Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 3

سورة الصافات

فَالتّٰلِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۳﴾

And those who recite the message,

پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

By those who bring the Dhikr. they are the angels;" This was also the view of Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, Masruq, Sa`id bin Jubayr, Ikrimah, Mujahid, As-Suddi, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas. Qatadah said, "The angels form ranks in the heavens." Muslim recorded that Hudhayfah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah said: فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَثٍ جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَيِكَةِ وَجُعِلَتْ لَنَا الاَْرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا وَجُعِلَ لَنَا تُرَابُهَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاء We have been favored over the rest of mankind in three ways: our ranks have been made like the ranks of the angels; the entire earth has been made a Masjid for us; and its soil has been made a means of purification for us if we cannot find water." Muslim, Abu Dawud, An-Nasa'i and Ibn Majah recorded that Jabir bin Samurah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah said: أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَيِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ Will you not form ranks as the angels form ranks in the presence of their Lord? We said, `How do the angels form ranks in the presence of their Lord?' He said: يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْمُتَقَدِّمَةَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّف They complete the rows nearer the front and they consolidate the rows." As-Suddi and others said that the Ayah, فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا (By those who drive the clouds in a good way). means that they drive the clouds. فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا (By those who bring the Dhikr). As-Suddi said, "The angels bring the Scriptures and the Qur'an from Allah to mankind." The One True God is Allah Allah says, إِنَّ إِلَهَكُمْ لَوَاحِدٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] صفیں باندھے ہوئے فرشتے :۔ تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سورة کی ابتدائی تین آیات میں جن کی قسم اٹھائی گئی ہے ان سے مراد فرشتے ہیں اور اس بات کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو سیدنا جابر (رض) سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : && تم لوگ اس طرح صف باندھا کرو جس طرح فرشتے بارگاہ الٰہی میں صف بستہ رہتے ہیں۔ تم لوگ سب سے پہلے اگلی صف پوری کیا کرو اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو && (مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ) پہلی آیت میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو اللہ کے احکام کے منتظر اور اس کے دربار میں ہر وقت صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور یہی ان کی عبادت ہے کہ ادھر اللہ کا حکم ہو تو ادھر فوراً اسے بجا لائیں۔ دوسری آیت میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو تدبیر امور کائنات پر مامور ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ اس لئے کرتے ہیں کہ جلد سے جلد اللہ کا حکم بجا لائیں۔ ڈانٹنے ڈپٹنے سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اسی دوسری قسم کے فرشتوں میں وہ گروہ بھی شامل ہے جو مجرموں اور نافرمانوں پر لعنت اور پھٹکار کرتے ہیں۔ اور انسانوں پر جو حوادث یا عذاب آتے ہیں انہی کے واسطہ سے آتے ہیں۔ اور تیسرے گروہ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو خود بھی اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں اور انسان کی روحانی غذا یا ہدایت کا واسطہ بھی بنتے ہیں۔ پیغمبروں پر اللہ کا حکم لاتے ہیں اور نیک لوگوں کے دلوں میں القاء والہام کرتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَالتّٰلِيٰتِ ذِكْرًا : اس سے مراد بھی فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے انبیاء پر ذکر نازل کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں نیکی کا خیال ڈالتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا۔ عُذْرًا اَوْ نُذْرًا) [ المرسلات : ٥، ٦ ] ” پھر جو (دلوں میں) یاد (الٰہی) ڈالنے والے ہیں۔ عذر کے لیے یا ڈرانے کے لیے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

3. The third attribute is: فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرً‌ا (fattaliati dhikran) that is, these angels are those who recite the &dhikr&. The core sense of &dhikr& is &word of good counsel& as well as &the remembrance of Allah.& In the first instance, it would mean that these angels are those who recite everything Allah Ta&ala has revealed as word of good counsel through Scriptures. And this recitation could be as a means of earning barakah and also as an act of |"ibadah&. Then, it is also possible that it means the angels who bring wahy (revelation) to the prophets, since they recite these Scriptures carrying good counsel before the prophets (علیہم السلام) and thus they convey the message of Allah to them. And in the second instance, if &dhikr& were to be taken to mean the remembrance of Allah, then, it would mean that they keep busy reciting those words, words that prove their commitment to the glory and sanctity of Allah. At this place, by mentioning these three attributes of angels, the noble Qur&an has put together all essential qualities of ideal servitude. To sum up: (1) Stand in perfect linear formation for |"ibadah&, (2) preventing rebellious forces from disobedience to Allah and (3) to recite the good counsel and commandments of Allah in person as well as to communicate to others. It is obvious that no act of servitude can remain devoid of these three departments. Hence, the sense of all four verse (37:1-4) turns out to be: &By the angels who imbibe in them all ideal attributes of servitude, your true Lord is but One.&

تیسری صفت فالتلیت ذکراً ہے۔ یعنی یہ فرشتے ” ذکر “ کی تلاوت کرنیوالے ہیں ” ذکر “ کا مفہوم ” نصیحت کی بات “ بھی ہے اور ” یاد خدا “ بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کے ذریعہ جو نصیحت کی باتیں نازل کی ہیں یہ ان کی تلاوت کرنے والے ہیں۔ اور یہ تلاوت حصول برکت اور عبادت کے طور پر بھی ہو سکتی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے وحی لانے والے فرشتے مراد ہوں کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے ان کتب نصیحت کی تلاوت کر کے انہیں اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اور دوسری صورت میں جبکہ ” ذکر “ سے مراد یاد خدا لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہر دم ان کلمات کی تلاوت میں مصروف رہتے ہیں، جو اللہ کی تسبیح و تقدیس پر دلالت کرتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَالتّٰلِيٰتِ ذِكْرًا۝ ٣ۙ تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت کسی کتاب کی قراءت ( پڑھنے ) ۔ اور اس کے معانی سمجھنے کے لئے غور وفکر کرنے کی صورت میں ہوتی ہے اس معنی کے لئے اس کا مصدر تلاوۃ آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] اور چاند کی قسم جب وہ سورج کا اتباع کرتا ہے ۔ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣{ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا } ” پھر قسم ہے ان کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی۔ “ یعنی اللہ کا جو کلام انبیاء و رسل (علیہ السلام) پر نازل ہوتا ہے اسے فرشتے ہی لے کر آتے ہیں ۔ - ۔ - اب اگلی آیت میں ان قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر ہوا ہے۔ یعنی یہ تمام فرشتے اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 The majority of the commentators are agreed that All these three groups imply the groups of the angels, and the same explanation of it has been reported from 'Abdullah bin Mas'ud, Ibn `Abbas, Qatadah, Masruq Said bin Jubair, 'Ikrimah, Mujahid, Suddi, Ibn Zaid and Rabi' bin Anas. Some commentators have given other commentaries also, but this commentary is more in keeping with the context. The words "range themselves in ranks" refer to the fact that all the angels who arc administering the affairs of the universe, are the humble servants of Allah, and are ever ready w carry out any scrvice and implement any command of His. This theme -has been further repeated in verse 165 below, where the angels say with regard to themselves: "We are the ranged servants (of Allah).' As for "scolding and cursing", some commentators think that it refers to those angels who drive the clouds and arrange the rainfall. Although this meaning is not incorrect either, the meaning which is more relevant to the following context is that among these angels there is also a group of those, who scold and curse the disobedient people and the culprits, and this scolding and cursing is not merely verbal but it rains on human beings in the form of natural disasters and calamities. "To recite admonition" implies that among these angels there are also those, who perform the service of admonition in order to draw the people's attention .to the Truth. This they do by bringing about natural calamities from which the needful take heed, and by bringing down the teachings to the Prophets, and in the form of revelations with which the pious men are blessed through them.

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :1 مفسرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ان تینوں گروہوں سے مراد فرشتوں کے گروہ ہیں ۔ اور یہی تفسیر حضرات عبداللہ بن مسعود ، ابن عباس ، قَتَادہ ، مسروق ، سعید بن جُبیر ، عکرمہ ، مجاہد ، سدی ، ابن زید اور ربیع بن انس ( رضی اللہ عنہم ) سے منقول ہے ۔ بعض مفسرین نے اس کی دوسری تفسیریں بھی کی ہیں ، مگر موقع و محل سے یہی تفسیر زیادہ مناسبت رکھتی نظر آتی ہے ۔ اس میں قطار در قطار صف باندھنے کا اشارہ اس طرف ہے کہ تمام فرشتے جو نظام کائنات کی تدبیر کر رہے ہیں ، اللہ کے بندے اور غلام ہیں ، اس کی اطاعت و بندگی میں صف بستہ ہیں اور اس کے فرامین کی تعمیل کے لیے ہر وقت مستعد ہیں ۔ اس مضمون کا اعادہ آگے چل کر پھر آیت 165 میں کیا گیا ہے جس میں فرشتے خود اپنے متعلق کہتے ہیں وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُوْنَ ۔ ڈانٹنے اور پھٹکارنے سے مراد بعض مفسرین کی رائے میں یہ ہے کہ کچھ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ہانکتے اور بارش کا انتظام کرتے ہیں ۔ اگرچہ یہ مفہوم بھی غلط نہیں ہے ، لیکن آگے کے مضمون سے جو مفہوم زیادہ مناسبت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ انہی فرشتوں میں سے ایک گروہ وہ بھی ہے جو نافرمانوں اور مجرموں کو پھٹکارتا ہے اور اس کی یہ پھٹکار صرف لفظی ہی نہیں ہوتی بلکہ انسانوں پر وہ حوادث طبیعی اور آفات تاریخی کی شکل میں برستی ہے ۔ کلام نصیحت سنانے سے مراد یہ ہے کہ انہی فرشتوں میں وہ بھی ہیں جو امر حق کی طرف توجہ دلانے کے لیے تذکیر کی خدمت انجام دیتے ہیں ، حوادث زمانہ کی شکل میں بھی جن سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے ہیں ، اور ان تعلیمات کی صورت میں بھی جو ان کے ذریعہ سے انبیاء پر نازل ہوتی ہیں ، اور ان الہامات کی صورت میں بھی جو ان کے واسطے سے نیک انسانوں پر ہوتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: اس سے مراد قرآن کریم کی تلاوت بھی ہوسکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغولیت بھی، بہرحال ! یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں، اور ان میں بندگی کی تمام صورتیں جمع ہیں، یعنی صف باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، طاغوتی طاقتوں پر روک ٹوک رکھنا، اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت اور ذکر کی مشغول رہنا۔ ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور اس کا نہ کوئی شریک ہے، اور نہ اسے اولاد کی حاجت ہے۔ فرشتوں کے ان اوصاف کی قسم کھا کر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر فرشتوں کے ان حالات پر غور کرو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے ان کا رشتہ باپ بیٹی کا نہیں، بلکہ عابد اور معبود کا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:3) فالتلیت ذکرا۔ ف تعقیب کا ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث تلاوۃ سے (باب نصر) مصدر۔ ذکر سے مراد ذکر اللہ ہے۔ یعنی ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والیاں ذکرا منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔ اور تنکیر تفخیم کے لئے ہے۔ فائدہ (1): ۔ آیات 2: و 3: میں ف تعقیب وجود کے لئے ہے۔ یعنی پہلے صف بستہ ہوتے ہیں۔ پھر زجر کرتے ہیں۔ پھر تلاوت کرتے ہیں۔ صفت بندی بجائے خود صفت کمالیہ ہے ۔ پھر شر سے باز داشت کرنی اور خیر کی طرف چلانا صفت اول کی تکمیل ہے ! اور تلاوت ذکر فیض رسانی کا درجہ رکھتی ہے۔ یا عطف صرف ترتیب و ترقی کے لئے ہے جیسے آیت ثم کان من الذین امنوا وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمۃ (90:17) میں عطف صرف ترتیب و ترقی کے لئے ہے (تفسیر مظہری) ۔ فائدہ : (2) تینوں جملوں (آیات 1 ۔ 2 ۔ 3) میں حرف عطف کا لانا ذوات یا صفات کے اختلاف پر دلالت کرتا ہے (معطوف معطوف علیہ میں تغایر ضروری ہے اس لئے مذکورہ فقروں میں یا تو ذوات کا اختلاف ہے یا صفات کا۔ صف بستہ ہونا اور زجر کرنا اور تلاوت ذکر کرنا۔ تینوں صفات جدا جدا ہیں) ( ایضا) ۔ فائدہ : (3) آیات (1 ۔ 2 ۔ 3 ۔ ) میں الصفت۔ الزجرات۔ التلیت کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) ان سے مراد ملائکہ ہیں جو (مقام عبدیت میں نمازیوں کی صفوں کی طرح ) صفت بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ یا پر پھیلائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں اور جو تکوینی امور کی تکمیل کے لئے مقرر ہیں اور ہوا۔ بادل، بارش، مہر وماہ، کواکب وسیارے وغیرہ پر متعین ہیں اور حکم خداوندی کے مطابق ان کو چلانے کے لئے ان کو روکنے اور چلانے پر، ان پر زجرو توبیخ سے حکم ماننے پر مجبور کرنے کے لئے مقرر ہیں۔ اور وہ فرشتے جو ذکر اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور ان آیات کو تلاوت کرتے رہتے ہیں جو آسمانی کتب میں انبیا پر نازل کی گئی ہیں۔ الصفت۔ الزجرات۔ التلیت تینوں اسم فاعل جمع مؤنث کے صیغے ہیں۔ اور یہ الملئکۃ کی رعایت لفظی کی وجہ سے بصیغہ تانیث آئے ہیں ورنہ ملائکہ تذکیرو تانیث سے مبرا ہیں۔ (2) الصفت، الزجرات، التلیت۔ سے مراد نفوس علما ہیں کہ نمازوں میں صفت بستہ ہوتے ہیں دلائل کی روشنی میں کفرو معاصی سے روکتے ہیں اور آیات رب کی تلاوت کرتے ہیں۔ (3) ان سے مراد جہاد فی سبیل اللہ میں قائدین کے گروہ ہیں جو میدان رزم میں صفیں باندھ کر نکلتے ہیں، جو آگے بڑھ کر کفار پر حملہ کرنے کی غرض سے اپنے گھوڑوں اور دشمنوں کو زجر کرتے ہیں اور میدان جنگ میں بھی اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور یاد خدا سے غافل نہیں ہوتے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9” صافات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو آسمان میں ادائے عبادت یا فضا میں اللہ تعالیٰ کے نزول حکم کے انتظار میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ فرشتوں کی صف بندی شرف و فضلیت میں درجات کے تفاوت کے اعتبار سے ہے۔ یعنی ہر ایک کے لئے جود رجہ مقرر ہے اسی پر قائم رہتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔ ( دیکھئے سورة نباء : 38 و سورة فجر : 22) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں فر شتوں کی سی صف بندی کا حکم دیا ہے یعنی پہلی صف پوری ہونے کے بعد دوسری صف باندھی جائے اور صف میں مل کر کھڑا ہوجائے اور حدیث میں ہے کہ نماز میں فرشتوں کی طرف صف بندی کرنا اس امت کا خاصہ ہے۔ (وجعلت صفوفنا کصفوف الملائکہ) (مسلم، ابو دائود) اور زجر اسے مرادیہ ہے کہ وہ بادل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں یا لوگوں کو گناہوں سے بار رکھتے اور شیاطین کو استراق سمع سے ڈانٹتے ہیں۔ حاصل یہ کہ ” زاجوات “ سے مراد بھی فرشتے ہیں مگر بعض نے وہ نمازی مراد لئے ہیں جو میدان جنگ میں گھوڑوں کو ڈانٹ کر کافروں پر حملہ کرتے ہیں اور ذکرا سے مراد اکثر مفسرین (رح) نے قرآن لیا ہے اور تلاوت کرنے والوں سے فرشتے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : فرشتے کھڑے ہوتے ہی قطار ہو کر سننے کو اللہ کا حکم پھر جھڑکتے ہیں شیطانوں کو جو سننے کو جا لگتے ہیں پھر جب اتر چکا اس کو پڑھتے ہیں ایک دوسرے کو بتانے کو۔ ( موضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(فَالتَّالِیَاتِ ذِکْرًا) (پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والے ہیں) اس کا ایک مطلب مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ ان فرشتوں کی قسم جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کریم اور دوسری کتابیں لاتے رہے اور جس نبی کے پاس لائے اس پر پڑھتے رہے۔ اور ایک مطلب یہ بتایا ہے کہ ان فرشتوں کی قسم کھائی ہے جو ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہیں اور تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) پھران فرشتوں کی قسم جو ذکر الٰہی اور اس کی تسبیح و تقدیس کی تلاوت کرتے ہیں یعنی یہ کام بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی پاکی اور اس کی تقدیس بھی کرتے ہیں یہی اوصاف ملائکہ کے اس سورت میں آجائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فرشتے کھڑے ہوتے ہیں قطار سننے کو حکم اللہ کا پھر جھڑکتے ہیں شیطانوں کو جو سننے کو جالگتے ہیں پھر جب اترچکا اس کو پڑھتے ہیں ایک دوسرے کو بتانے کو۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس طرح صف نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے پروردگار کے حضور میں صفیں باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کس طرح صف باندھتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پہلی صف کو پورا کرتے ہیں اور سب بہت مل کر اور گتھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ مفسرین نے عام طور سے تفسیر ملائکہ سے کی ہے خواہ وہ حکم سننے کو صفیں باندھتے ہوں یا احکام الٰہی کو بجا لانے کے لئے صف بستہ رہتے ہوں لیکن بعض علماء نے فرمایا کہ یہ صفیں غازیوں کی ہوں میدان جنگ میں یا نمازیوں کی ہوں مساجد میں اور زواجرات سے مراد یا تو وہ فرشتے ہیں جو شیاطین کو ہانکتے ہوں یا قرآن کریم کی وہ آیتیں مراد ہوں جو گناہ سے ڈرانے والی ہیں یا علماء ہوں جو لوگوں کو بری باتوں سے روکتے ہیں یا غازی جو گھوڑوں کو ڈانٹتے ہیں یا وہ فرشتے جو بادلوں کو ہانکتے ہیں یا وہ فرشتے جو انسانوں کو گناہوں سے روکتے ہیں اور ان کے قلب میں گناہوں کی برائی الہام کرتے ہیں۔ ایسا ہی تالیات سے فرشتے مراد ہیں جوہر وقت ذکر میں مشغول رہتے ہیں یا غازیوں کی جماعتیں مراد ہیں جو جنگ میں ذکر الٰہی کرتی رہتی ہیں (واللہ اعلم) غرض ان قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔