Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 68

سورة يس

وَ مَنۡ نُّعَمِّرۡہُ نُنَکِّسۡہُ فِی الۡخَلۡقِ ؕ اَفَلَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۸﴾

And he to whom We grant long life We reverse in creation; so will they not understand?

اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے ہیں کیا پھر بھی وہ نہیں سمجھتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells us that the longer the son of Adam lives, the more he becomes weak after being strong, and incapable after being able and active. Allah tells: وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ ... And he whom We grant long life -- We reverse him in creation. This is like the Ayah: اللَّهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَأءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ Allah is He Who created you in (a state of) weakness, then gave you strength after weakness, then after strength gave weakness and gray hair. He creates what He wills. And it is He Who is the All-Knowing, the All-Powerful. (30:54) And Allah says: وَمِنكُمْ مَّن يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَ يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْياً And among you there is he who is brought back to the miserable old age, so that he knows nothing after having known. (22:5) The meaning here -- and Allah knows best -- is that Allah is telling us that this world is transient and will come to an end, it is not eternal and lasting. Allah says: ... أَفَلَ يَعْقِلُونَ Will they not then understand! meaning, will they not think about how they were created, then they become gray-haired, then they become old and senile, so that they may know that they were created for another world that is not transient and will not pass away, and from which there is no way out, which is the Hereafter. Allah does not teach His Messenger Poetry Allah says:

شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی ۔ انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری ضعیفی کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے ، جیسے سورہ روم کی آیت میں ہے ۔ ( اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ 54؀ ) 30- الروم:54 ) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا ۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کردیا ، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے ۔ اور آیت میں ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تاکہ علم کے بعد وہ بےعلم ہوجائیں ۔ پس مطلب آیت سے یہ ہے کہ دنیا زوال اور انتقال کی جگہ ہے یہ پائیدار اور قرار گاہ نہیں ، پھر بھی کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے کہ اپنے بچپن ، پھر جوانی ، پھر بڑھاپے پر غوکریں اور اس سے نتیجہ نکال لیں کہ اس دنیا کے بعد آخرت آنے والی ہے اور اس زندگی کے بعد میں دوبارہ پیدا ہونا ہے ۔ پھر فرمایا نہ تو میں نے اپنے پیغمبر کو شاعری سکھائی نہ شاعری اس کے شایان شان نہ اسے شعر گوئی سے محبت نہ شعر اشعار کی طرف اس کی طبیعت کا میلان ۔ اسی کا ثبوت آپ کی زندگی میں نمایاں طور پر ملتا ہے کہ کسی کاشعر پڑھتے تھے تو صحیح طور پر ادا نہیں ہوتا تھا یا پورا یاد نہیں نکلتا تھا ۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں اولاد عبدالمطلب کا ہر مرد عورت شعر کہنا جانتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کوسوں دور تھے ( ابن ابی حاتم ) دلائل بیہقی میں ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم نے بھی تو یہ شعر کہا ہے ؟ تجعل نھبی و نھب العبید ، بین الاقرع و عینیتہ انہوں نے کہا حضور دراصل یوں ہے بین عینیتہ والا قرع آپ نے فرمایا چلو سب برابر ہے مطلب تو فوت نہیں ہوتا ؟ صلوات اللہ و سلامہ علیہ ۔ سہیلی نے روض الانف میں اس تقدیم تاخیر کی ایک عجیب توجیہ کی ہے وہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع کو پہلے اور عینیہ کو بعد میں اس لیے ذکر کیا کہ عینیہ خلافت صدیقی میں مرتد ہوگیا تھا بخلاف اقرع کے کہ وہ ثابت قدم رہا تھا ۔ واللہ اعلم ۔ مغازی میں ہے کہ بدر کے مقتول کافروں کے درمیان گشت لگاتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلا نفلق ھاما ( آگے کچھ نہ فرماسکے ۔ اس پر جناب ابو بکر نے پورا شعر پڑھ دیا ) ۔ من رجال اعزۃ علینا وھم کانوا اعق واظلما یہ کسی عرب شاعر کا شعر ہے جو حماسہ میں موجود ہے ۔ مسند احمد میں ہے کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طرفہ کا یہ شعر بہت پڑھتے تھے ویاتیک بالا خبار من لم تزود اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے ستبدی لک الا یام ما کنت جاہلا یعنی زمانہ تجھ پر وہ امور ظاہر کردے گا جن سے تو بےخبر ہے اور تیرے پاس ایسا شخص خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ نہیں دیا ، حضرت عائشہ سے سوال ہوا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم شعر پڑھتے تھے ، آپ نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ بغض آپ کو شعروں سے تھا ہاں کبھی کبھی بنو قیس والے کا کوئی شعر پڑھتے لیکن اس میں بھی غلطی کرتے تقدیم تاخیر کردیا کرتے ۔ حضرت ابو بکر فرماتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم یوں نہیں ہے تو آپ فرماتے نہ شاعر ہوں نہ شعر گوئی میرے شایان شان ( ابن ابی حاتم ) دوسری روایت میں شعر اور آگے پیچھے کا ذکر بھی ہے یعنی ویاتیک بالا خبار مالم تذود کو آپ نے من لم تزود الاخبار پڑھا تھا ، بہیقی کی ایک روایت میں ہے کہ پورا شعر کبھی آپ نے نہیں پڑھازیادہ سے زیادہ ایک مصرعہ پڑھ لیتے تھے ۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودتے ہوئے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھے ۔ سو یاد رہے کہ آپ کا یہ پڑھنا صحابہ کے ساتھ تھا ۔ وہ اشعاریہ ہیں ۔ لاھم لو لاانت ما اھتدینا ولا تصدقناولا صلینا فانذلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لا قینا ان الاولی قد بغوا علینا اذا ارادوا فتنتہ ابینا حضور لفظ ابینا کو کھینچ کر پڑھتے اور سارے ہی بلند آواز سے پڑھتے ، ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کوئی غم نہیں اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے نہ صدقے دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے ۔ اب تو ہم پر تسکین نازل فرما ۔ جب دشمنوں سے لڑائی چھڑ جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما ، یہی لوگ ہم پر سرکشی کرتے ہیں ہاں جب کبھی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اسی طرح ثابت ہے کہ حنین والے دن آپ نے اپنے خچر کو دشمنوں کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا ۔ انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب اس کی بابت یہ یاد رہے کہ اتفاقیہ ایک کلام آپ کی زبان سے نکل گیا جو وزن شعر پر اترا ۔ نہ کہ قصداً آپ نے شعر کہا ، حضرت جندب بن عبداللہ فرماتے ہیں ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے آپ کی انگلی زخمی ہوگئی تھی تو آپ نے فرمایا ۔ ھل انت الا اصبح دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو ایک انگلی ہی تو ہے ۔ اور تو راہ اللہ میں خون آلود ہوئی ہے ۔ یہ بھی اتفاقیہ ہے قصداً نہیں ۔ اسی طرح ایک حدیث الا المم کی تفسیر میں آئے گی کہ آپ نے فرمایا ۔ ان تغفر اللھم تغفر جما وای عبدلک ما الما یعنی اے اللہ تو جب بخشے تو ہمارے سبھی کے سب گناہ بخش دے ، ورنہ یوں تو تیرا کوئی بندہ نہیں جو چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے بھی پاک ہو پس یہ سب کے سب اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ اللہ کی تعلیم آپ کو شعر گوئی کی نہ تھی ۔ بلکہ رب العالمین نے تو آپ کو قرآن عظیم کی تعلیم دی تھی جس کے پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا ۔ قرآن حکیم کی یہ پاک نظم شاعری سے منزلوں دور تھی ۔ اسی طرح کہانت سے اور گھڑ لینے سے اور جادو کے کلمات سے جیسے کہ کفار کے مختلف گروہ مختلف بولیاں بولتے تھے ۔ آپ کی تو طبیعت ان لسانی صنعتوں سے معصوم تھی ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ابو داؤد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک یہ تینوں باتیں برابر ہیں ، تریاق کا پینا ، گنڈے کا لٹکانا اور شعر بنانا ۔ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں شعر گوئی سے آپ کو طبعاً نفرت تھی ۔ دعا میں آپ کو جامع کلمات پسند آتے تھے اور اس کے سوا چھوڑ دیتے تھے ( احمد ) ابو اداؤد میں ہے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس کے لیے شعروں سے بھر لینے سے بہتر ہے ۔ ( ابوداؤد ) مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے جس نے عشاء کی نماز کے بعد کسی شعر کا ایک مصرع بھی باندھا اس کی اس رات کی نماز نامقبول ہے ۔ یہ یادر ہے کہ شعر گوئی کی قسمیں ہیں ، مشرکوں کی ہجو میں شعر کہنے مشروع ہیں ۔ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ، حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ، حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے اکابرین صحابہ نے کفار کی ہجو میں اشعار کے کلام میں ایسے اشعار پائے جاتے ہیں ۔ چنانچہ امیہ بن صلت کے اشعار کی بابت فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس کے شعر تو ایمان لاچکے ہیں لیکن اس کا دل کافر ہی رہا ۔ ایک صحابی نے آپ کو امیہ کے ایک سو بیت سنائے ہر بیت کے بعد آپ فرماتے تھے اور کہو ۔ ابو داؤد میں حضور کا ارشاد ہے کہ بعض بیان مثل جادو کے ہیں اور بعض شعر سراسر حکمت والے ہیں ۔ پس فرمان ہے کہ جو کچھ ہم نے انہیں سکھایا ہے وہ سراسر ذکر و نصیحت اور واضح صاف اور روشن قرآن ہے ، جو شخص ذرا سا بھی غور کرے اس پر یہ کھل جاتا ہے ۔ تاکہ روئے زمین پر جتنے لوگ موجود ہیں یہ ان سب کو آگاہ کردے اور ڈرا دے جیسے فرمایا ( لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ 19؀ۘ ) 6- الانعام:19 ) تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈرادوں اور جسے بھی یہ پہنچ جائے ۔ اور آیت میں ہے ( وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ 17؀ ) 11-ھود:17 ) یعنی جماعتوں میں سے جو بھی اسے نہ مانے وہ سزاوار دوزخی ہے ۔ ہاں اس قرآن سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے اثر وہی لیتا ہے ۔ جو زندہ دل اور اندرونی نور والا ہو ۔ عقل و بصیرت رکھتا ہو اور عذاب کا قول تو کافروں پر ثابت ہے ہی ۔ پس قرآن مومنوں کے لیے رحمت اور کافروں پر اتمام حجت ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

68۔ 1 یعنی جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں، ان کی پیدائش کو بدل کر برعکس حالت میں کردیتے ہیں۔ یعنی جب وہ بچہ ہوتا ہے تو اس کی نشو و نما جاری رہتی ہے اور اس کی عقلی اور بدنی قوتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حتٰی کہ وہ جوانی اور بڑھاپے کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس اس کے قوائے عقلیہ و بدنیہ میں ضعف و گھٹاؤ کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ ایک بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ 68۔ 2 کہ جو اللہ اس طرح کرسکتا ہے، کیا وہ دوبارہ انسانوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٦٠] بڑھاپے میں بچپنے کی حالت :۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کی تمام تر قوتیں ترقی پذیر ہوتی ہیں۔ لیکن جب جوانی سے ڈھل جاتا ہے تو ان تمام قوتوں میں انحطاط آنا شروع ہوجاتا ہے۔ بچپن میں وہ چلنے میں سہارے کا محتاج تھا تو بڑھاپے میں بھی محتاج ہوجاتا ہے۔ اس کی طاقت، اس کی ہمت، اس کا عزم، اس کی عقل غرضیکہ ہر چیز میں اس قدرزوال آجاتا ہے کہ وہ بچوں جیسا ہوجاتا ہے۔ اور اس سارے عمل میں انسان خود مجبور محض ہوتا ہے۔ کیا پھر بھی اسے سمجھ نہیں آتی کہ اگر ہم چاہیں تو اسے اندھا بھی کرسکتے ہیں۔ اسے اپاہج بھی بنا سکتے ہیں اس کا حلیہ بھی بگاڑ سکتے ہیں اور وہ چاہے یا نہ چاہے ہم اسے دوبارہ زندہ کرکے اس کے گناہوں کی اسے سزا بھی دے سکتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ : انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے، بڑھاپا، کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، حتیٰ کہ وہ دوبارہ بچوں کی طرح کمزور اور ہر کام میں دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔ بڑے عالی دماغ کے باوجود سب کچھ بھول جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ ) [ الروم : ٥٤ ] ” اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنادیا، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔ “ اور فرمایا : (ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّكُمْ ۚ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْــــًٔا ) [ الحج : ٥ ] ” پھر ہم تمہیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کرلیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ “ اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ : مفسرین نے پچھلی آیات کی مناسبت سے اس کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک یہ کہ زندگی کے ان انقلابات کو دیکھ کر بھی یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ یہ انقلابات لانے والی ہستی کے لیے انسان کو دوبارہ زندہ کرنا اور قیامت برپا کرنا کچھ مشکل نہیں، بلکہ آخرت اور جزائے اعمال حق ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ” یعنی جیسے لڑکا سست تھا، بوڑھا بھی ویسا ہی ہوا، یہ بھی نشان ہے پھر پیدا ہونے کا۔ “ (موضح) دوسری تفسیر یہ کہ پھر بھی کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ جو پروردگار عمر دے کر بناوٹ میں الٹا کردیتا ہے، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ آنکھیں دینے کے بعد انھیں مٹا دے اور اچھی صورتیں عطا کرنے کے بعد انھیں مسخ کر دے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the last of the verses cited above, it was said: وَمَن نُّعَمِّرْ‌هُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ أَفَلَا يَعْقِلُونَ (And whomsoever We give long life, we reverse him in creation. Do they then not have sense?). The word: نُّعَمِّر (nu&ammir: We give a long life) in this verse has been derived from: تَمِیر (ta` mir) which means to prolong years of life. And the word: نُنَكِّسْهُ (nunakkishu) is a derivation from: تَنکِیس (tankis) which means to reverse, invert or turn upside down. In this verse, Allah Ta’ ala has described yet another manifestation of His perfect power and eloquent wisdom in that every living being lies under the free will of Allah Ta’ ala all the time. The process of nature is going on. The thing started from a lifeless drop. Wrapped with three layers of darkness in the womb of the mother, that which came to be was this essence of the universe, and a small world in its own right. Countless was the number of most delicate mechanisms that were embedded into its life form. Then it was made to come alive with the infusion of the spirit. After having been nourished and grown for nine months inside the womb of the mother, a perfect human being came into this world. Of course, perfect it was, but the body it had was weak. Nature took care of that by placing in the breast of the mother food that would suit an infant&s physical requirement. This gave it the gradual supply of needed energy. From that time to the time of youth, passed many stages and then came a strong body at its total bloom. Then came claims of the power thus acquired and rose the desire to defeat every conceivable adversary. But, that was not the end. When the creator and master of this new aspirant into the world decided otherwise, all these strengths started waning. Even the decline was not sudden. It took time. There were countless stages. Finally, came the fag end of the years of life. Once there, just imagine, has this person not reached back into the stage of one&s childhood. Habits started changing. Reflexes became different. Things that used to be the dearest started appearing hateful. What was comfort once turned into suffering. This is what the Qur&an calls |"tankis,|" that is, being turned upside down. One trusts what one sees with one&s own eyes and what one hears with one&s own ears in the life of this world. This too does not remain trustworthy during the later years of old age. Clearly understanding what is being said becomes difficult because one becomes hard of hearing. The same thing happens to the sense of sight that becomes weak. One cannot see well enough. The classical Arab poet, al-Mutanabbi has said: و من صحب الدّنیا طویلا تقلَّبّت ---- علی عینہٖ حَتّٰی یری صدقھا کذبا And for one who lives long in the world, it will turn upside down right before his eyes to the extent that what he saw as truth will start appearing to be a lie. Not only that this major change in man&s frame of existence is a standing manifestation of the unique power of Allah Ta’ ala, it is also a great favor to him. Is it not that all strengths the supreme Creator has placed in the living presence of man are, in reality, the God-given functional devices issued to him with the clarification that they were neither his property nor were they everlasting and that, finally, they will be taken back from him. This obviously required that, once came the time of such take over, all such strengths should have been taken back simultaneously. But, the most merciful and sublime Lord has not elected to do that. Instead, He has allowed that these strengths be taken back in installments that too are prominently long and spaced apart. Thus, these are taken back gradually, bit by bit, so that one gets alerted and starts getting ready to embark on the ultimate journey of the Hereafter. And Allah knows best.

(آیت) ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق افلا یعقلون، نعمر، تعمیر سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں عمر دراز دینے کے، اور ننکسہ، تنکیس سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں اوندھا الٹا کردینے کے۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے ایک اور مظہر کا بیان فرمایا ہے کہ ہر انسان و حیوان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے زیر تصرف ہے، قدرت کا عمل اس میں مسلسل جاری ہے، ایک گندے اور بےجان قطرہ سے اس کا وجود شروع ہوا، بطن مادر کے تین اندھیریوں میں اس خلاصہ کائنات اور عالم اصغر کی تخلیق ہوئی، کیسی کیسی نازک مشینیں اس کے وجود میں پیوست کی گئیں پھر روح ڈال کر زندہ کیا گیا، نو مہینے بطن مادر کے اندر اس کی تربیت اور نشوونما ہو کر ایک مکمل انسان بنا اور اس دنیا میں آیا۔ تو مکمل ہونے کے باوجود اس کی ہر چیز ضعیف و کمزور ہے۔ قدرت نے اس کے مزاج کے مناسب غذا ماں کی چھاتیوں میں پیدا کردی جس سے اس کو تاریجی توانائی ملی، اور اس وقت سے جوانی تک کتنے مراحل سے گزر کر اس کے سب قوی مضبوط ہوئے، قوت و شوکت کے دعوے ہونے لگے، ہر مقابل کو شکست دینے کے حوصلے پیدا ہوئے۔ پھر جب خالق ومالک کو منظور ہوا تو اب ان سب طاقتوں قوتوں میں کمی شروع ہوئی، کمی بھی بیشمار مراحل سے گزرتے ہوئے بالآخر بڑھاپے کی آخری عمر تک پہنچی۔ جہاں پہنچ کر غور کیا جائے تو پھر وہ اس منزل میں پہنچ گیا جس سے بچپن میں گزرا تھا۔ ساری عادتیں خصلتیں بدلنے لگیں، جو چیزیں سب سے زیادہ محبوب تھیں وہ مبغوض نظر آنے لگیں، جن سے راحت ملتی تھی اب وہ موجب کلفت بن گئی ہیں۔ اسی کو قرآن کریم نے تنکیس یعنی اوندھا کردینے سے تعبیر فرمایا ہے۔ و نعم قال من عاش اخلقت الایام حدتہ وخانہ ثقتاہ السمع والبصر ” یعنی جو شخص زندہ رہے گا تو زمانہ اس کی حدت و شدت کو بوسیدہ اور پرانا کر دے گا، اور اس کے سب سے بڑے دو ثقہ دوست یعنی شنوائی اور بینائی کی طاقتیں بھی اس سے خیانت کر کے الگ ہوجائیں گی “ یعنی انسان کو دنیا میں سب سے زیادہ اعتماد اپنی آنکھ سے دیکھی یا کان سے سنی ہوئی چیز پر ہوتا ہے۔ بڑھاپے کے آخر عمر میں یہ بھی قابل اعتماد نہیں، گراں گوشی کے سبب بات پوری سمجھنا مشکل، ضعف بینائی کے سبب صحیح صحیح دیکھنا مشکل۔ متنبی نے اسی مضمون کو کہا ہے ومن صحب الدنیا طویلا تقلبت علیٰ عینہ حتی یری صدقہا کذبا ” یعنی جو شخص دنیا میں زیادہ زندہ رہے گا دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے ہی پلٹ جائے گی یہاں تک کہ جس چیز کو پہلے سچ جانتا تھا وہ جھوٹ معلوم ہونے لگے گی “ انسان کے وجود میں یہ انقلابات قدرت حق تعالیٰ شانہ، کا عجیب و غریب مظہر تو ہے ہی، اس میں انسان پر ایک عظیم احسان بھی ہے، کہ خالق کائنات نے جتنی طاقتیں انسان کے وجود میں ودیعت فرمائی ہیں، وہ درحقیقت سرکاری مشینیں ہیں، جو اس کو دے دی گئی ہیں، اور یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ یہ تیری ملک نہیں اور دائمی بھی نہیں، بالآخر تجھ سے واپس لی جائیں گی۔ اس کا تقاضا ظاہری یہ تھا کہ جب وقت مقدر آجاتا سب طاقتیں بیک وقت واپس لے لی جاتیں مگر مولائے کریم نے ان کی واپسی کی بھی بڑی طویل قسطیں کردی ہیں اور تدریجی طور پر واپس لیا ہے تاکہ انسان متنبہ ہو کر سفر آخرت کا سامان کرلے۔ واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ نُنَكِّسْہُ فِي الْخَلْقِ۝ ٠ ۭ اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ۝ ٦٨ عمر ( زندگی) والْعَمْرُ والْعُمُرُ : اسم لمدّة عمارة البدن بالحیاة، فهو دون البقاء، فإذا قيل : طال عُمُرُهُ ، فمعناه : عِمَارَةُ بدنِهِ بروحه، وإذا قيل : بقاؤه فلیس يقتضي ذلك، فإنّ البقاء ضدّ الفناء، ولفضل البقاء علی العمر وصف اللہ به، وقلّما وصف بالعمر . والتَّعْمِيرُ : إعطاء العمر بالفعل، أو بالقول علی سبیل الدّعاء . قال : أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ ما يَتَذَكَّرُ فِيهِ [ فاطر/ 37] ، وَما يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ [ فاطر/ 11] ، وَما هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذابِ أَنْ يُعَمَّرَ [ البقرة/ 96] ، وقوله تعالی: وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ [يس/ 68] ، قال تعالی: فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] ، وَلَبِثْتَ فِينا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ [ الشعراء/ 18] . والعُمُرُ والْعَمْرُ واحد لکن خُصَّ القَسَمُ بِالْعَمْرِ دون العُمُرِ «3» ، نحو : لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ [ الحجر/ 72] ، وعمّرک الله، أي : سألت اللہ عمرک، وخصّ هاهنا لفظ عمر لما قصد به قصد القسم، ( ع م ر ) العمارۃ اور العمر والعمر اس مدت کو کہتے میں جس میں بدن زندگی کے ساتھ آباد رہتا ہے اور یہ بقا سے فرو تر ہے چنناچہ طال عمر ہ کے معنی تو یہ ہوتے ہیں کہ اس کا بدن روح سے آباد رہے لیکن طال بقاء ہ اس مفہوم کا مقتضی نہیں ہے کیونکہ البقاء تو فناء کی ضد ہے اور چونکہ بقاء کو عمر پر فضیلت ہے اس لئے حق تعالیٰ بقاء کے ساتھ تو موصؤف ہوتا ہے مگر عمر کے ساتھ بہت کم متصف ہوتا ہے ۔ التعمیر کے معنی ہیں بالفعل عمر بڑھانا نا یا زبان کے ساتھ عمر ک اللہ کہنا یعنی خدا تیری عمر دراز کرے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ ما يَتَذَكَّرُ فِيهِ [ فاطر/ 37] کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا ۔ وَما يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ [ فاطر/ 11] اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے ۔ وَما هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذابِ أَنْ يُعَمَّرَ [ البقرة/ 96] اگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی ۔ اور آیت : ۔ وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ [يس/ 68] اور جس کو بڑی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں ۔ فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] یہاں تک کہ ( اسی حالت میں ) ان کی عمر ین بسر ہوگئیں ۔ وَلَبِثْتَ فِينا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ [ الشعراء/ 18] اور تم نے برسوں ہمارے عمر بسر کی ۔ العمر والعمر کے ایک ہی معنی ہیں لیکن قسم کے موقعہ پر خاص کر العمر کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے ۔ عمر کا لفظ نہیں بولا جاتا جیسے فرمایا : ۔ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ [ الحجر/ 72] تمہاری زندگی کی قسم وہ اپنی مستی میں عمرک اللہ خدا تمہاری عمر دارز کرے یہاں بھی چونکہ قسم کی طرح تاکید مراد ہے اس لئے لفظ عمر کو خاص کیا ہے ۔ نكس النَّكْسُ : قَلْبُ الشیءِ عَلَى رَأْسِهِ ، ومنه : نُكِسَ الوَلَدُ : إذا خَرَجَ رِجْلُهُ قَبْلَ رَأْسِهِ ، قال تعالی: ثُمَّ نُكِسُوا عَلى رُؤُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 65] والنُّكْسُ في المَرَضِ أن يَعُودَ في مَرَضِهِ بعد إِفَاقَتِهِ ، ومن النَّكْسِ في العُمُرِ قال تعالی: وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ [يس/ 68] وذلک مثل قوله : وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلى أَرْذَلِ الْعُمُرِ [ النحل/ 70] وقرئ : ننكسه «3» ، قال الأخفش : لا يكاد يقال نَكَّسْتُهُ بالتَّشْدِيدِ إلّا لما يُقْلَبُ فيُجْعَلُ رأسُهُ أسْفَلَهُ «4» . والنِّكْسُ : السَّهْمُ الذي انكَسَرَ فوقُه، فجُعِلَ أَعْلَاهُ أسْفَلُه فيكون رديئاً ، ولِرَدَاءَتِهِ يُشَبَّهُ به الرَّجُلُ الدَّنِيءُ. ( ن ک س ) النکس ( ن ) کے معنی کسی چیز کو الٹا کردینے کے ہیں اور اسی سے نکس الولد ہے ۔۔ یعنی ولات کے وقت بچے کے پاؤں کا سر سے پہلے باہر نکلنا ۔ ثُمَّ نُكِسُوا عَلى رُؤُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 65] پھر شرمندہ ہوکرسر نیچا کرلیا ۔ النکس صحت یابی کے بعد مرض کا عود کر آنا۔ اور نکس فی العسر العمر کے متعلق فرمایا : وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ [يس/ 68] اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں ۔ اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلى أَرْذَلِ الْعُمُرِ [ النحل/ 70] اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں ۔ اور ایک قرات میں ننکسہ ہے ۔ اخفش کا قول ہے ۔ کہ ننکسہ وبتشدید الکاف ) کے معنی کسی چیز کو سرنگوں کردینے کے ہوتے ہیں ۔ اور نکس اس تیرے کو کہتے ہیں جس کا فوتہ ٹوٹ گیا ہو اور اس کے اوپر کے حصہ کو نیچے لگا دیا گیا ہو ۔ ایسا تیر چونکہ روی ہوجاتا ہے ۔ اس لئے تشبیہ کے طور پر کمینے آدمی کو بھی نکس کہاجاتا ہے ۔ ( ن ک ص ) خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

جوانی کے بعد بڑھاپا لازمی ہے قول باری ہے (ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق۔ اور ہم جس کی عمر (بہت زیادہ) کردیتے ہیں اسے اس کی خلقت میں الٹا کردیتے ہیں) قتادہ کا قول ہے۔ ہم اسے ہرم یعنی بہت بڑھاپے کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں جس کی بنا پر اس کی حالت قویٰ کی کمزوری اور بیخبر ی کے لحاظ سے بچے کی حالت کے مشابہ ہوجاتی ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ہم اسے قوت وطاقت دینے کے بعد کمزوری اور ضعف سے، نیز جسم کی فربہی کے بعد لاغری سے اور تروتازگی ونشاط کے بعد خشکی اور سستی سے دو چار کردیتے ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ومنکم من یرد الی ارذلی العمر اور تم میں سے وہ بھی ہیں جنہیں نکمی عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے) انتہائی بڑھاپے کی عمر کو نکمی عمر اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں کمی کے بعد اضافے اور لاعلمی کے بعد علم کی طرف رجوع کرنے کی کوئی توقع اور آس نہیں ہوتی۔ جس طرح بچے کے بارے میں یہ توقعات ہوتی ہیں کہ ابھی اگرچہ وہ کمزور ہے لیکن اس کے جسم میں قوت آجائے گی اور ابھی اگرچہ اسے کچھ خبر نہیں لیکن آگے چل کر باخبر ہوجائے گا۔ اس نظریہ قول جاری ہے (ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ ۔ پھر اللہ نے قوت وطاقت دینے کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا) ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جس کو ہم زیادہ عمر کردیتے ہیں تو اسے طبعی حالت میں الٹا کردیتے ہیں تو وہ بچہ کی طرح ہوجاتی ہے نہ اس کی داڑھی رہتی ہے اور نہ دانت اور بول و براز سے بھی محتاج ہوجاتا ہے تو کیا پھر بھی یہ لوگ تصدیق نہیں کرتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٨ { وَمَنْ نُّـعَمِّرْہُ نُـنَـکِّسْہُ فِی الْْخَلْقِ } ” اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کی ِخلقت میں ضعف پیدا کردیتے ہیں۔ “ ظاہر ہے جب بڑھاپا آتا ہے تو انسان کے قویٰ کمزور ہوجاتے ہیں۔ ؎ مضمحل ہوگئے قویٰ غالبؔ وہ عناصر میں اعتدال کہاں ؟ { اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ } ” تو کیا یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

57 "Reverse him in nature," means that in old age Allah turns him back to the state of childhood. He becomes unable to stand and walk without the help and support of others; he is fed by others; he urinates and defecates in bed; talks childishly and is laughed at by others. In short, towards the end of life he returns to the same state of weakness with which he had started lift in this world."

سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :57 ساخت الٹ دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں آدمی کی حالت بچوں جیسی کر دیتا ہے ۔ اسی طرح وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوتا ہے ۔ اسی طرح دوسرے اسے اٹھاتے بٹھاتے اور سہارا دے کر چلاتے ہیں ۔ اسی طرح دوسرے اس کو کھلاتے پلاتے ہیں ۔ اسی طرح وہ اپنے کپڑوں میں اور اپنے بستر پر رفع حاجت کرنے لگتا ہے ۔ اسی طرح وہ ناسمجھی کی باتیں کرتا ہے جس پر لوگ ہنستے ہیں ۔ غرض جس کمزوری کی حالت سے اس نے دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا اختتام زندگی پر وہ اسی حالت کو پہنچ جاتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

20: جب انسان بہت بوڑھا ہوجاتا ہے تو اس کے قویٰ جواب دے جاتے ہیں، اس کے دیکھنے، سننے، بولنے اور سمجھنے کی طاقت ختم ہوجاتی ہے، یا کمزور پڑجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ انسانوں کو پیش آنے والے ان تغیرات کو دیکھتے ہیں، اس سے انہیں یہ سبق لینا چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ انسانوں کے جسم میں یہ تغیرات پیدا کرسکتا ہے تو وہ ان کی نافرمانیوں کی بنا پر ان کی بینائی بالکل ختم بھی کرسکتا ہے، اور ان کی صورتیں بھی بالکلیہ مسخ کرسکتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:68) من نعمرہ۔ من موصولہ شرطیہ ہے نعمر مضارع صیغہ جمع متکلم ہے اور مجزوم بوجہ شرط ہے تعمیر (تفعیل) مصدر۔ بمعنی عمر دینا۔ عمر کو زیادہ کرنا۔ طویل عمر دینا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے، جس کو ہم طویل عمر دیتے ہیں۔ جس کی عمر ہم زیادہ کردیتے ہیں۔ یہ جملہ شرطیہ ہے : ننکسہ فی الخلق : جواب شرط۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع متکلم۔ تنکیس (تفعیل) مصدر۔ ہم الٹا کردیتے ہیں۔ ہم کبڑا کردیتے ہیں۔ نکس ضعف پیری سے ایک جگہ پڑا رہنے والا۔ نکس سست اور کمزور آدمی۔ انک اس جمع ہ ضمیر مفعول واحد مذکرغائب کا مرجع من ہے۔ فی الخلق (اس کی ) خلقت میں۔ اس کی طبعی قوتوں کے لحاظ سے۔ مراد یہ ہے کہ بڑھاپے میں آدمی کی حالت پلٹ کر بچوں کی سی ہوجاتی ہے وہ بچوں کی طرح چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتا ہے اور دوسروں کا سہارا ڈھونڈھتا ہے کھانے پینے میں بھی بچوں کی طرح دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے اور بچوں ہی کی طرح ناسمجھی باتیں کرنے لگتا ہے۔ افلا یعقلون۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ جو بندا اس قدر تغیر پر قادر ہے وہ آنکھوں کو نابود کرنے اور شکلوں کو مسخ کرنے پر بھی قادر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ تغیرات تدریجی ہوتے ہیں (اور اگر مسخ ہوتا تو یک دم ہوتا)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی اعضا اور دماغ میں ضعف کی وجہ سے پھر سے بچنے کی حالت پلٹ آتی ہے۔ ( ابن کثیر)5 زندگی کے ان انقلابات کو دیکھ کر ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی پائیدار اور دائمی نہیں ہوسکتی بلکہ اس کا ختم ہونا اور اس کے بعد دوسری زندگی کا آنا نا گزیر ہے جو دائمی اور لا فانی ہوگی۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی جیسا لڑکا سست تھا بوڑھا بھی ویسا ہی ہوا، یہ بھی نشان ہے پھر پیدا ہونے کا) ( موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83: اسرار و معارف : اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔ ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ باتوں میں حقیقت کی جگہ پر تصورات اور تخیلات سجا دئیے جاتے ہیں۔ رزمیہ نغموں میں شاعر بجلی کی طرح تلوار چلاتا ہے اگرچہ عملی زندگی میں دستہ پکڑنا نہ آتا ہو ایسے جنگل بادل ، دریا ، صحرا سب کی سیر کرلیاتا ہے خواہ زندگی بھر جھونپڑے سے نہ نکلا ہو تو یہاں بھی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ باتیں شاعرانہ تعلی ہے تو ارشاد ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم الانبیاء اور انسانیت کے لیے اللہ کے رسول ہیں بھلا آپ شاعرانہ تعلی کے طور پر کلام فرمائیں گے تو حق کون بیان کرے گا۔ آپ کا مقام اس بات سے بہت بلند ہے۔ یہ شاعرانہ کلام آپ کو زیب ہی نہیں دیتا نہ اللہ نے آپ کو سکھایا ہے بلکہ جو کلام آپ پر نازل ہوا ہے تو یہ سراپا نصیحت اور آسمانی کتاب ہے قرآن ہے جو بہت روشن دلائل سے بات سمجھاتا ہے لیکن اس کی بات بھی تو زندہ لوگوں کو ہی فائدہ دے گی جن کے دل مردہ ہوچکے ضمیر مرچکے وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کی استعداد ہی کھو چکے ہاں ان پر حجت قائم ہوجائے گی کہ انہیں حق پہنچایا گیا مگر انہوں نے اپنے لیے کفر کی راہ اپنائی۔ انہیں غور کرنا چاہیے کہ آخر روئے زمین پر کس قدر حیوانا تبستے ہیں وہ بھی تو ہماری مخلوق اور ہمارے دست قدرت کا شاہکار ہیں ان میں جان بھی ہے توالد و تناسل بھی مگر ہم نے ان کو انسان کی ملکیت بنا دیا ہے اور ان کے تابع کردیا ہے کسی پر سواری کرتے ہیں تو کسی کو ذبح کرکے کھالیتے ہیں کسی سے کھیتی باڑی کی خدمت لیتے ہیں تو کسی سے گاڑی کھنچواتے ہیں حتی کہ انہیں بیچ دیتے ہیں کہ ان کی ملکیت ہیں۔ ملکیت کا اصول۔ یہاں بات انسانی عظمت کی ارشاد ہوئی ہے اصول ملکیت زیر بحث نہیں مگر چونکہ ملکیت کا تذکرہ ہے تو بہتر ہے کہ بات عرض کردی جائے۔ دنیا میں دو بڑے نظام ہیں سرمایہ دارانہ یا اشتراکیت۔ پہلے کا فلسفہ یہ ہے کہ ملکیت کی بنیاد سرمایہ ہے جبکہ دوسرے کا فلسفہ ہے محنت یعنی ملکیت کی بنیاد محنت ہے مگر اسلام کا اپنا فلسفہ ہے جو حق ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو بحیثیت انسان ان اشیاء کا مالک بنا دیا ہے اب یہ تقسیم کہ کونسی شے کس کی ملکیت ہے اس کے لیے حصول اشیاء کے اسلامی ضابطے موجود۔ جو اس طرح حاصل کرے حق ہے ورنہ غاصب کہلائے گا۔ اور جانوروں میں ان کے مالی منافع غذا اور پینے کے لیے دودھ کے ذخائز سمو دیے۔ انہیں تو چاہیے تھا کہ ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے اور ان بحثوں میں نہ پڑتے مگر ان نادانوں نے اللہ کی عظمت سے منہ پھیر کر غیر اللہ سے اور بعض اوقات انہی جانوروں سے امیدیں وابستہ کرلی ہیں اور ان کو اپنا معبود قرار دے رکھا ہے جبکہ کوئی بھی اللہ کے سوا ایسی ہستی نہیں جو کسی کی مدد کرسکے ان کی مدد کی امیدوار پھر معبودانِ باطلہ سے کتنی حماقت ہے کہ حق یہ ہے کہ وہ ان کی مدد تو نہ کرسکیں گے البتہ میدان حشر میں ان کے خلاف گواہی دیں گے اور بطور ثبوت پیش ہوں گے کہ واقعی یہ لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی باتوں سے آزردہ خاطر نہ ہوں کیا شان کرم ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کے کفر سے اس لیے آزردہ خاطر ہوجاتے کہ بھلا ایک انسان ہے اور پھر یہ جہنم میں کیوں جائے جبکہ میں انسانوں ہی کو جہنم سے بچانے اور سیدھی راہ دکھانے کے لیے مبعوث ہوا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم مسلمانوں کی خطاؤں پہ کس قدر دکھی ہوتے ہوں گے۔ فرمایا آپ پریشان نہ ہوں اللہ سب جانتا ہے کہ یہ آپ سے کیا کہتے ہیں اور ان کے دلوں میں کیا ہے کہ بظاہر تو جھگڑا کرتے کہ ہم حق پر ہیں مگر اندر سے جانتے تھے کہ حق تو ادھر ہے مگر ہم عیش و عشرت کیسے چھوڑیں خواہشاتِ نفس میں پھنسے ہوئے تھے۔ انسان اگر غور کرے تو اس کی اصل تو نطفہ ہے ایک قطرہ پانی میں سارا انسانی وجود اور اس کے اجزا روئے زمین سے جمع کرکے سمو دئیے اور پھر اس بوند سے انسان بنا کر پیدا کردیا اب یہ بھی اللہ سے جھگڑا کرنے میدان میں اترا ہے اور بڑھ بڑھ کر باتیں کرتا ہے کہتا ہے بھلا ان بوسیدہ ہڈیوں کو جو خاک ہوچکیں کون زندہ کرے گا آپ فرم ادیجیے وہی ذات جس نے پہلے ذرات سے قطرہ اور قطرے سے وجود پیدا کردیا تھا پھر سے ان سب کے ذرات کو انسانی روپ عطا کردے گا کہ وہ ہر طرح کی صنعت پہ قادر اور سب سے زیادہ جاننے والا ہے بھلا بکھرے ذرات کو جمع کرنا اتنا مشکل تو نہیں جتنا سرسبز آنے والے درختوں میں آگ کو رکھ دینا ہے کہ تم سبز ٹہنیاں رگڑ کر آگ پیدا کرلیتے ہو۔ سبز درختوں میں آگ : عرب تو ویسے بھی صحرا سے دو قسم کے درخت لاتے جن کو آپس میں رگڑ کر آگ پیدا کرلیتے ویسے بھی آج کل تو باٹنی والوں نے ثابت کردیا ہے کہ ہر پتے میں بھٹی لگی ہوئی ہے جہاں غذا پک کر پودے یا درخت کو تقسیم ہوتی ہے۔ اور یہ تو ایک بات ہے ارض و سما کی یہ وسیع کائنات اور اس میں بیشمار مخلوق پیدا فرمانے والا خالق کیا اس بات پہ قادر نہیں ہوسکتا کہ ان کو پھر سے پیدا کردے یقیناً وہ جتنی بار چاہے ایسا کرسکتا ہے وہ قادر ہے ہر طرح کی تخلیق پر اور اس کے علم میں ہے ہر ذرہ اسے پیدا کرنے کے لیے صرف حکم دینا ہوتا ہے کہ دنیا سے معدوم شے اس کے علم میں حاضر ہے خود اسی کو حکم دے دیتا ہے جب چاہے کہ ہوجا اور وہ بلا تاخیر ہوجاتی ہے۔ اور اس کی ذات ہر کمی سے بالا تر اور پاک ہے ہرچیز کی حکمرانی اسی کے دست قدرت میں ہے ہر ذرہ اسی کے حکم کے تابع ہے اور ہر ایک کو واپس اسی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ طبعی حالت سے مراد قوی مدرکہ، سامعہ، باصرہ وغیرہ اور فاعلہ، ہاضمہ، نامیہ وغیرہا، اور رنگ و روغن و حسن و جمال ہیں۔ اور الٹا کرنے سے مراد ہے ان کا انقلاب اور تغیر حالت اودون و ارذل کی طرف۔ پس طمس ومسخ بھی ایک قسم کا تغیر ہے کامل سے ناقص کی طرف۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق ، افلا یعقلون (68) ” جب انسان بہت بوڑھا ہوجاتا ہے تو وہ دوبارہ الٹ کر طفل ناتواں بن جاتا ہے۔ لیکن اس میں بچوں جیسی محبوبیت اور کشش نہیں ہوتی۔ یوں بوڑھے لوگ پیچھے کی طرف چلتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس جو علم تھا ، اسے بھولتے جاتے ہیں۔ ان کے اعصاب کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی فکر مضحمل ہوتی جاتی ہے۔ ان کی قوت برداشت ختم ہوتی جاتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایسا انسان خالص بچہ ہوجاتا ہے۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ بچہ اگر توتلی زبان بھی بولتا ہے تو اچھا لگتا ہے۔ لوگ اسے دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں۔ وہ اگر کوئی حماقت کرتا ہے تو بھی دیکھنے والے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن بوڑھا تو کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔ اس کی حماقتوں کو محض رحم اور احترام ہی سے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اور جوں جوں اور کی قوتیں مضحمل ہوتی ہیں اور اس سے حماقتیں سرزد ہوتی ہیں۔ لوگ اس کے ساتھ مزاح کرتے ہیں۔ جوں وہ ناتواں ہوتا ہے اس کی کمر ٹیڑھی ہوتی ہے وہ پیچھے ہٹتا چلا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ برا انجام ہے جو دعوت اسلامی کو جھٹلانے والوں کے انتظار میں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ نے رشد و ہدایت سے محروم کردیا ہے اور ایمان کی وجہ سے ان کو جو اعزاز ملنے والا تھا ، اس سے وہ بےبہرہ رہ گئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

انسان قوت کے بعد دوبارہ ضعف کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اس کے بعد فرمایا (وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ ) (الآیۃ) کہ ہم جسے طویل عمر دے دیتے ہیں اس کی حالت طبعی جو اسے پہلے دی گئی تھی اسے الٹ دیتے ہیں یعنی جوانی میں جو قوتیں دی گئی تھیں وہ چلی جاتی ہیں اور ضعف بڑھتا چلا جاتا ہے، سننے اور دیکھنے کی قوتیں ضعیف ہوجاتی ہیں، سمجھنے اور سوچنے کی طاقت بھی کمزور ہوجاتی ہے، گوشت گھل جاتا ہے، کھال لٹک جاتی ہے، یہ تو سب کے سامنے ہے، اسی سے سمجھ لینا چاہیے کہ ہم آنکھوں کو ختم کرسکتے ہیں اور صورتیں مسخ کرسکتے ہیں : (اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ ) (کیا یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ ) (قولہ تعالیٰ مضیّاً اصلہ مضوی اجتمعت الواو ساکنۃ مع الیاء فقلبت یاء کما ھو القاعدۃ وادغمت الیاء فی الیاء وقلبت ضمۃ الضاد کسرۃ لتخف وتناسب الیاء) (اللہ تعالیٰ کا قول (مُضیّاً ) یہ اصل میں (مُضْوِیٌ) تھا واؤ ساکنہ اور یاء جمع ہوگئیں تو واؤ کو یا کردیا جیسا کہ قانون ہے پھر یاء کو یاء میں ادغام کیا اور ضاد کے ضمہ کو تخفیف بالیا کی مناسبت کی وجہ سے کسرہ سے تبدیل کردیا۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

41:۔ ومن نعمرہ الخ : یہ زجر ہے۔ ہم نے تمہیں اس قدر عمر عطا کی کہ جو شخص صدق دل سے حق کو سمجھنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اتنے عرصہ میں حق کو سمجھ سکتا ہے۔ جب جوانی میں تم نے حق کو نہیں سمجھا جبکہ تما قوائے جسمانیہ تندرست اور جوان ہوتے ہیں تو بڑھاپے میں کیا سمجھو گے جبکہ تمام قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے روز بروز ضعف کی طرف لے جاتے ہیں۔ امام رازی فرماتے ہیں یہاں کافروں کے عذر کو قطع کیا گیا ہے، قیامت کے دن کافر کہیں گے ہمیں تو دنیا میں مہلت ہی کم ملی اگر ہم لمبی عمر پاتے تو ضرور ایمان لے آتے تو فرمایا سمجھنے سوچنے کے لیے تو تمہیں کافی عمر دی گئی تھی اور مزید زیادہ میں تو قوتیں معطل ہوجاتی ہیں۔ اس وقت سمجھنے سوچنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔ شرع فی عذر اخر وھو ان الکافر یقول لم یکن لبثتنا فی الدنیا الا یسیرا ولو عمرتنا لما وجدت منا تقصیرا فقال تعالیٰ افلا تعقلون انکم کلما دخلتم فی السن ضعفتم و قد عمرناکم مقدار ما تتمکنون من البحث والادراک الخ (کبیر) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(68) اور جس کو ہم عمر دراز دیتے ہیں ہم اس کو طبعی حالت اور پیدائش میں الٹا اور نگونسار کردیتے ہیں۔ پھر کیا یہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ یعنی جی کسی کو زیادہ بوڑھا کردیتے ہیں تو اس کی خلقت کو الٹا کردیتے ہیں۔ خلقت سے مراد ہے اس کے قوائے مدرک سمع بصر کی طاقت۔ معدے کے ہضم کی حالت اس کا حسن و جمال اس کے چہرے کی بناوٹ وغیرہ سب کو الٹ دیتے ہیں یعنی سب سے تغیر اور انقلاب کردیتے ہیں بوڑھا بالکل بچہ بن جاتا ہے جس اس قسم کا تغیر اور انقلاب فی الاعضا مشاہد ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ آدمی سب کچھ جاننے کے بعد انجان بنادیا جاتا ہے تو اسی طرح اگر چاہیں تو انسانی اعضاء میں تغیر اور انقلاب کردیں اور اس کو جانور یا پتھر وغیرہ بنادیں اور کہیں آنے جانے کے قابل نہ رکھیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جیسا لڑکا سست تھا بوڑھا پھر ویسا ہی ہوا یہ بھی نشان ہے پھر پیدا ہونے کا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جانو۔ یعنی جو عبادت و ریاضت جوانی میں ہوسکتی ہے وہ بڑھاپے میں نہیں ہوسکتی آگے پھر رسالت اور قرآن کا ذکر فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔