The Censure of Stingy Behavior
Allah says;
الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ
...
Those who are stingy and encourage people to be stingy,
Allah chastises the stingy behavior of those who refuse to spend their money for what Allah ordered them, such as being kind to parents and compassionate to relatives, orphans, the poor, the relative who is also a neighbor, the companion during travel, the needy wayfarer, the slaves and servants. Such people do not give Allah's right from their wealth, and they assist in the spread of stingy behavior.
The Messenger of Allah said,
وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْل
What disease is more serious than being stingy!
He also said,
إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيْعَةِ فَقَطَعُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا
Beware of being stingy, for it destroyed those who were before you, as it encouraged them to cut their relations and they did, and it encouraged them to commit sin and they did.
Allah said,
...
وَيَكْتُمُونَ مَا اتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ
...
and hide what Allah has bestowed upon them of His bounties,
Therefore, the miser is ungrateful for Allah's favor, for its effect does not appear on him, whether in his food, clothes or what he gives.
Similarly, Allah said,
إِنَّ الاِنسَـنَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ
وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ
Verily, man is ungrateful to his Lord. And to that he bears witness. (100:6-7),
by his manners and conduct,
وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ
And verily, he is violent in the love of wealth. (100-8)
Allah said,
...
وَيَكْتُمُونَ مَا اتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ
...
and hide what Allah has bestowed upon them of His bounties.
and this is why He threatened them,
...
وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا
And We have prepared for the disbelievers a disgraceful torment.
Kufr means to cover something. Therefore, the Bakhil (miser) covers the favors that Allah has blessed him with, meaning he does not spread those favors. So he is described by the term Kafir (ungrateful) regarding the favors that Allah granted him.
A Hadith states that,
إِنَّ اللهَ إِذَا أَنْعَمَ نِعْمَةً عَلى عَبْدٍ أَحَبَّ أَنْ يَظْهَرَ أَثَرُهَا عَلَيْه
When Allah grants a servant a favor, He likes that its effect appears on him.
Some of the Salaf stated that;
this Ayah (4:37) is describing the Jews who hid the knowledge they had about the description of Muhammad, and there is no doubt that the general meaning of the Ayah includes this.
The apparent wording for this Ayah indicates that it is talking about being stingy with money, even though miserly conduct with knowledge is also included.
The Ayah talks about spending on relatives and the weak, just as the Ayah after it.
اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ سے کترانے والے بخیل لوگ
ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی خوشنودی کے موقعہ پر مال خرچ کرنے سے جی چراتے ہیں مثلاً ماں باپ کو دینا قرابت داروں سے اچھا سلوک نہیں کرتے یتیم مسکین پڑوسی رشتہ دار غیر رشتہ دار پڑوسی ساتھی مسافر غلام اور ماتحت کو ان کی محتاجی کے وقت فی سبیل اللہ نہیں دیتے اتنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کو بھی بخل اور فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کونسی بیماری بخل کی بیماری سے بڑ ھ کر ہے؟ اور حدیث میں ہے لوگو بخیلی سے بچو اسی نے تم سے اگلوں کو تاخت و تاراج کیا اسی کے باعث ان سے قطع رحمی اور فسق و فجور جیسے برے کام نمایاں ہوئے پھر فرمایا یہ لوگ ان دونوں برائیوں کے ساتھ ہی ساتھ ایک تیسری برائی کے بھی مرتکب ہیں یعنی اللہ کی نعمتوں کو چھپاتے ہیں انہیں ظاہر نہیں کرتے نہ ان کے کھانے پینے میں وہ ظاہر ہوتی ہیں نہ پہننے اوڑھنے میں نہ دینے لینے میں جیسے اور جگہ ہے ( اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ Čۚ وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ Ċۚ ) 100 ۔ العادیات:6-7 ) یعنی انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور وہ خود ہی اپنی اس حالت اور اس خصلت پر گواہ ہے پھر ( وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ Ďۭ ) 100 ۔ العادیات:8 ) وہ مال کی محبت میں مست ہے ، پس یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کے فضل کو یہ چھپاتا رہتا ہے پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے کہ کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھے ہیں ، کفر کے معنی ہیں پوشیدہ رکھنا اور چھپالینا پس بخیل بھی اللہ کی نعمتوں کا چھپانے والا ان پر پردہ ڈال رکھنے والا بلکہ ان کا انکار کرنے والے قرار دیا ہے پس وہ نعمتوں کا کافر ہوا ، حدیث میں ہے اللہ جب کسی بندے پر اپنی نعمت انعام فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو ، دعا نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہے ( حدیث واجعلنا شاکرین لنعمتکم رحمتہ اللہ علیہ مثنین بھا علیک قابلیھاواتھما علینا ) اے اللہ ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار بنا اور ان کی وجہ سے ہمیں اپنا ثنا خوان بنا ان کا قبول کرنے والا بنا اور ان کی نعمتوں کو ہمیں بھرپور عطا فرما ، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے اس بخل کے بارے میں ہے جو وہ اپنی کتاب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات کے چھپانے میں کرتے تھے اسی لئے اس کے آخر میں ہے کہ کافروں کے لئے ذلت آمیز عذاب ہم نے تیار کر رکھے ہیں ۔ کوئی شک نہیں کہ اس آیت کا اطلاق ان پر بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بظاہر یہاں مال کا بخل بیان ہو رہا ہے گو علم کا بخل بھی اس میں بطور اولیٰ داخل ہے ۔ خیال کیجئے کہ بیان آیت اقرباضعفا کو مال دینے کے بارے میں ہے اسی طرح اس کے بعد والی آیت میں ریاکاری کے طور پر فی سبیل اللہ مال دینے کی مذمت بھی بیان کی جا رہی ہے ۔ پہلے ان کا بیان ہوا جو ممسک اور بخیل ہیں کوڑی کوڑی کو دانتوں سے تھام رکھتے ہیں پھر ان کا بیان ہوا جو دیتے تو ہیں لیکن بد نیتی اور دنیا میں اپنی واہ واہ ہونے کی خاطر دیتے ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں سے جہنم کی آگ سلگائی جائے گی وہ یہی ریاکار ہوں گے ریاکار عالم ریاکار غازی ، ریا کار سخی ایسا سخی کہے گا باری تعالیٰ تیری ہر ہر راہ میں میں نے اپنا مال خرچ کیا تو اسے اللہ تعالیٰ کی جناب سے جواب ملے گا کہ تو جھوٹا ہے تیرا ارادہ تو صرف یہ تھا کہ تو سخی اور جواد مشہور ہو جائے سو وہ ہو چکا یعنی تیرا مقصود دنیا کی شہرت تھی وہ میں نے تجھے دنیا میں ہی دے چکا پس تیری مراد حاصل ہو چکی اور حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ تیرے باپ نے اپنی سخاوت سے جو چاہتا تھا وہ اسے مل گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عبداللہ بن جدعان تو بڑا سخی تھا جس نے مساکین وفقراء کے ساتھ بڑے سلوک کئے اور نام الہ بہت سے غلام آزاد کئے تو کیا اسے ان کا نفع نہ ملے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں اس سے تو عمر بھر میں ایک دن بھی نہ کہا کہ اے اللہ میرے گناہوں کو قیامت کے دن معاف فرما دینا ۔ اسی لئے یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان کا ایمان اللہ اور قیامت پر نہیں ۔ ورنہ شیطان کے پھندے میں نہ پھنس جاتے اور بد کو بھلا نہ سمجھ بیٹھتے یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان ان کا ساتھی ہے ساتھی کی برائی پر ان کی برائی بھی سوچ لو عرب شاعر کہتا ہے
عن المرء لا تسال وسل عن قرینہ
فکل قرین بالمقارن یقتدی
انسان کے بارے میں نہ پوچھ اس کے ساتھیوں کا حال دریافت کر لے ۔ ہر ساتھی اپنے ساتھی کا ہی پیرو کار ہوتا ہے پھر ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں اللہ پر ایمان لانے اور صحیح راہ پر چلنے اور ریاکاری کو چھوڑ دینے اور اخلاص و یقین پر قائم ہو جانے سے کونسی چیز مانع ہے؟ ان کا اس میں کیا نقصان ہے؟ بلکہ سرا سر فائدہ ہے کہ ان کی عاقبت سنور جائے گی یہ کیوں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے تنگ دلی کر رہے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ اللہ انہیں خوب جانتا ہے ان کی بھلی اور بری نیتوں کا اسے علم ہے اہل توفیق اور غیر اہل توفیق سب اس پر ظاہر ہیں وہ بھلوں کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما کر اپنی خوشنودی کے کام ان سے لے کر اپنی قربت انہیں عطا فرماتا ہے اور بروں کو اپنی عالی جناب اور زبردست سرکاری سے دھکیل دیتا ہے جس سے ان کی دنیا اور آخرت برباد ہوتی ہے ، عیاذ اباللہ من ذالک