Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 32

سورة مومن

وَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ یَوۡمَ التَّنَادِ ﴿ۙ۳۲﴾

And O my people, indeed I fear for you the Day of Calling -

اور مجھے تم پر ہانک پُکار کے دن کا بھی ڈر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And, O my people! Verily, I fear for you the Day when there will be mutual calling. meaning, the Day of Resurrection.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 تنادی کے معنی ہیں۔ ایک دوسرے کو پکارنا، قیامت کو یَوْمَ التَّنَادِ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن ایک دوسرے کو پکاریں گے۔ اہل جنت اہل نار کو اور اہل نار اہل جنت کو ندائیں دیں گے۔ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا يَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ قَالُوْا مَآ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ 48؀ اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ۭ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ 49؀) 7 ۔ الاعراف :49-48) ۔ بعض کہتے ہیں کہ میزان کے پاس ایک فرشتہ ہوگا جس کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا اس کی بدبختی کا یہ فرشتہ چیخ کر اعلان کرے گا بعض کہتے ہیں کہ عملوں کے مطابق لوگوں کو پکارا جائے گا جیسے اہل جنت کو اے جنتیو ! اور اہل جہتم کو اے جہنمیو ! امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ امام بغوی کا یہ قول بہت اچھا ہے کہ ان تمام باتوں ہی کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] یوم التناد کے مختلف مفہوم :۔ اکثر مفسرین نے (یَوْمَ التَّنَادِ ) سے مراد قیامت کا دن لیا ہے جس دن تابعداری کرنے والے اپنے بڑوں (مطاع حضرات) کے متعلق فریاد کررہے ہوں گے۔ مظلوم ظالم کو پکڑے ہوئے فریاد کر رہا ہوگا۔ عابد اپنے معبودوں سے نالاں ہوں گے وغیرہ یا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل جنت اہل دوزخ سے، اہل اعراف اہل دوزخ سے، دوزخی آپس میں جنتی آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہوں گے لیکن جن مفسرین نے (یوم التناد) سے مراد عذاب الٰہی کے نازل ہونے کا دن مرادلیا ہے ـ۔ـ وہ ربط مضمون کے لحاظ سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یعنی عذاب الٰہی کے وقت وہ سب آہ وفغاں کرتے ہوں گے اور اسی حال میں ان کا خاتمہ ہوجائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وی قوم انی اخاف علیکم یوم الثناد ” الثنا ”‘ ” ندائ “ سے باب تفاعل ہے، ایک دور سے کو آواز دینا۔ دنیوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اس نے آخرت کے عذاب سے ڈرایا۔” یوم الثنا ”‘ (ایک دوسرے کو پکارنے کے دن) سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو محبت سے آواز دیں گے اور مشرکین کو اپنے شرکاء پیش کرنے کے لئے آواز دیں گے۔ اس دن اس کے فرشتے نیک و بد کو ان کی حیثیت کے مطابق آواز دیں گے۔ جنتی ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے، اسی طرح جہنمی ایک دور سے کو آواز دیں گے۔ اہل جنت جہنمیوں کو اور وہ جنتیوں کو آواز دیں گے۔ حق لینے والے حق دینے والوں کو اور مظلوم ظالموں کو آوازیں دے رہے ہوں گے۔ جہنمی آگ کے خازن کو پکاریں گے، پھر رب تعالیٰ کو آواز دیں گے۔ جنت و جہنم بھی آواز دے رہی ہوں گی۔ موت کا ذبح کردیا جائے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کو آواز دی جائے گی کہ اب ہمیشگی ہے، موت نہیں۔ غرض ، اس دن ایک دوسرے کو پکارنے کا عجیب عالم ہوگا۔ یہاں قرآن مجید سے اس ” یوم الثنا ”‘ کے بارے میں چند مقامات درج کئے جاتے ہیں، احباب تھوڑی سی محنت فرما کر تفصیل ملاحظہ فرما لیں۔ دیکھیے سورة اعراف (٤٣ تا ٥٠) ، زخرف (٧٧) ، حدید (١٤) ، قصص (٦٢، ٦٥، ٧٤) ، کہف (٥٢) ، مومن (١٠) ، حم سجدہ (٤٤) ، ق (٤١) ، ، بنی اسرائیل (٥٢، ٧١) ، یٰسین (٥٢، ٦٠) ، حاقہ (١٩ تا ٣٢) عبس (٣٤ تا ٣٧) اور سورة معاج (١٧) (٢) بعض مفسرین نے فرمایا کہ ” مثل یوم الاحزاب “ سے جو مراد ہے وہی ” یوم الثنا ”‘ سے مراد ہے، یعنی ” یوم الثنا ”‘ سے بھی وہی دنیا میں آنے والا عذاب مراد ہے کہ جب وہ دن آئے گا تو تم ایک دوسرے کو مدد کے لئے آواز دو گے، مگر کوئی مددد کو نہیں آئے گا اور تم عذاب سے بچنے کے لئے بھاگو گے، مگر تمہیں اللہ تعالیٰ سے کوئی نہیں بچائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” فلما احسوا باسنآ اذا ھم منھا یرکضون لا ترکضوا وارجعوآ الی ما اثر فتم فیہ وم کسی نکم لعلکم تسئلون) (الانبیائ : ١٢، ١٣)” تو جب انہوں نے ہمارا عذبا محسوس کیا اچانک وہ ان (بستیوں) سے بھاگ رہے تھے۔ بھاگو نہیں اور ان (جگہوں) کی طرف واپس آؤ جن میں تمہیں خوش حالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف، تاکہ تم سے پوچھا جائے۔ “ اگرچہ اکثر مفسرین نے ” یوم الثنادذ سے مراد قیامت کا دن لیا ہے، مگر آیات کے سیاق کے لحاظ سے اس تفسیر کی بھی گنجائش ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”(یوم الثناد) ہانک پکار کا دن ان پر آیا جس دن فرق ہوئے قلزم میں، ایک دوسرے کو پکارنے لگے ڈوبتے میں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 32, it was said: يَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ (0 my people, I fear for you a day when people will call one another). The last word: تَّنَادِ (tanad) with a kasrah on the letter: دال (dal) is an abbreviated form of the word: تَنَادِی (tanadi) which means calling each other. The day of Qiyamah (the Day of Doom, or Judgment) was called: يَوْمَ التَّنَادِ (yowm-ut-tanad) for the reason that this horrendous day would be reverberating with countless calls and cries. According to a narration of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Umar (رض) ، the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"When comes the day of Qiyamah, an announcer from Allah will proclaim: &Let the adversaries of Allah stand&. It would mean people who rejected taqdir or predestination. And then, the people of Jannah will call out to the people of Jahannam, and the people of Jahannam will call out to the people of Jannah, and the people of the A` raf (Heights) will call out to both, all saying things about themselves. And at that time, names will be announced, names of the lucky and the unlucky, along with their parentage. It will be like an announcement of results indicating that such and such person named is fortunate and successful, and that the probability of any misfortune for him or her stands eliminated - and that such and such person has turned out to be unfortunate, and that the probability of any good fortune for him or her stands eliminated.|" (Reported by Ibn Abi Haim in As-Sunnah - Mazhari) And it has been reported from Sayyidna Abu Hazim Al-A` raj (رض) that he used to address his own self saying, |"0 A&raj, when comes the call on the day of Qiyamah: &Let those who committed such and such sins stand& - you would be standing with them; and when comes the call: &Let those who committed such and such sins stand&, you would be standing with them too; and when comes the call: &Let those who committed such and such sins&, you would be standing with them too - and I believe, every time a sin is announced, you would have to stand with them (because you have all sorts of sins in store with you!|" ) - Reported by Abu Nu&aym - Mazhari.

(آیت) وَيٰقَوْمِ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ ۔ تناد بکسر دال مخفف ہے۔ تنادی کا جس کے معنی ہیں باہم ایک دوسرے کو نداء اور آواز دینے کے۔ قیامت کے روز کو یوم التناد اس لئے کہا گیا کہ اس روز بیشمار ندائیں اور آوازیں ہوں گی۔ جن کا کچھ ذکر خلاصہ تفسیر میں آ چکا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ کا ایک منادی نداء دے گا کہ اللہ کے مخالف لوگ کھڑے ہوجائیں۔ اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کرتے تھے۔ اور پھر اصحاب جنت دوزخ والوں کو اور دوزخ والے اصحاب جنت کو اور اصحاب اعراف دونوں کو نداء دے کر اپنی اپنی باتیں کریں گے۔ اور اس وقت ہر خوش نصیب اور بدنصیب کا نام مع ولدیت لے کر اس کے نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا کہ فلاں ابن فلاں سعید و کامیاب ہوگیا اس کے بعد شقاوت کا کوئی احتمال نہیں رہا اور فلاں بن فلاں شقی و بدبخت ہوگیا، اب اس کی نیک بختی کا کوئی احتمال نہیں رہا۔ (رواہ ابن ابی حاتم فی السنتہ مظہری) مسند بزار و بیہقی میں حضرت انس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سعادت و شقاوت کا اعلان وزن اعمال کے بعد ہوگا۔ اور حضرت ابوحازم اعرج (رض) سے روایت ہے کہ وہ اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے کہ اے اعرج قیامت کے روز نداء دی جائے گی کہ فلاں قسم کے گناہ کرنے والے کھڑے ہوجاویں تو ان کے ساتھ کھڑا ہوگا کہ پھر ندا دی جائے گی کہ فلاں قسم کے گناہ کرنے والے کھڑے ہوں تو ان کے ساتھ بھی کھڑا ہوگا، پھر ندا دی جاوے گی کہ فلاں قسم کے گناہ کرنے والے کھڑے ہوں تو ان کے ساتھ بھی کھڑا ہوگا۔ اور میں سمجھتا ہوں ہر گناہ کے اعلان کے وقت تجھے ان کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا (کیونکہ تم نے ہر قسم کے گناہ جمع کر رکھے ہیں) ۔ (اخرجہ ابونعیم۔ مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيٰقَوْمِ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ۝ ٣٢ۙ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ، وحقیقته : وإن وقع لکم خوف من ذلک لمعرفتکم . والخوف من اللہ لا يراد به ما يخطر بالبال من الرّعب، کاستشعار الخوف من الأسد، بل إنما يراد به الكفّ عن المعاصي واختیار الطّاعات، ولذلک قيل : لا يعدّ خائفا من لم يكن للذنوب تارکا . والتَّخویفُ من اللہ تعالی: هو الحثّ علی التّحرّز، وعلی ذلک قوله تعالی: ذلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبادَهُ [ الزمر/ 16] ، ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اگر حالات سے واقفیت کی بنا پر تمہیں اندیشہ ہو کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے ) کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ جس طرح انسان شیر کے دیکھنے سے ڈر محسوس کرتا ہے ۔ اسی قسم کا رعب اللہ تعالیٰ کے تصور سے انسان کے قلب پر طاری ہوجائے بلکہ خوف الہیٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان گناہوں سے بچتا رہے ۔ اور طاعات کو اختیار کرے ۔ اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ جو شخص گناہ ترک نہیں کرتا وہ خائف یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا نہیں ہوسکتا ۔ الخویف ( تفعیل ) ڈرانا ) اللہ تعالیٰ کے لوگوں کو ڈرانے کے معنی یہ ہیں کہ وہ لوگوں کو برے کاموں سے بچتے رہنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ ذلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبادَهُ [ الزمر/ 16] بھی اسی معنی پر محمول ہے اور باری تعالےٰ نے شیطان سے ڈرنے اور اس کی تخویف کی پرواہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ندد نَدِيدُ الشیءِ : مُشارِكه في جَوْهَره، وذلک ضربٌ من المماثلة، فإنّ المِثْل يقال في أيِّ مشارکةٍ کانتْ ، فكلّ نِدٍّ مثلٌ ، ولیس کلّ مثلٍ نِدّاً ، ويقال : نِدُّهُ ونَدِيدُهُ ونَدِيدَتُهُ ، قال تعالی: فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 22] ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 165] ، وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْداداً [ فصلت/ 9] وقرئ : (يوم التَّنَادِّ ) [ غافر/ 32] أي : يَنِدُّ بعضُهم من بعض . نحو : يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ [ عبس/ 34] . ( ن د د ) ندید الشئی ۔ وہ جو کسی چیز کی ذات یا جوہر میں اس کا شریک ہو اور یہ ممانعت کی ایک قسم ہے کیونکہ مثل کا لفظ ہر قسم کی مشارکت پر بولا جاتا ہے ۔ اس بنا پر ہرند کو مثل کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر مثل ند نہیں ہوتا ۔ اور ند ، ندید ندید ۃ تینوں ہم معنی ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 22] پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ ۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 165] اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک خدا بناتے ہیں ۔ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْداداً [ فصلت/ 9] اور بتوں کو اس کا مد مقابل بناتے ہو ۔ اور ایک قرات میں یوم التناد تشدید دال کے ساتھ ہے اور یہ نذ یند سے مشتق ہے جس کے معنی دور بھاگنے کے ہیں اور قیامت کے روز بھی چونکہ لوگ اپنے قرابتدروں سے دور بھاگیں گے جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ [ عبس/ 34] میں مذکور ہے اس لئے روز قیامت کو یو م التناد بتشدید الدال کہا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٢۔ ٣٣) اور اے قوم مجھے تمہاری نسبت اس دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جس دن تم میں سے ہر ایک دوسرے کو پکارے گا اور تمہیں اصحاب اعراف آواز دیں گے اور اس دن کو یوم الفرار بھی کہا گیا ہے جس دن تم عذاب خداوندی سے بھاگو گے اور تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ ہی گمراہ کردے اس کو کوئی اللہ کے علاوہ ہدایت دینے والا نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ { وَیٰـقَوْمِ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنَادِ } ” اور اے میری قوم کے لوگو ! مجھے اندیشہ ہے تم پر چیخ پکار کے دن کا۔ “ جس دن ہر طرف فریاد و فغاں اور چیخ و پکار مچی ہوگی اور لوگ ایک دوسرے کو پکار رہے ہوں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:32) یقوم : ای یا قومی اے میری قوم ۔ اے میری قوم کے لوگو ! یوم التناد۔ یہاں التناد سے پہلے اس کا مضاف محذوف ہے ای عذاب یوم التناد۔ ایک دوسرے کو پکارنے کے دن کا عذاب۔ التناد ندی مادہ سے باب تفاعل سے مصدر ہے پکارنا۔ ندا کرنا۔ فریاد کرنا۔ اصل میں تنادی تھا یوم کا مضاف الیہ ہونے کے سبب آخر سے ی جو حرف علت تھی حذف ہوگئی۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت یا نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بناء پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بلند اور حسین ہوگی۔ یوم التناد ایک دوسرے کو پکارنے کا دن۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فتنادوا مصبحین (68:21) جب صبح ہوئی تو وہ آگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے۔ بعض کے نزدیک یوم التناد سے مراد قیامت کا دن ہے اور باہمی پکارنے کے متعلق ملاحظہ ہو : ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار (7:44) اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے۔ اور ونادی اصحب الناد اصحب الجنۃ (7:50) اور دوزخی بہشتیوں سے (گڑ گڑا کر) کہیں گے۔ وغیرہ۔ اس سے مراد قیامت کے روز آدمیوں کے ہر گروہ کو ان کے پیشوا کے ساتھ پکارا جانا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ یوم ندعوا کل اناس بامامہم (17:71) جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے۔ حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت ضحاک کی قرأت میں یوم التناد کی جگہ یوم التناد (بہ تشدید دال) ہے جس کے معنی بھاگنے اور منتشر ہونے کے دن کا ہے اس صورت میں التناد مادہ ند سے مشتق ہے اصل میں باب تفاعل سے تنادد تھا دوسری دال کو باء سے بدلا تنادی ہوگیا پھر دال کے ضمہ کو کسرہ میں بدل دیا تنادی ہوگیا۔ پھر آخر سے ی کو گرا دیا۔ یناد ہوگیا۔ جس کے معنی ہیں ایک دوسرے سے بدک کر بھاگ جانا۔ اور یوم التناد وہ دن جب لوگ بدک بدک کر بھک دوسرے سے دور بھاگیں گے اس معنی میں قرآن مجید میں ہے یوم یفر المرء من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ (80:34 تا 36) اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا اور اپنی ماں اور باپ سے اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی وہ دن مشتمل ہے واقعات عظیمہ پر، کیونکہ نداوں کی کثرت واقعات کے عظیم ہونے میں ہوتی ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

41:۔ ” ویا قوم انی اخاف “ پہلے انہیں دنیوی عذاب سے ڈرایا، اب اخروی عذاب سے ڈراتا ہے۔ ” یوم التناد “ ایک دوسرے کو پکارنے کا دن، مراد قیامت کا دن ہے۔ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکاریں گے۔ دوسرا یوم، پہلے یوم یوم سے بدل ہے۔ مومن نے کہا : اے میری قوم ! دنیا میں ہلاکت و بربادی اور ذلت و رسوائی کے علاوہ مجھے تمہارے لیے قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے، جب تم ایک دوسرے کو مدد کے لیے بلاؤ گے، لیکن کوئی کسی کی نہ سنے گا اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا اس دن تم عذاب کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کرو گے تاکہ عذاب سے بچ سکو، لیکن بھاگ کر عذاب سے اپنی جان نہیں بچا سکو گے۔ اس دن میں کوئی بھی تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔ وہاں نہ کوئی تدبیر چل سکے گی، نہ کوئی سفارشی ہی کام آئیگا۔ ” ومن یضلل اللہ الخ “ ضد وعناد کی وجہ سے تکذیب و انکار پر ڈٹ چکے ہو، اس لیے میری مدلل اور ناصحانہ تقریر تم پر اثر انداز ہو کر تمہیں راہ راست پر نہیں لاسکتی، کیونکہ منکرین کے ضد وعناد کی وجہ سے جب اللہ تعالیٰ انہیں قبول حق کی توفیق سے محروم کردے تو پھر انہیں کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ یہ الفاظ مومن نے ان کے ایمان اور قبول نصیحت سے مایوس ہو کر کہے۔ ولما یئس المومن من قبولہا قال و من یضلل اللہ فما لہ من ھاد (بحر ج 7 ص 464) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(32) اور اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہاری نسبت اس دن سے جو باہمی چیخ و پکار کا دن ہے۔