Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 137

سورة النساء

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا ثُمَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا لَّمۡ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغۡفِرَ لَہُمۡ وَ لَا لِیَہۡدِیَہُمۡ سَبِیۡلًا ﴿۱۳۷﴾ؕ

Indeed, those who have believed then disbelieved, then believed, then disbelieved, and then increased in disbelief - never will Allah forgive them, nor will He guide them to a way.

جن لوگوں نے ایمان قبول کر کے پھر کفر کیا ، پھر ایمان لاکر پھر کفر کیا پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے ، اللہ تعالٰی یقیناً انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں راہ ہدایت سمجھائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Characteristics of the Hypocrites and Their Destination Allah says; إِنَّ الَّذِينَ امَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ ثُمَّ امَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ ثُمَّ ازْدَادُواْ كُفْرًا ... Verily, those who believe, then disbelieve, then believe (again), and (again) disbelieve, and go on increasing in disbelief; Allah states that whoever embraces the faith, reverts from it, embraces it again, reverts from it and remains on disbelief and increases in it until death, then he will never have a chance to gain accepted repentance after death. Nor will Allah forgive him, or deliver him from his plight to the path of correct guidance. This is why Allah said, ... لَّمْ يَكُنِ اللّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلاَ لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلً Allah will not forgive them, nor guide them on the (right) way. Ibn Abi Hatim recorded that his father said that Ahmad bin Abdah related that Hafs bin Jami said that Samak said that Ikrimah reported that Ibn Abbas commented; ثُمَّ ازْدَادُواْ كُفْرًا (and go on increasing in disbelief), "They remain on disbelief until they die." Mujahid said similarly. Allah then said, بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

صحبت بد سے بچو ارشاد ہو رہا ہے کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہو جائے پھر وہ مومن ہو کر کافر بن جائے پھر اپنے کفر پر جم جائے اور اسی حالت میں مر جائے تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان اس کا چھٹکارا ، نہ فلاح ، نہ اللہ اسے بخشے ، نہ راہ راست پر لائے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے تھے مرتد سے تین بار کہا جائے کہ توبہ کر لے ۔ پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے کہ آخرش ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں ، ادھر بظاہر مومنوں سے ملے جلے رہتے ہیں اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں دراصل ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ، پس اللہ تعالیٰ ان کے مقصود اصلی کو ان کے سامنے پیش کر کے اس میں ان کی ناکامی کو بیان فرماتا ہے کہ تم چاہتے ہو ان کے پاس تمہاری عزت ہو مگر یہ تمہیں دھوکا ہوا ہے اور تم غلطی کر رہے ہو بگوش ہوش سنو عزتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ ہے ۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے اور آیت میں ہے ( مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا ) 35 ۔ فاطر:10 ) یعنی عزت اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول اور مومنوں کا حق ہے ، لیکن منافق بےسمجھ لوگ ہیں ۔ مقصود یہ ہے کہ اگر حقیقی عزت چاہتے ہو تو اللہ کے نیک بندوں کے اعمال اختیار کرو اس کی عبادت کی طرف جھک جاؤ اور اس جناب باری سے عزت کے خواہاں بنو ، دنیا اور آخرت میں وہ تمہیں وقار بنا دے گا ، مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص فخر و غرور کے طور پر اپنی عزت ظاہر کرنے کے لئے اپنا نسب اپنے کفار باپ دادا سے جوڑے اور نو تک پہنچ جائے وہ بھی ان کے ساتھ دسواں جہنمی ہو گا ۔ پھر فرمان ہے جب میں تمہیں منع کر چکا کہ جس مجلس میں اللہ کی آیتوں سے انکار کیا جا رہا ہو اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو اس میں نہ بیٹھو ، پھر بھی اگر تم ایسی مجلسوں میں شریک ہوتے رہو گے تو یاد رکھو میرے ہاں تم بھی ان کے شریک کار سمجھے جاؤ گے ۔ ان کے گناہ میں تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے جیسے ایک حدیث میں ہے کہ جس دستر خوان پر شراب نوشی ہو رہی ہے اس پر کسی ایسے شخص کو نہ بیٹھنا چاہئے جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اس آیت میں جس ممانعت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ سورہ انعام کی جو مکیہ ہے یہ ( وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ ) 6 ۔ الانعام:68 ) جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں میں غوطے لگانے بیٹھ جاتے ہیں تو تو ان سے منہ موڑ لے ۔ حضرت مقاتل بن حیان فرماتے ہیں اس آیت کا یہ حکم ( اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْكٰفِرِيْنَ فِيْ جَهَنَّمَ جَمِيْعَۨا ) 4 ۔ النسآء:140 ) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ( وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّلٰكِنْ ذِكْرٰي لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ ) 6 ۔ الانعام:69 ) سے منسوخ ہو گیا ہے یعنی متقیوں پر ان کے احسان کا کوئی بوجھ نہیں لکین نصیحت ہے کیا عجب کہ وہ بچ جائیں ۔ پھر فرمان باری ہے اللہ تعالیٰ تمام منافقوں کو اور سارے کافروں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے ۔ یعنی جس طرح یہ منافق ان کافروں کے کفر میں یہاں شریک ہیں قیامت کے دن جہنم میں بھی اور ہمیشہ رہنے والے وہاں کے سخت تر دل ہلا دینے والے عذابوں کے سہنے میں بھی ان کے شریک حال رہیں گے ۔ وہاں کی سزاؤں میں وہاں کی قید و بند میں طوق و زنجیر میں گرم پانی کے کڑوے گھونٹ اتارنے میں اور پیپ کے لہو کے زہر مار کرنے میں بھی ان کیساتھ ہوں گے اور دائمی سزا کا اعلان سب کو ساتھ سنا دیا جائے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

(2) بعض مفسرین نے اس سے مراد یہود لیے ہیں۔ یہود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے لیکن حضرت عزیر (علیہ السلام) کا انکار کیا، پھر حضرت عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لائے تو حضرت عیسیٰ کا انکار کیا۔ پھر کفر میں پڑھتے چلے گئے۔ حتی کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا بھی انکار کیا اور بعض نے اس سے مراد منافقین لئے ہیں، چونکہ مقصد ان کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا تھا، اس لئے وہ بار بار اپنی مسلمانی کا ڈھونگ رچاتے تھے بالآخر کفر و ضلالت میں اتنے بڑھ گئے کہ ان کی ہدایت کی امید منقطع ہوگئی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨٤] ایمان اور فکر کی بار بار تبدیلی :۔ ان سے مراد منافقین اور مرتدین کا گروہ ہے جو ہر وقت مذبذب ہی رہتے کہ جس طرف کا پلہ بھاری نظر آئے اس میں شامل ہوجائیں۔ ایسے لوگ ہوا کا رخ دیکھتے، حالات کا جائزہ لے کر اپنی خواہش نفس کے پیروکار ہوتے ہیں اور جتنی دفعہ بھی ہوا کا رخ بدلے اتنی دفعہ ہی ان کا ایمان اور کفر بدلتا رہتا ہے۔ ایسے ایمان کا چونکہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا لہذا ان پر کفر ہی کی چھاپ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ اور کفر میں بڑھتے چلے جانے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ خود تو کافر ہیں ہی دوسروں کو بھی کافر بنانے کے لیے اور اسلام کی راہ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں ایسے لوگوں کی راہ راست پر آنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا۔۔ : ان لوگوں سے مراد منافقین ہیں جو مسلمان تو ہوگئے مگر جب کوئی فائدہ دیکھتے تو ایمان کی طرف بڑھ جاتے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی تو کافر ہوجاتے۔ یہ لوگ مشرکین اوس و خزرج میں سے بھی تھے اور یہود مدینہ سے بھی۔ اب بھی بیشمار مسلمانوں کا یہی حال ہے، فرمایا : ( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ۚ ) [ حج : ١١ ] ” اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے۔ “ پھر ” کفر میں بڑھ گئے “ یعنی پھر وہ کفر پر قائم رہے اور اسی پر مرگئے، کیونکہ کفر کا یہی وہ درجہ ہے جس کی بخشش نہیں ہوتی، لیکن اگر کوئی شخص تائب ہوجائے اور ایمان لے آئے تو اس کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ یہاں بات ان لوگوں کی ہو رہی ہے جنھوں نے ایمان قبول کیا، پھر اسے چھوڑ دیا، پھر اسے قبول کرلیا، پھر اسے چھوڑ کر گمراہی کو قبول کرلیا اور پھر گمراہی میں بڑھتے ہی گئے، حتیٰ کہ کفر کی حالت میں مرگئے، تو مرنے کے بعد ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں، اللہ انھیں معاف نہیں کرے گا، کیونکہ اس صورت حال تک پہنچنے کے بعد اس سے نکلنے کی کوئی صورت ہی نہیں کہ اب انھیں نکلنے کی کوئی صورت مل سکے۔ انھی لوگوں کا ذکر سورة آل عمران (٧٢) سورة منافقون (٣) اور سورة نساء (١٨) میں کیا گیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Important Notes 1. The first part of the verse 137 which begins with the words: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُ‌وا (Surely, those who believed and then disbelieved, believed again and then disbelieved, then went on increasing in their disbelief) refers to the hypocrites. But, some commentators say that this verse is about the Jews for they were the ones who first believed, then, after having taken to the golden calf, became disbelievers. After that, they repented and believed. Then again, they rejected the prophethood of Sayyidna &Isa علیہ و الصلوٰۃ السلام and fell back into disbelief. Finally, by refusing to believe in the prophethood of Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، they further increased in their disbelief (Ruh al-Ma’ ani). 2. The second part of the verse 137 لَّمْ يَكُنِ اللَّـهُ لِيَغْفِرَ‌ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا Allah is not to forgive them nor lead them on the path), when read as a whole with the first part, would mean that their repeated return to disbelief will cause their very ability to receive true guidance to be taken away from them and, in that event, they will have neither the future option to repent nor the opportunity to believe. Otherwise, the general rule laid out by the definitive texts of the Qur&an and & Sunnah is that a disbeliever (kafir) or an apostate (مُاتَد murtadd), no matter how hardened, has his past sins forgiven -- if the taubah (repentance) made by him is sincere and true. So, if such, people too change and repent, the law of amnesty and forgiveness is open.

معارف ومسائل فوائد مہمہ : (قولہ تعالی) ان الذین امنوا ثم کفروا الخ اس سے مراد منافقین میں اور بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہودیوں کی شان میں ہے کہ اہل ایمان لائے پھر گوسالہ کی عبادت کر کے کافر ہوگئے پھر توبہ کر کے مومن ہوئے، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) سے منکر ہو کر کافر ہوئے، اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کر کے کفر میں ترقی کر گئے (روح المعانی) (قولہ تعالی) لم یکن اللہ لیغفر لھم ولالیھدیھم سبیلاً ، مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ ان کے بار بار کفر کی طرف لوٹنے سے ان کی توفیق حق ہی سلب ہو جائیگی، اور آئندہ توبہ کرنے اور ایمان لانے کا موقع ہی نصیب نہ ہوگا، ورنہ جو قاعدہ قرآن و سنت کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ کیسا ہی کافر یا مرتد ہو اگر سچی توبہ کرے تو پچھلا گناہ معاف ہوجاتا ہے، یہ لوگ بھی توبہ کرلیں تو معافی کا قانون کھلا ہوا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللہُ لِيَغْفِرَ لَھُمْ وَلَا لِيَہْدِيَھُمْ سَبِيْلًا۝ ١٣٧ۭ زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] ( زی د ) الزیادۃ اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٧) اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حالت کو بیان فرماتے ہیں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لائے یعنی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کا انکار کیا اور حضرت عزیز (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور پھر عزیر (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا۔ اب رسول اکرم (علیہ السلام) اور قرآن کریم کے انکار پر تلے ہوئے ہیں، سو جب تک یہ لوگ اس پر قائم رہیں گے نہ ان کو دین حق کی رہنمائی ہوگی اور نہ صحیح راستہ ملے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣٧ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا) یہاں کفر سے مراد کفر حقیقی ‘ کفر معنوی ‘ کفر باطنی یعنی نفاق ہے ‘ قانونی کفر نہیں۔ کیونکہ منافقین کے ہاں کفر و ایمان کے درمیان جو بھی کشمکش اور کھینچا تانی ہو رہی تھی ‘ وہ اندر ہی اندر ہورہی تھی ‘ لیکن ظاہری طور پر تو ان لوگوں نے اسلام کا انکار نہیں کیا تھا۔ (لَّمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلاَ لِیَہْدِیَہُمْ سَبِیْلاً ) واضح رہے کہ منافقت کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی دن میں کوئی شخص منافق ہوگیا ہو۔ منافقین میں ایک تو شعوری منافق تھے ‘ جو باقاعدہ ایک فیصلہ کر کے اپنی حکمت عملی اختیار کرتے تھے ‘ جیسے ہم سورة آل عمران میں ان کی پالیسی کے بارے میں پڑھ آئے ہیں کہ صبح ایمان کا اعلان کریں گے ‘ شام کو پھر کافر ہوجائیں گے ‘ مرتد ہوجائیں گے۔ تو معلوم ہوا کہ ایمان انہیں نصیب ہوا ہی نہیں اور انہیں بھی معلوم تھا کہ وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ دل سے جانتے تھے کہ ہم ایمان لائے ہی نہیں ہیں ‘ ہم تو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ شعوری منافقت ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ غیر شعوری منافق تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام قبول تو کیا تھا ‘ ان کے دل میں دھوکہ دینے کی نیت بھی نہیں تھی ‘ لیکن انہیں اصل صورت حال کا اندازہ نہیں تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ پھولوں کی سیج ہے ‘ لیکن ان کی توقعات کے بالکل برعکس وہ نکلا کانٹوں والا بستر۔ اب انہیں قدم قدم پر رکاوٹ محسوس ہو رہی ہے ‘ ارادے میں پختگی نہیں ہے ‘ ایمان میں گہرائی نہیں ہے ‘ لہٰذا ان کا معاملہ ہرچہ بادا باد والا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا حال ہم سورة البقرۃ کے آغاز (آیت ٢٠) میں پڑھ آئے ہیں کہ کچھ روشنی ہوئی تو ذرا چل پڑے ‘ اندھیرا ہوا تو کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ کچھ ہمت کی ‘ دو چار قدم چلے ‘ پھر حالات نا موافق دیکھ کر ٹھٹک گئے ‘ رک گئے ‘ پیچھے ہٹ گئے۔ نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ لوگ ان کو ملامت کرتے کہ یہ تم کیا کرتے ہو ؟ تو اب انہوں نے یہ کیا کہ جھوٹے بہانے بنانے لگے ‘ اور پھر اس سے بھی بڑھ کر جھوٹی قسمیں کھانی شروع کردیں ‘ کہ خدا کی قسم یہ مجبوری تھی ‘ اس لیے میں رک گیا تھا ‘ ایسا تو نہیں کہ میں جہاد میں جانا نہیں چاہتا تھا۔ میری بیوی مر رہی تھی ‘ اسے چھوڑ کر میں کیسے جاسکتا تھا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی جھوٹی قسمیں کھانا ایسے منافقین کا آخری درجے کا حربہ ہوتا ہے۔ تو ایمان اور کفر کا یہ معاملہ ان کے ہاں یوں ہی چلتا رہتا ہے ‘ اگرچہ اوپر ایمان باللّسان کا پردہ موجود رہتا ہے۔ جب کوئی شخص ایمان لے آیا اور اس نے ارتداد کا اعلان بھی نہیں کیا تو قانونی طور پر تو وہ مسلمان ہی رہتا ہے ‘ لیکن جہاں تک ایمان بالقلب کا تعلق ہے تو وہ مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِککی کیفیت میں ہوتا ہے اور اس کے اندر ہر وقت تذبذب اور اہتزاز (oscillation) کی کیفیت رہتی ہے کہ ابھی ایمان کی طرف آیا ‘ پھر کفر کی طرف گیا ‘ پھر ایمان کی طرف آیا ‘ پھر کفر کی طرف گیا۔ اس کی مثال بعینہٖ اس شخص کی سی ہے جو دریا یا تالاب کے گہرے پانی میں ڈوبتے ہوئے کبھی نیچے جا رہا ہے ‘ پھر ہاتھ پاؤں مارتا ہے تو ایک لمحے کے لیے پھر اوپر آجاتا ہے مگر اوپر ٹھہر نہیں سکتا اور فوراً نیچے چلا جاتا ہے۔ بالآخر نیچے جا کر اوپر نہیں آتا اور ڈوب جاتا ہے۔ بالکل یہی نقشہ ہے جو اس آیت میں پیش کیا جارہا ہے۔ اگلی آیت میں کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ یہ کن لوگوں کا تذکرہ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

168. This refers to those for whom religion is no more than an object of casual entertainment, a toy with which they like to play as long as it suits their desires and fancies. One wave carries them to the fold of Islam and the next away to that of disbelief. Whenever Islam appears to suit their interests they become Muslims; and when the glamorous visage of the god of utility leaps up before their eyes they rush off to worship it. To such people God holds out neither the assurance of forgiveness nor of direction to true guidance. The statement that such people 'became even more intense in their disbelief refers to those who are not content with not believing themselves, but also try to undermine the faith of others and to persuade them to disbelief, who engage in secret conspiracies as well as overt activities against Islam, and who devote their energies to the struggle aimed at exalting disbelief and degrading the true religion of God. This is a higher degree of disbelief, involving the progressive heaping of crime upon crime. It is obvious that the punishment for this must be greater than for simple disbelief.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :168 اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے دین محض ایک غیر سنجیدہ تفریح ہے ۔ ایک کھلونا ہے جس سے وہ اپنے تخیلات یا اپنی خواہشات کے مطابق کھیلتے رہتے ہیں ۔ جب فضائے دماغی میں ایک لہر اٹھی ، مسلمان ہو گئے اور جب دوسری لہر اٹھی ، کافر بن گئے ۔ یا جب فائدہ مسلمان بن جانے میں نظر آیا ، مسلمان بن گئے اور جب معبود منفعت نے دوسری طرف جلوہ دکھایا تو اس کی پوجا کرنے کے لیے بے تکلف اسی طرف چلے گئے ۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے پاس نہ مغفرت ہے نہ ہدایت ۔ اور یہ جو فرمایا کہ” پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص محض کافر بن جانے ہی پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کے بعد دوسرے لوگوں کو بھی اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرے ، اسلام کے خلاف خفیہ سازشیں اور علانیہ تدبیریں شروع کر دے ، اور اپنی قوت اس سعی و جہد میں صرف کرنے لگے کہ کفر کا بول بالا ہو اور اس کے مقابلہ میں اللہ کے دین کا جھنڈا سرنگوں ہو جائے ۔ یہ کفر میں مزید ترقی ، اور ایک جرم پر پے در پے جرائم کا اضافہ ہے جس کا وبال بھی مجرد کفر سے لازماً زیادہ ہونا چاہیے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

82: اس سے مراد منافق بھی ہوسکتے ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے پاس آکر مسلمان ہونے کا اعلان کرتے تھے، مگر تنہائی میں کفر اختیار کرلیتے تھے، پھر کبھی مسلمانوں کا سامنا ہوتا تو دوبارہ ایمان لانے کا مظاہرہ کرتے، مگر پھر اپنے لوگوں کو اپنے کفر کا یقین دلاتے، اور اپنے عمل سے کفر ہی میں بڑھتے چلے جاتے۔ نیز بعض روایات میں کچھ ایسے لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے جو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوئے، پھر توبہ کر کے مسلمان ہوئے، مگر بالآخر دوبارہ مرتد ہو کر کفر ہی کی حالت میں مرے۔ آیت کے الفاظ میں دونوں قسم کے لوگوں کی گنجائش ہے۔ اور ان کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ اللہ نہ ان کو بخشے گا، نہ راستے پر لائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے اپنے اختیار سے کفر اور اس کے نتیجے میں دوزخ کی راہ کو چن لیا تو اللہ ان کو زبردستی ایمان اور جنت کے راستے پر نہیں لائے گا کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے، اور ہر شخص کا انجام اس کے اپنے اختیار سے چنئے ہوئے راستے کے مطابق ہونا ہے۔ اللہ نہ کسی کو زبردستی مسلمان بناتا ہے نہ کافر۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(137 ۔ 140) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود کا ذکر تھا ان آیتوں میں یہود اور منافقوں کو ملا کر دونوں کا ذکر فرمایا یہود کا یہ کہ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر بچھڑے کو پوجا مشرک بنے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور سے واپس آنے کے بعد ایمان دار بنے پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کر کے کافر بنے اس کے بعد قرآن اور نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انکار سے اس کفر میں اور ترقی اور زیادتی کی اور اسی حالت پر مرگئے ایسے اڑیل لوگوں کو نہ دنیا میں توبہ کی توفیق ہے نہ عقبیٰ میں ان کی بخشش کی کوئی صورت ہے کیونکہ مصلحت الٰہی کے موافق آخری زمانہ میں یہ آخری شریعت ایسی شریعت ہے جس میں پچھلی سب شریعتوں کی تصدیق ہے اس کا منکر گویا سب پچھلی شریعتوں میں ہے ایسے منکر کی بخشش کی صورت کیونکر ہوسکتی ہے۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ جس نے میری نافرمانی کی اس کی نجات ممکن نہیں ٢ اور مسلم کی روایت کی ابوہریرہ (رض) کی دوسری حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہودی خواہ عیسائی میری نبوت کی تصدیق نہ کرے گا اس کی نجات نہیں ہوسکتی ٣ یہ حدیثیں گویا ان آیتوں کی تفسیر کے طور پر ہیں۔ اب آگے مدینہ کے منافقوں کا ذکر فرمایا کہ ان لوگوں نے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کی رفاقت چھوڑ کر مدینہ کے گردونواح کے یہود کی رفاقت جو اختیار کی ہے قیامت کے دن جہنم میں ان کو یہی رفاقت نصیب ہوگی۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ یہود کے سرداروں سے میل جول رکھنے میں اپنی عزت جو خیال کرتے ہیں یہ ان کا خیال غلط ہے عزت تو اسی کی قائم رہتی ہے جس کو اللہ عزت دے فرعون جیسے دنیا کے صاحب عزت کو اس نے ایک دم میں غارت کردیا۔ اس کے آگے یہود کے چھوٹے چھوٹے سرداروں کی عزت کی کیا اصل ہے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا یہود اور ان کے سرداروں کی عزت کا جو انجام ہوا وہ سراپا ذلت ہے جس کا ذکر سورة حشر میں آئے گا یہود کہ مدینہ کے اطراف میں بنی قینقاع بنی نضیر اور بن قریظہ یہ تین قبیلے رہتے تھے ان میں سے بنی قریظہ کا قتل ہوا اور باقی کے دونوں قبیلوں کا اخراج ہوا۔ یہود اور منافقوں کی مجلسوں میں اکثر اسلام کی اہانت ہوتی رہتی تھی۔ اور ایک شہر کی سکونت کے سبب سے کبھی کبھی بعض مسلمان بھی ان مجلسوں میں بیٹھا کرتے تھے۔ اس لئے ان کو تنبیہ فرمادی۔ کہ ہجرت سے پہلے مشرکین مکہ جب اپنی مجلسوں میں آیات قرآن اور اسلام کی اعانت کیا کرتے تھے تو سورة انعام کی مکی آیت واذا رأیت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنہم (٦۔ ٦٨) کے حکم سے ایسی مجلسوں میں بیٹھنے کی ممانعت ہوچکی ہے۔ پھر ایسی مجلسوں کی نشست کیوں اختیار کی جاتی ہے اور اہانت اسلام کے سننے کا گناہ اپنے ذمہ کیوں لیا جاتا ہے صحیح مسلم میں ابوسعید خدری (رض) سے رایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس جگہ کسی مسلمان شخص کو کوئی خلافت شریعت بات نظر آئے تو جہاں تک ہو سکے اس بات کو مٹادے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ضعیف درجہ ایمان کا یہ ہے۔ کہ اس خلاف شریعت بات کو دل سے برا جانے ١ یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ مجبور سے کوئی شخص کسی خلاف شریعت مجلس میں بیٹھے اور خلاف شریعت بات کا مٹانا اس کے اختیار سے خار ج ہو تو جب تک دل سے اس خلاف بات کو یہ شخص برا جانے گا اس وقت تک اس کا شمار ضعیف الایمان مسلمانوں میں ہوگا۔ ورنہ اہل مجلس کے گناہ میں یہ شخص بھی شریک ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ان لوگوں سے مراد جیسا کہ آیت کے ترجمہ سے ظاہر یہود ہیں اور ان کے زیادہ کفر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر قائم رہے اور کفر ہی حالت میں مرے کیونکہ کفر کا یہی وہ درجہ ہے جس کی کشش نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی شخص تائب ہوجائے اور ایمان لے آئے تو اس کے تمام گناہ بخشے جاتے ہیں۔ بشر طی کہ اس کے اسلام میں احسان ہو یعنی ثابت قدم رہے اور دوبارہ کفر کا ارتکاب نہ کرے، حدیث میں ہے صحابہ کرام (رض) نے آنحضرت (رض) سے سوال کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ان اعمال پر مواخذہ ہوگا جو ہم نے جاہلیت میں کئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اسلام لانے کے بعد احسان سے کام لیا اس سے تو مواخذہ نہیں ہوگا۔ مگر جس نے دوبارہ کفر کیا۔ تو وہ تمام گناہوں میں پکڑا جائے گا۔ بعض مفسرین نے ان لوگوں سے منافق مود لیے ہیں جنہوں نے ایمان وکفر کو کھیل بنا رکھا ہے جب ترنگ آئی ایمان لے آئے جب دماغ میں دوسری لہر اٹھی کافر ہوگئے جب ادھر دغا دیکھا تو ایمان کا نعرہ بلند کو دیا ہے اور دسری طرف مفاد دیکھا تو کافر ہونے کا اعلان کردیا۔ اس لیے ان کے متعلق فرمایا گیا کہ ان کی بخشش نہیں ہوسکتی، بعد میں منافقین کے ذکر کے ساتھ یہ انسب معلوم ہوتا ہے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی کفر پر دم مرگ تک ثابت اور دائم رہے۔ 7۔ کیونکہ مغفرت اور جنت کے لیے موت علی الایمان شرط ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ایمان کے بعد کفر اور پھر کفر پر ڈٹ جانے والا ہدایت اور بخشش کا مستحق نہیں رہتا۔ اس آیت کا مفہوم مفسرین نے دو طرح اخذ کیا ہے۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ اس آیت کے مخاطب یہود ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے اور انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنالیا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے اعتکاف کے بعد طور پہاڑ سے نیچے اترے تو ان کے سمجھانے پر یہودی دوبارہ ایمان لائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے تو انہوں نے ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور پھر کفر میں یہ آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھی منکر ہوئے۔ دوسری جماعت کا کہنا ہے کہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا پھر ایمان لانا اور اس کے بعد ایسا کفر اختیار کرنا کہ اس میں سخت سے سخت ہوتے گئے۔ ان سے مراد منافق ہیں جو ہمیشہ کفرو نفاق کی کشمکش میں رہتے ہیں۔ اس آیت کا یہی مفہوم لینا زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہاں مسلسل آٹھ آیات میں منافقوں کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے کہ وہ دنیا کے مفاد کی خاطر کبھی اسلام کی طرف آتے ہیں اور کبھی کفر میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نہ معاف کرتا ہے اور نہ ہی صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے کیونکہ ہدایت کے لیے اخلاص اور استقامت نہایت ضروری ہے۔ مگر منافقین دنیا کے مفاد کی خاطر دونوں کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مرتد کو دنیا میں ہی قتل کردینے کا حکم ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِيُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب لایعذب بعذاب اللّٰہ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اپنا دین تبدیل کرلیا اسے قتل کردو۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ کَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ وَکَانَ یَکْتُبُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَانْطَلَقَ ھَارِبًا حَتّٰی لَحِقَ بِأَھْلِ الْکِتَابِ قَالَ فَرَفَعُوْہُ قَالُوْا ھٰذَا قَدْ کَانَ یَکْتُبُ لِمُحَمَّدٍ فَأُعْجِبُوْا بِہٖ فَمَالَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللّٰہُ عُنُقَہٗ فِیْھِمْ فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوْا لَہٗ فَوَارَوْہُ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْھِھَا فَتَرَکُوْہُ مَنْبُوْذًا) [ رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأحکامھم، باب ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے بنی نجار قبیلے کا ایک آدمی تھا جو سورة البقرۃ اور سورة آل عمران پڑھ چکا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کتابت کیا کرتا تھا۔ بھاگ کر اہل کتاب کے ساتھ جاملا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے یہ کہتے ہوئے اسے مقام دیا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کاتب تھا تو وہ اس وجہ سے متعجب ہوئے کچھ ہی عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے ان میں ہی اس کی گردن توڑ دی۔ انہوں نے گڑھا کھود کر اسے دفن کیا صبح زمین نے اسے باہر پھینکا ہوا تھا۔ انہوں نے پھر گڑھا کھود کر اسے دفن کیا زمین نے اسے پھر باہر پھینک دیا پھر انہوں نے گڑھا کھود کر دفنایا زمین نے پھر اسے باہر پھینک دیا پھر انہوں نے اسے باہر ہی رہنے دیا۔ “ مسائل ١۔ بار بار کفر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نہ معاف کرتا ہے اور نہ ہی انہیں ہدایت دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہدایت اور بخشش سے محروم لوگ : ١۔ ظالموں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (البقرۃ : ٢٥٨) ٢۔ مرتدین ہدایت و بخشش سے محروم ہوں گے۔ (النساء : ١٣٧) ٣۔ کافروں کو معافی اور ہدایت نہیں دی جاتی۔ (النساء : ١٦٨) ٤۔ فاسقوں کو ہدایت سے نہیں نوازا جاتا۔ (المائدۃ : ١٠٨) ٥۔ جھوٹوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (الزمر : ٣) ٦۔ مشرک اللہ کی ہدایت سے محروم ہوتا ہے۔ (النساء : ٤٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١٣٧۔ وہ کفر جو ایمان سے پہلے ہو ‘ اس کے آثار کو ایمان بالکل مٹا دیتا ہے جس شخص نے کبھی روشنی دیکھی ہی نہ ہو وہ اگر اندھیرے میں رہتا ہے تو وہ معذور ہے ۔ لیکن ایمان کے بعد کفر کا رویہ اختیار کرنا اور بار بار ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے ‘ اس قدر بڑا گناہ کہ اللہ تعالیٰ ہر گز اس کی مغفرت نہ کرے گا اور نہ اس حرکت کا کوئی عذر ہو سکتا ہے ۔ کفر تو ایک حجاب ہے ‘ جب پردہ ہٹ جائے تو فطرت اپنے خالق کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہے اور گمراہ شخص پھر سے ساتھ مل جاتا ہے ۔ پودا اپنی نرسری میں آجاتا ہے اور روح ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیتی ہے اس لئے جو لوگ ایمان کے بعد بار بار مرتد ہوتے ہیں گویا وہ فطرت سے بھاگتے ہیں ‘ علم سے بھاگتے ہیں اور عمدا جہالت میں گرتے ہیں اور وہ عمدا راہ ضلالت اور گم شدگی پر چل نکلتے ہیں ۔ اور پھر وہ اس راہ پر اس قدر دور نکل جاتے ہیں کہ آگے سے راہ ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا کہ اب وہ انہیں معاف نہ کرے گا اور اب وہ انہیں دوبارہ لوٹا کر راہ ہدایت پر نہ لائے گا اس لئے کہ انہوں نے قصدا راہ حق کو چھوڑا پہلے وہ اس راہ پر چل چکے تھے اور منزل پا چکے تھے ۔ انہوں نے قصدا اندھے پن اور برائی کو اختیار کیا جبکہ پہلے وہ صاحب نظر تھے اور صراط مستقیم کے راہ رو تھے ۔ جب تک نفس انسانی اللہ کے لئے خالص نہ ہوجائے ‘ اس وقت تک وہ اوضاع واقدار اور مصالح اور مفادات کے دباؤ سے آزاد نہیں ہو سکتا ۔ نہ وہ حرص اور لالچ سے پاک ہو سکتا ہے اور نہ وہ مصلحتوں اور امیدوں سے پاک ہو سکتا ہے ۔ اور یہ نفس کبھی بھی عزت نفس ‘ بلندی ‘ ہمت اور آزادی سے سرشار نہیں ہوسکتا جس طرح وہ نفس ہوتا ہے جو محبت الہی سے بھرا ہوا ہو ۔ جب کوئی دل محبت الہی سے بھر جائے تو وہ دنیاوی اقدار ‘ دنیاوی طور طریقوں ‘ دنیا کے واقعات ‘ دنیا کے لوگوں ‘ دنیا میں پائے جانے والی تمام قوتوں ‘ حکومتوں اور ان کے اہالی وموالی کے مقابلے میں برتر ہوتا ہے ۔ یہاں سے پھر نفاق کا پودا پھوٹتا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ نفاق کی حقیقت کیا ہے ؟ نفاق صرف یہ ہے کہ انسان سچائی پر بظاہر تو ثابت ہوجائے مگر اس کے لئے لڑنے اور باطل کے ساتھ مقابلہ کرنے میں ضعیف ہو ۔ یہ ضعف اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں خوف اور لالچ پیدا ہوجاتا ہے اور یہ خوف اور لالچ دونوں اللہ سے نہیں ہوتے بلکہ غیر اللہ سے ہوتے ہیں ۔ انسان پھر زمین کے حالات اور زمین کی شخصیات کا قیدی بن جاتا ہے اور اسلامی نظام سے دور ہوجاتا ہے ۔ لہذا اس سبق میں ایمان کی بات بھی ہونی ہے ‘ قیام شہادت اور عدل کی بات بھی ہوئی اور نفاق کی بات بھی ہوئی اور تینوں کے درمیان گہرا ربط ہے ۔ عمومی مناسبت تو یہ ہے کہ یہی اس سورة کے اصل موضوعات ہیں یعنی جماعت مسلمہ کی اسلامی نظام حیات میں تربیت اور اس کی اجتماعی زندگی سے جاہلیت کے آثار کو مٹانا ‘ جماعت کے افراد کے نفوس کو بشری فطری کمزوریوں کے مقابلے میں تیار کرنا اور پھر اسے اردگرد پھیلے ہوئے مشرکین اور منافقین کے ساتھ ہونے والے معرکے کے اندر اتارنا ۔ اس پوری سورة کے اندر یہی مرکزی مضمون ہے جس کے اردگرد یہ سورة گھومتی ہے ’ اول سے آخر تک ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سبق کے باقی ماندہ حصے میں بات منافقین تک محدود ہے اور اس پر یہ پارہ بھی ختم ہوتا ہے جبکہ اس سے قبل منافقین کی ایک خاص جماعت کا تذکرہ ہوا کہ وہ بار بار اعلان اسلام کرتے ہیں اور پھر کفر کرتے ہیں ۔ چناچہ اب یہاں سے منافقین پر تنقید شروع ہوتی ہے جن کے بارے میں قرآن نے تفصیلات بیان کردی ہیں اور مختلف انداز میں ان کی بیماری کا مطالعہ کیا ہے تاکہ اسلامی نظام کا مزاج اچھی طرح سامنے آجائے فطرت کے مطابق اس پر عمل ہو اور دلوں میں اور عمل میں اسلامی نظام واضح طور پر نظر آئے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ لَا لِیَھْدِیَھُمْ سَبِیْلًا) اس کا ایک مطلب تو وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بہشت کا راستہ نہ دکھائے گا۔ کیونکہ وہ کفر پر مرچکے ہوں گے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کے بار بار کفر کی طرف لوٹنے کی وجہ سے قبول حق کی توفیق ہی سلب ہوجائے گی۔ اور آئندہ توبہ کرنے اور ایمان لانے کا موقع ہی نصیب نہ ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة صف میں بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد فرمایا : (فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ ) قال صاحب الروح صفحہ ١٧١: ج ٥ فان من تکرر منھم ارتدادو زیاد الکفر والا صرار علیہ صاروا بحیث قد ضربت قلوبھم بالکفر و تمرنت علی الردۃ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

92 یہ تمام منافقوں کو زجر ہے اور بار بار ایمان لانے ارور کفر کرنے کی مفسرین نے متعدد توجیہیں کی ہیں لیکن سب سے دل لگتی بات یہ ہے کہ اس سے ان کے تردد اور تذبذب کا بیان مقصود ہے۔ قال القفال (رح) ولیس المراد بیان ھذا العدد بل المراد ترددھم کما قال مذبذبین بین ذالک لا الی ھؤلاء و لا الی ھؤلاء (کبیر ج 3 ص 487) اور اِزْدَادُوْا کُفْرًا سے مراد یہ ہے کہ کفر کے ساتھ ساتھ کافروں سے اندرونی طور پر دوستی بھی رکھتے ہیں پھر بَشِّرِ الْمُنَافِقِیْنَ سے منافقوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 بلاشبہ جو لوگ مسلمان ہوئے پھر مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوگئے۔ کافر ہونے کے بعد پھر مسلمان ہوگئے مسلمان ہونے کے بعد پھر کافر ہوگئے پھر اپنے کفر میں بڑھتے اور زیادہ ہوتے چلے گئے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ ان کی مقصود تک پہونچنے میں رہنمائی فرمائے گا۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اگر ارتداد کے بعد تائب ہوجائیں اور نادم ہو کر ایمان لے آئیں تو بہرحال ایمان قبول ہوگا اور اگر ارتداد کے بعد کوئی ایمان نہ لائے اور ارتداد ہی پر مرجائے تو نہ اس کی مغفرت اور نہ اس کی مقصود تک رہنمائی یعنی جنت میں جانے کا راستہ دکھایا جائے گا اگرچہ ایک دفعہ مرتد ہو کر کوئی ارتداد پر قائم رہے تب بھی یہی سزا ہے اور کوئی بار بار ایمان لائے بار بار مرتد ہو تب بھی یہی سزا ہے لیکن یہاں دو دفعہ ایمان و کفر کا ذکر محض اس لئے کیا کہ کوئی واقعہ اسی طرح پیش آیا ہوگا اور کچھ لوگوں نے ایسا کیا ہوگا اس لئے نزول میں اس کی طرف اشارہ ہے ورنہ دوسری مرتبہ ثم کفروا کہنا کوئی قید نہیں ہے اور جس طرح ایک بار مرتد ہو کر ارتداد پر قائم رہنے کی یہی سزا ہے اسیط رح ہر ارتداد کے بعد نادم ہوجانے اور توبہ کرلینے پر مغفرت کی توقع ہے۔ بہرحال ! خلاصہ یہ ہے کہ آیت میں دو مرتبہ ایمان و کفر کا ذکر بطور قید نہیں ہے بلکہ واقعہ کے طور پر ہے جو نزول آیت کے وقت پیش آیا تھا۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے یہود مراد ہیں کہ پہلے موسیٰ پر ایمان لائے پھر بچھڑا پوج کر مرتد ہوئے پھر توریت پر ایمان لائے پھر عیسیٰ کے ساتھ کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر کیا۔ بعض حضرات نے کہا کہ اس سے تمام اہل کتاب مراد ہیں کہ ایک نبی پر ایمان لاتے اور دوسرے نبی کے ساتھ کفر کرتے اور یہاں تک کفر میں بڑھتے رہے کہ نبی آخر الزاماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بھی کفر کیا اور آخر میں جو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی نہ مغفرت کرے گا نہ ان کو راستہ دکھائے گا تو اس کا مطلب بعض لوگوں نے حضرت علی سے یہ نقل کیا ہے کہ ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی لیکن صحیح چیز وہی ہے جو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ مرتد ہونے کے بعد کفر پر قائم رہے اور کفر میں بڑھتے رہے یہاں تک کہ کفر پر مرگئے۔ حضرت مجاہد نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ حضرت علی کا جو قول ہم نے نقل کیا ہے شاید اس کا مطلب یہ ہو کہ ایسے بدبخت کو جس نے ایمان اور کف کو ایک مذاق بنا رکھا ہے اس کو توبہ کی توفیق نصیب نہ ہوگی۔ اس کا کفر اور اس کا طغیان او استہزا بالدین اس کے لئے پردہ اور گمراہی کا موجب ہوجائے گا اور اس کو صحیح راہ اور حق کا راستہ ملنے کی توفیق نہ دی جائے گی اور وہ مغفرت سے محروم رہے گا یعنی لم یکن اللہ غافر الھم والاھادیھم سبیلا (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ظاہر میں مسلمان رہے اور دل پھٹکتے رہے تو اگر آخر کو بےیقین مرے تو کافر کے برابر ہیں ان کو بخشش نہیں اور ظاہر کی مسلمانی سے وہاں راہ نہ ملے گی۔ شاید ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاہ صاحب ان آیات کا تعلق صرف منافقین سے بیان کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ بعض حضرات نے اختیار کیا ہے (واللہ اعلم) بہرحال پہلی آیت میں ایمان کی تفصیل تھی اور ایمان مفصل کا بیان تھا اور تفصیلی چیزوں پر اعتقاد رکھنے اور ایمان لانے کا ذکر تھا اس کے بعد مرتدین کا ذکر فرمایا اب آگے منافقین کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)