Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 118

سورة النساء

لَّعَنَہُ اللّٰہُ ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِکَ نَصِیۡبًا مَّفۡرُوۡضًا ﴿۱۱۸﴾ۙ

Whom Allah has cursed. For he had said, "I will surely take from among Your servants a specific portion.

جسے اللہ نے لعنت کی ہے اور اس نے بیڑا اٹھایا ہے کہ تیرے بندوں میں سے میں مقرر شدہ حصہ لے کر رہوں گا

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَّعَنَهُ اللّهُ ... Allah cursed him, means, He expelled him and banished him from His mercy and His grace. ... وَقَالَ لاََتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا And he (Shaytan) said: "I will take an appointed portion of your servants" means, a fixed and known share. Muqatil bin Hayyan commented, "From every one thousand, nine hundred and ninety-nine will go to the Fire and one to Paradise."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

118۔ 1 مقرر شدہ حصہ سے مراد وہ نذر نیاز بھی ہوسکتی ہے جو مشرکین اپنے بتوں اور قبروں میں مدفون اشخاص کے نام نکالتے ہیں اور جہنمیوں کا وہ کوٹہ بھی ہوسکتا ہے جنہیں شیطان گمراہ کر کے اپنے ساتھ جہنم لے جائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥٧] یہ مقررہ حصہ وہ لوگ ہیں جو شیطان کے فریب میں آ کر اللہ کے ساتھ شرک کریں گے اور گمراہ ہوجائیں گے۔ اور یہ مقررہ حصہ آدھے سے بھی بہت زیادہ ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : ( وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ١٧٩۔ ) 7 ۔ الاعراف :179) اور ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

آیت ١١٨ : نصیباً مفروضا یعنی تیرے بندوں میں سے ایک گروہ کو اپنی راہ پر ڈال لوں گا، وہ اپنے مال میں میرا حصہ مقرر رکھیں گے جیسے بتوں اور قبروں کے نام کی نذر و نیاز نکالی جاتی ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (١٣٦ تا ١٤٠) جتنے گمراہ دوزخی ہیں سب نصیب شیطان (شیطان کے حصے) میں شامل ہیں۔ (قرطبی) شیطان ملعون اپنی سرکشی سے خود بھی گمراہ ہوا اور انسانوں کو گمراہ کرنے پر بھی ایسی کمر باندھی کہ نہ دشمنی چھپاتا ہے اور نہ دشمنی سے باز آتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَّعَنَہُ اللہُ۝ ٠ۘ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۝ ١١٨ۙ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٨۔ ١١٩۔ ١٢٠) اس ابلیس ملعون نے کہا تھا کہ ضرور ایک بڑے حصے کو تیری اطاعت سے بےراہ کرکے اپنا حصہ اس سے لوں گا یا یہ کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے کو دوزخ میں داخل کراؤں گا اور ہدایت سے گمراہی پر لاؤں گا اور جو شخص شیطان کی پوجا کرتا ہے وہ دنیا وآخرت کے برباد ہونے کی وجہ سے کھلے نقصان میں ہے۔ شیطان ان سے یہ وعدے کرتا ہے کہ جنت اور دوزخ کچھ نہیں اور یہ جھوٹی امید دلاتا ہے کہ دنیا کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٨ (لَّعَنَہُ اللّٰہُ ٧) (وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا ) ان لوگوں کو میں اپنے ساتھ جہنم میں پہنچا کر رہوں گا۔ گویا : ع ہم تو ڈوبے ہیں صنم ‘ تم کو بھی لے ڈوبیں گے !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

146. This shows that Satan is determined to lay his claim to a portion of men's time, to their effort and labour, to their energies and capacities, to their material belongings, and to their offspring, and would somehow trick them into devoting a sizeable portion of all these in his cause.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :146 یعنی ان کے اوقات میں ان کی محنتوں اور کوششوں میں ، ان کی قوتوں اور قابلیتوں میں ان کے مال اور ان کی اولاد میں اپنا حصہ لگاؤں گا اور ان کو فریب دے کر ایسا پرچاؤں گا کہ وہ ان ساری چیزوں کا ایک معتدبہ حصہ میری راہ میں صرف کریں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

71: یعنی بہت سے بندوں کو گمراہ کر کے انہیں اپنا بنا لوں گا اور بہت سوں سے اپنی مرضی کے کام کراؤں گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:118) لعنہ اللہ۔ میں ہ ضمیر شیطان کی طرف راجع ہے اور قال فعل کا فاعل بھی شیطان ہی ہے۔ لاتخذن۔ مضارع واحد متکلم بالام تاکید و نون ثقلیہ۔ اتخاذ (افتعال) سے۔ بہت سی چیزوں میں سے کسی ایک کو لینا۔ یا اختیار کرنا۔ یعنی میں ضرور لوں گا۔ لاضلنہم۔ میں ان کو ضرور بہکاؤں گا۔ میں ان کو ضرور گمراہ کروں گا۔ اضلال۔ سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی تیرے بندوں میں سے اک گروہ کو اپنی راہ پر ڈال لوں گا وہ اپنے مال میں میرا حصہ مق ر کر رکھیں گے جیسے بتوں وار قبروں کے نام کی نذر نیاز نکالی جاتی ہے ، (موضح) جنتے کمراہ دوزخی ہیں سب نصیب شیطان میں داخل ہیں (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : شرک دراصل شیطان کا حکم ماننا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔ شیطان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے لہٰذا مشرک پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ شیطان نے صرف آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار نہیں کیا بلکہ وہ جرم پر جرم کرتا چلا گیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر معذرت کرنے کی بجائے اپنے جرم کے دلائل دیتے ہوئے قسمیں اٹھائیں کہ میں ہر حال میں بنی نوع انسان کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ ان میں سے کثیر تعداد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ میں انہیں پر کشش اور دلفریب امیدیں دلاؤں گا اور انہیں جانوروں کے کان چیرنے اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنے کا حکم دوں گا۔ چناچہ ابتدائے آفرینش سے لے کر اب تک مشرک یہی کچھ کرتے آئے ہیں کہ جن جانوروں کو غیر اللہ کے نام پر وقف کرتے ہیں ان کے کان چیر کر مخصوص نشان لگاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ جس نے شیطان کو اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا خیر خواہ اور دوست بنایا وہ بھاری اور صریح نقصان میں پڑگیا۔ (قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ۔ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْ م بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِھِمْ وَ عَنْ شَمَآءِلِھِمْ ط وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ ) [ الأعراف : ١٧] ” شیطان نے کہا تو نے مجھے اس کی وجہ گمراہی میں مبتلا کیا ہے لہٰذا اب میں بھی تیرے صراط مستقیم پر ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے بیٹھوں گا۔ پھر انسانوں کو آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے غرض ہر طرف سے گھیر لوں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ “ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَأَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ أَجْمَعِیْنَ ) [ الأعراف : ١٨] ” کہ جس نے لوگوں میں سے تیری پیروی کی میں تم سب سے جہنم کو ضرور بھروں گا۔ “ لعنت کا معنٰی : اللہ کا کسی کو خیر سے دور اور محروم کرنا۔ لعنت کرنا مسائل ١۔ شیطان لعنتی ہے اور دوسروں کو گمراہ کرتا ہے۔ ٢۔ شیطان نے انسان کو ہر طرح سے گمراہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ ٣۔ شیطان کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہمیشہ نقصان پائے گا۔ تفسیر بالقرآن شیطان کے ہتھکنڈے : ١۔ شیطان آدمی کو ہر طرف سے گمراہ کرتا ہے۔ (الاعراف : ١٧) ٢۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پھسلایا۔ (البقرۃ : ٣٦) ٣۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پھسلانے کے لیے قسمیں اٹھائیں۔ (الأعراف : ٢١) ٤۔ شیطان جھوٹی قسموں سے ورغلاتا ہے۔ (الاعراف : ٢١) ٥۔ شیطان اپنی فریب کاری سے پھسلاتا ہے۔ (الاعراف : ٢٢) ٦۔ شیطان بےحیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے۔ (البقرۃ : ١٦٩) ٧۔ شیطان برے اعمال کو فیشن کے طور پر پیش کرتا ہے۔ (النمل : ٢٤) ٨۔ شیطان نے انسان کو گمراہ کرنے کے لیے قسمیں اٹھائیں۔ (الاعراف : ٢) ٩۔ شیطان کی پیروی کرنے سے بچنے کا حکم ہے۔ (البقرۃ : ٢٠٨) ١٠۔ شیطان کی پیروی اس کی عبادت کرنا ہے۔ (یٰس : ٦) ١١۔ قیامت کے دن شیطان جہنمیوں سے برأت کا اعلان کرے گا۔ (ابراہیم : ٢٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 یہ مشرک نہیں عبادت کرتے مگر چند عورتوں کی یعنی دیویوں کی اور زنا نے ناموں کی اور یہ مشرک نہیں عبادت کرتے مگر شیطان کی جو سرکش اور نافرمان ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور جس کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ سے یوں کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے ضرور اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں گا اور تیری اطاعت و عبادت میں بٹوارا کرا کے رہوں گا۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی تیرے بندے اپنے اعمال میں میرا حصہ ٹھہرا رکھیں گے جیسے دستور ہے بتوں کی نیاز نکال رکھتے ہیں۔ (موضح القرآن) اناث انثی کی جمع ہے ان کے بتوں کو عورتیں اس لئے فرمایا کہ عام طور سے وہ اپنے بتوں کو مئونث سے تعبیر کرتے تھے یا یہ ان کے بتوں کے اکثر نام عورتوں کے سے نام تھے جیسے لات منات وغیرہ یا اس وجہ سے کہ وہ جمادات تھے اور جمادات کو اہل لعنت بکثرت مئونث سے تعبیر کرتے ہیں اور کافر عام طور سے ان بتوں کو زیور پہنا کر ان کو آراستہ کیا کرتے تھے یا بتوں کی کمزوری کی وجہ سے ان کو اناث فرمایا یا اس وجہ سے کہ اکثر فرشتوں کو پوجتے تھے اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اس لئے ان کے معبود ان کو اناث فرمایا۔ حسن اور قتادہ نے کہا مردے ہیں جن میں روح نہیں اور چونکہ جمادات اور عام چیزوں کو بھی عام طور سے مئونث سے تعبیر کرتے تھے اس لئے اناثا فرمایا۔ بہرحال ! عرب کے عام محاورے کے لحاظ سے ان کے اصنام کو اناثا فرمایا ہے شیطان کی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت کرتے ہیں اور چونکہ وہ بتوں کی عبادت پر آمادہ کرتا ہے اس لئے وہ بھی ان کی عبادت میں شریک ہے۔ حضرت سفیان (رض) سے مروی ہے کہ کوئی بات ایسا نہیں جس میں شیطان نہ ہو حضرت مقاتل کا قول ہے کہ شیطان سے مراد یہاں ابلیس ہے اور چونکہ یہ مشرک اس کے حکم اور اس کے کہنے کی پیروی کرتے ہیں اس لئے مجازاً بتوں کے ساتھ شیطان کی بھی عبادت کرتے ہیں۔ مزید سرکش خدا کی اطاعت سے نکل بھاگنے والا نصیب مفروض مقررہ اور مقدرہ حصہ خلاصہ یہ ہے کہ یہ مشرک ان اوثان و اصنام کی عبادت کرتے ہیں جن کے نام زنانے ناموں پر رکھے ہوئے ہیں اور چونکہ شیطان مرید کے کہنے سے ایسا کرتے ہیں لہٰذا شیطان کو بھی مجازاً معبود بنا رکھا ہے آگے شیطان کے اوصاف ہیں کہ وہ مرید اور اللہ تعالیٰ کا ملعون ہے جس کو خدا نے اپنی رحمت سے دور پھینک رکھا ہے اور جس نے ملعون ہوتے وقت یہ کہا تھا کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ جو میرے لئے مقرر ہے لے کر رہوں گا یعنی ان کو اپنے ہمراہ جہنم میں لے جانے کی کوشش کروں گا اپنے ارادے کا اس نے اظہار کیا تھا اور یہ محض اپنی قوت اور کوشش کے خیال سے کہا تھا اور اتفاق سے جو گمان اس نے کیا تھا وہ پورا بھی ہوگیا ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ نصیب مقروض سے مراد اطاعت کا حصہ ہے جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے کہ جن چیزوں میں شیطان کی اطاعت کی جائے وہی اس کا نصیب مفروض ہے آگے اور شیطان کی باتیں مذکور ہیں۔ (تسہیل)