Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 10

سورة ص

اَمۡ لَہُمۡ مُّلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۟ فَلۡیَرۡتَقُوۡا فِی الۡاَسۡبَابِ ﴿۱۰﴾

Or is theirs the dominion of the heavens and the earth and what is between them? Then let them ascend through [any] ways of access.

یا کیا آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہرچیز کی بادشاہت ان ہی کی ہے ، تو پھریہ رسیاں تان کر چڑھ جائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs? If so, let them ascend up with means. means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven." Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says, جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّنَ الاَْحْزَابِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کردیں جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین و آسمان کی چیزوں کے مالک ہوگئے ہیں جو یہ خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں ؟ اگر ایسی بات ہے تو انہیں چاہئے کہ تمام اسباب کو بروئے کار لا کر آپ پر وحی کا سلسلہ بند کردیں۔ اور جسے یہ رسالت کے لئے منتخب کرنا چاہتے ہیں وحی کا رخ ادھر موڑ دیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : ” لَهُمْ “ پہلے آنے سے حصر پیدا ہوگیا ہے۔ یعنی یا پھر اللہ تعالیٰ کے بجائے زمین و آسمان کی سلطنت کے مالک یہی ہیں کہ جسے جو چاہیں دیں، جو چاہیں نہ دیں ؟ تو پھر زمین پر کیوں پھرتے ہیں، آسمان کی سیڑھیوں پر چڑھیں، زمین و آسمان کی ساری سلطنت سنبھالیں اور اللہ تعالیٰ کے بجائے خود جسے چاہیں نبوت دیں جسے چاہیں نہ دیں ؟ ظاہر ہے ایسا نہیں، تو پھر ایسی بےہودہ باتیں کیوں کرتے ہیں ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ لَہُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا۝ ٠ ۣ فَلْيَرْتَقُوْا فِي الْاَسْـبَابِ۝ ١٠ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔ خواہ نافعل اس کا متولی ہو یا نہ ہو ۔ چناچہ پہلے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تو اس کو تباہ کردیتے ہیں ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] کہ اس نے تم میں پیغمبر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے رقی رَقِيتُ في الدّرج والسّلم أَرْقَى رُقِيّاً ، ارْتَقَيْتُ أيضا . قال تعالی: فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبابِ [ ص/ 10] ، وقیل : ارْقَ علی ظلعک «1» ، أي : اصعد وإن كنت ظالعا . ورَقَيْتُ من الرُّقْيَةِ. وقیل : كيف رَقْيُكَ ورُقْيَتُكَ ، فالأوّل المصدر، والثاني الاسم . قال تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ [ الإسراء/ 93] ، أي : لرقیتک، وقوله تعالی: وَقِيلَ مَنْ راقٍ [ القیامة/ 27] ، أي : من يَرْقِيهِ تنبيها أنه لا رَاقِي يَرْقِيهِ فيحميه، وذلک إشارة إلى نحو ما قال الشاعر : 197- وإذا المنيّة أنشبت أظفارها ... ألفیت کلّ تمیمة لا تنفع «2» وقال ابن عباس : معناه من يَرْقَى بروحه، أملائكة الرّحمة أم ملائكة العذاب «3» ؟ والتَّرْقُوَةُ : مقدّم الحلق في أعلی الصّدر حيث ما يَتَرَقَّى فيه النّفس كَلَّا إِذا بَلَغَتِ التَّراقِيَ [ القیامة/ 26] . ( ر ق ی ) رقی ( س ) رقیا ۔ فی السلم کے معنی سیڑھی پر چڑھنے کے ہیں اور ارتقی ( افتعال ) بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآں میں ہے :۔ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبابِ [ ص/ 10] تو ان کو چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھیں ۔ مثل مشہور ہے :۔ ارق علی ظلعک یعنی اپنی طاقت کے مطابق چلو اور طاقت سے زیادہ اپنے آپ پر بوجھ نہ ڈالو ۔ اور رقیت بمعنی رقیہ یعنی افسوس کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ محاورہ ہے ۔ ؛کیف رقیک اور قیتک کہ تمہارا افسوس کیسا ہے ۔ اس میں رقی مصدر ہے اور رقیۃ اسم اور آیت کریمہ : لَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ [ الإسراء/ 93] یعنی ہم تیرے افسوں پر یقین کرنے والے نہیں ہیں ۔ میں رقی بمعنی رقیۃ کے ہے ۔ اور آیت ؛۔ وَقِيلَ مَنْ راقٍ [ القیامة/ 27] اور کون افسوں کرے ۔ میں اسے بات پر تنبیہ ہے کہ اس وقت جھاڑ پھونک سے کوئی اس کی جان نہیں بچا سکے گا ۔ چناچہ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) (190) وإذا المنيّة أنشبت أظفارها ... ألفیت کلّ تمیمة لا تنفع کہ جب موت اپنا پنجہ گاڑ دیتی ہے ۔ تو کوئی افسوں کارگر نہیں ہوتا ۔ ابن عباس نے من راق کے معنی کئے ہیں کہ کونسے فرشتے اس کی روح لے کر اوپر جائیں یعنی ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب ۔ الترقوۃ ہنسلی کی ہڈی کو کہتے ہیں اس لحاظ سے کہ سانس پھول کر وہیں تک چڑھتی ہے اس کی جمع تراقی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : كَلَّا إِذا بَلَغَتِ التَّراقِيَ [ القیامة/ 26] سنوجی ! جب جان بدن سے نکل کر گلے تک پہنچ جائیگی ۔ سبب السَّبَبُ : الحبل الذي يصعد به النّخل، وجمعه أَسْبَابٌ ، قال : فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبابِ [ ص/ 10] ، والإشارة بالمعنی إلى نحو قوله : أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [ الطور/ 38] ، وسمّي كلّ ما يتوصّل به إلى شيء سَبَباً ، قال تعالی: وَآتَيْناهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَباً فَأَتْبَعَ سَبَباً [ الكهف/ 84- 85] ، ومعناه : أنّ اللہ تعالیٰ آتاه من کلّ شيء معرفة، وذریعة يتوصّل بها، فأتبع واحدا من تلک الأسباب، وعلی ذلک قوله تعالی: لَعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبابَ أَسْبابَ السَّماواتِ [ غافر/ 36- 37] ، أي : لعلّي أعرف الذرائع والأسباب الحادثة في السماء، فأتوصّل بها إلى معرفة ما يدعيه موسی، وسمّي العمامة والخمار والثوب الطویل سَبَباً «1» ، تشبيها بالحبل في الطّول . وکذا منهج الطریق وصف بالسّبب، کتشبيهه بالخیط مرّة، وبالثوب الممدود مرّة . والسَّبُّ : الشّتم الوجیع، قال : وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وسَبَّهُمْ لله ليس علی أنهم يَسُبُّونَهُ صریحا، ولکن يخوضون في ذكره فيذکرونه بما لا يليق به، ويتمادون في ذلک بالمجادلة، فيزدادون في ذكره بما تنزّه تعالیٰ عنه . وقول الشاعر : فما کان ذنب بني مالک ... بأن سبّ منهم غلاما فسب بأبيض ذي شطب قاطع ... يقطّ العظام ويبري العصب «2» فإنه نبّه علی ما قال الآخر : ونشتم بالأفعال لا بالتّكلّم «1» والسِّبُّ : الْمُسَابِبُ ، قال الشاعر : لا تسبّنّني فلست بسبّي ... إنّ سبّي من الرّجال الکريم «2» والسُّبَّةُ : ما يسبّ ، وكنّي بها عن الدّبر، وتسمیته بذلک کتسمیته بالسّوأة . والسَّبَّابَةُ سمّيت للإشارة بها عند السّبّ ، وتسمیتها بذلک کتسمیتها بالمسبّحة، لتحريكها بالتسبیح . ( س ب ب ) السبب اصل میں اس رسی کو کہتے ہیں جس سے درخت خرما وغیرہ پر چڑھا ( اور اس سے اترا ) جاتا ہے اس کی جمع اسباب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبابِ [ ص/ 10] تو ان کو چاہیئے کہ سیڑ ھیاں لگا کر ( آسمان پر ) چڑ ہیں اور یہ معنوی لحاظ سے آیت : ۔ أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [ الطور/ 38] یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ اس پر چڑھ کر ( آسمان سے باتیں ) سن آتے ہیں کے مضمون کی طرف اشارہ ہے پھر اسی مناسبت سے ہر اس شے کو سبب کہا جاتا ہے ۔ جو دوسری شے تک رسائی کا ذریعہ بنتی ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَآتَيْناهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَباً فَأَتْبَعَ سَبَباً [ الكهف/ 84- 85] اور اسے ہر قسم کے ذرائع بخشے سو وہ ایک راہ پر چلا ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہر چیز کی معرفت اور سامان و ذرائع عطا کئے تھے جس کے ذریعہ وہ اپنے مقصود تک پہنچ سکتا تھا ۔ چناچہ اس نے ایک ذریعہ اختیار کیا اور آیت کریمہ : ۔ لَعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبابَ أَسْبابَ السَّماواتِ [ غافر/ 36- 37] تاکہ جو آسمان تک پہنچنے کے ذرائع ہیں ہم ان تک جا پہنچیں ۔ میں بھی اسباب سے مراد ذرائع ہی ہیں یعنی تاکہ ہم ان اسباب و ذرائع کا پتہ لگائیں جو آسمان میں پائے جاتے ہیں اور ان سے موسٰی کے مزعومہ خدا کے متعلق معلومات حاصل کریں اور عمامہ دوپٹہ اور ہر لمبے کپڑے کو طول میں رسی کے ساتھ تشبیہ دے کر بھی سبب کہا جاتا ہے اسی جہت سے شاہراہ کو بھی سبب کہہ دیا جاتا ہے جیسا کہ شاہراہ کو بھی خیط ( تاگا ) اور کبھی محدود کپڑے کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے : ۔ السبب ( مصدر ن ) کے معنی مغلظات اور فحش گالی دینا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] تو جو لوگ خدا کے سوا ( دوسرے ) معبودوں کو حاجت روائی کے لئے بلایا ( یعنی ان کی پرشش کیا کرتے ہیں ) ان کو برا نہ کہو کہ یہ لوگ بھی ازراہ نادانی ناحق خدا کو برا کہہ بیٹھیں گے ۔ ان کے اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ صریح الفاظ میں اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیں گے ۔ کیونکہ اس طرح مشرک بھی نہیں کرتا بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ جوش میں آکر شان الہی میں گستاخی کریں گے اور ایسے الفاظ استعمال کریں گے جو اس کی ذات کے شایاں شان نہیں جیسا کہ عام طور پر مجادلہ کے وقت ہوتا ہے کسی شاعر نے کہا ہے ۔ 220 ۔ فما کان ذنب بني مالک ... بأن سبّ منهم غلاما فسبّ 221 ۔ بأبيض ذي شطب قاطع ... يقطّ العظام ويبري العصببنی مالک کا صرف اتنا گناہ ہے کہ ان میں سے ایک لڑکے کو بخل پر عار دلائی گئی اور اس نے عار کے جواب میں سفید دھاری دار قاطع تلوار سے اپنی موٹی اونٹنیوں کو ذبح کر ڈالا جو ہڈیوں کو کاٹ ڈالتی ہو اور قصب یعنی بانس کو تراش دیتی ہو ۔ ان اشعار میں اس مضمون کی طرف اشارہ ہے جس کو دوسرے شاعر نے یوں ادا کیا ہے کہ ونشتم بالأفعال لا بالتّكلّمکہ ہم زبان کی بجائے افعال سے گالی دیتے ہیں ۔ اور سب ( فعل ) بمعنی دشنام دہندہ کیلئے آتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ لا تسبّنّني فلست بسبّي ... إنّ سبّي من الرّجال الکريم «2»مجھے گالی نہ دو تم مجھے گالی دینے کے لائق نہیں ہو کیونکہ نہایت شریف درجہ کا آدمی ہی مجھے گالی دے سکتا ہے ۔ السبۃ ہر وہ چیز جو عار و ننگ کی موجب ہو اور کنایہ کے طور پر دبر کو بھی سبۃ کہا جاتا ہے ۔ جیسا کہ اسے سوءۃ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ السبابۃ انگشت شہادت یعنی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کیونکہ گالی دیتے وقت اس کے ساتھ اشارہ کیا جاتا ہے جیسا کہ اس انگلی کو مسبحۃ ( انگشت شہادت ) کہا جاتا ہے کیونکہ تسبیح کے وقت اشارہ کے لئے اسے اوپر اٹھایا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

کیا ان کو آسمان اور زمین اور جو مخلوقات اور چیزیں ان کے درمیان ہیں سب کا اختیار حاصل ہے تو ان کو چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان کے دروازوں سے اوپر چڑھ جائیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠ { اَمْ لَہُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَاقف } ” کیا ان کے پاس ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کی ؟ “ { فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ } ” تو چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں رسیاں تان کر ( آسمان پر) ۔ “ اگر تمہارے لیے ممکن ہے تو اپنے تمام وسائل و ذرائع بروئے کار لا کر آسمان پر چڑھ جائو اور ربّ العالمین کی رحمت کے خزانوں اور اس کے اقتدار واختیار میں تصرف کر کے دکھائو !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11 This is an answer to this saying of the disbelievers "Was he the only (fit) person among us to whom Allah's Admonition should have lien sent down?' Allah says: "it is for Us to decide whom We should choose and appoint as a Prophet and whom We should not. These people do not possess any power and authority to exercise choice in this regard. If they wish to attain such an authority they should try to reach the Divine Throne in order to obtain control over the office of sovereignty of the Universe, so that revelation should come down on him whom they regard as deserving their mercy and not on him whom We regard as fit for it. "This theme has occurred at several places in the Qur'an, because the unbelieving Quraish again and again said, `How did Muhammad (upon whom be Allah' peace) become a Prophet? Did Allah find no better man among the principal leaders of the Quraish worthy of this office?"(See Surah Bani Isra'il: . 00; Az-Zukhruf: 31-32).

سورة صٓ حاشیہ نمبر :11 یہ کفار کے اس قول کا جواب ہے کہ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کردیا گیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ نبی ہم کس کو بنائیں اور کسے نہ بنائیں ، اس کا فیصلہ کرنا ہمارا اپنا کام ہے ۔ یہ لوگ آخر کب سے اس فیصلے کے مختار ہو گئے ۔ اگر یہ اس کے مختار بننا چاہتے ہیں تو کائنات کی فرمانروائی کے منصب پر قبضہ کرنے کے لیے عرش پر پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ جسے یہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھیں اس پر وہ نازل نہ ہو ۔ یہ مضمون متعدد مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوا ہے ، کیونکہ کفار قریش بار بار کہتے تھے کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیسے نبی بن گئے ، کیا خدا کو قریش کے بڑے بڑے سرداروں میں سے کوئی اس کام کے لیے نہ ملا تھا ( ملاحظہ ہو سورہ بنی اسرائیل ، آیت 100 ۔ الزخرف ، آیات 31 ۔ 32 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: مطلب یہ ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر یہ لوگ اس طرح اعتراضات کر رہے ہیں جیسے نبوت جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک حصہ ہے، ان کے اپنے اختیار میں ہے کہ جسے یہ چاہیں اسے نبی بنایا جائے، اور جسے یہ ناپسند کریں، اسے نبوت نہ دی جائے۔ 5: یعنی اگر یہ اتنے وسیع اختیارات کے مالک ہیں تو ان میں رسیاں تان کر آسمان پر چڑھنے کی بھی طاقت ہونی چاہئے، جو ظاہر ہے کہ انہیں حاصل نہیں ہے، اس لیے آسمان و زمین کی معلومات پر انہیں کیا اختیار ہوگا جس کی بنا پر وہ یہ رائے دیں کہ فلاں کو نبی بنایا جائے اور فلاں کو نہ بنایا جائے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:10) ام لہم۔ یہاں بھی ام مثل ام مذکورہ بالا کے ہے ای بل ألہم۔ آیت 9 میں رحمت کے خزانوں کا ذکر تھا۔ جس سے مراد نبوت و رسالت کی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نعمت روحانی ہے۔ اب اس آیۃ میں رحمت رب کے ایک ادنی اجزاء یعنی عالم مادی کا ذکر ہے یعنی روحانی نعمتوں کا ان کی ملکیت میں ہونا تو کجا ان کو تو اللہ کی ادنی سی نعمت ارض و سماء کے امور پر بھی تصرف حاصل نہیں۔ فلیرتقوا فی الاسباب : یہ جملہ جواب شرط میں ہے اور شرط محذوف ہے۔ ای ان کان لہم ما ذکر من الملک فلیصعدوا فی المعارج و المناھج الذی یتوصل بھا الی السموت فلیدبروھا ولیصرفوا فیہا فانھم لاطریق لہم الیٰ تدبیرھا والتصرف فیہا۔ اگر ارض و سماء اور مابین کے امور پر ان کا کوئی عمل دخل ہے تو سیڑھیاں لگا کر آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وہاں سے ان امور کا انتظام چلائیں اور ان میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کریں۔ لیکن ایسا نہیں ہے ان امور میں تصرف و تدبر کا ان کو ہرگز کوئی اختیار نہیں ہے۔ ف جواب شرط کے لئے ہے لیرتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ ارتقاء (افتعال) سے مصدر۔ تو ان کو چڑھ جانا چاہیے۔ ترقی (تفعل) زینہ زینہ چڑھنا۔ اسباب جمع سبب کی۔ سبب اصل میں اس رسی کو کہتے ہیں جس کے ذریعے درخت پر چڑھا جاتا ہے اس مناسبت سے ہر اس شے کا نام سبب ہوا کہ جو کسی دوسری شے کے توصل کا ذریعہ ہو۔ فلیرتقوا فی الاسباب تو ان کو چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں (یہ زجر وتوبیخ کے طور پر کہا گیا ہے اس بات کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز ہیں)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1” تاکہ فرشتوں کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی لانے سے منع کردیں “۔ تاکہ جسے یہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھیں، اسے دیں اور جسے ہم سمجھتے ہیں محروم کردیں اور زمین و آسمان کا نظام اپنی مرضی کے مطابق چلائیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 10 (1) اس کا وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے کیونکہ یہ دعویٰ وہ نہیں کرسکتے ۔ اس لئے کہ خود ان کا یہ عقیدہ تھا کہ زمین اور آسمانوں کا مالک اللہ ہے اور وہ دیتا ہے اور وہی روکتا ہے۔ وہ کرم نوازیاں کرتا ہے اور وہی مناسب عطا کرتا ہے۔ اور چونکہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کا اقتدار انہیں حاصل نہیں ہے۔ اس لیے اللہ مقتدر اعلیٰ کے معالات میں ان کو دخل بھی نہ دینا چاہئے وہ تو بلاقید متصرف ہے۔ اب بطور مزاح اور لاجواب کرنے کی خاطر انہیں کہا جاتا ہے کہ ان کا جواب اثبات میں ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مقتدر اعلیٰ ہیں تو وہ اپنی قوت مقتدر کو کام میں لائیں۔ آ یت نمبر 10 (2) تاکہ زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان جو مدارج ہیں ان پر ان کا کنٹرول ظاہر ہو۔ اور وہ اللہ کے کام خود سرانجام دیں ۔ اللہ کے خزانوں کی تقسیم کریں۔ جسے چاہیں دیں اور جس سے چاہیں روک لیں۔ جب ان کے رویے کا تقاضا ہے کہ وہ منصب بنوت کی تقسیم پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ تو تھا مزاح اب کیا ہے اور کس انجام سے دوچار ہونے والے ہیں یہ لوگ ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اَمْ لَہُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا) (کیا ان کے قبضہ میں آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کی ملکیت ہے ؟ یعنی یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اجرام علویہ اور اجسام سفلیہ میں انہیں کچھ بھی دخل اور اختیار نہیں ہے پھر انہیں کیا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ملک اور ملکوت میں دخل دیں اور قادر مطلق جل مجدہ پر اعتراض کریں کہ فلاں کو کیوں نبوت دی (فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ ) ، آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان جو چیزیں ہیں اگر ان کے بارے میں کسی اختیار کا دعویٰ ہے تو سیڑھیوں کے ذریعہ اوپر چڑھ جائیں لیکن انہیں تو ذرا سا بھی اختیار نہیں پھر کیوں اعتراض کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں کیوں دخل دے رہے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ ام لہم الخ :۔ یا زمین و آسمان کی حکومت ان کے قبضہ میں ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے کاموں میں دخل دیتے ہیں تو پھر تمام ممکنہ اسباب کو بروئے کار لا کر ساری کائنات کا نظم ونسق چلائیں اور جسے چاہیں نبوت کے مقام پر فائز کر کے اس پر وحی نازل کریں یہ مشرکین کی خرافات پر تہکم و استہزاء ہے۔ نہ تو اللہ کی رحمت کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہیں۔ نہ زمین و آسمان کی حکومت ان کے قبضے میں۔ لیکن باتیں ایسی تعلی سے کرتے ہیں گویا سب کچھ ان کے اختیار میں ہے۔ وایاما کان ففی امرھم بذلک تھکم بہم لا یخفی (روح جلد 23 ص 169) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی اختیار چل سکتا ہے تو وہ آسمان پر چرھ جائیں اور وحی کو روک لیں۔ ای فلیصعدوا الی السموات ولیمنعوا الملائکۃ من انزال الوحی علی محمد (قرطبی ج 15 ص 153) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) کیا آسمان و زمین اور زمین کا اور جو چیزیں ان دونوں کے مابین ہیں ان سب کا اختیار ان سب کو حکومت و سلطنت ان کو حاصل ہے تو یہ لوگ رسیاں تان کر اور سیڑھیاں لگا کر آسمانوں میں چڑھ جائیں۔ یعنی کیا ان کو آمان و زمین اور ان دونوں کے مابین جو کچھ ہے اس سب کی بادشاہی اور حکومت حاصل ہے تو یہ آسمان پر کسی ذریعہ سے خواہ وہ رسیاں ہوں یا سیڑھیاں ہوں چڑھ جائیں اور نبوت کی تقسیم اور قضائو قدر کے معاملات پر قبضہ کرلیں اور اس میں مداخلت کریں اور ظاہر ہے کہ جب ان کو آسمان پرچڑھنا بھی ناممکن ہے تو آسمانی تصرفات میں دخل دینے کا کیا حق ہے اور اگر ان کی حکومت ہے تو یہ آسمان پر چڑھ کر خود تمام کام سنبھال لیں اور جس کو نبوت دینا چاہیں دیں۔ تدبیر خلائق اور رحمت کی تقسیم جس طرح چاہیں کریں اور جس پر چاہیں وحی اتاریں سورة زخرف میں انشاء آجائے گا اھم یقسمون رحمت ربک یعنی آپ کے پروردگار کی رحمت کو یہ بانٹیں گے یعنی رحمت تو کیا تقسیم کر گے دنیوی زندگی کا رزق بھی ہم ہی ان میں تقسیم کیا کرتے ہیں آگے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لئے ارشاد ہے۔