Commentary When the leading elders among disbelievers who had misled their common adherents appear before their followers on the plains of resurrection, they would, rather than help each other, start arguing among themselves. The present verses carry a sampling of the same mutual argumentation between the contesting parties as well as the sad end they will have to face. Two things are noteworthy here: 1. The word: يَمِينِ (yamin) in:إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ (You were the ones who used to come to [ mislead ] us forcefully.- 37:28) may have several meanings. One possible meaning of the expression: عَنِ الْيَمِينِ (&ani&l-yamin) is &powerfully& or &forcefully&. The translation given in the text above is based on this meaning, which seems to be fairly clear and cloudless. In addition to that, &yamin& is also used to mean oath. Some commentators have explained it as: &you came to us with oaths,& that is, &you made us believe on oath that our creed is correct and the teaching of the messenger of Allah is, God forbid, false.& In terms of the words of the Qur&an, both these explanations are possible and acceptable comfortably.
معارف و مسائل میدان حشر میں جمع ہوجانے کے بعد کافروں کے بڑے بڑے سردار جنہوں نے اپنے چھوٹوں کو بہکایا تھا، اپنے پیرو وں کے سامنے آئیں گے۔ تو بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کی کوئی مدد کرسکیں، آپس میں بحث و تکرار شروع کردیں گے۔ ان آیات میں اسی بحث و تکرار کا کچھ نقشہ کھینچ کر فریقین کا انجام بد بیان کیا گیا ہے۔ آیات کا مفہوم خلاصہ تفسیر سے واضح ہے، صرف چند مختصر باتیں قابل ذکر ہیں :۔ (١) انکم کنتم تاتوننا عن الیمین، میں ” یمین “ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں، ان میں سے ایک معنی قوت و طاقت بھی ہیں۔ اوپر اسی معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ” ہم پر تمہاری آمد بڑے زور کی ہوا کرتی تھی “ یعنی تم ہم پر خوب زور ڈال کر ہمیں گمراہ کیا کرتے تھے اور یہی تفسیر زیادہ صاف اور بےغبار ہے۔ اس کے علاوہ یمین کے معنی قسم کے بھی آتے ہیں اس لئے بعض حضرات نے اس کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ : ” تم ہمارے پاس قسمیں لے کر آیا کرتے تھے “ یعنی قسم کھا کھا کر یہ باور کراتے تھے کہ ہمارا مذہب درست ہے، اور رسول کی تعلیم (معاذ اللہ) باطل ہے۔ الفاظ قرآنی کے لحاظ سے یہ دو نوں تفسیریں بےتکلف ممکن ہیں۔