Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 1

سورة حم السجدہ

حٰمٓ ۚ﴿۱﴾

Ha, Meem.

حٰمٓ

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Description of the Qur'an, and what Those Who turn away from it say. Allah says, حم تَنزِيلٌ مِّنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

فرماتا ہے کہ یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے ۔ جیسے اور آیت میں فرمایا اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے ۔ اور آیت میں ہے روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لئے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے ، اس کی آیتیں مفصل ہیں ، ان کے معانی ظاہر ہیں ، احکام مضبوط ہیں ۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں جیسے اور آیت میں ہے ( كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ Ǻ۝ۙ ) 11-ھود:1 ) ، یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم و خبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز ۔ باطل اس کے قریب پھٹک بھی نہیں سکتا ۔ حکیم و حمید رب کی طرف سے اتارا گیا ہے ۔ اس بیان و وضاحت کو ذی علم سمجھ رہے ہیں ۔ یہ ایک طرف مومنوں کو بشارت دیتا ہے ۔ دوسری جانب مجرموں کو دھمکاتا ہے ۔ کفار کو ڈراتا ہے ۔ باوجود ان خوبیوں کے پھر بھی اکثر قریشی منہ پھیرے ہوئے اور کانوں میں روئی دیئے بہرے ہوئے ہیں ، پھر مزید ڈھٹائی دیکھو کہ خود کہتے ہیں کہ تیری پکار سننے میں ہم بہرے ہیں ۔ تیرے اور ہمارے درمیان آڑ ہیں ۔ تیری باتیں نہ ہماری سمجھ میں آئیں نہ عقل میں سمائیں ۔ جا تو اپنے طریقے پر عمل کرتا چلا جا ۔ ہم اپنا طریقہ کار ہرگز نہ چھوڑیں گے ۔ ناممکن ہے کہ ہم تیری مان لیں ۔ مسند عبد بن حمید میں حضرت جابر بن عبداللہ سے منقول ہے کہ ایک دن قریشیوں نے جمع ہو کر آپس میں مشاورت کی کہ جادو کہانت اور شعرو شاعری میں جو سب سے زیادہ ہو اسے ساتھ لے کر اس شخص کے پاس چلیں ۔ ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) جس نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے کام میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالنا شروع کر دیا ہے وہ اس سے مناظرہ کرے اور اسے ہرا دے اور لاجواب کر دے سب نے کہا کہ ایسا شخص تو ہم میں بجز عتبہ بن ربیعہ کے اور کوئی نہیں ۔ چنانچہ یہ سب مل کر عتبہ کے پاس آئے اور اپنی متفقہ خواہش ظاہر کی ۔ اس نے قوم کی بات رکھ لی اور تیار ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ آکر کہنے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بتا تو اچھا ہے یا عبد اللہ؟ ( یعنی آپ کے والد صاحب ) آپ نے کوئی جواب نہ دیا ۔ اس نے دوسرا سوال کیا کہ تو اچھا ہے یا تیرا دادا عبد المطلب؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی خاموش رہے ۔ وہ کہنے لگا سن اگر تو اپنے تئیں دادوں کو اچھا سمجھتا ہے تب تو تمہیں معلوم ہے وہ انہیں معبودوں کو پوجتے رہے جن کو ہم پوجتے ہیں اور جن کی تو عیب گیری کرتا رہتا ہے اور اگر تو اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتا ہے تو ہم سے بات کر ہم بھی تیری باتیں سنیں ۔ قسم اللہ کی دنیا میں کوئی انسان اپنی قوم کیلئے تجھ سے زیادہ ضرر رساں پیدا نہیں ہوا ۔ تو نے ہماری شیرازہ بندی کو توڑ دیا ۔ تو نے ہمارے اتفاق کو نفاق سے بدل دیا ۔ تو نے ہمارے دین کو عیب دار بتایا اور اس میں برائی نکالی ۔ تو نے سارے عرب میں ہمیں بدنام اور رسوا کر دیا ۔ آج ہر جگہ یہی تذکرہ ہے کہ قریشیوں میں ایک جادوگر ہے ۔ قریشیوں میں کاہن ہے ۔ اب تو یہی ایک بات باقی رہ گئی ہے کہ ہم میں آپس میں سر پھٹول ہو ، ایک دوسرے کے سامنے ہتھیار لگا کر آ جائیں اور یونہی لڑا بھڑا کر تو ہم سب کو فنا کر دینا چاہتا ہے ، سن! اگر تجھے مال کی خواہش ہے تو لے ہم سب مل کر تجھے اس قدر مال جمع کر دیتے ہیں کہ عرب میں تیرے برابر کوئی اور تونگر نہ نکلے ۔ اور تجھے عورتوں کی خواہش ہے کہ تو ہم میں سے جس کی بیٹی تجھے پسند ہو تو بتا ہم ایک چھوڑ دس دس شادیاں تیری کرا دیتے ہیں ۔ یہ سب کچھ کہہ کر اب اس نے ذرا سانس لیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس کہہ چکے؟ اس نے کہا ہاں! آپ نے فرمایا اب میری سنو! چنانچہ آپ نے بسم اللہ پڑھ کر اسی سورت کی تلاوت شروع کی اور تقریباً ڈیڑھ رکوع ( مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ 13۝ۭ ) 41- فصلت:13 ) تک پڑھا اتنا سن کر عتبہ بول پڑا بس کیجئے آپ کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ اب یہ یہاں سے اٹھ کر چل دیا قریش کا مجمع اس کا منتظر تھا ۔ انہوں نے دیکھتے ہی پوچھا کہو کیا بات رہی؟ عتبہ نے کہا سنو تم سب مل کر جو کچھ اسے کہہ سکتے تھے میں نے اکیلے ہی وہ سب کچھ کہہ ڈالا ۔ انہوں نے کہا پھر اس نے کچھ جواب بھی دیا کہا ہاں جواب تو دیا لیکن باللہ میں تو ایک حرف بھی اس کا سمجھ نہیں سکا البتہ اتنا سمجھا ہوں کہ انہوں نے ہم سب کو عذاب آسمانی سے ڈرایا ہے جو عذاب قوم عاد اور قوم ثمود پر آیا تھا انہوں نے کہا تجھے اللہ کی مار ایک شخص عربی زبان میں جو تیری اپنی زبان ہے تجھ سے کلام کر رہا ہے اور تو کہتا ہے میں سمجھا ہی نہیں کہ اس نے کیا کہا ؟ عتبہ نے جواب دیا کہ میں سچ کہتا ہوں بجز ذکر عذاب کے میں کچھ نہیں سمجھا ۔ بغوی بھی اس روایت کو لائے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو عتبہ نے آپ کے منہ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ کو قسمیں دینے لگا اور رشتے داری یاد دلانے لگا ۔ اور یہاں سے الٹے پاؤں واپس جا کر گھر میں بیٹھا ۔ اور قریشیوں کی بیٹھک میں آنا جانا ترک کر دیا ۔ اس پر ابو جہل نے کہا کہ قریشیو! میرا خیال تو یہ ہے کہ عتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھک کیا اور وہاں کے کھانے پینے میں للچا گیا ہے وہ حاجت مند تھا اچھا تم میرے ساتھ ہو لو میں اس کے پاس چلتا ہوں ۔ اسے ٹھیک کرلوں گا ۔ وہاں جا کر ابو جہل نے کہا عتبہ تم نے جو ہمارے پاس آنا جانا چھوڑا اس کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی معلوم ہوتی ہے کہ تجھے اس کا دستر خوان پسند آ گیا اور تو بھی اسی کی طرف جھک گیا ہے ۔ حاجب مندی بری چیز ہے میرا خیال ہے کہ ہم آپس میں چندہ کرکے تیری حالت ٹھیک کر دیں ۔ تاکہ اس مصیبت اور ذلت سے تو چھوٹ جائے ۔ اس سے ڈرنے کی اور نئے مذہب کی تجھے ضرورت نہ رہے ۔ اس پر عتبہ بہت بگڑا اور کہنے لگا مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا غرض ہے؟ اللہ کی قسم کی اب اس سے کبھی بات تک نہ کروں گا ۔ اور تم میری نسبت ایسے ذلیل خیالات ظاہر کرتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں مجھ سے بڑھ کر کوئی مالدار نہیں ۔ بات صرف یہ ہے کہ میں تم سب کو کہنے سے ان کے پاس گیا سارا قصہ کہہ سنایا بہت باتیں کہیں میرے جواب میں پھر جو کلام اس نے پڑھا واللہ نہ تو وہ شعر تھا نہ کہانت کا کلام تھا نہ جادو وغیرہ تھا ۔ وہ جب اس سورت کو پڑھتے ہوئے آیت ( فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ 13۝ۭ ) 41- فصلت:13 ) ، تک پہنچے تو میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور انہیں رشتے ناتے یاد دلانے لگا کہ للہ رک جاؤ مجھے تو خوف لگا ہوا تھا کہ کہیں اسی وقت ہم پر وہ عذاب آ نہ جائے اور یہ تو تم سب کو معلوم ہے کہ محمد جھوٹے نہیں ۔ سیرۃ ابن اسحاق میں یہ واقعہ دوسرے طریقے پر ہے اس میں ہے کہ قریشیوں کی مجلس ایک مرتبہ جمع تھی ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ عتبہ قریش سے کہنے لگا کہ اگر تم سب کا مشورہ ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں انہیں کچھ سمجھاؤں اور کچھ لالچ دوں اگر وہ کسی بات کو قبول کرلیں تو ہم انہیں دے دیں اور انہیں ان کے کام سے روک دیں ۔ یہ واقعہ اس وقت کاہے کہ حضرت حمزہ مسلمان ہو چکے تھے اور مسلمانوں کی تعداد معقول ہو گئی تھی اور روز افزوں ہوتی جاتی تھی ۔ سب قریشی اس پر رضامند ہوئے ۔ یہ حضور کے پاس آیا اور کہنے لگا برادر زادے تم عالی نسب ہو تم ہم میں سے ہو ہماری آنکھوں کے تارے اور ہمارے کلیجے کے ٹکڑے ہو ۔ افسوس کہ تم اپنی قوم کے پاس ایک عجیب و غریب چیز لائے ہو تم نے ان میں پھوٹ ڈلوا دی ۔ تم نے ان کے عقل مندوں کو بیوقوف قرار دیا ۔ تم نے ان کے معبودوں کی عیب جوئی کی ۔ تم نے ان کے دین کو برا کہنا شروع کیا ۔ تم نے ان کے بڑے بوڑھوں کو کافر بنایا اب سن لو آج میں آپ کے پاس ایک آخری اور انتہائی فیصلے کیلئے آیا ہوں ، میں بہت سی صورتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو آپ کو پسند ہو قبول کیجئے ۔ للہ اس فتنے کو ختم کر دیجئے ۔ آپ نے فرمایا جو تمہیں کہنا ہو کہو میں سن رہا ہوں اس نے کہا سنو اگر تمہارا ارادہ اس چال سے مال کے جمع کرنے کا ہے تو ہم سب مل کر تمہارے لئے اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم سے بڑھ کر مالدار سارے قریش میں کوئی نہ ہو ۔ اور اگر آپ کا ارادہ اس سے اپنی سرداری کا ہے تو ہم سب مل کر آپ کو اپنا سردار تسلیم کر لیتے ہیں ۔ اور اگر آپ بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم ملک آپ کو سونپ کر خود رعایا بننے کیلئے بھی تیار ہیں ، اور اگر آپ کو کوئی جن وغیرہ کا اثر ہے تو ہم اپنا مال خرچ کرکے بہتر سے بہتر طبیب اور جھاڑ پھونک کرنے والے مہیا کرکے آپ کا علاج کراتے ہیں ۔ ایسا ہو جاتا ہے کہ بعض مرتبہ تابع جن اپنے عامل پر غالب آ جاتا ہے تو اسی طرح اس سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے ۔ اب عتبہ خاموش ہوا تو آپ نے فرمایا اپنی سب بات کہہ چکے؟ کہا ہاں فرمایا اب میری سنو ۔ وہ متوجہ ہو گیا آپ نے بسم اللہ پڑھ کر اس سورت کی تلاوت شرع کی عتبہ با ادب سنتا رہا یہاں تک کہ آپ نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا فرمایا ابو الولید میں کہہ چکا اب تجھے اختیار ہے ۔ عتبہ یہاں سے اٹھا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چلا اس کے چہرے کو دیکھتے ہی ہر ایک کہنے لگا کہ عتبہ کا حال بدل گیا ۔ اس سے پوچھا کہو کیا بات رہی؟ اس نے کہا میں نے تو ایسا کلام سنا ہے جو واللہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنا ۔ واللہ! نہ تو وہ جادو ہے نہ شعر کوئی ہے نہ کاہنوں کا کلام ہے ۔ سنو قریشیو! میری مان لو اور میری اس جچی تلی بات کو قبول کر لو ۔ اسے اس کے خیالات پر چھوڑ دو نہ اس کی مخالفت کرو نہ اتفاق ۔ اس کی مخالفت میں سارا عرب کافی ہے اور جو یہ کہتا ہے اس میں تمام عرب اس کا مخالف ہے وہ اپنی تمام طاقت اس کے مقابلہ میں صرف کر رہا ہے یا تو وہ اس پر غالب آ جائیں گے اگر وہ اس پر غالب آ گئے تو تم سستے چھوٹے یا یہ ان پر غالب آیا تو اس کا ملک تمہارا ہی ملک کہلائے گا اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور سب سے زیادہ اس کے نزدیک مقبول تم ہی ہو گے ۔ یہ سن کر قریشیوں نے کہا ابو الولید قسم اللہ کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ پر جادو کر دیا ۔ اس نے جواب دیا میری اپنی جو رائے تھی آزادی سے کہہ چکا ، اب تمہیں اپنے فعل کا اختیار ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

اس سورت کا دوسرا نام فصّلت ہے اس کی شان نزول کی روایات میں بتلایا گیا ہے کہ ایک مرتبہ سرداران قریش نے باہم مشورہ کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیروکاروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہی ہو رہا ہے ہمیں اس کے سد باب کے لیے ضرور کچھ کرنا چاہیے چناچہ انہوں نے اپنے میں سے سب سے زیادہ بلیغ و فصیخ آدمی عتبہ بن ربیعہ کا انتخاب کیا تاکہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفتگو کرے چناچہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گیا اور آپ پر عربوں میں انتشار و افتراق پیدا کرنے کا الزام عائد کر کے پیشکش کی کہ اس نئی دعوت سے اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقصد مال ودولت کا حصول ہے تو وہ ہم جمع کیے دیتے ہیں قیادت وسیادت منوانا چاہتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہم اپنا لیڈر اور سردار مان لیتے ہیں کسی حسین عورت سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو ایک نہیں ایسی دس عورتوں کا انتظام ہم کردیتے ہیں اور اگر آپ پر آسیب کا اثر ہے جس کے تحت آپ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں تو ہم اپنے خرچ پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علاج کرا دیتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تمام باتیں سن کر اس سورت کی تلاوت اس کے سامنے فرما‏ئی جس سے وہ بڑا متاثر ہوا اس نے واپس جا کر سرداران قریش کو بتلایا کہ وہ جو چیز پیش کرتا ہے وہ جادو اور کہانت ہے نہ شعر و شاعری مطلب اس کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر سرداران قریش کو غور و فکر کی دعوت دینا تھا لیکن وہ غور وفکر کیا کرتے ؟ الٹا عتبہ پر الزام لگا دیا کہ تو بھی اس کے سحر کا اسیر ہوگیا ہے یہ روایات مختلف انداز سے اہل سیر و تفسیر نے بیان کی ہیں امام ابن کثیر اور امام شوکانی نے بھی انہیں نقل کیا ہے امام شوکانی فرماتے ہیں یہ روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قریش کا اجتماع ضرور ہوا انہوں نے عتبہ کو گفتگو کے لیے بھیجا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اس سورت کا ابتدا‏ئی حصہ سنایا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] سرداران قریش دعوت اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے کئی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے تھے۔ انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کسی طرح رسول اللہ ور مشرکین مکہ میں بالفاظ دیگر حق و باطل میں سمجھوتہ ہوجائے۔ ایک دن رسول اللہ حرم کے ایک گوشہ میں اور چند سرداران قریش دوسرے گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ ایک معزز قریشی سردار، نہایت بہادر اور فطرتاً نیک دل انسان تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ میں && محمد پر کچھ باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے وہ ان میں سے ایک نہ ایک ضرور مان لے گا اور اگر اس نے قبول کرلی تو ہم اس مصیبت سے نجات حاصل کرسکیں گے۔ && اس کے ساتھیوں نے کہا : ابو الولید ! آپ ضرور یہ کام کیجئے۔ چناچہ عتبہ وہاں سے اٹھ کر رسول اللہ کے پاس آ بیٹھا اور کہنے لگا : بھتیجے ! ہماری قوم میں جو تفرقہ پڑچکا ہے اسے آپ جانتے ہیں۔ اب میں چند باتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو بھی چاہو پسند کرلو۔ مکہ کی ریاست چاہتے ہو یا کسی بڑے گھرانے میں شادی یا مال و دولت ؟ اور اگر آپ کے پاس کوئی جن بھوت آتا ہے تو اس کے علاج کی بھی ذمہ داری ہم قبول کرتے ہیں۔ ہم یہ سب کچھ مہیا کرسکتے ہیں اور اس پر بھی راضی ہیں کہ مکہ تمہارا زیر فرمان ہو مگر تم ان باتوں سے باز آجاؤ && خ عتبہ بن ربیعہ کی آپ کو پیش کش اور آپ کا جواب (حق وباطل میں سمجھوتہ کی کوشش) :۔ رسول اللہ عتبہ کی باتیں خاموشی سے سنتے رہے۔ جب عتبہ خاموش ہوگیا۔ تو آپ نے عتبہ سے کہا کہ جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے۔ اب میرا جواب سن لو۔ پھر آپ نے ان سب باتوں کے جواب میں اسی سورة کی چند ابتدائی آیات پڑھیں۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے (فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ 13۝ۭ ) 41 ۔ فصلت :13) تو عتبہ کے آنسو بہنے لگے اور آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اسے یہ خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ کہیں ایسا عذاب اسی وقت نہ آن پڑے۔ پھر وہ چپ چاپ وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔ مگر اب وہ پہلا عتبہ نہ رہا تھا۔ جاکر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا : && محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کلام پیش کرتا ہے وہ شاعری نہیں کچھ اور ہی چیز ہے۔ تم اسے اسکے حال پر چھوڑ دو ۔ اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس میں تمہاری ہی عزت ہے اور اگر وہ خود ہی ختم ہوگیا تو یہی کچھ تم لوگ چاہتے ہو && اس کے ساتھیوں نے کہا : ابو الولید ! معلوم ہوتا ہے کہ تم پر بھی اس کا جادو چل گیا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٦ ص ١٥٩ تا ١٦١)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

حم : حروف مقطعات کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر حم (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) یہ کلام رحمن اور رحیم کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے یہ (کلام) ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں یعنی ایسا قرآن ہے جو عربی (زبان میں) ہے (تا کہ جو بلا واسطہ اس کے مخاطب ہیں، یعنی عرب لوگ وہ آسانی سے سمجھ لیں اور) ایسے لوگوں کے لئے (نافع) ہے جو دانش مند ہیں (یعنی اگرچہ مکلف اور مخاطب احکام کے سبھی ہیں مگر ان سے نفع وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ قرآن ایسے لوگوں کو) بشارت دینے والا ہے اور (نہ ماننے والوں کے لئے) ڈرانے والا ہے سو (اس کا تقاضا یہ تھا کہ سبھی اس پر ایمان لاتے مگر) اکثر لوگوں نے (اس سے) روگردانی کی پھر وہ سنتے ہی نہیں اور (جب آپ ان کو سناتے ہیں تو) وہ لوگ کہتے ہیں کہ جس بات کی طرف آپ ہم کو بلاتے ہیں ہمارے دل میں اس سے پردوں میں ہیں (یعنی آپ کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی) اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (لگ رہی) ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب ہے سو آپ اپنا کام کئے جائیے۔ ہم اپنا کام کر رہے ہیں (یعنی ہم سے قبول کی امید نہ رکھئے ہم اپنے طریقہ کار کو نہ چھوڑیں گے) آپ فرما دیجئے کہ (تمہیں ایمان پر مجبور کردینا تو میرے بس کی بات نہیں، کیونکہ) میں بھی تم ہی جیسا بشر ہوں (خدا نہیں جو دلوں میں تصرف کرسکوں البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ امتیاز دیا ہے کہ) مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے اور (یہ وحی ایسی ہے کہ ہر شخص غور کرے تو اس کا حق و معقول ہونا اس کی سمجھ میں آسکتا ہے اور جب کہ میری نبوت اور وحی معجزات کے ذریعہ ثابت ہوچکی تو میری بات بہرحال ماننا سب پر فرض ہے، تمہارے قبول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ضرور قبول کرو) اور اس سے معافی مانگو (یعنی پچھلے اعمال شرکیہ سے توبہ کرو، اور اپنی خطاء کی معافی مانگو) اور ایسے مشرکوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو (دلائل نبوت کو دیکھنے اور دلائل توحید کو سننے کے باوجود باطل طریقہ کو نہیں چھوڑتے اور) زکوٰة نہیں دیتے اور وہ آخرت کے منکر ہی رہتے ہیں (ان کے برخلاف) جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کے لئے (آخرت میں) ایسا اجر ہے جو (کبھی) موقوف ہونے والا نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ حٰـمۗ۝ ١ۚتَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ ٢ۚ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

حم۔ یعنی جو امور ہونے والے ہیں ان سب کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے یا یہ کہ یہ ایک قسم ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ { حٰمٓ۔ ” حٰ ‘ مٓ۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٨۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بنا لیا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین مکہ کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکر یہ بھی پیش کریں یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام دنیا کی پیدائش کا اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور ان پڑھ رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھ دار شخص کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آسکتی ہے کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار کوئی پڑھا لکھا آدمی بھی اس طرح کی غیب کبی باتیں بغیر آسمانی مدد کے ہرگز نہیں بتلا سکتا ہے پھر فرمایا اس قرآن کی نصیحت پر عمل کرنے والوں کو عقبیٰ کی بہبودی اور نہ عمل کرنے والوں کو عقبیٰ کی خرابی ‘ اگرچہ اس قرآن میں اچھی طرح جتلادی گئی ہے مگر ان مشرکین مکہ میں سے اکثر لوگ قرآن کی نصیحت کے سننے سے اکڑتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ قرآن کی نصیحت کے سمجھنے سے ہمارے دل گویا ایک غلاف میں ہیں اسی طرح اس نصیحت کے سننے سے ہمارے کان بہرے ہیں اور ہم میں اور تم میں ایک آڑ ہے کہ ہم تم کو نصیحت کرتے ہوئے گویا آنکھوں سے دیکھتے بھی نہیں اس لئے تم اپنے ڈھنگ پر رہو اور ہم اپنے ڈھنگ پر ہیں صحیح بخاری ٣ ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون دوزخ میں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی قرار پائے ہیں ان کی نظروں میں برے کام اچھے معلوم ہوں گے۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھے طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پا چکے تھے وہ مرتے دم تک بری باتوں کو اچھا سمجھتے اور اللہ کے رسول سے ایسی ہی گستاخی کی باتیں کرتے رہے جن باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ ہاں ان میں کے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جنتی ٹھہر چکے تھے وہ فتح کے مکہ تک راہ راست پر آگئے اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں کی باتوں کے جواب میں تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ یہ تم خوب جانتے ہو کہ میں بھی تم جیسا آدمی ہوں اور چالیس برس تک تم لوگوں میں رہا کبھی میں نے تم کو کوئی نصیحت نہیں کی۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھ کو اپنا رسول بنا کر قرآن کے ذریعہ سے یہ حکم دیا ہے کہ خالص اللہ کی عبادت کرنے اور مرتے دم تک اس پر قائم رہنے اور شرک کے زمانہ کے گناہوں کی معافی چاہنے کی تم لوگوں کو نصیحت کروں اور اللہ کا یہ حکم بھی تم کو سنا دوں کہ جو لوگ مرتے دم تک مشرک رہیں گے اور شرک کی گندگی سے اپنے دل کو ستھرا نہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کے منکر ہوں گے ان کے لئے عقبیٰ میں بڑی خرابی ہے اور جو لوگ قرآن کی نصیحت کے موافق عقبیٰ پر یقین لائیں گے اور نیک کاموں میں لگے رہیں گے ان کو ہر ایک نیکی کا دس سے لے کر سات سو تک اور بعض نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ بدلہ دیا جائے گا چناچہ صحیح بخاری ١ ؎ اور مسلم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے حدیث قدسی اس باب میں ایک جگہ گزر چکی ہے یہ حدیث قدسی اور سورة البقر میں آیت گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے نیکی کے اجر میں بیشمار افزائش کا وعدہ فرمایا ہے وہ آیت اجر غیر ممنون کی گویا تفسیر ہے۔ زکوٰۃ کے ادا کرنے سے شریعت کے موافق مال پاک ہوجاتا ہے۔ انہی معنوں کی بنا پر حضرت عبد اللہ بن عباس ٢ ؎ کے صحیح قول کے موافق ان مکی آیتوں میں زکوٰۃ کے معنی یہی ہیں کہ اللہ کی وحدانیت کا آدمی قائل ہوجائے اور شرک کی گندگی سے دل کو ستھرا رکھے حاصل کلام یہ ہے کہ مکی آیتوں میں لفظ زکوٰۃ کی تفسیر فرض زکوٰۃ سے اکثر سلف نے اسی سبب سے نہیں کی کہ ان کے نزدیک ہجرت کے بعد ٨ ہجری میں زکوٰۃ فرض ہوئی ہے اس لئے مکی آیتوں میں ان کے نزدیک فرض زکوٰۃ کا ذکر نہیں آسکتا مسند امام احمد نسائی صحیح ابن خزیمہ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں قیس بن سعد سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ زکوٰۃ کے فرض ہونے سے پہلے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدقہ فطر کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے زکوٰۃ کے فرض ہونے کے بعد پھر آپ نے صدقہ فطر کی تاکید چھوڑ دی۔ یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ ایک راوی ابو عمار غریب بن حمید کوفی کو بعض علما نے جو ضعیف قرار دیا تھا اس کو امام احمد اور ابن معین نے تسلیم نہیں کیا اسی واسطے تقریب میں اس کو ثقہ لکھا ہے جو علما اس بات کے قائل ہیں کہ زکوٰۃ ہجرت کے بعد فرض ہوئی ہے اس حدیث سے ان کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کا حکم رمضان کے روزوں اور صدقہ فطر کے بعد ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ رمضان کے روزے ہجرت کے بعد فرض ہوئے ہیں۔ (٣ ؎ صحیح بخاری باب وکان امرا اللہ قدر امقدورا ص ٩٧٧ ج ٢) (١ ؎ صحیح مسلم باب تجاوز اللہ تعالیٰ عن حدیث النفس الخ ص ٧٨ ج ١ و بخاری شریف کتاب الرقاق باب من ھم بحسنۃ اوسیئۃ ص ٩٦٠ ج ٢) (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٩٢ ج ٤)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:1) حم : حروف مقطعات۔ ان سے کیا مراد ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی بہتر جانتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١ تا ٨ اسرار ومعارف۔ حم سے شروع ہونے والی سات سورتیں ہیں جنہیں اٰل حم یاحوامیم کہا جاتا ہے الگ پہچان کے لیے ان کے ناموں کے ساتھ کچھ الفاظ شامل کرلیے جاتے ہی جیسے حم مومن ، یاحم سجدہ ، یاحم فصلت یہ آخری وہ نام اس سورة مبارکہ کے مشہور ہیں۔ کفار کو اپنے علوم پر ناز تھا اور اس کے مطابق اپناعقیدہ طرز حیات اور نظام ترتیب دے رکھا تھا جس طرح کہ پہلی امتوں میں بھی یہی کچھ پیش آیا جبکہ نبی (علیہ السلام) ایک نیا اور منفرد عقیدہ پیش فرما رہے تھے جس کے مطابق نہ صرف نظر یہ تبدیل کرنا پڑتا تھا بلکہ سارانظام معاشرت سیاست اور عدالت تک از سرنواستوار کرنا پڑتے تھے لہذا وہ اپنے حال پر اڑ گئے اگرچہ جب عذاب نازل ہوئے تو انہیں توبہ کا احساس ہوا مگر وقت گزر چکا تھا گزشتہ قوموں کے ساتھ اہل عرب اور اہل مکہ کاموازنہ فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ تمہارامرض بھی وہی ہے مگر اس کا علاج یہ نعمت ہے جو بہت بڑے مہربان کی مہربانی کا ثمر ہے اور بہت بڑے رحم کرنے والے کی رحمت کا خزانہ ۔ حم کے بعد ارشاد ہے کہ یہ کلام رحمن ورحیم کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے کہ تمہارے انکار اور نافرمانی کے باوجود تم پر کرم فرمارہا ہے اور تمہارے علم کا خزانہ یہ کتاب جس کی ہدایت شک وشبہ سے بالاتر اور ہر بات کو الگ الگ بیان کرتی ہے نیز عربی زبان میں نازل کی گئی ہے کہ اس کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ عرب ہیں اگرچہ نازل ساری انسانیت کے لیے ہوتی ہے تو انہیں سمجھنے اور آسانی ہو اور دوسروں تک پہچانے کی سعادت سے بہر ورہوسکیں مگر یہ اعلم علم کو ہی مفید ہے ۔ علم کی تعریف۔ علم سے مراد جاننا ہے مگر جاننے کے مختلف درجے ہیں اگر جو بات جانی جائے وہ حق نہ ہو تو وہ حقیقی علم نہ ہوگا لہذا محض جاننا نہ ہو بلکہ جو کچھ جاناجائے وہ حق بھی ہو نیزعلم وہ ہے جو بندے کا حال بن جائے اور ایسابندہ حقیقی عالم ہوگ اور نہ محض جاننا تو خبر کے درجہ میں ہے تو جس مفادات کا تحفظ کیا جائے اور اصولا یہ خبر ہی غلط تھی کہ حصول رزق میں دوسروں کا حق مارنے یاحصول اقتدار کے ناجائز ذرائع اختیار کرتے تھے تو ان علوم کے ساتھ جن پر ان کو فخر تھا نہیں جاہل قرار دیا اور فرمایا کہ اگرچہ قرآن تمہاری مادری یعنی عربی زبان میں ہے مگر فائدہ وہی حاصل کرسکیں گے جو اہل علم یعنی حقیقی علم رکھنے والے یا اس کے متلاشی ہوں گے یہ کتاب محض راستے نہیں بتاتی یہ تو ایسی حقیقت بیان کرتی ہے کہ نتائج تک ارشاد فرمادیتی ہے عمل کرنے والے کو کامیابی کی نوید سناتی ہے اور انکار کے انجام بد کی خبر دیتی ہے مگر کفار کی اکثریت اس سے روگردانی اختیار کیے ہوئے ہے گویا انہیں یہ بات سنائی ہی نہیں دیتی بلکہ وہ کہتے ہیں کہ کہ ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں بلکہ ہمارے اور آپ کے درمیان گویا بہت بڑا پردہ ہے کہ جس طرح آپ دعوت دیتے ہیں وہ الگ دنیا ہے اور جہاں ہم رہتے ہیں وہ الگ۔ لہذا آپ اپنا کام کیجئے ہم اپنا کیے جا رہے ہیں۔ ارشاد ہوا ان سے کہیے کہ تمہاری طرح کا انسان ہوں کوئی فرشتہ نہیں کہ میری اور تمہاری ضرورتیں الگ الگ ہوں وہی سردی کرمی ، بھوک پیاس ، یا جان ومال کی ضروریات میری ہیں جو تمہاری ہیں بات یہ ہے کہ مجھے اللہ نے وحی سے یعنی اپنے کلام سے سرفراز فرمایا ہے اور تمہارے لیے پیغام دیا ہے کہ اپنی پسند سے اللہ کی کائنات میں جیناچھوڑ دو اپنی پسند کے نظام اور طریقے مسلط نہ کرو کہ یہ باطل ہیں اللہ کی عظمت یعنی اس کی توحید اور اس کی الوہیت کا اقرار کرو جس کی دلیل یہ ہے کہ عملا راست بازی اختیاری کرو اور بالکل سیدھے ہوجاؤ نیز آج تک جو کچھ کرتے رہے ہو یا آئندہ جو کوتاہی سرزد ہو اس کے لیے معافی طلب کرو مگر وائے ہے مشرکین پر یعنی کس قدر بدقسمت ہیں کہ وہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے یعنی مادی فوائد کو چھوڑ نہیں سکتے لہذا آخرت ہی کا انتظار کیے بیٹھے ہیں۔ کیاغیر مسلم فرع احکام کا مکلف ہے ؟ جیسے یہاں ارشاد ہے لایوتون الزکوۃ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا غیرمسلم زکوۃ یا عبادات کا مکلف ہے تو علماء کا ایک طبقہ اس کا قائل ہے مگر دوسرا طبقہ جس کی رائے میں ایمان قبول کرنے کے احکام کا مکلف ہوگا کے لیے یہ سوال ہے کہ پھر یہاں لایوتون الزکوۃ کیوں فرمایا گیا تو ان کے نزدیک مراد کفر کا سبب بیان کرنا ہے ۔ اسلامی معیشت اور کافرانہ نظام۔ کہ اسلامی معاشی نظام کی بنیاد دوسروں کے حقوق نہ مارنا اور دوسروں کی مدد کرنے پر استوار ہے مسلمان اپنی زندگی دوسروں کے لیے جیتا ہے اور دینی فکر علمی اور مالی اعتبار سے ان کی مدد کرتا ہے ان سب میں مشکل مال کا ایثار ہے اگر اس کی محبت میں گرفتار ہو اور دوسروں سے چھیننے کا خواہش مند ہو تو پہلی باتوں سے بھی انکار کردیتا ہے یعنی مال کی محبت ان کے کفر پر قائم رہنے کا سبب بن رہی ہے یہی بات آج کے مسلمان کو عملی اسلام سے دور لے جارہی ہے کہ دعوی اسلام کے ساتھ اپنے نظام کو اسلامی نہیں کرنا چاہتا کہ وہاں کچھ دینا پڑتا ہے اور غیر اسلامی نظام میں دوسروں کا حق چھیناجاتا ہے۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ جن لوگوں نے اس کتاب کو مان لیا جنہیں ایمان نصیب ہوگیا اور انہوں نے اپنا طرز عمل اس کے مطابق درست کرلیا ان کو ایسے انعامات سے نوازاجائے گا جو کبھی منقطع نہ ہوں گے کہ جنت کی نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں اور یہ بھی فرمایا گیا کہ باعمل مسلمان اگر بیماری یامجبوری کی وجہ سے عمل نہ بھی کرسکے تو بھی اس کے نامہ اعمال میں ایسے ہی اعمال لکھے جاتے ہیں جیسے وہ معذوری سے پہلے کیا کرتا تھا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 : فصلت ( کھول دی گئی) اعرض (منہ پھیر لے) اکنۃ ( کنان) ( پردے) وقر (بوجھ ، گرانی ، ڈاٹ) حجاب (پردہ) استقیموا (سیدھے رہو) غیر ممنون (نہ ختم ہونے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 8 :۔ اس سورت کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس سے پہلے یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ سورة مومن اور سورة احقاف تک سات سورتیں ” حم “ سے شروع کی گئی ہیں جن کے بہت سے فضائل ہیں جس کی کچھ تفصیل آپ نے سورة مومن میں بھی پڑھ لی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی ایک صداقت و حقانیت یہ ہے کہ یہ نہایت رحم و کرم کرنے والے اللہ کی طرف سے نازل کیا ہوا قرآن ہے جس کی آیتیں بالکل واضح اور صاف صاف بیان کی گئی ہیں ۔ چونکہ عربی زبان میں ہیں اس لئے ان آیات کے مخاطب اول اہل مکہ کو ان آیات کے سمجھنے میں کوئی دشواری بھی نہیں ہے لیکن اگر ان آیات پر دھیان نہ دیا جائے تو مشکل نظر آتی ہے۔ ہر وہ شخص جس میں ذرا بھی علم و دانش یا عقل و فہم ہے وہ ذرا سی توجہ سے ان کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور اس کے لئے نہ سمجھنے کا کوئی عذر باقی نہیں رہتا ۔ فرمایا کہ اس قرآن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ جہاں جنت اور بہترین اعمال کے عمدہ نتائج کے لئے خوش خبری دیتا ہے وہیں لوگوں کو جہنم کی بھڑکتی آگ اور برے انجام سے بھی ڈرتا ہے لیکن اکثر لوگ وہ ہیں جو اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ قرآن کریم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ہمیں جس طرف دعوت دے رہے ہیں وہ باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔ ہمارے کانوں اور مزاجوں پر گراں گزرتی ہیں ایسا لگتا ہے کہ آپ کے درمیان اور ہمارے درمیان ایک پردہ اور رکاوٹ ہے نہ تو آپ ہماری بات سمجھتے ہیں اور نہ ہم آپ کی لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آپ اپنا کام کئے جایئے اور ہمیں اپنے کام میں لگا رہنے دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے کہ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم ہی جیسا بشر ہوں میری طرف اس بات کی وحی کی گئی ہے کہ تمہارا اور ہمارا معبود ایک ہی ہے تمہاری ساری توجہ ، عبادت اور دعا صرف اللہ کی ذات کے لئے ہونی چاہیے جس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہیے کیونکہ اگر تم کفر و شرک پر قائم رہے تو اس کا انجام نہایت بھیانک ہے۔ کیونکہ مشرکین نہ تو کسی بھلے اور نیک کام میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور نہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں بلکہ ہر سچائی کا انکار کرتے ہیں ۔ یہی چیز ان کو بربادی کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس کے بر خلاف جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے ان کو اتنا عظیم اجر اور بدلہ دیا جائے گا جو ہمیشہ ان کے کام آئے گا اور اس کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن سورۃ المومن کا خاتمہ اس بات پر ہوا تھا کہ باطل پر اصرار کرنے والے بالآخر نقصان اٹھائیں گے۔ سورة حٰمٓ سجدہ کا آغاز اس بات سے ہورہا ہے کہ اگر دنیا اور آخرت کے نقصان سے بچنا چاہتے ہو تو رب رحمٰن کی اتاری ہوئی کتاب پر پوری طرح ایمان لاؤ۔ لیکن اکثر لوگ اعراض ہی کیا کرتے ہیں۔ حم ٓ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن مجید کا فہم رکھنے والا جانتا ہے کہ ان کا معنٰی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں۔ سورة حٰمٓ سجدہ کا آغاز لفظ ” تَنْزِیْلٌ“ کے بعد ” اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ کی صفات سے ہورہا ہے۔ جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ بیشک تم انکار کرو لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس قرآن میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے بنایا اور شامل کیا ہو۔ قرآن سارے کا سارا اسی ذات اقدس نے نازل فرمایا ہے۔ جس کی شفقت اور مہربانی کی کوئی انتہا نہیں۔ لوگوں کی مکمل راہنمائی اور سہولت کی خاطر اس کی آیات اپنا مفہوم خود واضح کرتی ہیں۔ یہ عربی زبان میں ہے۔ اس سے وہی لوگ راہنمائی حاصل کریں گے جو صحیح دانست سے کام لیں گے۔ یہاں قرآن مجید کی تین صفات کو کھلے الفاظ میں اور ایک وصف کا اشارتاً ذکر کیا گیا ہے۔ 1 قرآن کے نزول میں کسی بندے یا پوری مخلوق میں سے کسی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ 2 اس کی آیات اپنا مدّعا کھول کر بیان کرتی ہیں۔ جس میں حق اور باطل، کھرے اور کھوٹے، نیک اور بد، نفع اور نقصان کے درمیان فرق واضح کردیا گیا ہے۔ 3 قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جو دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ پُر تاثیر اور جامع زبان ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ اس کی تین وجوہات ہیں۔ 1 قرآن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا ہے آپ اپنے اخلاق، کردار اور صلاحیتوں کے اعتبار سے پوری دنیا میں منفرد انسان تھے۔ جیسا نہ کوئی انسان تھا اور نہ ہوگا۔ 2 نزول قرآن کے وقت عربی تمام زبانوں میں فصیح زبان تھی اور اب بھی ہے اور انشاء اللہ قیامت تک رہے گی۔ 3 قرآن مجید کسی اور زبان میں نازل ہوتا تو اعتراض کرنے والے پھر اس زبان پر اعتراض کرتے کیونکہ آپ عربی تھے اس لیے قرآن عربی زبان میں ہے اور ہونا چاہیے تھا۔ 4 قرآن کسی فرشتے، جن اور بندے کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا۔ یہ رب رحمن اور الرحیم نے نازل فرمایا ہے۔ جس میں کھلا اشارہ ہے کہ اگر اپنے رب کی شفقت اور مہربانی چاہتے ہو تو اس کی شفقت و مہربانی قرآن کی تعلیم اور اس پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔ بالفاظ دیگر یہ قرآن تمہارے رب کی رحمت کا سرچشمہ ہے۔ قرآن کا لفظ تین معانی کے لیے استعمال کیا گیا ہے : 1 ۔ ایسی کتاب جو بار بار پڑھی جائے کیونکہ قرآن کی تلاوت بار بار اور کثرت کے ساتھ کی جاتی ہے اس لیے اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا نام دیا ہے۔ 2 ۔ جو حوض پانی سے لبالب بھرا ہوا ہو عرب اسے ” قرات الحوض “ کہتے ہیں، اسی سے ہی قرآن کا لفظ لیا گیا ہے۔ یعنی وہ کتاب جو علم معرفت سے لبالب ہے۔ 3 ۔ قرن کا معنی ملانا ہے، قرآن مجید کے الفاظ اور مضامین آپس میں ملے اور جڑے ہوئے ہیں اس لیے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے ہی قرآن مجید نازل فرمایا ہے۔ ٢۔ قرآن مجید پیکر رحمت ہے۔ ٣۔ قرآن مجید کی آیات بہت ہی واضح ہیں ٤۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک : ١۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : ٢) ٢۔ قرآن مجید رحمت اور ہدایت کی کتاب ہے۔ (لقمان : ٣) ٣۔ قرآن مجیدلوگوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کی کتاب ہے۔ (البقرۃ : ١٨٥) ٤۔ قرآن مجید بابرکت اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ (الانعام : ٩٢) ٥۔ قرآن مجید میں ہدایت واضح کردی گئی ہے۔ (النحل : ٨٩) ٦۔ قرآن مجید روشن اور بین کتاب ہے۔ (المائدۃ : ١٥) ٧۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ (یوسف : ٣) ٨۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ (الشعراء : ١٩٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار یاد دلاتا ہے ، وہ خالق قلب اور مصرف القلوب ہے۔ حٰم ۔۔۔۔ الرحیم (41: 1 تا 2) ” یہ حدائے رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے “۔ حم گویا سورت کا نام یا جنس قرآن جو انہی حروف سے بنایا گیا ہے۔ حم مبتداء ہے اور تنزیل خبر ہے یعنی یہ ہیں حم (جن سے قرآن بنا ہے جو ) رحمٰن ورحیم کی طرف سے نازل ہورہا ہے۔ نزول کتاب کے وقت رحمن ورحیم کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اس تنزیل کی صفات عالیہ رحمت الہیہ ہے۔ اور یہ کتاب اور حاصل کتاب بطور رحمت اللعالمین آئے۔ یہ صرف ان لوگوں پر رحمت نہیں ہے جو ایمان لائیں اور اس کی اطاعت کریں۔ بلکہ غیروں کے لیے بھی رحمت ہے صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام زندہ لوگوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ اس کتاب نے ایک ایسا منہاج حیات دنیا کو دیا جس کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ اس کو تصورات دیئے ، اس کو علم دیا اور عرض اس قرآن نے انسانیت کے آگے بڑھنے کی سمت ہی بدل کر رکھ دی۔ قرآن کے رحیمانہ اثرات صرف اہل ایمان تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات عالمی تھے اور اس وقت سے آج تک یہ اثرات جاری ہیں۔ جو لوگ انسانی تاریخ کا مطالعہ انصاف سے کرتے ہیں اور اس کا عام انسانی زاویہ سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مطالعہ میں انسانی سرگرمیوں کا پوری طرح احاطہ کرتے ہیں وہ اس حقیقت کو پاتے ہیں اور نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس نکتے پر مطمئن بھی ہوتے ہیں کہ قرآن رحمت اللعالمین ہے ، بعض منصف مزاج لوگوں نے اس بات کا اعتراف کرکے اس کو ریکارڈ کرادیا ہے۔ کتٰب۔۔۔ یعلمون (41: 3) ” ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی اغراض ومقاصد کے لحاظ سے ، لوگون کی طبیعت کے مطابق ، معاشروں اور زمانوں کے مطابق ، لوگوں کی نفسیات اور انکی ضروریات کے مطابق اس کی آیات کو نہایت پختہ انداز میں مفصل بنایا گیا ہے۔ اور یہ اس کتاب کی امتیازی خصوصیت ہے اس زاویہ سے یہ کتاب مفصل اور محکم ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے یہ کتاب مفصل ہے۔ پھر عربی زبان میں ہے۔ لقوم یعلمون (41: 3) ” ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں “۔ یعنی جن کے پاس علمی استعداد ہے وہ سمجھ سکتے ہیں اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ اس قرآن کے نزول کا بڑا مقصد بشارت اور ڈراوا ہے۔ بشیراونذیرا (41: 4) ” بشارت دینے والا اور ڈرانے والا “۔ یہ قرآن مومنین کو بشارت دیتا ہے اور مکذبین اور بدکاروں کو ڈراتا ہے اور پھر خوشخبری اور ڈراوے کے اسباب بھی بتاتا ہے۔ یہ اسباب وہ عربی مبین میں بتاتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے پیش ہورہا ہے جو عرب ہیں لیکن ان کی اکثریت اسے قبول نہیں کررہی ہے۔ فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون (41: 4) ” مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “۔ اور یہ لوگ روگردانی اس لیے کرتے تھے اور نہ سنتے تھے اور اپنے دلوں کو روگردانی کرکے قرآن سننے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ قرآن غضب کی تاثیر رکھتا ہے اس لیے جو جمہور عوام کو بھی اس بات پر ابھارتے تھے کہ نہ سنو جس طرح عنقریب اس کی تفصیلات آئیں گی۔ وقالوالا۔۔۔۔۔ تغلبون (41: 26) ” منکرین حق کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ “۔ بعض اوقات وہ سنتے تھے لیکن اس طرح جیسے کہ نہ سنتے ہوں ، اس لیے قرآن کے ان پر جو اثرات پڑتے تھے ، ہٹ دگرمی کی وجہ سے ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ گویا وہ بہرے ہیں ، سنتے ہی نہیں۔ وقالوا قلوبنا۔۔۔۔ عملون (41: 5) ” کہتے ہیں : جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں میں غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ، تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جارہے ہیں “ یہ بات وہ گہری ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مایوس کرنے کے لیے کہتے تھے تاکہ آپ دعوت دینا بند کردیں کیونکہ وہ آپ کی دعوت کا اثر خود اپنے دلوں میں پاتے تھے اور وہ بالا راوہ اس موقف پر جمے ہوئے تھے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں ڈھنپے ہوئے ہیں ، تمہاری بات تو ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں ۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں ، لہٰذا تمہاری بات ہم تک پہنچتی ہی نہیں۔ تمہارے اور ہمارے درمیان پردے حائل ہیں ، اس لیے رابطے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم کیا کرتے ہو ، کیا کہتے ہو ، کس سے ڈارتے ہو ، کس کا وعدہ کرتے ہو ، ہم اپنی راہ پر چلنے والے ہیں۔ تم چاہو تو اپنی راہ پر چلو ، تمہاری جو مرضی ہے ، کرو۔ ہم نے سن کر نہیں دینا۔ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے ہی آؤ۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ تھے وہ حالات و مشکلات جن سے داعی اول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوچار تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ دعوت دیتے جاتے تھے۔ کبھی رکے نہیں تھے۔ ان مایوس کن حالات سے کبھی آپ متاثر نہیں ہوئے ، کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا عرصہ ہوگیا ، اللہ کا وعدہ سچا نہیں ہوا اور نہ دشمنوں پر عذاب آیا۔ آپ یہی کہتے کہ اللہ کے وعدے کا پورا ہونا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو ایک بشر ہوں۔ اللہ کا پیغام میرے پاس آتا ہے اور میں تبلیغ کرتا ہوں ، لوگوں کو اللہ واحد کی طرف بلاتا ہوں اور جو مان لیں ، ان سے کہتا ہوں کہ اسی راستے پر جم جاؤ، اور مشرکین کو انجام بد سے ڈراتا ہوں اس کے بعد کے مراحل میرے اختیار میں نہیں۔ میں تو ایک بشر اور مامور ہوں۔ قل انمآ۔۔۔۔۔ وویل المشرکین (41: 6) ” اے نبی ؐ، ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہار خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے “۔ کس قدر عظیم صفر ہے ! کس قدر برداشت ہے ! کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم ورضا ہے ! لیکن ایسی صورت حال کو صرف وہی داعی سمجھ سکتا ہے ، ایسے حالات پر وہی صبر کرسکتا ہے ، اس قسم کے حالات میں سرف وہی ماحول سے لاپرواہ ہوکر دعوت دیتے آگے بڑھ سکتا ہے اور اعراض ، تکذیب ، تکبر اور توہین آمیز سلوک کو برداشت کرسکتا ہے جو ایسے حالات سے دوچار ہوگیا ہو ، جس نے تجربہ کرلیا ہو کہ جلد بازی نہیں کرنی ، جس نے روگردانی کرنے والوں ، متکبرین اور سرکشوں کی مدافعت کی ہو ، جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کی ہو ، اور جس نے دعوت کی راہ میں مشقت برداشت کرنے کا حوصلہ پایا ہو اور پھر ان مشکلات کے باوجود وہ ڈٹ گیا ہو۔ ایسے ہی مقامات کی وجہ سے انبیاء ورسل کو باربار ہدایت کی گئی ہے کہ صبر کریں ، کیونکہ دعوت کی راہ صبر کی راہ ہے۔ طویل صبر ، اور صبر کی آزمائش سب سے پہلے اس خواہش میں ہوتی ہے ، جو بہت شدید ہوتی ہے کہ دعوت جلدی کامیاب ہوجائے۔ نصرت جلدی آجائے ، نصرت کے نشانات بھی نہ ہوں لیکن داعی صبر ، استقامت اور تسلیم ورضا سے کام کیے جارہا ہو۔ اور ان مشکلات ، روگردانیوں اور کبر و لاپرواہی کے جواب میں رسول اللہ صرف یہ کہتے ہیں۔ وویل للمشرکین۔۔۔۔۔ ھم کٰفرون (41: 6 تا 7) ” تباہی ہے ان مشرکون کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں “۔ اس مقام پر زکوٰۃ کے ذکر کی کوئی مناسبت ہوگی ، کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں آیا ، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ سن دوہجری میں مدینہ میں فرض ہوئی۔ اگرچہ اصولا مکہ مکرمہ میں بھی معروف تھی۔ مدینہ میں فرضیت کے ساتھ نصاب بھی مقرر ہوگیا ۔ اور اسے معین فرض وصول کیا جانے لگا۔ مکہ میں یہ ایک عام کام تھا۔ لوگ رضا کارانہ طور پر زکوٰۃ دیتے تھے۔ اس کی کوئی حد نہ تھی اور ادائیگی دینے والے کے ضمیر پر چھوڑدی گئی تھی۔ کفر بالاخرۃ تو وہی کفر ہے جس کے نتیجے میں انسان دائمی تباہی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں زکوٰۃ سے مراد ایمان لانا اور شرک سے پاک ہونا لیا ہے۔ یہ مفہوم بھی رد نہیں کیا جاسکتا ، ایسے حالات میں اس کا احتمال ضرور ہے۔ اب داعی حق ان کو یہ بتانے کے لیے کہ کفر وشرک کا ارتکاب کرکے وہ کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اس کائنات کی سیر کراتے ہیں کہ ذرا تم زمین و آسمانوں پر مشتمل اس عظیم کائنات پر غور تو کرو ، کہ تم اس کے مقابلے میں کس قدر چھوٹے ہو ، کس قدر کمزور ہو ، یہ سیر اس لیے کرائی جاتی ہے کہ ذرا وہ اللہ کی بادشاہت کو بھی دیکھ لیں جس کا وہ انکار کرتے ہیں کیونکہ انسان بھی فطرت کائنات کا ایک نہایت ہی حقیر جزء ہے اور تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ اس دعوت کی طرف تم نہایت ہی تنگ زاویہ نظر سے دیکھ رہے ہو ، تم صرف یہ دیکھ سکتے ہو کہ ہمچو مادیگرے نیست۔ تم تو صرف اپنے آپ کو اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو دیکھتے ہو اور تم یہ سوچتے ہو کہ محمد ابن عبداللہ کو اگر مان لیا تو وہ بلند مقام پر فائز ہوجائے گا۔ تمہیں تو یہ تنگ نظری اس عظیم حقیقت کے دیکھنے سے روکے ہوئے ہے جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے ہیں ، جس کی تفصیلات قرآن کریم میں درج ہیں۔ یہ حقیقت جس کا تعلق آسمانوں ، زمین ، انسان ، پوری انسانی تاریخ اور اس عظیم سچائی کے ساتھ ہے جو زمان ومکان سے وراء ہے۔ اور جسے اس کائنات کے نقشے میں رکھا گیا ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) حٰم ٓ