Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 1

سورة الزمر

تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾

The revelation of the Qur'an is from Allah , the Exalted in Might, the Wise.

اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالٰی غالب با حکمت کی طرف سے ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Order for Tawhid and the Refutation of Shirk Allah tells us that the revelation of this Book, which is the magnificent Qur'an, is from Him, and is truth in which there is no doubt whatsoever. This is like the Ayat: وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الاٌّمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِينٍ And truly, this is a revelation from the Lord of the creatures, which the trustworthy Ruh (Jibril) has brought down upon your heart that you may be (one) of the warners, in the plain Arabic language. (26:192-195) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِالذِّكْرِ لَمَّا جَأءَهُمْ وَإِنَّهُ لَكِتَـبٌ عَزِيزٌ لااَّ يَأْتِيهِ الْبَـطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلااَ مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ And verily, it is a mighty Book. Falsehood cannot come to it from before it or behind it, (it is) sent down by the All-Wise, Worthy of all praise. (40: 41-42) And Allah says here: تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ The revelation of this Book is from Allah, the Almighty, meaning, the Almighty, All-Powerful. الْحَكِيمِ (the All-Wise). meaning, in all that He says, does, legislates and decrees. إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ

باطل عقائد کی تردید ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ یہ قرآن عظیم اسی کا کلام ہے اور اسی کا اتارا ہوا ہے ۔ اس کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جیسے اور جگہ ہے ( وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ١٩٢؀ۭ ) 26- الشعراء:192 ) ، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے ۔ جسے روح الامین لے کر اترا ہے ۔ تیرے دل پر اترا ہے تاکہ تو آگاہ کرنے والا بن جائے ۔ صاف فصیح عربی زبان میں ہے اور آیتوں میں ہے یہ باعزت کتاب وہ ہے جس کے آگے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا یہ حکمتوں والی تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اتری ہے ۔ یہاں فرمایا کہ یہ کتاب بہت بڑے عزت والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے اتری ہے جو اپنے اقوال افعال شریعت تقدیر سب میں حکمتوں والا ہے ۔ ہم نے تیری طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے ۔ تجھے چاہیے کہ خود اللہ کی عبادتوں میں اور اس کی توحید میں مشغول رہ کر ساری دنیا کو اسی طرف بلا ، کیونکہ اس اللہ کے سوا کسی کی عبادت زیبا نہیں ، وہ لاشریک ہے ، وہ بےمثال ہے ، اس کا شریک کوئی نہیں ۔ دین خالص یعنی شہادت توحید کے لائق وہی ہے ۔ پھر مشرکوں کا ناپاک عقیدہ بیان کیا کہ وہ فرشتوں کو اللہ کا مرقب جان کر ان کی خیالی تصویریں بنا کر ان کی پوجا پاٹ کرنے لگے یہ سمجھ کر یہ اللہ کے لاڈلے ہیں ، ہمیں جلدی اللہ کا مقرب بنا دیں گے ۔ پھر تو ہماری روزیوں میں اور ہر چیز میں خوب برکت ہو جائے گی ۔ یہ مطلب نہیں کہ قیامت کے روز ہمیں وہ نزدیکی اور مرتبہ دلوائیں گے ۔ اس لئے کہ قیامت کے تو وہ قائل ہی نہ تھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں اپنا سفارشی جانتے تھے ۔ جاہلیت کے زمانہ میں حج کو جاتے تو وہاں لبیک پکارتے ہوئے کہتے اللہ ہم تیرے پاس حاضر ہوئے ۔ تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کے اپنے آپ کا مالک بھی تو ہی ہے اور جو چیزیں ان کے ماتحت ہیں ان کا بھی حقیقی مالک تو ہی ہے ۔ یہی شبہ اگلے پچھلے تمام مشرکوں کو رہا اور اسی کو تمام انبیاء علیہم السلام رد کرتے رہے اور صرف اللہ تعالیٰ واحد کی عبادت کی طرف انہیں بلاتے رہے ۔ یہ عقیدہ مشرکوں نے بےدلیل گھڑ لیا تھا جس سے اللہ بیزار تھا ۔ فرماتا ہے ( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا 36؀ ) 16- النحل:36 ) ، یعنی ہر امت میں ہم نے رسول بھیجے کہ تم اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو اور فرمایا ( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25؀ ) 21- الأنبياء:25 ) ، یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ معبود برحق صرف میں ہی ہوں پس تم سب میری ہی عبادت کرنا ۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان فرما دیا کہ آسمان میں جس قدر فرشتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی بڑے مرتبے والے کیوں نہ ہوں سب کے سب اس کے سامنے لاچار عاجز اور غلاموں کی مانند ہیں اتنا بھی تو اختیار نہیں کہ کسی کی سفارش میں لب ہلا سکیں ۔ یہ عقیدہ محض غلط ہے کہ وہ اللہ کے پاس ایسے ہیں جیسے بادشاہوں کے پاس امیر امراء ہوتے ہیں کہ جس کی وہ سفارش کر دیں اس کا کام بن جاتا ہے اس باطل اور غلط عقیدے سے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ کے سامنے مثالیں نہ بیان کیا کرو ۔ اللہ اسے بہت بلند و بالا ہے ۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا سچا فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا ان سب کو جمع کر کے فرشتوں سے سوال کرے گا کہ کیا یہ لوگ تمہیں پوجتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے ، یہ نہیں بلکہ ہمارا ولی تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنات کی پرستش کرتے تھے اور ان میں سے اکثر کا عقیدہ و ایمان انہی پر تھا ۔ اللہ تعالیٰ انہیں راہ راست نہیں دکھاتا جن کا مقصود اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنا ہو اور جن کے دل میں اللہ کی آیتوں ، اس کی نشانیوں اور اس کی دلیلوں سے کفر بیٹھ گیا ہو ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے عقیدے کی نفی کی جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے تھے مثلاً مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں ۔ یہود کہتے تھے عزیز اللہ کے لڑکے ہیں ۔ عیسائی گمان کرتے تھے کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں ۔ پس فرمایا کہ جیسا ان کا خیال ہے اگر یہی ہوتا تو اس امر کے خلاف ہوتا ، پس یہاں شرط نہ تو واقع ہونے کے لئے ہے نہ امکان کے لئے ۔ بلکہ محال کے لئے ہے اور مقصد صرف ان لوگوں کی جہالت بیان کرنے کا ہے ۔ جیسے فرمایا ( لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ 17؀ ) 21- الأنبياء:17 ) اگر ہم ان بیہودہ باتوں کا ارادہ کرتے تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اگر ہم کرنے والے ہی ہوئے اور آیت میں ہے ( قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ 81؀ ) 43- الزخرف:81 ) یعنی کہدے کہ اگر رحمان کی اولاد ہوتی تو میں تو سب سے پہلے اس کا قائل ہوتا ۔ پس یہ سب آیتیں شرط کو محال کے ساتھ متعلق کرنے والی ہیں ۔ امکان یا وقوع کے لئے نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ نہ یہ ہو سکتا ہے نہ وہ ہو سکتا ہے ۔ اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے وہ فرد احد ، صمد اور واحد ہے ۔ ہر چیز اس کی ماتحت فرمانبردار عاجز محتاج فقیر بےکس اور بےبس ہے ۔ وہ ہر چیز سے غنی ہے سب سے بےپرواہ ہے سب پر اس کی حکومت اور غلبہ ہے ، ظالموں کے ان عقائد سے اور جاہلوں کی ان باتوں سے اس کی ذات مبرا و منزہ ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] مکی سورة کا آغاز عموماً ایسی ہی آیات سے ہوا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کفار مکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت اور کلام کو منزل من اللہ نہیں سمجھتے تھے۔ اس آیت میں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب نبی کی اپنی تصنیف نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ اللہ سب سے زبردست ہے اور اپنے فرامین و احکام کو نافذ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ چونکہ حکیم ہے لہذا اس کا یہ کلام بھی حکمتوں سے لبریز ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْم “ الکتب میں الف لام عہد کا ہونے کی وجہ سے ترجمہ ” اس کتاب “ کیا گیا ہے۔ کفار کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بنا لیا ہے، جیسا کہ سورة طور میں ہے : (اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَـقَوَّلَهٗ ۚ بَلْ لَّا يُؤْمِنُوْنَ ) [ الطور : ٣٣ ] ” یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ خود گھڑ لیا ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ نے سورت کی ابتدا اس بات سے فرمائی کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے، ساتھ ہی اپنی دو صفات ذکر فرمائیں، تاکہ وہ اس کلام کو معمولی خیال نہ کریں، بلکہ اس کی اہمیت سمجھیں۔ ایک یہ کہ یہ کلام نازل کرنے والا عزیز یعنی سب پر غالب ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ اس کا ذرہ بھر مقابلہ بھی کرسکے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ حکیم یعنی حکمت والا ہے، اس لیے یہ کتاب سراسر دانائی اور حکمت پر مشتمل ہے، کوئی عقل سے عاری شخص ہی اس سے بےرخی اختیار کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی سورتوں کی ابتدا اس بات سے فرمائی ہے کہ یہ اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور ہر جگہ اس کی اہمیت واضح کرنے کے لیے اپنی چند صفات کا تذکرہ فرمایا ہے، مثلاً سورة مومن کے شروع میں فرمایا : تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ حم۔ اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ “ سورة جاثیہ اور احقاف کے شروع میں فرمایا : (تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ ’ حم اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ “ سورة یٰس کے شروع میں فرمایا : (تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم ) ” یہ سب پر غالب، نہایت مہربان کا نازل کیا ہوا ہے۔ “ سورة حٰم السجدہ کے شروع میں فرمایا : تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۔ اس بیحد رحم والے، نہایت مہربان کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔ “ ظاہر ہے اس میں قرآن مجید کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کی تاکید ہے اور اس کی خوبی اور فضیلت کا بیان بھی، کیونکہ کلام کرنے والا جتنی اعلیٰ صفات والا ہوگا اس کا کلام بھی اتنا ہی اعلیٰ اور کامل ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے (کہ غالب ہونا اس کا مقتضی تھا کہ جو اس کی تکذیب کرے اس کو سزا دے دی جاوے، مگر چونکہ حکیم بھی ہے اور مہلت میں مصلحت تھی، اس لئے سزا میں مہلت دے رکھی ہے) ہم نے ٹھیک طور پر اس کتاب کو آپ کی طرف نازل کیا ہے سو آپ (قرآن کی تعلیم کے موافق) خالص اعتقاد کر کے اللہ کی عبادت کرتے رہیئے (جیسا اب تک کرتے رہے ہیں اور جب آپ پر بھی یہ واجب ہے تو اوروں پر کیوں واجب نہیں ہوگا، اے لوگو) یاد رکھو عبادت جو کہ (شرک وریا سے) خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزا وار ہے اور جن لوگوں نے (عبادت خالصہ چھوڑ کر) خدا کے سوا اور شرکاء تجویز کر رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم تو ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں (یعنی ہمارے حوائج یا عبادت کو خدا کے حضور پیش کردیں جیسا دنیا میں وزراء اور دربار سلاطین میں اس کام کے ہوتے ہیں) تو ان کے (اور ان کے مقابل اہل ایمان کے) باہمی اختلافات کا (قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ (عملی) فیصلہ کر دے گا (کہ اہل توحید کو جنت میں اور اہل شرک کو دوزخ میں داخل کر دے گا یعنی ان لوگوں کے نہ ماننے پر آپ غم نہ کریں ان کا فیصلہ وہاں ہوگا اور اس کا بھی تعجب نہ کریں کہ باوجود قیام دلائل کے یہ حق پر نہیں آتے کیونکہ) اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو راہ پر نہیں لاتا جو (قولاً ) جھوٹا اور (اعتقاداً ) کافر ہو (یعنی منہ سے اقوال کفریہ اور دل سے عقائد کفریہ پر مصر ہو اور اس سے باز نہ آنے کا اور طلب حق کا قصد ہی نہ کرتا ہو تو اس کے اس عناد سے اللہ تعالیٰ بھی اس کو توفیق ہدایت کی نہیں دیتا اور چونکہ مشرکین میں بعضے خدا کی طرف اولاد کی نسبت کرتے تھے، جیسے ملائکہ کو بنات اللہ کہتے تھے، آگے ان کا رد ہے کہ) اگر (بالفرض) اللہ تعالیٰ (کسی کو اولاد بناتا تو بوجہ اس کے کہ بدون ارادہ خداوندی کوئی فعل واقع نہیں ہوتا، اول اولاد بنانے کا ارادہ کرتا اور اگر) کسی کو اولاد بنانے کا ارادہ کرتا تو (چونکہ ماسوائے اللہ سب مخلوق ہیں اس لئے) ضرور اپنی مخلوق (ہی) میں سے جس کو چاہتا (اس امر کے لئے) منتخب فرماتا (اور لازم باطل ہے کیونکہ) وہ (عیوب سے) پاک ہے (اور غیر جنس ہونا عیب ہے اس لئے کسی مخلوق کو اولاد بنانے کے لئے منتخب کرنا محال ہوا اور محال کا ارادہ کرنا بھی محال ہے اس طرح ثابت ہوگیا کہ) وہ ایسا للہ ہے جو واحد ہے (کہ اس کا کوئی شریک بالفعل نہیں اور) زبردست ہے (اس کا کوئی شریک بالقوة بھی نہیں کیونکہ صلاحیت جب ہوئی کہ کوئی ویسا ہی زبردست ہوتا اور وہ ہے نہیں۔ آگے دلائل توحید ارشاد فرماتے ہیں کہ) اس نے زمین اور آسمان کو حکمت سے پیدا کیا، وہ رات (کی ظلمت) کو دن (کی روشنی کے محل یعنی ہوا) پر لپیٹتا ہے (جس سے رات غائب اور دن آموجود ہوجاتا ہے) اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ (ان میں) ہر ایک وقت مقررہ تک چلتا رہے گا یاد رکھو کہ (ان دلائل کے بعد انکار توحید سے اندیشہ عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر بھی ہے کیونکہ) وہ زبردست ہے (لیکن اگر بعد انکار کے بھی کوئی تسلیم کرلے تو انکار گزشتہ پر عذاب نہ دے گا، کیونکہ وہ بڑا بخشنے والا (بھی) ہے (اس سے توحید کی ترغیب اور ترک سے ترہیب ہوگئی اور اوپر استدلال تھا دلائل آفاقیہ سے آگے استدلال ہے دلائل انفسیہ سے جس میں ضمنی طور پر کچھ آفاقی حالات بھی آگئے ہیں، یعنی) اس نے تم لوگوں کو تن واحد (یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا (کہ اول وہ تن واحد پیدا ہوا) پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا (مراد اس سے حوا ہیں آگے پھر ان سے تمام آدمی پھیلا دیئے) اور (بعد حدوث کے) تمہارے (نفع وبقاء کے لئے) آٹھ نر و مادہ چار پایوں کے پیدا کئے (جن کا ذکر پارہ ہشتم کے ربع پر رکوع (آیت) وھو الذی انشاء جنت۔ میں آیا ہے اور ان کی تخصیص اس لئے کہ یہ زیادہ کام میں آتے ہیں۔ یہی ہے وہ جزو جو آفاقیات میں سے تبعاً مذکور ہوگیا اور تبعاً اس لئے کہا گیا کہ مقصود بیان کرنا ہے بقاء انفس کا اور یہ اسباب بقاء میں سے ہے آگے کیفیت خلقت نسل انسانی کی بیان فرماتے ہیں کہ) وہ تم کو ماؤں کے پیٹ میں ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر (اور دوسری کیفیت کے بعد تیسری کیفیت پر علیٰ ہذا مختلف کیفیات پر) بناتا ہے (کہ اول نطفہ ہوتا ہے پھر علقہ پھر مضغہ الیٰ آخرہ اور یہ بنانا) تین تاریکیوں میں (ہوتا ہے ایک تاریکی شکم کی، دوسری رحم کی، تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ ان مختلف کیفیات، متعدد اندھیریوں میں تخلیق کمال قدرت کی دلیل ہے اور ظلمات ثلثہ میں پیدا کرنا کمال علم کی دلیل ہے) یہ ہے اللہ تمہارا رب (جس کی صفات ابھی تم نے سنیں) اسی کی سلطنت ہے، اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو (ان دلائل کے بعد) تم کہاں (حق سے) پھرے چلے جا رہے ہو (بلکہ واجب ہے کہ توحید کو قبول کرو اور شرک کو چھوڑ دو ) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ۝ ١ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لہزا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١۔ ٢) یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اس اللہ تعالیٰ کی جو کافروں کو سزا دینے میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اسی بنا پر اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے ہم نے صحیح طریقے پر بذریعہ جبریل امین اس کو تاب کو آپ پر نازل کیا ہے۔ سو آپ خالص اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہو اور اسی کی توحید کے قائل رہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ { تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ } ” اس کتاب کا نازل کیا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست ‘ کمال حکمت والا ہے۔ “ سورة الزمر اور سورة المومن کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ چناچہ ان دونوں سورتوں کا آغاز بھی ایک جیسے الفاظ سے ہو رہا ہے ‘ صرف ” الحکیم “ اور ” العلیم “ کا فرق ہے۔ جیسے کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ زیر مطالعہ ضمنی گروپ کی ان آٹھ سورتوں میں سے پہلی سورت یعنی سورة الزمر کے آغاز میں حروفِ مقطعات نہیں ہیں جبکہ باقی ساتوں سورتیں (سورۃ المومن تا سورة الاحقاف) حٰمٓ کے حروف سے شروع ہوتی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 This is a brief introduction to the Surah which only stresses the point that the Qur'an is not Muhammad's word, as the disbelievers assert, but it is Allah's Word, which He Himself has sent down. Along with this, two of Allah's attributes have been mentioned to warn the listeners of two realities so that they do not underestimate this Word but understand its full importance: (1) That Allah Who has sent it down, is All-Mighty; that is, He is so powerful that no power can prevent His will and decisions from being enforced and none can dare resist Him in any way; (2) that He is All-wise; that is, the guidance He is giving in this Book, is wholly based on wisdom, and only an ignorant and foolish person can turn away from it. (For further explanation, sec E.N. 1 of Surah As-Sajdah).

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :1 یہ اس سورہ کی مختصر تمہید ہے جس میں بس یہ بتانے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا کلام نہیں ہے ، جیسا کہ منکرین کہتے ہیں ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس نے خود نازل فرمایا ہے ۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر کر کے سامعین کو دو حقیقتوں پر متنبہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اس کلام کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں بلکہ اس کی اہمیت محسوس کریں ۔ ایک یہ کہ جس خدا نے اسے نازل کیا ہے وہ عزیز ہے ، یعنی ایسا زبردست ہے کہ اس کے ارادوں اور فیصلوں کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ اس کے مقابلہ میں ذرہ برابر بھی مزاحمت کر سکے ۔ دوسرے یہ کہ وہ حکیم ہے ، یعنی جو ہدایت وہ اس کتاب میں دے رہا ہے وہ سراسر دانائی پر مبنی ہے اور صرف ایک جاہل و نادان آدمی ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، السجدہ ، حاشیہ نمبر 1 ۔ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٢ حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بنا لیا ہے یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ یہ قرآن اللہ زبردست صاحب حکمت کا نازل کیا ہوا ہے زبردست تو وہ ایسا ہے کہ قرآن سے پہلے کے اس کے احکام کو جن پہلی قوموں نے نہیں مانا۔ ان کو طرح طرح کے عذابوں سے اس نے ہلاک کردیا صاحب حکمت وہ ایسا ہے کہ مرنے کے بعد نیک و بد جو انجام ہونے والا تھا اس نے اپنے کلام میں وہ سب انسان کو جتلا دیا۔ تاکہ کسی کو اس انجام سے انجان پنے کا عذر باقی نہ رہے۔ اب دوسری آیت میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے فرمایا۔ اے رسول اللہ کے جس قرآن کے نازل کرنے کا ذکر پہلی آیت میں ہے۔ وہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ منکر قرآن یہ جو کہت ہیں۔ کہ قرآن خود تم نے بنا لیا ہے وہ جھوٹے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کو یہ تو معلوم ہے کہ تم ان پڑھ ہو۔ اور باتیں اس قرآن میں ایسی ہیں۔ کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار اہل کتاب بھی بغیر آسمانی وحی کی مدد کے ان باتوں سے ناواقف تھے۔ تو اب اس بات میں شک و شبہ کرنے کا کسی عقل مند کو کیا موقع باقی رہا۔ کہ یہ قرآن کتاب آسمانی ہے۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب یہ آسمانی کتاب نازل ہوئی۔ تو وہ بلاشک اللہ کے سچے رسول ہیں حق کے معنی انصاف کے ہیں۔ جس اللہ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا۔ کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں تو یہ عین انصاف ہے کہ اس کی تعظیم میں کسی دوسرے کو شریک نہ کیا جاوے حق کی تفسیر خالص عبادت الٰہی سے فرما کر تعجب کے طور پر پھر مشرکوں کا ذکر فرمایا۔ تاکہ معلوم ہوجاوے کہ جو لوگ اپنے اور اپنی ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے والے کی تعظیم میں بلاسبب دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں صحیح ١ ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے معاذ (رض) بن جبل کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اللہ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کریں۔ جن بندوں نے اللہ کا یہ حق پورا پورا ادا کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حق اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ان بندوں کو دوزخ کے عذاب سے بچاوے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیتوں میں خالص دل کی عبادت کا جو حکم ہے حدیث کے موافق۔ وہ بندوں پر اللہ کا ایک حق ہے۔ جس کے پورا پورا ادا ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بندوں کا یہ حق اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ اللہ کے اس حق کے ادا کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب سے بچاوے آیتوں میں خالص عبادت الٰہی کے ساتھ مشرکوں کا جو ذکر ہے۔ اس کا مطلب اس صحیح حدیث کے موافق یہ ہے۔ کہ مشرک لوگ اللہ کے حق میں خلل ڈالتے ہیں۔ اس لئے وہ دوزخ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جہل۔ ص ٥٦٦ ج ١) (١ ؎ صحیح مسلم مع نودی باب الدللہ علی من مات علی التوحید دخلہ الجنۃ قطعاً ص ٤٤ ج ١ و صحیح بخاری باب من خص بالعلم قوما دون قوم وایضاً ج ٢ ص ٩٦٢ باب من جاھد نفسہ فی طاعۃ اللہ)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39: 1) تنزیل الکتب۔ مضاف مضاف الیہ۔ کتاب نازل کرنا۔ الکتاب سے مراد یہ سورة یا قرآن مجید ہے یہ مبتداء ہے اور من اللّٰہ خبر ہے۔ اس کتاب کا نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے۔ العزیز۔ (اپنی حکومت میں سب پر غالب) الحکیم۔ (اپنی صنا عی میں حکمت والا) ۔ اللہ کی صفات ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

سورة زمر رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9: اسرار و معارف : اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے یا اللہ سے بات منوانے یا ہماری بات وہاں تک ہپنچانے کے لیے یہ ذریعہ اور واسطہ اختیار کر رکھے ہیں ان کا فیصلہ بھی ہوجائے گا۔ آج تو اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں اور جھگڑ رہے ہیں مگر فیصلے کے دن انہیں پتہ چل جائے گا کہ غیر اللہ کی عبادت و اطاعت کا نتیجہ کیا ہے اور کوئی غلط فہمی نہ رہے گی یہ ایسے بدبخت ہیں کہ ان کی زبانوں پہ جھوٹ اور دل میں کفر ہے یعنی یہ بھی جھوٹ بولتے ہیں کہ قرب الہی کا وسیلہ بنا رکھے ہیں بھلا اللہ کو مانتے تو پھر اس کی اطاعت کیوں نہ کرتے یعنی رسومات اور رواجات کو بھی قرب الہی کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا اور نہ ہوتے ہیں لوگ اپنی اغراض کی تکمیل کے لیے جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم قرب الہی حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں اور ایسے لوگوں کے دلوں میں کفر ہوتا ہے یعنی ہدایت کی طلب بھی نہیں ہوتی لہذا اللہ انہیں ہدایت نصیب نہیں فرماتے۔ کبھی کسی کو اللہ کا بیٹا اور کبھی بیٹیاں بناتے ہیں بھلا اگر اللہ نے کسی کو اپنی اولاد بنانا ہوتا تو وہ اپنی مخلوق سے اولاد منتخب کرلیتا کیا بودا خیال ہے کہ اس کے علاوہ کوئی ان کا ہمسر نہیں سب مخلوق عاجز محتاج و بےبس تو وہ ان میں سے اولاد بنا لیتا۔ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے کوئی اس جیسا نہیں وہ اکیلا ہے سخت قہر والا ہے یعنی یہ عقیدہ اس کے قہر کو دعوت دینے والی بات ہے یہ سب اس کی صنعت ہے کہ پیدا کردیا آسمانوں کو اور زمین کو پھر ان میں شب و روز کا عجیب و غریب سلسلہ بنا دیا کبھی رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور پھر دن رات کو نگل لیتا ہے۔ سورج چاند وغیرہ کو لگا دیا مقرر اوقات اور مقرر راستوں پہ کہ ہر ایک طے شدہ راستہ وقت اور جگہ کے مطابق اپنے سفر میں ہے اور مخلوق اس مربوط نظام کی محتاج کہ ذرا اس میں گڑبڑ ہو تو ساری دنیا تباہ ہوجائے بھلا یہ اللہ کی اولاد کیسے ہوسکتے ہیں ہاں وہ غالب ہے ان سب میں سے کسی چیز کا مھتاج نہیں اور اگر اب بھی توبہ کرلو تو وہ بہت بڑا بخش دینے والا ہے۔ اپنی اصل تو دیکھو کہ تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا پہلے ان کی اہلیہ اور پھر باری باری سب لوگ اور یوں جہاں آباد ہوا پھر قدرت کاملہ سے تمہیں جانوروں کی مختلف اقسام عطا فرمائیں اور ذرا اپنی تخلیق کا عمل دیکھو کہ کس طرح ماں کے پیٹ اور اس کے اندر رحم کے پردوں کے تاریک ترین مقام پر تدریجاً بچے کو بناتا چلا جاتا ہے اور اتنی تاریکیوں میں کس قدر باریک رگیں اعضا سمع و بصر عقل و خرد کے تمام تانے بانے جوڑتا اور ان میں احساس و شعور بھرتا چلا جاتا ہے۔ یہ ہے قادر مطلق تمہارا پروردگار جسے ساری بادشاہی اور اقتدار سزاوار ہے اور خوبجان لو نہ کوئی دوسرا اس جیسا ہے اور نہ ہی کوئی اور عبادت کا مستحق بھلا تم کہاں دھکے کھانے چلے ہو۔ اگر تم اس کی عمت کا انکار ہی کرتے رہے تو اسے تمہاری کوئی پرواہ ہے نہ ضرورت ہاں یہ یاد رکھو کہ وہ اپنے بندوں اور مخلوق سے کفر کو پسند نہیں کرتا اس پر اس کا غضب مرتب ہوتا ہے اور اگر تم اس کا شکر ادا کرو ایمان لے آؤ اور اطاعت کی راہ اپناؤ کہ یہی طریق شکر ہے تو تم اس کی رضامندی حاصل کرسکوگے یعنی ادھر تمہارا نقصان اور ادھر تمہارا ہی نفع ہے۔ اور یاد رکھو اللہ کو چھوڑ کر جن سے تم نے امیدیں باندھ رکھی ہیں یہ کام نہ آئیں گے کہ ہر کوئی اپنے حساب کتاب کی فکر میں ہوگا اور کوئی کسی کا بوجھ نہ بانٹ سکے گا اور آخر کار تمہیں اللہ ہی کی جو پروردگار ہے بارگاہ میں لوٹنا ہے کہ ربوبیت کا تقاضا ہے کہ ہر کام اپنے انجام اور کمال کو پہنچے لہذا تم سارے عمل سے گزر کر وہاں پہنچوگے تو دیکھو گے کہ خود تمہیں جو باتیں بھول گئی ہیں وہ ان کو بھی جانتا ہے اور زندگی بھر کا کردار تمہیں بتائے گا بلکہ وہ دلوں کے بھید تک جانتا ہے ۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ جو انسان بھی مبتلائے مصیبت ہو اور کسی طرف سے بھی امید نہ رہے تو اللہ ہی کو پکارتا ہے۔ پھر جب اس کی مصیبت دور کردے اور مشکل حل فرما دے تو وہ ساری بات اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں کرنا بھول جاتا ہے اور اللہ کی راہ چھوڑ کر غیر اللہ سے امیدیں باندھ لیتا ہے گویا انہیں اللہ کا ہمسر مان لیا ہو۔ ایسے لوگوں سے کہہ دیجیے کہ اللہ نے مہلت دی ہے عیش کرلو مگر یہ بہت کم مہلت ہے کہ کفر آخر کار تمہیں جہنم میں لے جائے نہیں تو کیا تمہیں ایسا اجر ملے گا یا جنت مل جائے گی ان لوگوں کی طرح جو خلوص دل سے عبادت کرتے اور راتوں کو سجدوں اور قیام سے سجاتے ہیں اور روز آخرت سے ڈرتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار اور امدوار کرم بھی ہیں ہرگز نہیں بھلا کی اللہ کی معرفت سے روشن دل اور کفر و جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا کبھی برابر ہوسکتے ہیں لیکن یہ باتیں اہل خرد ہی جان سکتے ہیں اور نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : تنزیل ( آہستہ آہستہ اتارتا ہے) اعبد (عبادت و بندگی کر) خالص (جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو) یقرب ( وہ قریب کرتا ہے) زلفی (قریب ہونا) اصطفی (اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ثمنیۃ ( آٹھ) ازواج ( زوج) (جوڑے ، نر اور مادہ) بطون ( بطن) (پیٹ) ظلمت (ظلمۃ) (اندھیرے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں) تصرفون (تم پلٹتے ہو، بہکتے ہو) تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر رات کو سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ( بخاری ، مسلم، ترمذی) مذکورہ حدیث سے سورة زمر کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس سورت میں ان مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو دین اسلام کی وجہ سے کفار کے ہاتھوں شدید تکلیفیں برداشت کر رہے تھے اور کفار مکہ کے ظلم و ستم نے انہیں بیت اللہ کی سر زمین چھوڑ کر حبش اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت پر مجبور کردیا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے پوری امت کو بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر جس قرآن حکیم کو نازل کیا ہے وہ اس اللہ کی طرف سے ہے جو ہر طرح کی طاقتیں اور قوتیں رکھتا ہے اور ہر بات اور ہر چیز کی مصلحت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ پوری انسانیت سے اس قرآن مجید کا مطالبہ ہے کہ 1۔ اس ذات کی عبادت و بندگی اس طرح کی جائے کہ اس میں کسی دوسرے کی عبادت کا شائبہ یا ملاوٹ تک نہ ہو۔ عبادت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی مقصود ہو۔ 2۔ اہل ایمان کا طرز عمل یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ ہی کو طاقت و قوت مان کر اس کی عبادت کریں اور ان کفار عرب کی طرح نہ ہوجائیں جو اس بات کو تو مانتے ہیں کہ ساری قوت و طاقت کا سر چشمہ اللہ کی ذات ہے لیکن وہ عبادت و بندگی میں دوسروں کو شریک کر کے ان بےحقیقت بتوں کو اپنا سفارشی سمجھتے ہیں جو کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کی کوئی اہلیت نہیں رکھتے۔ وہ ان بتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور جو اہل ایمان اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کو حقیر سمجھتے ہیں ۔ فرمایا کہ اس دنیا میں شاید اس کا فیصلہ نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا فیصلہ فرما دیں گے۔ بہر حال اللہ ایسے لوگوں کو راہ ہدایت نہیں دکھاتا جو کفر و انکار کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ 3۔ اسی طرح وہ لوگ بھی راہ ہدایت سے بہت دور ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹھا سمجھ رکھا ہے ۔ یہ اللہ کی ذات پر ایک بہت بڑا الزام ہے کیونکہ وہ اس کائنات کا نظام چلانے میں قادر مطلق ہے وہ اس کو چلانے کے لئے کسی بیٹے ، بیٹی یا بیوی کا محتاج نہیں ہے۔ 4۔ زمین و آسمان اور چاند ، سورج ، ستارے یہ سب اسی نے بر حق پیدا کئے ہیں ۔ وہی رات اور دن اور ان کے الٹ پھیر کو پیدا کرنے والا ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے حکم کے تابع ہے وہ جس طرح چاہتا ہے ان سے کام لیتا ہے۔ وہی زبردست قوتوں کا مالک ہے اور لوگوں کی کوتاہیوں کو معاف کرنے والا ہے۔ 5۔ انسان اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی نے اپنی قدرت کا ملہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کے وجود ہی سے ان کی بیوی حضرت حوا (علیہ السلام) کو پیدا کر کے تمام انسانوں کو دنیا میں پھیلا یا۔ 6۔ وہی ایک ذات ہے جس نے مویشوں یعنی بھیڑ ، بکری ، اونٹ اور گائے میں نر اور مادہ پیدا کئے تا کہ ان کی نسلیں چلیں اور وہ انسانوں کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرسکیں۔ 7۔ یہ اسی کی قدرت ہے کہ اس نے انسان کو تین اندھیروں میں رکھ کر پرورش کیا ۔ ماں کے پیٹ کا اندھیرا ، رحم مادر کا اندھیرا اور تیسرے اس جھلی کا اندھیرا جس جھلی میں انسانی بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ ہے وہ تمہارا پروردگار جس کی حکمرانی ہر چیز پر غائب ہے ۔ وہی ایک معبود ہے اس کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں ہے۔ یہی سیدھا راستہ ہے لیکن وہ لوگ جو اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر ٹیڑھے میڑھے راستوں پر چل رہے ہیں وہ کبھی منزل تک نہ پہنچ سکیں گے۔ خوش نصیب وہی لوگ ہیں جو صراط مستقیم پر چل کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارتے اور بناتے ہیں اور جنت کے مستحق بن جاتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ غالب ہونا اس کا مقتضی تھا کہ جو اس کی تکذیب کرے اس کو سزا دے دی جاوے، مگر چونکہ حکیم بھی ہے اور مہلت میں مصلحت تھی اس لئے سزا میں مہلت دے رکھی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن سورۃ صٓ کے آخر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہلوایا گیا کہ نبوت کے کام کے بدلے نہ میں تم سے کسی قسم کی طالب ہوں اور نہ میں تکلّف کرنے والا ہوں۔ جو کچھ تمہارے سامنے بیان کررہا ہوں وہ رب العالمین کی طرف سے ایک نصیحت ہے۔ جو اس نصیحت کو تسلیم نہیں کرے گا وہ ایک وقت کے بعد خود اس کا انجام دیکھ لے گا۔ سورة الزمر کا آغاز اس فرمان سے ہو رہا ہے کہ جو برے انجام سے بچنا چاہتا ہے اس کے لیے پیغام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے جس طرح اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کو اس ” اللہ “ نے نازل کیا ہے جو ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب اور زبردست ہے۔ غالب اور زبردست ہونے کے باوجود اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم ہی نے آپ کی طرف قرآن مجید کو حق اور سچ کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس کا پہلا حکم یہ ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اسی کی فرمانبرداری کرتے رہو ! اہل مکہ کو بارہا دفعہ یہ بات بتلائی گئی کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا ہے اس کے باوجود مکہ والے قرآن کو من جانب اللہ ماننے کے لیے تیا نہ تھے۔ حالانکہ انہیں مختلف الفاظ میں کئی مرتبہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم قرآن کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ یہ نبی یا کسی شخص کا بنایا ہوا ہے تو پھر تمہیں موقع دیا جاتا ہے کہ تم بھی اس جیسا قرآن بنا کرلے آؤ۔ تمہیں یہاں تک سہولت دی جاتی ہے کہ قرآن مجید کی کسی ایک سورت جیسی کوئی سورت بنا لاؤ۔ کفار اس چیلنج کا جواب دینے میں زندگی بھر ناکام رہے۔ مگر اس کے باوجود قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کا انکار کرتے رہے۔ نہ صرف انکار کرتے تھے بلکہ قرآن مجید کے خلاف مسلسل پروپیگنڈہ کرتے تھے کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اپنی اختراع ہے۔ ان کے مسلسل پروپیگنڈہ کی تردید میں قرآن مجید نے یہ اسلوب اپنایا کہ موقع محل کے مطابق کھلے الفاظ میں یا بین السطور یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ یہ قرآن صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب ہے۔ وہ چاہے تو لوگوں کو اپنی قوت و سطوت کے ذریعے اسے تسلیم کروا سکتا ہے لیکن اس نے اپنی حکمت کاملہ کے تحت لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ اسے تسلیم کریں یا اس کا انکار کرتے رہیں۔ قرآن مجید کا پہلا پیغام اور حکم یہ ہے کہ صرف ” اللہ “ کی تابعداری کرتے ہوئے اسی ایک کی عبادت کی جائے۔ یہی پہلی اور بڑی حکمت ہے۔ عبادت کے اس تصور کا وسیع تر تخیل یہ ہے کہ آدمی منڈی اور بازار میں ہو تو امانت و دیانت کا نمونہ بن جائے، کسی کے ہاں مزدور اور خدمت گزار ہو تو وفاداری کا پیکر ہوجائے، حکمران ہو یا کوئی ذمہ داری اٹھائے تو قوم کا خادم اور مالک حقیقی کا غلام بن کر رہے۔ غرضیکہ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور شعبہ رب کی غلامی اور سرافگندگی کے لیے وقف کرنے کا نام عبادت ہے۔ یہی انسان کی تخلیق کا مقصد اور اسی کے لیے انسان کا ہر عمل وقف ہونا چاہیے۔ انبیائے عظام اپنی دعوت کا آغاز اسی سے کیا کرتے تھے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی بات کہلوائی گئی ہے۔ (قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ) [ الانعام : ١٦٢ تا ١٦٣] ” کہہ دیجیے ! یقیناً میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ماننے والا ہوں۔ “ الدّین کا مفہوم : دین اسلام اپنے نام اور نظام کے اعتبار سے کامل اور اکمل ہے دین کے لفظی معانی ہیں تابع دار ہونا، دوسرے کو اپنا تابع دار بنانا۔ مکمل اخلاص اور یکسوئی کا اظہار کرنا، قانون، مکمل ضابطۂ حیات، جزا وسزا اور قیامت کے دن کے لیے بھی الدّین بولا جاتا ہے۔ (مزید تفصیل جاننے کے لیے درج ذیل تفسیر بالقرآن آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) تفسیر بالقرآن ” اَلدِّیْنَ “ کے معانی : ١۔ دین سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ( الفاتحۃ : ٣) ٢۔ دین کا معنٰی شریعت ہے۔ (النساء : ١٢٥) ٥۔ قانون : (یوسف : ٧٦) ٣۔ اطاعت اور بندگی۔ (الزّمر : ١١) ٤۔ شریعت : (یونس : ١٠٤) ۔ حکمرانی : (المومن : ٥٦) ٧۔ جزاء وسزا (بدلہ): (الذّ اریا ت : ٦ )

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 215 تشریح آیات ﷽ آیت نمبر 1 تا 3 سورت کا آغاز اس فیصلہ کن قرار داد سے ہوتا ہے۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم (39: 1) ” اس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے “۔ وہ زبردست ہے اور وہ اس قسم کی کتاب کے نزول پر قدرت رکھتا ہے۔ اور وہ حکیم ودانا ہے اور وہ جانتا ہے کہ نزول قرآن کس بارے میں ہے اور یہ حکیم کیوں ہے۔ یہ تمام کام اللہ نہایت حکمت اور تدبر اور تقدیر سے کرتا ہے۔ اس قرار داد پر بات طویل نہیں ہوتی کیونکہ یہ تو تمید تھی ، اصل بات کے لیے اور اصل موضوع کے لیے یہ پوری سورت وقف ہے۔ سورت کا نزول ہی اس موضوع کا ثبوت اور تاکید ہے۔ یعنی مسئلہ توحید ، اللہ کی بندگی میں توحید اور اسلامی نظام زندگی میں توحید۔ اور عقیدے ، بندگی اور نظام زندگی کو ہر پہلو سے شرک سے پاک کرنا۔ اور پھر اللہ تک رسائی کے لیے واسطوں کو ختم کرکے براہ راست اس کو پکارنا بغیر کسی سفارش کے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” تنزیل الخ “۔ ” تنزیل الکتب “ متبدا، ” من اللہ “ خبر ہے۔ یا ” تنزیل “ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ اور ” من اللہ الخ “ تزیل کے متعلق ہے۔ قال الفراء والزجاج ھو مبتدا وقولہ تعالیٰ (من اللہ العزیز الحکیم) خبرہ او خبر مبتدا محذوف ای ھذا المذکور تنزل، و (من اللہ) متعلق بتنزیل والوجہ الاول اوجہ (روح ج 23 ص 233) یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ یہ حکمانہ اس بادشاہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ اس نے اب تک اگر معاندین کو نہیں پکڑا تو اس میں حکمت ہے کہ منکرین کو مزید غور و فکر کا موقع مل جائے اور وہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لیے غالب اور حکیم بادشاہ کے حکمنامے کو مان لو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) جس طرح سورة صٓ میں توحید و رسالت اور قیامت کا ذکر تھا اسی طرح اس سورت میں بھی عقائد اسلامیہ کے اہم مسائل مذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت قرآن کی صداقت قیامت کا وقوع نفحہ صور اور حساب کتاب کے بعد اہل جنت کا جنت میں جانا اور اہل دوزخ کا عذاب میں گرفتار ہونا مذکور ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی قوت کی بنا پر منکروں کے لئے سزا کا اعلان کرتا ہے اور مصالح کی بنا پر مہلت دیتا ہے یعنی اظہار قوت بھی اور اظہار حکمت بھی دونوں کا اس عالم میں ظہور ہوتا رہتا ہے۔