Surat ul Momin

Surah: 40

Verse: 5

سورة مومن

کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ۪ وَ ہَمَّتۡ کُلُّ اُمَّۃٍۭ بِرَسُوۡلِہِمۡ لِیَاۡخُذُوۡہُ وَ جٰدَلُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِیُدۡحِضُوۡا بِہِ الۡحَقَّ فَاَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۵﴾

The people of Noah denied before them and the [disbelieving] factions after them, and every nation intended [a plot] for their messenger to seize him, and they disputed by [using] falsehood to [attempt to] invalidate thereby the truth. So I seized them, and how [terrible] was My penalty.

قوم نوح نے اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی جھٹلایا تھا ۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کر لینے کا ارادہ کیا اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں ، تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں پس میں نے ان کو پکڑ لیا سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ ... The people of Nuh denied before these; Nuh was the first Messenger whom Allah sent to denounce and forbid idol worship. ... وَالاْاَحْزَابُ مِن بَعْدِهِمْ ... and the groups after them, (means, from every nation). ... وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ ... and every (disbelieving) nation plotted against their Messenger to seize him, means, they wanted to kill him by any means possible, and some of them did kill their Messenger. ... وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ ... and disputed by means of falsehood to refute therewith the truth. means, they came up with specious arguments with which to dispute the truth which was so plain and clear. ... فَأَخَذْتُهُمْ ... So I seized them, means, `I destroyed them, because of the sins they committed.' ... فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ and how was My punishment! means, `how have you heard that My punishment and vengeance was so severe and painful.' Qatadah said, "It was terrible, by Allah." وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ أَصْحَابُ النَّارِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 تاکہ اسے قید یا قتل کردیں یا سزا دیں۔ 5۔ 2 یعنی اپنے رسولوں سے انہوں نے جھگڑا کیا، جس سے مقصود حق بات میں کیڑے نکالنا اور اسے کمزور کرنا تھا۔ 5۔ 3 چناچہ میں نے ان حامیان باطل کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس تم دیکھ لو ان کے حق میں میرا عذاب کس طرح آیا اور کیسے انہیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا یا انہیں نشان عبرت بنادیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] حزب کا مفہوم : احزاب، حزب کی جمع ہے اور ان سے مرادایسی جماعتیں، گروہ یا پارٹیاں ہیں جن میں سختی اور شدت پائی جائے۔ وہ آپس میں ہم خیال ہوں اور ان کا مقصد اقتدار میں عمل دخل حاصل کرنا ہو۔ یا اس سے چمٹے رہنا ہو اور اس سے مرادوہ اقوام سابقہ ہیں جن پر رسولوں کی دعوت کو جھٹلانے کی بنا پر اللہ کا عذاب آیا تھا۔ [٤] انبیاء کی مخالفت کرنے والی قوموں کا انجام تاریخی شواہد کی روشنی میں :۔ یہ کفار مکہ اس لئے اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے کہ ان سے پہلے کئی قومیں ان جیسی گزر چکی ہیں۔ مثلاً قوم نوح اور اس کے بعد قوم عاد، قوم ثمود، قوم ابراہیم، اور قوم لوط اور آل فرعون وغیرہ۔ یہ سب لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے اور آخرت کے دن کے منکر تھے۔ پھر جب ہمارے رسول ان کے پاس آئے تو انہوں نے صرف انہیں جھٹلانے پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کے درپے آزار ہوگئے۔ انہیں قتل اور رجم کی دھمکیاں دینے لگے اور ان کے خلاف سازشیں تیار کرنے لگے۔ غرضیکہ انہوں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس کے ذریعہ وہ اللہ کے دین کو سرنگوں کرسکیں اور انبیاء کی دعوت کو اور ان کے متبعین کو کچل دیں (اور یہی سب دھندے یہ کفار مکہ کر رہے تھے) پھر جب ان پر میرا عذاب آیا تو دیکھ لو ان کا کیا حشر ہوا۔ کیا ان قوموں کا کوئی نام و نشان نظر آتا ہے۔ آج وہ کہیں دندناتے دکھائی دے رہے ہیں ؟ اور ان مشرکین مکہ نے بھی اسی ڈگر پر چلنا شروع کردیا ہے تو پھر یہ میری گرفت سے کیونکر بچ سکتے ہیں۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو تاریخی شواہد کی روشنی میں ان کے انجام سے خبردار کیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) کذبت قبلھم قوم نوح …” الاحزاب “ (حزب “ کی جمع ہے، وہ جماعت جو اپنے عقیدے، عمل اور عادت میں ایک جیسی ہو۔ پچھلی آیت کے ساتھ اس کا تعلق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو رد کرنے کے لئے جو لوگ بھی جھگڑ رہے ہیں انہیں پہلی قوموں کا انجام یاد رکھنا چاہیے۔ ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور ان کے بعد عقیدہ، عمل اور عادات میں ان کے ساتھ شامل بہت سی قوموں نے اپنے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ مثلاً عاد، ثمود، اصحاب الایکہ، قوم لوط اور آل فرعون وغیرہ یہ تمام اقوام اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے، آخرت کا انکار کرنے اور اپنے نبی کو جھٹلانے میں ایک جیسی تھیں۔ (٢) وھمت کل امۃ برسولھم لیاخذوہ : یعنی ہر امت نے صرف جھٹلانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے پکا ارادہ کرلیا کہ وہ اپنے رسول کو گرفتار کر کے اسے جلا وطن کردیں، یا قتل کردیں، یا قید رکھیں، جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کہا :(لئن لم تنتہ ینو، لتکونن من المرجومین) (الشعرائ : ١١٦)” اے نوح ! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کئے گئے لوگوں سے ہوجائے گا۔ “ اور صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود نے کہاک : (تقاسموا باللہ لتنبینہ واھلہ ثم لنقولن لولیہ ماشھدنا مہلک اھلہ وانا لصدقون ) (النمل : ٣٩” آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم ضرور ہی اس پر اور اس کے گھر والوں پر رات حملہ کریں گے، پھر ضرور ہی اس کے وارث سے کہہ دیں گے ہم اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور بلاشبہ یقینا ہم سچے ہیں۔ “ اور لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان سے کہا (لئن لم تتنہ یلوط لتکونن من المخرجین) (الشعرائ : ١٦٨) ” اے لوط ! بیشک اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تو ضرور نکالے ہوئے لوگوں سے ہوجائے گا۔ “ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق بھی کفار نے ایسی ہی سازش کی، فرمایا :(واذیمکربک الذین کفروا لیثتوک اویقتلوک اور یخرجوک ویمکرون و یمکر اللہ، واللہ خیر المکدین) (الانفال : ٣٠)” اور جب وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، تیرے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے، تاکہ تجھے قید کردیں، یا تجھے قتل کردیں، یا تجھے نکال دیں اور وہ خفیہ تدبیر کر رہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ “ (٣) وجدلوا بالباطل لیذحضوا بہ الحق :” اذ حض ید حض “ (افعال) کا معین پھسلانا ہے، یہاں مراد حق کو باطل ثابت کرنا ہے، یعنی ان لوگوں نے باطل کے ڈھکو سلوں کے ذریعے سے اپنے رسولوں کے ساتھ ناحق جھگڑا اور کج بحثی کی، تاکہ وہ حق کو غلط ثابت کرسکیں ۔ چناچہ کبھی انہوں نے یہ کہا کہ تم کھاتے پیتے ہو اور بشر ہو، پھر کس طرح رسول بن گئے ؟ (دیکھیے نبی اسرائیل : ٩٤) کبھی نبوت کے ثبوت کے لئے بہت سے نا مناسب مطالبات پیش کردیتے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل ٩٠ تا ٩٣) کبھی مسلمانوں کے فقر اور اپنی دولت کو اپنے حق پرہ ونے کی دلیل قرار دیتے۔ دیکھیے سورة سبا (٣٥) اور سورة انعام :(٥٣) (٤) فاخذتھم : یعنی جب ان اقوام نے اپنے اپنے پیغمبر کو گرفتار کرنے اور اسے قید یا قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو میں نے انہیں پکڑ لیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ایسے ارادے کرنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ناکام و نامراد کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بحفاظت مدینہ پہنچا دیا، پھر بدر اور بعد کی جنگوں میں کفر پر ڈٹے رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے پکڑ لیا۔ (٥) فکیف کان عقاب :” عقاب “ اصل میں ” عقابی “ ہے،” یائ “ کو آیات کے فواصل کی موافقت کے لئے حذف کردیا اور ” بائ “ پر کسرہ باقی رکھا، تاکہ وہ ” یائ “ کے حذف ہونے پر دلالت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو پہلی اقوام کے انجام سے ڈرایا کہ ان کی تباہ شدہ بستیوں کے آثار کو دیکھو کہ میں نے انہیں پکڑا تو میرا عذاب کیسا رہا ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِہِمْ۝ ٠ ۠ وَہَمَّتْ كُلُّ اُمَّۃٍؚ بِرَسُوْلِہِمْ لِيَاْخُذُوْہُ وَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِہِ الْحَــقَّ فَاَخَذْتُہُمْ۝ ٠ ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ۝ ٥ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] نوح نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس . ( ن و ح ) نوح ۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح سے مشتق ہے جس کے معنی ثقابل کے ہیں جیسے بجلان متنا وحان دو متقابل پہاڑ ۔ ریحان یتنا وحان وہ متقابل ہوائیں ۔ النوائع نوحہ گر عورتیں ۔ المنوح ۔ مجلس گریہ ۔ حزب الحزب : جماعة فيها غلظ، قال عزّ وجلّ : أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] ( ح ز ب ) الحزب وہ جماعت جس میں سختی اور شدت پائی جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کسی کو خوب یاد ہے همم الهَمُّ الحَزَنُ الذي يذيب الإنسان . يقال : هَمَمْتُ الشّحم فَانْهَمَّ ، والهَمُّ : ما هممت به في نفسک، وهو الأصل، وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِها[يوسف/ 24] ( ھ م م ) الھم کے معنی پگھلا دینے والے غم کے ہیں اور یہ ھممت الشحم فا نھم کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں میں نے چربی کو پگھلا یا چناچہ وہ پگھل گئی اصل میں ھم کے معنی اس ارادہ کے ہیں جو ابھی دل میں ہو قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِها[يوسف/ 24] اور اس عورت نے ان کا قصد کیا وہ وہ اس کا قصد کرلیتے۔ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ جدل الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] ( ج د ل ) الجدال ( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی سے بٹی ہوئی رسی کو الجدیل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو ۔ بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا کے پکارتے ہیں وہ لغو ہیں ۔ دحض قال تعالی: حُجَّتُهُمْ داحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الشوری/ 16] ، أي : باطلة زائلة، يقال : أدحضت فلانا في حجّته فَدَحَضَ ، قال تعالی: وَيُجادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْباطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ [ الكهف/ 56] ، وأدحضت حجّته فَدَحَضَتْ ، وأصله من دحض الرّجل، وعلی نحوه في وصف المناظرة نظرا يزيل مواقع الأقدام ... «3» ودحضت الشمس مستعار من ذلك . ( د ح ض ) داحضۃ ۔ اسم فاعل ) باطل اور زائل ہونے والی ( دلیل ) قرآن میں ہے :۔ حُجَّتُهُمْ داحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الشوری/ 16] ان کے پروردگار کے نزدیک ان کی دلیل بالکل بودی ہے ۔ کہاجاتا ہے ادحضت فلانا فی حجتہ فدحض وادحضت حجتہ ۔ فدحضت ( میں نے اس کی دلیل کو باطل کیا تو وہ باطل ہوگئی ) قرآن میں ہے :۔ وَيُجادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْباطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ [ الكهف/ 56] اور جو کافر ہیں ، وہ باطل ( سے استدلال کرکے ) جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو اس کے مقام سے پھسلا دیں ۔ اصل میں یہ دحض الرجل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی پاؤں پھسلنے اور ٹھوکر کھانے کے ہیں ۔ اس بنا پر مناظرہ کے بارے میں کسی نے کہا ہے ع ( الکامل ) (151) نظرا یزیل مواقع الاقدام ایسی نظر جو قدموں کو ان کی جگہ سے پھسلا دے ۔ اور بطور استعارہ دحضت الشمس کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معني سورج ڈھلنے کے ہیں حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ عُقُوبَةُ والمعاقبة والعِقَاب والعُقُوبَةُ والمعاقبة والعِقَاب يختصّ بالعذاب، قال : فَحَقَّ عِقابِ [ ص/ 14] ، شَدِيدُ الْعِقابِ [ الحشر/ 4] ، وَإِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ [ النحل/ 126] ، وَمَنْ عاقَبَ بِمِثْلِ ما عُوقِبَ بِهِ [ الحج/ 60] . اور عقاب عقوبتہ اور معاقبتہ عذاب کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَحَقَّ عِقابِ [ ص/ 14] تو میرا عذاب ان پر واقع ہوا ۔ شَدِيدُ الْعِقابِ [ الحشر/ 4] سخت عذاب کر نیوالا ۔ وَإِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ [ النحل/ 126] اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی ہے ۔ وَمَنْ عاقَبَ بِمِثْلِ ما عُوقِبَ بِهِ [ الحج/ 60] جو شخص کسی کو اتنی ہی سزا کہ اس کو دی گئی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور آپ کی قوم سے پہلے حضرت نوح کی قوم نے نوح (علیہ السلام) کو اور اسی طرح ان کافروں نے جو کہ قوم نوح کے بعد ہوئے انبیاء کرام کو جھٹلایا تھا جبکہ آپ کی قوم آپ کو جھٹلا رہی ہے۔ اور ہر ایک قوم نے اپنے رسول کو قتل کرنے کی سکیم بنائی تھی اور شرک کے ساتھ رسولوں سے جھگڑے کیے تاکہ شرک کے ذریعے سے اس حق بات کو جس کو انبیاء کرام لے کر آئے ہیں جھوٹ کردیں تو میں نے اس تکذیب کے وقت ان کی پکڑ کی۔ سو اے نبی کریم آپ دیکھیے کہ تکذیب کے وقت میری طرف سے ان کو کیسی سزا ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ { کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْم بَعْدِہِمْ } ” ان سے پہلے نوح ( علیہ السلام) کی قوم نے جھٹلایا تھا اور ان کے بعد بہت سی دوسری قوموں نے بھی ۔ “ { وَہَمَّتْ کُلُّ اُمَّۃٍم بِرَسُوْلِہِمْ لِیَاْخُذُوْہُ } ” اور ہر قوم نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے پکڑ لے (اور قتل کر دے) “ { وَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُہُمْ قف فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ } ” اور وہ باطل (دلیلوں) کے ساتھ جھگڑتے رہے تاکہ اس کے ذریعے حق کو پسپا کردیں ‘ بالآخر میں نے انہیں پکڑ لیا ‘ تو کیسی رہی میری سزا ؟ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(40:5) قبلہم : ای قبل کفار قریش۔ کفار قریش سے پہلے۔ والاحزاب من بعدہم : الاحزاب حزب کی جمع ہے جس کے معنی جماعت ، گروہ کے ہیں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع قوم نوح ہے۔ مطلب :۔ قوم نوح کے بوعد وہ کافر امتیں جو کہ پیغمبروں کے خلاف جتھ بند ہوگئی تھیں اور مقابلہ پر آگئیں جیسے قوم عاد وثمود و قوم لوط۔ وھمت کل امۃ برسولہم : ھمت ماضی واحد مؤنث غائب ہم باب نصر مصدر سے۔ ہم ب کسی چیز کا ارادہ کرنا۔ چاہنا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کا ارادہ کرلیا۔ لیاخذوہ۔ لام تعلیل کا یاخذوا مضارع جمع مذکر غائب (منصوب بوجہ عمل لام) اخذ باب نصر مصدر سے۔ کہ وہ اس کو پکڑ لیں۔ حضرت ابن عباس رحی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے پیغمبر کو قتل کردیں ۔ اور ہلاک کردیں اور بعض علماء نے ترجمہ کیا ہے تاکہ پیغمبر کو گرفتار کرلیں۔ عرب قیدی کو اخیذ (یعنی پکڑا ہوا۔ گرفتار) کہتے ہیں۔ جدلوا بالباطل : جدلوا ماضی جمع مذکر غائب مجادلۃ (مفاعلۃ) مصدر سے انہوں نے جھگڑا کیا۔ بالباطل جھوٹ کے ساتھ ۔ یعنی جھوٹی بات کو بنیاد بنا کر بغیر حق کے، باطل قول کے ساتھ۔ مطلب انہوں نے ناحق محض جھوٹ پر مبنی باتوں کو لے کر جھگڑے کھڑے کر دئیے تھے۔ لیدحضوا بہ۔ لام تعلیل کا۔ یدحضوا مضارع جمع مذکر غائب منصوب عمل لام ارحاص (افعال) مصدر بمعنی زائل کرنا۔ باطل کرنا۔ بہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع باطل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اس باطل بات کے ذریعہ سے یا اس ناحق ذریعہ سے حق کو زائل کردیں یا باطل کردیں ۔ ڈگمادیں یا دبادیں۔ فاخذتھم : ف سببیہ ہے اخذن ماضی واحد متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب پس میں نے ان کو پکڑ لیا یعنی ان کو سزا دینے کے لئے میں نے پکڑ لیا۔ کیف۔ استفہامیہ ہے۔ کیف سوالیہ کے ذریعہ سے صفات مخلوق کے متعلق سوال کیا جاتا ہے ۔ لیکن جہاں اللہ نے اپنی ذات وصفات کے موقع پر لفظ کیف کو استعمال کیا ہے وہاں غیر حقیقی استفہام مراد ہوتا ہے یعنی صرف استخبار، خواہ بطور تعجب یا مخاطب کو تنبیہ اور توبیخ کرنے کے لئے۔ یہاں بطور تعجب آیا ہے۔ روح المعانی میں ہے وھذا تقریر فیہ تعجیب للسامعین مما وقع بھم اس تقریر میں جھوٹا جھگڑا کرنے والوں پر جو گزری اس پر سامعین کے لئے تعجیب ہے۔ عقاب۔ اصل میں عقابی تھا ی کو ساقط کردیا گیا۔ میری سزا۔ یعنی میری طرف سے دی گئی سزا۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھا میری طرف سے ان کو کیسی سزا ملی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی دین حق کو مٹانے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے اور غلط باتوں کو دلیل بنا کر اہل حق سے کج بحثیاں کرتے رہے۔2 کہ ” آج دنیا میں ان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا “۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” کذبت الخ “ یہ اصلاح منکرین کا دوسرا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جدال کی وجہ سے ہمیشہ معاندین کو دنیا ہی میں عذاب دیتا رہا ہے مثلاً قوم نوح اور اس کے بعد دوسری قومیں جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔ لیکن صرف تکذیب (جھٹلانا) اگرچہ غضب الٰہی کا موجب ہے، لیکن دنیوی عذاب کا موجب نہیں بن سکتی تھی۔ ان قوموں نے دو اور بڑے جرموں کا ارتکاب کیا جس کی وجہ سے وہ دنیا ہی میں مورد عذاب ٹھہرے۔ اول ہر امت کے معاندین نے پیغام حق لانے والے رسول کی ایذا رسانی بلکہ اس کے قتل تک کی کوشش کی۔ دوم انہوں نے باطل کے ذریعے سے حق کو گرانے اور اس کو مغلوب کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے دنیا ہی ان کو پکڑا لیا اور ایسا عذاب بھیجا کہ ان کا نام و نشان ہی مٹ گیا، کہو، ہمارا عذاب کیسا رہا۔ تم ان تباہ شدہ بستیوں کے پاس سے گذرتے ہو اور عذاب الٰہی کے آثار آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ کسی اللہ کے ولی کا قول ہے۔ چیست خدایا، ہر کر ابیندازی بما اندازی ؟۔ خدایا ! کیا وجہ ہے کہ جس کو تو گرانے کا ارادہ کرتا ہے، تو ہمارے ساتھ اس کا مقابلہ کرا دیتا ہے۔ یعنی وہ ہمیں مارنے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو تو اس کو عذاب میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ مولوی معنوی نے کہا ہے۔ شعر۔ ہیچ قولے را خدا رسوا نہ کرد تاول صاحبدلے نامد بداد جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “ (بنی اسرائیل رکوع 2) ۔ دوسری جگہ فرمایا ” جزاء لمن کان کفر “ (القمر رکوع 1) ۔ 7 : ” بالباطل “ شبہات واہیہ جو ان کے مشرک رہنماؤں نے وضع کر رکھے تھے جن سے وہ شرک کی تائید کرتے تھے۔ قال یحییٰ بن سلام : جادلوا الانبیاء بالشرک لیبطلوا بہ الایمان (قرطبی ج 15 ص 293) ۔ جادلوا رسلہم بالباطل ای بایراد الشبہات لیدحضوا بہ الحق (ای ان یزیلوا بسبب ایراد تلک الشبہات الھق والصدق (کبیر ج 7 ص 294) ۔ 8:۔ ” وکذلک الخ “ یہ تیسرا طریق اصلاح ہے۔ ” کذلک “ میں کاف بمعنی لام تعلیلیہ ہے ای لذلک یعنی اسی جدال کی وجہ سے تیرے رب کی بات ان معاندین پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ ” انھم اصحب النار “ کلمۃ سے بدل ہے۔ وجوز ان یکون فی محل رفع علی انہ بدل من (کلمۃ ربک) بدل کل من کل (روح ج 24 ص 44) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) ان لوگوں سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اور مختلف گروہ اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں اور ہر امت نے اپنے رسولوں کے ساتھ یہی ارادہ کیا کہ اس رسول کو گرفتار کرلیں اور قیدی بنالیں اور بےاصل باتوں اور بیہودہ شبہات کا سہارا لے کر جھگڑا کرنے لگے تاکہ اس ناحق کے جھگڑے کی وجہ سے حق کو اس کی جگہ سے ہٹا دیں آخرکار میں نے ان لوگوں کو جو باطل سے حق کو مٹانا چاہتے تھے پکڑ لیا اور ان کی گرفت کی پھر دیکھا کہ میرا عذاب کیسا ہوا۔ یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور ان کے بعد اور بھی بہت سی جماعتوں نے جیسے عادوثمود وغیرہ نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور ان رسولوں کو جھٹلایا اور ہر ایک گروہ اور جماعت نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے رسول کو قید کرلیں اور کو قتل کردیں اور ناحق کے جھگڑنے نکالنے لگے تاکہ باطل اور ناحق سے حق کو زائل کردیں اور دین حق کو مٹادیں۔ جب ان امتوں کی یہ حرکات حد سے بڑھیں تو آخر کا میں نے ان کو پکڑا پھر دیکھا کہ میری پکڑ اور میرا عذاب کیسا ہوا۔