Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 23

سورة حم السجدہ

وَ ذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ اَرۡدٰىکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾

And that was your assumption which you assumed about your Lord. It has brought you to ruin, and you have become among the losers."

تمہاری اس بد گمانی نے جو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالآخر تم زیاں کاروں میں ہوگئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنتُم بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ ... but you thought that Allah knew not much of what you were doing. And that thought of yours which you thought about your Lord, has brought you to destruction; meaning, `this evil thought, i.e., your belief that Allah did not know much of what you were doing, is what has caused you to be doomed and has made your losers before your Lord.' ... فَأَصْبَحْتُم مِّنْ الْخَاسِرِينَ and you have become of those utterly lost! means, `in the place of Resurrection, you have lost your own selves and your families.' Imam Ahmad recorded that Abdullah, may Allah be pleased with him, said, "I was hiding beneath the covering of the Ka`bah, and three men came along -- a man from the Quraysh and two of his brothers-in-law from Thaqif, or a man from Thaqif and two of his brothers-in-law from the Quraysh. Their bellies were very fat, and did not have much understanding. They said some words I could not hear, then one of them said, `Do you think that Allah can hear what we are saying now?' The other said, `If we raise our voices, He will hear it, but if we do not raise our voices, He will not hear it.' The other said, `If He can hear one thing from us, He can hear everything.' I mentioned this to the Prophet , then Allah revealed the words: وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ (And you have not been hiding yourselves (in the world), lest your ears and your eyes and your skins should testify against you) until; مِّنْ الْخَاسِرِينَ (of those utterly lost!). This is how it was recorded by At-Tirmidhi. A similar report was also narrated by Ahmad (through a different chain), Muslim and At-Tirmidhi, and Al-Bukhari and Muslim also recorded (a different chain). فَإِن يَصْبِرُوا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ وَإِن يَسْتَعْتِبُوا فَمَا هُم مِّنَ الْمُعْتَبِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

23۔ 1 یعنی تمہارے اس اعتقاد فاسد اور گمان باطل نے کہ اللہ کو ہمارے بہت سے عملوں کا علم نہیں ہوتا تمہیں ہلاکت میں ڈال دیا کیونکہ اس کی وجہ سے تم ہر قسم کا گناہ کرنے میں دلیر اور بےخوف ہوگئے تھے اس کی شان نزول میں ایک روایت ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ کے پاس دو قرشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قرشی جمع ہوئے فربہ بدن قلیل الفہم ان میں سے ایک نے کہا کیا تم سمجھتے ہو ہماری باتیں اللہ سنتا ہے ؟ دوسرے نے کہا ہماری جہری باتیں سنتا ہے اور سری باتیں نہیں سنتا ایک اور نے کہا اگر وہ ہماری جہری باتیں سنتا ہے تو ہماری سری باتیں بھی یقینا سنتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت وما کنتم تسترون نازل فرمائی (صحیح بخاری، تفسیر سورة حم السجدۃ)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] اللہ کے متعلق جیسا بندہ گمان رکھے گا ویسا ہی اللہ اس سے معاملہ کرے گا :۔ تمہارا اللہ کے متعلق علم اس قدر کمزور اور مشکوک قسم کا گمان رہا۔ اس لیے تم نے گناہوں سے بچنے کی کبھی کوشش ہی نہ کی تھی اور اس سے بڑھ کر یہ بات تھی کہ تم نہ روز آخرت کے قائل تھے اور نہ اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور سے خائف تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم گناہوں پر دلیر ہوتے گئے اور ساری زندگی ہی گناہوں میں گزار دی۔ اپنے پروردگار سے تمہاری یہی بےیقینی تمہاری ہلاکت کا باعث بن گئی۔ اس سے واضح طور پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان جس قسم کی معرفت اپنے پروردگار کی نسبت رکھتا ہے اس طرز اور اسی سانچے میں اس کی پوری زندگی ڈھل جاتی ہے۔ اگر اللہ کی معرفت درست ہوگی تو اس کا طرز عمل پورے کا پورا درست رہے گا اور اس کے نتائج بھی درست نکلیں گے اور اگر معرفت ہی مشکوک یا غلط ہوگی تو اس کے دنیوی یا اخروی نتائج بھی ویسے ہی نکلیں گے۔ چناچہ درج ذیل حدیث قدسی اسی حقیقت کی وضاحت کرتی ہے : سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ( أنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ ) (بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قولہ تعالیٰ (يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ ۭ 15؀) 48 ۔ الفتح :15) یعنی میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھتا ہے ویسا ہی اس کا میرے بارے میں معاملہ ہوگا اور اسی کے گمان کے مطابق میں اس سے سلوک کروں گا۔ اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے : سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے زندگی میں کوئی نیکی کا کام نہ کیا تھا۔ اس نے مرتے وقت یہ وصیت کی کہ میری لاش کو جلا کر آدھی راکھ دریا میں پھینک دینا اور آدھی ہوا میں بکھیر دینا۔ اللہ کی قسم ! اگر اس نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے ایسی سزا دے گا جو سارے جہانوں میں کسی دوسرے کو نہ دی گئی ہو۔ اللہ نے دریا اور ہوا کو حکم دیا اور اس کے تمام اجزاء اکٹھے کرلیے۔ پھر اسے اپنے پاس حاضر کرکے پوچھا : تم نے ایسا کام کیوں کیا تھا ؟ اس نے جواب دیا : && اے اللہ تو جانتا ہی ہے کہ میں نے یہ کام تیرے ڈر کی وجہ سے کیا تھا && پھر اللہ نے اسے بخش دیا۔ (بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قولہ تعالیٰ (يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ ۭ 15؀) 48 ۔ الفتح :15)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وذلکم ظنکم الذی ظنتم بربکم …” ذلکم “ کی خبر ” ظنکم “ معرفہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ” یہی تمہارا گمان تھا “ کیا گیا ہے۔ “ ارذی یردی “ (افعال) ہلاک کرنا۔ یعنی تمہارے اسی باطل گمان اور غلط عقیدے نے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہوتا، تمہیں ہلاک کردیا، کیونکہ اس سے تم اس کی نافرمانی پر دلیر ہوگئے اور خسارا پانے والوں میں سے ہوگئے۔ یاد رہے کہ گمراہی کے اسباب میں سے بہت بڑا سبب صحیح غور و فکر نہ کرنا اور محض گمان کے پیچھے چلتے رہنا ہے۔ مشرکین کی اصل گمرایہ بھی یہی تھی، جیسا کہ فرمایا :(ان یبتعون الا الظن) (الانعام : ١١٦) ” وہ تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے۔ “ اور فرمایا :(یظنون باللہ غیر الحق ظن الجاھلیۃ) (آل عمران : ١٥٣) ” وہ اللہ کیب ارے میں ناحق جاہلیت کا گمان کر رہے تھے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ۝ ٢٣ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ رَّدَى : الهلاك، والتَّرَدِّي : التّعرّض للهلاك، قال تعالی: وَما يُغْنِي عَنْهُ مالُهُ إِذا تَرَدَّى[ اللیل/ 11] ، وقال : وَاتَّبَعَ هَواهُ فَتَرْدى[ طه/ 16] ، وقال : تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ، والمرداة : حجر تکسر بها الحجارة فَتُرْدِيهَا . ( ر د ی ) الردی ۔ ( س ) کے معنی ہلاکت کے ہیں اور التردی ( تفعل ) کے معنی ہیں اپنے آپ کو ہلاکت کے سامنے پیش کرنا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَما يُغْنِي عَنْهُ مالُهُ إِذا تَرَدَّى[ اللیل/ 11] اور جب وہ جہنم میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا ۔ وَاتَّبَعَ هَواهُ فَتَرْدى[ طه/ 16] اور وہ اپنی نفسانی خواہش کے پیچھے پڑا ( اگر ایسا کرو گے ) تو تم تباہ ہوجاؤ گے ۔ ( الارداء ) افعال ہلاک کرنا قرآن میں ہے :۔ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] خدا کی قسم تو تو مجھے تباہ کرنے کو تھا ۔ المرداۃ وہ پتھر جس سے دوسرے پتھر توڑے جاتے ہیں ۔ صبح الصُّبْحُ والصَّبَاحُ ، أوّل النهار، وهو وقت ما احمرّ الأفق بحاجب الشمس . قال تعالی: أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] ، وقال : فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، والتَّصَبُّحُ : النّوم بالغداة، والصَّبُوحُ : شرب الصّباح، يقال : صَبَحْتُهُ : سقیته صبوحا، والصَّبْحَانُ : الْمُصْطَبَحُ ، والْمِصْبَاحُ : ما يسقی منه، ومن الإبل ما يبرک فلا ينهض حتی يُصْبَحَ ، وما يجعل فيه الْمِصْبَاحُ ، قال : مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها مِصْباحٌ الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ [ النور/ 35] ، ويقال للسّراج : مِصْبَاحٌ ، والْمِصْبَاحُ : مقرّ السّراج، والْمَصَابِيحُ : أعلام الکواكب . قال تعالی: وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِمَصابِيحَ [ الملک/ 5] ، وصَبِحْتُهُمْ ماء کذا : أتيتهم به صَبَاحاً ، والصُّبْحُ : شدّة حمرة في الشّعر، تشبيها بالصّبح والصّباح، وقیل : صَبُحَ فلان أي : وَضُؤَ ( ص ب ح) الصبح والصباح دن کا ابتدائی حصہ جبکہ افق طلوع آفتاب کی وجہ سے سرخ ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] کیا صبح کچھ دور ہے ۔ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] تو جن کو ڈرسنا یا گیا ہے ۔ ان کے لئے برادن ہوگا ۔ التصبح صبح کے وقت سونا ۔ الصبوح صبح کی شراب کو کہتے ہیں اور صبحتہ کے معنی صبح کی شراب پلانے کے ہیں ۔ الصبحان صبح کے وقت شراب پینے والا ( مونث صبحیٰ ) المصباح (1) پیالہ جس میں صبوحی پی جائے (2) وہ اونٹ جو صبح تک بیٹھا رہے (3) قندیل جس میں چراغ رکھا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها مِصْباحٌ الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ [ النور/ 35] اس کے نور کی مثال ایسی ہے گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ اور چراغ ایک قندیل میں ہے ۔ اور چراغ کو بھی مصباح کہاجاتا ہے اور صباح کے معنی بتی کی لو کے ہیں ۔ المصا بیح چمکدار ستارے جیسے فرمایا : وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِمَصابِيحَ [ الملک/ 5] اور ہم نے قریب کے آسمان کو تاروں کے چراغوں سے زینت دی ۔ صبحتم ماء کذا میں صبح کے وقت انکے پاس فلاں پانی پر جاپہنچا اور کبھی صبیح یا صباح کی مناسبت سے بالوں کی سخت سرخی کو بھی صبح کہا جاتا ہے ۔ صبح فلان خوبصورت اور حسین ہونا ۔ خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا جاتا ہے بلکہ ان چیزوں میں نقصان اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے خسران مبین قرار دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈٖالا ۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٣۔ ٢٤) مگر تم اس گمان اور دعوے میں رہے کہ ہم خاموشی کے ساتھ کام کرتے اور باتیں کرتے ہیں اس کی اللہ کو خبر نہیں اور تمہارے اسی جھوٹے گمان نے جو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تمہیں ہلاک کردیا۔ کہ تم سزا کی وجہ سے خسارہ میں پڑگئے اب خواہ تم دوزخ میں صبر کرو یا نہ کرو دوزخ تمہارا ٹھکانا ہے۔ اور اگر دنیا میں پھر واپس جانے کی درخواست کرو تو تمہیں دنیا میں اب ہرگز واپس نہیں بھیجا جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٣ { وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدٰٹکُمْ } ” اور تمہارا یہی وہ گمان ہے جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا تھا ‘ جس نے تمہیں غارت کیا ہے “ اس حوالے سے ہمیں خود اپنے بارے میں بھی غور کرنا چاہیے۔ اگرچہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ایک ایک حرکت کو دیکھتا اور جانتا ہے لیکن اپنے اس ایمان کے مطابق ہمارے دلوں میں اس بارے میں یقین پیدا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم غلط کام کرتے ہوئے اس حقیقت سے لاپرواہی برت جاتے ہیں کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے ‘ ورنہ اگر واقعی کسی کے دل میں یقین ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے تو بھلاوہ کوئی غلط حرکت کیسے کرسکتا ہے۔ { فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ } ” تو آج تم ہوگئے خسارہ پانے والوں میں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27 Hadrat Hasan Basri (may Allah bless him) has explained this verse thus "Every. man's. attitude and conduct is determined by the thought and conjecture that he has about his God. The conduct of a righteous believer is right because his thought and conjecture about his Lord is right, and the conduct of a disbeliever and a hypocrite and a sinful person is wrong because his thought and conjecture about his Lord is wrong. " This same theme has the Holy Prophet expressed in a comprehensive and brief Hadith, thus: "Your Lord says: I am with the thought and conjecture that My servant holds about Me." (Bukhari, Muslim).

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :27 حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ نے اس آیت کی تشریح میں خوب فرمایا ہے کہ ہر آدمی کا رویہ اس گمان کے لحاظ سے متعین ہوتا ہے جو وہ اپنے رب کے متعلق قائم کرتا ہے ۔ مومن صالح کا رویہ اس لیے درست ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے بارے میں صحیح گمان رکھتا ہے ، اور کافر و منافق اور فاسق و ظالم کا رویہ اس لیے غلط ہوتا ہے کہ اپنے رب کے بارے میں اس کا گمان غلط ہوتا ہے ۔ یہی مضمون نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی جامع اور مختصر حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا رب کہتا ہے انا عند ظن عبدی بی ، میں اس گمان کے ساتھ ہوں جو میرا بندہ مجھ سے رکھتا ہے ۔ ( بخاری و مسلم )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٣۔ ٢٥۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ پردہ کی باتوں کو مشرک لوگ اللہ کے علم سے باہر گمان کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے اس گمان نے ان کو ہلاکت اور ٹوٹے میں ڈالا کیونکہ اسی گمان کے سبب سے ان لوگوں کو کثرت گناہوں کی جرأت بڑھ گئی گناہ کرتے رہے اور اسی گمان میں رہے کہ ان کے بہت سے گناہ اللہ کے علم سے باہر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ غیب دان ان کے اس گمان کو جھوٹا کر کے ان کے سب گناہ ان کو جتلا دے گا اور ان کی سزا دوزخ کی آگ قرار پائے گی اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم اس آگ کی مصیبت پر صبر کرو یا جھوٹے عذر پیش کرکے غل شور مچاؤ کسی طرح اب اس آگ سے تم کو نجات نہیں کیونکہ یہ دوزخ کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے ایسے لوگوں کا گھر قرار پایا ہے سورة الزخرف میں آئے گا کہ جو لوگ یاد الٰہی سے غافل رہتے ہیں شیطان ان پر ایسا مسلط ہوجاتا ہے کہ ایک دم ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور نیک کاموں سے ہمیشہ ان کو روکتا رہتا ہے اور برے کاموں کو ایسی اچھی صورت میں ان کو دکھلاتا ہے کہ برے کاموں کی برائی ان پر ظاہر نہیں ہونے دیتا مثلاً بت پرستی جیسے برے کام کو اس اچھے بھیس میں دکھاتا ہے کہ یہ بہت اچھے لوگوں کی مورتیں ہیں جو کوئی ان مورتوں کی پوجا کرے گا تو وہ اچھے لوگ ہر طرح ان کی مدد کریں گے۔ ترمذی ١ ؎ صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں حارث اشعری کی حدیث کو آخری آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جیسے لوگوں کا ذکر آیت میں ہے وہ بتوں کی پوجا میں لگ کر یاد الٰہی سے دور رہتے ہیں اس لئے شیطان ان پر مسلط ہوگئے جو ان کو ہر وقت دنیا کی باتوں کی طرف رغبت اور عقبیٰ کی باتوں سے نفرت دلاتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس طرح کے پچھلے جنات اور آدمیوں میں ان کا شمار بھی دوزخیوں میں ہوگیا اور جنت میں ایسے لوگوں کے لئے جو ٹھکانے بنائے گئے تھے ان کو ہاتھ سے کھو دینے کا انہوں نے نقصان اٹھایا۔ ابن ٢ ؎ ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے جنت اور دوزخ دونوں جگہ ٹھکانا بنایا ہے اب جو لوگ ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پائیں گے ان کے جنت میں کے خالی پڑے ہوئے محل اور باغ جنتیوں کو مل جائیں گے یہ حدیث انہم کا نوا خسرین کی گویا تفسیر ہے۔ صحیح ٣ ؎ مسلم کے حوالہ سے جابر (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان خود تو اپنا تخت سمندر میں بچھا کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے شیاطینوں کو لوگوں کے بہکانے کے لئے بھیج دیتا ہے ان شیطانوں کے بہکانے سے جو آدمی خود بھی بہکتے اور دوسروں کو بھی بہکاتے ہیں ان کو سورة الانعام میں شیطان الانس فرمایا ہے جابر کی حدیث اور سورة انعام کا شیاطین الانس کا ذکر قدخلت من تبلہم من الجن والانس کی گویا تفسیر ہے جس میں پچھلے زمانے کے بہکنے بہکانے والے جنات اور انسان سب داخل ہیں۔ (١ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء مثل الصلاۃ والصیام الخ ص ١٩١ ج ٢) (٢ ؎ ابن ماجہ باب صفۃ الجنہ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب تحریش الشیطان و بعثہ سرایاہ الخ۔ ص ٣٧٦ ج ٢)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:23) ذلکم۔ یہ۔ یہی۔ اسم اشارہ بعید۔ مبتدائ۔ ظنکم الذی ظننتم بربکم : ظنکم مضاف مضاف الیہ۔ الذی ظننتم بربکم : ظن کی نعمت۔ سارا جملہ ذلک سے مبدل منہ ہے۔ اردکم مبتداء کی خبر۔ اردی یردی ارداء (افعال) مصدر بمعنی ہلاک کرنا۔ غارت کرنا۔ ر د ی مادہ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ترجمہ :۔ تمہارے اسی گمان نے جو تم اپنے رب کے بارے میں کیا کرتے تھے تمہیں غارت کردیا۔ فاصبحتم۔ فاء سببیہ ہے یعنی بسبب اس گمان کے جس نے تمہیں ہلاک کر ڈالا تم (گھاٹا پانے والوں میں سے) ہوگئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” تم میں سے کسی شخص کا انتقال نہیں ہونا چاہیے مگر اس حال میں کہ اللہ سے اس کا گمان اچھا ہو، اس لئے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو اللہ سے ان کا برا گمان ہی لے ڈوبتا ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ( شوکانی) حسن بصری نے یہ آیت تلاوت کی اور پھر فرمایا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” انا عند من عبدی بی وانا معہ اذا دعانی “ ( میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی ہوں جیسا دوسرے ساتھ گمان کرے اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔ ) اس کے بعد امام حسن (رض) بصری کچھ دیرخاموش رہے اور پھر بولے ” ہر شخص کا عمل ویسا ہوتا ہے جیسا اس کا اپنے رب سے گمان ہوتا ہے۔ مومن کا اپنے رب سے گمان چونکہ اچھا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا عمل بھی اچھا ہوتا ہے اور کافروں اور منافقوں کا اپنے رب سے گمان چونکہ اچھا نہیں ہوتا اس لئے ان کا عمل بھی خراب ہوتا ہے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ” وما کنتم۔۔۔۔ الی قولہ من الخاسرین) (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ کیونکہ اس گمان سے اعمال کفریہ کے مرتکب ہوئے، اور وہ موجب بربادی ہوئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وذلکم ظننکم ۔۔۔۔ من الخسرین (٤١ : ٢٣) ” تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا ، تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑگئے “۔ اور اب اس پورے منظر پر تبصرہ اور اس سے حاصل ہونے والا سبق :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کو ان کے گمان بد نے ہلاک کیا (وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمْ الَّذِیْ ظَنَنتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدَاکُمْ ) اور یہ تمہارا گمان کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا اس نے تمہیں ہلاک کردیا (فَاَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) (سو تم خسارے والے ہوگئے) تم نے جو یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہے اسی گمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے رہے اگر اللہ تعالیٰ کو علم والا جانتے اور یہ یقین کرتے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے تو خلوتوں میں اور جلوتوں میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے اور اس نے جو اعضاء کی نعمتیں دی تھیں ان کو نیکیوں میں استعمال کرتے، تم نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان کیا اور اعضاء کو بھی غلط استعمال کیا آج یہاں خسارہ میں یعنی پوری ہلاکت میں پڑگئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ ” و ذلکم ظنکم “ ذلکم موصوف، ظنکم الخ صفت۔ موصوف صفت مبتدا۔ ” ارداکم “ خبر (مدارک) ۔ اس عالم الغیب والشہادۃ کے بارے میں تمہارے اسی گمان نے، کہ وہ تمہارے چھپے اعمال نہیں جانتا، تم کو تباہ و برباد کیا۔ اسی خیال سے تم گناہوں میں منہمک رہے اور دین و دنیا میں خسارہ اٹھا۔ ” فان یصبروا۔ الایۃ “ وہ صبر کریں، تو بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور اگر جزع فزع کریں اور معذرت کریں، تو بھی ان کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ ہر حال میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس سے اب ان کے لیے کوئی مفر نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(23) اور تمہارے اسی گمان نے جو تم نے اپنے پروردگار کے ساتھ قائم کررکھا تھا تم کو تباہ و برباد کیا لہٰذا تم سخت خسارے میں پڑگئے یعنی اپنی بدگمانیوں کی بدولت اس ڈھاڑے کو پہنچے اور ابدی نقصان میں اور خسارے میں پڑگئے۔