Surat uz Zumur

The Groups

Surah: 39

Verses: 75

Ruku: 8

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے اس طرح پے در پے رکھے چلے جاتے کہ ہم خیال کرتیں کہ آپ اب چھوڑیں گے ہی نہیں اور ایسا بھی ہوتا کہ نہ رکھتے یہاں تک کہ ہم سمجھ لیتیں کہ اب رکھیں گے ہی نہیں اور ہر رات آپ سورہ بقرہ اور سورہ زمر کی تلاوت کر لیا کرتے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الزُّمَر نام : اس سورہ کا نام آیات نمبر 71 و 73 ( وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِلیٰ جَھَنَّمَ زُمَراً اور وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَراً ) سے ماخوذ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورہ جس میں لفظ زمر آیا ہے ۔ زمانۂ نزول : آیت نمبر 10 ( وَاَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃٌ ) سے اس امر کی طرف صاف اشارہ نکلتا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت حبشہ سے پہلے نازل ہوئی تھی ۔ بعض روایات میں یہ تصریح آئی ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کے حق میں ہوا تھا جبکہ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کا عزم کیا ( روح المعانی ، جلد 23 ، صفحہ 226 ) موضوع اور مضمون : یہ پوری سورت ایک بہترین اور انتہائی مؤثر خطبہ ہے جو ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے مکہ معظمہ کی ظلم و تشدد سے بھری ہوئی اور عناد و مخالفت سے لبریز فضا میں دیا گیا تھا ۔ یہ ایک وعظ ہے جس کے مخاطب زیادہ تر کفار قریش ہیں ، اگرچہ کہیں کہیں اہل ایمان سے بھی خطاب کیا گیا ہے ۔ اس میں دعوت محمدی کا اصل مقصود بتایا گیا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ انسان خالص اللہ کی بندگی اختیار کرے اور کسی دوسرے کی طاعت و عبادت سے اپنی خدا پرستی کو آلودہ نہ کرے ۔ اس اصل الاصول کو بار بار مختلف انداز سے پیش کرتے ہوئے نہایت زور دار طریقے پر توحید کی حقانیت اور اسے ماننے کے عمدہ نتائج ، اور شرک کی غلطی اور اس پر جمے رہنے کے برے نتائج کو واضح کیا گیا ہے ، اور لوگوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنی غلط روش سے باز آ کر اپنے رب کی رحمت کی طرف پلٹ آئیں ۔ اسی سلسلے میں اہل ایمان کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ کی بندگی کے لیے ایک جگہ تنگ ہو گئی ہے تو اس کی زمین وسیع ہے ، اپنا دین بچانے کے لیے کسی اور طرف نکل کھڑے ہو ، اللہ تمہارے صبر کا اجر دے گا ۔ دوسری طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا ہے کہ ان کفار کو اس طرف سے بالکل مایوس کر دو کہ ان کا ظلم و ستم کبھی تم کو اس راہ سے پھیر سکے گا اور ان سے صاف صاف کہہ دو کہ تم میرا راستہ روکنے کے لیے جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہو کر ڈالو ، میں اپنا یہ کام جاری رکھوں گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ الزمر یہ سورت مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی، اور اس میں مشرکین کے مختلف باطل عقیدوں کی تردید فرمائی گئی ہے، یہ مشرکین مانتے تھے کہ کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ؛ لیکن انہوں نے مختلف دیوتا گھڑ کر یہ مانا ہوا تھا کہ ان کی عبادت کرنے سے وہ خوش ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں گے، اور بعض نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیا ہوا تھا، اس سورت میں ان محتلف عقائد کی تردید کرکے انہیں توحید کی دعوت دی گئی ہے، یہ وہ دور ہے جب مسلمانوں کو مشرکین کے ہاتھوں بدترین اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اس لئے اس سورت میں مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ کسی ایسے خطے کی طرف ہجرت کرجائیں جہاں وہ اطمینان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکیں، نیز کافروں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی معاندانہ روش نہ چھوڑی تو انہیں بدترین سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، سورت کے آخر میں نقشہ کھینچا گیا ہے کہ آخرت میں کافر کس طرح گروہوں کی شکل میں دوزخ تک لے جائے جائیں گے، اور مسلمانوں کو کس طرح گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جایا جائے گا، گروہوں کے لئے عربی لفظ زمر استعمال کیا گیا ہے اور وہی اس سورت کا نام ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة الزمر۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ٭سورۃ الزمر ہجرت حبشہ سے پہلے مکہ مکرمہ میں نازل کی گئی ۔ ٭ یہ سورت مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل کی گئی جب کفار مکہ کے ظلم و زیادتی اور تشدد کی انتہاء ہوچکی تھی ۔ اہل ایمان پر چاروں طرف سے ہر طرح کے حملے کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے بعض صحابہ کرام (رض) بیت اللہ کی سر زمین چھوڑ کر ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔ انہوں نے ہجرت اپنی جان کی حفاظت کے لئے نہیں بلکہ ایمان کی حفاظت کے لئے کی تھی۔ (یہ سورة مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل کی گئی جب کفار و مشرکین نے تشدد اور ظلم و زیادتی کی انتہاء کردی تھی ۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے مکہ کی سر زمین چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا شروع کردی تھی) ۔ ٭ اس سورة میں قریش مکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ گزری ہوئی قوموں کے حالات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور نقصان پہنچنے سے پہلے ایمان لا کر اپنی اصلاح کرلیں ۔ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر سوائے شرمندگی ، پچھتاوے اور دین و دنیا کے نقصان کے اور کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا ۔ اس سورة میں اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ وہ صبر سے کام لے کر اللہ کے دین پر مضبوطی سے جمے رہیں۔ دین و دنیا کی ساری بھلائیوں سے ان کا دامن بھر دیا جائے گا ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان سے فرمایا گیا ہے کہ وہ کسی کی پرواہ نہ کریں ۔ اللہ کی عبادت و بندگی اس طرح کریں کہ اس میں کسی دوسرے کی عبادت و بندگی کا شائبہ تک نہ ہو۔ (اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں ، اسی سے ڈریں اور ساری دنیا سے بےپرواہ ہو کر اللہ کا دین ساری دنیا میں پھیلانے کی جدوجہد کو اور تیز تر کردیں۔ ) ٭اللہ تعالیٰ نے توحید کی حقانیت کو بیان کر کے اس کے بہتر نتائج اور شرک کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے بیٹھے ہیں ان کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ اللہ کے آخری نبی و رسول حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر اور عمل صالح اختیار کر کے صراط مستقیم پر چل پڑیں۔ (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کردیں کہ کفار کا ظلم و ستم ان کو اپنے نیک مقاصد سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹا سکے گا ) ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے طرز عمل سے کفار پر یہ ثابت کردیں کہ وہ کتنا بھی ظلم و تشدد کرلیں لیکن اہل ایمان ایک قدم بھی توحیدخالص سے پیچھے نہ ہٹیں گے اور جو مقصد اور مش لے کر چلے ہیں اس سے دنیا کے اندھیروں کو دور کر کے رہیں گے۔ ٭فرمایا کہ یہ کفار و مشرکین جن معبودوں پر بھروسہ کر کے ان کی عبادت و بندگی کرتے اور ان کو اپنا مشکل کشا مانتے ہیں جب وہ کسی طوفان ، مصیبت یا کسی سمندری بھنور میں پھنس جاتے ہیں تو اس وقت صرف ایک اللہ سے فریاد کرتے ہیں اور جب وہ اس مصیبت سے نکل جاتے ہیں تو پھر سے اللہ کو بھول کر اپنے کفر و شرک میں لگ جاتے ہیں۔ یہ ان کی زندگیوں کا تضاد ثابت کرتا ہے کہ ان کو بھی اپنے جھوٹے معبودوں پر کسی طرح کا اطمینان اور یقین نہیں ہے بلکہ وہ اپنے باپ دادا کی پیروی میں ان بتوں کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ ان کفار و مشرکین میں سے وہ لوگ جن کے دل اسلام کی عظمت کے لئے کھول دیئے گئے ہیں جن کا ہر قدم اللہ کی عطاء کی ہوئی روشنی میں اٹھتا ہے وہ کامیاب و بامراد لوگ ہیں۔ ان کے بر خلاف وہ لوگ جو زندگی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور کفر و شرک میں مبتلا ہونے کی وجہ سے پتھر دل ہوچکے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں نا کام ترین لوگ ہیں اور وہ ان کے برابر نہیں ہو سکتے جو نور ایمانی سے اپنے دلوں کو روشن ومنور کرچکے ہیں۔ ٭اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہر طرح کی مثالوں کو بار بار بیان کیا ہے تا کہ ہر شخص اپنی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اتار کر مرنے سے پہلے اپنے کفر و شرک سے توبہ کرلے۔ فرمایا کہ اس کے باوجود اگر یہ کفر و شرک کی وادیوں میں بھٹکنے والے تو بہ نہیں کرتے تو اس انجام کو سامنے رکھیں کہ ان کے مال و اسباب ان کے کسی کام نہ آسکیں گے اور آخرت کے شدید نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمادیا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی کو اختیار کرتے ہیں اللہ خود ان کی حفاظت فرماتا ہے ، لہٰذا دین حق پر چلنے والوں کو کسی سے ڈرنے یا کسی سے دبنے کی ضرورت نہیں ہے انہیں اللہ پر مکمل بھروسہ کر کے دین اسلام کی عظمت کو ساری دنیا تک پھیلانے کی جدوجہد کو اور تیز کردینا چاہیے۔ جب اللہ خود محافظ ہے تو پھر کسی نقصان کا اندیشہ نہیں کرنا چاہیے اگر اس راستے میں مشکلات آئیں یا کوئی نقصان پہنچ جائے تو وہ بھی ان کے درجات کی بلندی کا سبب بن جائے گا ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار و مشرکین کے مسلسل انکار ، مذاق اڑانے اور دین کی سچائیوں کو جھٹلانے سے رنجیدہ نہ ہوں ، نہ کسی کی پرواہ کریں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کے برے اعمال کے ذمے دار نہیں ہیں ۔ اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان اور صالح زندگی کو اپنائے گا اس کا طرز عمل اس کو فائدہ دے گا لیکن جو کفر و شرک پر اصرار کرے گا اور ایمان و عمل صالح کی طرف نہیں آئے گا وہ برے انجام سے نہیں بچ سکتا اور اس کا وبال اس پر ہی پڑے گا ۔ ٭فرمایا کہ زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی قادر مطلق ہے جو ہر طرح کی عبادت و بندگی کے لائق ہے وہی قیامت کے دن کا مالک و مختار ہے۔ فرمایا کہ ان کفار و مشرکین کا وہ حال دیکھنے کے قابل ہوگا جب عذاب ان کے سامنے آجائے گا تو وہ لوگ جو دنیا کی معمولی دولت کو اپنا سب کچھ سمجھ کر کفر و شرک میں مبتلا تھے وہ تمنا کریں گے کہ کاش ساری دنیا اور اس سے بھی زیادہ دنیاؤں کی دولت اگر ان کے پاس ہوتی تو وہ اس کو دے کر اس شدید عذاب سے بچ جاتے لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہ ہوگی اور ان کو شدید عذاب دیا جائے گا ۔ ٭ فرمایا کہ اہل ایمان کو اللہ کی رحمت سے مایوں نہیں ہونا چاہیے اگر کسی سے کوئی غلطی ہوجائے یا زمانہ کفر و جہالت میں ان سے کوئی بڑا گناہ ہوگیا ہوگا تو اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ سارے گناہ معاف کر دے گا لیکن اگر کوئی شخص اپنے گناہوں اور کفر و شرک پر جما رہے گا تو آخرت میں اس کو سوائے شرمندگی اور پچھتاوے کے کچھ بھی حاصل نہ ہو سکے گا ۔ ٭فرمایا کہ قیامت کے دن ساری حاکمیت اور حکومت اللہ کے ہاتھ میں ہوگی۔ جب پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو جتنے بھی لوگ ہوں گے ان کے ہوش و حواس اڑ جائیں گے اور سب چیزوں پر فنا چھا جائے گی لیکن دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد سب کے سب لوگ زندہ ہو کر حیران و پریشان چاروں طرف دیکھیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائیں گے تو اس کے نور و تجلی سے ساری کائنات جگمگا اٹھے گی ۔ پھر انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا ۔ سب کے نامہ اعمال ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور ہر ایک کی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لیا جائے گا ۔ اللہ کسی پر ظلم و زیادتی نہ فرمائیں گے بلکہ ان کے کیے ہوئے اعمال کے مطابق ہر ایک کے درمیان صحیح صحیح فیصلے فرما دیں گے۔ ٭آخر میں فرمایا کہ آخرت میں دو گروہ بن جائیں گے ایک اہل ایمان جنت والوں کا اور ایک اہل کفر جہنم والوں کا ۔ سب سے پہلے کفار کو ( جانوروں کی طرح) فرشتے جہنم کی طرف گروہ در گروہ گھسیٹ کرلے جائیں گے اور ان پر طنز کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ ٭کیا تمہارے پاس اللہ کے نبی اور رسول نہیں آئے تھے ؟ ٭کیا وہ اللہ کا پیغام نہیں لائے تھے ؟ ٭کیا تمہیں راہ ہدایت کی طرف انہوں نے متوجہ نہیں کیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ بیشک وہ پیغمبر آئے تھے انہوں نے ہمیں راہ راست کی تلقین کی تھی مگر ہماری بد قسمتی تھی کہ ہم نے ان کی بات نہیں مانی ، اس اقرار کے بعد فرشتے ان کفار کی جماعتوں کو لے کر چلیں گے۔ جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ وہ اس جہنم میں داخل ہوجائیں جہاں ان کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا ۔ فرمایا کہ دوسری طرف اہل تقویٰ مومنین کے گروہ ہوں گے فرشتے ان کو پورے اعزازو اکرام کے ساتھ بہترین سواریوں پر سوار کر کے لے کر چلیں گے تو جنت کے دروازے ان پر کھول دیئے جائیں گے فرشتے ان کو سلام کریں گے اور مبارک باد پیش کریں گے اور کہیں گے کہ اب تم سب اس جنت میں داخل ہو جائو جہاں تم سب کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔ اس پر وہ اہل جنت اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ الحمد للہ ہمارے پروردگار نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا ۔ اب ہمیں وہ تمام نعمتیں حاصل ہوگئی ہیں جن کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اس دن تمام فرشتے حلقہ باندھے ہوئے اللہ کی اور تسبیح و حمد کرتے ہوں گے اور اس دن اللہ تعالیٰ تمام بندوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلے فرما دیں گے اور ہر طرف سے ایک ہی صدا بلند ہو رہی ہوگی الحمد للہ رب العالمین۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الزّمر کا تعارف سورۃ الزّمر مکہ اور اس کے گردوپیش میں نازل ہوئی۔ یہ سورة آٹھ رکوع اور پچھتر آیات پر محیط ہے۔ ربط سورة : سورة صٓ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ لوگوں کے لیے قرآن مجید ایک نصیحت ہے جو اس نصیحت کا انکار کرتا ہے اسے اپنے انجام کا بہت جلد پتہ چل جائے گا۔ الزّمر کا آغاز اس فرمان سے ہو رہا ہے کہ یہ ذکر ” اللہ “ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کا پہلا پیغام اور فرمان یہ ہے کہ ایک ” اللہ “ کی عبادت کرو کہ جس طرح اس نے اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ جو لوگ اس فرمان کے ساتھ اختلاف اور تکرار کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذاب اور ناشکرے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ان میں سرفہرست وہ لوگ ہیں جو اس بات پر اسرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو اپنی اولاد بنا رکھا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی خواہش اور ضرورت نہیں۔ اولاد کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ کمزوری اور مجبوری کے عالم میں ماں باپ کا سہارا ثابت ہو اللہ تعالیٰ ایسی خواہش اور ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملک اور تابع فرمان ہے اس وضاحت کے باوجود جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بات نہیں مانتے اور اس کی خالص عبادت نہیں کرتے وہ اور اس عقیدہ کی حامل ان کی اولاد قیامت کے دن نقصان پائیں گے۔ ان کے اوپر نیچے آگ ہوگی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس آگ سے ڈراتا ہے تاکہ وہ جہنم کی آگ سے بچ جائیں۔ لیکن مشرک کی حالت یہ ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ وحدہ لاشریک کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ تو وہ منہ بسورتا اور ناراض ہوتا ہے۔ جب غیر اللہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتا ہے حالانکہ ” اللہ “ ہی زمین و آسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی رزق میں کمی، بیشی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ کفار کے کفر اور مشرکوں کے شرک کے باوجود اس کا فرمان ہے کہ اے پیغمبر جن لوگوں نے کفرو شرک اور اپنے رب کی نافرمانیوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے انہیں کھلے الفاظ میں فرمائیں کہ لوگو ! تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہیں ہونا کیونکہ میں سب گناہوں کو معاف کرنے والا مہربان ہوں لہٰذا ہر حال میں میری طرف رجوع کرو اور عذاب سے پہلے میرے تابع فرمان ہوجاؤ۔ جب میرا عذاب نازل ہوتا ہے تو کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ کیا میں اللہ کو چھوڑ کر غیروں کی عبادت کروں حالانکہ اس نے مجھ پر اور مجھ سے پہلے تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) پر وحی بھیجی کہ اگر کسی نبی نے شرک کیا تو اس کے اعمال ضائع کر دئیے جائیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔ جو لوگ شرک کرتے ہیں حقیقت یہ ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ قیامت کے دن زمین و آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور کوئی اس کے سامنے بولنے اور دم مارنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ اس دن تیرے رب کے جمال سے زمین منور ہوجائے گی اور لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو گواہ کے طور پر بلایا جائے گا اور پورے عدل و انصاف کے ساتھ لوگوں کے درمیان فیصلے کر دئیے جائیں گے اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہو پائے گا۔ جہنمی جہنم کی طرف گروہ در گروہ جائیں گے جونہی جہنم کے قریب پہنچیں گے تو ان کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور جہنم کے ملائکہ ان سے استفسار کریں گے کیا تمہارے پاس انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف نہیں لائے تھے جو تمہیں تمہارے رب کے فرامین پڑھ کر سناتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ کرتے ؟ جہنمی اقرار کریں گے کیوں نہیں ہمارے پاس انبیاء کرام تشریف لائے اور انہوں نے ہمیں بار بار سمجھایا لیکن ہم اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔ جہنمیوں کا جواب سن کر ملائکہ کہیں گے تو پھر جہنم میں داخل ہوجاؤ جس میں تم نے ہمیشہ رہنا ہے اور متکبرین کے لیے رہنے کی یہ بدترین جگہ ہے۔ ان کے مقابلے میں جنتیوں کو ارشاد ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ جونہی جنتی جنت کے دروازوں کے سامنے پہنچیں گے تو ملائکہ جنت کے دروازے کھولتے ہوئے جنتیوں کو سلام کریں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ جنت میں داخل ہوجائیں۔ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ کو عنایت کردی گئی ہے۔ جنتی اس پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اس فیصلے کے بعد عدالت کبریٰ ختم کردی جائے گی اور سب پکار اٹھیں گے ہر قسم کی تعریف رب العالمین کے لیے ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة الزمر ایک نظر میں اس پوری سورت میں مسئلہ توحید کو لیا گیا ہے۔ انسان کے دل و دماغ کو پے درپے سوچ کی وادیوں کی سیر کرائی گئی ہے۔ اور انسانی سوچ کی تاروں کو بار بار مضراب سے چھیڑا گیا ہے اور بار بار ان پر شدید ضربات لگائی گئی ہیں تاکہ انسانی فکر میں مسئلہ توحید کو اچھی طرح بٹھادیا جائے اور انسانی عقائد کو شرک اور شرک کے شائبد تک سے پاک کردیا جائے اور انسانی فکر ونظر پر شرک کا خفیف سا سایہ بھی باقی نہ رہے ۔ اس لیے یہ سورت آغاز سے انجام تک ایک ہی موضوع رکھتی ہے۔ البتہ اس موضوع پر منشوع اسالیب سے بات کی گئی ہے جس طرح قرآن کا طریقہ ہے۔ سورت کے آغاز ہی سے مسئلہ توحید نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے اور پوری سورت میں یہی نظر آتا ہے کہ اس سورت میں عقیدۂ توحید ہی سے بحث ہوگی۔ تنزیل الکتٰب من اللہ العزیز الحکیم (39: 1) انآ انزلنآ الیک الکتٰب بالحق فاعبداللہ مخلصاله الدین (39: 2) الا للہ الدین الخالص (39: 3) ” اے نبی & یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے۔ لہذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو ، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے ۔ خبردار دین خالص اللہ کا حق ہے “۔ اس سورت میں آیات کے مقاطع پر بار بار منصوص طور پر یا اشارۃ یا معنا عقیدہ توحید ہی کو لایا گیا ہے۔ منصوص طور پر یوں مثلا قل انی امرت۔۔۔۔ من دونه (39: 11 تا 15) ” اے نبی & ان سے کہو مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے ، اس کی بندگی کروں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں ، کہو اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔ کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس کی بندگی کروں گا۔ تم اس کے سوا جس کی بندگی کرنا چاہو ، کرتے رہو “۔ اور دوسری جگہ ہے۔ قل افغیر اللہ ۔۔۔۔ کن من الشکرین (39: 64 تا 66) ” اے نبی ، ان سے کہو ، پھر کیا اے جاہلو ، تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کے لیے مجھ سے کہتے ہو ؟ تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا اور تم خسارے میں رہو گے۔ لہٰذا تم بھی اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں ہو جاؤ “۔ اور مفہوم کے اعتبار سے بھی مثلا ضرب اللہ مثلا۔۔۔۔ لایعلمون (39: 29) ” اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کے مالک ہونے میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ الحمدللہ۔ مگر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یا یہ قول۔ الیس اللہ بکاف۔۔۔۔ ذی انتقام (39: 36 تا 37) ” اے نبی ! کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے ؟ یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں حالانکہ اللہ جس کو گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے اور جسے وہ ہدایت دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے “۔ حقیقت توحید جو اس سورت کا اہم موضوع ہے۔ اور اسے یہ سورت مومن کے دل و دماغ میں اچھی طرح بٹھانا چاہتی ہے لیکن اس کے علاوہ دل مومن کو جگانے کے لیے اور اس کے اندر شدید احساس پیدا کرنے کے لیے اور اسے اخذ ہدایت کے لیے تیار پاکر ہوکر دعوت حق پر لبیک کہنے کا جوش لانے کے لیے اس سورت میں خصوصی یدایات و اشارات بھی ہیں مثلا یہ فرمان۔ والذین ۔۔۔۔ اولوالباب (39: 17 تا 18) ” جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا۔ ان کے لیے خوشخبری ہے۔ پس اے نبی بشارت دو میرے ان بندوں وک جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی دانشمند ہیں۔ اللہ نزل احسن۔۔۔۔۔ فما له من ھاد (39: 23) ” اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں & اور جس میں باربار مضامین دہرائے گئے ہیں ، اسے سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے۔ جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں “۔ واذامس الانسان۔۔۔۔۔۔ اصحٰب النار (39: 8) ” انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرکے اسے پکارتا ہے پھر جب اس کا رب اسے نعمت سے نوازتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہراتا ہے تاکہ اس کی راہ سے گمراہ کرے۔ اے نبی اس سے کہو تھوڑا اپنے کفر سے لطف اٹھالے یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے “۔ اس سورت کے اندر ایک خاص بات کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اس سورت کے آغاز سے آخر تک اس پر قیامت کا سایہ چھایا ہوا ہے۔ اور اس کے تمام واؤنڈز میں سیاق کلام انسان کو عالم آخرت کی سیر کراتا ہے ۔ اور انسان کا بڑا وقت آخرت کی سیر میں گزرتا ہے ۔ یہ ہے اس سورت کا پہلا دائرہ کلام اور اس پر اس میں باربار نہایت ہی موثر دلائل دیئے گئے ہیں باربار۔ چناچہ اس سورت میں باربار قیامت کے مناظر آتے ہیں یا ہر آیت کے مقطع میں قیامت کی طرف صراحت کے ساتھ یا رمز کے ساتھ اشارہ موجود ہے۔ مثلا درج ذیل اشارات امن ھو قانت انآء الیل۔۔۔۔۔ رحمة ربه (39: 9) ” وہ جو مطیع فرمان ہے ، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا ہے اور سجدے کرتا ہے ، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے۔ قل انی ۔۔۔۔ یوم عظیم (39: 13) ” کہو ، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے “۔ افمن حق۔۔۔۔۔ فی النار (39: 19) ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کو کون بچا سکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہو ؟ کیا تم اسے بچا سکتے ہو جو آگ میں گر چکا ہو۔ افمن ۔۔۔۔ القیمة (39: 24) ” اب اس شخص کی بدحالی کا تم کیا اندازہ کرسکتے ہو جو قیامت کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا “۔ ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون (39: 26) ” اور آخرت کا عذاب تو اس سے شدیدتر ہے ، کاش یہ لوگ جانتے “۔ الیس فی مثوی للکفرین (39: 32) ” کیا کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے “۔ ولوان۔۔۔۔۔ یکونوا یحتسبون (39: 47) ” اگر ان ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو ، اور اتنی ہی اور بھی تو یہ روز قیامت کے میرے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ وہاں اللہ کی طرف ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے “۔ وانیبوآ الیٰ ۔۔۔۔ فاکون من المحسنین (39: 54 تا 58) ” پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ ، قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں سے تمہیں مدد نہ مل سکے۔ اور پیروی اختیار کرلو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے ” افسوس میری اس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا ، بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میں سے تھا “۔ یا کہے ” کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں متقیوں میں سے ہوتا یا عذاب دیکھ کر کہے کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہوجاؤں “ ۔ یہ مقاطع اور آیات کے آخری حصے ان مکمل مناظر اور مشاہد قیامت سے علیحدہ ہیں جو اس سورت کا بڑا حصہ ہیں اور جن کی پوری فضا قیامت کے مضامین پر مشتمل ہے۔ رہے وہ کائناتی مناظر ، جو تمام مکی سورتوں میں بکثرت پائے جاتے ہیں ، خصوصا اسلامی نظریہ حیات پر بطور دلائل ونشانات تو وہ بھی اس سورت میں ہیں مگر بہت ہی کم۔ ایک کائناتی منظر سورت کے آغاز ہی میں ہے۔ خلق السمٰوٰت والارض۔۔۔۔۔ العزیز الغفار (39: 5) ” اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا۔ وہی دن پر رات اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے ۔ اس نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخر کررکھا ہے کہ ہر ایک ، ایک وقت مقرر تک چلے جارہا ہے۔ جان رکھو & وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے “۔ اور ایک دوسرا منظر سورت کے وسط میں ہے۔ الم تران اللہ ۔۔۔۔۔ لاولی الالباب (39: 21) ” کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا & پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا & پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جس کی قسمیں مختلف ہیں۔ پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑگیں ، پھر آخر کار ان کو بھس بنا دیتا ہے۔ درحقیقت اس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے “۔ ان دونوں کھلے مشاہد اور مناظر میں زمین و آسمان کی تخلیق کی طرف مختصر اشارات کیے گئے ہیں۔ اس سورت میں انسانی زندگی کی جھلکیاں بھی دکھائی گئی ہیں۔ انسانی نفسیات میں گہرائیوں تک جاکر بعض موتی نکال لائے گئے ہیں۔ اور یہ اس سورت میں جگہ جگہ بکھیردیئے گئے ہیں۔ آغاز ہی میں تخلیق انسانیت کی کہانی ہے۔ خلقکم من نفس۔۔۔۔ ھو فانی تصرفون (39: 6) ” اس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ، پھر وہی ہے جس نے اس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اس نے تمہارے لیے مویشیوں سے آٹھ نر و مادہ پیدا کیے۔ وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں میں تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے ، بادشاہی اس کی ہے ، کوئی معبود اس کے سوا نہیں۔ پھر تم کدھر پھرائے جارہے ہو۔ اور مشکلات اور آسانیوں میں نفس انسانی کا مختلف درعمل۔ واذامس۔۔۔۔۔ من قبل (39:8) ” انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرکے اسے پکارتا ہے۔ پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکاررہا تھا “۔ فاذامس۔۔۔۔ علی علم (39: 49) ” انسان کو جب مصیبت چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اٹھا دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا۔ نیز یہ کہ انسانی جانیں اور نفوس دراصل پر حال میں اللہ کے قبضے میں ہیں۔ اللہ یتوفی الانفس ۔۔۔۔۔ لقوم یتفکرون (39: 42) ” یہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کرلیتا ہے۔ پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے ، اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں وقت مقررہ رک کے لیے واپس بھیج دیتا ہے۔ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں “۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ پوری سورت میں آخرت کی فضا ہے۔ اور سورة کا خاتمہ بھی ایک ایسے منظر پر ہوتا ہے جس میں آخرت کے حالات عیاں ہیں۔ وتری الملٰئکة۔۔۔۔ رب العلیمن (39: 75) ” اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کررہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان ٹھیک حق کیساتھ فیصلہ ہوگا اور پکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ رب العالمین کے لیے “۔ آخرت کی یہ فضا۔ اس پوری سورت کے مضامین اور اس کی فضا کے ساتھ نہایت موزوں ہے۔ اور رنگ اور ان احساسات کے مطابق ہے جو اس میں انسانی دل کے اندر پیدا کیے گئے ہیں۔ پوری سورت میں انسان کے اندر خصوع ، خشوع ، آخرت کا خوف اور اس کے قلب کے اندر کپکپی پیدا کی گئی ہے۔ چناچہ پوری سورت میں ہم وہ حالات پاتے ہیں جو انسانی دل میں خشیت ، خوف اور ارتعاش پیدا کرتے ہیں۔ مثلا ایسا کردار اس سورت میں ہے ، جو اللہ کے سامنے رات کو کھڑا ہے ، سجود اور رکوع میں اور آخرت سے ڈررہا ہے اور رحمت ربی کا امیدوار ہے۔ پھر ایسے کردار بھی نظر آتے ہیں جو اللہ سے ڈرے سہمے ہیں اور جن کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہیں اور جب وہ تلاوت قرآن کرتے ہیں تو ان کے دل تسبیح کرتے جاتے ہیں اور وہ اللہ کے ذکر وفکر میں مشغول ہوتے ہیں ۔ اس سورت میں ہدایات دی جاتی ہیں کہ اللہ سے ڈرو ، تقوی اختیار کرو اور اللہ کے عذاب سے بچنے کی فکر کرو۔ قل یٰعباد الذین اٰمنوا اتقوا ربکم (39: 10) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے رب سے ڈرو “۔ قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم (39: 13) ” کہہ دیجئے میں اگر اپنے رب کی معصیت کروں تو یوم عظیم کے عذاب سے ڈرتا ہوں “۔ لھم من فوقھم۔۔۔۔۔ یعباد فاتقون (39: 16) ” ان پر آگ کی چھتریاں ہیں۔ اوپر سے بھی چھائی ہوئی ہوں گی اور نیچے سے بھی یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے کہ اے میرے بندو & میرے غضب سے بچو “۔ پھر قیامت کے مناظر اور وہاں کے جزع وفزع میں اور اللہ کی طرف یکسوئی اور اس کے خوف میں یہی خدا خوفی کی فضا نظر آتی ہے۔ یہ پوری سورت عقیدۂ توحید اور فکر آخرت کے موضوع پر مشتمل ہے۔ اس سورت کو بڑے بڑے درس میں تقسیم کرنا مشکل ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے اسفار پر مشتمل ہے جو توحید و قیامت کے مطابق سفر ہیں اور ان میں یا تو قیامت کا کوئی منظر پیش کیا گیا ہے یا قیامت کی کوئی جھلکی دکھائی گئی ہے۔ مناسب ہے کہ اس سورت کو اس طرح چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں لیا جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi