Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 15

سورة الصافات

وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۵﴾ۚ ۖ

And say, "This is not but obvious magic.

اور کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل کھلم کھلا جادو ہی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And they say: "This is nothing but evident magic!" means, `this that you have brought is nothing but plain magic.' أَيِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَيِنَّا لَمَبْعُوثُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

15۔ 1 یعنی یہ ان کا شیوہ ہے کہ نصیحت قبول نہیں کرتے اور کوئی واضح دلیل یا معجزہ پیش کیا جائے تو مذاق کرتے اور انہیں جادو باور کراتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] بلکہ عجیب باتیں تو یہ لوگ بناتے ہیں جو اللہ کی ان آیات کو کسی طلسماتی دنیا کی باتیں سمجھتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ جی اٹھیں گے۔ پھر ہم سب کے سب اللہ کی عدالت میں پیش ہوں گے پھر لوگوں کے اعمال کے فیصلے ہوں گے۔ پھر ایک طرف جہنم ہوگی جس کے یہ اور یہ اوصاف ہونگے۔ اور ایک طرف جنت ہوگی جس کے یہ اور یہ اوصاف ہوں گے۔ ایسی باتیں کسی خیالی دنیا کے متعلق تو کی جاسکتی ہیں۔ بھلا ایک بھلا چنگا اور درست عقل والا آدمی ایسی باتیں کیسے کہہ سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس پر کسی نے جادو کردیا ہے جو یہ یک لخت ایسی تصوراتی اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ: یعنی ہر معجزے کو جادو قرار دے کر ایمان لانے سے انکار کردیتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The proof of the miracles of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) The word: آيَةً (&ayt tan) in verse وَإِذَا رَ‌أَوْا آيَةً (And when they see a sign) literally means &sign& and at this place it means &miracle.& Hence, this verse proves that Allah Taala had given to the Holy Prophet t some other miracles as well in addition to that of the noble Qur&an - which refutes those who take the miracles of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as effects of physical causes, and thereby claim that no miracle, other than that of the Qur&an, was shown at the blessed hands of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . In this verse (14), Allah Ta’ ala has clearly said: وَإِذَا رَ‌أَوْا آيَةً يَسْتَسْخِرُ‌ونَ & (And when they see a sign, they make fun of it). Some people who deny miracles say that, at this place, the word: آيَہ (&ayat) does not mean مُعجِزَۃ (&mujizah) or miracle, instead, it means rational arguments. But, this approach is patently wrong in view of what is said in the next verse that follows immediately: وَقَالُوا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ‌ مُّبِينٌ (and they say, |"this is nothing but an open magic - 37:15). It is obvious that declaring an evidence and argument to be open magic does not make any sense. They could have said something like this only when they had seen a miracle. Some deniers of miracles also say that the word: آيَۃ (&ayat) means ayat or verses of the Qur&an, as it is these verses that the disbelievers declare as magic. But, the word: رَ‌أَوْا (raaw: they see) of the noble Qur&an is flatly contradicting this assertion. The verses of the Qur&an were not seen. Instead, they were heard. Hence, wherever Qur&anic verses have been mentioned in the noble Qur&an, the words used there are those of hearing, not of seeing. And place after place in the Qur&an, the word: v i (ayat) has appeared in the sense of mu jizah or miracle. For instance, while reporting the demand of the Pharaoh from Sayyidna Musa 3411 it was said: إِن كُنتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ If you have come with a sign bring it out, if you are one of the truthful (7:106). In response, Sayyidna Musa (علیہ السلام) had shown the miracle of his staff turning into a serpent. As for the verses of the Qur&an where it has been mentioned that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not accede to their demand for a miracle, the fact is that miracles had been repeatedly shown thereby, but they used to ask for an ever-new miracle of their choice almost every day. It was in response to such demands for miracles that they were turned down. It was done for the reason that a prophet of Allah shows miracles at the will and command of Allah Ta’ ala. If anyone still refuses to accept the true message conveyed by him, then, coming up with a new miracle everyday is counter to the dignity of the prophet, as well as counter to the will of Allah Ta’ ala. In addition to that, it has been the customary practice of Allah Ta’ ala that, once some people were granted the miracle they had asked for - and they still failed to believe - then, they were destroyed through a mass punishment. But, in view of the intended survival of the community of the Holy Prophet and with the objective of keeping it safe from any mass punishment, no such miracle on demand was shown before it.

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات کا ثبوت : (آیت) واذاراو ایة الخ میں ” آیة “ کے لغوی معنی نشانی کے ہیں، اور اس سے یہاں مراد معجزہ ہے۔ لہٰذا یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علاوہ بھی کچھ معجزات عطا فرمائے تھے، اور اس سے ان ملحدین کی تردید ہوجاتی ہے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات کو حسی اسباب کے تابع قرار دے کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ کے دست مبارک پر قرآن کریم کے سوا کوئی معجزہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا ہے : واذا راو آیة یستسخرون (جب یہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو اس کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں) بعض منکرین معجزات کہتے ہیں کہ یہاں ” آیة “ سے مراد معجزہ نہیں بلکہ عقلی دلائل ہیں۔ لیکن یہ بات اس لئے غلط ہے کہ اگلی آیت میں ہے (آیت) وقالوا ان ھذا الا سحر مبین، ” یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے “۔ ظاہر ہے کہ کسی دلیل کو کھلا جادو قرار دینے کا کوئی تک نہیں ہے، یہ بات وہ معجزہ دیکھ کر ہی کہہ سکتے ہیں۔ بعض منکرین معجزات یہ بھی کہتے ہیں کہ ” آیة “ سے مراد قرآن کریم کی آیات ہیں کہ یہ لوگ انہیں جادو قرار دیتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کا لفظ ” راوا “ (دیکھتے ہیں) اس کی صاف تردید کر رہا ہے۔ آیات قرآنی کو دیکھا نہیں، سنا جاتا تھا۔ چناچہ قرآن کریم میں جہاں کہیں آیات قرآنی کا ذکر ہے وہاں اس کے ساتھ سننے کے الفاظ آئے ہیں دیکھنے کے نہیں، اور قرآن کریم میں جگہ جگہ ” آیة “ کا لفظ معجزہ کے معنی میں آیا ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرعون کا مطالبہ نقل کرتے ہوئے ارشاد ہے : ” ان کنت جئت بایة فات بھا ان کنت من الصادقین “ ” اگر تم کوئی معجزہ لے کر آئے ہو تو لاؤ، اگر سچے ہو “ اسی کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی کو سانپ بنانے کا معجزہ دکھلایا تھا۔ رہیں قرآن کریم کی وہ آیات جن میں مذکور ہے کہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معجزہ دکھانے کے مطالبہ کو نہیں مانا۔ سو درحقیقت وہاں بار بار معجزات دکھائے جا چکے تھے لیکن وہ ہر روز اپنی مرضی کا ایک نیا معجزہ طلب کرتے تھے، اس کے جواب میں معجزہ دکھانے سے انکار کیا گیا۔ اس لئے کہ اللہ کا نبی اللہ کے حکم سے معجزات دکھاتا ہے، اگر کوئی پھر بھی اس کی بات نہ مانے تو ہر روز ایک نیا معجزہ ظاہر کرنا نبی کے وقار کے بھی خلاف ہے، اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بھی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا دستور یہ رہا ہے کہ جب کسی قوم کو اس کا مطلوبہ معجزہ عطا کردیا گیا اور اس کے بعد بھی وہ ایمان نہیں لائی، تو عذاب عام کے ذریعہ اس کو ہلاک کیا گیا امت محمدیہ کو چونکہ باقی رکھنا اور عذاب عام سے بچانا پیش نظر تھا اس لئے اسے مطلوبہ معجزہ نہیں دکھایا گیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ۝ ١٥ۚۖ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ سحر والسِّحْرُ يقال علی معان : الأوّل : الخداع وتخييلات لا حقیقة لها، نحو ما يفعله المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعله لخفّة يد، وما يفعله النمّام بقول مزخرف عائق للأسماع، وعلی ذلک قوله تعالی: سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] والثاني : استجلاب معاونة الشّيطان بضرب من التّقرّب إليه، کقوله تعالی: هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّياطِينُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الشعراء/ 221- 222] ، والثالث : ما يذهب إليه الأغتام «1» ، وهو اسم لفعل يزعمون أنه من قوّته يغيّر الصّور والطّبائع، فيجعل الإنسان حمارا، ولا حقیقة لذلک عند المحصّلين . وقد تصوّر من السّحر تارة حسنه، فقیل : «إنّ من البیان لسحرا» «2» ، وتارة دقّة فعله حتی قالت الأطباء : الطّبيعية ساحرة، وسمّوا الغذاء سِحْراً من حيث إنه يدقّ ويلطف تأثيره، قال تعالی: بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ [ الحجر/ 15] ، ( س ح ر) السحر اور سحر کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے اول دھوکا اور بےحقیقت تخیلات پر بولاجاتا ہے جیسا کہ شعبدہ باز اپنے ہاتھ کی صفائی سے نظرون کو حقیقت سے پھیر دیتا ہے یانمام ملمع سازی کی باتین کرکے کانو کو صحیح بات سننے سے روک دیتا ہے چناچہ آیات :۔ سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] تو انہوں نے جادو کے زور سے لوگوں کی نظر بندی کردی اور ان سب کو دہشت میں ڈال دیا ۔ دوم شیطان سے کسی طرح کا تقرب حاصل کرکے اس سے مدد چاہنا جیسا کہ قرآن میں ہے : هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّياطِينُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الشعراء/ 221- 222] ( کہ ) کیا تمہیں بتاؤں گس پر شیطان اترا کرتے ہیں ( ہاں تو وہ اترا کرتے ہیں ہر جھوٹے بدکردار پر ۔ اور اس کے تیسرے معنی وہ ہیں جو عوام مراد لیتے ہیں یعنی سحر وہ علم ہے جس کی قوت سے صور اور طبائع کو بدلا جاسکتا ہے ( مثلا ) انسان کو گدھا بنا دیا جاتا ہے ۔ لیکن حقیقت شناس علماء کے نزدیک ایسے علم کی کچھ حقیقت نہیں ہے ۔ پھر کسی چیز کو سحر کہنے سے کبھی اس شے کی تعریف مقصود ہوتی ہے جیسے کہا گیا ہے (174) ان من البیان لسحرا ( کہ بعض بیان جادو اثر ہوتا ہے ) اور کبھی اس کے عمل کی لطافت مراد ہوتی ہے چناچہ اطباء طبیعت کو ، ، ساحرۃ کہتے ہیں اور غذا کو سحر سے موسوم کرتے ہیں کیونکہ اس کی تاثیر نہایت ہی لطیف ادرباریک ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ [ الحجر/ 15]( یا ) یہ تو نہیں کہ ہم پر کسی نے جادو کردیا ہے ۔ یعنی سحر کے ذریعہ ہمیں اس کی معرفت سے پھیر دیا گیا ہے ۔ مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥{ وَقَالُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ” اور کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ نہیں مگر ایک کھلا جادو۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 That is, "This person is talking of the world of magic in which the dead will rise, and will be produced before a court and sent to Heaven and Hell" or, it may also mean: "This person is talking like a madman. What he talks is a clear proof that somebody has worked magic on him; otherwise a sensible person could not talk such things.

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :10 یعنی عالم طلسمات کی باتیں ہیں ۔ کوئی جادو کی دنیا ہے جس کا یہ شخص ذکر کر رہا ہے ، جس میں مردے اٹھیں گے ، عدالت ہو گی ، جنت بسائی جائے گی اور دوزخ کے عذاب ہوں گے ۔ یا پھر یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ شخص دل چلوں کی سی باتیں کر رہا ہے ، اس کی یہ باتیں ہی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے جس کی وجہ سے بھلا چنگا آدمی یہ باتیں کرنے لگا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:15) ان ھذا۔ میں ان نافیہ ہے ھذا ما یرونہ جو وہ دیکھ رہے ہیں (یعنی معجزہ) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وقالوا ان ھذا۔۔۔۔ ابآؤنا الاولون (37: 15 – 17) ” اور وہ کہتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے۔ بھلا کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مرچکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اس وقت ہم پھر زندہ کرکے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباواجداد بھی اٹھائے جائیں گے “۔ اپنے ماحول میں اللہ کی قدرت کے آثار کے دیکھنے سے یہ لوگ غافل ہیں ، خود اپنی ذات کے اندر اللہ کی قدرت کے آثار یہ دیکھ نہیں پاتے ۔ زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے اندر جو آثار پائے جاتے ہیں ، ان سے بھی یہ غافل ہیں۔ ستاروں ، سیاروں اور شہاب ثاقب پر بھی غور نہیں کرتے۔ ملائکہ ، شیاطین کی تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ خود اپنی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کسی طرح ایک لیس دار گارے سے ان کو بنایا گیا ۔ یہ سب آ ثار قدرت ان کی نظروں سے اوجھل ہیں اور یہ تعجب کرتے ہیں اس بات پر کہ جب وہ مرمٹ جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو انہیں دوبارہ کس طرح اٹھایا جائے گا اور پھر اگلے دور کے آباء کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ جن کی ہڈیاں بھی نہیں۔ حالانکہ اس طرح دوبارہ اٹھائے جانے میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے نہ یہ بعید از امکان ہے۔ صرف معمولی غوروفکر کی ضرورت ہے اور انفس و آفاق کے مذکورہ مشاہدات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَقَالُوْا اِِنْ ھٰذَا اِِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ) (اور کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم نے دیکھا یہ تو کھلا ہوا جادو ہے) بس جب دلائل عقلی میں بھی غورو فکر نہیں کرتے اور معجزات کو بھی جادو بتا دیتے ہیں تو ان سے قبول حق کی کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

8:۔ وقالوا الخ :۔ یہ شکوی ہے اور ان معاندین کے استہزاء کی تفسیر ہے وہ معجزات کو جادو قرر دیتے ہیں اور قیامت کے دن دوبارہ جی اٹھنے کا محض ظن وتخمین سے انکار کرتے ہیں۔ قل نعم الخ :۔ یہ جواب شکوی ہے مع تخویف اخروی۔ ہاں، ہاں ! تم ضرور دوبارہ زندہ کر کے خدا کے سامنے ذلت ورسوائی کے ساتھ پیش کیے جاؤ گے۔ فانماھی زجرۃ واحدۃ، الخ، انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا کونسا مشکل ہوگا۔ بس ایک ہولناک آواز ہوگی اور سب لوگ زندہ ہو کر کھڑے ہوں گے اور قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ گے۔ زجرۃ واحدۃ سے نفخہ ثانیہ مراد ہے والمراد بھا النفخۃ الثانیۃ فی الصور (روح ج 23 ص 79) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(15) اورکہتے ہیں کچھ نہیں یہ تو کھلا جادو ہے۔ یعنی یہ نشانی اور معجزہ نہیں بلکہ صریح جادو ہے۔