Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 21

سورة مومن

اَوَ لَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَانُوۡا ہُمۡ اَشَدَّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً وَّ اٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۲۱﴾

Have they not traveled through the land and observed how was the end of those who were before them? They were greater than them in strength and in impression on the land, but Allah seized them for their sins. And they had not from Allah any protector.

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا نتیجہ کیسا کچھ ہوا؟ وہ با عتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے ان سے بہت زیادہ تھے ، پس اللہ نے انہیں ان گناہوں پر پکڑ لیا اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Severe Punishment for the Disbelievers Allah says, أَوَ لَمْ يَسِيرُوا ... Have they not traveled, `these people who disbelieve in your Message, O Muhammad,' ... فِي الاَْرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِن قَبْلِهِمْ ... in the land and seen what was the end of those who were before them, means, the nations of the past who disbelieved in their Prophets (peace be upon them), for which the punishment came upon them even though they were stronger than Quraysh. ... كَانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ... They were superior to them in strength, ... وَاثَارًا فِي الاْاَرْضِ ... and in the traces in the land. means, they left behind traces in the earth, such as structures, buildings and dwellings which these people (i.e., the Quraysh) cannot match. This is like the Ayat: وَلَقَدْ مَكَّنَـهُمْ فِيمَأ إِن مَّكَّنَّـكُمْ فِيهِ And indeed We had firmly established them with that wherewith We have not established you! (46:26) وَأَثَارُواْ الاٌّرْضَ وَعَمَرُوهَأ أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا and they tilled the earth and populated it in greater numbers than these have done. (30:9) ... فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ... But Allah seized them with punishment for their sins. Yet despite this great strength, Allah punished them for their sin, which was their disbelief in their Messengers. ... وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ And none had they to protect them from Allah. means, they had no one who could protect them or ward off the punishment from them. Then Allah mentions the reason why He punished them, and the sins which they committed. Allah says:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا تیری رسالت کے جھٹلانے والے کفار نے اپنے سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلانے والے کفار کی حالتوں کا معائنہ ادھر ادھر چل پھر کر نہیں کیا جو ان سے زیادہ قوی طاقتور اور جثہ دار تھے ۔ جن کے مکانات اور عالیشان عمارتوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں ۔ جو ان سے زیادہ باتمکنت تھے ۔ ان سے بڑی عمروں والے تھے ، جب ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے عذاب الٰہی ان پر آیا ۔ تو نہ تو کوئی اسے ہٹا سکا نہ کسی میں مقابلہ کی طاقت پائی گئی نہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نکلی ، اللہ کا غضب ان پر برس پڑنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلیلیں اور صاف روشن حجتیں لے کر آئے باوجود اس کے انہوں نے کفر کیا جس پر اللہ نے انہیں ہلا کر دیا اور کفار کے لئے انہیں باعث عبرت بنا دیا ۔ اللہ تعالیٰ پوری قوت والا ، سخت پکڑ والا ، شدید عذاب والا ہے ۔ ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام عذابوں سے نجات دے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

21۔ 1 گزشنہ آیات میں احوال آخرت کا بیان تھا اب دنیا کے احوال سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ ذرا زمین میں چل پھر کر ان قوموں کا انجام دیکھیں جو ان سے پہلے اس جرم تکذیب میں ہلاک کی گئیں جس کا ارتکاب یہ کر رہے ہیں دراں حالیکہ گزشتہ قومیں قوت و آثار میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں لیکن جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو انہیں کوئی نہیں بجا سکا اسی طرح تم پر بھی عذاب آسکتا ہے اور اگر آگیا تو پھر کوئی تمہارا پشت پناہ نہ ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩] اپنی یادگار چھوڑنے کا شوق :۔ اپنی یادگار چھوڑنے کا شوق اس آدمی کو ہوتا ہے جو اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھتا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ اس معاملہ میں بھی ہر شخص کا ذوق الگ الگ ہے۔ ان لوگوں نے ایسی یادگاریں چھوڑیں جو ان کی شان وشوکت پر دلالت کرتی تھیں۔ پھر جب اللہ کا عذاب آیا تو نہ شان و شوکت ان کے کسی کام آئی اور نہ چھوڑی ہوئی یادگاریں۔ پھر جب دنیا میں انہیں کوئی چیز اللہ کے عذاب سے بچا نہ سکی تو آخرت میں انہیں کون بچا سکے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) اولم یسیروا فی الارض … گزشتہ آیات میں کفار کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے، اب دنیا میں آنے والے عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے کہ کی ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر ان قوموں کا انجام نہیں دیکھا جو ان سے پہلے انبیاء کو جٹھلانے کے جرم میں ہلاک کی گئیں ؟ (٢) کانوا ھم اشد منھم قوۃ و اثاراً فی الارض …اس کی مفصل تفسیر کے لئے دیکھیے سورة روم کی آیت (٩) کی تفسیر۔ (٣) وما کان لھم من اللہ من واق :” واق “ اصل میں ” واقی “ ہے، جو ” وقی یقی وقایۃ “ (ض) سے اسم فاعل ہے، بچانے والا۔ یعنی ان سے زیادہ قوت و آثار والی اقوام پر ان کے گناہوں کی وجہ سے جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی تو انہیں اللہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ اسی طرح جب ان لوگوں پر اللہ کا عذاب آیا تو انہیں بھی کوئی نہیں بچا سکے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِيْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِہِمْ۝ ٠ ۭ كَانُوْا ہُمْ اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِي الْاَرْضِ فَاَخَذَہُمُ اللہُ بِذُنُوْبِہِمْ۝ ٠ ۭ وَمَا كَانَ لَہُمْ مِّنَ اللہِ مِنْ وَّاقٍ۝ ٢١ سير السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير ( س ی ر ) السیر ( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔ سار السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير، فمن الأوّل قوله : أَفَلَمْ يَسِيرُوا[ الحج/ 46] ، قُلْ سِيرُوا[ الأنعام/ 11] ، سِيرُوا فِيها لَيالِيَ [ سبأ/ 18] ، ومن الثاني قوله : سارَ بِأَهْلِهِ [ القصص/ 29] ، ولم يجئ في القرآن القسم الثالث، وهو سِرْتُهُ. والرابع قوله : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] ، هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [يونس/ 22] ، وأمّا قوله : سِيرُوا فِي الْأَرْضِ [ النمل/ 69] فقد قيل : حثّ علی السّياحة في الأرض بالجسم، وقیل : حثّ علی إجالة الفکر، ومراعاة أحواله كما روي في الخبر أنه قيل في وصف الأولیاء : (أبدانهم في الأرض سَائِرَةٌ وقلوبهم في الملکوت جائلة) «1» ، ومنهم من حمل ذلک علی الجدّ في العبادة المتوصّل بها إلى الثواب، وعلی ذلک حمل قوله عليه السلام : «سافروا تغنموا» «2» ، والتَّسْيِيرُ ضربان : أحدهما : بالأمر، والاختیار، والإرادة من السائر نحو : هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ [يونس/ 22] . والثاني : بالقهر والتّسخیر کتسخیر الجبال وَإِذَا الْجِبالُ سُيِّرَتْ [ التکوير/ 3] ، وقوله : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] ، والسِّيرَةُ : الحالة التي يكون عليها الإنسان وغیره، غریزيّا کان أو مکتسبا، يقال : فلان له سيرة حسنة، وسیرة قبیحة، وقوله : سَنُعِيدُها سِيرَتَهَا الْأُولی [ طه/ 21] ، أي : الحالة التي کانت عليها من کو نها عودا . ( س ی ر ) السیر ( س ی ر ) السیر ( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔ سرت ( ض ) کے معنی چلنے کے ہیں اور سرت بفلان نیز سرتہ کے معنی چلانا بھی آتے ہیں اور معنی تلثیر کے لئے سیرتہ کہا جاتا ہے ۔ ( الغرض سیر کا لفظ چار طرح استعمال ہوتا ہے ) چناچہ پہلے معنی کے متعلق فرمایا : أَفَلَمْ يَسِيرُوا[ الحج/ 46] ، کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر ( و سیاحت ) نہیں کی ۔ قُلْ سِيرُوا[ الأنعام/ 11] کہو کہ ( اے منکرین رسالت ) ملک میں چلو پھرو ۔ سِيرُوا فِيها لَيالِيَ [ سبأ/ 18] کہ رات ۔۔۔۔۔ چلتے رہو اور دوسرے معنی یعنی سرت بفلان کے متعلق فرمایا : سارَ بِأَهْلِهِ [ القصص/ 29] اور اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر چلے ۔ اور تیسری قسم ( یعنی سرتہ بدوں صلہ ) کا استعمال قرآن میں نہیں پایا جاتا اور چوتھی قسم ( یعنی معنی تکثیر ) کے متعلق فرمایا : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] اور پہاڑ چلائی جائینگے ۔ هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [يونس/ 22] وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھر نے اور سیر کرانے کی توفیق دیتا ہے ۔ اور آیت : سِيرُوا فِي الْأَرْضِ [ النمل/ 69] کہ ملک میں چلو پھرو ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ سیاست جسمانی یعنی ملک میں سیر ( سیاحت ) کرنا مراد ہے اور بعض نے سیاحت فکری یعنی عجائبات قدرت میں غور فکر کرنا اور حالات سے باخبر رہنا مراد لیا ہے جیسا کہ اولیاء کرام کے متعلق مروی ہے ۔ ( کہ ان کے اجسام تو زمین پر چلتے پھرتے نظر اتے ہیں لیکن ان کی روحیں عالم ملکوت میں جو لانی کرتی رہتی ہیں ) بعض نے کہا ہے اس کے معنی ہیں عبادت میں اسی طرح کوشش کرنا کہ اس کے ذریعہ ثواب الٰہی تک رسائی ہوسکے اور آنحضرت (علیہ السلام) کا فرمان سافروا تغنموا سفر کرتے رہو غنیمت حاصل کر وگے بھی اس معنی پر محمول ہے ۔ پھر تسیر دوقسم پر ہے ایک وہ جو چلنے والے کے اختیار واردہ سے ہو جیسے فرمایا ۔ هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ [يونس/ 22] وہی تو ہے جو تم کو ۔۔۔۔ چلنے کی توفیق دیتا ہے ۔ دوم جو ذریعہ کے ہو اور سائر یعنی چلنے والے کے ارادہ واختیار کو اس میں کسی قسم کا دخل نہ ہو جیسے حال کے متعلق فرمایا : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہوکر رہ جائیں گے ۔ وَإِذَا الْجِبالُ سُيِّرَتْ [ التکوير/ 3] اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے ۔ السیرۃ اس حالت کو کہتے ہیں جس پر انسان زندگی بسر کرتا ہے عام اس سے کہ اس کی وہ حالت طبعی ہو یا اکتسابی ۔ کہا جاتا ہے : ۔ فلان حسن السیرۃ فلاں کی سیرت اچھی ہے ۔ فلاں قبیح السیرۃ اس کی سیرت بری ہے اور آیت سَنُعِيدُها سِيرَتَهَا الْأُولی [ طه/ 21] ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے ۔ میں سیرۃ اولٰی سے اس عصا کا دوبارہ لکڑی بن جانا ہے ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ عاقب والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ، ( ع ق ب ) العاقب اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ شد الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء : قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ، ( ش دد ) الشد یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] اور ان کے مفاصل کو مضبوط بنایا ۔ قوی القُوَّةُ تستعمل تارة في معنی القدرة نحو قوله تعالی: خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] ( ق وو ) القوۃ یہ کبھی قدرت کے معنی میں اسرعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی اس کو زور سے پکڑے رہو ۔ أثر أَثَرُ الشیء : حصول ما يدلّ علی وجوده، يقال : أثر وأثّر، والجمع : الآثار . قال اللہ تعالی: ثُمَّ قَفَّيْنا عَلى آثارِهِمْ بِرُسُلِنا «1» [ الحدید/ 27] ، وَآثاراً فِي الْأَرْضِ [ غافر/ 21] ، وقوله : فَانْظُرْ إِلى آثارِ رَحْمَتِ اللَّهِ [ الروم/ 50] . ومن هذا يقال للطریق المستدل به علی من تقدّم : آثار، نحو قوله تعالی: فَهُمْ عَلى آثارِهِمْ يُهْرَعُونَ [ الصافات/ 70] ، وقوله : هُمْ أُولاءِ عَلى أَثَرِي [ طه/ 84] . ومنه : سمنت الإبل علی أثارةٍأي : علی أثر من شحم، وأَثَرْتُ البعیر : جعلت علی خفّه أُثْرَةً ، أي : علامة تؤثّر في الأرض ليستدل بها علی أثره، وتسمّى الحدیدة التي يعمل بها ذلک المئثرة . وأَثْرُ السیف : جو هره وأثر جودته، وهو الفرند، وسیف مأثور . وأَثَرْتُ العلم : رویته «3» ، آثُرُهُ أَثْراً وأَثَارَةً وأُثْرَةً ، وأصله : تتبعت أثره . أَوْ أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ [ الأحقاف/ 4] ، وقرئ : (أثرة) «4» وهو ما يروی أو يكتب فيبقی له أثر . والمآثر : ما يروی من مکارم الإنسان، ويستعار الأثر للفضل ( ا ث ر ) اثرالشیئ ۔ ( بقیہ علامت ) کسی شی کا حاصل ہونا جو اصل شیئ کے وجود پر دال ہوا اس سے فعل اثر ( ض) واثر ( تفعیل ) ہے اثر کی جمع آثار آتی ہے قرآن میں ہے :۔ { ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا } [ الحدید : 27] پھر ہم نے ان کے پیھچے اور پیغمبر بھیجے { وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ } [ غافر : 21] اور زمین میں نشانات بنانے کے لحاظ سے { فَانْظُرْ إِلَى آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ } [ الروم : 50] تم رحمت الہی کے نشانات پر غور کرو اسی سے ان طریق کو آثار کہا جاتا ہے جس سے گذشتہ لوگوں ( کے اطوار وخصائل ) پر استدلال ہوسکے جیسے فرمایا { فَهُمْ عَلَى آثَارِهِمْ يُهْرَعُونَ } [ الصافات : 70] سو وہ انہیں کے نقش قدم پر دوڑتے چلے جاتے ہیں ۔ { هُمْ أُولَاءِ عَلَى أَثَرِي } [ طه : 84] وہ میرے طریقہ پر کار بند ہیں ۔ اسی سے مشہور محاورہ ہے سمنت الابل علی آثارۃ اثرمن شحم فربہ شدند شتراں پر بقیہ پیہ کہ پیش ازیں بود اثرت البعیر ۔ میں نے اونٹ کے تلوے پر نشان لگایا تاکہ ( گم ہوجانے کی صورت میں ) اس کا کھوج لگایا جا سکے ۔ اور جس لوہے سے اس قسم کا نشان بنایا جاتا ہے اسے المئثرۃ کہتے ہیں ۔ اثرالسیف ۔ تلوار کا جوہر اسکی عمدگی کا کا نشان ہوتا ہے ۔ سیف ماثور ۔ جوہر دار تلوار ۔ اثرت ( ن ) العلم آثرہ اثرا واثارۃ اثرۃ ۔ کے معنی ہیں علم کو روایت کرنا ۔ در اصل اس کے معنی نشانات علم تلاش کرنا ہوتے ہیں ۔ اور آیت ۔ { أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ } ( سورة الأَحقاف 4) میں اثارۃ سے مراد وہ علم ہے جس کے آثار ( تاحال ) روایت یا تحریر کی وجہ سے باقی ہوں ایک قراۃ میں اثرۃ سے یعنی اپنے مخصوص علم سے المآثر انسانی مکارم جو نسلا بعد نسل روایت ہوتے چلے آتے ہیں ۔ اسی سے بطور استعارہ اثر بمعنی فضیلت بھی آجاتا ہے ۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، وَوَقاهُمْ عَذابَ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 56] ، وَما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ واقٍ [ الرعد/ 34] ، ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا واقٍ [ الرعد/ 37] ، قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ ناراً [ التحریم/ 6] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ وَوَقاهُمْ عَذابَ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 56] اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے گا ۔ وَما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ واقٍ [ الرعد/ 34] اور ان خدا کے عذاب سے کوئی بھی بچانے والا نہیں ۔ ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا واقٍ [ الرعد/ 37] تو خدا کے سامنے نہ کوئی تمہارا مدد گار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا ۔ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ ناراً [ التحریم/ 6] اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش جہنم سے بچاؤ ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

کیا ان کفار مکہ نے زمین میں چل پھر کر غور نہیں کیا کہ ان سے پہلے کافروں کا کیا حشر ہوا جو قوت میں بھی ان سے بڑھ کر اور تلاش و نشانات میں بھی زائد تھے ان کے انبیاء کرام کی تکذیب کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کا مواخذہ فرمایا اور کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہ ہوا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١ { اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ کَانُوْا مِنْ قَبْلِہِمْ } ” کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے ! “ { کَانُوْا ہُمْ اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ } ” وہ کہیں زیادہ بڑھ کر تھے ان سے قوت میں اور زمین میں آثار کے حوالے سے بھی ‘ ‘ انہوں نے زمین میں بڑی بڑی عمارتیں اور بہت سی دوسری ایسی یادگاریں بنائیں جو ان کے بعد بھی ان کی نشانیوں کے طور پر موجود رہی ہیں۔ اقوامِ ماضی کے ایسے بہت سے آثار آج بھی دنیا میں جا بجا موجود ہیں جنہیں ہم آثار قدیمہ کہتے ہیں۔ { فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِہِمْ } ” تو اللہ نے ان کو پکڑا ان کے گناہوں کی پاداش میں۔ “ { وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ } ” اور پھر کوئی نہ ہوا انہیں اللہ سے بچانے والا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢١۔ اوپر کھیتی کی مثال سے قریش کو حشر کا یقین ہونا اس لئے سمجھایا گیا تھا کہ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے اور عمر بھر کے حساب اور کتاب کا خوف ہوگا وہ اللہ کے رسول کے جھٹلانے اور نافرمانی کی باتوں کی کبھی جرأت نہ کرے گا اب قریش کو یہ بات یاد دلائی کہ ملک شام اور ملک یمن کے سفر میں ان لوگوں کو پچھلی ان قوموں کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آتیں جو لوگ ان سے قوت اور ثروت میں ہر طرح بڑھ کر تھے لیکن نافرمانی کے جرم میں جب پکڑے گئے تو وہ ان کی قوت اور ثروت کچھ کام نہ آئی اور بہت سے اپنی ثروت کی نشانیاں چھوڑ کر آخر ہلاک ہوگئے۔ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی انجانی کا عذر باقی نہ رکھنا بہت پسند ہے اسی واسطے اس نے آسمانی احکام دے کر رسول بھیجے۔ صحیح ٢ ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر کی حدیث بھی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح سے لے کر قوم فرعون تک پچھلی جتنی قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں ان کو اللہ تعالیٰ نے انجانی کی حالت میں ظلم کے طور پر ہلاک نہیں کیا کیونکہ انجانی کے عذر کو رفع کردینا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور ظلم کو اس نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک قوم کی ہدایت کے لئے آسمانی احکام دے کر رسول بھیجے لیکن جب ان لوگوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی سزا میں ان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اور اللہ کے عذاب سے ان لوگوں کی قوت ثروت کوئی چیز انہیں بچا نہ سکی۔ (١ ؎ صحیح بخاری کتاب التوحید باب قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شخص اغیر من اللہ ص ١١٠٣ ج ٢۔ ) (٢ ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص ٩٤۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:21) اولم یسیروا فی الارض فینظروا ۔۔ ہمزہ استفہامیہ ہے واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف فعل محذوف پر ہے (کیا یہ لوگ کفر کے برے انجام سے منکر ہیں) ۔ لم یسیروا مضارع نفی جحد بلم جمع مذکر غائب کا صیغہ : کیا وہ نہیں چلے پھرے (زمین میں) ف عطف و تعقیب کے لئے ہے۔ ینظروا اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ یسیروا و ینظروا میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کفار قریش مکہ کی طرف راجع ہے۔ کانواہم اشد منھم قوۃ واثارا فی الارض۔ کانواھم۔ ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع گزشتہ امتیں ہیں۔ الذین کانوا من قبلہم۔ جو کفار مکہ سے پہلے گزری ہیں اشد شدۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے سخت تر، مضبوط تر، قوی تر، منھم میں ضمیر ہم کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ قوۃ بوجہ تمیز منصوب ہے از روئے طاقت واؤ عاطفہ ہے اثارا بوجہ تمیز منصوب ہے لیکن اس کا تعلق اشد سے نہیں ہے بلکہ ایک محذوف لفظ سے ہے۔ اصل لفظ یوں ہے :۔ اشد منھم قوۃ و اکثر منھم اثارا یعنی وہ گزشتہ نافرمان و سرکش امتیں ان کفار مکہ سے قوت کے لحاظ سے بھی مضبوط تر تھیں اور اپنے جاہ و جلال کے جو نشانات وہ زمین پر چھوڑ گئیں وہ بھی کفار مکہ کی ایسی نشانیوں سے اکثر و بیشتر تھے۔ اثارا۔ اثر کی جمع نشانیاں ۔ علامتیں۔ فاخذھم ، بذنوبھم ، لہم۔ سب جگہ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب گزشتہ امتوں کے لئے ہے۔ بذنوبھم۔ میں باء سببیہ ہے ذنوبھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے گناہ۔ ان کے جرائم۔ واق اسم فاعل واحد مذکر وقی مادہ (لفیف مفروق) وقایہ مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے اصل میں واقی تھا ضمہ ی پر دشوار تھا اس کو گرا دیا۔ اب ی اور تنوین دو ساکن جمع ہوئے ی بوجہ اجتماع ساکنین کے گرگئی۔ واق ہوگیا حفاظت کرنے والا۔ بچانے والا

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 3: آیات 21 تا 27 اسرار و معارف : یہ لوگ تو روئے زمین پر سفر کرنے والے ہیں انہوں نے یقینا پہلی اقوام کے آثار دیکھے ہوں گے جو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا جنہوں نے ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ کس طرح تباہ ہوئے حالانکہ وہ ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھے یہ بات ان کے چھوڑے ہوئے قلعوں اور آثار سے بھی ظاہر ہے مگر ان کی قوت و شوکت کسی کام نہ آئی اللہ کے عذاب نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب آپکڑا تو انہیں کوئی ایسا آسرا نہ مل سکا جو ان سے دوستی کا دم بھرتا اور انہیں تباہی سے بچا لیتا ان پر بھی عذاب اسی وجہ سے آئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول اللہ کی طرف سے دلائل لے کر مبعوث ہوئے مگر انہوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا چناچہ اللہ نے عذاب میں گرفتار کرلیے کہ اللہ بہت طاقت کا مالک اور سخت ترین عذاب دینے والا ہے پھر کسی کی طاقت اس کے عذاب کو روک نہیں سکتی اس کی مثال موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہے کہ ہم نے انہیں واضح معجزات اور دلائل دے کر مبعوث فرمایا۔ فرعون ، ھامان اور قارون وغیرہ کی طرف یعنی ان کی قوم کے پاس مگر ان کا جواب بھی یہی تھا کہ معجزات دیکھ کر کہتے یہ جادو ہے اور توحید کے دلائل اور دعوی نبوت کے متعلق کہتے سب جھوٹ ہے ہم نے ان کی طرح حق اور صحیح بات اور سچا نبی بھیجا جبکہ ان کا حال یہ تھا کہ نجومیوں سے نبی کی پیشگوئی سن کر حکم دے دیا کہ آئندہ بنی اسرائیل کا پیدا ہونے والا ہر بچہ قتل کردیا جائے اور صرف بیٹیاں زندہ رکھی جائیں۔ مگر ان کی یہ چال بری طرح ناکام ہوئی اللہ کا رسول پیدا ہوا اور اللہ نے فرعون ہی سے اس کی پرورش کی خدمت لی۔ پھر جب انہوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا تو فرعون بھڑک اٹھا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو جان سے ماردوں گا پھر دیکھتا ہون اس کا رب اسے کیسے بچا سکتا ہے اس لیے کہ اس کی باتوں سے خطرہ ہے کہ تمہیں تمہارے دین سے تبدیل نہ کردے نیز یہ تو ملک میں فساد کھڑا کردے گا حالانکہ فساد تو کفر اور برائی میں تھا جس کا ہر انداز ظلم سے پر ہوتا ہے جبکہ دعوت ایمان ہی قیام امن کی درست اور اصل بنیاد ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جوابا فرمایا میں اس پروردگار کی پناہ چاہتا ہوں جو میرا بھی ہے اور تمہارا بھی وہی ہے ہر تکبر کرنے والے اور آخرت کے دن پر یقین نہ رکھنے والے کے مقابلے میں یعنی جب میں اس کی پناہ میں ہوں تو تم بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہو لہذا وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں کرسکتے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 27 : لم یسیروا ( وہ چلتے پھرتے نہیں) عاقبۃ (انجام) اثارا (نشانات، کھنڈرات) واق ( وقی) بچانے والا) ضلل ( گمراہی) ذو ونی (مجھے چھوڑو ( میری بات چھوڑو) عذت ( میں نے پناہ حاصل کرلی) تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 : دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں بہت سی قومیں ابھریں۔ ان کی تہذیب ان کا تمدن ساری دنیا پر چھا گیا ۔ ان کی تجارت مال و دولت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتیں اور قلعے اس کثرت سے تھے کہ ان پر ناز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھنا شروع کردیا ۔ غرور وتکبر کے ساتھ ساتھ انہوں نے کفر و شرک کی انتہاء کردی ۔ ان کی نا فرمانیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا اور ان کے ساتھ ساتھ اللہ نے اپنی کتابوں کو بھیجا تا کہ وہ راہ ہدایت حاصل کرسکیں مگر ان پر دنیا داری اس قدر غالب آ چکی تھی کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں اور اس کے پیغام کو جھٹلانا شروع کردیا ۔ وہ لوگ ضد ، ہٹ دھرمی اور نافرمانی کی اس انتہاء تک پہنچ گئے تھے جہاں سے ان کی واپسی ناممکن تھی تب اللہ نے ان کو صفحہ ہستی سے اس طرح مٹا دیا کہ آج وہ ایک تاریخی واقعہ اور افسانہ بن کر رہ گئے ہیں ۔ کفار قریش جو سردی اور گرمی کے زمانے میں بغیر کسی ڈر اور خوف کے ملک یمن اور ملک شام جا کر دندناتے پھرتے تھے اور تجارت کرتے تھے ان کے راستے میں قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم فرعون کی تہذیب کے وہ آثار اور کھنڈرات بھی پڑتے تھے جو کبھی ساری دنیا پر دھاک بٹھائے ہوئے تھے لیکن آج ان کی نا فرمانیوں کے سبب وہ نشان عبرت بن کر رہ گئے ہیں۔ ان ہی لوگوں سے خاص طور پر اور ساری دنیا کے لوگوں سے عام طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ کیا وہ زمین پر چل پھر کر ان نافرمان قوموں کا بد ترین انجام اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے جو طاقت و قوت میں ان کفار قریش سے بڑھ کر تھے اور انہوں نے اپنے آثار اور کھنڈرات بھی کثرت سے چھوڑے ہیں ۔ جب انہوں نے نافرمانی اور گناہوں کی انتہائی کردی تب اللہ نے ان کو پکڑا اور سخت سزا دی ان کا مال ان کی دولت اور تہذیب و تمدن کوئی چیز بھی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب وہ انتہائی کھلے کھلے اور واضح معجزات اور دلیلوں کے ساتھ تشریف لائے تو فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور پیغام حق کا انکار کیا اور عام لوگوں کو یہ تاثردینے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) ایک جادوگر ہیں اور یہ جس معجزہ کی بات کرتے ہیں وہ جادو کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ فرعون اور اس کے ہم نوا شروع سے ہی بنی اسرائیل کو ذلیل و خوار کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب پیدا ہوئے تو اس وقت فرعونی قوم اسی ظلم پر قائم تھی لیکن معجزاتی طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے فرعون کے محل میں پہنچادیا جہاں ان کی پرورش ہوئی ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت دے کر فرعون کی ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجا گیا تو اس نے ایک مرتبہ پھر قوم بنی اسرائیل پر خوف و دہشت طاری کرنے کے لئے یہ حکم جاری کیا کہ جو بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو ذبح کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے۔ تاریخی اعتبار سے تو یہ یقینی علم نہیں ہے کہ فرعون نے اس دوسرے حکم پر عمل کیا یا نہیں بہر حال قوم بنی اسرائیل اس حکم سے شدید دبائو میں آگئی ۔ لیکن فرعون اور اس کے درباریوں کی ساری تدبیریں غارت ہو کر رہ گئیں ۔ فرعون کے درباری اور مشیر سخت پریشان تھے اور فرعون کی شاید یہی مشورے دیتے رہے ہوں گے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر سوچ سمجھ کر ہاتھ ڈالیں کہیں ایسا نہ ہو کہ بنی اسرائیل جو بالکل ناکارہ ہوچکے ہیں وہ اٹھ کھڑے ہوں اور فرعون کی حکومت کا تختہ الٹ دیں ۔ ایک دن فرعون نے کہا کہ ان سب باتوں کو چھوڑو میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں ۔ پھر وہ اپنے رب کو پکارے یا نہ پکارے میں اس کا کام تمام کردیتا ہوں کیونکہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو اسی طرح کی آزادی سے گھومنے اور تبلیغ کرنے کی آزادی رہی تو وہ تمہارے مذہب کو بدل ڈالے گا یا وہ فساد مچا کر رکھ دے گا ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سب کچھ سنا تو فرمایا کہ میں فرعون کی دھمکیوں میں آنے والا نہیں ہوں کیونکہ میں تمہارے اور اپنے پروردگار کی پناہ اور حفاظت میں ہوں کوئی میرا کچھ نہ بگاڑ سکے گا ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ فرعون اور اس کے درباریوں کی ساری کوششیں ، سازشیں اور ظلم و ستم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے بنی اسرائیل کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے البتہ وہ خود اس طرح پانی میں غرق کردیئے گئے کہ آج دنیا میں ان کا کوئی نام لیوا تک موجود نہیں ہے۔ آج فرعون کا تاج و تخت مصر کے میوزیم میں موجود ہے جو زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ تاج و تخت پر فخر کرنے والے نافرمان مٹ کر رہتے ہیں اور اللہ جو حی وقیوم ہے وہی ساری کائنات کا مالک و مختار ہے ساری قدرت و طاقت صرف اسی کی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی عذاب نازل کیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو پوری کائنات پر کلی اختیارات حاصل ہیں۔ لیکن معبودان باطل کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اس حقیقت کو دیکھنا چاہو تو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو۔ ہلاک ہونے والی اقوام کا سب سے بڑا جرم اپنے رب کے ساتھ شرک کرنا اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کا انکار کرنا تھا۔ اپنے اپنے اعتقاد اور سوچ کے مطابق ان کا یقین تھا کہ ہمارے دیوتے، بزرگ اور اسباب ہمیں مشکل کے وقت بچا لیں گے۔ اسی طرح ہی مکہ والے اپنے بتوں کے بارے میں اعتقاد رکھتے اور اپنے وسائل پر اتراتے تھے۔ یہاں تک مکہ والوں کے اسباب اور قوت کا معاملہ ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے پہلی اقوام اسباب اور قوت کے اعتبار سے ان سے کہیں آگے تھیں۔ ان کی ترقی اور اسباب کا عالم یہ تھا کہ ان میں کسی نے پہاڑوں کے سینے چیر کر ان میں کالونیاں بنائیں اور بڑے بڑے محل تعمیر کیے۔ کسی نے اپنی شان و شوکت کے لیے بڑی بڑی یاد گاریں تعمیر کیں۔ لیکن رب ذوالجلال نے انہیں ان کے جرائم کی بنا پر پکڑا تو ان کے بت، دیوتے، بزرگ اور ان کے وسائل انہیں بچا نہ سکے۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رسول بڑے بڑے معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ آئے اور انہیں شب وروز سمجھاتے رہے۔ لیکن انہوں نے کفر ہی اختیار کیے رکھا۔ جس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا۔ اس کی پکڑ بڑی شدید ہوا کرتی ہے کیونکہ وہ بڑی قوت والا اور سخت گرفت کرنے والا ہے۔ مسائل ١۔ ہلاک ہونے والی اقوام اہل مکہ سے زیادہ طاقتور تھیں۔ ٢۔ ہلاک ہونے والی اقوام نے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی تعلیمات کا انکار کیا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت کی تو انہیں کوئی نہ بچا سکا۔ تفسیر بالقرآن ہلاک ہونے والی چند اقوام کی تباہی کا ایک منظر : ١۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں کو انکے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر کے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ (الانعام : ٦) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو غرق کردیا۔ (الشعراء : ١٢٠) ٣۔ آل فرعون نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کیوجہ سے ہلاک کردیا۔ (الانفال : ٥٤) ٤۔ بستی والوں نے جب ظلم کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا۔ (الکہف : ٥٩) ٥۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : ١٣٩) ٦۔ قوم تبع اور ان سے پہلے مجرموں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا۔ (الدخان : ٣٧) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی طرف وحی کہ کہ وہ ظالموں کو ضرور ہلاک کرے گا۔ (ابراہیم : ١٣) ٨۔ ہم کسی بستی والوں کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتے جب تک ان میں ڈرانے والے نہ بھیج دیں۔ (الشعراء ٢٠٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 224 ایک نظر میں اس سے قبل ہم اس سبق پر اجمالی تبصرہ کر آئے ہیں ۔ تفصیلی تشریح سے قبل یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ یہاں یہ قصہ سورت کے موضوع کی مناسبت سے لایا گیا ہے۔ اور اس سورت کے انداز بیان کے ساتھ ہم آہنگ کرکے لایا گیا ہے ، بلکہ بعض اسی سورت کے فقروں ہی کو استعمال کیا گیا ہے۔ اور ایک ہی انداز بیان اختیار کیا ہے۔ مثلاً رجل مومن فرعون کے سامنے جو تقریر کرتا ہے ، اس کے بعض فقرے اس سے قبل اسی سورت میں موجود ہیں۔ وہ فرعون ، ہامان اور قارون کو نصیحت کرتا ہے کہ تم لوگ زمین میں چلت پھرت رکھتے ہو ، نیز ان کو وہ ایک ایسے دن سے ڈراتا ہے جو دوسری اقوام کو پیش آیا۔ اور وہ ان کو قیامت کے دن سے بھی اسی طرح ڈراتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل سورت میں قامت کے مشاہد ذکر ہوئے۔ یہ اس بات کو دہراتا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ اللہ کی ناراضگی کا ذکر ، اہل ایمان کی ناراضی جسطرح پہلے سبق میں ذکر ہوئی۔ اسکے بعد جہنم میں ان کا منظر ، جہاں سے وہ نکالے جانے کی درخواست کرینگے لیکن منظور نہ ہوگی جیسا کہ ایسا ہی منظر اس سے پہلے ذکر ہو۔ رجل مومن کی پوری تقریر اس سورت کے مضامین کو دہراتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان سب کے سب ایک طرح سوچا کرتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس تقریر سے سورت کی فضا یک رنگ ہوجاتی ہے۔ اس سورت کی ایک شخصیت سامنے آتی ہے جس کے خدوخال واضح ہیں اور یہ وہ خصوصیت ہے جو پورے قرآن میں پیش نظر رکھی گئی ہے۔ درس نمبر 224 تشریح آیات آیت نمبر 21 تا 22 یہ آیات قصہ موسیٰ اور سورت کے سابقہ مضامین کے درمیان پل کا کام دے رہی ہیں۔ مشرکین مکہ کو یاد دلاتی ہیں کہ تم ذرا ان تاریخی واقعات پر غور کرو اور ان سے عبرت حاصل کرو جو تمہارے گردوپیش ہی میں واقع ہوئے۔ زمین کے اندر پھرو اور گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے واقعات پر غور کرو ، جنہوں نے سچائی کے مقابلے میں وہی رویہ اختیار کیا تھا جو تم نے اختیار کررکھا ہے۔ وہ قوت کے اعتبار سے اور زمین کے اوپر آثار چھوڑنے کے اعتبار سے تمہارے مقابلے میں زیادہ قوی تھے لیکن اپنی اس زبردست تہذیب و تمدن کے باوجود اللہ کے عذاب کے مقابلے میں بےبس تھے۔ اپنے گناہوں کی وجہ سے وہ قوت کے اصلی مرکز سے دور ہوگئے تھے۔ چناچہ ان کے گناہوں نے اہل ایمان کو دعوت دی کہ وہ ان کی ہلاکت کے لیے اٹھیں جن کے ساتھ اللہ عزیز وقہار کی قوتیں معاون مددگار تھیں۔ فاخذھم ۔۔۔۔ من واق (40: 21) ” مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا “۔ کیونکہ بچانے والی چیز ایمان اور عمل صالح ہوتی ہے۔ اور اس سے وہ محروم تھے ۔ پھر بچانے والی چیز یہ ہوتی ہے کہ انسان ایمان عمل صالح اور سچائی کے محاذ کے ساتھ ہو لیکن وہ تو تکذیب کرنے والے اور اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والے تھے اور ان چیزوں اک انجام بربادی اور ہلاکت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ ذٰلک بانھم۔۔۔۔۔ العقاب (40: 22) ” یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول بینات لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ یقیناً وہ بڑی قوت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔ اس اصولی اور کلی اشارے کے بعد اب اللہ تعالیٰ ایسی اقوام میں سے ایک نمونہ پیش فرماتا ہے۔ یہ لوگ مشرکین ن کہ سے بہت قوی تھے اور انہوں نے زمین پر بہت سے آثار چھوڑے تھے۔ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے انہیں پکڑلیا۔ یہ تھے فرعون ، قارون اور ہامان۔ اور ان کے ساتھ بڑے بننے والوں کے ٹولے بھی تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ کئی حصوں اور مناظر پر مشتمل ہے۔ آغاز اس مقام سے ہوتا ہے جہاں حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور اس کا انجام اس پر ہوتا ہے کہ آخرت میں جہنم رسید ہوکر وہ آگ میں باہم لڑتے ہیں۔ یہ بہت ہی طویل سفر ہے لیکن یہاں اس طویل سفر کی جھلکیوں پر اکتفاء کیا گیا ہے اور یہ جھلکیاں اس قصے کے وہ تمام حصے دکھا دیتی ہیں جو یہاں مطلوب ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کیا زمین میں چل پھر کر سابقہ امتوں کو نہیں دیکھا، وہ قوت میں بہت بڑھے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے گناہوں کی وجہ سے ان کی گرفت فرمالی کفار مکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتے تھے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ایمان لاؤ ورنہ کفر پر عذاب آجائے گا تو اس کا بھی مذاق بناتے تھے حالانکہ ایک سال میں دو مرتبہ تجارت کے لیے ملک شام جاتے تھے راستے میں ان قوموں کی تباہ شدہ عمارتوں اور کھنڈروں پر گذرتے تھے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں آیت بالا میں ان کو اسی طرف متوجہ کیا اور فرمایا کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا ؟ عاد اور ثمود کی بستیوں پر گزرتے ہیں وہ لوگ ان سے بہت زیادہ طاقتور تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے زمین میں ان کے بڑے بڑے نشان تھے جو اب بھی ٹوٹی پھوٹی حالت میں نظروں کے سامنے ہیں انہوں نے بڑے بڑے قلعے بنائے، شہروں کو آباد کیا لیکن انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بات نہ مانی، ایمان نہ لائے اور کفر ہی کی وجہ سے ہلاک اور برباد ہوئے ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑ لیا ان کا گھمنڈ رکھا رہ گیا جو یوں کہتے تھے کہ (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) (ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے ؟ ) ان کی ساری قوت دھری رہ گئی، عذاب آیا اور ہلاک ہوئے، جب اللہ تعالیٰ نے عذاب کو بھیجا تو کوئی بھی انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہیں تھا، اللہ تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے جو ان کی گرفت ہوئی اور مبتلائے عذاب ہوئے اس کا یہی سبب تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو رسول ان کے پاس بھیجے وہ کھلی ہوئی نشانیاں معجزات لے کر آئے انہوں نے ان کی دعوت پر کان نہ دھرا برابر انکار کرتے رہے اللہ تعالیٰ نے پکڑا تو کہاں بچ سکتے تھے اللہ تعالیٰ قوی ہے اور شدید العقاب ہے، گذشتہ امتوں کے حالات اور واقعات سے ہر زمانے کے کافروں کو عبرت لینا ضروری ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ ” ذلک بانہم “ یہ ماقبل کی تفصیلی علت ہے، دنیا ہی میں اللہ نے ان کو اس لیے پکڑ لیا کہ ان کے پاس اللہ کے رسول واضح احکام اور کھلی دلیلیں لے کر آئے، تو انہوں نے انکار کردیا اور ایک نہ سنی۔ وہ بڑی طاقت والا اور سخت عذاب والا ہے، وہ جس کو چاہے پکرے لے اور کوئی اس کی گرفت سے نہ چھڑا سکے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان لوگوں کا انجام جو ان سے پہلے ہوگزرے ہیں کیسا ہوا حالانکہ وہ ان موجودہ کفار سے قوۃ وزور کے اعتبار سے ان یادگاروں کے اعتبار سے جو وہ زمین پر چھوڑ گئے ہیں بہت زیادہ تھے پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑلیا اور نہ ہوا ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی بچانے والا۔ یعنی ان موجودہ کافروں اور دین حق کے منکروں سے پہلے کے کافر قوت و طاقت اور عمارات ، محل و قصور وغیرہ کی تعمیر کرنے میں بہت زیادہ تھے جیسا کہ ان کے قلعے اور ان کے بڑے بڑے مکان وآثار سے ان کی قوت و طاقت اور ان کی صنعت و کاریگری کا پتہ چلتا ہے تو کیا زمین پر چل پھر کر ان منکروں نے ان منکروں کا انجام نہیں دیکھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت کے وقت کوئی ان کو بچانے والا ہوا۔