Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 3

سورة مومن

غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَ قَابِلِ التَّوۡبِ شَدِیۡدِ الۡعِقَابِ ۙ ذِی الطَّوۡلِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۳﴾

The forgiver of sin, acceptor of repentance, severe in punishment, owner of abundance. There is no deity except Him; to Him is the destination.

گناہ کا بخشنے والا اور توبہ کاقبول فرمانے والا سخت عذاب والا انعام و قدرت والا جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اسی کی طرف واپس لو ٹنا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ ... The Forgiver of sin, the Acceptor of repentance, means, He forgives sins that have been committed in the past, and He accepts repentance for sins that may be committed in the future, from the one who repents and submits to Him. ... شَدِيدِ الْعِقَابِ ... the Severe in punishment, means, to the one who persists in transgression and prefers the life of this world, who stubbornly turns away from the commands of Allah and commits sin. This is like the Ayah: نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الاٌّلِيمُ Declare unto My servants that truly I am the Oft-Forgiving, the Most-Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment. (15:49-50) These two attributes (mercy and punishment) are often mentioned together in the Qur'an, so that people will remain in a state of both hope and fear. ... ذِي الطَّوْلِ ... the Bestower. Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said, "This means He is Generous and Rich (Independent of means)." The meaning is that He is Most Generous to His servants, granting ongoing blessings for which they can never sufficiently thank Him. وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَا And if you would count the favors of Allah, never could you be able to count them... (16:18) ... لاَا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ ... La ilaha illa Huwa, means, there is none that is equal to Him in all His attributes; there is no God or Lord besides Him. ... إِلَيْهِ الْمَصِيرُ to Him is the final return. means, all things will come back to Him and He will reward or punish each person according to his deeds. وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ and He is Swift at reckoning. (13:41)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 گزشتہ گناہ معاف کرنے والا اور مستقبل میں ہونے والی کوتاہیوں پر توبہ قبول کرنے والا ہے یا اپنے دوستوں کے لئے غافر ہے اور کافر اور مشرک اگر توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ 3۔ 2 ان کے لیے جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیں اور تمردو طغیان کا راستہ اختیار کریں یہ اللہ کے اس قول کی طرح ہی ہے (نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49؀ۙ وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ 50؀) 15 ۔ الحجر :49) میرے بندوں کو بتلا دو کہ میں غفور و رحیم ہوں اور میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے قرآن کریم میں اکثر جگہ یہ دونوں وصف ساتھ ساتھ بیان کیے گئے ہیں تاکہ انسان خوف اور رجا کے درمیان رہے کیونکہ محض خوف ہی خوف انسان کو رحمت و مغفرت الہی سے مایوس کرسکتا ہے اور نری امید گناہوں پر دلیر کردیتی ہے۔ 3۔ 3 طول کے معنی فراخی اور تونگری کے ہیں یعنی وہی فراخی اور تونگری عطا کرنے والا ہے بعض کہتے ہیں اس کے معنی ہیں انعام اور تفضل یعنی اپنے بندوں پر انعام اور فضل کرنے والا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] قرآن کو نازل کرنے والے کی چند جامع صفات :۔ آیت نمبر ٢ اور ٣ اس سورة کی تمہید ہیں۔ جن میں مکہ کے حالات حاضرہ اور حق و باطل کے جھگڑوں کا ذکر بھی آگیا ہے اور اس کتاب کے نازل کرنے والے کی چند متعلقہ صفات اس انداز سے بیان کی گئی ہیں کہ دریا کو کوزہ میں بند کردیا گیا ہے۔ کفار کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں بلکہ تمہاری اپنی اختراع ہے۔ آغاز ہی میں فرما دیا کہ یہ کتاب کسی کمزور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو کائنات کی ہر چیز پر غالب ہے اور تمہاری معاندانہ کوششوں اور سازشوں کے علی الرغم اپنے کلمہ کو سربلند اور نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ہر چیز کا براہ راست اور پورا پورا علم رکھتا ہے۔ لہذا اس کتاب میں اے کفار مکہ ! جو خبریں بھی دی گئی ہیں سب درست اور یقینی ہیں تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے فرمانبردار بندوں کے بہت سے گناہ از خود ہی بخشتا رہتا ہے۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ کافر توبہ کرکے حلقہ اسلام میں داخل ہوجائیں ان کی توبہ قبول کرکے ان کے سابقہ گناہوں کو معاف کردینے والا ہے اور اس صفت کا تعلق صرف نو مسلموں سے نہیں بلکہ جو بندہ بھی اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اس کی طرف رجوع کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اس کے گناہ بھی معاف کردیتا ہے۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنے باغیوں کو سخت سزا دے کر ان کی اکڑی ہوئی گردنیں توڑ سکتا ہے۔ خواہ وہ یہ عذاب دنیا میں دے یا آخرت میں اور اس کی چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ کشادہ دست ہے۔ ہر وقت انعامات کی بارش کرتا رہتا ہے۔ اور اس سے اپنے نافرمانوں کو بھی محروم نہیں فرماتا && اتنی صفات بیان کرنے کے بعد ان دو بنیادی جھگڑوں کی حقیقت بیان فرما دی۔ جو رسول اللہ اور کفار مکہ کے درمیان چل رہے تھے۔ ان میں پہلا یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ باقی تمام معبود جھوٹے، باطل اور بےکار ہیں اور دوسرا یہ کہ روز آخرت کا قیام یقینی ہے اور تم سب کو یقیناً اللہ کے حضور پیش ہونا ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The expression: غَافِرِ‌ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ (ghafiridh-dhanb) in verse 3: all literally means the one who puts a cover on sins (in the sense that they are no more seen or known by anyone), and: قَابِلِ التَّوْبِ (gabilit-tawb) means: He who accepts taubah or repentance. These two expressions appear separately, though the sense of both appears to be almost the same. The reason is that by saying: غَافِرِ‌ الذَّنبِ (ghafiridh-dhanb), the purpose is to indicate that Allah Ta’ ala does already possess the standing authority and power to forgive the sin of a servant even without taubah - while forgiving those who repent is yet another attribute of Allah. (Mazhari) The word: طَول (tawl) which follows immediately in: ذِي الطَّوْلِ (dhit-tawl) literally means vastness and being need-free. Then, it could also mean power or favor. (Mazhari)

(آیت) غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ ۔ غافر الذنب کے لفظی معنی ہیں گناہ پر پردہ ڈالنے والا، اور قابل التوب کے معنی توبہ قبول کرنے والا، یہ دو لفظ الگ الگ لائے گئے ہیں اگرچہ مفہوم دونوں کا تقریباً ایک معلوم ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ غافر الذنب میں اشارہ اس طرف کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس پر بھی قدرت ہے کہ کسی بندے کا گناہ بغیر توبہ کے بھی معاف کر دے اور توبہ کرنے والوں کو معافی دینا دوسرا وصف ہے۔ (مظہری) ذی الطول۔ طول کے لفظی معنی وسعت و غنا کے ہیں اور قدرت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ فضل و احسان کے معنیٰ میں بھی۔ (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ۝ ٠ ۙ ذِي الطَّوْلِ۝ ٠ ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝ ٠ ۭ اِلَيْہِ الْمَصِيْرُ۝ ٣ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54] ( ت و ب ) التوب ( ن) کے معنی گناہ کے باحسن وجود ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے کیونکہ اعتذار کی تین ہی صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کردے اور کہہ دے لم افعلہ کہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ جواز تلاش کرے اور بہانے تراشے لگ جائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا یقین بھی دلائے افرض اعتزار کی یہ تین ہی صورتیں ہیں اور کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور اس آخری صورت کو تو بہ کہا جاتا ہ مگر شرعا توبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اگر ان گناہوں کی تلافی ممکن ہو تو حتی الامکان تلافی کی کوشش کرے پس تو بہ کی یہ چار شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے توبہ مکمل ہوتی ہے ۔ تاب الی اللہ ان باتوں کا تصور کرنا جو انابت الی اللہ کی مقتضی ہوں ۔ قرآن میں ہے ؛۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً [ النور/ 31] سب خدا کے آگے تو بہ کرو ۔ شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، وقال تعالی: عَلَيْها مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] ، وقال : بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، فَأَلْقِياهُ فِي الْعَذابِ الشَّدِيدِ [ ق/ 26] . والشَّدِيدُ والْمُتَشَدِّدُ : البخیل . قال تعالی: وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [ العادیات/ 8] . ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] تندخواہ اور سخت مزاج ( فرشتے) بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔ عُقُوبَةُ والمعاقبة والعِقَاب والعُقُوبَةُ والمعاقبة والعِقَاب يختصّ بالعذاب، قال : فَحَقَّ عِقابِ [ ص/ 14] ، شَدِيدُ الْعِقابِ [ الحشر/ 4] ، وَإِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ [ النحل/ 126] ، وَمَنْ عاقَبَ بِمِثْلِ ما عُوقِبَ بِهِ [ الحج/ 60] . اور عقاب عقوبتہ اور معاقبتہ عذاب کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَحَقَّ عِقابِ [ ص/ 14] تو میرا عذاب ان پر واقع ہوا ۔ شَدِيدُ الْعِقابِ [ الحشر/ 4] سخت عذاب کر نیوالا ۔ وَإِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ [ النحل/ 126] اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی ہے ۔ وَمَنْ عاقَبَ بِمِثْلِ ما عُوقِبَ بِهِ [ الحج/ 60] جو شخص کسی کو اتنی ہی سزا کہ اس کو دی گئی ہے ۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے طول الطُّولُ والقِصَرُ من الأسماء المتضایفة كما تقدّم، ويستعمل في الأعيان والأعراض کالزّمان وغیره قال تعالی: فَطالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ [ الحدید/ 16] ، سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، ويقال : طَوِيلٌ وطُوَالٌ ، و عریض وعُرَاضٌ ، وللجمع : طِوَالٌ ، وقیل : طِيَالٌ ، وباعتبار الطُّولِ قيل للحبل المرخيِّ علی الدّابة : طِوَلٌ «3» ، وطَوِّلْ فرسَكَ ، أي : أَرْخِ طِوَلَهُ ، وقیل : طِوَالُ الدّهرِ لمدّته الطَّوِيلَةِ ، وَتَطَاوَلَ فلانٌ: إذا أظهر الطُّولَ ، أو الطَّوْلَ. قال تعالی: فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] ، وَالطَّوْلُ خُصَّ به الفضلُ والمنُّ ، قال : شَدِيدِ الْعِقابِ ذِي الطَّوْلِ [ غافر/ 3] ، وقوله تعالی: اسْتَأْذَنَكَ أُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ [ التوبة/ 86] ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا[ النساء/ 25] ، كناية عمّا يصرف إلى المهر والنّفقة . وطَالُوتُ اسمٌ عَلَمٌ وهو أعجميٌّ. ( ط و ل ) الطول یہ اسمائے اضافیہ سے ہے ۔ اور اس کے معنی دراز اور لمبا ہونا کے ہیں یہ القصر کے مقابلہ میں آتا ہے اور اعیان واعرراض مثلا زمانہ وغیرہ سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ فَطالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ [ الحدید/ 16] پھر ان پر لمبا عرصہ گزر گیا ۔ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] بہت لمبے شغل ( ہوتے ہیں ) طول طول جیسے عریض و عریض دراز لمبا اس کی جمع طوال آتی ہے اور بعض نے طیال بھی کہا ہے اور لمبا ہونے کی مناسبت سے جانور کی پچھاڑی کی رسی کو طول کہا جاتا ہے طول کہا جاتا ہے طول فرسک اپنے گھوڑے کی پچھاڑی باندھ دے ۔ طوال الدھر عرصہ دارز ۔ تطاول فلان درازی یا وسعت کو ظاہر کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] پھر ان پر لمبا عرسہ گزر گیا ۔ اور طول کا لفظ خاص کر فضل و احسان کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ شَدِيدِ الْعِقابِ ذِي الطَّوْلِ [ غافر/ 3] سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے ۔ اور آیت کریمہ : اسْتَأْذَنَكَ أُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ [ التوبة/ 86] تو جو ان میں دولتمند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں میں اولوالطول سے خوش حال طبقہ مراد ہے اور آیت کریمہ : وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا[ النساء/ 25] اور جو شخص تم میں سے مقدر نہ رکھے ۔ میں طولا کنایہ ہے اس مال سے ( جو عورت کو ) مہر میں یا نان ونفقہ کے طور پر دینا پڑتا ہے ۔ طالوت یہ اسم عجمی ہے اور بنی اسرائیل کے ایک با اقبال بادشاہ کا نام تھا ۔ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ صير الصِّيرُ : الشِّقُّ ، وهو المصدرُ ، ومنه قرئ : فَصُرْهُنَّ وصَارَ إلى كذا : انتهى إليه، ومنه : صِيرُ البابِ لِمَصِيرِهِ الذي ينتهي إليه في تنقّله وتحرّكه، قال : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] . و «صَارَ» عبارةٌ عن التّنقل من حال إلى حال . ( ص ی ر ) الصیر کے معنی ایک جانب یا طرف کے ہیں دراصل یہ صار ( ض) کا مصدر ہے ۔ اور اسی سے آیت فصوھن ہیں ایک قرآت فصرھن ہے ۔ صار الی کذا کے معنی کسی خاص مقام تک پہنچ جانا کے ہیں اسی سے صیر الباب ہے جس کے معنی درداڑہ میں شگاف اور جھروکا کے ہیں اور اسے صیر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ نقل و حرکت کا منتہی ہوتا ہے اور صار کا لفظ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ اسی سے المصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل نہ حرکت کے بعد پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] یعنی اللہ تعالیٰ ہی لوٹنے کی جگہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

گناہ کو بخشنے والا اور شرک سے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرنے والا اور جو شرک کی حالت میں مرے اسے سخت سزا دینے والا مومنوں کے لیے فضل و احسان کرنے والا اور کافر پر قدرت رکھنے والا ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں مومن و کافر سب کو اسی کی طرف لوٹ جانا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ { غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ لا ذِی الطَّوْلِ } ” (وہ اللہ کہ جو) بخشنے والا ہے گناہ کا ‘ قبول کرنے والا ہے توبہ کا ‘ سزا دینے میں بہت سخت ہے ‘ وہ بہت طاقت اور قدرت والا ہے۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ کی چار شانوں کا ذکر مرکب اضافی کی صورت میں ہوا ہے۔ آگے چل کر بھی اس سورت میں اسمائے حسنیٰ کے حوالے سے یہ انداز اور اسلوب نظر آئے گا۔ { لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَط اِلَـیْہِ الْمَصِیْرُ } ” اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ‘ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ “ یہاں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اس سورت میں ” توبہ “ اور ” استغفار “ کا ذکر بار بار آئے گا ‘ بلکہ اس حوالے سے فرشتوں کا ذکر بھی آئے گا کہ وہ بھی بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ سورة المومن کا سورة الزمر کے ساتھ چونکہ جوڑے کا تعلق ہے اس لیے ان دونوں سورتوں کے بنیادی اور مرکزی مضمون میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس مماثلت کے حوالے سے قبل ازیں تمہیدی کلمات میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ سورة الزمر کا مرکزی مضمون ” توحید فی العبادت “ ہے اور سورة المومن کا مرکزی مضمون ” توحید فی الدعاء “ ہے۔ ” دعا “ کے بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : (اَلدُّعَائُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ ) (١) یعنی دعا عبادت کا جوہر ہے۔ ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں : (اَلدُّعُائُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ ) (٢) کہ دعا ہی اصل عبادت ہے۔ اس لحاظ سے توحید فی العبادت اور توحید فی الدعاء آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ چناچہ جس طرح عبادت کے حوالے سے سورة الزمر میں بار بار ” مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ “ کی تکرار ہے ‘ اسی طرح اس سورت میں { فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ } کی بار بار تاکید ہے۔ یعنی دعا کرو اللہ سے اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ ایسا نہ ہو کہ دعا تو اللہ سے مانگو اور اطاعت کسی اور کی کرو۔ اگر ایسا ہوگا تو یہ انتہائی بےتکی حرکت ہوگی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کو جزوی اطاعت قبول نہیں اسی طرح اسے اس شخص کی دعا سننا بھی منظور نہیں جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ کسی اور کی اطاعت کا طوق بھی اپنی گردن میں ڈالے ہوئے ہے۔ چناچہ ایسے شخص کو چاہیے کہ جس ” معبود “ کی وہ اطاعت کرتا ہے ‘ دعا بھی اسی سے کرے۔ آج ہم پاکستانیوں کو من حیث القوم اس تناظر میں اپنی حالت کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آج ہم ہر میدان میں ذلیل و رسوا کیوں ہو رہے ہیں اور روز بروز ہمارے قومی و ملکی حالات بد سے بد تر کیوں ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ١٩٧١ ء میں نہ صرف ہمارا ملک دولخت ہوگیا بلکہ بد ترین شکست کا داغ بھی ہمارے ماتھے پر لگ گیا۔ آج ہماری حالت پہلے سے بھی بدتر ہے۔ اس وقت ہمارے باقی ماندہ ملک کی سلامتی بھی ڈانواں ڈول ہے۔ انتہائی خضوع و خشوع کے ساتھ مانگی گئی ہماری دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور رو رو کر کی گئی فریادیں بھی نہیں سنی جاتیں۔ یہ دراصل کوئی غیر متوقع اور غیر معمولی صورت ِحال نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی و قومی رویے کا منطقی نتیجہ ہے۔ اور یہ رویہ ّیا طرز عمل کیا ہے ؟ آج ہم نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں ‘ ہماری اطاعت اللہ کے لیے خالص نہیں رہی ‘ بلکہ ہم اللہ کی اطاعت کو چھوڑ کر بہت سی دوسری اطاعتوں کے غلام بن گئے ہیں۔ ہم نے اللہ کے نام پر یہ ملک اس وعدے کے ساتھ حاصل کیا تھا کہ اس ملک میں ہم اللہ کے دین کا بول بالا کریں گے۔ مگر آج ہم اللہ کے ساتھ کیے گئے اس وعدے سے ِپھر چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں وہ ہماری دعائیں کیونکر سنے گا ؟ کیوں وہ ہماری فریاد رسی کرے گا اور کیوں ہماری مدد کو پہنچے گا ؟ چناچہ آج اصولی طور پر ہمیں چاہیے کہ ہم دعائیں بھی اسی ” سپر پاور “ سے کریں جس کی اطاعت کا طوق اپنی گردنوں میں ڈالے پھرتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 This is the introduction to the discourse. By this the listener has been forewarned to the effect: °What is being presented before you, is not the word of an ordinary being but of that God Who has infinite power." After this, some of Allah's attributes have been mentioned, one after the other, which bear a deep relevance to the following theme: First, that He is "All-Mighty", i.e. He is Dominant over everything. His every decree concerning anybody is always enforced; none can fight Him and win; none can escape His grasp. Therefore, a person who expects to be successful after turning away from His Command and expects to frustrate His Message after having a dispute with Him is himself foolish. Such notions are only deceptions. Second, that He is "All-Knowing", i.e. He dces not say anything on mere conjecture, but has the direct knowledge of everything. Therefore, whatever information He gives about the supernatural realities, is lure, and the one who dces not accept it, is following nothing but ignorance. Likewise, He knows in what lies the true success of tnan and what rules and laws and commands are necessary for his well-being. His every teaching is based on wisdom and correct knowledge, which dces not admit of any error. Therefore, if a person does not acecpt His guidance, he only wants to follow the path of his own ruin. Then, nothing from the acts and deeds of man can remain hidden from Him; so much so that He even knows the intentions of man, which arc the real motives of his deeds. Therefore, man can never escape His punishment. The third attribute is that He is "Forgiver of sin and Acceptor of repentance. " This attribute brings hope and causes inducement, which has been mentioned so that the people who have led lives of sin, should not despair but should reform themselves with the hope that if they refrained from their behaviour even now, they could still be redeemed by Allah's mercy. Here, one should understand well that forgiving of sins and accepting of repentance are not necessarily one and the same thing, but in most cases Allah forgives sins even without the repentance. For example, a person commits errors as well as does good, and his good acts become the means of forgiveness for his mistakes, whether or not he had opportunity to show repentance for the errors, but might even have forgotten them. Likewise, all the troubles and hardships and diseases and calamities that afflict man and cause him grief in the world, serve as penance for his mistakes. That is why mention of forgiveness of sins has been made separately from the acceptance of repentance. But one should remember that the concession of forgiveness of errors without repentance only refers to those believers, who are free from defiance and who committed sins due to human weakness and not persistence in pride and sin. The fourth attribute is that "He is stern in punishment." By this the people have been warned that just as Allah is Merciful for those who adopt the way of His service, so He is stern for those who adopt an attitude of rebellion against Him. When a person (or persons) transgresses the limits where he can still deserve pardon and forgiveness from Allah, then he becomes worthy of His punishment, and His punishment is so dreadful that only a fool would persist in his wrongdoing. The fifth attribute is that "He is Bountiful", i.e. He is Generous and Beneficent: all creatures are being showered with His blessings and favours every moment: whatever the servants are getting, they are getting only through His bounty and beneficence. After these five attributes, two realities have been stated expressly: (1) That none but Allah is the Deity no matter how many false gods the people might have set up; and (2) that to Him everyone must return: there is no other deity which can call the people to account and reward or punish them. Therefore, if somebody makes another his deity, apart from Him, he will himself face the consequences of his folly.

سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :1 یہ تقریر کی تمہید ہے جس کے ذریعہ سے سامعین کو پہلے ہی خبردار کر دیا گیا ہے کہ یہ کلام جو ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے کسی معمولی ہستی کا کلام نہیں ہے ، بلکہ اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں ۔ پھر پے در پے اللہ تعالیٰ کی چند صفات بیان کی گئی ہیں جو آگے کے مضمون سے گہری مناسبت رکھتی ہیں : اول یہ کہ وہ زبردست ہے ، یعنی سب پر غالب ہے ۔ اس کا جو فیصلہ بھی کسی کے حق میں ہو ، نافذ ہو کر رہتا ہے ، کوئی اس سے لڑ کر جیت نہیں سکتا ، نہ اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے ۔ لہٰذا اس کے فرمان سے منہ موڑ کر اگر کوئی شخص کامیابی کی توقع رکھتا ہو ، اور اس کے رسول سے جھگڑا کر کے یہ امید رکھتا ہو کہ وہ اسے نیچا دکھا دے گا ، تو یہ اس کی اپنی حماقت ہے ۔ ایسی توقعات کبھی پوری نہیں ہو سکتیں ۔ دوسری صفت یہ کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے ۔ یعنی وہ قیاس و گمان کی بنا پر کوئی بات نہیں کرتا بلکہ ہر چیز کا براہ راست علم رکھتا ہے ، اس لیے ماورائے حس و ادراک حقیقتوں کے متعلق جو معلومات وہ دے رہا ہے ، صرف وہی صحیح ہو سکتی ہیں ، اور ان کو نہ ماننے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی خواہ مخواہ جہالت کی پیروی کرے ۔ اسی طرح وہ جانتا ہے کہ انسان کی فلاح کس چیز میں ہے اور کون سے اصول و قوانین اور احکام اس کی بہتری کے لیے ضروری ہیں ۔ اس کی ہر تعلیم حکمت اور علم صحیح پر مبنی ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں ہے ۔ لہٰذا اس کی ہدایات کو قبول نہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی خود اپنی تباہی کے راستے پر جانا چاہتا ہے ۔ پھر انسانوں کی حرکات و سکنات میں سے کوئی چیز اس سے چھپی نہیں رہ سکتی ، حتّیٰ کہ وہ ان نیتوں اور ارادوں تک کو جانتا ہے ۔ جو انسانی افعال کے اصل محرک ہوتے ہیں ۔ اس لیے انسان کسی بہانے اس کی سزا سے بچ کر نہیں نکل سکتا ۔ تیسری صفت یہ کہ وہ گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ یہ امید اور ترغیب دلانے والی صفت ہے جو اس غرض سے بیان کی گئی ہے کہ جو لوگ اب تک سرکشی کرتے رہے ہیں وہ مایوس نہ ہوں ، بلکہ یہ سمجھتے ہوئے اپنی روش پر نظر ثانی کریں کہ اگر اب بھی وہ اس روش سے باز آ جائیں تو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ پا سکتے ہیں ۔ اس جگہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ گناہ معاف کرنا اور توبہ قبول کرنا لازماً ایک ہی چیز کے دو عنوان نہیں ہیں ، بلکہ بسا اوقات توبہ کے بغیر بھی اللہ کے ہاں گناہوں کی معافی ہوتی رہتی ہے ۔ مثلاً ایک شخص خطائیں بھی کرتا رہتا ہے اور نیکیاں بھی ، اور اس کی نیکیاں اس کی خطاؤں کے معاف ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہیں ، خواہ اسے ان خطاؤں پر توبہ و استغفار کرنے کا موقع نہ ملا ہو ، بلکہ وہ انہیں بھول بھی چکا ہو ۔ اسی طرح ایک شخص پر دنیا میں جتنی بھی تکلیفیں اور مصیبتیں اور بیماریاں اور طرح طرح کی رنج و غم پہنچانے والی آفات آتی ہیں ، وہ سب اس کی خطاؤں کا بدل بن جاتی ہیں ۔ اسی بنا پر گناہوں کی معافی کا ذکر توبہ قبول کرنے سے الگ کیا گیا ہے ۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ توبہ کے بغیر خطا بخشی کی یہ رعایت صرف اہل ایمان کے لیے ہے اور اہل ایمان میں بھی صرف ان کے لیے جو سرکشی و بغاوت کے ہر جذبے سے خالی ہوں اور جن سے گناہوں کا صدور بشری کمزوری کی وجہ سے ہوا ہو نہ کہ استکبار اور معصیت پر اصرار کی بنا پر ۔ چوتھی صفت یہ کہ وہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ اس صفت کا ذکر کر کے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ بندگی کی راہ اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ جتنا رحیم ہے ، بغاوت و سرکشی کا رویہ اختیار کرنے والوں کے لیے اتنا ہی سخت ہے ۔ جب کوئی شخص یا گروہ ان تمام حدوں سے گزر جاتا ہے جہاں تک وہ اس کے درگزر اور اس کی خطا بخشی کا مستحق ہو سکتا ہے ، تو پھر وہ اس کی سزا کا مستحق بنتا ہے ، اور اس کی سزا ایسی ہولناک ہے کہ صرف ایک احمق انسان ہی اس کو قابل برداشت سمجھ سکتا ہے ۔ پانچویں صفت یہ کہ وہ صاحب فضل ہے ، یعنی کشادہ دست ، غنی اور فیاض ہے ۔ تمام مخلوقات پر اس کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی ہمہ گیر بارش ہر آن ہو رہی ہے ۔ بندوں کو جو کچھ بھی مل رہا ہے اسی کے فضل و کرم سے مل رہا ہے ۔ ان پانچ صفات کے بعد دو حقیقتیں واشگاف طریقہ سے بیان کر دی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ معبود فی الحقیقت اس کے سوا کوئی نہیں ہے ، خواہ لوگوں نے کتنے ہی دوسرے جھوٹے معبود بنا رکھے ہوں ۔ دوسری یہ کہ جانا سب کو آخر کار اسی کی طرف ہے ۔ کوئی دوسرا معبود لوگوں کے اعمال کا حساب لینے والا اور ان کی جزا و سزا کا فیصلہ کرنے والا نہیں ہے ۔ لہٰذا اس کو چھوڑ کر اگر کوئی دوسروں کو معبود بنائے گا تو اپنی اس حماقت کا خمیازہ خود بھگتے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:3) غافر الذنب۔ مضاف مضاف الیہ ۔ غافر اسم فاعل واحد مذکر ۔ الغفر (باب ضرب) کے معنی ہیں کسی شے کو کسی ایسی چیز میں چھپا دینا جو اسے میل کچیل سے بچا سکے۔ چناچہ محاورہ ہے اغفرثوبک فی الوعاء اپنے کپڑے صندوق وغیرہ میں چھپا کر رکھ لو۔ خدا کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی بندے کو عذاب سے بچا لینا ہے یا معاف کردینا ہے دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے ومن یغفر الذنوب الا اللّٰہ (3:135) اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے ؟ غافر الذنب گناہ بخشنے والا۔ قابل التوب : مضاف مضاف الیہ۔ قابل، قبول، و قبول مصدر باب سمع سے۔ اسم فاعل واحد مذکر بحالت جر ہے قبول کرنے والا۔ توب تاب یتوب (باب نصر) سے مصدر ہے بعض کے نزدیک توبۃ کی جمع ہے جیسے دومۃ کی جمع دوم آتی ہے۔ قابل التوب توبہ قبول کرنے والا۔ غافر الذنب وقابل التوب۔ واؤ عاطفہ کا (جو جمعیۃ پر دلالت کرتا ہے) لانا دلالت کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں دونوں صفتیں جمع ہیں ۔ اس لئے دونوں صفتوں میں تغایر ظاہر کرنے کے لئے حرف عاطف ذکر کردیا کیونکہ اصل ضابطہ یہی ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ میں مغائرت ہونی چاہیے۔ شدید العقاب۔ مضاف مضاف الیہ۔ سخت عذاب دینے والا۔ (شدید بمعنی مشدد) ۔ ذی الطول : بڑی قدرت والا۔ ذی مضاف الطول مضاف الیہ۔ الطول قدرت مقدرہ۔ تونگری۔ بڑی قدرت والا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ومن لم یستطیع منکم طولا (4:25) اور جو شخص تم میں سے مقدور نہ رکھے (مومن آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کا) ۔ العزیز ، العلیم ، غافر الذنب، قابل التوب، شدید العقاب، ذی الطول۔ سب اللہ کی صفات ہیں۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان۔ صار یصیر (باب ضرب) سے مصدر بھی ہے صیر مادہ لوٹنے کی جگہ، ٹھکانا۔ قرار گاہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کی مذکورہ صفات کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے سوا کسی مردہ یا زندہ ہستی کے عبادت نہ کی جائے۔11 نہ کسی اور کی طرف۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ گناہ بخشنے والا ہے، توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت عذاب والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں یہاں سے سورة المومن شروع ہو رہی ہے جس کا دوسرا نام سورة الغافر بھی ہے یہ پہلی سورت ہے جو حٰمٓ سے شروع ہوئی ہے اس کے بعد حٰآ سجدہ اور سورة الشوریٰ اور سورة الزخرف اور سورة الدخان اور سورة الجاثیہ اور سورة الاحقاف بھی حٰمٓ سے شروع ہیں انہیں حوامیم سبعہ کہا جاتا ہے روح المعانی نے بحوالہ فضائل القرآن لابی عبید حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ ہر چیز کا ایک خلاصہ ہوتا ہے اور بلاشبہ قرآن کا خلاصہ وہ سورتیں ہیں جو حٰمٓ سے شروع ہوتی ہیں سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے صبح کو سورة المومن اول سے لے کر اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ تک تلاوت کی اور ساتھ ہی آیۃ الکرسی بھی پڑھی تو یہ شخص شام تک اس کی وجہ سے (مصائب اور تکالیف سے) محفوظ رہے گا اور جس نے ان دونوں کو شام کے وقت پڑھا وہ صبح ہونے تک محفوظ رہے گا حٰآ حرف مقطعات میں سے ہے جو متشابہات ہیں ان کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اوپر سورة المومن کی دو آیتوں کا ترجمہ کیا گیا ہے اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی ہے پھر اللہ تعالیٰ کی چھ صفات بیان فرمائیں اول یہ کہ وہ عزیز ہے یعنی زبردست دوم یہ کہ وہ علیم ہے یعنی ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے سوم یہ کہ وہ گناہوں کا بخشنے والا ہے اور چہارم یہ کہ وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے پنجم یہ کہ وہ گناہ بھی بخشتا ہے توبہ بھی قبول فرماتا ہے مومن بندہ سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کے حضور میں توبہ کرے اور اپنے گناہ معاف کرائے اگر کوئی شخص گناہ کرتا رہے توبہ کی طرف متوجہ نہ ہو تو یہ نہ سمجھے کہ دنیا میں اور آخرت میں میری کوئی گرفت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ گناہ بخشنے والا بھی اور سخت سزا دینے والا بھی ہے نیز وہ قدرت والا بھی ہے وہ جسے جو سزا دینا چاہے اسے اس پر پوری طرح قدرت ہے کوئی اسے روک نہیں سکتا (لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا ھُوَ ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو لوگ اس کے سوا کسی کو معبود بناتے ہیں وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں ان پر لازم ہے کہ شرک سے توبہ کریں تاکہ عذاب شدید سے بچ جائیں (اِِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ) (سب کو اسی کی طرف واپس ہو کر جانا ہے) دنیا میں تو آگئے ہیں لیکن ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آئے مرنا ہے یہاں سے جانا ہے اسی وحدہ لا شریک لہ کے سامنے پیش ہونا ہے لہٰذا دنیا سے ایسی حالت میں جائیں کہ عقائد، اعمال و احوال درست ہوں جن پر اجر وثواب ملے اور وہاں کے عذاب سے محفوظ رہ سکیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) گناہ کا بخشنے والا توبہ کا قبول کرنے والا سخت سزا دینے والا اور بڑی قدرت وفضل کا مالک اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کی طرف پھرجانا ہے۔ ینی صاحب مغفرت بھی اور توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرنے والا بھی یعنی توبہ قبول کرکے گناہ گار کو ایسا کردیتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا سزا میں سخت ہے یعنی اس کا عذاب بہت سخت ہے اور اس کی گرفت شدید ہے طورل فضل ماغنیی قدرت والا۔ صاحب فضل اور غیر محتاج و بےنیاز سب معنی طول کے ہوسکتے ہیں۔ حضرت حسن بصری (رض) نے فرمایا توبہ کرنے والے کے گناہ بخشنے والا اور توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول فرمانے والا ثابت بنائی حضرت مصعب بن عمیر کے ساتھ کوفہ کے نواحی میں گشت کررہے تھے تو ثابت ایک باغ میں دو رکعتیں پڑھنے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے نماز میں سورة مومن کی ابتدائی آیتیں پڑھنی شروع کیں تو انہوں نے ایک شخص کو سفید خچر پر سفید چادر اوڑھے ہوئے دیکھا کہ ا ن کے پاس آیا اور اس نے کہا اے شخص جب تو کہے غافرالذنب تو کہہ یا غافرالذنب اغفرذنبی اور جب تو کہے قابل التوب تو یوں کہہ یا قبل التوب اقبل توبتی اور جب کہے شدید العقاب تو یوں کہہ یا شدید العقاب لاتعاقبنی اور جب تو کہے ذی الطول تو کہہ یا ذالطول طل علی بخیر۔ ثابت کہتے ہیں میں نے اسی طرح کہا بعد میں نے اس شخص کو تلاش کیا تو نہیں پایا تو آس پاس کے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس شخص کے دیکھنے سے انکار کیا یا آیت میں اللہ تعالیٰ کی خوبیاں فرما کر پھر اس کی توحید و قیامت کا اعلان کیا آگے اہل باطل کا رد ہے۔