Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 64

سورة الزمر

قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ ﴿۶۴﴾

Say, [O Muhammad], "Is it other than Allah that you order me to worship, O ignorant ones?"

آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Say: "Do you order me to worship other than Allah O you fools!" The reason for the revelation of this Ayah was narrated by Ibn Abi Hatim and others from Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, that the idolators in their ignorance called the Messenger of Allah to worship their gods, then they would worship his God with him. Then these words were revealed: قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَيِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

64۔ 1 یہ کفار کی اس دعوت کے جواب میں ہے جو وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا کرتے تھے کہ اپنے آبائی دین کو اختیار کرلیں، جس میں بتوں کی عبادت تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨١] کفار کے سمجھوتہ کی شکلیں :۔ کفار مکہ نے اسلام کی راہ روکنے کے لئے کئی قسم کے حربے استعمال کئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ عام طریقہ یہ تھا کہ اسلام لانے والوں پر اس قدر ظلم و ستم ڈھائے جائیں کہ اگر وہ اپنے دین پر واپس نہ آئیں تو دوسروں کو ضرور عبرت حاصل ہو اور وہ اسلام قبول کرنے کا نام تک نہ لیں۔ ان سختیوں کے باوجود بھی جب اسلام پھیلتا گیا تو پھر اس کے سیاسی حل سوچے جانے لگے اور مذاکرات کے سلسلے شروع ہوئے۔ کبھی ابو طالب کی وساطت سے آپ کو دھمکی دی گئی۔ کبھی لالچ کی راہیں دکھائی گئیں اور کبھی باہمی سمجھوتہ کی۔ پھر باہمی سمجھوتہ کی بھی کئی شکلیں تھیں۔ ایک یہ کہ تم بھی لچک اختیار کرو کچھ ہم کرتے ہیں اور اس شکل کا ذکر سورة القلم کی آیات نمبر ٩ میں مذکور ہے۔ انہیں میں سے ایک شکل یہ تھی کہ زیادہ نہیں تو صرف ایک دفعہ ہی آپ ہمارے بتوں کو سجدہ کردیں تو پھر ہم آپ کی باقی باتیں تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں۔ انہیں مذاکرات کی ایک قسم ایسی بھی تھی جس پر غور کرنے کے لئے آپ آمادہ ہوچلے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے خیال سے بھی آپ کو سختی سے روک دیا اور اس کا ذکر سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر ٧٤ میں آیا ہے۔ یہاں بھی آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان مشرکوں کو نہایت سختی سے دو ٹوک جواب دے دیں اور کہہ دیں کہ اے نادانو ! ہم سب کا خالق بھی اللہ ہو، مالک بھی اللہ ہو، رازق بھی اللہ ہو، کائنات میں ہر قسم کے تصرفات پر قبضہ بھی اللہ کا ہو، تو آخر میں کس خوشی میں ان بتوں کی عبادت کروں۔ اس سے بڑھ کر بھی کوئی نادانی کی بات ہوسکتی ہے ؟ یہ تم مجھے کیسا غلط مشورہ دے رہے ہو ؟ علاوہ ازیں مجھ پر بھی یہ وحی آچکی ہے اور سابقہ تمام انبیاء پر بھی اسی قسم کی وحی آئی تھی کہ جو شخص بھی اور اسی طرح اگر میں خود بھی شرک کروں تو میرے تمام تر اعمال برباد ہوجائیں گے۔ پھر بھلا میں تمہارا یہ مشورہ کیسے قبول کرسکتا ہوں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ اَعْبُدُ : ” قل “ کے بعد جملہ ” فاء “ سے شروع ہوتا ہے، مگر ہمزہ استفہام چونکہ کلام کی ابتدا میں ہوتا ہے، اس لیے ” فاء “ کو اس کے بعد کردیا ہے، اسی طرح جملہ فعلیہ کا آغاز فعل ” تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ“ سے ہونا تھا اور ” غَیْرَ اللّٰہِ “ کو ” اعبد “ کے بعد ہونا تھا، مگر ” غَیْرَ اللّٰہِ “ کی تحقیر کو نمایاں کرنے کے لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ یعنی جب ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور وہی ہر چیز پر نگران ہے اور اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں تو پھر کیا اس کے ہوتے ہوئے تم مجھے اس کے غیر کی عبادت کا حکم دیتے ہو، جس کے اختیار میں خود اپنا وجود بھی نہیں ؟ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ : جہل کا لفظ حلم کے مقابلے میں آتا ہے اور علم کے مقابلے میں بھی، یہاں علم کے مقابلے میں آیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ” وحدہ لا شریک لہ معبود “ ہونے کے اتنے واضح دلائل اپنے کانوں سے سننے اور آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود پتھروں، قبروں، جانوروں یا اپنے جیسی بےبس اور بےاختیار مخلوق کی عبادت کی پستی میں گرے ہوئے جاہلو ! جو نہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا کچھ علم رکھتے ہو کہ صرف اسی کی عبادت کرو، نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان سے واقف ہو کہ انھیں غیر اللہ کی عبادت کی دعوت کی جرأت کر رہے ہو اور نہ ہی اس شرف کا کچھ علم رکھتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں انسان بنا کر عطا کیا ہے کہ اتنی اونچی مخلوق ہو کر اپنے جیسی یا اپنے سے بھی ادنیٰ مخلوق کی عبادت کر رہے ہو۔ اقبال نے کہا ہے ؂ آدم از بےبصری بندگئ آدم کرد من نہ دیدم کہ سگے پیش سگے سر خم کرد ” آدمی بےسمجھی کی وجہ سے آدمی کی بندگی کرنے لگا۔ میں نے تو یہ بھی نہیں دیکھا کہ کسی کتے نے کسی کتے کے آگے سر جھکایا ہو۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ اَفَغَيْرَ اللہِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ اَعْبُدُ اَيُّہَا الْجٰہِلُوْنَ۝ ٦٤ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ جهل الجهل علی ثلاثة أضرب : - الأول : وهو خلوّ النفس من العلم، هذا هو الأصل، وقد جعل ذلک بعض المتکلمین معنی مقتضیا للأفعال الخارجة عن النظام، كما جعل العلم معنی مقتضیا للأفعال الجارية علی النظام . - والثاني : اعتقاد الشیء بخلاف ما هو عليه . - والثالث : فعل الشیء بخلاف ما حقّه أن يفعل، سواء اعتقد فيه اعتقادا صحیحا أو فاسدا، كمن يترک الصلاة متعمدا، وعلی ذلک قوله تعالی: قالُوا : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ج ھ ل ) الجھل ۔ ( جہالت ) نادانی جہالت تین قسم پر ہے ۔ ( 1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا اور یہی اس کے اصل معنی ہیں اور بعض متکلمین نے کہا ہے کہ انسان کے وہ افعال جو نظام طبعی کے خلاف جاری ہوتے ہیں ان کا مقتضی بھی یہی معنی جہالت ہے ۔ ( 2) کسی چیز کے خلاف واقع یقین و اعتقاد قائم کرلینا ۔ ( 3) کسی کام کو جس طرح سر انجام دینا چاہئے اس کے خلاف سر انجام دنیا ہم ان سے کہ متعلق اعتقاد صحیح ہو یا غلط مثلا کوئی شخص دیا ۔ دانستہ نماز ترک کردے چناچہ اسی معنی کے اعتبار سے آیت : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] میں ھزوا کو جہالت قرار دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جس وقت یہ مکہ والے آپ سے آبائی دین کے اختیار کرنے کو کہیں تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ اے جاہلو کیا پھر بھی تم مجھے غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے ہو۔ شان نزول : قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ (الخ) امام بیہقی نے دلائل میں حسن بصری سے روایت کیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ سے کہا کہ اے محمد کیا تم اپنے آباؤ اجداد کو گمراہ بتاتے ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی اے جاہلو کیا پھر بھی تم مجھے غیر اللہ کی عبادت کرنے کا حکم کرتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٤ { قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَاْمُرُوْٓنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّہَا الْجٰہِلُوْنَ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو ! کیا تم مجھے بھی یہ مشورہ دے رہے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کروں ؟ “ یہ انداز اس آیت کے علاوہ پورے قرآن میں اور کہیں نہیں پایا جاتا اور یہ خاص اسلوب دراصل مشرکین ِ مکہ کے اس دبائو کا جواب ہے جو انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ” کچھ لو اور کچھ دو “ کی پالیسی اختیار کرنے کے لیے ڈال رکھا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ آپ اپنے موقف میں کچھ نرمی پیدا کریں اور ہمارے معبودوں میں سے کچھ کو تسلیم کرلیں تو اس کے جواب میں ہم بھی آپ کی کچھ باتیں مان لیں گے ‘ بلکہ آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیں گے۔ اس طرح ایک درمیانی راہ نکل آئے گی اور جھگڑا ختم ہوجائے گا۔ چناچہ ان کے اس مطالبے کا جواب بہت سخت انداز میں دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ عربی میں ’ جاہل ‘ اس کو کہتے ہیں جو علم اور عقل کے بجائے جذبات اور خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٤۔ ٦٦۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا تمہارا جھگڑا یہی ہے کہ تم ہمارے بتوں کو نہیں مانتے اگر چاہو تو یہ جھگڑا یوں مٹ سکتا ہے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کرلیا کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اور سورة قد یایھا الکفرون کی آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان نادانوں سے کہہ دو کہ مجھ کو اور مجھ سے پہلے سب انبیا کو اللہ تعالیٰ نے یہی جتلایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی جو کوئی کسی کی عبادت کرے گا تو اس کی سب عبادت رائیگاں ہے۔ کیونکہ جس کی تعظیم کی جائے وہ صاحب تعظیم کی شان کے موافق ہونی چاہئے۔ اللہ کی شان اس سے بہت دور ہے کہ اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک کیا جائے اس لئے مشرک لوگ نہ اللہ تعالیٰ کی شان کو پہچانتے ہیں نہ ان کی عبادت اللہ کی عبادت کہلا سکتی ہے یہی سبب ہے کہ مشرکوں کی سب عبادت بالکل رائیگاں ہے۔ غرض جس اللہ نے پیدا کرنے کا احسان کیا اور سوا پیدا کرنے کے اور بےگنتی احسانات میرے اوپر کئے ہیں ان احسانات کی شکر گزاری کے طور پر خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مجھ کو اور سب انبیا کو حکم ہے جس حکم کے برخلاف میں تم لوگوں کی خواہش کسی طرح پوری نہیں کرسکتا۔ صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شبعہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تہجد کی نماز اس قدر دیر تک پڑھتے تھے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے ہیں۔ پھر آپ عبادت میں اس قدر کوشش کیوں کرتے ہیں آپ نے جواب دیا کہ کیا میں اللہ تعالیٰ کے احسانات کی شکر گزاری میں کوتاہی کروں۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کی شکر گزاری یہی ہے کہ خالص دل سے اس کی عبادت کی جائے۔ مشرکوں کی عبادت میں یہ بات نہیں ہوتی اس لئے ان کی سب عبادت رائگاں ہے۔ (٢ ؎ مشکوٰۃ المصابیح ج ١ ص ١٠٩ باب التحریض علی قیام اللیل و صحیح مسلم باب اکثار العمل و الاجتھاد فی العبادۃ ص ٣٧٧ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:64) قل : ای قل للقریش یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش مکہ سے کہہ دیجئے۔ افغیر اللّٰہ تامرونی اعبد ایھا الجھلون : ای ایھا الجھلون افغیر اللّٰہ تامرونی اعبد۔ افغیر میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ ف حرف عطف ہے اور اس کا عطف محذوف پر ہے۔ ایء اکفر وغیر اللّٰہ اعبد پر غیر مفعول ہے اعبد کا۔ تامرونی جملہ معترضہ ہے محل انکار غیر اللہ کا لفظ ہے اس لئے فعل پر اس کو مقدم کردیا گیا (یعنی اہمیت کی وجہ سے مفعول کو فعل سے پہلے ذکر کردیا) ۔ مطلب اس طرح ہوگا :۔ اے جاہلو ! کیا میں کفر کروں اور غیر اللہ کی عبادت کروں۔ تم مجھے اس کام کا مشورہ دے رہے ہو۔ تامرونی۔ اصل میں تامروننی تھا۔ ی ضمیر واحد متکلم کا ہے اور نون پر تشدید ن کو ن میں مدغم کرنے کی وجہ سے ہے۔ تم مجھے حکم دیتے ہو۔ تم مجھے مشورہ دیتے ہو۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے امر مصدر سے باب نصر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے اپنی جہالت کی بناء پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے دیوتائوں کی پرستش کی دعوت دی۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 7 ۔ آیات 64 تا 70: آپ فرم ادیجیے کہ میری بات سمجھنے اور اس پر غور کرنے یا قبول کرنے کی بجائے تم مجھ سے امید کر رہے ہو کہ تمہاری طرح میں بھی غیر اللہ کی عبادت کرنے لگوں اب اس سے بڑی جہالت کیا ہوگی کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اللہ نے وحی سے سرفراز فرمایا اور سب انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے رک جانے کا پیغام دینے کا حکم ہوا کہ اگر کوئی اللہ کا شریک بنانے سے باز نہ آیا تو جو دوسرے بھلے کام بھی کرے گا وہ بھی ضائع ہوجائیں گے اور وہ بہت زیادہ نقصان میں رہے گا بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے کہ یہی طریق شکر ہے لہذا شکر کرنے والے میں شامل ہوا جائے۔ انہیں عظمت الہی کا شعور ہی نہیں اور یہ اللہ کی قدر و منزلت ہی نہیں کرسکے کائنات کے مختلف امور میں مختلف ہستیوں کو متصرف مانتے ہیں مگر قیامت کو اس بات کا ان کو بھی پتہ چل جائے گا سب زمین اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جیسے کوئی شے مٹھی میں ہو اور آسمان بھی جیسے دست قدرت میں لپٹے ہوئے ہوں یعنی کائنات پر اللہ کے مکمل اختیار کو دیکھ کر ہی مانیں گے کہ اللہ کی ذات پاک ہے اور ان کے مشرکانہ خیالات سے بہت بلند۔ اور قیامت بہت بڑا حادثہ ہوگا جب صورت پھونکا جائے گا تو سب جاندار بےہوش ہوجائیں گے خواہ وہ زمین میں ہوں یا آسمان میں حتی کہ فرشتے اور ارواح تک اور زندہ اسی بےہوشی میں مرجائیں گے ہاں سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ نے بےہوش ہونے سے محفوظ رکھا یعنی اللہ کے خاص بندے۔ پھر دوبارہ یہی صور پھونکا جائے گا تو اس کی آواز موت کی بجائے حیات کا پیغام بن جائے گی اور سب لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھ رہے ہوں گے کہ زمین تجلیات باری سے روشن ہوجائے گی اور دفتر لگا دیا جائے گا۔ انبیاء (علیہم السلام) حاضر آئیں گے اور ہر طرح کی گواہی مہیا کردی جائے گی پھر تمام لوگوں کا فیصلہ کردیا جائے گا اور کسی پر ہرگز زیادتی نہ کی جائے گی ہاں ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا کہ جو کچھ کسی نے کیا ہے اللہ اس سے باخبر ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 70 :۔ تامرونی ( تم مجھے حکم دیتے ہو ، سکھاتے ہو) ما قدروا ( انہوں نے قدر نہ کی) مطویت (لپیٹ دی گئی) نفخ ( پھونک ماری گئی) صعق ( وہ گر پڑا) اشرقت ( روشن ہوگئی ، جگمگا اٹھی) وقیت ( پورا دیا گیا) تشریح : آیت نمبر 64 تا 70 :۔ کفار قریش نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کے مذہب پر واپس آجائیں ، کبھی کہتے تھے کہ آپ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیجئے کہ جس سے ہمارے یہ اختلافات دور جائیں ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے اور ایک سال ہم آپ کے مبعود کی عبادت و بندگی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جاہل ، ناواقف اور بےعلم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اے جاہلو ! تم مجھے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت و بندگی کے لئے کہتے ہو ؟ جو ایک نہایت جاہلانہ اور احمقانہ بات ہے کیونکہ اللہ کے سوا کوئی بھی عبادت کے قابل نہیں ہے وہی ایک پروردگار سب کا خالق ومالک ہے اسی نے میری طرف وحی کر کے یہ حکم دیا ہے کہ میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کروں۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سے پہلے جن پیغمبروں پر وحی ناز ل کی گئی تھی ان سے بالکل واضح اور دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیا گیا تھا کہ اگر (فرض کرلیا جائے کہ) تم نے اللہ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا تو تمہارے سارے اعمال ضائع کردیئے جائیں گے اور تمہیں شدید نقصان پہنچے گا ۔ فرمایا گیا کہ آپ صرف اسی ایک اللہ کی عبادت و بندگی کیجئے اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیے۔ دراصل اللہ کے پیغمبر ہر طرح کے گناہوں اور کفر و شرک کے ہر طریقے سے معصوم اور محفوظ ہوتے ہیں ، نہ وہ کسی طرح کا گناہ کرتے ہیں اور نہ کسی گناہ کی نسبت ان کی طرف کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان آیات میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واسطے سے پوری امت سے خطاب کر کے بتایا گیا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں اور اللہ کی وہ عظمت کریں جس کے وہ لائق ہے۔ لوگوں کا یہ حال ہے کہ انہوں نے اللہ کی وہ قدر نہ کی جیسا کہ اس کی عظمت کا حق تھا یعنی انہوں نے دوسروں کو اس کے ساتھ شریک کیا ۔ غیر اللہ میں ایسی صفات کو مانا جو صرف اللہ ہی کی صفات ہو سکتی ہیں ۔ نہ اس کی عبادت اس طرح کی جیسا کہ اس کا حق تھا نہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جیسا کرنا لازم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن یہ ساری زمین اور سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ایک کاغذ کی طرح لپٹے ہوئے ہوں گے ، یعنی ساری طاقت و قوت ایک اللہ کے ہاتھ میں ہوگی اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ لوگ جن غیر اللہ کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں وہ غیر اللہ بےحقیقت چیز تھے۔ فرمایا کہ قیامت کا وہ ہولناک دن جب پہلا صور پھونکا جائے گا تو سوائے ان لوگوں کے جنہیں وہ زندہ رکھنا چاہے گا کائنات کی ساری مخلوق مر کر ڈھیر ہوجائے گی لیکن جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سارے مردے زندہ ہو کر حیران و پریشان اٹھ کر چاروں طرف دیکھنے لگیں گے۔ اس دن زمین اپنے پروردگار کے نور تجلی سے جگمگا اٹھے گی ۔ سب کے نامہ اعمال ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ تمام پیغمبروں کو گواہ کے طور پر بلایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان اس طرح فیصلہ کردیا جائے گا کہ کسی کے ساتھ کوئی ظلم اور زیادتی نہیں ہوگی ۔ ہر ایک کو اس کے کئے کا پھل پوری طرح دیا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں چند احادیث سے ان آیات کی تشریح ملاحظہ کرلیجئے۔ ٭حضرت عبد اللہ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے۔ ایک دن ایک یہودی عالم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا ۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا ، ایک انگلی پر زمینوں کو ، ایک انگلی پر پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر پانی اور زمین کی تہہ کو اور باقی مخلوق کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر وہ ( ان پانچوں انگلیوں کو) حرکت دے کر گھمائے گا ( جس طرح گیند یا لٹو کو گھمایا جاتا ہے) اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں اور میں ہی تمہارا معبود اللہ ہوں۔ ( مسند احمد ، نسائی ، ابن ماجہ) بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو لپیٹ کر کے اپنے داہنے ہاتھ میں ( کاغذ کی طرح) لے لے گا اور فرمائے گا کہ آج میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ حضرت عبد اللہ ابن عمر (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ ساتوں آسمانوں اور زمینوں کو اپنی مٹھی میں لے کر فرمائے گا ۔ میں ہوں اللہ رحمن و رحیم ، میں ( ایسا) بادشاہ ہوں کہ ( تمام عیبوں سے) پاک ہوں ۔ میں امن دینے والا ہوں ، میں نگرانی کرنے والا ہوں ، میں غالب ہوں ، میں بڑی طاقتوں والا ہوں ، میں بڑائی والا ہوں ، میں نے ہی دنیا کو ابتداء میں پیدا کیا تھا جب کہ وہ کچھ نہ تھی اور میں ہی اس کو دوبارہ پیدا کر رہا ہوں ۔ آج دنیا بھر کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ اور بڑی طاقتوں والے کہاں ہیں ؟ ( بخاری و مسلم) ٭قیامت میں پہلے صور کے بعد دوسرا صور پھونکا جائے گا بعض روایات کے مطابق ان کے درمیان چالیس دن کا فصل ہوگا ۔ ٭جب اللہ تعالیٰ دنیا کو دوبارہ پیدا فرما دیں گے تو اللہ جلوہ گر ہوں گے۔ جس طرح کھلے آسمان پر چمکتے سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اسی طرح وہ نور رب کو کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ ٭ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے اعمال پر پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ اللہ کو ہر انسان کے ایک ایک عمل کی خبر ہے وہ لوگوں کے بتانے سے نہیں بلکہ اپنے علم کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے کیونکہ اللہ سے کوئی بات اور انسانوں کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جب ہر چیز کا خالق اور وکیل صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر عبادت اور تابعداری بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ اس کے سوا کسی کی بندگی کی دعوت دینا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے آپ کو ہر حوالے سے کا ئنات کا خالق، مالک، بادشاہ اور وکیل ثابت کیا ہے۔ اس لیے ہر انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اسی کا حکم تسلیم کرے اور اسی کی بندگی بجالائے۔ لیکن کافر اور مشرک ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مکہ کے مشرک نہ صرف اس بات کے انکاری تھے بلکہ ان کی کوشش تھی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دعوت کو چھوڑ دیں یا کم از کم اس بات پر سمجھوتہ کرلیں کہ ہم اس کے الٰہ کی عبادت کریں گے اور یہ وہ ہمارے معبودوں کی عبادت کرے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ ان جاہلوں سے فرمادیں کہ مجھے اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی کے لیے کہتے ہو ؟ حالانکہ اس نے میری طرف اور مجھ سے پہلے تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرف وحی کی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرا ہر عمل ضائع ہوجائے گا اور تو نقصان پانے والوں میں شامل ہوگا۔ انبیاء ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر اشارہ دیا ہے کہ ہر نبی کو انہیں الفاظ میں کہا گیا تھا کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے تمام اعمال ضائع کرد ئیے جائیں گے۔ دوسرے مقام پر بڑے بڑے اٹھارہ ( ١٨) انبیائے کرام (علیہ السلام) کا نام لے کر یہ بات کہی گئی ہے۔ ” یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دی ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا، خوب جاننے والا ہے۔” اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطاکیے۔ ان سب کو ہدایت دی اور اس سے پہلے نوح کو ہدایت دی اور اس کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے۔” اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ان سب کو جہانوں پر فضیلت دی۔ اور ان کے باپ دادا اور ان کی اولاد اور انکے بھائیوں میں سے بعض کو بھی اور ہم نے انہیں چن لیا اور انہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔ “ (الانعام : ٨٣ تا ٨٧) (ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ لَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْن)[ الانعام : ٨٨] ” یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے۔ “ (٨٨) مسائل ١۔ مشرک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی شرک کی دعوت دیتے تھے۔ ٢۔ شرک سے نیک اعمال برباد اور ضائع ہوجاتے ہیں۔ ٣۔ تمام انبیاء کی طرف یہ وحی کی گئی کہ ان میں سے کسی نے بھی شرک کیا تو اس کے اعمال اکارت ہوجائیں گے۔ ٤۔ شرک کی دعوت دینا جاہلوں کا کام ہے۔ تفسیر بالقرآن شرک کی بڑی بڑی اقسام : ١۔ اللہ کی ذات میں کسی کو شریک ٹھہرانا۔ (الکہف : ٤٢) ٢۔ اللہ تعالیٰ کے حکم میں دوسروں کو اس کا شریک بنانا۔ (الکہف : ٢٦) ٣۔ اللہ کی صفات میں شرک کرنا۔ (الکہف : ١٠٢) ٤۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائیں : (الکہف : ١١٠) ٥۔ اللہ ہی پیدا کرتا ہے اور ووہی مختار کل ہے دوسروں کو کوئی اختیار نہیں ہے اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ (القصص : ٦٨) ٦۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کا اسے علم نہیں ہے اللہ پاک ہے اور مشرکوں کے شرک سے بلندو بالا ہے۔ (یونس : ١٨) ٧۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آچکا ہے کہ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : ١) ٨۔ مشرک اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔ (البقرۃ : ١٧٠) ٩۔ مشرک کو اللہ کی بیٹیاں سمجھ کر عبادت کرتے ہیں۔ (النجم : ٢٨) ١٠۔ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہمیں ہمارے آباء و اجداد کافی ہیں۔ (المائدۃ : ١٠٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 64 یہ ایک فطری سرزنش ہے اور ان لوگوں کی پوچ تجویز کا مناسب جواب ان کی اس تجویز ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر گہری جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے اور خالص اندھے تھے۔ چناچہ اس کے بعد مشرک لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور اس ڈراوے کے مخاطب اول حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ حضرات انبیاء کے بارے میں تو شرک کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ دراصل یہ ڈراوا ان کی امتوں کو ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں ۔ اور بندگی صرف اللہ کی کریں اور تمام انسان جن میں انبیاء (علیہم السلام) بھی ہیں اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آپ فرما دیجیے کہ اے جاہلو میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرسکتا مفسر ابن کثیر (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ مشرکین نے اپنی جہالت کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت دی کہ ہمارے معبودوں کی عبادت کرنے لگو اگر ایسا کرو گے تو ہم بھی تمہارے ساتھ تمہارے معبود کی عبادت کرنے لگیں گے، اس پر آیت کریمہ (قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ ) آخر تک نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ کو حکم دیا ان مشرکوں سے کہہ دیجیے کہ اے جاہلو ! کیا مجھے حکم دے رہے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے لگوں ؟ مزید فرمایا (وَلَقَدْ اُوحِیَ اِِلَیْکَ ) کہ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیجی ہے کہ اگر بالفرض اے مخاطب تو نے شرک اختیار کرلیا تو اللہ جل شانہٗ تیرا عمل حبط فرما دے گا یعنی بالکل اکارت کردیا جائے گا جس پر ذرا بھی ثواب نہ ملے گا (وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) (اور تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا) یعنی اعمال کا بھی کچھ نہ ملے گا اور جان بھی ضائع ہوگی اس کی کچھ قیمت نہ ملے گی، جان کی مکمل بربادی ہوگی، کیونکہ دوزخ میں داخلہ ہوگا۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تو گناہوں سے بھی معصوم تھے شرک اور کفر کا ارتکاب ان سے ہو ہی نہیں سکتا لیکن برسبیل فرض اگر کسی نبی نے بھی شرک کرلیا تو اس کی بھی جان بخشی نہ ہوگی غیروں کا تو سوال ہی کیا ہے، حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو خطاب کرکے ان کی امتوں کو بتادیا کہ دیکھو شرک ایسی بری چیز ہے کہ اگر کسی نبی سے بھی صادر ہوجائے تو اس کے اعمال صالحہ برباد ہوجائیں گے اور وہ تباہ و برباد ہوگا لہٰذا امتیوں کو تو اور زیادہ شرک سے دور رہنا اور بیزار رہنا لازم ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

61:۔ ” قل افغیر الخ “ یہ تیسری بار ذکر دعوی ہے بطور زجر۔ نادانو ! کیا اللہ کی وحدانیت کے ایسے براہین قاطعہ اور دلائل واضحہ کے بعد اب بھی تمہیں مجھ سے یہ توقع ہے کہ میں تمہارے دین کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور تم مجھے غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہو ؟ یہ تمہاری سراسر نادانی ہے۔ اس خیال خام سے اپنے ذہنوں کو خالی کرلو۔ وذلک حین دعو وا النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الی ماھم علیہ امن عبادۃ الاوثان وقالوا ھودین آبائک (قرطبی ج 15 ص 276) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(64) اے پیغمبر آپ ان سے فرمائیے اے نادانو ! کیا اب بھی تم مجھ سے یہی کہتے ہو اور مجھ کو یہی حکم دیتے ہو کہ میں غیر اللہ کی پرستش کروں۔ یعنی تمام دلائل توحید جو اوپر بیان ہوئے سب کو سن کر سمجھ کر بھی مجھ کو یہی حکم کرتے ہو اور ترغیب دیتے ہو کہ میں بھی تمہاری طرح غیر اللہ کی عبادت کروں ، اے نادانو اور جاہلو ، کفار مکہ نے ایسا کہا تھا کہ آپ ہمارے ان معبودوں کی عبادت بھی کرکے دیکھئے اس کا جواب دربار رسالت سے دلوایا گیا۔