Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 86

سورة ص

قُلۡ مَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَکَلِّفِیۡنَ ﴿۸۶﴾

Say, [O Muhammad], "I do not ask you for the Qur'an any payment, and I am not of the pretentious

کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin." Allah says: `Say, O Muhammad, to these idolators: I do not ask you to give me any reward from the goods of this world in return for the Message which I convey to you and the sincere advice I offer.' ... وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ nor am I one of the Mutakallifin. means, `and I do not add anything to that which Allah has told me. Whatever I am commanded to do, I do it, and I do not add anything or take anything away. By doing this I am seeking the Face of Allah and the Hereafter.' Sufyan Ath-Thawri, narrated from Al-A`mash and Mansur from Abu Ad-Duha that Masruq said, "We went to `Abdullah bin Mas`ud, may Allah be pleased with him. He said, `O people! Whoever knows a thing should say it, and whoever does not know should say, `Allah knows best."' It is part of knowledge, when one does not know, to say "Allah knows best." For Allah said to your Prophet: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin." This was reported by Al-Bukhari and Muslim. إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کر دیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا ۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں ۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں لوگوں جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہدے کہ اللہ جانے ۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں ۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے ۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گی یعنی مرتے ہی ، قیامت کے قائم ہوتے ہی ۔ موت کے وقت یقین آ جائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے ۔ واللہ اعلم بالصواب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورہ ص کی تفسیم ختم ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

86۔ 1 یعنی اس دعوت و تبلیغ سے میرا مقصد صرف امر الٰہی ہے، دنیا کمانا نہیں۔ 86۔ 2 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کردوں جو اس نے نہ کہی ہو یا میں تمہیں ایسی بات کی طرف دعوت دوں جس کا حکم اللہ نے مجھے نہ دیا ہو بلکہ کوئی کمی بیشی کئے بغیر میں اللہ کے احکام تم تک پہنچا رہا ہوں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٦] یعنی میں بالکل بےلوث ہو کر تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔ اس کا نہ تم سے کوئی صلہ مانگتا ہوں اور نہ ہی میری کوئی ذاتی غرض اس سے وابستہ ہے اور نہ میں ان لوگوں میں سے ہوں کہ اپنی بڑائی قائم کرنے کے لئے جھوٹے دعوے لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور اس بات پر شہادت میری سابقہ تمام زندگی ہے جسے تم خوب جانتے ہو۔ خ لاعلمی کا اعتراف کرلینا بھی عالم ہونے کی دلیل ہے :۔ لفظ متکلّفین کے معنی درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتے ہیں : مسروق کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کے ہاں گئے۔ انہوں نے کہا : لوگو ! جو شخص کوئی بات جانتا ہو تو اسے بیان کرے اور اگر نہ جانتا ہو تو کہہ دے کہ && اللہ ہی بہتر جانتا ہے && کیونکہ ایسا کہنا بھی کمال علم کی دلیل ہے۔ اللہ عزوجل نے اپنے نبی سے فرمایا : کہ میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا اور نہ ہی میں دل سے باتیں بنانے والوں سے ہوں && (بخاری۔ کتاب التفسیر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ : یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ میں دین کی تبلیغ پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، نہ میرا مقصود اس سے کوئی دنیوی فائدہ حاصل کرنا ہے اور نہ ہی میں تکلّف کرنے والوں سے ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے نازل نہ کیا ہو اور میں اپنے پاس سے بنا لوں، یا کسی دوسرے کی بات کو اپنی طرف منسوب کرلوں۔ انس (رض) نے فرمایا، ہم عمر (رض) کے پاس تھے تو انھوں نے فرمایا : ( نُھِیْنَا عَنِ التَّکَلُّفِ ) [ بخاري، الإعتصام بالکتاب والسنۃ، باب ما یکرہ من کثرۃ السؤال و من تکلف۔۔ : ٧٢٩٣ ] ” ہمیں تکلّف سے منع کردیا گیا ہے۔ “ ” الْمُتَكَلِّفِيْنَ “ کا مطلب عبداللہ بن مسعود (رض) کے اس قول سے بھی معلوم ہوتا ہے جو امام بخاری (رض) نے اس سورت کی تفسیر میں نقل فرمایا ہے، مسروق کہتے ہیں عبداللہ بن مسعود (رض) ہمارے پاس آئے اور انھوں نے فرمایا : ( یَا أَیُّہَا النَّاسُ ! مَنْ عَلِمَ شَیْءًا فَلْیَقُلْ بِہِ ، وَ مَنْ لَّمْ یَعْلَمْ فَلْیَقُلِ اللّٰہُ أَعْلَمُ ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ یَّقُوْلَ لِمَا لَا یَعْلَمُ اللّٰہُ أَعْلَمُ ، قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِنَبِیِّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : (قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ ) [ بخاري، التفسیر، باب، قولہ : ( وما أنا من المتکلفین ) : ٤٨٠٩ ] ” لوگو ! جو شخص کوئی چیز جانتا ہے وہ اسے بیان کرے اور جو نہیں جانتا وہ کہہ دے ” اللہ اعلم “ کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، کیونکہ یہ بھی علم میں داخل ہے کہ جو بات نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے ” اللہ اعلم “ کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اللہ عز و جل نے اپنے نبی سے فرمایا : (قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ ) ” کہہ دے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 86, it was said: وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (nor am I from among those who make up things artificially.). The blameworthiness of artificial behavior The statement means: &I am not declaring my prophethood artificially, nor am I falsely pretending to have knowledge and wisdom, rather, I am conveying the commandments of Allah to you as they are. From this we learn that feigned formality and pretension is blameworthy in the light of the Shari&ah. Accordingly, there are some ahadith that condemn it. In the Sahihayn (al-Bukhari and Muslim), it has been reported from Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud (رض) : |"0 people, whoever from among you knows something, let him tell people about it. But, that which he does not know, let him simply say: وَاللہ سبحانہ و تعالیٰ اَعلَم (Allah knows best) (because) Allah Ta` a-la has said about his Rasul قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ‌ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (Say,|"I do not demand from you any fee for it, nor am I from among those who make up things artificially.|"- 38:86).|" (Ruh-ul-Ma’ ani) Alhamdulillah The Commentary on Surah Sad

تکلف اور تصنع کی مذمت : (آیت) وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ ۔ (اور میں بناوٹ کرنے والوں میں سے نہیں ہوں) مطلب یہ ہے کہ میں تکلف اور تصنع کو اپنی نبوت و رسالت اور علم و حکمت کا اظہار نہیں کر رہا بلکہ اللہ کے احکام کو ٹھیک ٹھیک پہنچا رہا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ تکلف اور تصنع شرعاً مذموم ہے۔ چناچہ اس کی مذمت میں بعض احادیث وارد ہوئی ہیں۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا ارشاد منقول ہے کہ ” اے لوگو، تم میں سے جس شخص کو کسی بات کا علم ہو تو وہ لوگوں سے کہہ دے، لیکن جس کا علم نہ ہو تو وہ ” اللہ اعلم “ کہنے پر اکتفا کرلے، (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں فرمایا ہے۔ (آیت) قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ ۔ (روح المعانی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ۝ ٨٦ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ كلف الْكَلَفُ : الإيلاع بالشیء . يقال : كَلِفَ فلان بکذا، وأَكْلَفْتُهُ به : جعلته كَلِفاً ، والْكَلَفُ في الوجه سمّي لتصوّر كُلْفَةٍ به، وتَكَلُّفُ الشیءِ : ما يفعله الإنسان بإظهار كَلَفٍ مع مشقّة تناله في تعاطيه، وصارت الْكُلْفَةُ في التّعارف اسما للمشقّة، والتَّكَلُّفُ : اسم لما يفعل بمشقّة، أو تصنّع، أو تشبّع، ولذلک صار التَّكَلُّفُ علی ضربین : محمود : وهو ما يتحرّاه الإنسان ليتوصّل به إلى أن يصير الفعل الذي يتعاطاه سهلا عليه، ويصير كَلِفاً به ومحبّا له، وبهذا النّظر يستعمل التَّكْلِيفُ في تكلّف العبادات . والثاني : مذموم، وهو ما يتحرّاه الإنسان مراء اة، وإياه عني بقوله تعالی: قُلْ ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَما أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ [ ص/ 86] وقول النبي صلّى اللہ عليه وسلم : «أنا وأتقیاء أمّتي برآء من التّكلّف» «1» . وقوله : لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَها[ البقرة/ 286] أي : ما يعدّونه مشقّة فهو سعة في المآل . نحو قوله : وَما جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ [ الحج/ 78] ، وقوله : فَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً الآية [ النساء/ 19] . ( ک ل ف ) الکلف ( س) کسی چیز پر شیفتہ ہونا محاورہ ہے ۔ کلف فلان بکذا ۔ فلان اس پر شفیتہ ہے ۔ اکلفتہ بہ میں نے اسے شیفتہ کردیا ۔ الکف ۔ ( ایضا ) چہرہ پر کے سیاہ دھبے ، چہرہ کی چھائیاں گویا اس پر کفلت کا اثر ظاہر ہے ۔ التکلف ۔ کوئی کام کرتے وقت شیفتگی ظاہر کرنا باوجودیکہ اس کے کرنے میں شفقت پیش آرہی ہو اس لئے عرف میں کلفت مشقت کو کہتے ہیں اور تکلف اس کام کے کرنے کو جو مشقت تصنع یا اوپرے جی سے دکھلادے کے لئے کہا جائے اس لئے تکلیف دو قسم پر ہے محمود اور مذموم اگر کسی کا م کو اس لئے محنت سے سر انجام دے کہ وہ کام اس پر آسان اور سہل ہوجائے اور اسے اس کام کے ساتھ شیفتگی اور محبت ہوجائے تو ایسا تکلف محمود ہے چناچہ اسی معنی میں عبادات کا پابند بنانے میں تکلیف کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اور اگر وہ تکلیف محض ریا کاری کے لئے ہو تو مذموم ہے ۔ چناچہ آیت : قُلْ ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَما أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ [ ص/ 86] اور اے پیغمبر ) کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں ۔ میں تکلیف کے یہی معنی مراد ہیں اور حدیث میں ہے (99) انا واتقیاء امتی برآء من التکلف کہ میں اور میری امت کے پرہیز گار آدمی تکلف سے بری ہیں اور آیت ؛لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَها[ البقرة/ 286] خدا کسی شخص کو ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ جن احکام کو یہ مشقت سمجھتے ہیں وہ مآل کے لحاظ سے ان کے لئے وسعت کا باعث ہیں جیسے فرمایا : وَما جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ [ الحج/ 78] اور تم پر دین کی کسی بات میں تنگی نہیں کی اور تمہارے لئے تمہارے باپ ابراہیم کا دین پسند کیا ۔ اور نزی فرمایا ؛فَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً الآية [ النساء/ 19] مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٦ { قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ کہیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا “ یہ واقعہ سنا کر اب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مخاطب ہو کر فرمایا جا رہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں جتلائیں کہ میں تم لوگوں کو یہ غیب کی خبریں سنا رہا ہوں ‘ ازل میں رو نما ہونے والے واقعات کی تفصیلات سے تمہیں آگاہ کر رہا ہوں ‘ لیکن تم ذرا یہ بھی تو سوچو کہ میں نے اس سب کچھ کے عوض تم لوگوں سے کبھی کوئی اجر یا انعام تو طلب نہیں کیا۔ { وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ } ” اور میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے بھی نہیں ہوں۔ “ مُتَـکَلِّف (تکلف کرنے والا) کا مفہوم سمجھنے کے لیے دو ایسے اشخاص کی مثال سامنے رکھیں جن میں سے ایک شاعر ہے اور دوسرا متشاعر۔ ایک شخص فطری طور پر شاعر ہے ‘ شاعری اس کی طبیعت میں گندھی ہوئی ہے اور اس پر اشعار کی آمد ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے شخص (متشاعر) کی طبیعت شعر کے لیے بالکل موزوں نہیں ہے۔ البتہ وہ محنت کرتا ہے ‘ علم عروض کے امور سیکھنے کی کوشش کرتا ہے ‘ ذخیرئہ الفاظ جمع کرتا ہے ‘ قافیے جوڑتا ہے اور یوں تصنع ّاور تکلف ّسے شعر کہتا ہے۔ چناچہ یہ شخص شاعری کے میدان میں گویا ” مُتَکَلِّف “ ہے۔ چناچہ ان آیات میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان اطہر سے مشرکین ِمکہ ّکے لیے کہلوایا جا رہا ہے کہ لوگو ! کچھ تو عقل سے کام لو ‘ تم لوگ مجھے بچپن سے جانتے ہو : { فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖط } (یونس : ١٦) ” میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے بھی “۔ میرے عادات واطوار اور میری طرز زندگی سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ تم خوب جانتے ہو کہ میں کوئی تکلف اور تصنع پسند شخص نہیں ہوں۔ تم اس حقیقت سے بھی آگاہ ہو کہ میں نے اب تک کی عمر میں کبھی کوئی شعر نہیں کہا ‘ اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میں نے خطابت کا فن سیکھنے کے لیے کبھی کوئی مشقت یا ریاضت نہیں کی۔ تو تم لوگوں نے یہ کیسے سوچ لیا ہے کہ اب میں نے اچانک تکلف اور تصنع کا سہارا لے کر شاعری میں طبع آزمائی شروع کردی ہے اور تم لوگوں کو وحی کے نام پر میں اپنا کلام سنا رہا ہوں ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

71 That is, "I am a selfless person: I have no vested interest in preaching this message," 72 That is, "I am not one of those who arise with false claims for the sake of vanity and pose to be what actually they are not. " The Holy Prophet has not been made to say this merely for the information of the disbelievers of Makkah but this is testified by his whole life which he lived among the same people for forty years before his advent as a Prophet. Every child of Makkah was a witness that Muhammad (upon whom be Allah's peace) was not an impostor. Never had anybody from among the people of Makkah ever heard anything from him, which might have caused somebody the doubt that he aspired to be a great man and was planning and scheming for that end.

سورة صٓ حاشیہ نمبر :71 یعنی میں ایک بے غرض آدمی ہوں ، اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے یہ تبلیغ نہیں کر رہا ہوں ۔ سورة صٓ حاشیہ نمبر :72 یعنی میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے جھوٹے دعوے لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ کچھ بن بیٹھتے ہیں جو فی الواقع وہ نہیں ہوتے ۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے محض کفار مکہ کی اطلاع کے لیے نہیں کہوائی گئی ہے ، بلکہ اس کے پیچھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پوری زندگی شہادت کے طور پر موجود ہے جو نبوت سے پہلے انہی کفار کے درمیان چالیس برس تک گزر چکی تھی ۔ مکے کا بچہ بچہ یہ جانتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک بناوٹی آدمی نہیں ہیں ۔ پوری قوم میں کسی شخص نے بھی کبھی ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نہ سنی تھی جس سے یہ شبہ کرنے کی گنجائش ہوتی کہ وہ کچھ بننا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:86) قل : ای قل یا محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) لکفار قریش۔ علیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یا القرآن ہے یا تبلیغ رسالت۔ المتکلفین۔ اسم فاعل جمع ذکر تکلف (تفعل) مصدر سے۔ بناوٹ کرنے والے یعنی اپنی طرف سے قرآن بنا لینے والے۔ لوگوں کو دکھانے کے لئے اطاعت خداوندی کا اظہار کرنے والے۔ تکلف اور تصنع سے کام لینے والے۔ (میں بناوٹ یا تصنع سے کام نہیں لے رہا بلکہ تمہارے سامنے حقیقت کا اظہار کرتا ہوں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی میں تم تک اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے کا جو فریضہ سر انجام دے رہا ہوں اس سے میری کوئی ذاتی غرض وابستہ نہیں ہے۔6 کہ خواہ مخواہ اپنی بڑائی جتانے کے لئے پیغمبر کا جھوٹا دعویٰ کروں یا وہ کچھ بننے کی کوشش کروں جو فی الواقع میں نہیں ہوں۔” تکلیف “ کے معنی تصنع ( یعنی خواہ مخواہ بننا) کے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ ” ہمیں تکلف سے منع کیا گیا “ طبرانی و بیہقی وغیرہ میں حضرت سلمان (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں مہمان کے لئے تکلف سے منع فرمایا۔ ( شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی اگر جھوٹ بولتا تو اس کا منشاءیا تو کوئی نفع عقلی ہوتا جس کو اجر کہا ہے، اور یا عادت طبعی ہوتی جس کو تکلف کہا ہے، سو یہ دونوں امر نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ابلیس اور اس کے ساتھیوں کا انجام ذکر کرنے کے بعد ایک دفعہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کہلوایا گیا کہ یہ قرآن مجید دنیا والوں کے لیے نصیحت ہے جو اسے تسلیم نہیں کرے گا۔ ایک وقت کے بعد اسے خود ہی اپنے انجام کی خبر ہوجائے گی۔ لہٰذا میں نے ” لِوَجْہِ اللّٰہِ “ تمہیں اس سے آگاہ کردیا ہے۔ اس خطاب کا آغاز آیت ٦٥ سے ہوا جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ آپ اعلان کرتے جائیں کہ اللہ کے سوا کوئی قیام، رکوع، سجود اور ہر قسم کی بندگی کے لائق نہیں۔ وہی نعمتیں عطا کرنے والا اور بگڑی بنانے والا ہے۔ وہ اپنی ذات اور صفات کے حوالے سے اکیلا اور ہر اعتبار سے غالب ہے۔ سورة صٓ اور اس کے آخری حصہ کا اختتام اس فرمان پر ہو رہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بھی اعلان کرتے رہیں کہ تم میری مخالفت کرو یا موافقت۔ اس دعوت اور محنت کے بدلے میں تم سے کسی ستائش اور مفاد کا طلب گار نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی بات اپنی طرف سے کہتا ہوں اور نہ میں تصنع اور تکلف کرتا ہوں جس دعوت کی تم مخالفت کررہے ہو یہ تو لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ اگر تم اسی طرح ہی مخالفت کرتے رہے تو تمہیں ایک مدت کے بعد اس کے انجام کا علم ہوجائے گا۔ یہ وقت تمہاری زندگی میں بھی آسکتا ہے۔ البتہ موت کے بعد یقیناً تم اس کے انجام سے پوری طرح آگاہ ہوجاؤگے۔ (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَسْعُوْدِ الْعَبَدِیِ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَانَ الْفَارَسِیَ (رض) یَقُوْلُ نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنْ نَتَکَلَّفَ للضَّیْفِ )[ رواہ الحاکم فی المستدرک وہو حدیث صحیح ] ” حضرت عبدالرحمن بن مسعود العبدی کہتے ہیں کہ میں نے سلمان فارسی (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہمانوں کے لیے تکلف کرنے سے منع کیا تھا۔ “ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ (رض) فَقَالَ نُہِیْنَا عَنِ التَّکَلُّفِ )[ رواہ البخاری : کتاب الاعتصام ] ” حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس تھے تو انہوں نے کہا کہ ہم تکلف کرنے سے منع کیے گئے تھے۔ “ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کو تکلف کرنے سے منع کرتے تھے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ فَانْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَآءِ فَاجْتَنِبْہُ ، فَإِنِّی عَہِدْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَأَصْحَابَہٗ لاَ یَفْعَلُوْنَ إِلاَّ ذٰلِکَ یَعْنِی لاَ یَفْعَلُونَ إِلاَّ ذٰلِکَ الاِجْتِنَابَ )[ رواہ البخاری کتاب الدعوات، باب مَا یُکْرَہُ مِنَ السَّجْعِ فِی الدُّعَآءِ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ دعا میں قافیہ بندی سے بچو۔ کیونکہ میں ایک عرصہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کے ساتھ رہا ہوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) دعا میں تکلف اور قافیہ بندی نہیں کرتے تھے۔ “ مسائل ١۔ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی سے کسی قسم کا مفاد طلب نہیں کرتے تھے۔ ٢۔ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات اپنی طرف سے کرنے والے نہ تھے۔ ٣۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکلف پسند نہیں کرتے تھے۔ ٤۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ ٥۔ قرآن اور اس کی دعوت کا انکار کرنے والوں کو اپنے انجام کا علم ہوجائے گا۔ تفسیر بالقرآن دنیا اور آخرت میں مجرمین کا اعتراف حقیقت کرنا : ١۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے فرمائے گا کیا آج کا عذاب برحق نہیں وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ (الاحقاف : ٣٤) ٢۔ جہنمی کی خواہش ہوگی کہ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : ٢٧ تا ٢٨) ٣۔ اے رب ہمارے ! ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (فاطر : ٣٧) ٤۔ اے رب ہمارے ! ہم کو یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المؤمنون : ١٠٧) ٥۔ جہنمیوں سے ملائکہ کا خطاب۔ (الزمر : ٧١، ٧٢) ٦۔ جہنمیوں سے جنتیوں کے سوالات اور جہنمی اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے۔ (المدثر : ٤٠ تا ٤٨) ٧۔ جہنمیوں سے اللہ تعالیٰ کا سوال۔ (الصّٰفٰت : ٥) ٨۔ جہنمیوں کی باہم گفتگو۔ (الصّٰفّٰت : ٢٧ تا ٣٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 86 تا 88 یہ تو خاص نجات کی دعوت ہے۔ انجام بتادیا گیا اور اس سے خوب ڈرا بھی دیا گیا۔ یہ ایسی مخلصانہ دعوت ہے کہ داعی کسی اجر و انعام کا طلبگار نہیں ہے۔ یہ داعی سلیم الفطرت ہے۔ وہ عام لوگوں کی زبان میں بات کرتا ہے۔ کوئی تکلیف اور کوئی بناوٹ اس کی بات میں نہیں ہے۔ وہ وہی باتیں کرتا ہے جو اسے فطرت کی منطق سکھاتی ہے اور جو قریب الفہم ہے اور یہ ان لوگوں کو لیے یاددہانی ہے ، جو اپنی غفلت کی وجہ سے اس وعظ ونصیحت کو بھول چکے ہیں اور یہ تو وہ عظیم خبر اور شہ سرخی ہے جس کے نتائج عنقریب وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ لیکن بہت ہی تھوڑی دیر کے بعد ۔ یہ پورے کرۂ ارض کی عالمی خبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کے چند سال بعد ہی ان لوگوں نے اس کے نتائج دیکھ لیئے ۔ اور قیامت میں بھی اس کے نتائج دیکھ لیں گے کہ انسانوں اور جنوں سے جہنم کو بھر دیا جائے گا۔ لاملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین (38: 85) ” میں ضرور جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ان انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے “۔ یہ اس سورت کا خاتمہ ہے اور یہ اس سورت کے افتتاحی کلام اور اس کے موضوعات ومسائل سے ہم آہنگ ہے ، جن کے بارے میں اس سورت میں بحث کی گئی ہے۔ یہ ایک آخری اور گہری ضرب ہے۔ اور اس کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ اسلامی انقلاب کی اس تحریک کی خبریں مستقبل میں کیا ہوں گی ولتعلمن بناہ بعد حین (38: 88) ” تھوڑے ہی وقت کے بعد تم اس کی خبر پالوگے “۔ صدق اللہ العظیم

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دعوت حق پر کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو قرآن مجید سناتے تھے توحید کی دعوت دیتے تھے تو لوگوں کو ناگوار ہوتا تھا آپ کی تکذیب کرتے تھے معجزات دیکھ کر بھی حق قبول نہیں کرتے تھے، انہیں ایک اور فکر کی دعوت دی ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تم سے قرآن کی باتیں سنانے پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا یہ بات تم پر واضح ہے اب تمہیں خود غور کرنا چاہیے کہ جس شخص کو ہم سے کوئی دنیاوی غرض نہیں کسی طرح کے مال و متاع کا طالب نہیں یہ بار بار ہمیں تبلیغ کیوں کرتا ہے ظاہر ہے کہ جب اسے کوئی مطلب نہیں ہے تو ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے دعوت و تبلیغ کرنے کا حکم ہوا ہے اور آپ ان سے یہ بھی فرما دیں کہ میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں یعنی ایسا نہیں ہے کہ میں نے بناوٹ کی راہ سے نبوت کا دعویٰ کردیا ہو اور غیر قرآن کو قرآن کہہ دیا ہو یہ جو کچھ تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے تم اسے نہ مانو گے تو اپنا برا کرو گے اور عنقریب موت کے بعد تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ حق تھا اور اس کا انکار کرنا باطل کام تھا لیکن اس وقت معلوم ہونا فائدہ نہ دے گا، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ (بَعْدَ حِیْنٍ ) سے یوم بدر مراد ہے یعنی اس دنیا میں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ قرآن حق ہے اور اس کا انکار کرنے والے باطل ہیں۔ فائدہ : آیت کریمہ میں جو یہ فرمایا ہے کہ آپ ان سے فرما دیں کہ میں تم سے اپنی محنت اور دعوت پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا اس میں تمام مبلغین اور داعی حضرات کو یہ بتادیا کہ دعوت الی الخیر کا کام محض اللہ کی رضا کے لیے کریں مخلوق سے کسی چیز کے طالب نہ ہوں اور امیدوار بھی نہ ہوں اور (وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِینَ ) میں یہ بتادیا کہ اہل ایمان اور خاص کر اہل علم تکلف کو اختیار نہ کریں، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو جسے کوئی چیز معلوم ہو وہ بتادے اور جسے علم نہ ہو وہ کہہ دے کہ اللہ کو معلوم (بغیر علم کے کوئی چیز نہ بتائے اور یہ ظاہر نہ کرے کہ مجھے علم ہے کیونکہ اس میں تصنع اور تکلف ہے جو جھوٹ کی ایک قسم ہے) جو چیز نہ جانے اس کے نہ جاننے کا اقرار کرلینا اور یہ کہہ دینا کہ اللہ کو معلوم ہے یہ بھی علم کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ (صحیح بخاری ٧١٠ جلد دوم) بہت سے لوگوں کو علم نہیں ہوتا مگر اپنے نام کے ساتھ مفتی یا مولانا کا لفظ لگا لیتے ہیں یا ممتاز عالم دین کا لقب اختیار کرکے اخبارات میں اپنے نام اچھالتے رہتے ہیں پھر جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا ہے یا کوئی حدیث دریافت کی جاتی ہے تو یوں کہنا کہ مجھے معلوم نہیں اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اپنے پاس سے کچھ نہ کچھ بتا دیتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آیت بالا میں تنبیہ ہے بہت سی باتیں جو حق اور حقیقت سے دور ہوتی ہیں جو تصنع جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں مومن آدمی کو ان سب سے بچنا لازم ہے۔ ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری ایک سوتن یعنی شوہر کی دوسری بیوی ہے کیا مجھے اس بات پر گناہ ہوگا کہ میں جھوٹ موٹ اس پر یہ ظاہر کروں کہ مجھے شوہر نے یہ دیا اور وہ دیا اور حقیقت میں نہیں دیا (تاکہ اسے جلن ہو) آپ نے فرمایا جسے کوئی چیز نہیں دی گئی اگر وہ جھوٹ موٹ یہ ظاہر کرے کہ مجھے دے دی گئی ہے وہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص جھوٹ کے کپڑے پہن لے۔ وقدتم تفسیر سورة ص فی شھر ربیع الآخر ١٤١٧ ھ والحمد للّٰہ الھاد الی سبیل الرشاد والصلوٰۃ علی نبیہ سید العباد وعلی اٰلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم المعاد

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

50:۔ ” قُلْ مَا اَسْئَلُکُمْ الخ : اس ناصحانہ وعظ و تبلیغ پر میں تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ بتکلف اپنے پاس سے باتیں بنا کر تمہیں سناتا ہوں۔ بلکہ یہ تو اللہ کی طرف تمام انسانوں کے لیے ایک نصیحت نامہ ہے۔ جیسا کہ ابتداء سورت میں فرمایا۔ ” وَالْقُرْاٰنَ ذِیْ الذِّکْرِ “ سورت کی انتہاء، ابتداء سے متعلق ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(86) اے پیغمبر آپ فرمادیجئے کہ میں تم سے اس قرآن کریم کی تبلیغ پر نہ کوئی مزدوری اور اجرت طلب کرتا ہوں اور نہ میں بناوٹ اور تصنع کرنے والوں میں سے ہوں۔ یعنی نہ تم سے اس قرآن کریم کی تبلیغ پر کسی اجرت کا خواہاں ہوں اور نہ میں بہ تکلف بنتا ہوں بلکہ اللہ کا فرستادہ اور اسلام کا داعی ہوں۔