Allah says:
قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin."
Allah says: `Say, O Muhammad, to these idolators: I do not ask you to give me any reward from the goods of this world in return for the Message which I convey to you and the sincere advice I offer.'
...
وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
nor am I one of the Mutakallifin.
means, `and I do not add anything to that which Allah has told me. Whatever I am commanded to do, I do it, and I do not add anything or take anything away. By doing this I am seeking the Face of Allah and the Hereafter.'
Sufyan Ath-Thawri, narrated from Al-A`mash and Mansur from Abu Ad-Duha that Masruq said,
"We went to `Abdullah bin Mas`ud, may Allah be pleased with him. He said, `O people! Whoever knows a thing should say it, and whoever does not know should say, `Allah knows best."'
It is part of knowledge, when one does not know, to say "Allah knows best." For Allah said to your Prophet:
قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin."
This was reported by Al-Bukhari and Muslim.
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کر دیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا ۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں ۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں لوگوں جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہدے کہ اللہ جانے ۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں ۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے ۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گی یعنی مرتے ہی ، قیامت کے قائم ہوتے ہی ۔ موت کے وقت یقین آ جائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے ۔ واللہ اعلم بالصواب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورہ ص کی تفسیم ختم ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے ۔