Surat ul Momin

The Forgiver

Surah: 40

Verses: 85

Ruku: 9

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

بعض سلف کا قول ہے کہ جن سورتوں کی ابتداء حم سے ہے انہیں حوا میم کہنا مکروہ ہے ۔ ال حم کہا جائے ۔ حضرت محمد بن سیرین بھی یہی کہتے ہیں ، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ال حم قرآن کا دیباچہ ہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کا دروازہ آل حم ہے یا فرمایا حوا میم ہیں ۔ حضرت مسعر بن کدام فرماتے ہیں ان سورتوں کو عرائس کہا جاتا تھا ۔ عروس دلہن کو کہتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اپنے گھر والوں کیلئے کسی اچھی منزل کی تلاش میں نکلا تو ایک جگہ ایسی ہے جہاں گویا ابھی ابھی بارش برس چکی ہے یہ ذرا ہی کچھ آگے بڑھا ہوگا کہ دیکھتا ہے کہ تروتازہ لہلہاتے ہوئے چند چمن ہیں ۔ یہ پہلے تر زمین کو دیکھ کر ہی تعجب میں تھا اب تو اس کا تعجب اور بڑھ گیا ۔ اس سے کہا گیا کہ پہلے کی مثال تو قرآن کریم کی عظمت کی مثال ہے اور ان باغیچوں کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن میں حم والی سورتیں ( بغوی ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہر چیز کا دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کا دروازہ یہی حم والی سورتیں ہیں ۔ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں جب میں تلاوت کرتا ہوا حم والی سورتوں پر پہنچتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا میں ہرے بھرے پھلے پھولے باغوں کی سیر کر رہا ہوں ایک شخص نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد بناتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ میں اسے حم والی سورتوں کیلئے بنا رہا ہوں ممکن ہے یہ مسجد وہ ہو جو دمشق کے قلعہ کے اندر ہے اور آپ ہی کے نام سے منسوب ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی حفاظت حضرت ابو الدرداء کی نیک نیتی کی اور جس وجہ سے یہ مسجد بنائی گئی تھی اس کی برکت کے باعث ہو ۔ اس کلام میں دشمنوں پر فتح و ظفر کی دلیل بھی ہے ۔ جیسے کہ حضور علیہ السلام نے اپنے بعض جہادوں میں اپنے لشکروں سے فرما دیا تھا کہ اگر رات کو تم اچانک حملہ کرو تو تمہاری پہچان کے خاص الفاظ حم لا ینصرون ہیں ایک روایت میں تنصرون ہے ۔ مسند بزار میں ہے جس نے آیت الکرسی اور سورۃ حم المومن کا ابتدائی حصہ پڑھا وہ سارے دن کی برائی سے محفوظ رہتا ہے ۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور اس کے ایک راوی پر کچھ جرح بھی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الْمُؤْمِن نام : آیت 28 کے فقرے وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ سے ماخوذ ہے ، یعنی وہ سورہ جس میں اس خاص مومن کا ذکر آیا ہے ۔ زمانۂ نزول : ابن عباس اور جابر بن زید کا بیان ہے کہ یہ سورۃ زمر کے بعد متصلاً نازل ہوئی ہے اور اس کا جو مقام قرآن مجید کی موجودہ ترتیب میں ہے وہی ترتیب نزول کے اعتبار سے بھی ہے ۔ حالات نزول : جن حالات میں یہ سورہ نازل ہوئی ہے ان کی طرف صاف اشارات اس کے مضمون میں موجود ہیں ۔ کفار مکہ نے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دو طرح کی کارروائیاں شروع کر رکھی تھیں ۔ ایک یہ کہ ہر طرف جھگڑے اور بحثیں چھیڑ کر ، طرح طرح کے الٹے سیدھے سوالات اٹھا کر ، اور نت نئے الزامات لگا کر قرآن کی تعلیم اور اسلام کی دعوت اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اتنے شبہات اور وسوسے لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دیے جائیں کہ ان کو صاف کرتے کرتے آخر کار حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان زچ ہو جائیں ۔ دوسرے یہ کہ آپ کو قتل کر دینے کے لیے زمین ہموار کی جائے ۔ چنانچہ اس غرض کے لیے وہ پیہم سازشیں کر رہے تھے ، اور ایک مرتبہ تو عملاً انہوں نے اس کا اقدام کر بھی ڈالا تھا ۔ بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم حرم میں نماز پڑھ رہے تھے ۔ یکایک عُقبہ بن ابی مُعَیط آگے بڑھا اور اس نے آپ کی گردن میں کپڑا ڈال کر اسے بل دینا شروع کر دیا تاکہ گلا گھونٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالے مگر عین وقت پر حضرت ابوبکر پہنچ گئے اور انہوں نے دھکا دے کر اسے ہٹا دیا ۔ حضرت عبداللہ کا بیان ہے کہ جس وقت ابو بکر صدیق اس ظالم سے کشمکش کر رہے تھے اس وقت ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلاً اَنْ یَّقُوْلَ رَ بِّیَ اللہ ( کیا تم ایک شخص کو صرف اس قصور میں مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟ ) ۔ تھوڑے اختلاف کے ساتھ یہ واقعہ سیرت ابن ہشام میں بھی منقول ہوا ہے اور نَسَائی اور ابن ابی حاتم نے بھی اسے روایت کیا ہے ۔ موضوع اور مباحث : صورت حال کے ان دونوں پہلوؤں کو آغاز تقریر ہی میں صاف صاف بیان کر دیا گیا ہے اور پھر آگے کی پوری تقریر انہی دونوں پر ایک انتہائی مؤثر اور سبق آموز تبصرہ ہے ۔ قتل کی سازشوں کے جواب میں مومن آل فرعون کا قصہ سنایا گیا ہے ( آیت 23 تا 55 ) اور اس قصے کے پیرائے میں تین گروہوں کو تین مختلف سبق دیے گئے ہیں : 1 ۔ کفار کو بتایا گیا ہے کہ جو تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرنا چاہتے ہو یہی کچھ اپنی طاقت کے بھروسے پر فرعون حضرت موسیٰ کے ساتھ کرنا چاہتا تھا ، اب کیا یہ حرکتیں کر کے تم بھی اسی انجام سے دوچار ہونا چاہتے ہو جس سے وہ دوچار ہوا ؟ 2 ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروؤں کو سبق دیا گیا ہے کہ یہ ظالم بظاہر خواہ کتنے ہی بالا دست اور چہرہ دست ہوں ، اور ان کے مقابلہ میں تم خواہ کتنے ہی کمزور اور بے بس ہو ، مگر تمہیں یقین رکھنا چاہیے کہ جس خدا کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے تم کام کر رہے ہو اس کی طاقت ہر دوسری طاقت پر بھاری ہے ۔ لہٰذا جو بڑی سے بڑی خوفناک دھمکی بھی یہ تمہیں دے سکتے ہیں ، اس کے جواب میں بس خدا کی پناہ مانگ لو اور اس کے بعد بالکل بے خوف ہو کر اپنے کام میں لگ جاؤ ۔ خدا پرست کے پاس ظالم کی ہر دھمکی کا بس ایک جواب ہے ، اور وہ ہے اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ ۔ اس طرح خدا کے بھروسے پر خطرات سے بے پروا ہو کر کام کرو گے تو آخر کار اس کی نصرت آ کر رہے گی اور آج کے فرعون بھی وہی کچھ دیکھ لیں گے جو کل کے فرعون دیکھ چکے ہیں ۔ وہ وقت آنے تک ظلم و ستم کے جو طوفان بھی امڈ کر آئیں انہیں صبر کے ساتھ تمہیں برداشت کرنا ہو گا ۔ 3 ۔ ان دو گروہوں کے علاوہ ایک تیسرا گروہ بھی معاشرے میں موجود تھا ، اور وہ ان لوگوں کا گروہ تھا جو دلوں میں جان چکے تھے کہ حق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے اور کفار قریش سراسر زیادتی کر رہے ہیں ۔ مگر یہ جان لینے کے باوجود وہ خاموشی کے ساتھ حق و باطل کی اس کشمکش کا تماشا دیکھ رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر ان کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ جب حق کے دشمن علانیہ تمہاری آنکھوں کے سامنے اتنا بڑا ظالمانہ اقدام کرنے پر تل گئے ہیں تو حیف ہے تم پر اگر اب بھی تم بیٹھے تماشا ہی دیکھتے رہو ۔ اس حالت میں جس شخص کا ضمیر بالکل مر نہ چکا ہو اسے تو اٹھ کر وہ فرض انجام دینا چاہیے جو فرعون کے بھرے دربار میں اس کے اپنے درباریوں میں سے ایک راستباز آدمی نے اس وقت انجام دیا تھا جب فرعون نے حضرت موسیٰ کو قتل کرنا چاہا تھا ۔ جو مصلحتیں تمہیں زبان کھولنے سے باز رکھ رہی ہیں ، یہی مصلحتیں اس شخص کے آگے بھی راستہ روک کر کھڑی ہوئی تھیں ۔ مگر اس نے اُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللہ کہہ کر ان ساری مصلحتوں کو ٹھکرا دیا ، اور اس کے بعد دیکھ لو کہ فرعون اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا ۔ اب رہا کفار کا وہ مجادلہ جو حق کو نیچا دکھانے کے لیے مکہ معظمہ میں شب و روز جاری تھا ، تو اس کے جواب میں ایک طرف دلائل سے توحید اور آخرت کے ان عقائد کا برحق ہونا ثابت کیا گیا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار کے درمیان اصل بنائے نزاع تھے ، اور یہ حقیقت صاف کھول کر رکھ دی گئی ہے کہ یہ لوگ کسی علم اور کسی دلیل و حجت کے بغیر سچائیوں کے خلاف خواہ مخواہ جھگڑ رہے ہیں ۔ دوسری طرف ان اصل محرکات کو بے نقاب کیا گیا ہے جن کی بنا پر سرداران قریش اس قدر سرگرمی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف برسر پیکار تھے ۔ بظاہر انہوں نے یہ ڈھونگ رچا رکھا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت پر انہیں حقیقی اعتراضات ہیں جن کی وجہ سے وہ ان باتوں کو نہیں مان رہے ہیں ۔ لیکن درحقیقت یہ ان کے لیے محض ایک جنگ اقتدار تھی ۔ آیت 56 میں یہ بات کسی لاگ لپیٹ کے بغیر ان سے صاف کہہ دی گئی ہے کہ تمہارے انکار کی اصل وجہ وہ کبر ہے جو تمہارے دلوں میں بھرا ہوا ہے ۔ تم سمجھتے ہو کہ اگر لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تسلیم کرلیں گے تو تمہاری بڑائی قائم نہ رہ سکے گی ۔ اسی وجہ سے تم ان کو زک دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہو ۔ اسی سلسلے میں کفار کو پے در پے تنبیہات کی گئی ہیں کہ اگر اللہ کی آیات کے مقابلے میں مجادلہ کرنے سے باز نہ آؤ گے تو اسی انجام سے دوچار ہو گے جس سے پچھلی قومیں دوچار ہو چکی ہیں اور اس سے بدتر انجام تمہارے لیے آخرت میں مقدر ہے ۔ اس وقت تم پچھتاؤ گے ، مگر اس وقت کا پچھتانا تمہارے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ ال مومن یہاں سے سورۂ احقاف تک ہر سورت حٰمٓ کے حروف مقطعات سے شروع ہورہی ہے، جیسا کہ سورۃ بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا تھا ان حروف کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، چونکہ یہ سات سورتیں حٰمٓ سے شروع ہورہی ہیں اس لئے ان کو حوامیم کہا جاتا ہے، اور ان کے اسلوب میں عربی بلاغت کے لحاظ سے جو ادبی حسن ہے اس کی وجہ سے انہیں عروس القرآن یعنی قرآن کی دلہن کا لقب بھی دیا گیا ہے، یہ تمام سورتیں مکی ہیں، اور ان میں اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت، اور آخرت کے مضامین پر زور دیا گیا ہے، کفار کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، اور کفر کے برے انجام سے خبر دار کیا گیا ہے، اور بعض انبیائے کرام کے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے، اس پہلی سورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرتے ہوئے آیت ٢٨ سے ٣٥ تک فرعون کی قوم کے ایک ایسے مرد مومن کی تقریر نقل فرمائی گئی ہے جنہوں نے اپنا ایمان تک چھپایا ہوا تھا، لیکن جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور ان کے رفقاء پر فرعون کے مظالم بڑھنے کا اندیشہ ہوا، اور فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا توانہوں نے اپنے ایمان کا کھلم کھلا اعلان کرتے ہوئے فرعون کے دربار میں یہ موثر تقریر فرمائی، اسی مرد مومن کے حوالے سے اس سورت کا نام بھی مومن ہے اور اسے سورۃ غافر بھی کہتے ہیں غافر کے معنی ہیں معاف کرنے والا، اس سورت کی ابتدائی آیت میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرتے ہوئے استعمال ہوا ہے، اس وجہ سے سورت کی پہچان کے لئے اس کا ایک نام غافر بھی رکھا گیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة المومن، بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ المومن کے مضامین خلاصہ یہ ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار مکہ جس قرآن کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ کوئی معمولی کلام نہیں ہے کیونکہ اس کو اللہ نے نازل کیا ہے جو زبردست غلبہ و اقتدار کا مالک ہے جو ہر چیز کا جاننے والا ، گناہوں کو بخشنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ، گناہوں پر سخت سزا دینے والا اور ہر طرح کی قدرت رکھنے والا ہے ۔ اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب ہر ایک کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جانثار صحابہ کرام (رض) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ اللہ و رسول کا انکار کرنے والے جو آج آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھگڑ رہے ہیں اور دنیا کمانے میں دن رات تگ و دو کر رہے ہیں کہیں ان کی بھاگ دوڑ اور چلت پھرت اس دھوکے میں نہ ڈال دے کر یہ لوگ تو بڑے کامیاب و بامراد ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب لوگ انتہائی ناکام ہیں اور ان کا انجام بہت برا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نافرمان لوگ بھی دنیا کمانے میں بہت آگے تھے لیکن جب ان پر اللہ کے قانون کا کوڑا برسا تو وہ ناکام و نامراد ہوگئے اور ان سب کو پانی کے طوفان میں ڈبو دیا گیا ۔ ( اس سورة کا نام المومن اس لیے رکھا گیا ہے کہ فرعون جیسے ظالم شخص کے گھرانے ہی میں سے ایک ایسا مرد مجاہد بھی نکل کر فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا جس نے ان کو بتایا کہ اللہ بڑی قدرت والا ہے۔ اسی پر ایمان لائو اور سیدھا راستہ اختیار کرو ۔ اس مرد مومن پر تمام لوگوں نے یلغار کردی لیکن جب اللہ نے فرعون اور اس کے ماننے والوں کو پانی میں ڈبو کر ہلاک کردیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، ان کے ماننے والوں اور اس مرد مومن کو نجات عطاء فرما دی ۔ اللہ نے اس مرد مومن کی یہ قدر فرمائی کہ اس کے نام پر ایک سورت نازل فرمائی) ۔ ٭اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کے لئے عرش اٹھانے والے فرشتے جو بہت مقرب ہیں وہ ہر وقت دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔ وہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ جو لوگ توبہ کر کے آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں ان کی توبہ کو قبول کرلیجئے۔ ان کو جہنم کی تکلیفوں سے محفوظ فرمایئے گا اور ان کے باپ دادا ، اولاد اور بیویاں جو صاحب ایمان ہیں ان کو بھی ان کے ساتھ جنت کی راحتیں اور ہر طرح کی کامیابیاں عطاء فرما دیجئے گا ۔ ٭کفار و مشرکین کے لیے فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ رسوا اور ذلیل ہوں گے انہیں اپنے وجود سے بھی نفرت ہوجائے گی ۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے پچھتائیں گے ۔ حسرت و ندامت کے ساتھ درخواست کریں گے کہ الٰہی ہمیں کسی طرح یہاں سے نکلنے کا موقع دے دیا جائے تا کہ دنیا میں جا کر بہتر اعمال کرسکیں لیکن ان کی یہ درخواست ان کے منہ پر دے کر مار دی جائے گی اور قبول نہ کی جائے گی۔ ٭حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون ، ہامان اور قارون کی ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنے غرور وتکبر ، حکومت و سلطنت ، اقتدار اور مال و دولت کی چمک دمک میں اس طرح مگن تھے کہ انہوں نے نہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بات ماننے سے انکار کردیا بلکہ ان کو قتل تک کرنے کا منصوبہ بنا لیا ۔ ٭مگر قوم فرعون ہی میں سے ایک شخص جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی اور نبوت کو جان چکا تھا اور ان کی باتوں پر ایمان لے آیا تھا مگر کسی مصلحت سے اس نے اپنے ایمان کا اظہار نہ کیا تھا جب اس نے یہ دیکھا کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا فیصلہ کرلیا ہے تو اس مجاہد مرد مومن سے نہ رہا گیا اور اس نے بھرے دربار میں فرعون اور اس کے درباریوں کو للکارتے ہوئے کہا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ اللہ اس کا پروردگار ہے ۔ اس نے تمہیں ہر طرح کے معجزات دکھادیئے ہیں پھر بھی تم اس کی بات نہیں مانتے۔ اس مرد مومن نے کہا کہ بیشک آج تم سلطنت مصر کی وجہ سے اس سر زمین پر غلبہ و اقتدار رکھتے ہو مگر تم اس بات کو بھول رہے ہو کہ سب سے بڑی طاقت اللہ کی طاقت ہے۔ جب فرعونیوں نے ان کو اپنے مذہب کی طرف بلانے کی کوشش کی تو اس مرد مومن نے کہا تم کس قدر نا عاقبت اندیش بنے ہوئے ہو کہ میں تمہیں سیدھا راستہ دکھا رہا ہوں اور تم مجھے جہنم کی طرف دھکیل رہے ہو ۔ تمہیں تو میری بات مانن چاہیے تھی۔ ٭فر عون نے جب دیکھا کہ اس مرد مومن کی باتوں سے ہر شخص متاثر ہو رہا ہے تو اس نے انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور بات کو ٹالنے کے لئے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ تم میرے لیے آسمان تک بلند ایک عمارت بنا دو میں جس پر چڑھ کر اور جھانک کر دیکھوں گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب کیا کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ سب باتیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کر رہے ہیں سب جھوٹ اور غلط ہیں۔ ٭فرعون اور آل فرعون کی نا فرمانیاں جب حد سے بڑھ گئیں تو اللہ نے ان سب کو پانی میں ڈبو کر ختم کردیا ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، ان کے ماننے والوں اور اس مرد مومن کو بچا لیا ۔ اللہ نے فرمایا کہ فرعون اور اس کی قوم کے ڈوب جانے اور مرنے کے بعد ہر صبح و شام جہنم کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہی وہ ٹھکانہ ہے جس میں تمہیں قیامت کے دن ڈالا جائے گا ۔ ٭اللہ تعالیٰ نے نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے وہئے فرمایا کہ آپ صبر و برداشت سے کام لیجئے۔ اللہ نے جو وعدہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا ہے وہ سچا وعدہ ہے اور بہت جلد پورا ہو کر رہے گا ۔ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور آپ پر ایمان لانے والوں کی پوری طرح مدد کرے گا اور کفار و مشرکین کو سخت سزا دے گا ۔ ٭فرمایا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل کام ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ۔ نطفہ سے نسل انسانی کو دنیا میں پھیلنے اور بڑھنے کا ذریعہ بنایا ۔ اسی نے زمین و آسمان کو بنایا ۔ اس نے جس طرح اور جیسی شکل انسان کو دینا چاہی ، بنا دیا ۔ اس نے انسان کے لیے بہترین غذاؤں کو پیدا کیا لیکن یہ سب کچھ ایک مدت تک ہے پھر ان کو دفن کردیا جائے گا صرف اللہ کی ذات رہ جائے گی ۔ فرمایا کہ وہ رب العالمین ہے اور نرالی شان والا ہے۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ ٭فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی آیات کو سننے کے باوجود ان میں جھگڑے نکالتے ہیں، رسول کو اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں جب وہ قیامت میں پہنچیں گے تو ان کے گلے اور گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے ان کے پاؤں زنجیروں سے جکڑے جائیں گے ، ان کو پینے کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی ملے گا ۔ وہ ہر طرح ذلیل و رسوا ہوں گے جب ان کو گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبر و تحمل سے دیکھتے رہیے کہ دنیا اور آخرت میں ان کفار و مشرکین کا انجام کس قدر بھیانک اور قابل عبرت ہوگا ۔ اس دن انہیں اللہ کی گرفت سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا اور کوئی ایسا نہ ہوگا جو اللہ کی بارگاہ میں حاضر نہ ہو ۔ سب کو حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة المؤمن کا تعارف یہاں سے ان سورتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جن کی ابتدالفظ ” حٰآ “ سے ہوتی ہے ان کو اہل علم ” حوامیم “ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہر ” حٰمٓ“ کی ابتدائی آیات میں قرآن مجید کا تعارف مختلف الفاظ میں کروایا گیا ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ یہ لوگوں کے لیے رحمت، برکت اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ المؤمن نو رکوع اور پچاس آیات پر مشتمل ہے یہ سورة مبارکہ مکہ اور اس کے گردوپیش نازل ہوئی۔ ربط سورة : الزّمر کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کے پاس حاضر فرشتے اپنے رب کی تسبیح پڑھ رہے ہوں گے اور جب لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کر دئیے جائیں گے تو ہر کوئی اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی تعریف کر رہا ہوگا۔ المؤمن کی ابتدا میں یہ بتلایا گیا ہے کہ الکتاب کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے جو سب کو جاننے والا اور ہر چیز اور کام پر غالب ہونے کے باوجود لوگوں کے گناہوں کو معاف کرتا اور ان کی توبہ قبول کرتا ہے۔ وہ بڑا طاقتور اور مجرموں کو سخت سزا دینے والا ہے اس سے بڑھ کر کوئی طاقت ور نہیں اور ہر کسی نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ اس کے باوجودجو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام اور ارشادات کے بارے میں جھگڑتے ہیں ایسے لوگوں کے رہن سہن اور چال ڈھال سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور بہت سے گروہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کا سخت احتساب کیا اور آخرت میں یہ لوگ جہنم رسید کر دئیے جائیں گے ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ ایمانداروں اور ان کے نیک اہل خانہ کو جنت میں داخل کرے گا ان کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ مشرکوں کا حال یہ ہے جب انہیں اللہ وحدہ لاشریک کی طرف بلایا جاتا ہے تو انکار کرتے ہیں اور جب کوئی اس کے ساتھ شرک کرتا ہے تو اس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے بیشک یہ کفار کے لیے کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ یہ اصولی دعوت پیش کرنے کے بعد آل فرعون کے مظالم کا ذکر کیا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان بنیادی اختلاف یہی تھا۔ اس بنا پر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کی برادری کا ایک شخص جس نے اب تک اپنے ایمان کا اظہار نہیں کیا تھا وہ کھڑا ہوا اور اس نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے فطری دلائل اور تاریخی حقائق کے حوالے سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ جس شخص کی جان کے دشمن بن چکے ہو اس کی دعوت پر غور کرو کہ یہ تمہیں کہتا کیا ہے لیکن فرعون نے اس کی بات کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک ایسا مینار کھڑا کیا جائے جس کے ذریعے میں آسمان پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھنا چاہتا ہوں اس پر مرد مومن نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو آخری بار سمجھایا کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی دعوت دیتے ہو۔ اگر تم میری بات کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو تو میں اپنے کام کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں جو ہر حال میں اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنوں کو تسلی دی ہے کہ ہم اپنے بندوں کی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کے مددگار ہوں گے۔ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ اندھا اور بینا، نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے لیکن نصیحت حاصل کرنے والے ہمیشہ تھوڑے لوگ ہوا کرتے ہیں۔ لوگو ! اپنے رب کی دعوت قبول کرو جو اس کی دعوت قبول نہیں کریں گے انہیں بہت جلد جہنم میں ذلیل کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورت کے آخر میں اپنی توحید کے چھ دلائل دئیے ہیں۔ 1 ۔” اللہ “ ہی تمہارا رب ہے اور اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا لہٰذا اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ 2 ۔” اللہ “ ہی نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار دیا اور آسمان کو چھت بنایا اسی نے تمہاری شکل و صورت بنائی اور وہی تمہیں پاکیزہ رزق دیتا ہے۔ تمہارا رب بڑی برکت والا ہے۔ 3 ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے اور زندہ رہے گا اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اس کا حکم ہے کہ ہر حال میں صرف اسی کو پکارا جائے کیونکہ تمام تعریفات اسی کے لیے ہیں جو رب العالمین ہے۔ 4 ۔” اللہ “ ہی نے مٹی سے، پھر نطفہ سے، پھر لوتھڑے سے تمہیں بچے کی صورت میں پیدا کیا تاکہ تم جوان ہو کر اپنے بڑھاپے تک پہنچ جاؤ۔ کچھ کو بڑھاپے سے پہلے موت دیتا ہے اور کچھ طبعی عمر کو پہنچ کر فوت ہوتے ہیں۔ غور کرو کہ ان کاموں میں کسی اور کا عمل دخل ہے ؟ 5 ۔” اللہ “ ہی موت وحیات کا مالک ہے جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو ” کُنْ “ کا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ وہ کام اس کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے۔ 6 ۔” اللہ “ نے ہی تمہارے لیے چوپائے پیدا کیے تم ان پر سواری کرتے ہو ان کا گوشت کھاتے ہو ان سے اور بھی فائدے اٹھاتے ہو۔ سورۃ المؤمن کا اختتام اس بات پر کیا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے پہلے اس پر سچا ایمان لے آؤ۔ جب اس کا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت تمہیں ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ کا پہلے لوگوں میں بھی یہی اصول تھا اور آئندہ کے لیے بھی یہ اصول کار فرما رہے گا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة المومن ایک نظر میں اس سورت میں حق وباچل کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ ایمان اور کفر کے مسئلے پر بحث ہے۔ دعوت اسلامی کے مقاصد اور زمین پر جابرانہ نظام اور بغیر استحقاق کے اقتدار کے حصول کے مسائل زیر بحث آئے ہیں۔ اور یہ بتایا گیا کہ اس طرح جبار اور قہار لوگوں کے ساتھ اللہ کا سلوک کیا ہوتا ہے۔ اس موضوع کے درمیان مومنین اور اللہ کے مطیع فرمان لوگوں کو تسلی دی جاتی ہے کہ اللہ کی نفرت تمہارے شامل حال رہے گی۔ فرشتے تمہارے لیے عادگو ہیں اور اللہ تمہارے بارے میں فرشتوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور آخرت میں تو بڑے انعام وکرام تمہارے انتظار میں ہیں۔ اس سورت کی مجموعی فضا اس کے موضوع کے اعتبار سے یوں لگتی ہے کہ گویا جنگ ہورہی ہے اور کشمکش برپا ہے۔ حق و باطل کا باہم ٹکراؤ ہے۔ ایمان اور کفر میدان معرکہ میں ہیں۔ زمین کی سرکش قوتوں کے مقابلے میں عذاب الہٰی ہے کہ انہیں تباہ و برباد کررہا ہے اور اس فضائے کشمکش کے درمیان جب مومنین کا ذکر آتا ہے تو گویا رحمت خدا وندی کی باد نسیم چل پڑتی ہے۔ معرکہ کی یہ فضا اس سورت میں جابجا بکھری ہوئی ہے۔ جہاں اقوام ماضی کی تباہی کے مناظر آتے ہیں ان میں بھی اور جہاں قیامت کے مناظر آتے ہیں ان میں بھی ہے اور انداز بیان نہایت ہی سخت اور خوفناک ہے۔ جس طرح پوری سورت کی فضا ہے۔ رعب ، شدت اور سختی اس کے انداز بیان کا خاص رنگ ہے۔ غالباً اس سورت کی عمومی فضا کی مناسبت ہی سے شاید سورت کا آغاز شاندار اور زور دار فقروں سے کیا گیا ہے جن کے ذریعہ غور وفکر کی تاروں پر زور دار ضرب لگا کر ایک خاص زمزمہ پیدا کیا گیا ہے : غافر الذنب۔۔۔۔۔ المصیر (40: 3) ” گناہ معاف کرنے والا ، توبہ قبول کرنے والا & بڑا صاحب فضل ہے ، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ، اس کی طرف پلٹنا ہے “۔ یہ منظم ضربات ہیں جن کی آواز منظم ہے ، جن کی تاثیر مستقل ہے ، آیات کے مقاطع جس طرح زور دار ہیں ، اسی طرح معانی بھی ذی جلال ہیں اور موسیقی بھی پر تاثیر ہے۔ اسی طرح اس سورت میں الباس ، باس اللہ ، باسنا کے الفاظ بار بار دہرائے جاتے ہیں اور سورت میں مختلف مقامات پر آتے ہیں۔ اس کے سوا بعض دوسرے الفاظ بھی ہیں جن کے مفہوم و مراد میں سختی پائی جاتی ہے۔ بالعموم یوں نظر ہے کہ پوری سورت میں دل و دماغ کو کھٹکھٹایا جاتا ہے اور بہت ہی زور دار انداز میں تاکہ انسان کا دل و دماغ بیدار ہو ، یہ سختی گزشتہ ملتوں کی ہلاک شدہ اقوام کے واقعات میں بھی ہے اور قیامت کے مظاہر کے بیان کے دوران بھی ہے۔ لیکن بعض اوقات اندازبیان نرم بھی ہوجاتا ہے۔ دل و دماغ کے تاروں کو نہایت ہی لطف اور محبت سے چھیڑا جاتا ہے ، خصوصاً جبکہ ان فرشتوں کا بیان آتا ہے جو حاملین عرش ہیں ، جو اپنے رب کو پکارتے ہیں کہ اے اللہ اپنے مومن بندوں پر فضل وکرم فرما اور خصوصاً اس وقت جب انسان کے سامنے اس کائنات کی نشانیاں پیش کی جاری ہوں یا خود نفس بشری کے اندر موجود آیات دکھائی جارہی ہوں۔ بعض مثالوں کا یہاں ذکر ضروری ہے جن سے معلوم ہو کہ سورت میں پایا جانے والا سخت انداز کیا ہے اور نرم انداز کیا ہے ۔۔۔ ہلاک شدہ اقوام کے بارے میں : کذبت قبلھم۔۔۔۔۔ کان عقاب (40: 5) ” ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی جھٹلاچ کی ہے اور اس کے بعد بہت سے جھتوں نے بھی یہ کام کیا۔ ہر قوم اپنے رسول پر جھپٹی تاکہ اسے گرفتار کرے ، ان سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑ لیا ، پھر دیکھ لومیری سزا کیسی سخت تھی “۔ اولم یسیروا۔۔۔۔۔۔ شدید العقاب (40: 21 تا 22) ” کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا۔ جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں ؟ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور ان سے زیادہ زبردست آثار زمین پر چھوڑ گئے تھے۔ مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا ، اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول بینات لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کردیا ، آخر کار اللہ نے ان کو پکڑلیا۔ یقیناً وہ بڑی قوت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ اور قیامت کے مناظر میں یہ دو منظر : وانذرھم۔۔۔۔ یطاع (40: 18) & اور ان لوگوں کو اس دن سے جو قریب آلگا ہے ، ڈراؤ، جب کلیجے منہ کو آ رہے ہوں گے اور لوگ چپ چاپ غم کے گھونٹ پی رہے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے “۔ الذین کذبو۔۔۔۔۔ یسجرون (40: 71 تا 72) ” یہ لوگ اس کتاب کو اور ان ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا جب طوق ان کی گردن میں ہوں گے اور زنجیریں جن سے پکڑ کر وہ کھولتے ہوئے پانی کی طرف کھینچے جائیں گے اور پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ اور وہ دیکھئے کہ حاملین عرش نہایت ہی خشوع کے ساتھ مومنین کے لیے دعا کررہے ہیں ! کس قدر خوشگوار اور تروتازہ منظر ہے۔ الذین یحملون۔۔۔۔ العظیم (40: 7 تا 9) ” عرش الہٰی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش کے گرد پیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کررہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں :” اے ہمارے رب تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے۔ بس معاف کردے اور عذاب دوزخ سے بچالے ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیسرا راستہ اختیار کرلیا ہے۔ اے ہمارے رب اور داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی ان جنتوں میں ، جسکا تو نے انسے وعدہ کیا ہے اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد سے ، جو صالح ہوں۔ تو بلاشبہ قادر مطلق اور حکیم ہے۔ اور بچادے انکو برائیوں سے اور جنکو تونے قیامت کے دن برائیوں سے بچادیا ، اس پر تو نے بڑا رحم کیا۔ یہی بڑی کامیابی ہے “۔ اس سورت میں اس نشانات کو بھی بیان کیا گیا ہے جو انفس وآفاق میں ہیں ، نہایت ہی دلکش اور نرم انداز میں۔ ھو الذی۔۔۔۔ فیکون (40: 67 تا 68) ” وہی تو ہے جس نے مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفے سے & پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے ، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تاکہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جاؤ، پھر اور بڑھاتا ہے تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی پہلے ہی بلالیا جاتا ہے۔ یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقرر وقت تک پہنچ جاؤ اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو ، وہی ہے زندگی دینے والا اور وہی ہے موت دینے والا۔ وہ جس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے ، بس ایک حکم دیتا ہے کہ وہ ہوجائے ، وہ ہوجاتی ہے “۔ اللہ الذی۔۔۔۔ توفکون (40: 61 تا 62) ” وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو ، اور دن کو روشن کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکرادا نہیں کرتے ۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے ، ہر چیز کا خالق ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پھر تم کدھر بہکائے جارہے ہو “۔ اللہ الذی۔۔۔۔ رب العلمین (40: 64) ” اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنایا جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ، جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔ وہی تمہارا رب ہے ، بےحساب برکتوں والا ہے ، وہ کائنات کا رب ہے۔ یہ دونوں قسم کے انداز اور مناظر سورت کی فضا بتاتے ہیں۔ اور یہ اس کے موضوع اور مضمون کے مطابق مناسب انداز بیان بھی ہیں۔ سورت کا سیاق ہم نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ یہ چار ممتاز اسباق پر مشتمل ہے ۔ پہلا سبق حروف مقطعات سے سورت کا آغاز کرتا ہے۔ حم۔۔۔۔۔ العلیم (40: 1 تا 2) ” حامیم ، اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے ، جو زبردست ہے ، سب کچھ جاننے والا ہے “۔ اور اس کے بعد عقل وخرد کے تاروں پر وہ مضبوط اور مستقل ضربات ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا۔ غافر الذنب۔۔۔۔ المصیر (40: 3) ” گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے ، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحب فضل ہے ، کوئی معبود اس کے سوا نہیں اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے “۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ یہ پوری کائنات مسلم ہے۔ اور اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرے والی ہے۔ اور اللہ کی نشانیوں کے بارے میں وہی لوگ مجادلہ کرتے ہیں جو کفر پر اصرار کرتے ہیں لہٰذا وہ اس پوری کائنات سے مختلف رویہ اختیار کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ان کو رسول اللہ کوئی اہمیت دیں۔ اگرچہ وہ مالدار ہوں اور ان کی بات چلتی ہو۔ کیونکہ یہ اسی انجام تک پہنچنے والے ہیں جس سے اس سے قبل انسانی تاریخ کے دوسرے مکذبین پہنچے۔ اللہ نے ان کو خوب پکڑا۔ اور ان کو ایسا عذاب دیا جو حیران کن تھا۔ اس دنیا میں بھی ان کو عبرتناک سزا دی گئی اور آخرت کا عذاب تو مستقلاً ان کے لیے تیار ہے اور ان کے انتظار میں ہے۔ یہ تو کفر کرتے ہیں لیکن جن فرشتوں نے اللہ کے عرش کو اٹھارکھا ہے ، وہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب پر ایمان لائے ہیں۔ اس کی بندگی کرتے ہیں پھر زمین میں جو لوگ ایمان لاتے ہیں۔ یہ حاملین عرش ان کے لیے دعا کرتے ہیں ، ان کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور ان کے لیے دائمی نعمتوں اور فلاح کی دعا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی قیامت میں کافروں کے منظر کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے کہ ان پر یہ پوری کائنات ہر طرف سے آوازے کسے گی ، وہ کائنات جو مومن اور سرتسلیم خم کرنی والی ہے : لمقت اللہ۔۔۔۔ فتکفرون (40: 10) & آج تمہیں جتنا شدید غصہ آپنے اوپر آرہا ہے۔ اللہ تم پر اس سے زیادہ غضبناک ہے اس وقت ہوتا تھا جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا تھا اور تم کفر کرتے تھے “۔ اب یہ لوگ استکبار کے بجائے نہایت ہی ذلت کے مقام پر کھڑے ہیں ، اپنے گناہوں کا اقرار کررہے ہیں ، رب کا اعتراف کررہے ہیں لیکن یہ اقرار واعتراف مفید ہی نہیں ہے۔ بس وہی گناہ یاد کیے جارہے ہیں جو یہ شرک اور تکبر کی صورت میں کرتے تھے اور اب روئے سخن قیامت کے اس منظر سے پھر کر دنیا میں آجاتا ہے۔ ھوالذی۔۔۔ رزقا (40: 13) ” وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ، اور آسمانوں سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے “۔ یہ اس لیے یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ رب کی طرف لوٹ کر اسے وحدہ لاشریک سمجھیں۔ فادعوا اللہ ۔۔۔۔ الکٰفرون (40: 14) ” اللہ ہی کو پکارو & اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرکے خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو “۔ پھر وحی کی طرف اشارہ آتا ہے اور قیامت کے ہولناک دن سے ڈرایا جاتا ہے۔ اور پھر قیامت کا ایک منظر یوم ھم۔۔۔ شئ (40: 16) ” وہ دن جب کہ سب لوگ بےپردہ ہوں گے ، اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی “۔ اس دن جبار ، متکبر اور جھگڑے والوں کا نام ونشان نہ ہوگا۔ لمن الملک۔۔۔ القھار (40: 16) ” آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ واحد قہار کی “۔ آج کے دن کا بیان چلتا ہے۔ جہاں فیصلے اور احکام صرف اللہ کے چلتے ہیں اور اللہ کے سوا جو دوسرے معبود تھے ، وہ چھپ گئے ہیں۔ مضحل ہوگئے ہیں۔ جس طرح اس دن سرکشوں اور فاسق فاجر لوگوں کا کوئی نام ومقام نہیں ہے۔ دوسرے سبق میں سابق اقوام کی ہلاکتوں سے بات چلتی ہے۔ اس کا آغاز حضرت موسیٰ اور فرعون ، ہامان اور قارون کے قصے سے ہوتا ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ ہمیشہ سرکش لوگ دعوت اسلامی کے مقابلے میں کیا روعمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں قصہ موسیٰ کا ایک ایسا حصہ بیان کیا جاتا ہے جو اس سے پہلے بیان نہیں ہوا۔ اور یہ کڑی صرف اسی سورت میں ہے۔ ایک مومن شخص حضرت موسیٰ کی حمایت کرتا ہے اور ان کے قتل کے منصوبے کی مخالفت کرتا ہے۔ اور نہایت ہی احتیاط کے ساتھ حق بات کہتا ہے ۔ نرمی اور حکمت کے ساتھ بات شروع کرتا ہے اور جب سمجھتا ہے کہ بات میں اثر ہے تو وہ نہایت وضاحت اور صراحت سے اپنی تقریر میں وہ حق کے دلائل دیتا ہے۔ یہ دلائل نہایت قوی اور واضح ہیں ، وہ ان کو قیامت کے دن سے ڈراتا ہے اور قیامت کے بعض مناظر بھی ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ نہایت موثر انداز میں یہ شخص تقریر کرتا ہے۔ یہ شخص ان کو خود انکا موقف بھی یاد دلاتا ہے اور اس سے قبل انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا تھا وہ بھی یاد دلاتا ہے۔ اور قصے کے آخر میں وہ ان کو قیامت کے مناظر تک لے جاتا ہے کہ وہاں وہ آگ میں ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں۔ اور ضعفاء اور متکبرین ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہیں اور پھر یہ سب جہنم کے داروغوں کے ساتھ مکالمہ کرتے ہیں کہ کیا کوئی صورت ہے رہائی کی۔ لیکن اے کاش کہ وقت گزر گیا ہے۔ اس تقریر اور اس منظر کی روشنی میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلقین کی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں اور حمد وتسبیح کے ساتھ استغفار کریں۔ تیسرے سبق کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ جو لوگ سچ بات کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کو اس بات پر وہ کبر آمادہ کرتا ہے جو ان کے نفس میں ہوتا ہے حالانکہ وہ اپنے آپ کو جس قدر بڑا سمجھتے ، دوحقیقت اسکے مقابلے میں ان کے قد اتنے ہی بونے ہوتے ہیں۔ یہاں سیاق کلام لوگوں کو اس عظیم کائنات کیطرف متوجہ کرتا ہے جسے اللہ نے پیدا کیا اور وہ اللہ ہے جو اکبر اور کبیر اور متکبر ہے۔ یہ اسلیے کہ شاید وہ اللہ کی عظمت اور کائنات کی عظمت کو دیکھکر اپنے حدود میں آجائیں اور انکی آنکھیں کھل جائیں وما یستوی۔۔۔۔ تتذکرون (40: 58) ” اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہوجائیں اور ایمانداز اور صالح اور بدکار برابر ٹھہریں ۔ مگر تم لوگ تم ہی سمجھتے ہو “۔ پھر ان کو قیامت کی یاد دہانی کی جاتی ہے اور ان کو اس دعا کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو مستجاب ہوتی ہے ، جو لوگ اللہ کو پکارنے سے آپ کو برتر سمجھتے ہیں وہ جہنم میں الٹے منہ پھینکے جائیں گے ، ذلیل و خوار ہوں گے۔ یہاں بعض نشانیوں کو ان کے سامنے رکھا جاتا ہے جن پر سے وہ رات اور دن گزرتے ہیں لیکن ان سے غافل ہوکر ، گردش لیل ونہار ، زمین کا اپنی جگہ رکے رہنا ، آسمانوں کی دوریاں اور چھت کی طرح رہنا۔ پھر خود حضرت انسان کی ذات وشخصیت اور اس کی خوبصورتی۔ ان سب دلائل کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ صرف اللہ کا پکارو ، اس کے دین کو خالص کرتے ہوئے ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جاتا ہے کہ آپ ان کے معبودوں کی عبادت سے برات کا اعلان کردیں کہ اللہ نے مجھے اس سے روکا ہے اور یہ حکم دیا کہ میں صرف خدا کے سامنے سرتسلیم خم کردوں ۔ اس لیے کہ صرف اللہ ہے جس نے انسان کو مٹی سے اور نطفے سے پیدا کیا ، وہی پیدا کرنے والا اور مارنے والا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہایت تعجب کے انداز میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور عذاب قیامت کا ایک خوفناک منظر پیش کرکے ان کو ڈرایا جاتا ہے۔ اذالاغلل۔۔۔ یسجرون (40: 76) ” جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں جن سے پکڑ کر وہ کھولتے ہوئے پانی کی طرف کھینچے جائیں گے اور پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیئے جائیں گے “۔ اس وقت ان کے معبود اس بات کا انکار کردیں گے کہ وہ انہیں پوجتے تھے اور آخر کار یہ جہنم رسید ہوں گے۔ ادخلوآ ابواب۔۔۔۔ المتکبرین (40: 76) ” اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے۔ بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا “۔ اس منظر کی روشنی میں اللہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتا ہے کہ آپ صبر کریں اور یقین کریں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے چاہے آپ موجود ہوں اور انکا انجام دیکھیں یا آپ کی وفات کیبعدیہ لوگ اس انجام سے دوچار ہوں اور اللہ کا وعدہ پورا ہو۔ آخری سبق کا مضمون تیسرے سبق سے ملتا جلتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ صبر کریں ، انتظار کریں ، آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے گئے اور ان کے ساتھ یہی ہوا۔ وماکان۔۔۔۔ باذن اللہ (40: 78) ” کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا “۔ اور یہ دیکھتے نہیں کہ یہ کائنات ایک پوری نشانی ہے۔ ان کے سامنے معجزات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان پر غور نہیں کرتے۔ کیا یہ جانوروں پر غور نہیں کرتے ، جو ان کے لیے مسخر کردیئے ہیں ، کیا یہ سمندروں میں کشتیوں کی پلٹ کو نہیں دیکھتے ، کیا یہ انسانی تاریخ پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ نے بڑی بڑی قوموں کو بیست ونابود کردیا اور سورت کا خاتمہ ایک ایسی ضرب سے ہوتا ہے جس سے دل و دماغ کی تمام تادیں زمزمہ بکھیرتی ہیں کہ جب جھٹلانے والوں پر ہلاکت آئی اور انہوں نے عذاب دیکھا تو فوراً برخودار بن گئے اور ایمان لانے لگے لیکن ” فلم یک۔۔۔۔ الکفرون (40: 85) & مگر ہمارا عذاب دیکھنے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے نافع نہ ہوسکتا تھا کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں پر جاری رہا ہے ، اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے “۔ یہ ہے سورت کا خاتمہ جس میں متکبرین کا انجام بتایا گیا ہے اور یہ اس سورت کے موضوعات ومضامین اور اس کی فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اب ہم اس سورت کے اسباق وآیات کی تفصلات کی طرف آتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi