Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 115

سورة النساء

وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الۡہُدٰی وَ یَتَّبِعۡ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿۱۱۵﴾٪  14

And whoever opposes the Messenger after guidance has become clear to him and follows other than the way of the believers - We will give him what he has taken and drive him into Hell, and evil it is as a destination.

جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے ، وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى ... And whoever contradicts and opposes the Messenger after the right path has been shown clearly to him. refers to whoever intentionally takes a path other than the path of the Law revealed to the Messenger, after the truth has been made clear, apparent and plain to him. Allah's statement, ... وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُوْمِنِينَ ... and follows other than the believers' way, refers to a type of conduct that is closely related to contradicting the Messenger. This contradiction could be in the form of contradicting a text (from the Qur'an or Sunnah) or contradicting what the Ummah of Muhammad has agreed on. The Ummah of Muhammad is immune from error when they all agree on something, a miracle that serves to increase their honor, due to the greatness of their Prophet. There are many authentic Hadiths on this subject. Allah warned against the evil of contradicting the Prophet and his Ummah, when He said, ... نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا We shall keep him in the path he has chosen, and burn him in Hell --- what an evil destination! meaning, when one goes on this wicked path, We will punish him by making the evil path appear good in his heart, and will beautify it for him so that he is tempted further. For instance, Allah said, فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ Then leave Me Alone with such as belie this Qur'an. We shall punish them gradually from directions they perceive not. (68:44) فَلَمَّا زَاغُواْ أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ So when they turned away (from the path of Allah), Allah turned their hearts away. (61:5) and, وَنَذَرُهُمْ فِى طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ And We shall leave them in their trespass to wander blindly. (6:110) Allah made the Fire the destination of such people in the Hereafter. Indeed, the path of those who avoid the right guidance will only lead to the Fire on the Day of Resurrection, as evident by Allah's statements, احْشُرُواْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ وَأَزْوَجَهُمْ (It will be said to the angels): "Assemble those who did wrong, together with their companions (from the devils). (37:22) and, وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّواْ أَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُواْ عَنْهَا مَصْرِفًا And the criminals, shall see the Fire and apprehend that they have to fall therein. And they will find no way of escape from there. (18:53)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

115۔ 1 ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے کی پیروی، دین اسلام سے خروج ہے جس پر یہاں جہنم کی وعید بیان فرمائی ہے۔ مومنین سے مراد صحابہ کرام ہیں جو دین اسلام کے اولین پیرو اور اس کی تعلیمات کا کامل نمونہ تھے، اور ان آیات کے نزول کے وقت جن کے سوا کوئی گروہ مومنین موجود نہ تھا کہ وہ مراد ہو۔ اس لئے صحابہ کرام (رض) کی مخالفت اور غیر سبیل المومنین کا اتباع دونوں حقیقت میں ایک ہی چیز کا نام ہے۔ اس لئے صحابہ کرام (رض) کے راستے اور منہاج سے انحراف بھی کفر و ضلال ہی ہے۔ بعض علماء نے سبیل المومنین سے مراد اجماع امت لیا یعنی اجماع امت سے انحراف بھی کفر ہے۔ اجماع امت کا مطلب ہے کسی مسئلے میں امت کے تمام علماء وفقہا کا اتفاق۔ یا کسی مسئلے پر صحابہ کرام (رض) کا اتفاق یہ دونوں صورتیں اجماع امت کی ہیں اور دونوں کا انکار یا ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ تاہم صحابہ کرام (رض) کا اتفاق تو بہت سے مسائل میں ملتا ہے یعنی اجماع کی یہ صورت تو ملتی ہے۔ لیکن اجماع صحابہ (رض) کے بعد کسی مسئلے میں پوری امت کے اجماع و اتفاق کے دعوے تو بہت سے مسائل میں کئے گئے ہیں لیکن فی الحقیقت ایسے اجماعی مسائل بہت ہی کم ہیں۔ جن میں فی الواقع امت کے تمام علما و فقہا کا اتفاق ہو۔ تاہم ایسے جو مسائل بھی ہیں، ان کا انکار بھی صحابہ (رض) کے اجماع کے انکار کی طرح کفر ہے اس لئے کہ صحیح حدیث میں ہے ' کہ اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر اکٹھا نہیں کرے گا اور جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے "۔ (صحیح ترمذی)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥٣] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس آیت کا خطاب اسی منافق سے ہے جس نے چوری کی تھی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وحی الٰہی کی بنا پر مذکورہ مقدمہ کا فیصلہ بےگناہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ تو اس منافق کو سخت صدمہ ہوا۔ وہ مدینہ سے نکل کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کی مختلف صورتیں :۔ اسلام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں کے پاس مکہ چلا گیا اور کھلم کھلا مخالفت پر اتر آیا۔ لیکن حکم کے لحاظ سے یہ خطاب سب لوگوں کے لیے ہے جس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے۔ یعنی جو شخص بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کے طریق زندگی کو چھوڑ کر کوئی دوسرا طریق اختیار کرے گا وہ گمراہ ہوجائے گا اور جس قدر زیادہ مخالفت کرے گا اسی قدر گمراہی میں بڑھتا چلا جائے گا۔ اس کی یہ ذہنی اور عملی مخالفت اسے جہنم میں پہنچا کے چھوڑے گی۔ اب اس مخالفت یا گمراہی کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً شرکیہ عقائد و اعمال اپنا لے یا سنت کو چھوڑ کر بدعات میں جا پڑے یا سنت رسول کو حجت ہی نہ سمجھے، یا کوئی نیا نبی بھی تسلیم کرلے یا ایسے بدعی عقائد اپنے مذہب میں شامل کرے جن کا اس دور میں وجود نہ تھا وغیرہ وغیرہ۔ غرض مخالفت اور گمراہی کی بیشمار اقسام ہیں لہذا اس معاملہ میں مسلمان کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔ [١٥٣۔ الف ] اجماع صحابہ حجت ہے :۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجماع امت یا صحابہ کرام کا کسی مسئلہ پر متفق ہوجانا منجملہ ادلہ شرعیہ ایک قابل حجت امر ہے اور اس اجماع کی مخالفت کرنے والا اور اجماع کو تسلیم نہ کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے تاہم اس سلسلہ میں دو باتوں کو ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ ایک یہ کہ صحابہ کرام کے اجماع کے حجت ہونے میں تو کسی کو کلام نہیں لیکن مابعد کے ادوار کا حجت ہونا بذات خود مختلف فیہ مسئلہ ہے اور راجح قول یہی ہے کہ مابعد کا اجماع امت کے لیے قابل حجت نہیں ہے۔ اور دوسرا یہ کہ صحابہ کا اجماع تو ثابت کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کا زمانہ بھی محدود اور علاقہ بھی محدود تھا۔ لیکن مابعد کے ادوار میں اجماع امت کا ثابت کرنا ہی بہت مشکل ہے جبکہ امت اقصائے عالم میں پھیل چکی ہے اور علماء بھی ہر جگہ موجود ہیں۔ دور صحابہ کے بعد جتنے مسائل کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان پر امت کا اجماع ہے، ان میں سے زیادہ ایسے ہیں کہ ان کو فی الواقع ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ : ” یشاقق “ ” شَقَّ “ سے باب مفاعلہ کا فعل مضارع معلوم ہے۔ ” شَقَّ “ کا معنی طرف، کنارہ ہے، یعنی جو شخص یا گروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس طرح مخالفت کرے کہ آپ کے مقابلے میں آجائے، ایک طرف اللہ کے رسول ہوں دوسری طرف یہ شخص یا گروہ ہو اور حق معلوم ہوجانے کے باوجود مومنوں کے سیدھے اور صاف راستے سے ( جو ہر حال میں اتباع رسول ہے) ہٹ جائے، تو ہم بھی اسے اسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ پھرے گا اور اسی ٹیڑھی راہ پر جانے دیں گے جو اسے جہنم میں لے جا کر ڈال دے گی اور وہ بہت برا راستہ ہے۔ 2 ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے کی پیروی کرنا در حقیقت دین اسلام ہی سے نکل جانا ہے، جس پر یہاں جہنم کی وعید بیان فرمائی گئی ہے۔ مومنین سے مراد صحابہ کرام (رض) ہیں جو دین اسلام کے سب سے پہلے پیرو کار اور اس کی تعلیم کا مکمل نمونہ تھے اور ان آیات کے نزول کے وقت جن کے سوا کوئی اور گروہ مومنین کا موجود نہ تھا، جو یہاں مراد ہو سکے۔ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اور غیر سبیل المومنین کی پیروی دونوں حقیقت میں ایک ہی چیز کا نام ہے، اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجات پانے والے گروہ کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا : ( مَا اَنَا عَلَیْہِ وَ اَصْحَابِیْ ) ” یہ وہ لوگ ہیں جو اس راستے پر چلیں گے جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں۔ “ [ ترمذی، الایمان، باب ما جاء فی افتراق۔۔ : ٢٦٤٠ ] اس لیے صحابہ کرام (رض) کے راستے سے ہٹنا بھی کفر اور گمراہی ہے۔ بعض علماء نے سبیل المومنین سے مراد اجماع امت لیا ہے، یعنی پوری امت کے اجماع سے انحراف بھی کفر ہے۔ اجماع امت کا مطلب ہے کسی مسئلے میں امت کے تمام علماء و فقہاء کا اتفاق، یا کسی مسئلے پر صحابہ کرام (رض) کا اتفاق ہو، یہ دونوں صورتیں اجماع امت کی ہیں۔ صحابہ کرام (رض) کا اتفاق تو بہت سے مسائل میں ملتا ہے، یعنی اجماع کی یہ صورت تو ملتی ہے لیکن اجماع صحابہ کے بعد کسی مسئلے میں پوری امت کے اجماع و اتفاق کے دعوے تو بہت مسائل میں کیے گئے ہیں، لیکن ایسے اجماعی مسائل بہت کم ہیں جن میں فی الواقع امت کے تمام علماء و فقہاء میں اتفاق ہو، پھر ایسے مسائل پر سب علماء و فقہاء کے اتفاق کا پتا چلانا اور بھی مشکل ہے۔ پھر امت میں بہت سے فرقوں کے بن جانے نے یہ نتیجہ دکھایا ہے کہ ہر گروہ اپنی بات کو مضبوط بنانے کے لیے اجماع کا دعویٰ کردیتا ہے، خواہ وہ صریحاً قرآن و حدیث کے خلاف ہو، مثلاً قبروں پر عمارت بنانا، ان پر غلاف چڑھانا، چراغ جلانا، غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا، تعزیہ نکالنا، انبیاء کو انسان نہ سمجھنا، انھیں خدائی اوصاف دینا، میلاد، گیا رھویں، تیجہ، ساتواں، دسواں، چالیسواں، عرس میلے، پیر کا تصور باندھنا، اس کی ہر صحیح غلط بات ماننا، الغرض ! صریح شرک و بدعت کے کاموں کو اجماع کا نام دے دیا گیا ہے۔ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسے مسائل جن پر فی الواقع پوری امت کے علماء و فقہاء کا اجماع ہو ان کا انکار بھی صحابہ کے اجماع کے انکار کی طرح کفر ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر اکٹھا نہیں کرے گا اور جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ “ [ ترمذی، الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ : ٢١٦٧ ] وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا : اس آیت میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور سلف صالحین کے مسلک سے منہ موڑ کر دوسروں کی پیروی کرتے ہیں اور آئے دن نئی بدعات ایجاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ تقلید کی ایجاد بھی بعد کی صدیوں میں ہوئی، سلف صالحین کے دور میں اس کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ کتاب و سنت کی دلیل سے اس کی کوئی گنجائش نکلتی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Consensus of the Community is a Valid Religious Authority Two things have been identified as a great crime and as a cause of one&s consignment to Hell in verse 115: وَمَن يُشَاقِقِ الرَّ‌سُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ (And whoever breaks away with the Messenger after the right path has become clear to him...). The first is opposing the Messenger of Allah. Obviously, doing so is Kufr (disbelief, infidelity) and a terrible curse. The second crime relates to a violation of universal Muslim consensus. It means the abandoning of something which has the universal agree¬ment of all Muslims and opting for some other way against them. This explains that the consensus of the Muslim community has valid relig¬ious authority. In other words, we know that following the injunctions given in the Qur&an and Sunnah is obligatory. Similarly, when the Muslim Ummah (Community) agrees about something universally, following its consensus becomes equally obligatory. Any opposition to this consensus is a grave sin as was said by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in a hadith: یَدُ اللہِ عَلَی الجمعۃِ مَن شَدَّ شُذَّ فِی النَّار That is, the hand of Allah is on the Muslim community. Whoever breaks away or separates himself from it will himself be separated for consignment to Hell. Imam al-Shafi` (رح) was asked: &Can the validity of the authority of the Consensus of Muslim Ummah be proved from the Holy Qur&an?& He devoted to the recitation of the Qur&an full three days, completing three recitals each during the day and night. Finally, the proof that he came up with was this verse. When he cited it before scholars, they all agreed: This proof is sufficient to confirm the authority of ` Ijma`, the Consensus of Muslim Community

اجماع امت حجت ہے : ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی الخ (آیت نمبر ٥١١) اس آیت میں دو چیزوں کا جرم عظیم اور دخول جہنم کا سبب ہونا بیان فرمایا ہے ایک مخالفت رسول اور یہ ظاہر ہے کہ مخالفت رسول کفر اور وبال عظیم ہے، دوسرے جس کام پر سب مسلمان متفق ہوں اس کو چھوڑ کر ان کے خلاف کوئی راستہ اختیار کرنا، اس سے معلوم ہوا کہ اجماع امت حجت ہے، یعنی جس طرح قرآن و سنت کے بیان کردہ احکام پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے اسی طرح امت کا اتفاق جس چیز پر ہوجائے اس پر بھی عمل کرنا واجب ہے اور اس کی مخالفت گناہ عظیم ہے جیسا کہ آپ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا : ید اللہ علی الجماعة من شد شدفی النار :” یعنی جماعت کے سر پر اللہ کا ہاتھ ہے اور جو شخص جماعت مسلمین سے علیحدہ ہوگا وہ علیحدہ کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا۔ “ حضرت امام شافعی سے کسی نے سوال کیا کہ کیا اجماع امت کے حجت ہونے کی دلیل قرآن کو معمول بنایا، ہر روز دن میں تین مرتبہ اور رات میں تین مرتبہ پورا قرآن ختم کرتے تھے بالاخر یہی مذکورہ آیت ذہن میں آئی اور اس کو علماء کے سامنے بیان کیا تو سب نے اقرار کیا کہ اجماع کی حجیت پر یہ دلیل کافی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُدٰى وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ۝ ٠ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۝ ١١٥ۧ شقاق والشِّقَاقُ : المخالفة، وکونک في شِقٍّ غير شِقِ صاحبک، أو مَن : شَقَّ العصا بينک وبینه . قال تعالی: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما[ النساء/ 35] ، فَإِنَّما هُمْ فِي شِقاقٍ [ البقرة/ 137] ، أي : مخالفة، لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي [هود/ 89] ، وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتابِ لَفِي شِقاقٍ بَعِيدٍ [ البقرة/ 176] ، مَنْ يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ الأنفال/ 13] ، أي : صار في شقّ غير شقّ أولیائه، نحو : مَنْ يُحادِدِ اللَّهَ [ التوبة/ 63] ، ونحوه : وَمَنْ يُشاقِقِ الرَّسُولَ [ النساء/ 115] ، ويقال : المال بينهما شقّ الشّعرة، وشَقَّ الإبلمة ، أي : مقسوم کقسمتهما، وفلان شِقُّ نفسي، وشَقِيقُ نفسي، أي : كأنه شقّ منّي لمشابهة بعضنا بعضا، وشَقَائِقُ النّعمان : نبت معروف . وشَقِيقَةُ الرّمل : ما يُشَقَّقُ ، والشَّقْشَقَةُ : لهاة البعیر لما فيه من الشّقّ ، وبیده شُقُوقٌ ، وبحافر الدّابّة شِقَاقٌ ، وفرس أَشَقُّ : إذا مال إلى أحد شِقَّيْهِ ، والشُّقَّةُ في الأصل نصف ثوب وإن کان قد يسمّى الثّوب کما هو شُقَّةً. ( ش ق ق ) الشق الشقاق ( مفاعلہ ) کے معنی مخالفت کے ہیں گویا ہر فریق جانب مخالف کو اختیار کرلیتا ہے ۔ اور یا یہ شق العصابینک وبینہ کے محاورہ سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی باہم افتراق پیدا کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما[ النساء/ 35] اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے ۔ فَإِنَّما هُمْ فِي شِقاقٍ [ البقرة/ 137] تو وہ تمہارے مخالف ہیں ۔ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي [هود/ 89] میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے ۔ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتابِ لَفِي شِقاقٍ بَعِيدٍ [ البقرة/ 176] وہ ضد میں ( آکر نیگی سے ) دور ہوگئے ) ہیں ۔ مَنْ يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ الأنفال/ 13] اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے ۔ یعنی اس کے اولیاء کی صف کو چھوڑ کر ان کے مخالفین کے ساتھ مل جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : مَنْ يُحادِدِ اللَّهَ [ التوبة/ 63] یعنی جو شخص خدا اور رسول کا مقابلہ کرتا ہے ۔ وَمَنْ يُشاقِقِ الرَّسُولَ [ النساء/ 115] اور جو شخص پیغمبر کی مخالفت کرے ۔ المال بیننا شق الشعرۃ اوشق الابلمۃ یعنی مال ہمارے درمیان برابر برابر ہے ۔ فلان شق نفسی اوشقیق نفسی یعنی وہ میرا بھائی ہے میرے ساتھ اسے گونہ مشابہت ہے ۔ شقائق النعمان گل لالہ یا اس کا پودا ۔ شقیقۃ الرمل ریت کا ٹکڑا ۔ الشقشقۃ اونٹ کا ریہ جو مستی کے وقت باہر نکالتا ہے اس میں چونکہ شگاف ہوتا ہے ۔ اس لئے اسے شقثقۃ کہتے ہیں ۔ بیدہ شقوق اس کے ہاتھ میں شگاف پڑگئے ہیں شقاق سم کا شگاف فوس اشق راستہ سے ایک جانب مائل ہوکر چلنے والا گھوڑا ۔ الشقۃ اصل میں کپڑے کے نصف حصہ کو کہتے ہیں ۔ اور مطلق کپڑے کو بھی شقۃ کہا جاتا ہے ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ صير الصِّيرُ : الشِّقُّ ، وهو المصدرُ ، ومنه قرئ : فَصُرْهُنَّ وصَارَ إلى كذا : انتهى إليه، ومنه : صِيرُ البابِ لِمَصِيرِهِ الذي ينتهي إليه في تنقّله وتحرّكه، قال : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] . و «صَارَ» عبارةٌ عن التّنقل من حال إلى حال . ( ص ی ر ) الصیر کے معنی ایک جانب یا طرف کے ہیں دراصل یہ صار ( ض) کا مصدر ہے ۔ اور اسی سے آیت فصوھن ہیں ایک قرآت فصرھن ہے ۔ صار الی کذا کے معنی کسی خاص مقام تک پہنچ جانا کے ہیں اسی سے صیر الباب ہے جس کے معنی درداڑہ میں شگاف اور جھروکا کے ہیں اور اسے صیر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ نقل و حرکت کا منتہی ہوتا ہے اور صار کا لفظ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ اسی سے المصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل نہ حرکت کے بعد پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] یعنی اللہ تعالیٰ ہی لوٹنے کی جگہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ( ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین الہ الھدیٰ و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ ماتولی و نصلہ جھنم) اور جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت ، آپ سے علیحدگی اور آپ کی دشمنی کی صورت یہ ہے کہ مخالفت کرنے والا ایک جانب ہو جو اس جانب کے ما سوا ہو جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اسی طرح یہ قول باری ہے ( ان الذین یحادون اللہ ورسولہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں) وہ اس طرح کہ مخالفت کرنے والا اس کنارے پر ہو جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والے کنارے کے علاوہ ہو اس سے اعتقاد اور دین میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علیحدگی اور آپ کی مخالفت مراد ہے۔ قول باری ( من بعد ما تبین لہ الھدی) کے ذریعے ڈانٹ میں اور تیزی پیدا کی گئی ہے، متعلقہ شخص کے روپے کی قباحت کو اور واضح کیا گیا ہے اور آیت میں مذکورہ وعید کی وجہ بیان کی گئی ہے کیونکہ اس شخص نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت پر دلالت کرنے والے معجزات اور آیات کے ظہر کے بعد ی معاندانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ اس وعید کے سلسلے میں اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلنے کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کے ساتھ مقرون ذکر کیا ہے۔ یہ بات اجماع امت کی صحت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وعید کا الحاق ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اہل ایمان کی روش کو چھوڑ کر کوئی اور روش اختیار کرلیں۔ قول باری ( نولہ ماتولی) کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے بری الذمہ ہے اور اسے اللہ تعالیٰ ان بتوں کے حوالے کر دے گا جن کی طرف وہ پھر گیا تھا اور جن کا اس نے سہارا لیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اپنی نصرت اور معونت سے سرفراز نہیں کرے گا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٥) اور جو شخص توحید اور امر حق کے ظاہر ہونے کے بعد رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ان باتوں میں مخالفت کرے یعنی طعمہ اور مسلمانوں کے دین پر مشرکین مکہ کے دین کو ترجیح دے اور اس راستہ کو اختیار کرے، سو دنیا میں جو طریقہ اس نے اختیار کیا ہے یعنی کفر، اسی پر ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں اور آخرت میں دوزخ میں داخل کریں گے ، شان نزول : (آیت) ” ومن یشاقق الرسول “۔ (الخ) جب قرآن کریم کا یہ حکم نازل ہوا تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہتھیار لے کر آئے اور رفاعہ (رض) کو دے دیے اور بشیر منافق مشرکوں کے ساتھ جا کر مل گیا اور سلافہ بنت سعد کے پاس جاکر اترا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، امام حاکم (رح) فرماتے ہیں امام مسلم کی شرط کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے۔ اور ابن سعد (رح) نے طبقات میں اپنی سند کے ساتھ محمود بن لبید سے روایت نقل کی ہے کہ بشیر بن حارث نے قتادہ بن نعمان (رض) کے چچا علیتہ رفاعۃ بن زید پر زیادتی کی اور اس کے گھر میں نقب لگا کر ان کا کھانا اور دو زرہیں چرالیں، قتادہ (رض) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ بتایا، آپ نے بشیر کو بلایا اور اس سے اس کی تحقیق کی، اس نے اسی گھرانے میں سے لبید بن سہل کو جو حسب و نسب والے تھے مہتم کیا، چناچہ آیات قرآنیہ بشیر کی تکذیب اور لبید (رض) کی برأت میں نازل ہوگئیں جب آیات قرآنیہ بشیر کی تکذیب میں نازل ہوئیں تو وہ مرتد ہو کر مکہ مکرمہ سے بھاگ گیا اور سلافہ بنت سعد کے پاس پڑاؤ کیا اور وہاں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کی ہجو میں اشعار کہنا شروع کیے۔ (سازش کے طور پر مسلمان ہوا تھا اب ظاہری اسلام کا پردہ اتار کر اپنے اصل روپ میں سامنے آگیا جو ارتداد و کفر کا تھا وگرنہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تربیت پایا ہوا کوئی شخص اسلام سے نہیں پھرا، یہ شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گستاخ تھا اس کا اسلام تھا ہی نہیں (مترجم) تب اس کے بارے میں (آیت) ” ومن یشاقق الرسول “۔ (الخ) یہ آیت نازل ہوئی اور حضرت حسان بن ثابت (رض) نے اس کی ہجو کی یہاں تک کہ وہ وہاں سے لوٹ آیا۔ اور یہ واقعہ ماہ ربیع ٤ ھ میں پیش آیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٥ (وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی) یعنی جو کوئی خفیہ سازشوں اور چوری چھپے کی لگائی بجھائی کے ذریعے لوگوں کو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف بھڑکاتا ہے کہ دیکھو جی یہ اپنے لوگوں کو نواز رہے ہیں۔ جیسا کہ غزوۂ حنین میں ہوا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ مکرمہ کے ان مسلمانوں کو جو فتح مکہّ کے بعد مسلمان ہوئے تھے ‘ مال غنیمت میں سے ان کی دلجوئی کے لیے (جسے قرآن میں تالیف قلوب کہا گیا ہے) ذرا زیادہ مال دے دیاتو اس پر بعض لوگوں نے شور مچا دیا کہ دیکھ لیا ‘ جب کڑا وقت تھا ‘ مشکل وقت تھا تو اسے ہم جھیلتے رہے ‘ اب یہ اچھا وقت آیا ہے تو اپنے رشتہ دار یاد آگئے ہیں۔ ظاہر ہے مکہ والے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رشتہ دار تھے ‘ قریش کا قبیلہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا قبیلہ تھا۔ تو طرح طرح کی باتیں جو آج کے دور میں بھی ہوتی ہیں ویسی ہی باتیں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں۔ یہ انسان کی فطرت ہے جو ہمیشہ ایک سی رہی ہے ‘ اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوا۔ ّ (وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ ط) (وَسَآءَ تْ مَصِیْرًا ) یہ آیت اس اعتبار سے بڑی اہم ہے کہ امام شافعی (رح) کے نزدیک اجماعِ اُمتّ کی سند اس آیت میں ہے۔ یہ بات تو بہت واضح ہے کہ اسلامی قوانین کے لیے بنیادی ماخذ قرآن ہے ‘ پھر حدیث و سنت ہے۔ اسی طرح اجتہاد کا معاملہ بھی سمجھ میں آتا ہے ‘ مگر اجماع کس چیز کا نام ہے ؟ اس کا ذکر قرآن میں کہاں ہے ؟ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے اجماع کی دلیل قرآن سے تلاش کرنے کی کوشش کی اور قرآن کو شروع سے آخر تک تین سو مرتبہ پڑھا مگر مجھے اجماع کی کوئی دلیل نہیں ملی۔ پھر بالآخر تین سو ایک مرتبہ پڑھنے پر میری نظر جا کر اس آیت پر جم گئی : (وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ ) ۔ گویا اہل ایمان کا جو راستہ ہے ‘ جس پر اجماع ہوگیا ہو اہل ایمان کا ‘ وہ خود اپنی جگہ بہت بڑی سند ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : (اِنَّ اُمَّتِیْ لاَ تَجْتَمِعُ عَلٰی ضَلَالَۃٍ ) (١) میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

143. When, after revelation from God, the Prophet (peace be on him) delivered his verdict in favour of the innocent Jew rather than the dishonest Muslim, the latter was so seized by un-Islamic, egotistic and chauvinistic considerations that he left Madina, went straight to Makka to join the ranks of the enemies of Islam and of the Prophet (peace be on him), and undertook open opposition. The verse alludes to that incident.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :143 جب مذکورہ بالا مقدمہ میں وحی الہٰی کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خائن مسلمان کے خلاف اور اس بے گناہ یہودی کے حق میں فیصلہ صادر فرما دیا تو اس منافق پر جاہلیت کا اس قدر سخت دورہ پڑا کہ وہ مدینہ سے نکل کر اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے پاس مکہ چلا گیا اور کھلم کھلا مخالفت پر آمادہ ہو گیا ۔ اس آیت میں اس کی اسی حرکت کی طرف اشارہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

68: اس آیت سے علمائے کرام، بالخصوص امام شافعی نے اجماع کی حجیت پر استدلال کیا ہے یعنی جس مسئلے پر پوری امت مسلمہ متفق رہی ہو وہ یقینی طور پر برحق ہوتا ہے اور اس کی مخالفت جائز نہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:115) یشاقق۔ واحد مذکر غائب مضارع مجزوم بوجہ عمل من۔ شقاق مصدر۔ ق ثانی بوجہ حرف مابعد کے ساتھ وصل کے لئے مکسور ہوا۔ جو مخالفت کرتا ہے شقاق مصدر باب مفاعلہ سے ہے شق (مضاعف) کے معنی طرف۔ ضد۔ مخالفت۔ ٹکڑہ۔ نولہ۔ جمع متکلم مضارع ہ ضمیر مفعول راجع الی من تولیۃ مصدر باب تفعیل ۔ ہم پھریں گے۔ اسے۔ ہم اس کو مختار بنادیں گے ماتولی۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیردی۔ وہ متولی ہوا۔ وہ پھر گیا۔ تولی (تفعل) نولہ ما تولی۔ جدھر وہ کود جانا چاہتا ہے ہم اسے ادھر ہی جانے دیں گے۔ نصلہ۔ مضارع جمع متکلم۔ اصلاء مصدر۔ باب افعال سے۔ صلی مادہ اصل میں نصلیہ تھا جواب شرط کی وجہ سے ی گرگئی۔ ہم اس کو داخل کریں گے۔ ہم اس کو آگ میں پھینکیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی جو شخص یا گروہ وہ شریعت کے خلاف راستہ اختیار کرے اور حق معلوم ہوجانے کے باوجود مسلمانوں کی سیدھی اور صاف روشن ہے ہٹ جائے تو ہم بھی اسے ٹیڑھی راہ پر لگا دیتے ہیں جو اس کو جہنم میں لے جا کر ڈال دیتی ہے۔ مومنوں کی راہ میں دراصل تو کتاب و سنت کی راہ ہے اور کسی اجماعی مسئلے کی مخالفت کرنا بھی غیر مومنوں کی راہ پر چلنا ہے۔ (قرطبی) امت محمد یہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ شرف بخشا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر غلطی اور خطا سے محفوظ رہی ہے اور رہے گی ،۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا ساری امت صدیوں ایک غلط راہ پر چلتی رہے۔ اس بارے میں بہت سی صحیح احادیث وارد ہیں حتی ٰ کہ بعض علما ان کے تواتر کے قائل ہیں امام شافع (رح) نے اجماعی کے حجت ہونے کا اس آیت سے استنباط کیا ہے اور یہ استنباط بہت قوی اور عمدہ ہے ( ابن کثیر) شیخ الا سلام ابن تیمہ (رح) نے اپنی کتاب معارج الو صول میں اس پر مٖصل بحث کی ہے اور امام شافعی (رح) کے استدلال کی پر زور تائید کی ہے (م، خ) مذکورہ بالا واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آجانے کے بعد جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طعمہ چوری کی حد جاری کرنے کا حکم دیا تو وہ مرتد ہوگیا اور مدینہ سے بھاگ کر مکہ کے مشرکین جاملا۔ ، اس آیت میں اس کے اسی طرزعمل کی طرف سے اشارہ کیا گیا ہے۔ ویسے یہ آیت عام ہے اور اس میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور سلف صالحین کے مسلک سے منہ موڑ کر دوسروں کی پیروی کرتے ہیں اور آئے دنئی نئی بدعات ایجاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ بتا نے کی ضرورت نہیں ہے کہ تقلید کی ایجاد بھی بعد کی صدیوں میں ہوئی سلف صالح کے دور میں اس کا قطعا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہم کتاب وسنت کی کسی دلیل سے اس کی گنجائش نکلتی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کے لیے رہنما اور مقتدا بنا کر بھیجا ہے۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی اور اتباع کو اپنی اتباع قرار دیا، اپنی محبت اور بخشش کو رسول کی اطاعت کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔ اس لیے جلوت اور خلوت میں رسول کی اتباع ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو شخص یا جماعت رسول کی ہدایت اور سنت سامنے ہونے کے باوجود رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی سے انحراف اور صحابہ کرام کے طریقہ کو چھوڑتے ہیں وہ لوگ جدھر چاہیں اور جس طرح چاہیں منہ اٹھا کر چل نکلیں وہ جہنم میں ہی گرنے والے ہیں جو بدترین جائے قرار ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول کے ساتھ صحابہ کی اتباع کا بھی حکم دیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے براہ راست رہنمائی اور فیض حاصل کیا۔ البقرۃ آیت ١٣ اور آیت ١٣٧ میں ان کے ایمان کو ہمیشہ کے لیے مثال اور نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا : (فَإِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ آمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا) [ البقرۃ : ١٣٧] ” اگر وہ تمہارے یعنی صحابہ جیسا ایمان لے آئیں تو یقیناً وہ ہدایت سے سر فراز ہوجائیں گے “ اس لیے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس کام پر صحابۂ کرام (رض) کا اجماع ہو۔ وہ امت کے لیے دلیل اور واجب اتباع ہوگا۔ بعض لوگ حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اجماع صحابہ (رض) کو چھوڑ کر کسی ایک صحابی کے انفرادی عمل کو اپنے لیے قابل حجت سمجھتے ہیں۔ جو سراسر قرآن کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ جہاں تک کسی صحابی کے انفرادی عمل کا تعلق ہے اگر وہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہوجائے تو اس کی تاویل کرنا ہوگی کہ اس صحابی کو رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نہیں پہنچا، یا اسے سمجھنے میں سہو ہوئی ہے۔ جس کی مثال حضرت ابوذر غفاری (رض) کا تین دن سے زیادہ کسی چیز کو گھر میں رکھنا خلاف شرع سمجھنا ہے۔ بعض لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے ایک آدھ انفرادی عمل کو اپنے لیے حجت قرار دیتے ہوئے تائید کے طور پر حدیث رسول پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : (أصحابی کالنجومِ ، فبأیِّہِم اقتدیتم اہتدیتم)[ جامع الاصول من احادیث الرسول ] ” میرے صحابہ ہدایت کے چمکتے ہوئے ستارے ہیں جس نے کسی صحابی کی پیروی کی وہ ہدایت پا جائے گا “ حالانکہ یہ روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہے۔ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ یَجِئُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَۃُ اَحَدِھِمْ یَمِیْنَہٗ وَیَمِیْنُہٗ شَہَادَتَہٗ )[ رواہ البخاری : باب لاَ یَشْہَدُ عَلَی شَہَادَۃِ جَوْرٍ إِذَا أُشْہِدَ ]. ” حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ سول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے زمانہ کے لوگ سب سے بہتر ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ اس کے بعد کچھ لوگ آئیں گے ‘ جن کی گواہی کی قسم سے ‘ اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ “ جہاں تک کسی دور کے علماء کے اجماع کا تعلق ہے وہ قرآن و سنت کے تابع ہو تو قابل حجت ہوگا۔ بصورت دیگر اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ شریعت میں دلیل معیار ہے اقلیت اور اکثریت معیار نہیں ہے۔ لہٰذا صحابہ کا اجتماعی طرز فکر اور عمل امت کے لیے حجت ہے۔ سورة فاتحہ کے آخری کلمات اسی راستے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جو اس راستے سے جتنا ہٹے گا اتنا ہی گمراہی کی طرف جائے گا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (فَلَمَّا زَاغُوْا أَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ ) [ الصف : ٥] ” جب وہ سیدھی راہ سے ہٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دلوں میں کجی پید اکردی۔ “ (وَنَذَرُھُمْ فِيْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) [ الانعام : ١١٠] ” انہیں ان کی سرکشی میں رہنے دیتے ہیں اور وہ حیران پھرتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستے کو چھوڑنا جہنم کا راستہ اپنانے کے مترادف ہے۔ ٢۔ جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ تفسیر بالقرآن اتباع صحابہ (رض) : ١۔ انعام یافتہ لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا۔ (الفاتحہ : ٦) ٢۔ صحابہ کا ایمان ہدایت کی کسوٹی۔ (البقرۃ : ١٣٧) ٢۔ مومن کو مومنوں کا دوست ہونا چاہیے۔ (التوبۃ : ٧١) ٣۔ الٰہی ہمیں شاہدین کے ساتھ لکھنا۔ (آل عمران : ٥٣) ٥۔ موت کے بعد نیک لوگوں کی رفاقت۔ (آل عمران : ١٩٣) ٦۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا۔ (یوسف : ١٠١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” ١١٥ تا ١١٦۔ ان آیات کے نزول کے سلسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ بشیر ابن ابیرق مرتد ہوگیا اور جاکر مشرکین مکہ کے ساتھ مل گیا حالانکہ اس پر راست واضح ہوچکی تھی ۔ پہلے وہ اسلامی صفوں میں تھا لیکن اس نے اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ کو اپنا لیا۔ لیکن یہ آیت مضمون اور اطلاق کے اعتبار سے عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر اس حالت پر ہوگا جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کی جارہی ہو ۔ جس میں آپ کی مخالفت میں کفر ‘ شرک اور ارتداد اختیار کیا گیا ہو اور اس طرح کے قدیم وجدید تمام واقعات پر اس کا اطلاق ہوگا ۔ (المشاقہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص ایک ٹکڑا لے اور دوسرا اس کے مقابلے میں دوسرا ٹکڑا لے لے ۔ اور جو شخص رسول اللہ کے ساتھ شقاق کرتا ہے وہ رسول کے بالمقابل جنبہ بالمقابل صف ‘ اور بالمقابل پارٹی کو اختیار کرتا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جن بےپارٹی اور محاذ کی مخالفت کرتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نافذ کردہ نظام زندگی کے بالمقابل نظام حیات لے کر آئین تھے جس کے اندر عقیدے اور نظریات بھی شامل تھے ‘ جس کے اندر مراسم عبودیت بھی تھے ۔ جس کے اندر نظام قانون اور نظام حکومت بھی تھا اور یہ نظام زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی تھا۔ اور یہ تمام امور اسلامی نظام کے مجموعی جسم کے اعضاء تھے ۔ اور اصول یہ ہے کہ اگر ان اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو نظام قائم نہیں رہ سکتا ۔ اس کی روح نکل جائے گی ۔ جو شخص رسول کے ساتھ شقاق کرتا ہے یہ وہی شخص ہے جو یا تو اسلامی نظام حیات کو مکمل طور پر رد کرتا ہے اور یا بعض حصوں کو مانتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے ۔ یعنی ایک حصہ لیتا ہے اور دوسرا چھوڑتا ہے ۔ اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ کہیں ان پر حجت تمام نہ ہوجائے اور وہ برے ٹھکانے جہنم کے مستحق نہ ہوجائیں اس لئے اللہ نے انکی جانب رسول بھیجے ۔ رسولوں نے لوگوں کے سامنے سچائی بیان کی انہوں نے لوگوں پر راہ ہدایت کو بالکل واضح کردیا ۔ پھر اگر وہ انکار کریں گے تو گمراہی کو اختیار کریں گے ۔ یہ اللہ کی وسیع رحمت تھی کہ اللہ نے اس ضعیف مخلوق کے لئے صراط مستقیم پرچلنے کا یہ اہتمام کیا۔ پھر جب کسی پہ راہ حق واضح ہوجائے اور رسول موجود ہو اور پھر بھی وہ رسول کی راہ کے مقابلے میں دوسری راہ اختیار کرے اور آپ پر ایمان نہ لائے اور آپ کی اطاعت نہ کرے اور اسلامی نظام اور نظام مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر راضی نہ ہو ‘ تو اب حجت تمام ہوتی ہے اور اللہ ان کے حق میں گمراہی لکھ دیتے ہیں اور پھر اسی طرف اسے موڑ دیتے ہیں جس طرف وہ مڑ جاتا ہے ۔ پھر اسے اللہ کفار کے حوالے کردیتا ہے۔ وہ مشرکین کا ساتھی ہوجاتا ہے اور اب اس پر وہ عذاب حق بن جاتا ہے جس کا اللہ نے اعلان کیا ۔ (آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (٤ : ١١٥) ترجمہ :” مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روشن پر چلے ‘ درآنحالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اس طرف چلائیں گے جدھر خود وہ پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ اس برے انجام کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اللہ کی مغفرت ہر گناہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے مگر شرک ایسا گناہ ہے جس کے لئے ہر گز معافی نہیں ہے ۔ (آیت) ”۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (٤ : ١١٦) ” اللہ کے ہاں بس شرک کی بخشش نہیں ہے ۔ اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہئے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا ۔ “ جیسا کہ ہم اس سے قبل اسی مضمون کی آیت کی تفسیر میں کہہ آئے ہیں کہ شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کیا جائے جس عرب دور جاہلیت میں کیا کرتے تھے اور جس طرح عربوں کے علاوہ دوسری قدیم جاہلیتیں کرتی تھیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے خصائص الوہیت خصوصا صفت حاکمیت میں بھی کسی اور کو شریک کرنے کے سے شرک کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ مثلا کسی انسان کو حکم سمجھا جائے ۔ جس طرح یہود ونصاری کے شرک کے بارے میں قرآن کریم نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا الہ بنا رکھا ہے ۔ یہ لوگ احبارو رہبان کی عبادت اس طرح نہ کرتے تھے جس طرح وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے بلکہ وہ ان احبار اور رہبان کو حق قانون سازی دیتے تھے ۔ یہ لوگ ان کے لئے حلال و حرام کے حدود بھی متعین کرتے تھے اور یہود ونصاری اس کام میں ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ اس طرح وہ ان لوگوں کو خصائص الوہیت میں سے ایک حصہ عطا کردیتے تھے اس لئے وہ مشرک قرار پائے ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے توحید کے سلسلے میں اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کر ڈالی تھی ‘ حالانکہ اللہ کی طرف سے انہیں حکم صرف یہ تھا کہ وہ صرف الہی واحد کی بندگی کریں ‘ صرف اللہ وحدہ کے مراسم عبودیت ادا کریں اور اوامر ونواہی کے ساتھ ساتھ قانون کا ماخذ حکم الہی کو قرار دیں ۔ اللہ کے صریح احکام واعلانات کے مطاق گناہ شرک کے لئے کوئی معافی نہیں ہے بشرطیکہ کوئی حالت شرک میں مر جائے شرک کے سوا تمام گناہوں کے معافی ہو سکتی ہے اگر اللہ راضی ہوجائے ۔ سوال یہ ہے کہ شرک کو اس قدر عظیم جرم کیوں قرار دیا گیا ہے کہ وہ ناقابل معافی ہے ؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے وہ خیر اور بھلائی کے دائرے ہی سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اور اس کی فطرت ہی بگڑ جاتی ہے اور اس کی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی ۔ (آیت) ” ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا (٤ : ١١٦) (جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا) ۔۔۔۔۔ اگر ایسے شخص کی فطرت کے تار وپود میں سے کوئی ایک دھا کہ بھی باقی ہوتا تو وہ اسے اللہ کے نظریہ وحدانت کے ساتھ جوڑے رکھت الیکن اس نے تمام رشتے توڑ دیئے ۔ اگر شرک سین کوئی تائب ہوجائے اور موت سے چند منٹ پہلے تائب ہوجائے تو بھی نجات پالے گا ہاں اگر حالت نزع طاری ہو اور وہ مشرک ہو تو اب اس کا انجام یہ ہوگا کہ (آیت) ” ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا “ (٤ : ١١٥) (ہم اسے واصل جہنم کریں گے اور یہ بہت ہی برا انجام ہے) ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جاہلیت کے بعض ادہام و خرافات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ عربی جاہلیت کے اندر جو شرکیہ خرافات جاری تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ یہ لوگ شیطان کی بھی پوجا کرتے تھے ‘ جس طرح انہوں نے ملائکہ کے بت بنا رکھے تھے ‘ پھر ان کے اندر ایسی رسوم بھی تھیں کہ جو جانور وہ نذر کرتے تھے ان کے کان کاٹ دیتے تھے یا پھاڑ دیتے تھے ۔ یہ ان کے الہوں کی نذر ہوتے تھے اور اس طرح وہ اللہ کی پیدائش اور تخلیق کو متغیر کرتے تھے ۔ اور اس طرح شرک کرتے تھے حالانکہ شرک کرنے کا معنی یہ ہے کہ جس طرح انسان فطرت کو بگاڑ دے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف راہ اختیار کرنا داخلۂ دوزخ کا سبب ہے : پھر فرمایا (وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرُّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی) (الآیۃ) کہ جو شخص ہدایت ظاہر ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستہ کے علاوہ دوسرے راستہ کا اتباع کرے ہم اسے وہ کرنے دیں گے جو کرتا ہے (یعنی اپنے اختیار سے جس برائی میں لگا ہوا ہے دنیا میں ہم اسے کرنے دیں گے اس کا اختیار سلب نہیں کریں گے) اور اسے جہنم میں داخل کریں گے (یہ اس کو آخرت میں سزا ملے گی) اور دوزخ بری جگہ ہے اس آیت میں دو باتوں میں دوزخ کے داخلہ کے خبر دی گئی اول یہ کہ جو شخص ہدایت ظاہر ہونے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرے وہ دوزخ میں داخل ہوگا، وہ تمام لوگ جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا علم ہوا اور پھر اسلام قبول نہ کیا اور ہر وہ شخص جس نے اسلام قبول کرلیا اور پھر اسلام قبول کر کے اسلام سے پھر گیا وہ سب لوگ اس آیت کی وعید میں شامل ہیں۔ چوری کرنے والا وہ شخص جس کا واقعہ ان آیات کا سبب نزول بنا، مرتد ہو کر چلا گیا تھا اس لیے اس بات کو یہاں ذکر کیا گیا لیکن مفہوم اس کا عام ہے ہمیشہ جب کبھی بھی کوئی شخص اسلام قبول کرے پھر مرتد ہوجائے اس آیت کا مضمون اس پر صادق آئے گا یعنی وہ دوزخ میں جائے گا۔ اجماع امت بھی حجت ہے : دوسری بات یہ بتائی کہ جو شخص مومنین کے راستہ کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ اختیار کرے گا، وہ دوزخ میں داخل ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح کہ دین اسلام میں قرآن و حدیث حجت ہیں اسی طرح اجماع امت بھی حجت ہے کیونکہ قرآن مجید کا مطلب اور عقائد و اعمال کی تفصیلات جو حضرات صحابہ (رض) سے لے کر ہر زمانے کے علماء صلحا اور مشائخ کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں ان کو ماننا اور اس پر عمل کرنا ہی ذریعہ نجات ہے۔ ان ہی کے ذریعہ قرآن مجید کی تفسیر ہم تک پہنچی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتائی آپ سے سمجھ کر حضرات صحابہ (رض) نے تابعین کو بتائی پھر انہوں نے آگے اس کی روایت کی۔ عقائد بھی انہی حضرات کے ذریعہ ہم تک پہنچے اور فرائض و واجبات کا بھی انہی کے ذریعہ پتہ چلا اب جو کوئی شخص ان حضرات کو بیچ میں سے نکال کر خود اپنے پاس سے قرآن کی تفسیر کرے گا اور آیات کے معانی و مفاہیم اپنے پاس سے تجویز کرے گا، اور احکام اسلام کی اپنے طور پر تشریح کرے گا یا حجیت حدیث کا منکر ہوگا یا امت مسلمہ کے مسلمہ عقائد کا انکار کرے گا وہ کافر ہوگا دوزخی ہوگا جو لوگ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں یا جو لوگ پانچ نمازوں کے منکر ہیں یا جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نبوت ختم ہونے کے منکر ہیں یا جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل ہونے یا ان کی طبعی موت واقع ہونے کے قائل ہیں یہ سب لوگ کافر ہیں اور دوزخی ہیں کیونکہ حضرات صحابہ کرام سے لے کر اب تک پوری امت کے جو عقائد ہیں یہ لوگ ان کے منکر ہیں اپنے تراشیدہ عقیدہ کے حامل ہیں۔ (اہل السنۃ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہ مقتول ہوئے نہ طبعی موت سے دنیا سے تشریف لے گئے وہ قیامت سے قبل دنیا میں تشریف لا کر امن وامان اور عدل و انصاف قائم کریں گے) ۔ روح المعانی صفحہ ١٤٦: ج ٥ میں ہے کہ حضرت امام شافعی (رح) سے ایک شخص نے کہا کہ اجماع کے حجت ہونے کی کیا دلیل ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) نے تین دن تک روزانہ رات اور دن میں تین تین بار پورا قرآن مجید پڑھا ان کو یہ آیت مل گئی جس سے انہوں نے اجماع امت کے حجت ہونے پر استدلال کیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرور عالم کا ارشاد ہے کہ بلاشبہ اللہ نے مجھ سے میری امت کے بارے میں تین وعدے فرمائے، اور ان کو تین چیزوں سے امان دی۔ (اول) یہ کہ کبھی پوری امت قحط کے ذریعہ ہلاک نہ ہوگی۔ (دوم) یہ کہ ان کا کوئی دشمن ان کو بالکل ہی ایک ایک فرد کرکے ختم نہ کرسکے گا۔ (سوم) یہ کہ اللہ ان کو گمراہی پر جمع نہ فرمائے گا۔ (رواہ الدارمی کمافی المشکوٰۃ صفحہ ٥١٤) حضرت ابو مالک اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم کو تین چیزوں سے امان دی۔ (اول) یہ کہ تمہارا نبی تم پر بد دعا نہ کرے گا، جس سے تم سب ہلاک ہوجاؤ۔ (دوم) یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غلبہ نہ پائیں گے (جس سے حق مٹ جائے اور نور حق ختم ہوجائے) (سوم) یہ کہ تم لوگ گمراہی پر جمع نہ ہو گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٥١٣: ج ٢) گمراہوں کی ایک جاہلانہ بات کی تردید : گمراہی کی دعوت دینے والے بعض لوگ یوں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہم گمراہ ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ہلاک کیوں نہیں فرما دیتا ؟ آیت بالا میں اس کا بھی جواب دے دیا گیا ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے (نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی) فرما کر یہ بتایا ہے کہ جو شخص گمراہی کے راستہ پر چلتا جائے ہم اسے اس راہ پر چلنے دیتے ہیں کیونکہ یہ دنیا ابتلاء اور امتحان کی جگہ ہے، دنیا میں ایمان بھی ہے اور کفر بھی ہے اگر کسی پر جبر کیا جائے تو اختیار باقی نہ رہنے کی وجہ سے دنیا دارا لامتحان نہ رہے گی۔ جو شخص گمراہی کو اختیار کرتا ہے اور تنبیہ کرنے والوں کی تنبیہ پر بھی واپس نہیں آتا اللہ جل شانہٗ اس کے دل میں مزید زیغ اور گمراہی ڈال دیتے ہیں جیسا کہ سورة صف میں ارشاد فرمایا (فَلَمَّا زَاعُوْآ اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ ) (پھر جب وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اور زیادہ ٹیڑھا کردیا) ۔ دنیا میں جو شخص اپنے لیے ہدایت کو اختیار کرے گا، اس کی اسی پر مدد کی جائے گی اور اسی کے مطابق اس کے لیے اللہ کی طرف سے آسانی فراہم ہوتی رہے گی۔ اور جو شخص اپنے لیے گمراہی کو اختیار کرے گا، اس کے لیے گمراہی کے راستے کھلتے رہیں گے۔ اور آخرت میں ہر شخص اپنے عقائد و اعمال کے اعتبار سے جنت یا دوزخ میں جائے گا۔ آیت بالا میں واضح طور پر معلوم ہوا کہ مومنین کے راستہ کے علاوہ دوسرا راستہ اختیار کرنا دوزخ میں لے جانے والا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اور جو شخص باوجود اس کے کہ اس پر امر حق واضح ہوچکا تھا اور اس کے لئے سیدھی راہ ظاہر ہوچکی تھی پھر بھی اس ظہور حق کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرے گا اور سب مسلمانوں کی راہ کیخلاف چلے گا اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر ہو لیتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کے اعتقاد اور عمل کو چھوڑ کر دوسرے اعتقاد اور عمل اختیار کرتا ہے تو ہم اس کو اس کی اختیار کردہ راہ کے سپرد کردیں گے اور جو کچھ وہ کرتا ہے اس کو کرنے دیں گے اور آخرت میں اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ دوزخ بہت بری بازگشت ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے مسلمانوں کی جماعت پر جس نے جدی راہ پکڑی وہ جا پڑا دوزخ میں پس جس بات پر امت کا اجماع ہوا وہی اللہ کی مرضی ہے اور منکر ہوا سو دوزخی ہے۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ جس شخص پر یہ بات ظاہر ہوچکی کہ دین اسلام یا اسلام کا بتایا ہوا طریقہ صحیح ہے اور یہ بات یا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے سے ظاہر ہوئی ہو جیسے بشیر یا طعمہ کے قضیے میں یا یہ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آپ کے لائے ہوئے احکام آپ کے معجزات وغیرہ سے اس پر ظاہر ہوچکے ہوں اور پھر امر حق اور دین حق کے ظاہر ہوجانے کے بعد وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرنے لگے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مخالف ہوجائے جیسا کہ بشیر یا طعمہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کے بعد مرتد ہوگیا اور کفار مکہ سے جا ملا اور مسلمانوں کی راہ اس نے چھوڑ دی اور مسلمانوں کا جو اعتقاد اور عمل تھا اس کے خلاف کفار کا عقیدہ اور کفار کا عمل اختیار کرلیا۔ تو ایسے شخص کی دو سزائیں قرآن کریم نے بیان فرمائیں ایک تو یہ کہ دنیا میں جو طریقہ اس نے اختیار کیا ہے اسی پر اس کو چھوڑ دیتا ہوں اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جو کرتا ہے وہ کرنے دیتا ہوں یا یہ معنی ہیں کہ جس طرح جاتا ہے اس کو اسی طرف کے حوالے اور سپرد کردیتا ہوں۔ لوگوں نے مختل ترجمے کئے ہیں اور ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ میں اس کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیتا ہوں اور یہ بالکل ایسا محاورہ ہے جیسے کوئی نالائق بیٹے کو کہتا ہے کہ مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں اس کا جو جی چاہے کرتا پھرے میرا اس کا کوئی واسطہ نہیں۔ گویا حضرت حق تعالیٰ نے اپنی ناراضگی اور بیزاری کو ان الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے کہ لولہ مآ تولی اور یہ ایک انسان کی بدنصیبی اور بدبختی ہے کہ حضرت حق کی مہربانی اس بدنصیب سے دست کش ہوجائے اور یہ بھی انہی روحانی بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے جن کی جانب ہم شروع سے توجہ دلانے چلے آئے ہیں کہ نافرمانیوں اور گناہوں کے مختلف ثمرات ہیں بعض دفعہ بتدریج ہوتا ہے اور بعض حرکت پر فوراً ہی راندئہ درگاہ کردیا جاتا ہے ایسے انسان کی جو حق کو حق دیکھ لینے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کی رہ چھوڑ کر دوسری راہ چلے اس کو دنیا میں تو یہ سزا ملتی ہے کہ اس سے اپنی شفقت و رحمت کا ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور اس کو اس کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں اور قیامت میں اس کو جہنم میں داخل کردیں گے اور واپس ہونے کے اعتبار سے جہنم بہت برا مقام اور بہت بری جگہ ہے۔ ویتبع غیر سبیل المئومنین سے بعض حضرات نے اجماع مسلمین کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے جیسا کہ حضرت شاہ صاحب نے اشارہ فرمایا ہے کہتے ہیں کہ حضرت امام شافعی (رح) نے کسی شخص کے سوال کرنے پر تین رات دن تک قرآن کریم میں غور کیا اور ہر دن میں تین مرتبہ اور ہر رات میں تین مرتبہ پورے قرآن کریم کو پڑھا اور تیر سے دن سوال کرنے والے کو اس آیت سے جواب دیا اور سائل کو مطمئن کردیا صاحب روح المعانی نے اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے سبیل المومنین سے وہ طریقہ مراد ہے جس پر مسلمان ہمیشہ سے چلتے آئے ہیں وہی اعتقاد اور وہی عمل قابل اعتبار ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں دو باتوں کے لئے وعید فرمائی ہے ایک رسول کی مخالفت اور دوسرے اجماع کی مخالفت، رسول کی مخالفت ایک مستقل سبب ہے عذاب کا اور اجماع کی مخالفت ایک مستقل سبب ہے عذاب کا ان دونوں باتوں میں سے یعنی رسول کی پیروی اور مسلمانوں کے اجماع کی اتباع جس بات کی بھی کوئی مخالفت کریگا وہ مستوجب سزا ہوگا۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ویتبع غیر سبیل المئومنین دلیل ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت پر کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہر طریقفہ کا علم مشکل ہے یہ مشکل آپ کی زندگی میں بھی ان لوگوں کے لئے تھی جو دور دراز رہتے تھے اور وفات کے بعد تو ہر شخص کے لئی اس کی واقفیت ناممکن ہے بجز اس کی کہ ان راویوں کی روایات سے معلوم ہو جو آپ کے طریقہ کو نقل کرنے والے ہیں یا ان لوگوں سے جو آپ کے طریقہ پر یک بعد دیگرے عمل کرتے آئے ہیں ان سے معلوم ہو۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موافقت اور مخالفت اور اتباع اور عدم اتباع کا دار و مدار ہداۃ ودعاۃ پر ٹھہرا اور اسی کو سبیل المومنین فرمایا ہے اسی سبیل مئومنین کو نص اور اجتہاد کہا جاتا ہے اور یہی دو چیزیں امت میں رائج ہیں اور ہمیشہ سے چلی آتی ہیں اور یہی سبیل المئومنین ہے۔ (واللہ اعلم) بہرحال ! اجماع کے متعلق بڑی تفصیل ہے جو اصول فقہ میں موجود و مرقوم ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے میری امت گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے ۔ (الخ) یعنی تمام امت گماہی پر جمع ہوجائے اور کوئی فریق بھی حق کہنے والا نہ رہے ایسا نہیں ہوگا بلکہ حق کہنے والوں ک ایک طبقہ ہمیشہ رہے گا اور یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ عام طور پر اہل حق کی جماعت اہل باطل سے کم ہوتی ہے ہر دور میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے صحابہ اور تابعین وغیرہ کے دور کو چھوڑ کر شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو جو اہل حق تعداد میں اہل باطل کا مقابل ہکر سکے ہوں اور بالخصوص اس ہمارے دور میں تو ہر طرف تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے کفر و طغیان بد عات اور رسوم شرکیہ کا ہر جانب غلبہ اور عروج ہے اور حضرت مولانا شاہ ولی اللہ (رح) کی جماعت حقہ کی تعداد بہت کم ہے۔ وقیل من عبادی الشکور ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ بشیر یا طعمہ اپنے خلاف فیصلہ سننے کے بعد مرتد ہوگیا اور بغوی نے کہا ہے کہ مرتد ہونے کے بعد عادی چور ہوگیا اور عام طور سے نقب لگاتا تھا آخر ایک قافلہ والوں کی چوری کر کے بھاگا تو انہوں نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو پتھر مار مار کر مار ڈالا اس لئے آگے کی آیتوں میں شرک کی مذمت فرماتے ہیں اور شرک کے علاوہ دوسرے گناہں کی مغفرت کا بیان فرماتے ہیں اور چونکہ جہاد اور مخالفین جہاد کا ذکر تھا اور مخالفین جہاد میں علاوہ منافقین اور یہود کے مشرکین بھی تھے۔ لہٰذا آگے ان کا ذکر ہے ۔…غرض ! کئی اعتبار سے ان مذکورہ آیات کو آگے کی آیات سے رابطہ حاصل ہے حضرت شاہ صاحب نے بھی اپنے حاشیہ میں ربط کی ایک مختصر تقریر فرمائی ہے جو آگے آجائے گی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ (تسہیل)