Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 117

سورة الصافات

وَ اٰتَیۡنٰہُمَا الۡکِتٰبَ الۡمُسۡتَبِیۡنَ ﴿۱۱۷﴾ۚ

And We gave them the explicit Scripture,

اور ہم نے انہیں ( واضح اور ) روشن کتاب دی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَهَدَيْنَاهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاٰتَيْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِيْنَ : ” اَلْمُبِیْنُ “ باب افعال سے اسم فاعل ہے، معنی ہے ” واضح “ اور ” الْمُسْتَبِيْنَ “ باب استفعال سے اسم فاعل ہے، اس میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ” نہایت واضح “ کیا گیا ہے، مراد تورات ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاٰتَيْنٰہُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِيْنَ۝ ١١٧ۚ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو البیان البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . ( ب ی ن ) البین البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٧۔ ١٢٢) اور ہم نے ان دونوں کو توریت دی جو حلال و حرام کو واضح کرنے والی ہے اور ہم نے ان کو سچے اور سیدھے راستہ پر قائم رکھا اور ہم نے ان کے بعد آنے والے لوگوں میں ان کے لیے سلام اور نیکی رہنے دی ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ بیشک یہ دونوں ہمارے سچے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٧{ وَاٰتَیْنٰہُمَا الْکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ } ” اور ہم نے ان دونوں کو ایک روشن کتاب دی۔ “ یعنی تورات جس کی تعلیمات بہت واضح تھیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:117) اتینھما ہم نے ان کو دی ہما ضمیر تثنیہ مذکر غائب کا مرجع حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) ہیں۔ الکتب المستبین۔ موصوف وصفت۔ واضح کتاب، توراۃ۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ استبانۃ (استفعال) مصدر سے۔ بین مادہ ہے۔ البین کے معنی دوچیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :۔ وجعلنا بینہما زرعا (18:32) اور ہم نے ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی۔ محاورہ ہے بان کذا۔ کسی چیز کا الگ ہوجانا۔ اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہے۔ اس کا ظاہر ہوجانا۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اس آیت میں ظہور کے معنی میں آیا ہے۔ بان یبین (باب ضرب) بین یبین (باب تفعیل) تبین یتبین (باب تفعل) استبان یستبین (باب استفعال) سے بمعنی واضح ہونا۔ ظاہر ہونا ہے۔ مستبین۔ ظاہر کرنے والا۔ واضح کرنے والا۔ الکتب المستبین (احکام الٰہی کو ) واضح کردینے والی کتاب ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وکذلک نفصل الایت ولتستبین سبیل المجرمین (6:55) اور اس طرح ہم کھول کو بیان کرتے رہتے ہیں نشانیون کو تاکہ مجرموں کا طریقہ واضح ہو کر رہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی توراۃ جس میں واضح احکام موجود تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(117) اور ہم نے ان دونوں بھائیوں کو ایک واضح کتاب عطا کی یعنی توریت۔