Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 18

سورة حم السجدہ

وَ نَجَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸﴾٪  16

And We saved those who believed and used to fear Allah .

اور ( ہاں ) ایمان دار اور پارساؤں کو ہم نے ( بال بال ) بچا لیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And We saved those who believed and had Taqwa. means, `We saved them from among them, and no harm came to them;' Allah saved them along with His Prophet Salih, peace be upon him, because of their fear of Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] یعنی سیدنا صالح کو عذاب نازل ہونے سے پہلے ہجرت کا حکم دے دیا گیا تھا۔ چناچہ آپ ایمانداروں کے ہمراہ جن کی تعداد ایک سو بیس کے لگ بھگ تھی، بحکم الٰہی ہجرت کرکے فلسطین کی طرف چلے گئے اور رملہ کے قریب جاکر آباد ہوئے۔ اسی مقام پر سیدنا صالح نے وفات پائی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ونجینا الذین امنوا …: یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب قدرت ہے کہ اتنے شدید عذاب : زلزلے، خوف ناک چیخ اور بجلیاں چمکنے اور گرن کے باوجود کسی مسلمان کا بال تک بیکا نہیں ہوا، وہ سب اللہ کے فضل سے صحیح سلامت رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَنَجَّيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ۝ ١٨ۧ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] ولجعل التَّقْوَى منازل قال : وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] ، واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ [ النور/ 52] ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحامَ [ النساء/ 1] ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] . و تخصیص کلّ واحد من هذه الألفاظ له ما بعد هذا الکتاب . ويقال : اتَّقَى فلانٌ بکذا : إذا جعله وِقَايَةً لنفسه، وقوله : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] تنبيه علی شدّة ما ينالهم، وأنّ أجدر شيء يَتَّقُونَ به من العذاب يوم القیامة هو وجوههم، فصار ذلک کقوله : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] ، يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] . التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بولکر سبب مراد لیا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں نفس کو ہر اس چیز سے بچا نیکا نام تقوی ہے جو گناہوں کا موجب ہو ۔ اور یہ بات محظو رات شرعیہ کے ترک کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے مگر اس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بعض مباحات کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ۔ ( 149 ) الحلال بین واحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ کہ حلال بھی بین ہے اور حرام بھی بین ہے اور جو شخص چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے ( یعنی مشتبہ چیزیں اگرچہ درجہ اباحت میں ہوتی ہیں لیکن ورع کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بھی چھوڑ دایا جائے ) قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا[ النحل/ 128] کچھ شک نہیں کہ جو پرہیز گار ہیں اللہ ان کا مدد گار ہے ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ بناکر بہشت کی طرف لے جائیں گے ۔ پھر تقویٰ کے چونکہ بہت سے مدارج ہیں اس لئے آیات وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے ۔ واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ اور اس سے ڈرے گا ۔ اور خدا سے جس کا نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو ۔ اور قطع مودت ارجام سے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ میں ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اور بعد بیان ہوگی ۔ اتقٰی فلان بکذا کے معنی کسی چیز کے ذریعہ بچاؤ حاصل کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہوا ۔ میں اس عذاب شدید پر تنبیہ کی ہے جو قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا اور یہ کہ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعہ وہ و عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ ان کے چہرے ہی ہوں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی ۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسٹیے جائیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨ { وَنَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ } ” اور ہم نے نجات دے دی ان کو جو (ان میں سے) ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22 For the details of the story of Thamud see AI-A'raf: 73-79; Hud: 61.68; AI-ZHjr: 80-84; Bani Isra'il: 59; Ash-Shua`ara' :141.159; An-Naml: 45-53 and the E.N.'s.

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :22 ثمود کے قصے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف ، حواشی ۵۷ تا ۵۹ ، ہود ، حواشی ، ٦۹ تا ۷٤ ، الحجر ، حواشی ٤۲ تا ٤٦ ، بنی اسرائیل ، حاشی ٦۸ ، جلد سوم ، الشعراء ، حواشی ۹۵ تا ۱۰٦ ، النمل ، حواشی ۵۸ تا ٦٦

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:18) وکانوا یتقون۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اور کانوا یتقون ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب ، اور وہ ہم سے ڈرتے رہتے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١٨ تا ٢٥۔ اسرار ومعارف ۔ اور باوجود اس قدرتباہی اور بربادی کے ہم نے ان لوگوں کو محفوظ رکھا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا تھا یعنی خلوص دل سے اطاعت کی راہ اپنائی تھی یہ تو دنیا کا معاملہ تھا بات تو اس روز ہوگی جب دشمنان خدا جہنم میں جھونکنے کے لیے اکٹھاکرکے میدان حشر میں لائے جائیں گے جہاں یہ اپنے کردار کے بعض گھناؤ نے پہلوں سے انکار کریں گے کہ ہم نے ایسا نہ تو کیا تھا۔ اعضاء کی گواہی۔ توقدرت باری سے ان کے بدن کے اعضا بول اٹھیں گے اور جو کچھ فرشتوں نے اعمال نامے میں لکھ رکھا ہوگا اس کی تصدیق کریں گے یہ قدرت الٰہی ہے کہ اعضاء کی بات خود کافر تک سن رہا ہوگا اور اس سے سوال و جواب کرے گا یہ کمال کافر کے لیے میدان حشر میں مفید تو نہ ہوگا مگر اس بات پر دلیل ہے کہ نور ایمان مومن کامل دنیا میں یہ کمال حاصل کرسکتا ہے اور جمادات ونباتات یا اعضاء بدن سے بات کرنا ممکن ہے گواہی دینے والوں میں نہ صرف ہاتھ پاؤں بلکہ کان ، آنکھیں اور بدن کی کھال تک شامل ہوں گے اور سب حال کھول کر بیان کردیں گے تب کافران سے کہیں گے کہ تم ہمارے خلاف گواہی کس لیے دے رہے ہو حالانکہ یہ سب تمہاری ہی خاطر تو کیا گیا ہے اور پھر سزا سے تم کون سے بچ جاؤ گے تو ان کے اعضاء انہیں جواب دیں گے ہمیں اس قادر مطلق نے گواہی دینے کے لیے قوت گویائی بخشی ہے جس نے ہر بات کرنے والے کو بات کرنے کی طاقت عطا کی لہذا کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم گواہی نہ دیں اور خود تمہیں بھی تو پہلی زندگی اسی نے دی تھی اور اب بھی زندہ کرکے اس کی بارگاہ میں لائے گئے ہو دنیا میں تمہیں عظمت الٰہی کا احساس نہ تھا اور اپنے کفر کے باعث تم جانتے تھے کہ اللہ کو بھلا ہمارے کاموں کی خبر ہوسکے گی مگر اپنے اعضا وجوارح اور کان آنکھ کھال وغیرہ سے خود کو چھپانا تو تمہارے بس میں نہ تھا اور حضور الٰہی سے بےشعوری اور اپنے پروردگار کے بارے جو ہر آن تمہاری ہر ضرورت پوری کررہا ہے یہ گمان کہ اللہ ہمارے پاس موجود نہین تمہاری تباہی کا باعث بن گیا۔ حضور حق کا شعور ہی تصوف ہے۔ اور آج تم اس عظم خسارے میں پڑے ہوئے ہو ایمان کے بعد ذکر اور توجہ شیخ سے دل کو روشن کرکے یہ احساس و شعور حاصل کرنا کہ میرا رب ہر حال میں میرے ساتھ ہے تاکہ اعمال میں راستی پیدا ہویہی تصوف ہے۔ اب دار آخڑت میں اور میدان حشر میں پہنچ کر اس سب حال پہ صبر کریں تو بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ جہنم ہی ان کاٹھکانہ ہوگا اور اگر عذر معذرت کریں تے تو بھی کچھ حاصل نہ ہوگا کہ دارآخڑت دار جزا ہے عمل کی جگہ نہیں کہ کسی عمل پر اجرمرتب ہو اور یہ تو دنیا میں بھی اس قدر بدکار تھے شیاطین کا تسلط۔ ان کے گناہوں کے نتیجے میں ہم نے ان پر شیاطین جن اور انسان مسلط کردیے اور وہ شیاطین انہیں ان کے گمان ان کی برائیاں بھی بھلی کرکے دکھاتے تھے اور ان کے نتائج بھی خوبصورت کرکے دکھاتے تھے اور اللہ کا یہ فیصلہ کہ برائی کرنے والوں کو ایسی سزا دی جائے گی ان پر بھی لاگو ہوگیا جیسے ان سے پہلے گزرنے والے انسانوں اور جنوں کے حقو میں ہو اور یہ حقیقی خسارے میں رہے جنوں پر بھی شیاطین مسلط ہوتے ہیں۔ یہاں واضح ہوگیا کہ برائی کے نتیجے میں جس طرح انسانوں کو گمراہ کرنے والے اور جن مسلط کیے جاتے ہیں اسی طرح جنوں کو بھی برائی کے نتیجے میں شیطان اور بدکار جن دوستوں کی صورت نصیت ہوتے ہیں جو ان کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یہاں تک عذاب دنیوی کا ذکر تھا اور آگے عذاب آخرت کا ذکر ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَنَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ) (اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور ڈرتے تھے) یعنی اللہ تعالیٰ کا خوف کھاتے تھے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

19:۔ ” ونجینا الذی امنوا۔ الایۃ “ یہ ایمان والوں کے لیے بشارت دنیوی ہے۔ قوم عاد وثمود میں سے جو لوگ اللہ کی توحید پر ایمان لائے اور انبیاء (علیہم السلام) کی رہنمائی میں نیک عمل کیے اللہ نے انہیں دنیا کے رسوا کن عذاب سے بچا لیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) اور جو لوگ ایمان لائے اور بچ کر چلے یعنی تقویٰ اور پرہیزگاری کے پابند رہے ان کو ہم نے بچا لیا۔ یعنی اہل ایمان اور تقویٰ شعارحضرات اس عذاب ہون سے محفوظ رہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عاد کا غرور توڑنے کی کمزوری مخلوق سے ان کو تباہ کروایا دلو کی مہینے میں آخر کے آٹھ دن تھے جن میں وہ بائو چلی۔ اور ثمود کے لئے فرماتے ہیں زلزلہ آیا ساتھ ایک آواز تند کے اس آواز سے جگر پھٹ گئے۔