Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 14

سورة الزمر

قُلِ اللّٰہَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّہٗ دِیۡنِیۡ ﴿ۙ۱۴﴾

Say, " Allah [alone] do I worship, sincere to Him in my religion,

کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کرکے صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] شرک سے سمجھوتہ ناممکن ہے :۔ آپ کو حکم یہ ہوتا تھا کہ خالصتاً اللہ اکیلے کی عبادت کریں۔ جبکہ کفار مکہ پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ آپ سے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ اور وہ سمجھوتہ اس بات پر چاہتے تھے کہ ہم آپ کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتے بشرطیکہ آپ ہمارے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیں۔ بالفاظ دیگر آپ لا الہ الا اللہ نہ کہیں کیونکہ یہی کلمہ ان کے بتوں کو ناکارہ ثابت کرتا تھا جسے وہ اپنی، اپنے آباء واجداد کی اور اپنے بتوں کی توہین سمجھتے تھے۔ اور اس کلمہ سے انکار ہی اللہ کی سب سے بڑی نافرمانی تھی۔ لہذا آپ کی زبان سے اس کا جواب یہ دلوایا گیا کہ مجھے تو حکم ہی یہی ہے کہ اکیلے اللہ کے سوا کسی بھی معبود کو تسلیم نہ کروں۔ اور اگر میں اس حکم کی نافرمانی کروں تو میں بھی اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ لہذا میں ایسا کام کسی قیمت پر نہیں کرسکتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ ۔۔ : لفظ ” اللہ “ کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی کہہ دے میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، کسی اور کی عبادت نہ اسے اصل سمجھ کر کرتا ہوں نہ سفارشی یا واسطہ سمجھ کر۔ پچھلی آیت : (قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَاللہ ۔۔ ) میں ایک اللہ کی عبادت کے امر کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اس آیت میں اس پر اپنے عمل کے اعلان کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تکرار نہیں ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلِ اللہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِيْنِيْ۝ ١٤ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ خلص الخالص کالصافي إلّا أنّ الخالص هو ما زال عنه شوبه بعد أن کان فيه، والصّافي قد يقال لما لا شوب فيه، وقوله تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] ، أي : انفردوا خالصین عن غيرهم .إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] ( خ ل ص ) الخالص ( خالص ) خالص اور الصافی دونوں مترادف ہیں مگر الصافی کبھی ایسی چیز کو بھی کہہ دیتے ہیں جس میں پہلے ہی سے آمیزش نہ ہو اور خالص اسے کہتے ہیں جس میں پہلے آمیزش ہو مگر اس سے صاف کرلیا گیا ہو ۔ آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہوکر صلاح کرنے لگے میں خلصوا کے معنی دوسروں سے الگ ہونا کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ [ البقرة/ 139] اور ہم خالص اس کی عبادت کرنے والے ہیں ۔ إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے ۔ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تو عبادت و توحید کو اسی کے لیے خالص رکھتا ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤ { قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِیْنِیْ } ” کہہ دیجیے کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ “ نوٹ کیجیے ! اس مضمون کو یہاں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ اور ہر بار پڑھنے سے اس میں ایک نیا حسن نظر آتا ہے اور ایک نئی تاثیر کا احساس ہوتا ہے۔ جب کہ ہم انسانوں کی دنیا میں کسی عبارت کے اندر الفاظ یا مضمون کی تکرار ‘ اس تحریر یا تصنیف کا بہت بڑا عیب بن جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی فصاحت و بلاغت کا معجزہ ہے کہ اس کے ہاں تکرار سے کلام کا حسن اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہاں اس مضمون کی غیر معمولی تکرار کی غرض وغایت کو سمجھنے اور اس اسلوبِ خاص میں تاکید ( emphasis) کی شدت کو محسوس کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سورت کے آغاز سے لے کر آیت زیر مطالعہ تک مذکورہ مضمون سے متعلقہ آیات کو ایک مرتبہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ آغاز میں فرمایا گیا : { اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ ۔ اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُط } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ ‘ پس بندگی کرو اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ آگاہ ہو جائو کہ اطاعت ِخالص اللہ ہی کا حق ہے “۔ اس کے بعد آیت ١١ ملاحظہ کیجیے : { قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّـہُ الدِّیْنَ ۔ ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ کہہ دیجیے مجھے حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے “۔ اور اب زیرمطالعہ آیت کا مضمون دیکھئے : { قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِیْنِیْ ۔ ” کہہ دیجیے کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے “۔ گویا تکرار پر تکرار ہے ‘ اصرار پر اصرار ہے اور تاکید پر تاکید ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:14) قل اللّٰہ اعبد مخلصا لہ دینی۔ (معنی کے لئے ملاحظہ ہو 39:2) ۔ ضمیر فاعل اعبد سے حال ہے۔ اور اللّٰہ۔ اعبد کا مفعول۔ مفعول کو مقدم لانے سے تاکید کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ کہہ دیجئے :۔ میں تو اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اپنے دین کو اس کے لئے (شریک وغیرہ سے) خالص کرتے ہوئے (تم اللہ کو چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرو نتیجہ کو تم خود ہی دیکھ لوگے)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

20:۔ ” قل اللہ اعبد الخ “ یہ دوسری بار دعوے کا ذکر ہے فرمایا دوبارہ اعلان کردو کہ میں تو صرف اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں۔ اور ہمیشہ اسی پر قائم رہوں گا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کروں گا۔ ” فاعبدوا الخ “ یہ امر تہدید اور تخویف اخروی ہے۔ تمہیں اختیار ہے اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ لیکن ایک بات یاد رکھو۔ قیامت کے دن سخت خسارے اور ناقابل تلافی نقصان میں رہو گے۔ جب جرم شرک کی پاداش میں بلا ھساب و کتاب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے۔ تم لوگ مال و دولت کے نقصان کو نقصان شمار کرتے ہو حالانکہ اصل نقصان یہ نہیں۔ اصل نقصان آخرت کا نقصان ہے اور درحقیقت خسارے میں وہ لوگ رہیں گے جو قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے اتباع و اذناب کو تلف اور برباد کریں گے۔ کیونکہ انہوں نے خود بھی شرک و کفر اختیار کیا اور اپنے اتباع و مریدین کو بھی اس روش پر ڈالا اس لیے سب مل کر جہنم میں جائیں گے (خسرو انفسہم و اھلیہم) باختیارہم الکفر لہما فالمراد بالاھل اتباعہم الذین اضلوھم ای اجاعوا انفسہم واضاعوا اہلیہم واتلفوہما (یوم القیمۃ) حین یدخلون النار الخ (روح ج 23 ص 251) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) آپ کہہ دیجئے میں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ اپنی عبادت کو خالص اور صرف اس کے لئے رکھتا ہوں۔ یعنی اس کی عبادت ہوائے اس کے کسی کو نہیں کرتانہ اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کرتا ہوں بلکہ بری اور خالص اسی کی عبادت کا اعتقاد رکھ کر اس کی بندگی کرتا ہوں۔