم دنیا میں بھی سزا دینے پر قدرت رکھتے ہیں اور ان سزاؤں کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم ان کی آنکھوں کو ختم کردیں یعنی چہرہ کو سپاٹ بنا دیں آنکھیں باقی ہی نہ رہیں، آگے بڑھنا چاہیں تو کچھ بھی نظر نہ آئے، اسی طرح ہم ان ہی کی جگہ رکھتے ہوئے انہیں مسخ بھی کرسکتے ہیں یعنی ان کی صورتیں بدل سکتے ہیں جیسے گذشتہ امتوں میں سے بعض لوگ بندر اور خنزیر بنا دئیے گئے، جب جانور ہی بن جائیں تو جہاں تھے وہیں رہ جائیں نہ آگے بڑھ سکیں نہ پیچھے ہٹ سکیں، جو مقاصد دنیاویہ لے کر نکلے تھے ان کا ہوش ہی نہ رہے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

40:۔ ولو نشاء الخ :۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں محو کردیں اور ان کی آنکھوں کی جگہ چہرے کے ساتھ ہموار کردیں، پھر وہ راستے کی طرف بڑھیں تو کس طرح دیکھ سکیں گے یعنی جس طرح ان کے عناد و اصرار کی وجہ سے ہم نے ان کے دل کی آنکھوں کو بصیرت سے محروم کردیا ہے اور ان سے ایمان کی توفیق سلب کرلی ہے اگر ہم چاہیں تو ان کی ظاہری آنکھوں کو بھی بصارت سے محروم کردیں۔ ولو نشاء لمسخنہم الخ، اور اگر ہم چاہیں تو انہیں جہاں کہیں وہ ہیں سل پتھر بنا دیں اور وہ نہ آگے جاسکیں اور نہ واپس لوٹ سکیں جس طرح ہم نے ان سے قوت عقلیہ سلب کرلی ہے اسی طرح اگر ہم چاہیں تو ان سے قوت جسمانیہ بھی سلب کرلیں اور وہ جماد محض ہوجائیں (کذا فی الکبیر) ۔ یہ لوگ طغیان و عصیان اور ضد وعناد میں اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ اس کے مستحق ہوچکے تھے کہ ان کی ظاہری آنکھوں کی بینائی اور جسمانی قوت سلب کرلی جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت شاملہ اور حکمت بالغہ کے پیش نظر ایسا نہیں کیا۔ و معنی ھذہ الایۃ والایۃ السابقۃ علی تاویل الحسن انہم لکفرہم و نقضہم العہد احقاء ان یفعل بہم ذلک لکنا لم نفع لشمول الرحمۃ لہم فی الدنیا واقتضاء الحکمۃ امہالہم (مظہری ج 8 ص 96) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(66) اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو نابود اور بالکل زائل کردیں پھر وہ راستہ کی طرف چلنے کیلئے دوڑتے پھریں پس اس راستے کو کہاں دیکھ سکیں۔ یعنی آخرت میں جو عذاب ہوگا وہ تو ہوگا اگر ہم چاہیں تو ان کی بینائی کو دنیا ہی میں بالکل نابود کردیں یا ان کی آنکھوں کو بالکل ہی مٹا دیں یعنی آنکھ کا عضو ہی باقی نہ ہے پھر یہ راستے کی طرف دوڑیں مگر راستے کو کہاں دیکھ سکیں طمس کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔