Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 75

سورة يس

لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَہُمۡ ۙ وَ ہُمۡ لَہُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴿۷۵﴾

They are not able to help them, and they [themselves] are for them soldiers in attendance.

۔ ( حالانکہ ) ان میں ان کی مدد کی طاقت ہی نہیں ، ( لیکن ) پھر بھی ( مشرکین ) ان کے لئے حاضر باش لشکری ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لاَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُمْ ... They cannot help them, meaning, those gods cannot help their worshippers; they are too weak, too insignificant and too powerless. Rather they cannot even help themselves or take revenge on those who want to harm them, because they are inanimate and can neither hear nor comprehend. Allah's saying: ... وَهُمْ لَهُمْ جُندٌ مُّحْضَرُونَ but they will be brought forward as a troop. means, at the time of Reckoning according to the view of Mujahid. This means that those idols will be gathered together and will be present when their worshippers are brought to account, as this will add to their grief and will be more effective in establishing proof against them. Qatadah said: لاَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُمْ (They cannot help them), means the gods. وَهُمْ لَهُمْ جُندٌ مُّحْضَرُونَ (but they will be brought forward as a troop). "The idolators used to get angry for the sake of their gods in this world, but they could not do them any benefit or protect them from any harm, for they were merely idols." This was also the view of Al-Hasan Al-Basri. This is a good opinion, and was the view favored by Ibn Jarir, may Allah have mercy on him. Consolation for the Mercy to the Worlds Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

75۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جن بتوں کو معبود سمجھتے ہیں، وہ ان کی مدد کیا کریں گے ؟ وہ خود اپنی مدد کرنے سے قاصر ہیں انہیں کوئی برا کہے ان کی ندامت کرے، تو یہی ان کی حمایت و مدافت میں سرگرم ہوتے ہیں، نہ کہ خود ان کے وہ معبود

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٦٧] معبودان باطل کی دنیا اور آخرت میں بےبسی :۔ انسان نے جس چیز کی بھی عبادت کی ہے۔ یا فریاد کی ہے یا اس کے آگے نذریں نیازیں پیش کی ہیں تو اس لئے کہ وہ معبود ان کی مشکل دور کریں گے یا کوئی حاجت پوری کردیں گے۔ یا اگر وہ روز آخرت پر بھی ایمان رکھتا ہے تو اس لئے کرتا ہے کہ وہ قیامت کو سفارش کردیں گے یا عذاب سے بچا لیں گے اور ان سب باتوں میں مدد کا پہلو شامل ہے۔ اور مدد کے لفظ میں یہ سب باتیں آجاتی ہیں۔ اب اس مدد کے دو پہلو ہیں ایک دنیا میں، دوسرے آخرت میں۔ دنیا میں ان کی مدد کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے عابدوں کی مدد تو کیا کریں گے وہ تو اپنی بقاء اپنی حفاظت اور اپنی ضروریات کے لئے ان کے محتاج ہیں کہ وہ ان کے آستانوں میں اور قبروں پر جھاڑو دیں۔ ان کو چمکا کر رکھیں، روشنی کا انتظام کریں۔ اگر ان عابدوں کے یہ لشکر نہ ہوں تو ان کی خدائی ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔ یہ خود ان کے حاضر باش غلام بنے ہوئے ہیں۔ ان کے آستانے اور بارگاہیں تعمیر کرتے اور سجاتے ہیں۔ ان کے لئے پروپیگنڈا کرتے ہیں تاکہ خلق خدا کو ان کا گرویدہ بنائیں۔ یہ خود تو ان کی حمایت میں لڑتے اور جھگڑے ہیں۔ تب کہیں جاکر ان کی خدائی چلتی ہے۔ ان معبودوں کے عابدوں کا لشکر اگر ان کی یہ خدمات سرانجام نہ دیں تو ان کی خدائی ایک دن بھی نہ چلے۔ اور آخرت میں ان کی مدد کا یہ حال ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ ان عابدوں کو ان معبودوں کے ساتھ اپنے سامنے لاکھڑا کریں گے تو یہی معبود ان کے دشمن بن جائیں گے اور ایسے دلائل دیں گے کہ خود تو بچ جائیں مگر انہیں گرفتار کرا کے چھوڑیں گے۔ اس وقت ان عابدوں کو پتہ چل جائے گا کہ جن معبودوں کی حمایت میں وہ زندگی بھر لڑتے بھڑتے رہے وہ آج کس طرح انہیں آنکھیں دکھا رہے ہیں اور ڈٹ کر ان کے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَهُمْ : فرمایا، وہ ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے، نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ دنیا میں ان کی مدد کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے عابدوں کی مدد تو کیا کریں گے وہ اپنی بقا، حفاظت اور دوسری ضروریات کے لیے اپنی عبادت کرنے والوں کے محتاج ہیں اور آخرت میں وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ دیکھیے سورة احقاف (٦) ۔ وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، پہلا یہ کہ ” هُمْ “ سے مراد مشرکین اور ” لَهُمْ “ سے مراد ان کے معبود ہوں، یعنی بجائے اس کے کہ ان کے معبود ان کی مدد کریں یہ عبادت کرنے والے ہر وقت ان کے مددگار اور خدمت گار فوج بنے ہوئے ہیں، ان کے آستانے تعمیر کرتے ہیں، ان کے آستانوں اور قبروں پر جھاڑو دیتے ہیں، انھیں چمکا کر رکھتے ہیں، وہاں لنگر کا انتظام کرتے ہیں، ان کی حمایت میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور ان کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کے جھوٹے قصّے بیان کر کے لوگوں کو ان کا گرویدہ بناتے ہیں۔ اگر عبادت کرنے والوں کے یہ لشکر نہ ہوں تو ان کی خدائی ایک لمحہ نہیں چل سکتی۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ” هُمْ “ سے مراد باطل معبود اور ” لَهُمْ “ سے مراد مشرکین ہوں، یعنی وہ جھوٹے معبود قیامت کے دن ان کفار کی عبادت کا انکار کر کے انھیں عذاب دینے دلوانے والے لشکر بن جائیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the last verse cited above (75), it was said: وَهُمْ لَهُمْ جُندٌ مُّحْضَرُ‌ونَ (rather they are an army brought forth for them). One sense of this verse is to take the word: جُندٌ (army) in the text to mean an opponent or adversary and take the verse to mean that the things they have made their objects of worship in the mortal world will turn against them on the Day of Judgment and also bear witness against them. And according to a Tafsir reported from Hasan and Qatadah رحمۃ اللہ علیہما ، it means that these people had taken to idols as gods in the hope that they would help them. But, the reality on the ground proved to be that they were already incapable of helping them. As a result, the very people who used to worship them as their servants and soldiers are now guarding them to the extent that they would take their side and fight against anyone who opposes them (a1-Qurtubi). The translation given in the text (with brackets) is based on this interpretation.

(آیت) وھم لہم جند محضرون۔ اس آیت کا ایک مفہوم تو وہ ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ جند سے مراد فریق مخالف لیا جائے، اور مطلب آیت کا یہ ہو کہ جن چیزوں کو انہوں نے دنیا میں معبود بنا رکھا ہے، یہی قیامت کے روز ان کے مخالف ہو کر ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اور حضرت حسن و قتادہ سے اس کی تفسیر یہ منقول ہے کہ ان لوگوں نے بتوں کو خدا تو اس لئے بنایا تھا کہ یہ ان کی مدد کریں گے اور ہو یہ رہا ہے کہ وہ تو ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں خود یہی لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے خدام اور ان کے سپاہی بنے ہوئے ہیں ان کی حفاظت کرتے ہیں کوئی ان کے خلاف کام کرے تو یہ ان کی طرف سے لڑتے ہیں۔ (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَہُمْ۝ ٠ ۙ وَہُمْ لَہُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ۝ ٧٥ الاستطاعۃ . وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] ( ط و ع ) الطوع الاستطاعۃ ( استفعال ) یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔ حضر الحَضَر : خلاف البدو، والحَضَارة والحِضَارَة : السکون بالحضر، کالبداوة والبداوة، ثمّ جعل ذلک اسما لشهادة مکان أو إنسان أو غيره، فقال تعالی: كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] ، نحو : حَتَّى إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ الأنعام/ 61] ، وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] ، وقال تعالی: وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [ النساء/ 128] ، عَلِمَتْ نَفْسٌ ما أَحْضَرَتْ [ التکوير/ 14] ، وقال : وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ [ المؤمنون/ 98] ، وذلک من باب الکناية، أي : أن يحضرني الجن، وكني عن المجنون بالمحتضر وعمّن حضره الموت بذلک، وذلک لما نبّه عليه قوله عزّ وجل : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [ ق/ 16] ، وقوله تعالی: يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آياتِ رَبِّكَ [ الأنعام/ 158] ، وقال تعالی: ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً [ آل عمران/ 30] ، أي : مشاهدا معاینا في حکم الحاضر عنده، وقوله عزّ وجلّ : وَسْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كانَتْ حاضِرَةَ الْبَحْرِ [ الأعراف/ 163] ، أي : قربه، وقوله : تِجارَةً حاضِرَةً [ البقرة/ 282] ، أي : نقدا، وقوله تعالی: وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنا مُحْضَرُونَ [يس/ 32] ، وفِي الْعَذابِ مُحْضَرُونَ [ سبأ/ 38] ، شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] ، أي : يحضره أصحابه، والحُضْر : خصّ بما يحضر به الفرس إذا طلب جريه، يقال : أَحْضَرَ الفرس، واستحضرته : طلبت ما عنده من الحضر، وحاضرته مُحَاضَرَة وحِضَارا : إذا حاججته، من الحضور، كأنه يحضر کلّ واحد حجّته، أو من الحضر کقولک : جاریته، والحضیرة : جماعة من الناس يحضر بهم الغزو، وعبّر به عن حضور الماء، والمَحْضَر يكون مصدر حضرت، وموضع الحضور . ( ح ض ر ) الحضر یہ البدو کی ضد ہے اور الحضارۃ حاد کو فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ آتا ہے جیسا کہ بداوۃ وبداوۃ اس کے اصل شہر میں اقامت کے ہیں ۔ پھر کسی جگہ پر یا انسان وگیرہ کے پاس موجود ہونے پر حضارۃ کا لفظ بولاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے ۔ وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] اور جب تم میراث کی تقسیم کے وقت ۔۔۔ آمو جود ہوں ۔ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [ النساء/ 128] اور طبائع میں بخل ودیعت کردیا گیا ہے ۔ عَلِمَتْ نَفْسٌ ما أَحْضَرَتْ [ التکوير/ 14] تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے اور آیت کریمہ : وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ [ المؤمنون/ 98] میں کنایہ کہ اے پروردگار میں پناہ مانگتا ہوں کہ جن و شیاطین میرے پاس آھاضر ہوں ۔ اور بطور کنایہ مجنون اور قریب المرگ شخص کو محتضر کہا جاتا ہے جیسا کہ آیت : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [ ق/ 16] اور آیت کریمہ : یوم یاتی بعض ایات ربک میں اس معنی پر متنبہ کیا گیا ہے اور آیت کریمہ ۔ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً [ آل عمران/ 30] کے معنی یہ ہیں کہ انسان جو نیکی بھی کرے گا ۔ قیامت کے دن اس کا اس طرح مشاہدہ اور معاینہ کرلے گا جیسا کہ کوئی شخص سامنے آموجود ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَسْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كانَتْ حاضِرَةَ الْبَحْرِ [ الأعراف/ 163] اور ان سے اس گاؤں کا حال پوچھ جواب دریا پر واقع تھا ۔ میں حاضرۃ البحر کے معنی دریا کے قریب یعنی ساحل کے ہیں اور آیت کریمہ : تِجارَةً حاضِرَةً [ البقرة/ 282] میں حاضرۃ کے معنی نقد کے ہیں ۔ نیز فرمایا : وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنا مُحْضَرُونَ [يس/ 32] اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے ۔ وفِي الْعَذابِ مُحْضَرُونَ [ سبأ/ 38] وی عذاب میں ڈالے جائیں گے ۔ اور آیت کریمہ : شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] ، ہر باری والے کو اپنی باری پر آنا چاہئے میں بانی کی باری کے محتضر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ باڑی والے اس گھاٹ پر موجود ہوں ۔ الحضر ۔ خاص کر گھوڑے کی تیز دوڑے کو کہتے ہیں کہا جاتا ہے : احضر الفرس گھوڑا دوڑا استحضرتُ الفرس میں نے گھوڑے کو سرپٹ دوڑایا ۔ حاضرتہ محاضرۃ وحضارا باہم جھگڑنا ۔ مباحثہ کرنا ۔ یہ یا تو حضور سے ہے گویا ہر فریق اپنی دلیل حاضر کرتا ہے اور یا حضر سے ہے جس کے معنی تیز دوڑ کے ہوتے ہیں جیسا کہ ۔۔۔۔۔۔ جاریتہ کہا جاتا ہے ۔ الحضیرۃ ُ لوگوں کی جماعت جو جنگ میں حاضر کی جائے اور کبھی اس سے پانی پر حاضر ہونے والے لوگ بھی مراہ لئے جاتے ہیں ۔ المحضرُ ( اسم مکان ) حاضر ہونے کی جگہ اور حضرت ُ ( فعل ) کا مصدر بھی بن سکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ جھوٹے معبود ان کی عذاب خداوندی سے کچھ بھی حفاظت نہیں کرسکتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٥ { لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَہُمْ } ” وہ ہرگز کوئی استطاعت نہیں رکھتے ان کی مدد کی “ { وَہُمْ لَہُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ } ” بلکہ یہ تو خود ہوں گے ان کے پکڑے ہوئے قیدی۔ “ یعنی جنہیں یہ لوگ پوجتے تھے وہی انہیں پکڑ پکڑ کر اللہ کے حضور پیش کریں گے اور کہیں گے : اے اللہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں ہمارے ساتھ یہ ظلم کیا تھا کہ ہمیں تیرا شریک ٹھہراتے رہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

62 That is, the poor false gods themselves are dependent upon their worshippers for their survival and their safety and their needs. But for their multitudes they could not survive as gods even for a day. These people are behaving as their humble servants. They are setting up and decorating their shrines; they carry out propaganda for them; they fight and quarrel with others for their sake. Then only arc thay recognized as gods. They are not the teal God, Who, whether someone recognizes Him or not, is ruling over the whole universe by His own might and authority.

سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :62 یعنی وہ جھوٹے معبود بے چارے خود اپنے بقا اور اپنی حفاظت اور اپنی ضروریات کے لیے ان عبادت گزاروں کے محتاج ہیں ۔ ان کے لشکر نہ ہوں تو ان غریبوں کی خدائی ایک دن نہ چلے ۔ یہ ان کے حاضر باش غلام بنے ہوئے ہیں ۔ یہ ان کی بارگاہیں بنا اور سجا رہے ہیں ۔ یہ ان کے لیے پروپیگنڈا کرتے پھرتے ہیں ۔ یہ خلق خدا کو ان کا گرویدہ بناتے ہیں ۔ یہ ان کی حمایت میں لڑتے اور جھگڑتے ہیں تب کہیں ان کا خدائی چلتی ہے ۔ ورنہ ان کا کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہو ۔ وہ اصلی خدا نہیں ہیں کہ کوئی اس کو مانے یا نہ مانے ، وہ اپنے زور پر آپ ساری کائنات کی فرماں روائی کر رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

23: یعنی جن من گھڑت خداؤں سے یہ مدد کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، وہ ان کی مدد تو کیا کرتے؟ قیامت کے دن ان کا پورا لشکر ان کے خلاف گواہی دے گا، جیسا کہ قرآن کریم نے سورۂ سبا اور سورۃ قصص میں بتلایا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:75) لا یستطیعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر طوع مادہ۔ وہ طاقت نہیں رکھتے۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ولا یستطیعون لہم نصرا ولا انفسہم ینصرون۔ (7:192) اور وہ نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں : نصرہم۔ مضاف مضاف الیہ ضمیر ہم مشرکین کی طرف راجع ہے ۔ یعنی وہ معبو دان باطل ان کی (مشرکین کی) مدد کی طاقت نہیں رکھتے۔ مدد نہیں کرسکتے۔ ای لا تقدر الہتہم علی نصرہم۔ وہم لہم جند محضرون۔ محضرون اسم مفعول جمع مذکر۔ وہ لوگ جن کو حاضر کیا جائے گا۔ اس جملہ کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ (الف) کفار اپنے معبودوں کے لئے فریق بنے ہوئے دنیا میں ان کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی نگرانی کے لئے تیار رہتے ہیں باوجودیکہ وہ معبود ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے اور نہ کسی شر سے ان کو بچاتے ہیں۔ یعنی ہم ضمیر مشرکین کی طرف اور لہم معبودان باطل کی طرف راجع ہے۔ جند محضرون، موصوف وصفت متعلقہ ہم ہے۔ (ب) بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کے معبودوں کو طلب کیا جائے گا اور ان کے ساتھ ان کے پرستاروں کو بھی لایا جائے گا گویا وہ سب ایک فوج ہوں گے جن کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ اس صورت میں جند محضرون معبودان باطل کے متعلق ہے۔ (2) صاحب کشاف لکھتے ہیں :۔ (الف) وہ اپنے معبودان باطل کے لئے (دنیا میں) ایک حاضر خدمت فوج بنے رہتے ہیں ان کی حفاظت و خدمت کے لئے۔ اور یہ معبودان باطل ہیں کہ ان کو مدد کرنے کی استطاعت اور قدرت ہی نہیں ہم ضمیر مشرکین کی طرف لہم ضمیر معبودان باطل کی طرف راجع ہے (ب) کہ مشرکین ان کو اپنا معبود اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ وہ قیامت کے روز اللہ کے ہاں ان کی مدد کریں گے اور شفاعت کریں گے لیکن حقیقت الامر اس کے خلاف ہے قیامت کے روز یہ (الھۃ ہم) اپنے پرستاروں (لہم) کے سامنے اکٹھے کر کے لائے جائیں گے تاکہ ان کے عذاب کو دیکھیں جو اس روز دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ (3) تقریباً صاحب روح المعانی رقمطراز ہیں :۔ (ہم) للالہۃ وضمیر (لہم) للمشرکین ای وان الالہۃ معدون محضرون لعذاب اولئک المشرکین یوم القیامۃ لانہم یجعلون وقود النار ہم ضمیر الھۃ کی طرف اور لہم میں ضمیر ہم مشرکین کی طرف راجع ہے یعنی معبودان باطل قیامت کے روز مشرکین کے عذاب کو دیکھنے کے لئے حاضر کئے جائیں گے کیونکہ وہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ یا محضرون عند حساب الکفرۃ اظھارا لعجزہم واقناطا للمشرکین عن شفاعتہم یعنی معبودان باطل کو کفار کے حساب کے وقت حاضر کیا جائے گا۔ ان کی بےبسی کو ظاہر کرنے کے لئے اور ان کی شفاعت کے بارہ میں مشرکین کی مایوسی کے اظہار کے لئے۔ (4) وہم لہم جند محضرون۔ وائو حالیہ ہے۔ ہم (الھۃ) کی طرف راجع ہے اور لہم مشرکین کی طرف راجع ہے۔ ای الاصنام جند للعابدین اکدھا بانہم لا یستطیعون نصرہم حال ما یکونون جند لہم ومحضرون لنصرتہم “ اصنام (بت) اپنے بوجنے والوں کی فوج (ہیں) اور اس کی تاکید یہ کہ وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے۔ خواہ وہ ایک پوری فوج ہوں اور ان کی مدد کے لئے آحاضر ہوں۔ (رازی) علاوہ ازیں اور بھی متعدد اقوال ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی قیامت کے دن جب یہ مشرک اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لئے آئیں گے تو ان کے غم واندوہ میں اضافہ کرنے کے لئے ان کی فوج ( جتھے) میں ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” ھم “ کی ضمیر جھوٹے معبودوں ” لھم “ کی ضمیر مشرکوں کے لئے قرار دی جائے اور اگر ان ضمیروں کو اس کے برعکس مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ” یہ مشرک اپنے معبودوں کے لئے حاضر پاش لشکر بنے ہوئے ہیں “۔ یعنی ان کی جھوٹی خدائی اپنے بل بوتے پر قائم نہیں ہے بلکہ سراسر ان مشرکین کی خدمت گزاری نذرانوں اور گھڑ کی پھسلائی ہوئی کرامتوں کے سہارے قائم ہے گویا وہ ان کی مدد تو کیا کریں گے خود ان کی مدد کے محتاج ہیں۔ ( ابن کثیر وغیرہ) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وھم لھم جند محضرون (36: 75) ” وہ اپنے الہوں کے لیے حاضر باش فوجدار تھے “۔ یہ اب کی سوچ اور فکر کی انتہائی کمزوری تھی۔ آج بھی لوگوں کی اکثریت اسی سوچ میں مبتلا ہے۔ اور صرف شکل و صورت کے اعتبار سے ہی اختلاف ہے۔ اصل سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آج جو لوگ بڑے بڑے سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کا الہہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ازمنۃ سابقہ کے بتوں کے پجاریوں سے کہیں دور نہیں ہیں۔ دراصل یہ لوگ ان بتوں کے فوجدار ہیں۔ یہ لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کو پوجتے بھی ہیں۔ اور ان کی حمایت و مدافعت بھی کرتے ہیں۔ بت پرستی بہرحال بت پرستی ہے۔ اس کی شکل و صورت مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ہر دور میں موجود ہوتی ہے۔ اور جب بھی عقیدہ توحید میں اضطراب پیدا ہوتا ہے بت پرستی کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ شرک اور جاہلیت لے لیتی ہے۔ انسانوں کی فلاح اور نجات صرف توحید خالص میں ہے جس کے اندر صرف اللہ ہی کو الٰہ سمجھا جائے۔ صرف اس کی بندگی کی جائے۔ اور صرف اسی پر بھروسہ کیا جائے اور اطاعت اور تعظیم بھی اسی کی کی جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(75) یہ مفروضہ معبود ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتے اور یہ مشرک ان معبودان باطلہ کی ایک فوج بن کر حاضر کئے جائیں گے۔ آیت کا مطلب کئی طرح بیان کیا گیا ہے۔ قیامت میں یہ مشرک ان معبودوں کے ہمراہ گرفتار کر کے لائے جائیں گے یا یہ کہ وہ بت ان مشرکوں کا لشکر ہوں گے جو قیامت کے دن گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے یا یہ کہ قیامت میں وہ معبودان باطلہ ان مشرکوں کے حریف اور مقابل ہوں گے جو بجائے مدد کرنے کے ان کی مخالفت کرتے ہوں گے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کی حالت بتائی گئی ہو کہ مشرک ان بتوں کے لشکر ہیں یعنی ان کے مددگار اور خادم ہیں جوان کی مکھیاں اڑاتے رہتے ہیں اور ان کو جھاڑتے اور صاف کرتے رہتے ہیں اور اس خدمت کے لئے ان کے پاس حاضر ہوتے رہتے ہیں اور جو معبود خود ہی مدد کے محتاج ہیں وہ ان کی کیا مدد کرسکتے ہیں۔ (واللہ اعلم) اور اگر قیامت کی حاضری ہے تب تو مذکورہ بالا اقوال سے بات سمجھ میں آگئی ہوگی۔ آگے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بطور تسلی فرماتے ہیں۔